Baaghi TV

Category: شوبز

  • مجھے کبھی بھی لیڈ رول کرنے کا افسوس نہیں ہوا، حرا مانی

    مجھے کبھی بھی لیڈ رول کرنے کا افسوس نہیں ہوا، حرا مانی

    اسلام آباد (اے پی پی) حرا مانی نے کہا ہے انہیں کبھی بھی لیڈ رول کرنے کا افسوس نہیں ہوا.

    تفصیلات کے مطابق اداکارہ حرامانی نے کہا کہ کوئی بھی انسان اپنی پسند کا کام کرتے ہوئے کبھی نہیں تھکتا ہے۔ نجی ٹی وی پر حرامانی کا بات کرتے ہوئی کہنا تھا کہ ہمارا پسندیدہ کام ہمیں کبھی بھی تھکنے نہیں دیتا اور یہی وجہ ہے کہ میں بہت شوق سے اداکاری کرتی ہوں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی بھی لیڈ رول کرنے کا افسوس نہیں ہوا ہے اور وہ آج جس مقام پر ہیں اپنے مداحوں کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرامہ ”دوبول“ سے پزیدائی حاصل ہونے کے بعد ان کے اندر مزید عاجزی پیدا ہوگئی ہے اور وہ چاہتی ہیں وہ ہمیشہ ہی ایسی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی ایسا کام نہیں جو ناممکن ہو، اگر آپ کو خود پر یقین ہے تو آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔

  • فخر پاکستان راحت فتح علی خان

    فخر پاکستان راحت فتح علی خان

    راحت فتح علی خان ایک ایسا بڑا نام جن کی تعریف میں کوئی کتنا بھی بول دے کم ہے، راحت فتح علی خان وہ نام ہے جس پر قوم اور ملک دونوں کو ناز ہے، کچھ لوگ اپنی قوم اور ملک کی پہچان بن جاتے ہیں، راحت فتح علی خان کا نام ان لوگوں میں صف اول پر آتا ہے، پاکستان میں اور پاکستان سے باہر جہاں جہاں اردو زبان سمجھی اور بولی جاتی ہے وہاں راحت فتح علی خان کے نام کو نہ صرف جانا جاتا ہے بلکہ وہاں کے لوگ ان کی آواز کے دل سے مداح ہیں اور جہاں لوگ اردو زبان کو نہیں بھی جانتے وہ بھی ان کی قوالی پر جھوم اٹھتے ہیں.

    بات قوالی کی ہو، صوفی میوزک کی ہو، غزل کی ہو، یا فلم کے گانے کی ہو، آج ہر کوئی راحت فتح علی خان کو ہی سب سے بڑا گلوکار مانتا ہے، بلکہ راحت فتح علی خان ایک گائک ہیں جو موسیقی کی ساری صنفیں بڑی مہارت سے گالیتے ہیں، عاطف اسلم ہوں یا ہمسایہ ملک کے سونو نغم کوئی بھی ان کی گائکی کو چھو نہیں سکا اور ہاں وہ ان کی گائکی کو چھو بھی نہیں سکتے کیونکہ راحت فتح علی خان نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کررکھی ہے اور بہت چھوٹی عمر سے ہی بڑی بڑی محفلوں میں بڑے بڑے موسیقی جاننے والوں اور کرنے والوں کے سامنے گاکر اپنے آپ کو منوا چکے ہیں، لالی ووڈ ہو یا بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ تک ان کی آواز کے چرچے ہیں، نابل پیس کانسرٹ سے لیکر ملکی سطح پر ہونے والی بڑی بڑی تقاریب راحت فتح علی خان کے گانے کے بغیر ناممکن سمجھی جاتی ہیں، اور راحت فتح علی خان نے نا صرف اپنے ملک میں بلکہ اور بہت سارے ملکوں میں جاکر اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ ہم سنتے آئے ہیں کہ فلاں موسیقار نے فلاں گلوکار سے گانا گوا کر اس کی زندگی بنادی اور ملک کو ایک نیا گلوکار دیدیا لیکن راحت فتح علی خان کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا بلکہ راحت فتح علی خان نے جس موسیقار کا گانا گایا وہ سپر ہٹ ہوگیا چاہے اس موسیقار کو پہلے کوئی جانتا تھا یانہیں جانتا تھا تو اس طرح راحت فتح علی خان نے اس ملک کو بہت سارے موسیقار بھی دیے.

    ہم یہاں نصرت فتح علی خان کی بات ضرور کریں گے جو کہ راحت فتح علی خان کے استاد تھے، ان کی موسیقی اور ان کی گائکی پر بھی پوری دنیا یقین رکھتی ہے، ان کے کام کو آگے لے جانا کوئی آسان کام نہیں تھا جو کہ راحت فتح علی خان نے کر دکھایا، ہم یہاں راحت فتح علی خان اور نصرت فتح علی خان کا موازنہ نہیں کر رہے اور نہ ہی کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ایک ہی خاندان ہے. ہم لوگ اسی آرٹسٹ کو جو سچ میں بہت بڑا ہوتا ہے اور جس کو پوری دنیا مان بھی رہی ہوتی ہے، اس کی زندگی میں اس کو اتنی عزت کیوں نہیں دیتے؟ اور اس کو لیجنڈ کہنے میں اسکے مرنے کا انتظار کیوں کرتے ہیں ہمیں چاہیئے کہ ہم اس آرٹسٹ کو اس کی زندگی میں ہی اتنا مان سمان دیں جس کا وہ حق دار ہے، ساری دنیا مغرب کو کاپی کرتی ہے لیکن مشرق سے لیکر مغرب تک جو آواز آج گونج رہی ہے اس آواز کا نام راحت فتح علی خان ہے پچھلے دنوں آکسفورڈ یونیورسٹی نے بھی ڈاکٹر کی ڈگری سے نوازابلکہ ان کا کہنا تھا ہمیں یہ ایوارڈ راحت فتح علی خان کو دیتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، ہم باغی چینل والے راحت فتح علی خان کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کیا اور ہمیں آپ پر فخر ہے، ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمیں خدا نے ایسے فنکار سے نوازا جس کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں.

  • فلم "پرے ہٹ لو” عید کی بجائے اب 9 اگست کو ریلیز کرنے کا اعلان

    فلم "پرے ہٹ لو” عید کی بجائے اب 9 اگست کو ریلیز کرنے کا اعلان

    پاکستانی اداکارہ مایا علی اور شہریار منور کی فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ اب 9 اگست کو ریلیز کر دی جائے گی۔

    نجی ٹی وی کی پروڈکشن کے بینر تلے بنائی گئی فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ کے ہیرو شہریار منور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلم عید کی بجائے اب 9 اگست کو ریلیز ہو گی۔ انہوں نے بتایاکہ ہدایت کار عاصم رضا اور تما لوگوں نے فلم پر بہت محنت کی ہے جس کی عکس بندی ملک کے 5 مختلف شہروں کے علاوہ ترکی میں بھی کی گئی ہے۔

    شہریار منور سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی سفارش کے اپنے بل بوتے پر شوبز انڈسٹری میں آئے ہیں اور محنت کر کے بہت آگے جانا چاہتے ہیں. شہریار خان اس سے پہلے فلم "ہو من جہاں” میں ماہرہ خان کے ساتھ بھی نظر آ چکے ہیں اور اب ڈرامہ سیریل "من مائل” سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ مایا علی کے ساتھ بھی جلوہ دکھانے کو تیار ہیں. مایا علی اس سے پہلے سپر ہٹ فلم "تیفا ان ٹربل” میں علی ظفر کے ساتھ دھوم مچا چکی ہیں.

    واضح رہے پہلے عید پر تین فلمیں ریلیز ہونے والی تھی لیکن فلم "پرے ہٹ لو” اب عید سے پہلے ریلیز ہو جائے گی. فلم "سپرسٹار” اور فلم ” ہیر مان جا” عید پہ سینما گھروں میں پیش کی جائیں گی.

  • ثناء جاوید نے ٹویٹر جوائن کر لیا

    ثناء جاوید نے ٹویٹر جوائن کر لیا

    پاکستانی اداکارہ ثناء جاوید نے ٹویٹر جوائن کر لیا. اداکارہ ثناء جاوید نے اس بات کا اعلان انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ اور انسٹاگرام سٹوری میں کیا۔ انہوں نے لکھا کہ آخر کار میں نے ٹویٹر جوائن کر لیا ہے اور میرے مداح ٹویٹر پر بھی میری پوسٹیں دیکھ سکتے ہیں.

    انہوں نے کہاکہ وہ کافی عرصے سے انسٹاگرام پرہیں لیکن اب انہوں نے ٹویٹر بھی جوائن کر لیا ہے.

    یاد رہے ڈرامہ سیریل "خانی” سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ ان دنوں ڈرامہ سیریل’’ ڈر خدا سے‘‘ میں دکھائی دے رہی ہیں۔ ثناء جاوید پاکستانی فلم "مہرونساء وی لب یو” میں دانش تیمور کے ساتھ بھی کام کر چکی ہیں اور ٹیلی فلم "دینو کی دلہنیا” میں فیروز خان کے ساتھ بھی جلوہ دکھا چکی ہیں.

  • مقبوضہ کشمیر پر انوپم کھیر کو مودی سرکار کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا

    مقبوضہ کشمیر پر انوپم کھیر کو مودی سرکار کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا

    بھارت کے معروف اداکار انوپم کھیر کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے نریندن مودی کے فیصلے کی حمایت کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے آڑے ہاتھوں لے لیا۔

    اداکار انوپم کھیر کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. انہوں نے مقبوضہ کشمیر کو حاصل نیم خود مختاری اور خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے مودی سرکار کے آرٹیکل اے اور 370 کی خلاف ورزی کر کے متعصبانہ عمل کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیا۔

    سوشل میڈیا صارفین نے انوپم کھیر پر شدید تنقید کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرارداد یاد دلائی جس میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ اور بھارت کو ووٹنگ کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

    انوپم کھیر کو ٹویٹر پر کئی صارفین نے جواب دیتے ہوئے اقوام متحدہ کو بھی ٹویٹ میں مینشن کیا جب کہ دیگر صارفین نے تاریخی حقائق، معلومات کی کمی اور حالات سے بے خبری پر انوپم کھیر کا خوب مذاق بھی اُڑایا.

    ایک صارف نے ان کو جواب دیتے ہوئے اقوام متحدہ کو مینشن کیا اور سوال اُٹھایا کہ کیا اقوام متحدہ کے بھارت سے تعلق رکھنے والے سفیر صرف نفرت اور پروپیگنڈے کو فروغ دیتے ہیں اور معصوم نہتے شہریوں کے قتل عام کا جواز پیش کرتے ہیں؟

    واضح رہے کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا بڑھتی جا رہی ہے اور کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں. بھارت میں مسلمانوں کا رہنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے. بھارت کی جانب سے کلسٹر بم کا استعمال اپنے معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے.

  • ماضی کی معروف ہدایت کارہ،فلم پروڈیوسر اور اداکارہ شمیم آراء

    ماضی کی معروف ہدایت کارہ،فلم پروڈیوسر اور اداکارہ شمیم آراء

    اداکارہ شمیم آرا ۔۔!!
    پیدائش
    22 مارچ 1938 علی گڑھ
    وفات
    5 اگست 2016 (78 سال)
    وفات لندن
    شمیم آرا پاکستانی اداکارہ، فلمی ہدایت کار، فلم پروڈیوسر تھیں۔ وہ 1950ء کی دہائی سے 1970ء کی دہائی تک پاکستان کی مقبول عام اور صفِ اول کی اداکارہ تھیں

    ابتدائی حالات

    شمیم آرا 22 مارچ 1938ء کو علی گڑھ موجودہ بھارت میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا پیدائشی نام پتلی بائی تھا مگر فلمی دنیا میں وہ شمیم آرا کے نام سے مشہور ہوئیں۔

    فلمی دور

    1956ء میں شمیم آرا جب اپنے خاندان کے ہمراہ لاہور میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کو آئیں تو یہاں ایک فلمی ہدایت کار نجم نقوی نے اُنہیں ایک آئندہ فلم کے لیے کاسٹ کر لیا۔ نجم نقوی اپنی فلم کنواری بیوہ کے لیے کسی نئے چہرے کی تلاش میں تھے اور وہ شمیم آرا کی خوبصورت نرم آواز، معصومانہ انداز سے بہت متاثر ہوئے اور اُنہیں اپنی فلم کنواری بیوہ کے لیے کاسٹ کر لیا جو 1956ء میں ریلیز ہوئی۔ وہ شمیم آرا کی پہلی فلم تھی۔ فلمی دنیا میں شمیم آرا کو متعارف کروانے والے نجم نقوی ہی تھے۔ نجم نقوی نے اُنہیں شمیم آرا کے فلمی نام سے متعارف کروایا تھا۔ بدقسمتی سے یہ فلم پردے پر ناکام ثابت ہوئی۔ مگر کنواری بیوہ نے اپنے ناظرین کے دلوں میں کچھ زیادہ اثر تو نہ چھوڑا مگر شمیم آرا کی معصومانہ اندازِ بیاں اور خوبصورتی نے ناظرین و شائقین کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔ اِس طرح پاکستانی فلمی دنیا میں ایک نئی اداکارہ کی جھلک ساٹھ کی دہائی ختم ہونے سے قبل ہی دکھائی دینے لگی تھی۔1958ء میں نور جہاں (گلوکارہ) کی ایک فلم انارکلی میں شمیم آرا نے مختصر سی اداکاری کی۔ اِس فلم میں وہ انارکلی کی چھوٹی بہن ثریا کے رول میں منظرعام پر آئیں۔ 1958ء سے 1960ء تک شمیم آرا نے متعدد فلموں میں اداکاری کی مگر وہ نمایاں ستارہ بن کر جگمگانے میں کامیاب نہ ہو رہی تھیں کہ 1960ء میں اُن کی فلم سہیلی (فلم) نے اُنہیں فلمی دنیا پر چمکنے کا قیمتی موقع فراہم کر دیا۔ سہیلی کی کامیاب نمائش پر وہ صفِ اول کی اداکاراوں میں شمار ہونے لگی تھیں۔ 1962ء میں اُن کی فلم قیدی کی نمائش ہوئی جس میں فیض احمد فیض کی غزل مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ شمیم آرا پر فلمائی گئی اور یہ فلم 1962ء میں کامیاب ترین فلم تھی۔ 1962ء میں شمیم آرا کی کئی کامیاب فلموں کی نمائش ہوئی جو یہ ہیں: آنچل، محبوب، میرا کیا قصور، قیدی، اِنقلاب ۔1963ء میں بھی وہ پاکستانی فلمی دنیا کی کامیاب ترین فلمیں دینے والی صفِ اول کی اداکارہ تھیں، 1963ء کی مشہور فلمیں یہ تھیں: دلہن، اِک تیرا سہارا، غزالہ، کالا پانی، سازش، سیماء، ٹانگے والا۔ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں اُن کی پہلی رنگین فلم سنگم کی نمائش 23 اپریل 1964ء کو ہوئی۔ مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) میں 29 اکتوبر 1965ء کو شمیم آرا کی مقبولِ عام رنگین فلم نائیلہ کی نمائش ہوئی جس سے ناظرین شمیم آرا کی خوبصورتی سے واقف ہوئے اور اُن کی اداکاری کے چرچے عام ہو گئے۔1960ء کی دہائی کی وہ صفِ اول کی اداکارہ تھیں۔ 1970ء کی دہائی میں وہ فلمی کیرئیر سے پیچھے ہٹتی گئیں اور بطور فلمی ہدایت کارہ اور فلم پروڈیوسر کئی فلمیں بنائیں۔

    بحیثیت فلمی ہدایت کار

    بحیثیتِ فلمی ہدایت کار 1976ء میں شمیم آرا کی پہلی فلم جیو اور جینے دو تھی۔ 1978ء میں ایک اور فلم پلے بوائے کے نام سے پیش کی۔ 1979ء میں مس ہانگ کانگ نامی فلم پیش کی۔ 1984ء میں مس کولمبو کی نمائش ہوئی۔ 1985ء میں مس سنگاہور کی نمائش ہوئی۔ 1987ء میں لیڈی اسمگلر کی نمائش ہوئی۔ 1989ء میں لیڈی کمانڈو، 1993ء میں ہاتھی میرا ساتھی، 1994ء میں آخری مجرا، 1995ء میں منڈا بگڑا جائے، 1996ء میں ہم تو چلے سرال، 1996ء میں مس استنبول، 1996ء میں لو 95، 1997ء میں ہم کسی سے کم نہیں، جیسی فلموں کی ہدایت کاری کی۔ 1995ء میں منڈا بگڑا جائے کامیاب ترین فلم تھی۔ بحیثیت فلمی ہدایت کار، پل دو پل اُن کی آخری فلم تھی جس کی نمائش 1999ء میں ہوئی۔

    علالت اور وفات

    2004ء میں شمیم آرا اپنے بیٹے کے ہمراہ لندن مقیم ہوگئیں۔ اِس دوران میں وہ پاکستان دو بار آئیں۔ 2011ء کے ابتدائی دنوں میں جب وہ لاہور میں مقیم تھیں۔ اِنہی دنوں جنوری 2011ء میں اُنہیں دماغی شریان پھٹ جانے کے باعث ہسپتال داخل کروایا گیا جہاں اکتوبر 2011ء میں اُن کے دماغ کا آپریشن کیا گیا مگر وہ ہوش میں آنے کی بجائے کوما میں چلی گئیں۔دسمبر 2011ء میں علاج کے لیے اُنہیں اُن کا بیٹا سلمان کریم مجید لندن لے گیا جہاں وہ تقریباً 6 سال علالت میں مبتلا رہنے کے بعد بروز جمعہ 5 اگست 2016ء کو 78 سال 4 ماہ 14 دِن کی عمر میں لندن، برطانیہ میں فوت ہوگئیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے شمیم آرا کی وفات کی خبر صبح 11 بجکر 40 منٹ پر ٹیلی ویژن سے نشر کی۔ بروز ہفتہ 6 اگست 2016ء کو نمازِ جنازہ بوقتِ ظہر اداء کی گئی اور تدفین لندن، برطانیہ میں کی گئی۔ شمیم آرا نے وارثوں میں ایک بیٹا، بہو اور دو پوتے پوتیاں چھوڑے ہیں۔

    فلمیں

    1956ء: کنواری بیوہ، مس56۔
    1958ء: انارکلی، واہ رے زمانے۔
    1959ء، عالم آراء، اپنا پرایا، فیصلہ، سویرا، مظلوم، راز، جائداد (پہلی پنجابی فلم)۔
    1960ء: بھابھی، دو اُستاد، عزت، رات کے راہی، روپ متی باز بہادر، سہیلی۔
    1961ء: انسان بدلتا ہے، زمانہ کیا کہے گا؟، زمین کے چاند۔
    1962ء: آنچل، محبوب، میرا کیا قصور؟، قیدی، اِنقلاب۔
    1963ء: دلہن، اِک تیرا سایہ، غزالہ، کالا پانی، سازش، سیماء، ٹانگے والا۔
    1964ء: باپ کا باپ، چنگاری، فرنگی، حویلی، مے خانہ، پیار کی سزا، تنہا۔
    1965ء: دیوداس، دل کے ٹکڑے، فیشن، نائیلہ (شمیم آرا کی پہلی رنگین فلم)۔
    1966ء: آگ کا دریاء، جلوہ، مجبور، میرے محبوب، پردہ، قبیلہ۔
    1967ء: دو راہا (نمائش: 25 اگست 1967ء)، ہم راز، لاکھوں میں ایک۔
    1968ء: صاعقہ بطور فلم پروڈیوسر۔
    1968ء: دل میرا دھڑکن تیری۔
    1969ء: آنچ، دلِ بے تاب، سالگرہ۔
    1970ء: آنسو بن گئے موتی، بے وفاء، مشر کماری (پہلی بنگالی فلم)۔
    1971ء: پرائی آگ، سہاگ، وحشی، خاک اور خون۔
    1972ء: انگارے۔
    1973ء: خواب اور زندگی۔
    1974ء: بھول (بطور فلم پروڈیوسر)۔
    1978ء: پلے بوائے (بطور فلم پروڈیوسر اور ہدایت کارہ)۔
    1981ء: میرے اپنے (بطور اداکارہ و ہدایت کارہ)۔
    1989ء: تیس مار خان (دوسری اور آخری پنجابی فلم)۔
    1999ء: پل دو پل۔ (آخری فلم بطور ہدایت کارہ)۔

  • آج مشہور اداکار کمال ایرانی کی تاریخ پیدائش ہے

    آج مشہور اداکار کمال ایرانی کی تاریخ پیدائش ہے

    کمال ایرانی کی پیدائش
    پاکستان کے مشہور کریکٹر ایکٹر کمال ایرانی کی تاریخ پیدائش 5 اگست 1932ءہے۔
    کمال ایرانی کا اصل نام سید کمال الدین صفوی تھا اور وہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
    انہوں نے فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا اور مجموعی طور پر 244 فلموں میں کام کیا۔ ک
    مال ایرانی کی یادگار فلموں میں جاگ اٹھا انسان، جھک گیا آسمان، زرقا، مٹھی بھر چاول اور امرائوجان ادا کے نام سرفہرست ہیں۔
    ان کی آخری فلم سندھی زبان میں بننے والی فلم ’’میران جمالی‘‘ تھی جو ان کی وفات کے چند ماہ بعد 9 مارچ 1990ء کو ریلیز ہوئی تھی۔
    12 ستمبر 1989ء کو کمال ایرانی وفات پاگئے۔۔!!!

  • محمود صدیقی کون تھے اور فن کی دنیا میں ان کا کیامقام ہے

    محمود صدیقی کون تھے اور فن کی دنیا میں ان کا کیامقام ہے

    محمود صدیقی کی وفات*
    4 اگست 2000ء کو ٹیلی وژن اور ریڈیو کے معروف فن کار محمود صدیقی کراچی میں وفات پاگئے۔
    محمود صدیقی 1944ء میں سکھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔
    ان کے والد انہیں عالم دین بنانا چاہتے تھے لیکن وہ سیاست کی جانب مائل تھے۔
    انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا۔
    اس سلسلہ میں انہوں نے قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔
    انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور شیخ ایاز کے جونیئر کے طور پر وکالت کے میدان میں قدم رکھا تھا۔
    انہوں نے کچھ وقت ریڈیو پاکستان میں انائونسمنٹ بھی کی اور کچھ عرصہ کے لئے روزنامہ ’’ہلال پاکستان‘‘ میں بھی کام کیا۔
    1973ء میں محمود صدیقی نے پاکستان ٹیلی وژن کے سندھی ڈرامہ بدمعاش سے اپنی ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز کیا اور زینت، گلن وار چوکری، تلاش اور رانی جی کہانی میں کام کرکے مقبولیت حاصل کی۔
    رانی جی کہانی کو بعد میں ’’دیواریں‘‘ کے نام سے اردو میں بھی پیش کیا گیا جس کے بعدمحمود صدیقی نے ملک گیر شہرت حاصل کرلی۔
    بعدازاں اردو ڈرامہ سیریل جنگل ، قربتوں کی تلاش، دنیا دیوانی اور کارواں نے ان کی شہرت کو مزید استحکام بخشا۔ کارواں میں انہوں نے بہترین اداکار کا پی ٹی وی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
    انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے نہلے پہ دہلا کے نام سے ایک سیریل بھی بنائی تھی جسے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے تین مرتبہ نشر کیا مگر محمود صدیقی کو اس سیریل کے بدلے میں طے شدہ رقم کا صرف دس فیصد حصہ ادا کیا۔
    محمود صدیقی نے یہ سیریل قرض لے کر بنایا تھا چنانچہ وہ ان مالی مشکلات سے بے حد دلبرداشتہ ہوئے اور اسی غم میں وفات پاگئے۔
    محمود صدیقی کراچی میں ڈالمیا کے نزدیک واقع قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔.!!

  • ماضی کے معروف گلوکار اخلاق احمد نے کب وفات پائی اور کتنا عرصہ وہ بیماری سے لڑتے رہے

    ماضی کے معروف گلوکار اخلاق احمد نے کب وفات پائی اور کتنا عرصہ وہ بیماری سے لڑتے رہے

    اخلاق احمد کی وفات
    4 اگست 1999ء کو پاکستان کے نامور گلوکار اخلاق احمد لندن میں وفات پاگئے۔ اخلاق احمد 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
    میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے کراچی کے اسٹیج پروگراموں میں شوقیہ گلوکاری کا آغاز کیا۔
    1971ء میں انہیں کراچی میں بننے والی فلم ’’تم سا نہیں دیکھا‘‘ میں گلوکاری کا موقع ملا۔ اس فلم کے موسیقار امیر احمد خان اور نغمہ نگار یونس ہمدم تھے۔
    اس کے بعد فلم ’’بادل اور بجلی‘‘ اور ’’پازیب‘‘ میں بھی اخلاق احمد کے گیت شامل ہوئے مگر وہ بھی زیادہ مقبول نہ ہوسکے۔
    1974ء میں اداکار ندیم نے اپنی ذاتی فلم ’’مٹی کے پتلے‘‘ میں اخلاق احمد کے آواز میں ایک نغمہ شامل کیا اور لاہور ہی میں موسیقار روبن گھوش نے اخلاق احمد کی آواز میں اپنی فلم ’’چاہت‘‘ کا ایک نغمہ ’’ساون آئے، ساون جائے‘‘ ریکارڈ کروایا۔ یہ نغمہ اختر یوسف نے تحریر کیا تھا۔
    یہ نغمہ اخلاق احمد کے فلمی سفر کا سب سے مقبول نغمہ قرار پایا۔
    اس نغمے پر انہیں خصوصی نگار ایوارڈ بھی عطا ہوا۔ اسی دوران اخلاق احمد نے پاکستان ٹیلی وژن پر بھی گلوکاری کا آغاز کیا اور وہ ٹیلی وژن کے بھی مقبول گلوکار بن گئے۔
    ساتھ ہی ساتھ فلمی دنیا میں بھی اخلاق احمد کی مقبولیت کا سفر جاری رہا۔ شرافت، دو ساتھی، پہچان، دلربا، امنگ، زبیدہ، انسان اور فرشتہ، انسانیت، مسافر، راستے کا پتھر، آئینہ، سنگم، آدمی، پرنس، انمول محبت، خاک اور خون، بندش، مہربانی، نادانی، دوریاں، بسیرا، لازوال ایسی فلمیں ہیں جن میں اخلاق احمد کے گائے ہوئے گیت بے حد پسند کئے گئے۔
    اخلاق احمد نے اپنی فنی زندگی میں 90 اردو فلموں میں مجموعی طور پر 140 نغمات گائے۔
    ان کے 90 فیصد گانے سننے والوں میں بے حد مقبول ہوئے۔
    انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ نگار ایوارڈ حاصل کئے۔
    1985ء میں انہیں خون کے سرطان کا موذی مرض تشخیص ہوا۔
    انہیں علاج کے لئے لندن لے جایا گیا۔ وہ 14 برس تک اپنی جان لیوا بیماری سے لڑتے رہے مگر 4 اگست 1999ء کو اس بیماری کے ہاتھوں شکست کھاگئے۔
    وہ کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔۔!!!

  • امجد اسلام امجد کب پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیمی مراحل کہاں مکمل کیے

    امجد اسلام امجد کب پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیمی مراحل کہاں مکمل کیے

    امجد اسلام امجد کی پیدائش
    امجد اسلام امجداگست 1944ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے جبکہ ابتدائی تعلیمی مراحل لاہور میں طے کیے۔ ایک انٹرویو مین اپنے بچپن کے واقعات کو یاد کرتے ہوۓ انھوں نے بتایا تھا کہ ان کا خاندان دستکاروں کا ایک خاندان تھا، جس میں ادب پڑھنا تو دور کی بات ہے، سرے سے پڑھنے لکھنے کا رواج ہی نہیں تھا:’’سوائے اس کے کہ یہ جسے آپ پڑھنے کی عادت کہتے ہیں، یہ مجھے اپنے والد صاحب سے ملی، جو ابنِ صفی کے جاسوسی ناول یا پھر تیرتھ رام فیروز پوری کے ترجمے اور شفیق الرحمان کی کتابیں بڑے شوق سے پڑھتے تھے تو یہ کتابیں مَیں نے بچپن ہی میں پڑھ لی تھیں، جس سے پڑھنے کا شوق تو مجھے ہو گیا تھا لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے گھر سے کوئی مزید مدد نہ مل پائی۔‘‘
    ادبی ذوق کو نکھارنے میں بنیادی کردار اُن کے اساتذہ نے انجام دیا:’’شاید میرے اساتذہ نے محسوس کیا کہ میرے لکھنے اور بولنے میں کوئی ایسی اضافی چیز ہے، جو مجھے باقی طالب علموں سے شاید ممتاز کرتی ہے، چنانچہ مجھے نویں جماعت میں سکول کے رسالے کا ایڈیٹر بنا دیا گیا۔‘‘
    امجد اسلام نے گریجوایشن گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’جب میں کالج کے ابتدائی برسوں میں آیا تو اُس وقت مجھے یہ محسوس ہوا کہ مَیں لکھ سکتا ہوں، شاعری یا نثر کی زبان میں‘۔
    اُس دور میں وہ بنیادی طور پر کرکٹر بننا چاہتے تھے:’’مَیں اچھی کرکٹ کھیلتا تھا اور مَیں نے یونیورسٹی کی سطح تک کرکٹ کھیلی۔ ادب کا رجحان ایک ذیلی رَو تھی اور کرکٹ کے بعد یہ میری دوسری چوائس تھی۔‘‘
    امجد اسلام امجد کے مطابق جب کرکٹ کے کھیل میں اُنہیں یکے بعد دیگرے کچھ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری طرف کالج میں گریجوایشن میں اردو میں زیادہ نمبر حاصل کرنے پر اسکالر شپ مل گئی تو کرکٹ کی بجائے اُن کی مکمل توجہ شعر و ادب کی طرف ہو گئی:’’ہمارے ایک محلّے دار تھے، آقا بیدار بخت، جو بچپن سے میری بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ تم لکھا کرو، پڑھا کرو، مَیں اپنی ابتدائی شاعری بھی اُنہی کو دکھاتا تھا۔ پھر چلتے چلتے جب مَیں یونیورسٹی میں آیا تو مَیں نے سنجیدگی سے شعر و ادب پر توجہ دینا شروع کر دی اور پرانے کلاسیکی شاعروں کو خاص طور پر پڑھا، جن پر بعد میں مَیں نے ’نئے پرانے‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی۔‘‘
    امجد اسلام امجد کا کہنا تھا کہ کلاسیکی شعراء کو پڑھنے کے بعد ہی آپ موجودہ دور کی شاعری کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اُنہوں نے میر تقی میر کے ایک شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو چیز بعد ازاں کارل مارکس نے طویل تحقیق کے بعد پیش کی، وہ اُن کی پیدائش سے بھی پہلے میر اپنے اس شعر میں بیان کر گئے تھے کہ ؃
    امیر زادوں سے دلّی کے مَت مِلا کر میر
    کہ ہم غریب ہوئے ہیں، اُنہی کی دولت سے
    پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد انہوں نے ایک استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کا آغاز لاہور ہی کے ایم اے او کالج سے کیا۔ 1975ء سے لے کر 1979ء تک وہ پاکستان ٹیلی وژن سے بطور ڈائریکٹر وابستہ رہے۔ وہ ’اردو سائنس بورڈ‘ اور ’چلڈرن لائبریری کمپلیکس‘ سمیت متعدد سرکاری اداروں میں سرکردہ عہدوں پر ذمے داریاں نبھاتے رہے ہیں۔
    ریڈیو پاکستان سے بطور ڈرامہ نگار چند سال وابستہ رہنے کے بعد امجد اسلام امجد نے پی ٹی وی (پاکستان ٹیلی وژن) کے لیے کئی سیریلز لکھیں، جن میں ’وارث‘ کے ساتھ ساتھ ’دہلیز‘، ’سمندر‘، ’رات‘، ’وقت‘ اور ’اپنے لوگ‘ بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں صحیح معنوں میں شہرت 1979ء میں دکھائی جانے والی سیریل’وارث‘ سے ملی کیونکہ ’جہاں شاعری کی رسائی محض ایک محدود طبقے تک ہی ہوا کرتی ہے، وہاں اُس زمانے میں بھی، جب ملک میں پی ٹی وی کی صورت میں محض ایک چینل ہوا کرتا تھا، ناظرین کی تعداد سات آٹھ کروڑ ہوا کرتی تھی‘۔
    اُنہوں نے شعر و ادب کی کئی جہات میں کام کیا ہے اور کئی تراجم کرنے کے ساتھ ساتھ تنقیدی مضامین بھی تحریر کیے ہیں۔ وہ ’چشمِ تماشا‘ کے نام سے باقاعدگی کے ساتھ ایک کالم بھی لکھتے ہیں۔ نظم و نثر میں اُن کی چالیس سے زیادہ کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں جبکہ وہ اپنی ادبی خدمات کے بدلے میں ’صدارتی تمغہء حسن کارکردگی‘ اور ’ستارہء امتیاز‘ سمیت متعدد اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیں۔۔!!