Baaghi TV

Category: شوبز

  • عورت کو تھپڑ مارنا محبت کی علامت؟فلم کبیر سنگھ نے نئی بحث چھیڑ دی

    عورت کو تھپڑ مارنا محبت کی علامت؟فلم کبیر سنگھ نے نئی بحث چھیڑ دی

    نئی دہلی :بھارتی فلموں میں بھی عورت کو جس گھٹیا انداز سے پیش کیا جاتا ہے اس کا اندازہ نئی بھارتی فلم ‘ کبیر سنگھ ‘ کے مرکزی کردار کے رویے سے ہوجاتا ہے .یہ بحث کیا ہے ذرا ملاحظہ فرمائیں.کیا تھپڑ مارنا محبت کی علامت ہے؟ یہ بحث حال ہی میں سوشل میڈیا پر اس وقت شروع ہوئی جب بالی وڈ کی نئی ریلیز ہونے والی فلم ’کبیر سنگھ‘ کے ڈائریکٹر کا انٹرویو منظر عام پر آیا۔انٹرویو میں ڈائریکٹر سندیپ ریڈی ونگا نے فلم کے ایک سین میں ہیرو کا ہیروین کو تھپڑ مارنا ناصرف جائز قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ جو لوگ ایسا کرنے کو غلط سمجھتے ہیں، انہوں نے ’کبھی محبت کی ہی نہیں۔‘

    فلم ’کبیر سنگھ‘ میں ہیرو کو ہیروئن کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھایا گیا ہے اور اس سین پر فلم کے ڈائریکٹر سندیپ ریڈی ونگا کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔صحافی اور فلم ناقد انوپما چوپڑا کے ساتھ انٹرویو کے دوران فلم کے ڈائریکٹر نے عورت سے بیزار اپنے مرکزی کردار کی جانب سے نبھائے گئے رول کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں انہیں ٹوئٹر پر صارفین کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔

    اس فلم میں شاہد کپور کو خود کو نقصان پہنچانے والے، مغرور شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کا نام کبیر ہے، جبکہ اداکارہ کیارا ادوانی نے ایک ظلم سہنے والی خاتون کا کردار ادا کیا ہے جس نام پریتی ہے اور وہ فلم میں ’کبیر‘ کی ساتھی ہیں۔

    فلم کے ڈائریکٹر نے انوپما چوپڑا کو بتایا کہ جو لوگ شاہد کپور اور کیارا ادوانی کے مرکزی کرداروں پر تنقید کر رہے ہیں ان کو ’کبھی محبت ہوئی ہی نہیں‘ یا ’انہوں نے یہ جذبہ کبھی ٹھیک سے محسوس ہی نہیں کیا‘۔تھپڑ مارنے والے سین کے بارے میں ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ’اداکارہ نے اداکار کو کسی وجہ کے بغیر تھپڑ مارا۔ کم از کم کبیر کے پاس اسے تھپڑ مارنے کی وجہ تو تھی۔ اگر آپ اپنی ساتھی خاتون کو تھپڑ نہیں مار سکتے یا جہاں چاہیں اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے تو مجھے اس میں کوئی جذبہ نظر نہیں آتا۔‘

    گٹا جوالا جو کہ بیڈ منٹن کی کھلاڑی ہیں‌ کا کہنا تھا کہ فلم میں عورت پر ہاتھ اٹھانے کو فروغ دینا ایک غلط اقدام ہے۔ ’کسی بھی شخص کو محبت تکلیف کے بغیر دکھائے جانے کی ضرورت ہے۔‘ ایک اور صارف کا فلم کے ڈائریکٹر کے بارے میں کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری کی طرف سے ان کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔نئی دہلی کی ایک ایمپروویبل نامی ہینڈل رکھنے والی ایک صارف نے ڈائریکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے یہ سب عورتوں کو غصہ دلانے کے لیے کہا ہے۔ صارف نے یہ بھی لکھا ہے کہ انہیں خوشی ہے سندیپ ریڈی جیسے لوگوں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔

    محبت کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسروں کو تکلیف پہنچائیں، اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ دو لوگ ایک دوسرے کے لیے جو کر سکتے ہیں کریں اور ساتھ رہتے ہوئے ایک دوسرے کی آزادی کا بھی خیال کریں۔‘

  • سُپر سٹار  پارٹ  3

    سُپر سٹار پارٹ 3

    جی ہاں فلم کے ڈائریکٹر کا “لے” یعنی تال یا جس کو انگریزی میں “ٹیمپو” کہتے ہیں میں ہونا بہت ضروری ہیں
    ہر کامیاب ڈائریکٹر نے اپنی فلم کی ٹیمپو ایسی سیٹ کی کہ دیکھنے والا فلم میں ڈوبتا ہی چلا گیا اور اس طرح فلم دیکھنے والا اپنے آپ کو بھی اس فلم کا حصہ یعنی کردار سمجھنے لگا یوں فلم دیکھنے والے کے دل کے قریب ہو گئی

    اور اگر ڈائریکٹر کو “ٹیمپو” کا ہی نہیں پتہ تو وہ کبھی کامیاب ڈائریکٹر نہیں بن سکتا اسی طرح یہ بات ایڈیٹر پر بھی لاگو ہے سو ایڈیٹر کا بھی “لے “ میں ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایک ایکٹر یا ڈائریکٹر کا !!!

    تو ایک بات تو کلیر ہو گئی کے اگر آپ کو اس شعبہ یعنی شوبز میں آنا ہے تو آپکی میوزک سے جان پہچان ہونا بہت ضروری ہے چاہے آپ ایکٹر ہوں ڈائریکٹر ہوں یا آپ ایڈیٹر ہوں آپ ساتھ والے ملک کی مثال لے لیں راج کپور سے لے کر سنجے لیلا بھنسالی تک جن ڈائریکٹرز نے باقائدہ موسیقی کو جان پہچان کی حد تک سیکھا وہ ہی کامیاب فلم بنا پائے بلکہ ان ڈائریکٹرز نے اپنی فلموں کے کئی گانوں کی دُھنیں تک خود بنائیں اور وہ سُپر ڈوپر ہٹ بھی ہوئیں

    ہمارے ہاں سہکھنے والوں کی بہت کمی ہے اور جو لوگ اپنا کام سیکھ کر سمجھ کر رہے ہیں وہ کامیاب بھی نظر آتے ہیں آپ لوگوں نے کبھی ایک بات نوٹ کی کہ ہمارے ڈرامہ یا فلم میں جتنے لوگ کامیاب ہوئے انکا تعلق بھی میوزک سے ضرور رہا،

    ہمارے ملک کے نامور بہت ہی مشہور ہیرو شان نے بھی اپنی اداکاری میں جان ڈالنے کے لئے موسیقی کو اتنا سیکھا کہ وہ اپنے کیریکٹر میں ڈائلاگ ڈلیوری سے لے کر اپنے فٹ ورک تک وہ سارے رنگ بھر سکیں جو اس کیریکٹر کی ڈیمانڈ ہیں انکو اس بات کی بہت پہلے سمجھ آگئی تھی انھیں اپنی ایکٹنگ میں رنگ بھرنے کے لئے میوزک کو ساتھ ضرور رکھنا ہوگا
    ایسے ہی فواد خان اور علی ظفر کو دیکھ لیں وہ بھی آتے ہی اس لیے کامیاب ہو گئے کیوں کہ وہ میوزک انڈسٹری سے تھے تو انکی ایکٹنگ میں وہ سارے رنگ موجود تھے جو ایک اجھے ایکٹر میں ہونے چاہئے اس لئے لوگوں نے انکے کام کو پسند کیا

    تو یہ بات ہماری آجکل کی اداکاراوں میں صرف ماہرا خان کو سمجھ آئی ہے وہ بھی اپنے کام میں اور بہتری لانے کے لئے دن رات محنت کر رہی ہیں اور لوگوں کے دلوں پر چھا رہی ہیں اسی طرح نئی آنے والی تمام اداکاراوں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی محنت کریں اور اگر ماہرا خان کی طرح کامیاب ہونا چاہتی ہیں تو ان کی طرح اداکاری کے سارے رنگ اپنے ساتھ لے کر چلیں

    اداکاری مختلف رنگوں کا امتزاج ہے جیسے ایکسپریشن ، ڈائلاگ ، ڈانس ، “لے”، اور ٹائمینگ ان سب رنگوں کو ملا کر جو ایک رنگ بنتا ہے اس رنگ کا نام ہے “اداکاری”

  • اداکارہ ذہین طاہرہ وفات پا گئیں

    اداکارہ ذہین طاہرہ وفات پا گئیں

    پاکستان کی نامور اداکارہ ذہین طاہرہ کراچی میں وفات پا گئیں۔ ذہین طاہرہ کی وفات پرشوبز سے تعلق رکھنے والے افراد نے تعزیت کا اظہار کیا ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی نامور اداکارہ ذہین طاہرہ وفات پا گئیں، وہ گزشتہ دو ہفتے سے بیمار تھیں اور مقامی ہسپتال میں داخل تھیں، گزشتہ رات ان کی طبیعت بگڑنے پر ایمرجنسی میں شفٹ کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں اور ان کی وفات ہو گئی.

    اداکارہ ذہین طاہرہ کی وفات پر شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد نے افسوس کا اظہار کیا ہے، بہروزسبزواری نے کہا ہے کہ اللہ کی رضا ہےاس پرکیا کہہ سکتے ہیں،ذہین طاہرہ سے میرا تعلق بچپن سے تھا،ذہین طاہرہ محنتی خاتون تھیں،اللہ ان کی مغفرت فرمائے.

    اداکارقوی خان نے کہا کہ ذہین طاہرہ ہمارے شعبے کی سینئرترین اداکارہ تھیں،ذہین طاہرہ نے 700سے زائد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ،ذہین طاہرہ نےہمیشہ اصولوں کےتحت کام کیا،دعاگوہیں اللہ تعالیٰ ذہین طاہرہ کی مغفرت فرمائے،

    ذہین طاہرہ نے اپنے فنی سفر کا آغاز انیس سو ساٹھ کی دہائی میں کیا۔ انہوں نے لگ بھگ سات سو ڈراموں میں مرکزی اور معاون اداکاری کے طور پر کام کیا۔ ذہین طاہرہ نے متعدد ڈراموں کی پیشکش کے ساتھ ہدایتکاری بھی کی۔مشہورڈرامے خدا کی بستی میں بہترین اداکاری پرذہین طاہرہ نے شہرت حاصل کی ،گزشتہ پانچ دہائیوں سے ذہین طاہرہ ٹی وی ڈراموں میں کام کررہی تھیں ،ذہین طاہرہ کوانکی گراں قدر خدمات پر سال 2013 میں لائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ،ذہین طاہرہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغا امتیاز سے بھی نوازا گیا

  • میڈیا کشمیریوں کی شہادتوں کی خبریں‌دینے کی بجائے منشیات کے عادی مجرموں‌کے حق میں شہادتیں‌ دے رہا ہے .وینا ملک

    میڈیا کشمیریوں کی شہادتوں کی خبریں‌دینے کی بجائے منشیات کے عادی مجرموں‌کے حق میں شہادتیں‌ دے رہا ہے .وینا ملک

    لاہور:8 جولائی کو کشمیری نوجوان برہان وانی کی برسی پر خراج تحسین پیش کرنے میں پاکستان فلم انڈسٹری کے ستارے بھی کسی سے پیچھے نہیں‌رہے. بلکہ پاکستان کے دیگر طبقات کو بھی تحریک آزادی کشمیر کو جلا بخشنے والے کشمیری نوجوان برہان وانی کو خراج تحسین پیش کرنے اور کشمیریوں کی حوصلہ افزائی کا درس دے رہے ہیں

    ایسے ہی پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ وینا ملک بھی برہان وانی کو خراج تحسین پیش کرنے لگیں‌.اپنی ایک ٹویٹ میں وینا ملک نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس وقت ضرورت تو تھی کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے کی ،لیکن ہمارا میڈیا کشمیریوں‌کو بھارتی مظالم سے بچانے کی مہم کی بجائے ملک کے بہت بڑے منشیات کے عادی اور اس دھندے کے بڑے بڑے کرداروں کو بچانے پر لگا ہوا ہے. وینا ملک نے کہا کشمیر میں‌شہادتیں ہو رہی ہیں اور ہمارا میڈیا منشیات کے عادی مجرموں کے حق میں‌شہادتیں‌دے رہا ہے.

  • برہان وانی کو بھارتی فوج کے ظلم وتشدد نے قافلہ تحریک ازادی کشمیر میں شامل ہونے پر مجبور کیا .حمزہ علی عباسی

    برہان وانی کو بھارتی فوج کے ظلم وتشدد نے قافلہ تحریک ازادی کشمیر میں شامل ہونے پر مجبور کیا .حمزہ علی عباسی

    اسلام آباد:آج مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں‌تحریک آزادی کشمیر کو جلا بخشنے والے برہان وانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دنیا بھر سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرنے والے افراد اور تنظیموں کی طرف اپنی محبت اور جزبات کا اظہار کیا ہے. ایسے ہی پاکستان کے نامور ادارکار اور صحافی حمزہ علی عباسی نے بھی برہان وانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہ برہان وانی نے تحریک آزادی کشمیر کو ایک نئی جہت دی ہے.

    اپنی ٹویٹ میں حمزہ علی عباسی نے کہا ہے کہ دنیا کو یہ بات یاد رکھ لینی چاہیے کہ برہان وانی جیسے پڑھے لکھے کشمیری نوجوان کو بھارتی فوج کے طلم وتشدد نے قافلہ تحریک آزادی میں شامل کیا ہے. بھارتی افواج نے اس کے خاندان سمیت دیگر کشمیریوں پر طلم کی انتہا کردی ان کی تذلیل کی گئی پھر اسی بات نے برہان کو بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف کھڑاہونے پر مجبور کیا اور پھر وہ اپنی قوم کی عزت ،تکریم اور بھارتی افواج سے آزادی کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ہم اس کی شہادت پر اس کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں.

  • سُپر سٹار  پارٹ 2

    سُپر سٹار پارٹ 2

    ہم بات کر رہے ہیں فلم “سپرسٹار” کی جیسا کہ اب تک سب کو پتہ چل چکا ہے کے اس فلم ماہرا خان ہیں تو آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں فلم کیسی ہو گی ؟
    میرے خیال سے تو فلم اچھی ہی ہو گی کیوں کے اس میں ماہرا خان ہیں اور ماہرا خان اپنے کام سے بہت محبت کرتی ہیں جس وجہ سے لوگوں کو ان پہ اعتماد ہے کہ وہ ایک اچھی فلم میں ہی کام کرنا پسند کریں گی لحاظا اسی لیے لوگ ان کی فلم کا انتظار بڑی بے تابی سے کر رہے ہیں اور جس بات پر ماہرا خان بہت فوکس کر رہی ہیں وہ ہے ڈانس وہ جی جان سے ڈانس پر محنت کر رہی ہیں
    جیسا کہ آجکل انکا ایک چھوٹا سا کوئی ایک منٹ کا کلِپ انسٹاگرام پر وائرل ہوا وا ہے جس میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کتنی مہارت سے اور ایکسپریشن کے ساتھ وہ ڈانس کر رہی ہیں یہ ابھی ایک چھوٹا سا ڈانس کلپ ہے جس سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بڑی سکرین پر اور کمال کرنے والی ہیں ،
    یہ ایک اجھے فنکار کی نشانی ہے کہ اپنی غلطی خود نکالتا ہے اور اس غلطی کو دوبارہ نہیں کرتا جس کی وجہ سے اس کے کام میں بہتری آتی جاتی ہے اور اس طرح وہ کامیابیوں کی منزلوں کو عبور کرتا ہوا رہتی دنیا تک اپنا نام چھوڑ جاتا ہے ،
    ڈانس بھی ایک خاص جُز ہے اداکاری کا مطلب ایک اداکار کو اجھا ڈانس بھی آنا چاہیے شاید کچھ لوگ اس بات کو سیریس نہیں لیتے اور ان کے خیال میں ڈانس نہیں بھی آتا تو خیر ہے ویسے حیرت ہے کہ وہ اداکاری کے ایک خاص جُز کو ہی نظر انداز کیے جا رہے ہیں
    ارے بھائی ڈانس کرتے ہوئے لپ سنگ کرنا اور ایکسپریشن دینے سے ہی تو اجھے اداکار کا پتہ چلتا ہے کہ اسکو “لے” یعنی “تال” کا کتنا پتہ ہے اور جن لوگوں نے اپنے مکالموں کو انکی “تال” کے مطابق بولا وہ جُملا لوگوں کے دل میں اتر گیا
    اچھے اداکار کا اچھا “لےکار” ہونا بھی بہت ضروری ہے اور ہم مانیں یا نہ مانیں ہماری آجکل کی فلم ٹریڈ میں اس چیز کی بہت کمی ہے ہمارے ہاں جس اداکار یا اداکارہ کا ڈرامہ تھوڑا مشہور ہو جاتا ہے اسکو اٹھا کر فلم میں ڈال دیتے ہیں اور انکو فلم کی کوئی ٹریننگ نہیں دی جاتی نہ سمجھایا جاتا ہے کہ فلم میں انھوں نے بولنا کیسے ہے چلنا کیسے ہے ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو ہمارے آجکل کے فلم بنانے والوں کو اپنے اداکاروں اور اداکاراوں کو بتانی یا سمجھانی چاہئے جس سے وہ اپنی ڈرامہ اور فلم کی اداکاری میں فرق لا سکیں لیکن انکا بھی قصور نہیں جن کو خود نہیں پتہ وہ بیچارے اپنے فنکاروں کو کیا بتائیں یا سمجھائیں گے،
    حتیٰ کے ڈائریکٹر کا بھی “لے“ میں ہونا بہت ضروری ہے ،،،،،،،،،،(جاری ہے )

  • مجھے کامیابی ناکامی سے کوئی مطلب نہیں ہے

    مجھے کامیابی ناکامی سے کوئی مطلب نہیں ہے

    بھارتی اداکارہ راکل پریت سنگھ کہتی ہیں کہ مجھے کامیابی یہ ناکامی سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں صرف اچھا کام کرنا چاہتی ہوں.
    اداکارہ راکل پریت سنگھ بالی وڈ کے لیے نئی لیکن جنوبی بھارت کی فلم انڈسٹری کے بڑے اداکاروں میں شامل ہیں اور کچھ عرصہ پہلے ہی انہوں نے اجے دیوگن کے ساتھ فلم ’دے دے پیار دے‘ میں کام کیا ہے جس میں وہ مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں.
    دلی یونیورسیٹی سے تعلق رکھنے والی راکل پریت سنگھ کو بچپن سے ھی فلموں کا شوق تھا پنجابی آرمی آفیسر کے گھر پیدا ہونے والی راکل پریت سنگھ نے 18 سال کی ہی عمر میں ہی ماڈلنگ کرنا شروع کر دیا تھا.
    کہا جاتا ہے کہ راکل پریت سنگھ نے جنوبی بھارت کی فلموں سے اپنے فلم کیرئر کا آغاز کیا ہے. لیکن راکل پریت سنگھ نے ایک انٹرویو میں بتایا کے ان کی پہلی فلم ہندی یاریاں تھی.
    راکل پریت سنگھ نے کیا ہے کہ کامیابی ہویہ ناکامی مجھے ان باتوں سے کوئی مطلب نہیں ہے .
    مجھے بس اپنی فلم کی رلیز سے مطلب ہے کہ وہ کدھر کدھر رلیز ہو رہی ہے.
    راکل پریت سنگھ کہتی ہیں کہ مجھے بس کیمرے کے سامنے رہنا پسند ہے مجھے پیسے سے کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی میں پیسے کے لیے کام کرتی ہوں

  • مائرہ خان نے کیا پنجابی گانے پر ڈانس

    مائرہ خان نے کیا پنجابی گانے پر ڈانس

    مائرہ فلم کی دنیا میں تو ویسے سب کے دلوں پر راج کرتی ہی ہیں لیکن انہوں نے پنجابی گانے پر ڈانس کر کہ اج سب کو دیکھا دیا ہے کہ وہ ایک اچھی ڈانسر بھی ہیں.
    مئراہ نے ایک پنجابی گانے پر ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے بہت سے لوگ بہت شوق سے دیکھ بھی رہے ہیں اور اگئے بھی شیئر کر رہیے ہیں.
    ویڈیو میں مئرہ کے ساتھ بلال بھی اپنا جلوہ دیکھاتے ہوے نطر آہ رہے ہیں بلال تو کچھ ہی دیر میں پیچھے ہٹ گئے لیکن کافی دیر تک اپنی اداوں کا جلوہ دیکھاتی رہیتی ہیں.
    maira-khan-ka-punjabi-dance
    یاد رہے کہ ڈانس کی ویڈیو مائرہ اور بلال کی عید الضحیٰ پر انے والی نئی فلم سپر سٹار کی شوٹینگ کے درمیان بنائی گئی تھی امید ہے کہ فلم بھی گانے کی طرح سب کے دلوں پر راج کرے گی

  • سُپر سٹار

    سُپر سٹار

    سُپر سٹار

    عیدلاضٰحی پر لالی وڈ ویسے تو اپنے ناظرین کے لیے بہت سی فلمیں لے کر آ رہا ہے مگر لوکوں کو جس فلم کا بڑی بے صبری سے انتظار ہے جس کا پوسٹر بھی ریلیز ہو چکا اس فلم کا نام ہے “سُپر سٹار”
    جس وجہ سے لوگ اس فلم کا انتظار کر رہے ہیں وہ وجہ ہے “ماہرا خان” جو اس کا اہم کردار ادا کر رہی ہیں
    ہر دل عزیز ماہرا خان جو کے پہلے بھی اپنی ایکٹنگ کا جادو کئی بار جگا چُکی ہیں اور ان کو اپنے ملک کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی بےحد پسند کیا جا رہا ہے اب تو انکی گرومنگ اور اچھی ہو گئی ہے جب سے وہ بالی وڈ میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے کامیاب لوٹیں ہیں اور آج تک بالی وڈ والے انکے کام کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے خود شاہ رُخ خان نے بھی کئی بار اون سکرین انکی تعاریف کی اور ان کے کام کو بھی سراہا جس وجہ سے مائرہ خان کی وجہ شہرت میں اور اضافہ ہوتا چلا گیا اور یہ بات سچ بھی ہے کسی دوسرے ملک جا کے اپنے فن کا جادو جگانا کوئی آسان کام نہیں !!!
    آپ دیکھیں اس سے پہلے بھی کئی پاکستانی فنکار بالی وڈ میں گئے لیکن وہ کیوں اپنے فن کا لوہا نہیں منوا سکے وہ اس لیے کہ ان تمام لوگوں نے مائرہ خان کی طرح اپنے کردار کے بارے میں نہ ذیادہ پوچھ گِچھ کی اور نہ ہی اپنے کردار کی ڈیٹیل لی لیکن مائرہ خان نے اپنے کردار کی ایک ایک ڈیٹیل لی اور انکو یہ بھی کہا کے جو انکا امیج اپنے ملک اور فیملی میں ہے وہ امیج خراب نہ ہو تو ہی وہ کام کریں گی تو انکی اس بات کو مدِنظر رکھا گیا اور اسطرح وہ اپنے فن کا لوہا منوا کر اپنے ملک کامیاب لوٹیں
    اور باقی تمام لوگوں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے انکی بنی بنائی عزت بھی گئی
    ماہرا خان سے پہلے جو لوگ بالی وڈ گئے انکے نام ہیں علی ظفر، فواد خان ، عمران عباس ، میرا ، وینا ملک ، ماورا حسین ، ان میں سے جن لوگوں کو عزت ملی اور انکے کام کو بھی سراہا گیا وہ ہیں علی ظفر ، فواد خان ، اور مائرہ خان ، باقی تمام لوگوں کو سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا
    جس کی وجہ سے ان فنکاروں کو اپنے ملک میں بھی کام نہ ملنے کے برابر ملا لحاظا آپ دنیا میں کہیں بھی کام کریں تو اپنے امیج کو سامنے رکھ کے اور اپنی شرطوں پہ کریں
    تو ہی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں اور اگر آپکو دنیا میں کہیں سے بھی آفر ہو رہی ہے تو یہ بات تو طے ہے کہ آپ میں ٹیلنٹ ہے اگلا بندہ ایسے تو آپکو آفر نہیں کر رہا ہاں اگر آپ کسی سفارش سے وہاں تک پہنچے ہیں تو پھر وہ آپ سے سارے حق چھین لیتے ہیں اور آپکو وہی کرنا پڑتا ہے جو وہ کہہ رہے ہوتے ہیں اس میں چاہے آپکا امیج ہی کیوں نہ خراب ہو رہا ہو آپ کچھ نہیں کر سکتے !!!
    (جاری ہے)

  • مہوش حیات خود کیتھرینا کیعف کی فین نکلی

    مہوش حیات خود کیتھرینا کیعف کی فین نکلی

    گوہ کے ہمارے ملک میں بہت سارے اسٹائلسٹ موجود ہیں تو جب “گینگسٹر گڑیا “ آئٹم سونگ شوٹ ہو رہا تھا تو کیا اس فلم کے ڈائریکٹر صاحب نے کسی سٹائلسٹ سے رابط نہیں کیا ؟
    حیرت کی بات ہے اگر واقع ہی اس آئٹم سونگ کی سٹائلنگ ہمارے ملک کے ہی کسی بندے نے کی ہے تو اس نے تو کمال ہی کر دیا کیا ہو بہو کاپی کی ہے جس نے بھی کی ہے وہ سہی کہتے ہیں کے نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے آجکل سوشل میڈیا کا دور ہےآپ کیسے نِقل سکتے ہیں بچ کے ۔۔۔۔۔
    ہم بات کر رہے ہیں آئٹم سونگ “ گینگسٹر گڑیا” کے بارے میں جس کو ہمارے ملک کی نام ور اداکارہ مہوش حیات جنکو تمغۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا ان پر فلمایا گیا ایک طرف ہم ان کو اتنی عزت دے رہے ہیں دوسری طرف ہم خود ہی ان کو ایسا بنا کر پیش کر رہے ہیں کے دوسرے لوگ ہمارا مزاق اڑائیں
    اس وقت یہ بات ہر عام و خاص کی زبان پر ہے کہ مہوش حیات آئٹم سونگ “گینگسٹر گڑیا” میں جو گِٹ اپ کروایا گیا وہ انڈین فلم “زیرو” کے ایک گانا “حُسن پرچم”
    جس کو کتھرینا کیف پر فلمایا گیا اس کی ہو بہو کاپی ہے اور وہ سونگ بہت پہلے ریلیز ہوا کیا اس فلم کے ڈائریکٹر کی آنکھوں سے یہ گانا نہیں گزرا ہو گا یا اس پوری کاسٹ میں سے کسی نے کتھرینا والا سونگ نہیں دیکھا ہو گا
    ایسا ہو تو نہیں سکتا اگر اس فلم کے ڈئیریکٹر ہا کوریوگرافر سب لوگ بھی یہ کہیں تو یہ بات ماننے میں نہیں آتی
    ایک اور بات حیرت والی ہے کے کیا مہوش حیات کو بھی نہیں پتہ چلا کہ انکے ساتھ کیا ہو رہا ہے مطلب وہ خود کسی سے کم نہیں تو انکے امیج کو خراب کرنے میں کس کا ہاتھ ہے ؟
    ہمیں اپنے آرٹسٹ کی عزت بڑھانی چاہیے نہ کے انکی عزت داوُ پہ لگائیں انکا بنا بنایا امیج خراب نہیں کرنا چاہئیے اس میں آرٹسٹ کا اپنا بھی قصور ہے اصل میں آرٹسٹ کو خود اپنے امیج کا خیال رکھنا چاہئیے اسی لئے تو بڑا ایکٹر یا ایکٹرس کبھی ایسا کردار نہیں کرتے تھے جس کی وجہ سے انکا امیج خراب ہو بلکہ وہ ہر بار ایسا کردار کرتے تھے کے لوگ جو انکے فین ہوتے تھے وہ انکو اور عزت دیتے تھے جبکہ مہوش حیات کے جو چاہنے والے یعنی جتنے فین ہیں انکا کہنا ہے کہ انکو بہت دکھ ہوا کہ اتنی اچھی ایکٹرس کو کسی دوسرے ملک کی ایکٹرس کا سٹائل کیوں کاپی کروایا گیا اس سے اچھا تھا کہ اسی ایکٹرس یعنی کیتھرینا کیف کو ہی کاسٹ کر لیتے جیسے یہ گانا “گینگسٹر گڑیا” بھی ہمارے ہمسایہ ملک انڈیا کی سنگر سونیدھی چوہان سے گوایا گیا ہے سونیدھی چوہان جو اپنے ملک میں بھی پرانی ہو گئی ہیں وہ لوگ بھی نئے لوگوں کو چانس دے رہے ہیں مگر ہم ابھی بھی دوسروں سے انسپائر ہیں کس بات کا ڈر ہے ہم اپنے آرٹسٹ پہ بھروسہ کیوں نہیں کرتے ؟؟؟ جبکہ وہ ہمارے آرٹسٹ جیسے راحت فتح علی خان ، عاطف اسلم ، فواد خان ، مائرہ خان وہ تو ہمارے آرٹسٹوں سے کام لے رہے ہیں
    اگر ہم دوسرے پہلو پہ غور کریں تو کہیں ایسا تو نہں کہ مہوش حیات خود تو کیتھرینا کیف سے متاثر ہوں اور خود کیتھرینا جیسا دکھنا چاہ رہی ہوں ہاں کسی سے متاثر ہونا بری بات نہیں لیکن کسی کو کاپی کر کے ہم خود کو بی گریڈ والی لائن میں کھڑا کر لیتے ہیں ویسے دیکھا جائے تو مہوش حیات کو یہ ائیٹمُ سونگ کرنے کی ضرورت کیا تھی
    اس کا جواب تو خود مہوش حیات ہی دے سکتی ہیں کہ ایسی کیا مجبوری تھی کہ انکو یہ سونگ اور یہ گٹ اپ کرنا پڑا جبکہ اس سونگ میں تو کوئی ایسی بات نہیں کہ اسکو نہ کر کے انکو کوئی فرق پڑتا !!!