Baaghi TV

Category: شوبز

  • ملکہ ترنم کی روح تڑپنے لگی ، نواسے اور پوتے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے

    ملکہ ترنم کی روح تڑپنے لگی ، نواسے اور پوتے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے

    لاہور: ملکہ ترنم میڈم نورجہاں کی آل اولاد ایک دوسرے کی دشمن بن گئی ، اطلاعات کے مطابق سول کورٹ میں نواسے اداکار احمد بٹ اور مصطفی بٹ نے شاہ نورسٹوڈیو کی جگہ میں اپناحصہ مانگ لیا، عدالت نے تمام وارثوں کی تفصیلات فوری طلب کر لیں۔

    منیب پہلے بہن سمجھتے رہے پھر پیار ہوگیا جس کے نتیجےمیں‌ وہ میرا میاں اور میں اس کی وہ ہوگئی

    ملکہ ترنم میڈم نورجہاں مرحومہ کے نواسے اداکار احمد بٹ نے اپنے بھائی مصطفی بٹ کے ہمراہ نانی کی جائیداد شاہ نورسٹوڈیو کی جگہ سے حصہ دلوانے کے لیے سول جج نوید انجم کی عدالت میں دعوی دائر کر دیا، احمد بٹ کے وکیل عرفان تارڑ ایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ شاہ نور سٹوڈیو کی جگہ مشترکہ ہے لیکن اس پر ماموں کا قبضہ ہے۔

     

    ’’ میرے پاس تم ہو‘‘عائزہ خان نے کس کے بارے میں‌ یہ بات کہہ دی

    دوسری طرف اس معاملے کو نبٹانے کے لیے فلمی دنیا کی بڑی شخصیات نے بھی تصفیہ کرانے کی کوششیں کیں‌لیکن وہ ناکام رہے ،احمد بٹ نے ماموں اصغر سے جائیداد میں اپنا حصہ دینے کا مطالبہ کیا ہے، سول جج نوید انجم نے احمد بٹ کے دعوے پر میڈم نور جہاں کے پوتے مظہر امام اور فخر امام کو دو اکتوبر کو جواب کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

  • جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں‌کرسکتا، پردے پر وینا ملک نے قران کا پیغام شیئرکیا ، احمقوں کی طرف سے بے جا  تنقید جاری

    جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں‌کرسکتا، پردے پر وینا ملک نے قران کا پیغام شیئرکیا ، احمقوں کی طرف سے بے جا تنقید جاری

    کراچی: جسے اللہ ہدایت دے دیں‌اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ گمراہ کردیں اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ، علمابیان فرماتے ہیں‌کہ جو لوگ اپنے دل میں ہدایت کی خواہش رکھتے ہیں‌اور ان کے راستے میں رکاوٹیں‌حائل ہوں تو ایک نہ ایک دن اللہ ان کو ہدایت کی نعمت سے نواز ہی دیتے ہیں ، مگر ہمارے ہاں ایک عجیب ہی معیار ہے ، اگر کوئی گنہگار انسان گناہ کے بعد توبہ کرنا چاہے یا گناہ سے نفرت کرکے ہدایت کی تلاش میں ہو تو اسے اس کی برائیوں کا اعلانیہ اظہار کرکے اسے طعنے دیتے ہیں ، ایسےہی جیسے وینا ملک کے ساتھ ہورہا ہے ،

    منیب پہلے بہن سمجھتے رہے پھر پیار ہوگیا جس کے نتیجےمیں‌ وہ میرا میاں اور میں اس کی وہ ہوگئی

    باغی ٹی وی کے مطابق چند دن قبل خیبرپختونخوا میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی جانب سے طالبات کے لیے برقعے یا عبائے کو لازمی قرار دیے جانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے اور ٹوئٹر پر ’’حجاب اسلامی تہذیب کی پہچان‘‘ کے نام سے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہا ہے ،کچھ لوگ حق پر اور کچھ مخالف ہیں

    ذرائع کے مطابق اسی حوالے سے پاکستانی اداکارہ و میزبان وینا ملک نے بھی پشاور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے گزشتہ روز ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں وہ ایک ریستوران میں مکمل طور پر برقعے میں ملبوس نظر آرہی ہیں جب کہ انہوں نے چہرے پر نقاب بھی کیا ہوا ہے، اس پوسٹ کے ساتھ وینا ملک نے قرآن کی آیت کا ترجمہ بھی شیئر کیا جو خواتین کے حجاب سے متعلق ہے۔

    اے نبی (صل اللہ علیہ والہ وسلم ) فرما دیجئے؛

    اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مومنین کی عورتوں سے کہ جہاں کبھی ضرورت سے باہر نکلنا پڑے تو چادر میں لپٹ کر نکلا کرو(احزاب :59)

    وینا ملک کی طرف سے یہ پوسٹ شیئر کرنے کے بعد بڑی تعداد میں‌لوگوں نے وینا ملک کے اس اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ وینا نے تو اللہ کا پیغام شیئر کیا ہے اللہ تعالیٰ‌وینا ملک کو اسلام پر ثابت قدم رکھے اور ہدایت دے ،

    جبکہ کچھ نام نہاد مخالفین نے وینا ملک کے اس اقدام پر تنقید کی کہ وہ پہلے خود تو پردے پرعمل کرے اور دوسروں‌کو بعد میں وعظ ونصیحت کرے

    تیسرا طبقہ وہ ہے جس نے دوسرے طبقے اس تنقیدی عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہدایت کی طرف آنا چاہتا ہے تو وہ لوگ بجائے دعا کرنے کے اس کے ماضی کو بنیاد بناکر طعنے دیتے ہیں اور یہ عمل اللہ کو بہت ناپسند ہے، اللہ تو یہی چاہتے کہ میرے بندے موت سے پہلے پہلے توبہ کرلیں،پھر لوگ اللہ کی مرضی پر کیوں تنقید کرتے ہیں

  • منیب پہلے بہن سمجھتے رہے پھر پیار ہوگیا جس کے نتیجےمیں‌ وہ میرا میاں اور میں اس کی وہ ہوگئی

    منیب پہلے بہن سمجھتے رہے پھر پیار ہوگیا جس کے نتیجےمیں‌ وہ میرا میاں اور میں اس کی وہ ہوگئی

    اسلام آباد :منیب پہلے بہن سمجھتے رہے پھر پیار ہوگیا جس کے نتیجنےمیں‌ وہ میرا میاں اور میں اس کی زوجہ محترمہ ہوگئی ، ہم دونوں ایک دوسرے کو شادی سے پہلے بہن بھائی کے نظریے سے ہی دیکھتے اور ملتے تھے ، میں نے منیب سے پوچھا تو پھر شادی کا فیصلہ کیا

    معروف اداکارہ ایمن خان نے کہا کہ میں نے اپنی فیملی یہاں تک کہ اپنی بہن منال سے بھی منیب کے ساتھ دوستی والی بات چھپائی کیونکہ میں اس رشتے کو سب کے سامنے نہیں لانا چاہتی تھی، شادی کی پیش کش والے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک دن باتوں باتوں میں انہوں نے منیب کو کہا کہ وہ شادی کرنا چاہتی ہیں اور جب منیب نے پوچھا کہ کس سے تو انہوںنے کہا کہ آپ کر لیں، اور اس بات کو منیب نے اپنے ذہن میں بٹھا لیا اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔

  • "عہد وفا ” 22 ستمبر کا دن مختص کرلیا گیا ، کون کس سے وفا کرے گا ، اسی دن ہی پتہ چل جائے گا،

    "عہد وفا ” 22 ستمبر کا دن مختص کرلیا گیا ، کون کس سے وفا کرے گا ، اسی دن ہی پتہ چل جائے گا،

    اسلام آباد:کون کس سے کرے گا وفا کا عہد اس بات کی حقیقت کھلے گی 22 ستمبر کو ، اطلاعات کے مطابق نیا پاکستانی ڈرامہ سیریل’’عہد وفا‘‘22ستمبر کو آن ایئر کیا جائے گا۔اس ڈرامے کے مرکزی کردار ہوں گے احمد رضا میراور ساتھ عہد اور بھی لوگ نبھائیں گے،

    ذرائع کےمطابق جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں اس کے مطابق احد رضا میر کا نیا ڈرامہ سیریل ’’عہد وفا‘‘ 22ستمبر کو آن ایئر کیا جائے گا، ڈرامے کی کاسٹ میں احد رضا میر، احمد علی اکبر، عثمان علی اکبر، وہاج علی، علیزے شاہ، زارا نوار عباس، ہاجرہ یامین، ونیزہ احمد اور محمد احمد شامل ہیں۔

  • ’’ دل موم کا دیا‘‘یاسر نواز نے دل کی باتیں کہہ دیں‌ ، اب وہ کیا کریں گے یہ بھی بتا دیا

    ’’ دل موم کا دیا‘‘یاسر نواز نے دل کی باتیں کہہ دیں‌ ، اب وہ کیا کریں گے یہ بھی بتا دیا

    اسلام آباد :ڈرامہ ’’ دل موم کا دیا‘‘کے بارے میں‌اداکار یاسر نوازنے دل کی باتیں کہہ دیں ، نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک عرصے سے اداکاری چھوڑ چکے تھے اور ان کی تمام تر توجہ ہدایتکاری پر تھی لیکن جب ڈرامہ ’’ دل موم کا دیا‘‘ کا سکرپٹ پڑھا تو ان میں اداکاری کرنے کی خواہش جاگ اٹھی

    یاسر نواز نجی ٹی وی سے بات کرتےہوئے کہا کہ مجھے اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ لوگ انہیں اس ڈرامے میں اتنا سراہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب کچھ عرصہ تک اداکاری کریں گے اور نئے ڈرامے کے لئے وہ اپنا وزن بھی کم کر رہے ہیں اور اداکارہ نیلم منیر کے ساتھ کام کرتے نظر آئیں گے۔

  • "باجی ” اداکارہ میرا کوعزت بھی ملی اور شہرت بھی ملی

    "باجی ” اداکارہ میرا کوعزت بھی ملی اور شہرت بھی ملی

    اسلام آباد : اداکارہ میرا ، تنازعات اور پریشانیوں کے باوجود اس بات پر یقین رکھتی ہیں‌کہ فلم ’’باجی‘‘ میں کام کرنے کے بعد لوگوں نے مجھے وہ عزت دی جس کی مجھے خواہش تھی۔ساتھی ہی شادی کی خوشخبری بھی سناتے ہوئے کہا کہ شادی چھپ کر نہیں‌اعلانیہ کروں گی

    فلم ’’باجی ‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ میرا کا کہنا تھا کہ اس فلم میں کام کرنے کی بعد ان کو لوگوں سے وہ عزت ملی جس کی انہیں خواہش تھی۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اداکارہ میرا نے کہا ک فلم کے ہدایتکار اور باقی عملہ فلم کا نام بدلنا چاہتا تھا لیکن وہ اس کے حق میں نہیں تھیں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی شادی کبھی بھی چھپ کر نہیں کریں گی

  • ’’ میرے پاس تم ہو‘‘عائزہ خان نے کس کے بارے میں‌ یہ بات کہہ دی

    ’’ میرے پاس تم ہو‘‘عائزہ خان نے کس کے بارے میں‌ یہ بات کہہ دی

    اسلام آباد ۔میرے پاس تم تم ہو کے نام سے نیا ڈرامہ سامنے آگیا ، دوسری طرف معروف اداکارہ عائزہ خان نے کہا کہ وہ ڈرامہ ’’ میرے پاس تم ہو‘‘کے بارے میں بھی بڑی اہم بات کہہ دی ، اطلاعات کے مطابق عائزہ خان نے کہا کہ ڈرمے کا سکرپٹ پڑھنے کے بعد اس میں کام نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

    بطور بیوی اور ماں یہ کردار ان کی پسند کے بالکل برعکس تھا ان خیالات کااظہار نجی ٹی وی پر بات کرتے ہوئے کیا ، اداکارہ عائزہ خان نے کہا کہ ڈرامہ ’’ میرے پاس تم ہو‘‘ کا سکرپٹ پڑھا تو انہوں نے اس میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ لیکن ڈرامے کے ہدایتکار ندیم بیگ چاہتے تھے کہ میں ہی یہ کردار کروں اور انہوں نے مجھے اس کے لئے راضی کیا۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمایوں سعید کے ساتھ کام کرنا ان کے لئے کسی فخر سے کم نہیں ہیں اور بلاشبہ وہ ایک باکمال اداکار ہیں۔

  • ابھی کلبھوشن یادیو کے کسی بھی کردار کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ، صبا قمر نے خاموشی توڑ دی

    ابھی کلبھوشن یادیو کے کسی بھی کردار کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ، صبا قمر نے خاموشی توڑ دی

    کراچی: میں ابھی کلبھوشن یادیوکے سلسلے میں بننے والی کسی بھی فلم کے کسی بھی کردار کا حصہ نہیں‌ بننا چاہتی ،صبا قمر نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بارے میں‌جو خبریں‌پھیلائی جارہی ہیں‌وہ من گھڑت ہیں‌،

    فلم کلبھوشن یادیومیں کردار کے حوالے سے نفی میں‌جواب دیتے ہوئے صبا قمر نے اپنی ٹویٹ میں ایک ویب سائٹ میں کام کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کا اسکرین شارٹ شیئر کیا اور تردید کرتے ہوئے کہا کہ اکثر میرے پیٹھ پیچھے ہونے والے مزاحیہ واقعات کا مجھے پتا چلتا ہے کہ میں نے ایک اور فلم سائن کرلی ہے جس کا مجھے خود بھی پتا نہیں ہوتا۔

    اگر میں کوئی فلم کروں گی تو خود سب کو بتاؤنگی جس کے لیے میں خود یہاں موجود بھی ہوں۔ اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ میں اس وقت فلم ’کملی‘ کر رہی ہوں اس لیے برائے مہربانی ریٹنگ کی وجہ سے جھوٹ پر مبنی خبریں شائع کرنے سے اجتناب کریں۔

  • عورتوں پر بھی ٹیکس

    عورتوں پر بھی ٹیکس

    عورتوں پر ٹیکس بڑھ گیا
    تفصیلات کے مطابق عورتوں کی رنگ صاف کرنے والی کریم جو کہ محض 5 دن پہلے 85 روپیہ کی تھی اور کریم پر ٹیکس 12 روپیہ تھا اب وہی کریم 90 روپیہ کی اور ایک کریم پر ٹیکس 12 روپیہ سے بڑھا کر 13 روپیہ کر دیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہنگائی میں اکیلے تاجر ہی نہیں بلکہ گورنمنٹ بھی شامل ہے نیا ٹیکس لگنے کے بعد ہی تاجر حضرات اپنے دام بڑھاتے ہیں
    نیز عورتوں نے کہا ہے کہ صابن سے لے کر گھی تک ہر اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جبکہ تنخواہیں اور مزدوری آٹے میں نمک کے برابر بڑھی ہیں جس سے گھر چلانا مشکل ہونے کیساتھ ساتھ گھروں میں میاں بیوی کے جھگڑوں میں بھی اضافہ ہوا ہے لہذہ گورنمنٹ خدا کا خوف کرے اور قیمتوں میں اضافہ نا کیا جائے

  • لہری ،معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار

    لہری ،معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار

    لہری کی وفات ۔۔!!
    معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار۔ اصل نام سفیر اللہ صدیقی،2 جنورری 1929 میں پیدا ہوئے۔ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز پچاس کی دہائی میں بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے کیا۔
    منور ظریف، نذر اور آصف جاہ کے بعد لہری کے لیے فلم انڈسٹری میں اپنے لیے جگہ بنانا کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ لہری سے پہلے اداکار یعقوب بہترین مزاحیہ اداکار کہلاتے تھے مگر لہری نے اپنی محنت اور کام کی لگن سے یعقوب کو بہت پیچھے چھوڑدیا-
    وہ تقسیم ہند سے قبل بھارت میں پیداہوئے تاہم تقسیم کے فوراًبعد پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں آبسے۔ انہوں نے پاکستان آکر پہلی ملازمت اسٹینو ٹائپسٹ کی حیثیت سے کی۔ دن بھر ڈیوٹی انجام دینے کے بعد شام کے اوقات میں وہ صدر میں ہوزری کا سامان فروخت کرنے لگے۔ انہیں اداکاری کا شوق تھا مگر اس شوق کو جلا بخشنے کے لیے انہیں درست سمت نہیں مل رہی تھی۔
    کیرئر کا آغاز
    لہری نے فن کی دنیا میں پہلا قدم اسلامیہ کالج میں ایک فنکشن میں ‘مریض عشق’ کے نام ایک ڈرامے میں پرفامنس دے کر کیا جس میں ان کو بے انتہا پزیرائی ملی اپنی اس شاندار کارگردگی سفیر اللہ ہو گئے خوش فہمی کا شکار اور پہنچ گئے ریڈیو پاکستان پر ریڈیو پاکستان کے پہلے آڈیشن میں فیل قرار دے دیا گیا لیکن باہمت اور محنتی انسان نے ہمت نہیں ہاری اور انتھک محنت کے بعد آخر قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو گئی ۔ 1955ء میں لچھو سیٹھ (شیخ لطیف فلم ایکسچینج والے) نے ایک فلم ‘انوکھی’ بنانے کا اعلان کیا جس میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی بھانجی شیلا رمانی بھارت سے پاکستان تشریف لائیں اس طرح سفیر اللہ کو اس فلم میں اپنی خداد داد صلاحیتوں کو پردہٴ سیمیں پر پیش کرنے کا موقع ملا اور ان کی یہ پہلی فلم 1956ء کے اوائل میں نمائش کے لیے پیش کردی گئی۔
    عروج

    ان کی پہلی فلم ’انوکھی‘ تھی جو سنہ 1956 میں ریلیز ہوئی۔ ان کی آخری فلم ’دھنک‘ تھی جو سنہ 1986 میں بنی تھی۔ ان کا فلمی کیریئر تیس سال پر محیط ہے اور ایک اندازے کے مطابق انھوں نے 220 فلموں میں کام کیا جن میں تین پنجابی فلموں کے علاوہ باقی سب اردو فلمیں تھیں۔ سفیر اللہ لہری کو سنہ 1964 سے 1986 تک کا بہترین مزاحیہ قرار دیتے ہوئے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    کا رہائے نمایاں
    فلمیں

    انوکھی (1956)
    انسان بدلتا ہے ,
    رات کے راہی،
    فیصلہ، جوکر،
    کون کسی کا، آگ،
    توبہ،
    پیغام، (1964 ایوارڈ یافتہ)
    کنیز، (1965 ایوارڈ یافتہ)
    جیسے جانتے نہیں،
    دوسری ماں،
    اِک نگینہ،
    اِک مسافراِک حسینہ،
    چھوٹی امی،
    میں وہ نہیں(1967 ایوارڈ یافتہ)
    تم ملے پیار ملا،
    صاعقہ (1968 ایوارڈ یافتہ)
    بہادر،
    نوکری،
    بہاریں پھر بھی آئیں گی،
    افشاں،
    رم جھم،
    بالم،
    جلتے سورج کے نیچے،
    پھول میرے گلشن کا،
    انجان،
    پرنس،
    ضمیر،
    آنچ،
    صائمہ، (1985 ایوارڈ یافتہ)
    دل لگی، (1972 ایوارڈ یافتہ)
    آگ کا دریا،
    ہمراز،
    دیور بھابھی،
    داغ،
    نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969 ایوارڈ یافتہ)
    بندھن،
    آج اور کل (1976 ایوارڈ یافتہ)
    تہذیب،
    دلہن رانی،
    زبیدہ،
    زنجیر،
    نیا انداز، (1979 ایوارڈ یافتہ)
    موم کی گڑیا،
    جلے نہ کیوں پروانہ،
    گھرہستی،
    رسوائی،
    بدل گیا انسان،
    انجمن (1970 ایوارڈ یافتہ)
    اپنا پرایا،
    دو باغی،
    سوسائٹی،
    انہونی،
    ننھا فرشتہ،
    ایثار،
    دامن،
    آنچل،
    بیوی ہو تو ایسی (1986 ایوارڈ یافتہ)
    دھنک 1986

    مزید فہرست مظہر میگزین۔ لہری
    ڈرامے

    آنگن ٹیڑھا
    یس سر نو سر (اسٹیج پلے)

    اعزازات

    وہ واحد مزاحیہ اداکار تھے جہنوں نے 12 مرتبہ اپنی منفرد اداکاری پر نگار ایوارڈز حاصل کیے اور حکومت پاکستان نے ان کی اس خدمات پر 1996 میں حسین کارگردگی کے ایوارڈ سے نوازا۔[3] ان کے نگار ایوارڈ حاصل کرنے والی فلمیں درج ذیل ہيں :

    پیغام، (1964)
    کنیز، (1965)
    میں وہ نہیں(1967)
    صاعقہ (1968)
    نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969)
    انجمن (1970)
    دل لگی، (1972)
    آج اور کل (1976)
    نیا انداز، (1979)
    صائمہ، (1985)
    بیوی ہو تو ایسی (1986)

    تاثرات وتبصرے

    لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے بعد فلمی دنیا، ٹی وی اور سٹیج میں مزاح سے وابستہ ہونے والے تمام لوگ ان کی ہنرمندی اور بڑائی کے قائل ہیں اور ان میں سے بیشتر سمجھتے ہیں کہ لہری ایک ایسے اداکار تھے جنھوں نے نہ صرف فلمی دنیا میں اپنے لیے جگہ بنائی بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی مزاح کا ایک نیا راستہ دکھایا۔
    خوبی

    لہری کی خاص بات ان کے ڈائیلاگز تھے۔ جس انداز سے وہ بولتے وہی ان کی پہچان بنا۔۔ ان کی بذلہ سنجی کا کمال دیکھیے کہ بیمار ہوں یاپریشان کبھی شکن نہ آئی ماتھے پر۔۔ لہری نے ہمیشہ ایسی کامیڈی کی جس پر شائقین ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجائیں۔۔۔۔ لیکن ان کے جملوں پر کوئی ناراض نہیں ہوا۔۔۔ لہری کو بارہ نگار ایوارڈز اور فلم انڈسٹری کی جانب سے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔۔

    لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے مزاح کی خاص بات ان کے برجستہ جملے ہوتے تھے اور وہ کبھی مزاح کے لیے جسمانی حرکتوں سے کام نہیں لیتے تھے۔ ان کے اس انداز کے پیرو کاروں میں معین اختر مرحوم سرفہرست ہیں اور پاکستان کے حیات مزاح کاروں میں انور مقصود نے بھی انھی کے انداز کو کمال دیا۔
    ہم عصروں کی نظر میں
    شبنم اور رابن گھوش

    اداکارہ شبنم اپنے شوہر روبن گھوش کے ساتھ 2012 میں پاکستان کے دورے پر آئیں تو خاص طور پر لہری کی عیادت کے لیے گئیں۔ ایک تقریب میں شبنم نے لہری کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ’ہمارے (شبنم اور روبن گھوش) پاکستان کے تمام ہی اداکاروں سے ایسے مراسم ہیں جیسے وہ ہمارے خاندان ہی کے رکن ہوں لیکن لہری ان لوگوں میں سے ہیں جن کا میں بے حد احترام کرتی ہوں، صرف اس لیے نہیں کہ وہ برِ صغیر کے ایک بڑے اداکار ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ایک انتہائی اچھے انسان ہیں۔‘
    نئے فنکاروں کی نظر میں
    شکیل صدیقی

    اداکار شکیل صدیقی نے کہا کہ اداکار لہری ہمارے طنز و مزاح کے شعبے کے وہ درخشاں ستارے تھے جس کی روشنی میں مجھ سمیت دیگر فنکاروں نے اپنا فنی سفر شروع کیا، وہ ہمارے لیے درخشاں مثال تھے۔
    کاشف خان

    اداکار کاشف خان نے کہا کہ میں تو ان ہی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہوں، میں نے کامیڈی کا انداز لہری سے سیکھا اور ان ہی کی طرز پر میں ملک اور بیرون ملک پرفار م کرتاہوں، لہری پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجینڈ کامیڈین تھے، خدا ان پر رحمتیں نچھاور کرے۔
    بذلہ سنجی

    خود داری کے ساتھ ساتھ لہری کا فن ظرافت بھی ابھی زندہ ہے۔ کراچی میں آخری ایام میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران بھی جہاں انہوں نے اپنے اوپر گزرنے والی تکالیف کا ذکر کیا وہیں اپنے مخصوص فن کو وہ فراموش نہ کرسکے۔ ان کا کہنا تھا "میں ڈھائی کمرے کے فلیٹ میں مقیم ہوں اور کے ای ایس سی نے اسی فلیٹ کا بل 36500روپے بھیجا ہے۔ جب میرے بچوں نے مجھے بل دکھایا تو میں نے سوچا شاید کسی کا فون نمبر لکھا ہے لیکن وہ مجھ پر واجب الادا رقم تھی۔ یہ مجھ پر ڈینگی وائرس سے بڑا حملہ ہے۔ اس قدر بڑی رقم دیکھ کر میں پریشان ہوں کہ اب کس طرح گزارہ ہو گا”۔
    آخری ایام

    ان کا آخری ایوارڈ نگار ایوارڈ تھا جو 1993ء میں ان کی فلمی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ لہری پر سب سے پہلے 1985ء میں بنکاک میں فلم کی شوٹنگ کے دوران فالج کا اٹیک ہوا، پھر قوت بینائی میں کمی آنے لگی، اس طرح وہ فلمی دنیا سے آہستہ آہستہ کنارہ کش ہوتے چلے گئے۔ طویل ترین بیماریوں نے لہری کو نہایت کمزور کر دیا ہے۔ وہ فالج کے مرض میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ذیابیطیس کے بھی مریض ہیں۔ پہلے بھی کئی مرتبہ اسپتالوں میں انگنت دن گزار چکے ہیں۔ ذیابیطس کے مرض میں ہی ان کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی۔ ان کی زندگی کے آخری ایام میں اداکار معین اختر نے ان کی بڑی دیکھ بھال کی۔ انتقال سے پہلے عید الفطر کے دوسرے روز سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں انہیں پھیپھڑ وں میں پانی بھر جانے کے باعث لایا گیا تھا تاہم ان کی حالت زیادہ خراب ہونے پر انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    13 ستمبر 2012 میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ لہری نے پسماندگان میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔۔!!!