Baaghi TV

Category: شوبز

  • "باجی ” اداکارہ میرا کوعزت بھی ملی اور شہرت بھی ملی

    "باجی ” اداکارہ میرا کوعزت بھی ملی اور شہرت بھی ملی

    اسلام آباد : اداکارہ میرا ، تنازعات اور پریشانیوں کے باوجود اس بات پر یقین رکھتی ہیں‌کہ فلم ’’باجی‘‘ میں کام کرنے کے بعد لوگوں نے مجھے وہ عزت دی جس کی مجھے خواہش تھی۔ساتھی ہی شادی کی خوشخبری بھی سناتے ہوئے کہا کہ شادی چھپ کر نہیں‌اعلانیہ کروں گی

    فلم ’’باجی ‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ میرا کا کہنا تھا کہ اس فلم میں کام کرنے کی بعد ان کو لوگوں سے وہ عزت ملی جس کی انہیں خواہش تھی۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اداکارہ میرا نے کہا ک فلم کے ہدایتکار اور باقی عملہ فلم کا نام بدلنا چاہتا تھا لیکن وہ اس کے حق میں نہیں تھیں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی شادی کبھی بھی چھپ کر نہیں کریں گی

  • ’’ میرے پاس تم ہو‘‘عائزہ خان نے کس کے بارے میں‌ یہ بات کہہ دی

    ’’ میرے پاس تم ہو‘‘عائزہ خان نے کس کے بارے میں‌ یہ بات کہہ دی

    اسلام آباد ۔میرے پاس تم تم ہو کے نام سے نیا ڈرامہ سامنے آگیا ، دوسری طرف معروف اداکارہ عائزہ خان نے کہا کہ وہ ڈرامہ ’’ میرے پاس تم ہو‘‘کے بارے میں بھی بڑی اہم بات کہہ دی ، اطلاعات کے مطابق عائزہ خان نے کہا کہ ڈرمے کا سکرپٹ پڑھنے کے بعد اس میں کام نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

    بطور بیوی اور ماں یہ کردار ان کی پسند کے بالکل برعکس تھا ان خیالات کااظہار نجی ٹی وی پر بات کرتے ہوئے کیا ، اداکارہ عائزہ خان نے کہا کہ ڈرامہ ’’ میرے پاس تم ہو‘‘ کا سکرپٹ پڑھا تو انہوں نے اس میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ لیکن ڈرامے کے ہدایتکار ندیم بیگ چاہتے تھے کہ میں ہی یہ کردار کروں اور انہوں نے مجھے اس کے لئے راضی کیا۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمایوں سعید کے ساتھ کام کرنا ان کے لئے کسی فخر سے کم نہیں ہیں اور بلاشبہ وہ ایک باکمال اداکار ہیں۔

  • ابھی کلبھوشن یادیو کے کسی بھی کردار کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ، صبا قمر نے خاموشی توڑ دی

    ابھی کلبھوشن یادیو کے کسی بھی کردار کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ، صبا قمر نے خاموشی توڑ دی

    کراچی: میں ابھی کلبھوشن یادیوکے سلسلے میں بننے والی کسی بھی فلم کے کسی بھی کردار کا حصہ نہیں‌ بننا چاہتی ،صبا قمر نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بارے میں‌جو خبریں‌پھیلائی جارہی ہیں‌وہ من گھڑت ہیں‌،

    فلم کلبھوشن یادیومیں کردار کے حوالے سے نفی میں‌جواب دیتے ہوئے صبا قمر نے اپنی ٹویٹ میں ایک ویب سائٹ میں کام کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کا اسکرین شارٹ شیئر کیا اور تردید کرتے ہوئے کہا کہ اکثر میرے پیٹھ پیچھے ہونے والے مزاحیہ واقعات کا مجھے پتا چلتا ہے کہ میں نے ایک اور فلم سائن کرلی ہے جس کا مجھے خود بھی پتا نہیں ہوتا۔

    اگر میں کوئی فلم کروں گی تو خود سب کو بتاؤنگی جس کے لیے میں خود یہاں موجود بھی ہوں۔ اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ میں اس وقت فلم ’کملی‘ کر رہی ہوں اس لیے برائے مہربانی ریٹنگ کی وجہ سے جھوٹ پر مبنی خبریں شائع کرنے سے اجتناب کریں۔

  • عورتوں پر بھی ٹیکس

    عورتوں پر بھی ٹیکس

    عورتوں پر ٹیکس بڑھ گیا
    تفصیلات کے مطابق عورتوں کی رنگ صاف کرنے والی کریم جو کہ محض 5 دن پہلے 85 روپیہ کی تھی اور کریم پر ٹیکس 12 روپیہ تھا اب وہی کریم 90 روپیہ کی اور ایک کریم پر ٹیکس 12 روپیہ سے بڑھا کر 13 روپیہ کر دیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہنگائی میں اکیلے تاجر ہی نہیں بلکہ گورنمنٹ بھی شامل ہے نیا ٹیکس لگنے کے بعد ہی تاجر حضرات اپنے دام بڑھاتے ہیں
    نیز عورتوں نے کہا ہے کہ صابن سے لے کر گھی تک ہر اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جبکہ تنخواہیں اور مزدوری آٹے میں نمک کے برابر بڑھی ہیں جس سے گھر چلانا مشکل ہونے کیساتھ ساتھ گھروں میں میاں بیوی کے جھگڑوں میں بھی اضافہ ہوا ہے لہذہ گورنمنٹ خدا کا خوف کرے اور قیمتوں میں اضافہ نا کیا جائے

  • لہری ،معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار

    لہری ،معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار

    لہری کی وفات ۔۔!!
    معروف پاکستانی مزاحیہ اداکار۔ اصل نام سفیر اللہ صدیقی،2 جنورری 1929 میں پیدا ہوئے۔ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز پچاس کی دہائی میں بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے کیا۔
    منور ظریف، نذر اور آصف جاہ کے بعد لہری کے لیے فلم انڈسٹری میں اپنے لیے جگہ بنانا کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ لہری سے پہلے اداکار یعقوب بہترین مزاحیہ اداکار کہلاتے تھے مگر لہری نے اپنی محنت اور کام کی لگن سے یعقوب کو بہت پیچھے چھوڑدیا-
    وہ تقسیم ہند سے قبل بھارت میں پیداہوئے تاہم تقسیم کے فوراًبعد پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں آبسے۔ انہوں نے پاکستان آکر پہلی ملازمت اسٹینو ٹائپسٹ کی حیثیت سے کی۔ دن بھر ڈیوٹی انجام دینے کے بعد شام کے اوقات میں وہ صدر میں ہوزری کا سامان فروخت کرنے لگے۔ انہیں اداکاری کا شوق تھا مگر اس شوق کو جلا بخشنے کے لیے انہیں درست سمت نہیں مل رہی تھی۔
    کیرئر کا آغاز
    لہری نے فن کی دنیا میں پہلا قدم اسلامیہ کالج میں ایک فنکشن میں ‘مریض عشق’ کے نام ایک ڈرامے میں پرفامنس دے کر کیا جس میں ان کو بے انتہا پزیرائی ملی اپنی اس شاندار کارگردگی سفیر اللہ ہو گئے خوش فہمی کا شکار اور پہنچ گئے ریڈیو پاکستان پر ریڈیو پاکستان کے پہلے آڈیشن میں فیل قرار دے دیا گیا لیکن باہمت اور محنتی انسان نے ہمت نہیں ہاری اور انتھک محنت کے بعد آخر قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو گئی ۔ 1955ء میں لچھو سیٹھ (شیخ لطیف فلم ایکسچینج والے) نے ایک فلم ‘انوکھی’ بنانے کا اعلان کیا جس میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی بھانجی شیلا رمانی بھارت سے پاکستان تشریف لائیں اس طرح سفیر اللہ کو اس فلم میں اپنی خداد داد صلاحیتوں کو پردہٴ سیمیں پر پیش کرنے کا موقع ملا اور ان کی یہ پہلی فلم 1956ء کے اوائل میں نمائش کے لیے پیش کردی گئی۔
    عروج

    ان کی پہلی فلم ’انوکھی‘ تھی جو سنہ 1956 میں ریلیز ہوئی۔ ان کی آخری فلم ’دھنک‘ تھی جو سنہ 1986 میں بنی تھی۔ ان کا فلمی کیریئر تیس سال پر محیط ہے اور ایک اندازے کے مطابق انھوں نے 220 فلموں میں کام کیا جن میں تین پنجابی فلموں کے علاوہ باقی سب اردو فلمیں تھیں۔ سفیر اللہ لہری کو سنہ 1964 سے 1986 تک کا بہترین مزاحیہ قرار دیتے ہوئے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    کا رہائے نمایاں
    فلمیں

    انوکھی (1956)
    انسان بدلتا ہے ,
    رات کے راہی،
    فیصلہ، جوکر،
    کون کسی کا، آگ،
    توبہ،
    پیغام، (1964 ایوارڈ یافتہ)
    کنیز، (1965 ایوارڈ یافتہ)
    جیسے جانتے نہیں،
    دوسری ماں،
    اِک نگینہ،
    اِک مسافراِک حسینہ،
    چھوٹی امی،
    میں وہ نہیں(1967 ایوارڈ یافتہ)
    تم ملے پیار ملا،
    صاعقہ (1968 ایوارڈ یافتہ)
    بہادر،
    نوکری،
    بہاریں پھر بھی آئیں گی،
    افشاں،
    رم جھم،
    بالم،
    جلتے سورج کے نیچے،
    پھول میرے گلشن کا،
    انجان،
    پرنس،
    ضمیر،
    آنچ،
    صائمہ، (1985 ایوارڈ یافتہ)
    دل لگی، (1972 ایوارڈ یافتہ)
    آگ کا دریا،
    ہمراز،
    دیور بھابھی،
    داغ،
    نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969 ایوارڈ یافتہ)
    بندھن،
    آج اور کل (1976 ایوارڈ یافتہ)
    تہذیب،
    دلہن رانی،
    زبیدہ،
    زنجیر،
    نیا انداز، (1979 ایوارڈ یافتہ)
    موم کی گڑیا،
    جلے نہ کیوں پروانہ،
    گھرہستی،
    رسوائی،
    بدل گیا انسان،
    انجمن (1970 ایوارڈ یافتہ)
    اپنا پرایا،
    دو باغی،
    سوسائٹی،
    انہونی،
    ننھا فرشتہ،
    ایثار،
    دامن،
    آنچل،
    بیوی ہو تو ایسی (1986 ایوارڈ یافتہ)
    دھنک 1986

    مزید فہرست مظہر میگزین۔ لہری
    ڈرامے

    آنگن ٹیڑھا
    یس سر نو سر (اسٹیج پلے)

    اعزازات

    وہ واحد مزاحیہ اداکار تھے جہنوں نے 12 مرتبہ اپنی منفرد اداکاری پر نگار ایوارڈز حاصل کیے اور حکومت پاکستان نے ان کی اس خدمات پر 1996 میں حسین کارگردگی کے ایوارڈ سے نوازا۔[3] ان کے نگار ایوارڈ حاصل کرنے والی فلمیں درج ذیل ہيں :

    پیغام، (1964)
    کنیز، (1965)
    میں وہ نہیں(1967)
    صاعقہ (1968)
    نئی لیلیٰ نیا مجنوں، (1969)
    انجمن (1970)
    دل لگی، (1972)
    آج اور کل (1976)
    نیا انداز، (1979)
    صائمہ، (1985)
    بیوی ہو تو ایسی (1986)

    تاثرات وتبصرے

    لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے بعد فلمی دنیا، ٹی وی اور سٹیج میں مزاح سے وابستہ ہونے والے تمام لوگ ان کی ہنرمندی اور بڑائی کے قائل ہیں اور ان میں سے بیشتر سمجھتے ہیں کہ لہری ایک ایسے اداکار تھے جنھوں نے نہ صرف فلمی دنیا میں اپنے لیے جگہ بنائی بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی مزاح کا ایک نیا راستہ دکھایا۔
    خوبی

    لہری کی خاص بات ان کے ڈائیلاگز تھے۔ جس انداز سے وہ بولتے وہی ان کی پہچان بنا۔۔ ان کی بذلہ سنجی کا کمال دیکھیے کہ بیمار ہوں یاپریشان کبھی شکن نہ آئی ماتھے پر۔۔ لہری نے ہمیشہ ایسی کامیڈی کی جس پر شائقین ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجائیں۔۔۔۔ لیکن ان کے جملوں پر کوئی ناراض نہیں ہوا۔۔۔ لہری کو بارہ نگار ایوارڈز اور فلم انڈسٹری کی جانب سے خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔۔

    لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے مزاح کی خاص بات ان کے برجستہ جملے ہوتے تھے اور وہ کبھی مزاح کے لیے جسمانی حرکتوں سے کام نہیں لیتے تھے۔ ان کے اس انداز کے پیرو کاروں میں معین اختر مرحوم سرفہرست ہیں اور پاکستان کے حیات مزاح کاروں میں انور مقصود نے بھی انھی کے انداز کو کمال دیا۔
    ہم عصروں کی نظر میں
    شبنم اور رابن گھوش

    اداکارہ شبنم اپنے شوہر روبن گھوش کے ساتھ 2012 میں پاکستان کے دورے پر آئیں تو خاص طور پر لہری کی عیادت کے لیے گئیں۔ ایک تقریب میں شبنم نے لہری کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ’ہمارے (شبنم اور روبن گھوش) پاکستان کے تمام ہی اداکاروں سے ایسے مراسم ہیں جیسے وہ ہمارے خاندان ہی کے رکن ہوں لیکن لہری ان لوگوں میں سے ہیں جن کا میں بے حد احترام کرتی ہوں، صرف اس لیے نہیں کہ وہ برِ صغیر کے ایک بڑے اداکار ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ایک انتہائی اچھے انسان ہیں۔‘
    نئے فنکاروں کی نظر میں
    شکیل صدیقی

    اداکار شکیل صدیقی نے کہا کہ اداکار لہری ہمارے طنز و مزاح کے شعبے کے وہ درخشاں ستارے تھے جس کی روشنی میں مجھ سمیت دیگر فنکاروں نے اپنا فنی سفر شروع کیا، وہ ہمارے لیے درخشاں مثال تھے۔
    کاشف خان

    اداکار کاشف خان نے کہا کہ میں تو ان ہی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہوں، میں نے کامیڈی کا انداز لہری سے سیکھا اور ان ہی کی طرز پر میں ملک اور بیرون ملک پرفار م کرتاہوں، لہری پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجینڈ کامیڈین تھے، خدا ان پر رحمتیں نچھاور کرے۔
    بذلہ سنجی

    خود داری کے ساتھ ساتھ لہری کا فن ظرافت بھی ابھی زندہ ہے۔ کراچی میں آخری ایام میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران بھی جہاں انہوں نے اپنے اوپر گزرنے والی تکالیف کا ذکر کیا وہیں اپنے مخصوص فن کو وہ فراموش نہ کرسکے۔ ان کا کہنا تھا "میں ڈھائی کمرے کے فلیٹ میں مقیم ہوں اور کے ای ایس سی نے اسی فلیٹ کا بل 36500روپے بھیجا ہے۔ جب میرے بچوں نے مجھے بل دکھایا تو میں نے سوچا شاید کسی کا فون نمبر لکھا ہے لیکن وہ مجھ پر واجب الادا رقم تھی۔ یہ مجھ پر ڈینگی وائرس سے بڑا حملہ ہے۔ اس قدر بڑی رقم دیکھ کر میں پریشان ہوں کہ اب کس طرح گزارہ ہو گا”۔
    آخری ایام

    ان کا آخری ایوارڈ نگار ایوارڈ تھا جو 1993ء میں ان کی فلمی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ لہری پر سب سے پہلے 1985ء میں بنکاک میں فلم کی شوٹنگ کے دوران فالج کا اٹیک ہوا، پھر قوت بینائی میں کمی آنے لگی، اس طرح وہ فلمی دنیا سے آہستہ آہستہ کنارہ کش ہوتے چلے گئے۔ طویل ترین بیماریوں نے لہری کو نہایت کمزور کر دیا ہے۔ وہ فالج کے مرض میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ذیابیطیس کے بھی مریض ہیں۔ پہلے بھی کئی مرتبہ اسپتالوں میں انگنت دن گزار چکے ہیں۔ ذیابیطس کے مرض میں ہی ان کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی۔ ان کی زندگی کے آخری ایام میں اداکار معین اختر نے ان کی بڑی دیکھ بھال کی۔ انتقال سے پہلے عید الفطر کے دوسرے روز سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں انہیں پھیپھڑ وں میں پانی بھر جانے کے باعث لایا گیا تھا تاہم ان کی حالت زیادہ خراب ہونے پر انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    13 ستمبر 2012 میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ لہری نے پسماندگان میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔۔!!!

  • نیں میں‌ کملی یار دی کملی : صبا قمر بھی کملی ، جھلک بھی کملی ، نئی فلم نے دھوم مچادی

    نیں میں‌ کملی یار دی کملی : صبا قمر بھی کملی ، جھلک بھی کملی ، نئی فلم نے دھوم مچادی

    کراچی : صباقمر تو واقعی کملی ہوگئیں ، اپنی نئی فلم کملی کی جھلک سے مداحوں کو خوش کردیا ، اطلاعات کے مطابق پاکستان کی معروف اداکارہ صبا قمر نے انسٹا گرام پر اپنی آنے والی فلم ’ کملی‘ کی پہلی جھلک جاری کی۔ جاری کردہ پوسٹر میں صبا قمر پانی کے اندر پوز دیتی نظر آرہی ہیں۔ جسے شائقین کی جانب سے کافی پسند کیا جا رہا ہے۔

    https://www.instagram.com/p/B2Wl1f1hToy/

    صبا قمر کی سرمد کھوسٹ کے ساتھ یہ پہلی فلم نہیں بلکہ اس سے قبل انڈسٹری کے یہ دونوں اداکار ایک ساتھ فلم ’منٹو‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔صبا قمر نے بالی ووڈ کی سپرہٹ فلم ’ ہندی میڈیم‘ کی کامیابی کے بعد تین ٹیلی فلمز میں کام کیا تاہم اُن کی مقبولیت میں اضافہ کرنے میں دو ڈرامے ’باغی‘ اور ’چیخ‘ سنگ میل ثابت ہوئے۔

    https://www.instagram.com/p/B2UGQmwhC5X/
    ذرائع کےمطاب اب اداکارہ صبا قمر ایک بار پھر بڑی اسکرین پر معروف اداکار و ہدایت کار سرمد کھوسٹ کے ساتھ آرہی ہیں۔ صبا قمر اور سرمد کھوسٹ کی مشترکہ کیمسٹری سے بھرپور فلم ’کملی‘ اگلی سال 2020ء میں سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔

  • رابی پیرزادہ نے بھارتی میڈیا کو آئینہ دکھا دیا

    رابی پیرزادہ نے بھارتی میڈیا کو آئینہ دکھا دیا

    رابی پیرزادہ نے سماجی رابطوں کی ویبسائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ
    ‏واحد ایک لڑکی نے ہندوستانی میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا، پچھلے پانچ سال سے سانپوں شیروں اور مگر مچھوں سے کھیل رہی ہوں کبھی نوٹس نہیں آیا۔ مودی کے دوستوں کچھ بھی کرلو، مودی کتا ہے اور رہے گا۔

    رابی پیرزادہ نے کہا کہ یہ سانپ اور مگرمچھ میرے نہیں ہیں، دراصل کچھ سالوں پہلے میں نے دیکھا کہ لوگ سانپوں اور مگر مچھوں کو مارتے ہیں تو میں نے ایسے لوگوں کی امداد کرنا شروع کر دی جن کی آمدنی کا ذریعہ یہ سانپ اور مگر مچھ ہیں.

    رابی پیرزادہ کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ میں بھارتی فلم سائن کرنے لگی ہوں تو ان کو جواب دیتے ہوئے کہوں گی کہ میں بھارتی فلموں پر تھوکتی بھی نہیں ہوں اور یہ بات رابی نے پاکستانی اخبارات کی خبروں کے ساتھ شیئر کی.

    رابی پیرزادہ کا کہنا تھا کہ مجھے لگا تھا کہ میرے دشمن صرف بھارت میں ہیں لیکن پاکستان میں بھی ہیں. مودی کے خلاف جو بولا پورے بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا. میں بے سانپوں کے ساتھ پہلے بھی کئی ویڈیوز بنائی ہیں، جیو پر جو ناگن ڈرامہ چلا تھا جو کہ بہت ہٹ تھا ان کو سانپ بھی میں لے کر دیتی تھی.

    رابی نے مزید کہا کہ میں کسی مذیب کے خلاف نہیں ہوں چاہے وہ مسلمان، ہندو یا سکھ ہو. مجھے انسانیت سے پیار ہے. مودی سے نفرت اس لیے ہے کہ وہ انسانیت کا دشمن ہے.

  • معروف گلوکارہ رابی پیرزادہ کے خلاف کارروائی، الزام مودی پر لگادیا

    معروف گلوکارہ رابی پیرزادہ کے خلاف کارروائی، الزام مودی پر لگادیا

    لاہور :میرے خلاف مودی ڈاکٹرائن کام کررہا ہے، میں سانپوں اور مگرمچھوں کو بچانے کی کوشش کی لوگ مارنا چاہتے تھے ، اطلاعات کے مطابق وائلڈ لائف کی جانب سے کئے جانے والے جرمانے پر گلوکارہ رابی پیرزادہ کا کہنا ہے کہ مودی کے خلاف بولنے پر ہمارے سرکاری اداروں کو ہوش آیا ہے اور انہوں نے مجھے جرمانے کئے، میں نے سانپ اور مگرمچھ جیسے جانور تو کئی مہینوں سے رکھے ہوئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق رابی پیرزادہ نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کچھ روز قبل مودی کے خلاف بیان دیا جس پر سازش کے تحت انتقاما کاروائی کرکے بدنام کرنے کی کوشش کی گی۔رابی پیرزادہ کی آئیں بائیں شائیں جنگلی حیات کی کارروائی کو مودی مخالفت کا شاخسانہ قرار دے دیا،

  • محکمہ وائلڈ لائف کی گلوکارہ رابی پیرزادہ کیخلاف کاروائی

    محکمہ وائلڈ لائف کی گلوکارہ رابی پیرزادہ کیخلاف کاروائی

    محکمہ وائلڈ لائف حکومت پنجاب نے ٹیلی ویژن میزبان و گلوکارہ رابی پیرزادہ کیخلاف درخواست دائر کردی ، گلوکارہ رابی پیر زادہ کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی۔ اژدھا اور مگر مچھ رکھنے کی کسی بھی شخص کو اجازت نہیں۔
    دونوں رپٹائلز وائلڈ لائف ایکٹ کے شیڈول تھری میں شامل ہیں۔ رابی پیر زادہ کو محکمہ وائلڈ لائف کی کارروائی پر کوئی اعتراض ہے تو عدالت میں اپنا موقف پیش کریں۔ کوئی بھی شخص قانون سے بالا تر نہیں، اگر رپٹائلز ان کے نہیں تو انہیں بتانا ہو گا کہ وہ کہاں سے لائے گئے۔ محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کا کہنا ہے کہ جب وائلڈ لائف ایکٹ کی خلاف ورزی ہوگی ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • اسے کہتے ہیں پیار! اداکارہ علینہ بھٹی عارف والا پہنچ گئیں،کس کی فرمائش پر، خبرنے تہلکہ مچادیا

    اسے کہتے ہیں پیار! اداکارہ علینہ بھٹی عارف والا پہنچ گئیں،کس کی فرمائش پر، خبرنے تہلکہ مچادیا

    لاہور:اسے کہتے ہیں پیار ، محبت اور الفت اداکارہ علینہ بھٹی پرستاروں کی فرمائش پر عارف والا پہنچ گئی۔اور اطلاعات ہیں کہ اس وقت اداکارہ پہلی بار نئے ڈانس ائٹم سونگ کے ساتھ نیلم تھیٹر عارف والا میں پرفارم کر رہی ہے

    شعلہ بدن حسن کی ملکہ، اداکارہ علینہ بھٹی اپنے پرستاروں کی بھر پور فرمائش پر پررفارم کرنے عارف والا پہنچ گئی ،اداکارہ پہلی بار نئے ڈانس ائٹم سونگ کے ساتھ نیلم تھیٹر عارف والا میں پرفارم کر رہی ہے ،

    عارف والا سے ذرائع کے مطابق علینہ بھٹی کا کہنا ہے کہ نیلم تھیٹر عارف والا میں پہلی بار نئے ڈانس آئٹم کے ساتھ پرفارم کر رہی ہوں اور میری پرفارمنس کو یہاں کے عوام مدتوں فرموش نہ کر سکے گی