Baaghi TV

Category: شوبز

  • آنٹی  میرا کی "باجی” بننے کی کوشش ناکام،

    آنٹی میرا کی "باجی” بننے کی کوشش ناکام،

    آنٹی میرا کی "باجی” بننے کی کوشش ناکام، بڑھتی عمرکیئریر کو بچانے کا آخری حربہ کو جو کہ ناکام ہو گیا.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق آنٹی کی عمر کو پہنچ جانے والی اداکارہ میرا نے "باجی” بننے کی کوشش کی جو بری طرح سے ناکام ہوگئی۔ بارہ مئی 1977 کو پیدا ہونے والی 42 سالہ اداکارہ میرا آج بھی 18سالہ حسینہ ہونے کا دعوی کرتی ہیں۔ لاکھوں روپے خرچ کرکے کرائی گئی کاسمیٹک سرجری بھی اب میرا کی عمر چھپانے میں ناکام نظر آتی ہے۔
    فلمسٹار میرا نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 1995 میں کیا لیکن ان کو پذیرائی 1997 میں بننے والی فلم کھلونا سے ملی۔ 2019 میں میرا کی اب تک کی آخری فلم "باجی” ریلیز ہوئی۔ حالیہ ریلیز ہونے والی پاکستانی فلاپ فلمز میں سب سے نمایاں نام میرا کی فلم "باجی” کا ہے۔ شوبز حلقوں میں "باجی” کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور "باجی” کو میرا کے ڈوبتے شوبز کیرئیر کی آخری فلم کہا جا رہا ہے۔

    فلمی حلقوں میں فلم کو سخت ناپسند کیا گیا جبکہ فلمی شائقین نے بھی فلم کو بری طرح ریجیکٹ کردیا۔ باوثوق ڈرائع کے مطابق فلم کے ڈائریکٹر ثاقب ملک اور ادکارہ میرا کے درمیان فلم کی ناکامی کی بعد شدید اختلاف پیدا ہو گئے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈائریکٹر ثاقب ملک فلم کی ناکامی کا سبب میرا کو سمجھتے ہیں اور "باجی” کو اپنے کیرئیر کی سنگین غلطی قرار دیتے ہیں۔ جبکہ ادکارہ میرا فلم کے فلاپ ہونے کا ملبہ ڈائریکٹر ثاقب ملک پر ڈال کر ان کی ڈائریکشن پر سوال اٹھا رہی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اپنے ختم ہوتے شوبز کیرئیر کو سہارا دینے کے لئے فلم "باجی” کو درپردہ میرا نے خود پروڈیوس کیا تھا۔ تاکہ کسی طرح سے وہ شوبز انڈسٹری میں اپنے قدم جمائے رکھیں مگر فلم کی ناکامی نے انہیں چاروں شانے چت کر دیا ہے۔
    تقریباً 4 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے بننے والی فلم "باجی” اپنی لاگت پوری کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ ناقدین اس کا سبب میرا کی اوورایکٹنگ، ناقص سکرپٹ اور کہانی کو ٹھہرا رہے ہیں بلکہ بعض تو اس سکرپٹ کو مختلف کہانیوں کا چربہ قرار دے رہےہیں۔

    جس میرا نے باجی سے آنٹی تک کا سفر بخوبی طے کیا وہی اداکارہ میرا آنٹی سے "باجی” تک کا سفر طے کرنے میں بری طرح ناکام رہیں۔
    آغاز سے لے کر اب تک جتنے فلمی اور جنسی سکینڈلز ادکارہ میرا کے ہیں اتنے شاید پوری فلم انڈسٹری کے نہیں ہوں گے۔ فلم انڈسٹری میں اپنا نام بچانے اور خبروں کی زینت بننے کے لئے جتنے اوچھے ہتھکنڈے ادکارہ میرا نے استعمال کئے ہیں اس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔

  • باجی بنی انویسٹر

    باجی بنی انویسٹر

    فلم میرا یعنی باجی جس کی کاسٹ میں آمنہ الیاس، اسامہ خالد بٹ ،علی کازمی، محسن عباس ،نیر اعجاز ،نشو ،اور باجی یعنی میرا شامل ہیں
    اس فلم میں ساری کاسٹ ایک طرف اور میرا جو کہ اس فلم کا ٹایٹل رول ادا کر رہی ہیں ایک طرف کیونکہ ساری فلم میں آپ کو باجی باجی ےیعنی میرا ہی نظر آیے گی کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فلم باجی کی انویسٹر خود میرا ہی ہیں اس کا اندازا لوگوں کو تب ہوا جب ،اے ار وای، کے مارنگ شو میں فلم کی پرموشن کے لیے ساری کاسٹ اور فلم کے ڈائرئکٹر ثاقب ملک بھی آئے تو ثاقب ملک نے ایک انقشاف کیا کہ میں پچھلے 15 سال سے فلم بنانے کی کوشیش کر رہا تھا انہوں نے یہ بھی یہ کہا کہ کئی سین شوٹ کرتے ہوئے میرا نے میری مدد کی کہ کون سا سین کتنا وایڈ ہونا چاہیے اور کتنا ٹایٹ ہونا چاہیے ثاقب ملک جو کہ بڑے مانے ہوئے ویڈیو ڈائریکٹر ہیں کیا انہوں نے پندرہ سالوں میں فلم بنانے کی یہ تیاری کر رکھی تھی کہ سیٹ پر ان کو کوئی دوسرا بتا رہا ہے کہ سین کو شوٹ کس طرح سے کرنا ہے ایک تو میرا یعنی باجی نے یہ ثابت کر دیا کہ تم ٹی وی والوں کو کیا پتا کی فلم کیسے شوٹ کرتے ہیں اور اتنے مانے جانے والے ویڈیؤ ڈائریکٹر خوشی سے ان کی بات مانتے رہے یا تو انہوں نے کہی اندر اپنے اپ میں یہ تسلیم کر لیا تھا کہ واقع ہم ٹی وی والوں کو فلم شوٹ کرنا نہیں آتی یہ پھر وہ باجی یعنی میرا جی کی بات اس لیے مان رہے تھے کہ وہ خود اس فلم کی انویسٹر ہیں اس لیے ساری فلم میں خود باجی یعنی میرا جی خود دیکھائی دے رہی ہیں اور باقی ساری کاسٹ صرف سپورٹینگ کاسٹ کے طور پر کام کرتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے صرف نیر اعجاز کے علاوہ فلم دیکھنے والوں کو کسی نے متاثر نہیں کیا وہ بھی اس لیے کہ نیر اعجاز فلم سے ہیں باقی سب لوگ ٹی وی سے ہیں اور ایک دفع پھر ٹی وی والوں نے فلم دیکھنے والوں کو بہت مایوس کیا اور اس فلم کے میوزک نے بھی فلم کو زرہ سپارٹ نہیں کیا جیسا کہ دیکھا گیا ہے اس خطے میں ہٹ ہونے والی فلموں کی کہانی اچھی اور موسیقی بہت دل آویز ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے لوگ فلم دیکھ کر محظوظ ہوا کرتے تھے اور بار بار اس فلم کو دیکھنے کے لیے سینما گھروں میں اتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہوتا نہ کوئی آچھی کہانی لکھنے والے کو ترجح دیتا ہے اور نہ ہی اچھی موسیقی یعنی فلم کی موسیقی ترتیب دینے والے کے پیچھے کوئی جاتا ہے فلم کا گانا بھی سکرپٹ کا ایک حصہ ہوتا ہے جو کہانی کو لے کر آگے چلتا ہے فلم کے گانے میں جو شعاری ہوتی ہیں وہ گانے سے پہلے والی کہانی کو گانے کے بعد والی کہانی سے جوڑتی ہے یہ ائک فلم والا ہی سوچ سکتا ہے کہ گانے کی سچویشن کیسے بنانی ہے جبکہ ٹی وی والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اسی لیے فلم باجی کا کوئی گانا لوگوں کے کانوں سے ہوتا کی دلوں میں نہیں اترا اس فلم کی موسیقی دینے والوں نے کچھ پرانی لائن اور پرانی دھنوں کو ہی ری ڈو کر دیا کیا ہمارے پاس اسے موسیقار یہ شاعر موجود نہیں جو کسی بھی فلم کے لیے نئے گانے بنا سکیں وسے ثاقب ملک کی پندرہ سال کی محنت یہ رنگ لائے گی کیا انہوں نے ایسا سوچا ہوگا لہازا ہماری پنجابی فلم کا مزاق اڑاتے تھے یہ اڑاتے ہیں وہ اپنے فلم دیکھنے والوں کی تعداد اتنی تو بنا لیں جتنی پنجابی فلم دیکھنے والوں کی تھی
    اگر اپ کو فلم بنانے کا اتنا ہی شوق ہے تو فلم بنایئں ضرور بنایئں اپنے پیسوں سے بنایئں یہ کسی کے پیسوں سے بنایئں ایک بات کا خیال رکھیں کہ اپنے کام کے ساتھ انصاف ضرور کریں جو لوگ اپنی محنت کی کمائی سے ٹکٹ لے کر آپکی فلم دیکھنے اتے ہیں خدارا انکو مایوس مت کریں .
    فلم ماڈرن ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن ثاقب ملک کو چاہیے کہ وہ بھی سینما میں بیٹھ کر فلمیں دیکھا کریں گھر میں ٹی وی پر فلم دیکھنے سے کبھی نہیں پتا چلے گا کہ فلم کیسے بناتے ہیں
    ارتضیٰ بنی میرا ،میرا بنی باجی (ثاقب کی ) اور باجی ارتضیٰ سفر دوبارہ شروع .
    پرانی فلموں میں ہسپتال کی نرس کا کردار ماں نبھاتی تھی لیکن اب ہیرون بنی باجی
    جہان ثاقب ملک کو خاص طور پر ناظرین سے معافی مانگنی چاہیے جو سر میں درد لے کر اٹھے وہاں ایس سلمان اور مرحومہ نیر سلطانہ کی قبر پر جا کر بھی معافی مانگنی چاہیے .
    ثاقب ملک نے باجی ٹائٹل کے ساتھ وہی سلوک کیا جو کچھ عرصہ پہلے مومنہ اور آحد رضا میر نے ،کوکو کورینا، کے ساتھ کیا لہازا میں اپنے حصے کی پیناڈول کھانے جا رہا ہوں

  • علی ظفر نے عدالت میں ایسا ثبوت دیا کہ میشا شفیع کے پسینے نکل آئیں

    علی ظفر نے عدالت میں ایسا ثبوت دیا کہ میشا شفیع کے پسینے نکل آئیں

    پاکستان کے معروف گلو کار علی ظفرنے میشا شفیع کا میسج عدالت میں بطور ثبوت پیش کر دیا

    علی ظفر کی میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوٰی پر سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کی سماعت ہوئی ،ایڈیشنل سیشن جج امجد علی نے سماعت کی علی ظفر نے میشا شفیع کا ریہرسل کے دوران خوشی کے اظہار کا میسج بطور ثبوت پیش کر دیا ،گلوکار علی ظفر نے مشروب سازکمپنی سے مارچ 2018ء کا معاہدہ پیش کردیا ،عدالت نے علی ظفر کے پیش کردہ معاہدے کی دستاویز کو رکارڈ کا حصہ بنا دیا .

    گلوکارہ علی ظفر اور میشا شفیع کی لڑائی میں ایک نیا موڑ آ گیا
    علی ظفر نے عدالت میں کیا کہہ دیا؟ کہ میشا شفیع کی استدعا مسترد ہو گئی

    میشا شفیع کے وکیل نے علی ظفر کی طرف سے پیش کردہ معاہدے پر اعتراض کیا جس پر عدالت نے جواب دیا کہ آپ کا اعتراض بعد میں رکارڈ پر لایا جائے گا.

    علی ظفر نے دھمکیوں والی پوسٹ عدالت میں جمع کروا دیں

    علی ظفر کا کہنا تھا کہ میشا شفیع کےشوہرنے میرے ساتھ مارشل آرٹ ٹریننگ میں بھی حصہ لیا، الزامات کے باوجود میشا شفیع کے شوہرمیرے ساتھ کام کرتے رہے .

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت میں علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایک منظم سازش کےتحت میری فلم سے پہلے مجھے نشانہ بنایا گیا اورمیرے خلاف مہم چلانے کے لیے جعلی اکاؤنٹس کو بھی استعمال کیا گیا. علی ظفر کا مزید کہنا تھا کہ میرے خلاف مہم چلانے والے ہرفرد کا تعلق براہ راست میشا اور اسکے نمائندہ سے ہے، علی ظفر نے سوشل میڈیا پر دھمکیوں والی پوسٹ بھی عدالت میں جمع کروائی ،9 گواہ پہلے ہی علی ظفر کے حق میں عدالت میں بیان جمع کرواچکے ہیں.

    گلوکار علی ظفر کے وکیل نے میشا شفیع کے خلاف لاہور سیشن کوٹ میں ایک ارب روپے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ میرے مؤکل پر ہراسگی کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگایا گیا‘۔وکیل کا کہنا تھا کہ میشا شفیع نے سستی شہرت کے لیے علی ظفر پر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے اور لیگل نوٹس کے باوجود معافی نہیں مانگی لہذا عدالت سے استدعا ہے کہ وہ خاتون گلوکارہ کو 1 ارب ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کرے۔ اپریل میں گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا

  • علی نور زندگی اور موت کی بازی

    علی نور زندگی اور موت کی بازی

    علی نور جو کے “نوری بینڈ” کے مین سنگر اور گیٹارسٹ ہیں انکی لیور ٹرانسپلانٹ سرجری جو کے اسلام آباد شفا ہسپتال میں ہونے جا رہی ہے اپ میں سے جن کی عمر 18 سے 45 اور جن کا بلڈ گروپ B +ve, B -ve, O +ve O -ve ہے اگر کوئی خون کا عطیہ دینا چاہتا ہے تو اس نمبر 03004008761 پر رابطہ کر سکتا ہے

  • سینما گھروں کے خلاف ٹیکس، عدالت نے سینما مالکان کو حکم دے دیا..

    سینما گھروں کے خلاف ٹیکس، عدالت نے سینما مالکان کو حکم دے دیا..

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سینما گھروں کے خلاف ٹیکس کی سماعت کے دوران حکم دیا ہے کہ سینما گھر ٹکٹس کی تفصیلات ایکسائز ٹیکس حکام کو دیں

    باغٰ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینما گھروں کے خلاف ٹیکس کیس کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیسے آپ کو پتہ چلا کتنی ٹکٹیں فروخت ہوئیں؟

    سینما گھر کے وکیل نے کہا کہ ٹیکس صرف سینما کے ٹکٹ کی حد تک ہے،ایک سینما میں دن میں پانچ شو چلتے ہیں،ایکسائزاینڈٹیکسیشن نے 50فیصد انٹرٹیمنٹ ڈیوٹی اکٹھی کرنی ہے، 2016میں بھیجے گئے4 ماہ کےنوٹس پر7کروڑسے زائدکا ٹیکس بنتاہے، عدالت نے سینما گھر کے مالکان کو ہدایت کی کہ وہ ٹکٹس کی تمام تفصیلات ایکسائزاینڈٹیکسیشن حکام کو جمع کروائیں ،عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کردی

  • ذہین طاہرہ زندہ ہیں بیٹے نے موت کی افواہ کی تردید کر دی

    ذہین طاہرہ زندہ ہیں بیٹے نے موت کی افواہ کی تردید کر دی

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی سینئر ترین اداکارہ ذہین طاہرہ کے صاحبزادے کامران خان نے اپنی والدہ کے انتقال کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی طبیعت میں اب بہتری آئی ہے۔
    ذہین طاہرہ کو چند روز قبل دل کا دورہ پڑنے کے بعد کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر ذہین طاہرہ کے انتقال کی افواہیں زیر گردش تھیں جن کی ان کے صاحبزادے کی جانب سے تردید سامنے آگئی ہے۔

    ذہین طاہرہ کے صاحبزادے کامران خان کا کہنا ہے کہ والدہ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور اب ان کی طبیعت میں بہتری آئی ہے، شام تک انہیں وینٹی لیٹر سے بھی ہٹا دیا جائے گا۔

    کراچی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ ذہین طاہرہ نے کئی دہائیوں تک سرکاری ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، وہ پی ٹی وی کی تاریخ کی سب سے سینئر اور بزرگ اداکارہ قرار دی جاتی ہیں۔

    ذہین طاہرہ نے خدا کی بستی، عروسہ، دستک، دیس پردیس، کالی آنکھیں، کہانیاں، وقت کا آسمان، ماسی اور ملکہ، راستے دل کے، کیسی ہیں دوریاں، شمع، دل دیا دہلیز، چاندنی راتیں، آئینہ، تجھ پہ قربان سمیت سینکڑوں ڈراموں میں کام کیا۔

    حکومتِ پاکستان نے اداکاری کے میدان میں لازوال خدمات کے اعتراف میں ذہین طاہرہ کو 2013ء میں تمغۂ امتیاز سے نوازا تھا۔

  • راحت فتح علی خان کی ایک اور کامیابی

    راحت فتح علی خان کی ایک اور کامیابی

    راحت فتح علی خان کو کسی تعارف کے محتاج نہیں انھوں نے پہلے بھی اپنے ملک کا نام بہت زیادہ روشن کیا ہے آج انھوں نے ایک اور کامیابی حاصل کی ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں آج انکو آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹرآف میوزک کی ڈگری سے نوازا گیا ہے اور یہ ہمارے اور ہمارے ملک لیے بہت ہی فخر کی بات ہے

    ہم راحت فتح علی خان کو اپنے چینل باغی کی طرف سے اور سارے ملک کی طرف سے بہت بہت مبارک باد پیش کرتے ہیں