Baaghi TV

Category: شوبز

  • فنکار اور مکا٘ر  پارٹ ٹو

    فنکار اور مکا٘ر پارٹ ٹو

    جی تو ہمارے ملک میں ایک اور کام جو ہمارے فنکار کرتے ہوئے زرا نہیں شرما رہے کے گانا کسی کا ہے اور ہٹ ہو کر مزے کوئی اور لے رہا ہے اور نہ ہی وہ اس موسیقار کا نام لے رہے ہیں اور نہ ہی اس شاعر کا ۔۔
    جیسے کے ہم بات کر رہے تھے دھمال “ لال میری پت رکھیو بلا” اس دھمال کو سب سے پہلے میڈم نورجہاں نے ان کے بعد عنائت حسین بھٹی اور انکے بعد تقریباً ۱۰۰ سے زیادہ سنگرز اس دھمال کو گا چکے ہیں بلکہ کچھ انڈین سنگرز نے بھی اس دھمال کو گایا اس دھمال کو گا کر بہت سارے سنگرز نے خاصا پیسہ بھی بنایا لیکن جس انسان نے اس دھمال کی دھن بنائی کبھی بھی کسی سنگر نے انکا نام لینا گوارا نہیں کیا اور نہ ہی اس کو لیکھنے والے شاعر کا تزکرہ کہیں سننے میں آیا
    اس دھمال کو جس نے بھی گایا وہ پھر اسی دھمال سے پہچانا گیا یوں یہ دھمال بہت سارے سنگرز کی پہچان بنی

    سنا ہے کے جس قوم نے اپنی ثقافت کو چھوڑ دیا وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکی تو بدقسمتی سے یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا اور ہو تا چلا جا رہا ہے یہاں بھی ان انسانوں کی قدر نہیں کی گئی ہم نے اپنے دانشوروں کو ادیبوں کو کہانی نویسوں کو شاعروں کو ان موسیقاروں کو جنھوں نے صوفی کلام کو سروں میں اتار کر نہ کہ اپنی ثقافت کو زندہ رکھا بلکہ اپنے مذہب کو بھی دنیا بھر میں پھیلایا اور اپنے ملک کی پہچان کا باعث بنے

    ہم نے مل کر ان کو جیتے جی مار دیا جیسے کہ ماسٹرعاشق حسین جنھوں نے “ لال میری پت “ کی دھن بنائی کسی فنکار نے انکا نام لینا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی انکا حال احوال جاننے کی کبھی کوشش کی انھوں نے ایک عرصہ دراز مفلسی میں گزارا ۔۔۔۔
    جس کا گانا گانے سے لوگوں نے اپنی نسلیں پال لیں اور اس دھمال کے موسیقار ماسٹر عاشق حسین جنھوں نے اس دھمال کی اتنی پیاری دھن ترتیب دی وہ اور اس کے بچے ایک وقت کی روٹی کو ترستے مر گئے

    حکومت سے کیا گلہ کرنا حکومت تک بھی تو بات کسی ساتھی فنکار نے ہی پہنچانی تھی مگر ۔۔۔یہی تو ہم بات کر رہے ہیں کہ ہمارے فنکاروں میں احساس ختم ہو چکا ہے اسی لیے آجکل کے فنکاروں کے کام میں اثر بھی نہیں رہا ہمارے ملک میں کہنے کو تو بہت فنکار ہیں مگر کسی ایک کو بھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ کوئی ایک ہی ماسٹرعاشق حسین کی مفلسی میں انکی مدد کرتا کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ جن کو انکا پتہ تھا وہ تو کم سے کم انکی مدد کرتے یا انکا نام میڈیا میں لیتے انکا بیٹا جو کی بورڈ بجاتا تھا اسکو بھی کسی فنکار نے کام نہ دیا تو اس نے گزر بسر کرنے کے لیے پکوڑوں کی دوکان بنا لی مگر بدقسمتی سے اسکو ہارٹ اٹیک ہوا وہ بھی اپنے بوڑھے
    والد صاحب کو چھوڑ کر چلا گیا کتنے بے حس ہیں آج کے فنکار ان کو شرم ہی نہیں آتی اپنے آپ کو فنکار کہلواتے ہوئے ۔۔۔
    ایسے ہی اس دھمال کے شاعر ہیں “ساغر صدیقی” جن کے پاس بیٹھ کر بہت سے لوگ شاعر بن گئے انکی بھی ساری زندگی سڑک کنارے گزر گئی وہ بھی ساری زندگی مفلسی میں گزار کر چلے گئے ہمارے ملک میں فنکار کے مرنے کا انتظار کیا جاتا ہے جیسے ہی وہ مرتا ہے تو ملک کے کچھ فنکار جو اس دن فارغ ہوں وہ اس مرنے والے کا قصیدہ پڑھنے کے لیے پہلی لائن میں کھڑا ہونے کی لڑائی لڑتے ہیں کہ انکی فوٹو میڈیا میں لگ جائے اور کئی مرنے والوں کو تو مرنے کے بعد بھی کوئی عزت نہیں دی جاتی کوئی نہیں جاتا ان کے مرنے پر بھی ۔۔۔۔
    یہ کس قسم کی بے حسی ہے؟
    یہ کون سے فنکار ہیں ؟
    فنکار ہیں یا مکار ہیں ؟

  • فنکار اور مکا٘ر

    فنکار اور مکا٘ر

    ویسے ہمارے ملک میں فنکار ہیں آپکے خیال سے ۔۔۔
    میرے حساب سے تو فنکار بہت پہلے اس ملک کو چھوڑ کر جا چکے ہیں
    جیسے “منٹو صاحب “
    اور “بڑے غلام علی “
    اور بھی کئی نام ایسے ہیں جو اس ملک کو چھوڑ کر چلے جاتے اگر انکو اس ملک کو چھوڑ کر جانے کا موقع ملتا وہ اب ایک گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں نا کوئی انکا نام لیتا ہے نہ کوئی ان سے سیکھنے کی زحمت کرتا ہے نا ہی کوئی ان سے یہ پوچھتا ہے کہ وہ زندگی کیسے گزار رہے ہیں
    کبھی کسی نے حسین بخش گلو جی کا نام لیا کسی کو پتہ ہے دلدار صاحب کون ہیں ؟؟؟؟ کسی کو پتہ ہے کہ ایک دھمال” ہو لال میری پت رکھیو” جو پوری دنیا میں بہت سنی اور گائی جاتی ہے کس موسیقار کی دھن ہے اور اس کو لیکھا کس شاعر نے ہے ؟؟

    آپ اِن لوگوں کو فنکار کہتے ہیں جو اپنے کام کا ریاض چھوڑ کر صرف ذریعہ ڈھونڈنے کا ریاض کر رہے ہیں کہ بس کوئی ذریعہ سفارش مل جائے اور اپنا نام کر لیں کوئی محنت کوئی ریاضت نہ کرنی پڑے
    کسی کو برا ٹھرا کر اور اپنے آپ کو خوامخواہ اچھا کہلوانا یا کسی کے کندھے پر پاؤں رکھ کے آگے بڑھ جانا تو فنکار کی فطرت نہیں ۔۔!
    فنکار کبھی کسی کا حق نہیں مارتا بلکہ فنکار تو ڈرتا ہے ان سب باتوں سے وہ وہاں بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتا جہاں کسی کی حق تلفی کی بات ہو رہی ہو فنکار بہت ذیادہ ہی حساس ہوتا ہے اور فنکار ہی تو حق اور سچ بات کرتا ہے کیا آج کا فنکار ایسا ہے ؟ کیا فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے چاہے وہ اداکار ہو یا پینٹر ایک گانے والے سے لیکر ساز بجانے والا ہو یا موسیقار جو بھی اس شعبے سے تعلق رکھتا ہے کیا آج کا فنکار اتنی عاجزی اور انکساری دل میں رکھتا ہے؟؟
    فنکار میں اور ایک عام شخص میں ایک ہی نمایاں فرق ہوتا ہے
    کہ فنکار کو جھوٹ اور فریب نہیں آتا فنکار ایک ملاوٹ سے پاک چیز کا نام ہے
    اس ملک کی یہی بد نصیبی ہے کے جیسے پارلیمنٹ میں ہر بار ایسے سیاست دان آ جاتے ہیں جو سیاست سے بہت دور ہیں مطلب کے انکو یہ ہی نہیں پتہ کے سیاست باہر کے لوگوں سے کر کے اپنے ملک کو اچھا چلانا ہے
    لیکن وہ اپنے ہی ملک کو سیاست کی نظر کیے جا رہے ہیں ایسے ہی اس ملک کے فنکاروں کا حا ل ہے
    یہ بھی اپنے فن سے بہت دور ہو کر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنے کام کی ریاضت جھوڑ کر سیاست کیے جا رہے ہیں ریاضت والا سیاست اور سیاست والا غلاظت کیے جا رہا ہے اور ہماری عوام بھی اپنے سارے کام چھوڑ کر اسی کی حوصلہ آفزائی کیے جا رہی ہے
    کوئی اداکار ہو یا ہدائتکار کوئی گانے والا ہو یا ساز بجانے والا کہیں بھی کسی جگہ یا کسی ٹی وی چینل پر کسی فنکار کو کسی اپنے ساتھی فنکار کی تعریف کرتے کسی نے دیکھا ہے۔۔۔۔ نہیں کیوں کے ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کیا اس بات سے لگتا ہے کہ آجکل فنکار کو اپنے فن پہ بھروسہ نہیں یا اسکو اندر سے پتہ ہے کہ وہ تو فنکار ہے ہی نہیں اپنے کسی ساتھی فنکار کا نام لینے سے کیوں ڈرتے ہیں ہمارے فنکار کیوں انکو لگتا ہے کہ کسی دوسرے فنکار کا نام لینے سے انکی عزت میں کمی آ جائے گی اسکا مطلب صاف ہے کے اصل میں وہ فنکار ہیں ہی نہیں اسی لیے وہ اپنے ساتھی فنکار کا نام لینے سے گھبراتے ہیں یا وہ فنکار یہ جانتا ہے کہ جس فنکار ساتھی کا وہ نام لینے جا رہا ہے وہ واقع ہی اس سے بڑا ہے ویسے اپنے سے سینیر کو عزت دینا تو کوئی بری بات نہیں اور اپنے سے جونئیر کو عزت دینابھی اچھی بات ہے

    ہاں کچھ لوگ نام لیتے ہیں یہ ان فنکاروں کے نام لیتے ہیں جو مر چکے ہیں اور اس لیے انکو ان سے کوئی ڈر نہیں تو وہ بِلا جھیججک ان کا نام لے کر اپنی جھوٹی عاجزی و انکساری دیکھاتے ہیں کہ ہم انکو مانتے ہیں واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تو ہمارے فنکاروں کو یہ بات کب سمجھ آئے گی کہ ایک دوسرے کی عزت افزائی کرنے سے عزتوں میں اضافہ ہی ہو گا اور ہاں اگر آپ کسی کی ترقی کا باعث نہیں بن سکتے تو کم سے کم اس کی ترقی پر اسکی حوصلہ افزائی تو کر دیں
    ہمارے ملک میں کسی بھی چینل نے کسی بھی راٹر ، کیمرامین ، ریکاڈسٹ ، گیت کار ، شاعر کو بلانے کی زحمت نہیں کی اور نہ ہی کبھی ان کے کام کو سراہا ساری داد فلم اور ڈرامے کا ہدائتکار لے جاتا ہے اور گانوں کی داد موسیقار لے جاتا ہے ہمارے ملک میں فلم اور ڈرامہ بنانے والوں نے ان سب رائٹرز جو انکی فلمیں ڈرامے لکھتے ہیں اور شاعر جو ان کی فلم اور ڈرامہ کی گانے لکھتے ہیں ان کے لیے
    خاص بجٹ بنایا ہوتا ہے جو خاصا کم ہوتا مطلب ان کو یہ لگتا ہے کہ لکھنا ریکارڈ کرنا اور فلماناں دنیا کا آسان کام ہے ؟؟
    اور افسوس اس ملک کے بہت ذیادہ ذہین لوگ جو ایوارڈز کو ڈیزائن کرتے ہیں انھوں نے کبھی کہانی نویس، کیمرا مین ، ریکاڈسٹ اور شاعر کی نومی نیشن والی کیٹا گری ہی نہیں بنائی مطلب یہ لوگ کہانی نویس،کیمرا مین، ریکاڈسٹ اور شاعر ان کے حساب سے فضول لوگ ہیں

    اور اس ملک میں ہر بندہ ہی اپنے آپ کو ایک استاد کی نظر سے دیکھتا ہے اب سارے استاد ہونگے تو وہ طالب علم کہاں سے آئے گا کہ جس کو علم سیکھنا ہے اور جس کو جو نہیں آتا وہ وہی کیے جارہا ہے
    اور ہماری عوام بھی اپنے سارے کام چھوڑ کر اسی کی حوصلہ آفزائی کیے جا رہی ہے
    ہمارا ملک وہ ہے جہاں ایک سچے آرٹسٹ مطلب جو واقعئ فنکار ہے اپنے کام میں اسکو پاگل ، خبطی ، جیسے خطابوں سے نوازا جاتا ہے
    آج کے فنکار ایک بات ضرور یاد رکھیں
    فنکاری اور مکاری میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔۔۔ شکریہ

  • صوفیہ مرزا کا سابق شوہر پر جڑواں‌ بچیاں‌ اغوا کر کے دبئی لیجانے کا الزام

    پاکستانی اداکارہ صوفیہ مرزا نے کہا ہے کہ ان کے سابق شوہر شیخ عمر فاروق ظہور نے مبینہ طور پر ان کی جڑوان بچیوں‌ کو اغوا کر لیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوفیہ مرزا نے ٹویٹر پر اپنی دونوں بیٹیوں زنیرہ اور زینب کی واپسی کیلئے اپنے چاہنے والوں‌سے دعا کی بھی اپیل کی اور ٹویٹر پر اس کیلئے

    کی جڑواں بچیوں کو ان کے سابق شوہر نے اغوا کر رکھا ہے۔ انہوں نے پاکستانیوں سے رمضان کے مہینے میں ان کی بچیوں کی واپسی کی دعا کی درخواست بھی کی۔ (#bringbackZainabZunairah) کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

    پاکستانی اداکارہ صوفیہ مرزا نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے سابق شوہر جو کہ پاکستانی نژاداور نارویجن بزنس مین ہیں، نے ان کی بیٹیوں کو مبینہ طور پر اغوا کر کے دبئی میں رکھا ہوا ہے جبکہ ان کے بچوں کی حوالگی کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔

    یاد رہے کہ صوفیہ کی شادہ تیرہ برس قبل شیخ عمر فاروق ظہور سے ہوئی تھی اور پھر 2009 میں طلاق ہو گئی. صوفیہ کے ہاں‌ دو جڑواں‌بچیاں‌پیدا ہوئیں جو طلاق کے بعد صوفیہ کو دی گئیں‌تاہم ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ جعلی پاسپورٹ کے ذریعہ دونوں‌بچیوں‌کو باہر لے گئے اور آج کل دبئی میں‌ہیں.

  • شہنشاہِ قوال نصرت فتح علی خان

    شہنشاہِ قوال نصرت فتح علی خان

    ‪    ‬
    ‪      نصرت فتح علی خان ایک ایسے گائیک تھے جنہوں نے قوالی سے غزل ، گیت پوپ ، راک لالی وڈ سے بالی وڈ اور پھر ہالی وڈ کا سفر بڑی کامیابی سے طے کیا۔ ناکہ اپنی زبان سمجھنے والے بلکہ غیر زبان سمجھنے والے بھی ان کو اتنا ہی پسند کرتے تھے ۔ ان کی آواز میں ایک خاص قسم کا اثر تھا۔ جو سننے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔ وہ نہ صرف گائیک بلکہ بہت بڑے موسیقار بھی تھے جن کی دھنوں کو دنیا بھر میں بہت پذیرائی ملی اور ان کی دھنوں کوہمارے ہمسایہ ملک کے موسیقاروں نے نقل بھی کیا۔ وہ ہارمونیم بجانے سے ماہر تھے ۔طبلا بھی بہت اچھا بجاتے تھے ان کی بنائی ہوئی دھنوں کو دنیا میں بہت پسند کیا گیا۔ دنیا میں جنتے بھی گانے والے اور موسیقی ترتیب دینے والے چاہے وہ موسیقی کے بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں وہ ان کو اپنا استاد ہی مانتے تھے ۔‬
    ‪         ‬

    ‪          نصرت فتح علی نے 1948ءمیں ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو گھرانہ پہلے ہی کم و بیش چھ سو سال سے موسیقی یعنی قوالی سے منسلک تھا ان کے باپ کا نام فتح علی خان تھا جو کہ بہت بڑے استاد تھے ۔ جو انڈیا پنجاب جلندھر کے ایک علاقہ بستی شیخ سے ہجرت کر کے پاکستان پنجاب کے شہرفیصل آباد میں قیام پذیر ہوئے ۔نصرت فتح علی خان کا نمبر اپنے بہن بھائیوں میں پانچواں تھا اور وہ فتح علی خان کے پہلے بیٹے تھے ۔آپ کی چار بڑی بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی فرخ خان تھا۔ ان کے والد نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا نصرت فتح علی خان موسیقی کے شعبے میں آئے یا قوالی کرے ۔ کیونکہ وہ یہ مانتے تھے یہ معاشرہ موسیقی سے تعلق رکھنے والوں کو زیادہ عزت نہیں دیتا۔ تو اس لیے ان کی خواہش تھی کہ نصرت فتح علی خان ایک ڈاکٹر یا انجینئر بنے ۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظر تھا ۔چونکہ نصرت فتح علی خان کو بچپن سے ہی قوالی کا شوق تھا تو انہوں نے طبلا سیکھا پھر گائیکی کی طرف آ گئے ۔ 1964ءمیں ان کے والدفتح علی خان انتقال کر گئے تو انہوں نے موسیقی کی تعلیم اپنے چچا مبارک علی خان اور سلامت علی خان سے لی ۔ نصرت فتح علی خان راحت فتح علی خان کے چچا ہیں۔‬
    ‪          نصرت فتح علی خان کو پرویز کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعد میں غلام غوث ثمدانی نے ان کا نام نصرت فتح علی رکھااور کہا کہ تم ایک دن بہت بڑے گائیک بنو گے ۔ 1971ءمیں نصرت فتح علی خان کے چچا مبارک علی خان کی وفات ہو گئی ۔ تو اس طرح گھر میں بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے نہ کہ پورے گھر کو سنبھالنا پڑا بلکہ اپنے چچا کی قوال پارٹی کوایک سربراہ کی حیثیت سے خود سنبھالا۔ اس قوال پارٹی کا نام نصرت فتح علی خان مجاہد مبارک علی خان پارٹی ہو گیا۔ نصرت فتح علی خان نے جب پہلی بار دنیا کے سامنے گایا تو ان کی عمر 16سال تھی اس قوال پارٹی جس کے سربراہ نصرت فتح علی خان تھے پہلی پرفارمینس اور ریکارڈنگ ریڈیو پاکستان ہوئی ۔ وہ ایک سالانہ موسیقی کا پروگرام تھا۔ جس کا نام جشن بہاراں تھا۔ جہاں نصرت فتح علی خان نے زیادہ اردو ،پنجابی اور گاہے بگاہے فارسی ، برج بھاشہ اور ہندی زبان میں گاتے تھے ۔ نصرت فتح علی خان کا پاکستان میں جو پہلا کلام مشہور ہوا وہ تھا ”حق علی علی “جو انہوں نے اپنے ثقافتی سازطبلہ اور ہارمونیم کے ساتھ پیش کیے اور اس میں نصرت فتح علی خان نے ایسے سرگم پلٹے کیے کہ دنیا عش عش کر اٹھی ۔ اس طرح وہ لوگوں میں مشہور ہونا شرو ع ہو گئے ۔‬

    ‪ 1985ءمیں نصرت فتح علی خان صاحب ورلڈ آرٹ اینڈ ڈانس فیسٹیول میں پرفارم کرنے کے لیے لندن گئے ۔ انہوں نے 1985ءاور 1988ءپیرس میں بھی پرفارم کیا۔ 1987ءمیں وہ پہلی دفعہ جاپان گئے جہاں انہوں نے پانچویں ایشیئن پرفارمنگ آرٹ فیسٹیول میں میں پرفارم کیا اور وہاں ان کی گائیکی کو بہت پذیرائی ملی۔1984ءمیں انہوں نے نیو یارک میں واقع برکلین اکیڈمی آف میوزم میں پرفارم کیا انہوں نے اپنی موسیقی کے سفر میں نہ سفر پاکستانی گانے گانے والے بلکہ دوسرے ممالک کے گانے والوں کے ساتھ بھی اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔اور انہوں نے بہت سے دوسرے موسیقاروں کے ساتھ مل کر موسیقی کے نت نئی تجربات کیے۔‬
    ‪ 1992اور 1993ءمیں دو بار انہوں نے یونیورسٹی آف وشنگٹن کے لیے پرفارم کیا۔ 1988ءمیں نصرت فتح علی خان صاحب نے ایک امریکی ہالی وڈ فلم کے لیے گایا جس کے موسیقار پیٹر گیبرئل تھے ۔ اس کامیاب تجربے کے بعد پیٹر گیبرئل نے نصرت فتح علی خان صاحب اپنی ریکارڈنگ کمپنی کے لیے سائن کر لیا ۔ یوں اس کمپنی سے نصرت فتح علی خان کے پانچ قوالی البم ریلیز ہوئے ۔ اور پھر اس کے بعد پیٹر گیبرئل نے نصرت فتح علی خان کو بروک جو کہ ایک بہت بڑے گٹار پلیئر تھے ان کو اکٹھا کام کرنے کا مشورہ دیا۔ وہ البم دنیا میں بہت مشہور ہوا اس البم کا نام تھا ”مست مست “ اور اس کے بعد نائٹ سونگ جس میں نصرت فتح علی خان صاحب اور بروک نے مل کر کام کیا ۔ جو 1995ءکو ریکارڈ ہوا اور 1996ءریلیز ہوا۔ اس کو دنیا میں بہت پذیرائی ملی ۔ اور اس کے بعد سٹار رائز جو کہ 1997ءریلیز ہوا جوں اس نصرت فتح علی خان صاحب نے مائیکل بروک کے ساتھ مل کر موسیقی کے بہت سے تجربات کیے ۔ مائیکل بروک ایک کینڈین گٹارسٹ تھے ۔ اس کے بعد نصرت فتح علی خان نے پل جیم بینڈ کے سنگر ایڈی ویڈر کے ساتھ مل کر دو گانوں میں گایا۔ جو کہ فلم ڈیڈ مین واکنگ کے لیے تھے ۔ نصرت فتح علی خان کورل ایکسٹرا کے ساتھ بھی اپنی آواز کا جادو جگایا جس کے کمپوزر جانتھن ایلس تھے ۔خان صاحب کے البم اینٹاکسٹڈ سپریٹ جو کہ 1997ءمیں گریمی وارڈ فار بیسٹ ٹڈیشنل فولک البم کے لیے نامزد ہوئی ۔ نصرت فتح علی خان نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی گیا اور سکرین پر پرفارم بھی کیا۔ مرنے سے پہلے نصرت فتح علی خان صاحب نے بالی وڈ کی تین فلموں کا میوزک کیا۔ جن میں سے ایک فلم ”اور پیار ہو گیا“جس میں انہوں نے نہ صرف ساری فلم کی موسیقی ترتیب دی بلکہ ایک”کوئی جانے کوئی نہ جانے “گانا بھی خود گایا۔ اور سکرین پر پرفارم بھی کیا جس میں ان کے ساتھ فلم کی ہیرو ہیروئن بھی شامل تھے ۔ اس کے بعد فلم” کارتوس “کے لیے بھی انہوں نے موسیقی ترتیب دی ۔ یہاں انہوں نے اس فلم کے دو سونگ ”عشق دا رتبہ “گایا ۔ اور دوسرا سونگ بہا نہ آنسو“جس میں ان کے ساتھ ادت نارائن نے گایا ۔ اس کے بعد بالی وڈ کی فلم کچے دھاگے کے لیے ”اس شام کرم کا کیا کہنا “گایا۔ یہ فلم ان کی وفات کے دو سال بعد ریلیز ہوئی ۔ انڈیا کی دو بہت بڑی سنگر جو آپس میں بہنیں بھی ہیں عائشہ بھوسلے اور لتا منگیشکر انہوں نے بھی نصرت فتح علی خان کی بنی ہوئی دھنوں کو گایا۔ نصرت فتح علی خان نے ”سایہ بھی ساتھ جب چھوڑ جائے“ فلم دل لگی کے لیے گایا جو کہ ان کی وفات کے دو سال بعد ریلیز ہوا۔ فلم دھڑکن میں” دلہے کا سہرا “ بھی گایا جو 2000ءمیں ریلیز ہوا 1997ءمیں سونگ گرو آف پیس البم بندے ماترم میں گایا جس کے موسیقار اے اررحمان تھے۔‬
    ایک رپورٹ کے مطابق خان کا وزن 300پونڈ تھا اور وہ بہت دنوں سے بیمار بھی تھے 16اگست 1997ءکو ان کی موت ہارٹ اٹیک ہونے کی وجہ سے ہوئی جب ان کی عمر 48سال تھی ۔ یوں دنیا کا ایک عظیم موسیقار اور گائیک ہم سے جدا ہو گیا۔ جھنگ روڈ فیصل آباد پر واقع کبوتراں والا قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی ۔‬
    گو کہ نصرت فتح علی خان صاحب کم عمری میں چل بسے لیکن وہ اپنا کام دنیا میں چھوڑ گئے کہ رہتی دنیا تک ان کا نام ان کا کام ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ ان کا بہت سا را کام ان کی وفات کے بعد منظر عام پر آیا۔‬

  • بھارتی الیکشن شوبزسے تعلق رکھنے والے کون کون جیتے؟ بڑی خبر آ گئی

    بھارتی الیکشن شوبزسے تعلق رکھنے والے کون کون جیتے؟ بڑی خبر آ گئی

    بھارتی الیکشن کے نتائج میں بے جے پی نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے بھارتی الیکشن میں شوبز ،اسپورٹس سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے حصہ لیا تھا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں سات مراحل میں ہونے والے الیکشن کا نتیجہ آج جاری ہوگا، گیارہ اپریل تا انیس مئی جاری رہنے والے بھارتی لوک سبھا الیکشن میں دوہزار سے زائد پارٹیوں نے لوک سبھا کی پانچ سو تینتالیس نسشتوں کے لیے آٹھ ہزار کے قریب امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ آج تمام نشستوں کے نتائج آنا شروع ہوئے جس میں بی جے پی نے اکثریت حاصل کر لی ہے. بھارت میں لوک سبھا انتخابات میں سیاسی شخصیات کے علاوہ شوبز، اسپورٹس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے بھی قسمت آزمائی اور کامیابی حاصل کی۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھارتی شہر وارانسی میں کامیاب ہوئے۔ راہول گاندھی ایک سیٹ سے ہار گئے جبکہ دوسری سے جیت گئے. راہول گاندھی کو سمرتی ایرانی نے مات دے دی البتہ راہول گاندھی کیرالہ کے ضلع ویاناڈ میں جیت گئے۔ سونیا گاندھی کو رائے بریلی میں کامیابی ملی، بھارت کی ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اور مسلمانوں کیخلاف زہر اگلنے والی پراگیہ سنگھ ٹھاکرنے بھوپال میں جیت گئیں۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ سرینگرمیں جبکہ حیدرآباد دکن سے اسد اللہ اویسی کامیاب ہوگئے۔ انڈیا کے معروف اداکار شترو گنج سنہا نے کانگریس کے ٹکٹ پر ضلع پٹنا صاحب سے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔اداکارہ ہیما مالینی اتر پردیش کے شہر متھورا سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار تھیں جنہون نے اپنی نشست پر کامیابی حاصل کی ۔اداکارہ ارمیلا مٹونڈکر نے انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے شمالی ممبئی سے اپنی نشست جیت لی ۔بھارتی سیاستدان اور اداکار سنی دیول نےشہرگرداسپورسے الیکشن جیت لیا.سابق کرکٹر اور بی جےپی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنےوالےگوتم گمبھیرنے مشرقی دہلی میں کانگریس کے اروندر سنگھ لولی کوشکست دی ہے .
    واضح رہے کہ نتائج آنے کے بعد مودی نے بھارتی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے بھارتی کابینہ کا اجلاس جمعہ کو ہو گا،جس میں نئی حکومت کی نئی کابینہ کے لئے پرانی کابینہ کو مستعفی ہو نا پڑے گا، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی اپنا استعفیٰ دیں گے وہ اپنا استعفیٰ بھارتی صدر رامناتھ کووند کو پیش کریں گے .واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کو الیکشن میں 340 سیٹیں مل چکی ہیں. کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے 272 نشستیں درکار تھیں ، اب بی جے پی دوبارہ حکومت بنائے گی

  • پٹواری نے عطااللہ عیسی خیلوی کو بھی نہ چھوڑا70ہزار روپے رشوت وصول کر لی۔خبر آگئی

    پٹواری نے عطااللہ عیسی خیلوی کو بھی نہ چھوڑا70ہزار روپے رشوت وصول کر لی۔خبر آگئی

    سرگودہا،میانوالی(نمائندہ باغی ٹی وی)راشی پٹواری نے عطااللہ عیسی خیلوی کو بھی نہ چھوڑا70ہزار روپے رشوت وصول کر لی-تفصیلات کے مطابق
    عطا اللہ عیٰسی خیلوی سے رشوت لینے والے پٹواری حسین اللہ حلقہ عیسی خیل کے خلاف مقدمہ درج کے تفتیش شروع کر دی۔
    معروف گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی کے بھانجے امان اللہ کی طرف سے اینٹی کرپشن کو درخواست دےدی گئی
    عطاء اللہ عیٰسی خیلوی نے اپنی زوجہ کے لیے عیٰسی خیل شہر میں شوکت علی خان وغیرہ سے سکنی رقبہ خریدا اور رقبہ کے انتقال نمبر4515مورخہ26.05.2017،انتقال نمبر2514مورخہ26.05.2017انتقال, نمبر4516مورخہ26.05.2017اورانتقال نمبر4513مورخہ26.05.2017کروانے کے لیے حسین اللہ پٹواری اشتمال موضع عیٰسی خیل نے گواہوں کے سامنے 70ہزار روپے رشوت وصول کی ہے۔
    انکوائری کے دوران ریکارڈ قبضہ میں لیا گیا اور تمام فریقین اور گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے، دوران انکوائری پٹواری حسین اللہ اپنی بے گناہی ثابت نہ کر سکا
    ۔ اینٹی کرپشن سرگودھا نے حسین اللہ، پٹواری حلقہ موضع عیٰسی خیل ضلع میانوالی کے خلاف رشوت وصول کرنے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا

  • کرینا کپور اور سیف علی خان گرمیوں کے ملبوسات میں. تصاویر دیکھیں

    کرینا کپور اور سیف علی خان گرمیوں کے ملبوسات میں. تصاویر دیکھیں

    بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان اور کرینا کپور ہر دفعہ کی طرح مداحوں کو نت نئے ملبوسات پہن کر متاثر کرتے آئے ہیں. اپنے بیٹے تیمور کے ساتھ سیف علی خان اور کرینہ کپور نے فیشن کو نیا نام دیا ہے.

    سیف علی خان اور کرینہ کپور نے ماضی میں‌متعدد فلموں‌میں‌ایک ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے ہیںِ. جن میں‌ایجنٹ ونود نمایاں ہے. جوڑے کو ایک نیوٹریشنسٹ کے کلینک کے باہر گرمیوں‌کے ملبوسات میں دیکھا گیا جس کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا . مداح جوڑے کی ملبوسات کے انتخاب کی‌صلاحیت کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے.

  • کرینا کپور اور کرشما کپور کو بی بو اور لو لو کیوں‌کہا جاتا ہے؟

    کرینا کپور اور کرشما کپور کو بی بو اور لو لو کیوں‌کہا جاتا ہے؟

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ کرینا کپور کو بی بو کیوں‌کہا جاتا ہے؟ کرینہ کپور کو بی بو "بی بو میں‌بی بو”‌گانے سے قبل بھی کہا جاتا تھا. یہ گانا کمبخت عشق فلم میں پیش کیا گیا.

    کرینا کپور اور کرشمہ کپورکے والد رندھیر کپور اپنی بیٹیوں‌کو ان القابات سے پکارا کرتے تھے. البتہ ان ناموں کا کوئی واضح مطلب موجود نہیں‌ہے لیکن بالی ووڈ میں‌دونوں‌ شخصیات کرینا کپوراور کرشمہ کپور کو ان ناموں سے بھی نوازا جاتاہے.

    اگر آپ کے لئے یہ نام حیران کن ہیں تو جان لیجئے کہ کرینا کپور کو نواب سیف کی مناسبت سے پٹاڈی کی چھوٹی بیگم بھی کہا جاتا ہے.

  • وویک آنند اوبروئے کے ٹویٹ پر بھارت اداکاروں کی شدید تنقید

    وویک آنند اوبروئے کے ٹویٹ پر بھارت اداکاروں کی شدید تنقید

    وویک آنند اوبروئے بھارتی اداکار ہیں جنہوں نے ہندی فلموں میں اپنے جوہر دکھائے ہیں۔ ووک دو فلم فیئر ایوارڈز سے بھی نوازے جا چکے ہیں۔ جبکہ 35 سے زائد فلموں میں اداکاری کر چکے ہیں۔ نئی آنے والی فلم پی ایم نریندر مودی میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائیں گے۔

    ایشویریا رائے نے سلمان خان سے تعقل منقطع ہونے کے بعد وویک اوبرائے سے تعلق جوڑا۔ وویک اوبرائے اور ایشویریا رائے کی آخری فلم "کیوں ہو گیا نا” تھی جبکہ اس فلم کے بعد دونوں اداکاروں نے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ فلم میں کام نہیں کیا۔

     

    بھارت میں اس وقت الیکشن کی گہما گہمی ہے جبکہ اس دوران وویک اوبرائے نے اپنے مداح کی طرف سے بنائی گئی میم کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا جس پر ان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

    https://twitter.com/vivekoberoi/status/1130380916142907392

    متعدد اداکاروں، فلم میکرز، ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کی جانب سے وویک اوبرائے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان سے معافی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

    بھارتی اداکارہ سونم کپور نے بھی وویک اوبروئے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    https://twitter.com/simplyirfan/status/1130421483073753093

     

  • پاکستانی فلم انڈسٹری کا حال تا حال

    پاکستانی فلم انڈسٹری کا حال تا حال

    پچھلے کافی عرصے سے فلم انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہی ہے مگر ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہو پایا کہ جس سے لگے کے ہماری فلم انڈسٹری دنیا میں پھر سے اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ سے بنا سکتی ہے

    کیا ہمارے پاس اچھے لکھنے والوں کی کمی ہے ؟
    یا ہمارے پاس اچھے ڈائریکٹر ز نہیں ؟
    کیا ہمارے پاس اچھے ایکٹرز نہیں ؟
    اور کیا ہمارے پاس اچھے ٹیکنیشن کی کمی ہے ؟
    ہمارے موسیقار حضرات کسی بھی دوسرے ملک کے موسیقاروں سے کم ہیں ؟
    ہمارے ملک میں گانا لیکھنے والے یا گانا گانے والوں کی صلاحیت سے کوئی آشنا نہیں ؟
    کیا کسی کو وحید مراد والا دور یاد نہیں ؟
    کہاں گئے وہ ہماری بہترین اردو اور دھماکے دار پنجابی فلموں کے بنانے والے ؟
    ان سب سوالوں کے جواب کون دے گا ہلانکہ اب تو ہماری فلم انڈسٹری میں لوگ دوسرے ممالک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے ایکٹنگ ، پروڈکشن ، اور ڈائریکشن کی ڈگریاں لے کر آئے ہیں اور اب تو فلم بنانا یا فلم میں کام کرنے کو
    برا بھی نہیں سمجھا جاتا جبکہ پہلے اس کام کو معیوب سمجھا جاتا تھا،
    تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے جب پاکستانی فلم انڈسٹری کے اتنے کم وسائل تھے تب تو پاکستانی فلم انڈسٹری نے نا کے اردو بلکہ پنجابی فلموں سے بھی اپنے کام کو اس پورے خطے میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں منوایا

    تو اب جب کہ بھر پور وسائل اور ایک پڑھا لکھا تبقہ یعنی جو لوگ باقاعدہ سے اس کام کو سیکھ کے آئیں ہیں وہ اس انڈسٹری کو چلا رہے ہیں وہ کیوں اب اجھی فلمیں نہیں بنا پا رہے جیسے کے ماضی میں ہماری فلم انڈسٹری نے ہمیں بہت یادگار فلمیں بنا کے لطف اندوز کیا اور سال ہا سال ان فلموں کو یاد رکھا گیا نا کے ان فلموں کو بلکے ان فلموں کے گانوں کو بھی آج تک دلوں سے کوئی نہیں نکال سکا

    وہ کون سی وجہ ہے کہ اب ایسی موسیقی بھی ترتیب نہیں دی جا رہی جو دلوں میں گھر کر جائے جیسی فلمیں آج کل بن رہی ہیں ان میں کچھ ایسا نہیں کہ آپکے دل پر اپنا اثر چھوڑ جائیں اور نا ہی ایسے گانے بن رہے ہیں

    اب تو نا فلم کے آنے کا پتہ چلتا ہے نا فلم کے جانے کا اسی طرح آجکل کے گانے بھی ایک سے دوسری دفعہ نہیں سنے جاتے نا ہی لوگ کسی فلم کی کہانی یا فلم کے کسی گانے پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں

    جیسے کے پہلے فلموں کی کہانی یا اس فلم کے گانوں کی بات آج تک لوگ کرتے ہیں یا ان ایکٹرز کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے جنھوں نے لازوال کردار ادا کیے اور آج تک لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں
    اور ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جب ہمارے ایکٹر کسی دوسرے ملک کی فلم میں کام کرتے ہیں تو انکے کام کو بہت پسند کیا جاتا ایسا ہی ہمارے موسیقاروں اور گانے والوں کے ساتھ ہوتا ہے ان کا کام بھی جب کسی دوسری انڈسٹری سے آتا ہے تو ہم انکے اس کا کو بہت پسند کرتے اور سراہتے ہیں
    یا پھر وہ ہمارے فنکاروں کو سہی طور پر استعمال کرنا جانتے ہیں اور ہمیں اب تک ایسا کرنا نہیں آیا۔۔۔
    کچھ لوگوں کا کہنا ہے کے ہماری فلم انڈسٹری میں جو ایکٹرز یا ڈائریکٹر کام کر رہے ہیں وہ ذیادہ تر ڈرامہ انڈسٹری سے آئے ہیں اس لئے وہ فلم کو اس طرح سے لے کر نہیں چل پا رہے یا شائد وہ اس بات ناواقف ہیں کے ایک اچھی فلم کیسے بنتی ہے یہ بات ویسے کسی حد تک سچ بھی ہے

    آخر ایسا کب تک چلے گا کب ہمارے لوگ بھی اپنی فلم کے تعریف کریں گے اور کب ہمیں اچھی اور میعاری فلمیں دیکھنے کو ملیں گی