Baaghi TV

Category: شوبز

  • صوبہ بھر میں تھیٹرز کے ڈرامہ سکرپٹ منسوخ

    صوبہ بھر میں تھیٹرز کے ڈرامہ سکرپٹ منسوخ

    صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر کی ہدایت پر پنجاب آرٹس کونسل نے صوبہ بھر میں تھیٹرز کے ڈرامہ سکرپٹ منسوخ کر دئیے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر کا کہنا تھا کہ سکرپٹ منسوخی کی بنیادی وجہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی تھی۔ منسوخی کے بعد اب کوئی بھی تھیٹر ڈرامہ نہیں دکھا سکے گا۔ نئے ڈرامہ سکرپٹس کی منظوری ترمیم شدہ ڈرامہ ایکٹ نافذ ہونے پر دی جائے گی۔ پنجاب آرٹس کونسل بہترین اور معیاری ڈراما سکرپٹ کی منظوری کو یقینی بنائے گی۔اس سے پہلے مس کنڈکٹ کرنے والے ایکٹرز اور ڈائریکٹرز پر بھی پابندی لگ چکی ہے۔ ترمیم شدہ ایکٹ میں سٹیج ڈراموں سے ڈانسز نکال دیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عامر میر کی زیر صدارت پنجاب کونسل آف آرٹس کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس 8 برس کے طویل وقفے کے بعد منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عامر میر نے کہا کہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کا مقصد پنجاب میں آرٹ اور کلچر کی ترویج کا موثر روڈ میپ بنانا ہے۔ پنجاب کی تمام 12 آرٹس کونسلز کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بورڈ آف گورنرز نے متفقہ طور پر مری میں 6 برس سے تالا بند آرٹس کونسل کے سینما گھر کو 8 ستمبر سے کھولنے کا فیصلہ کیا۔

    اجلاس میں ریٹائرڈ فنکاروں کو پنجاب حکومت کی جانب سے ماہانہ اعزازیہ دینے کی پر زور سفارش کی گئی جسے حتمی منظوری کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں 150 برس پرانے ڈرامیٹک پرفارمینس ایکٹ 1876 میں ترامیم کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس موقع پر عامر میر نے کہا کہ سٹیج ڈراموں میں لچر بازی اور فحاشی کو آرٹ اینڈ کلچر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فنون لطیفہ کی بحالی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

    پنجاب آرٹس کونسل کے اجلاس کے دوران متفقہ طور پر آرٹس کونسلز کے ضلعی مینجمنٹ بورڈ تشکیل دینے کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ آرٹ اینڈ کرافٹ میوزیمز کے بورڈ آف گورنرز کی از سر نو تشکیل کی جائے۔ یہ بھی طے ہوا کہ آرٹس کونسلز کی تمام عمارتوں کی مرمت اور بحالی کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آرٹسٹک سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پنجاب کے 24 اضلاع میں آرٹس کونسل کے دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ آرٹس کونسل کے دفاتر ابتدائی طور پر ڈی جی پی آر کے دفاتر سے استفادہ کریں گے۔ اس موقع پر عامر میر نے کہا کہ اس اجلاس کے فیصلوں کے فوری فالو اپ کے لیے پنجاب آرٹس کونسل کے بورڈ آف گورنرز کا اگلا اجلاس 16 اکتوبر کو ہوگا۔

    بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں سیکرٹری انفارمیشن پنجاب علی نواز ملک اور پنجاب آرٹس کونسل کے سربراہ بلال حیدر کے علاوہ پنجاب کالج آف آرٹس کی پرنسپل سمیرا جواد، ڈرامہ آرٹسٹ نعیم طاہر، راشد محمود، شجاعت ہاشمی، آرکیٹیکٹ کامل خان، معروف پینٹر شاہنواز زیدی، مسعود شورش، پنجابی شاعر خالد مسعود، اور شاعرہ ثروت محی الدین نے بھی شرکت کی

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد

     فحش حرکات کرنے والی 18 ڈانسرز پر پنجاب بھر میں پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    یاد رہے کہ اس سے پہلے عامر میر نے الحمراء مال روڈ لاہور میں فحش ڈانس کرنے اور فحاشی پھیلانے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے سٹیج ڈراموں کو فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ان ڈراموں کے پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز پر نہ صرف پابندی عائد کی گئی بلکہ فحش اور بیہودہ حرکات کرنے والی ڈانسرز شمع رانا اور پائل چوہدری کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کروائی گئیں۔ اس کے علاوہ عامر میر کی ہدایت پر الحمراء مال روڈ میں ہر قسم کے کمرشل سٹیج ڈراموں پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔

  • موجود دور میں مجھ سے کام لینے والا کوئی نہیں میرا

    موجود دور میں مجھ سے کام لینے والا کوئی نہیں میرا

    معروف اداکارہ میرا نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ موجودہ دور میں کوئی بھی ایسا ڈائریکٹر اور رائٹر نہیں ہے جو مجھ سے کام لے سکے. سید نور اور جرار رضوی جیسے ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھا. میں آج بھی ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہوں اور خوشی سے ان کے ساتھ کام کروں گی .انہوں نے کہا کہ سید نور اور جرار رضوی جیسے منجھے ہوئے ڈائریکٹرز نے فلم انڈسٹری کی بہت خدمت کی ہے ، میڈم سنگیتا نے بھی بہترین فلمیں بنائیں. موجود دور میں جتنا بھی اچھا کام ہو رہا ہے لیکن کوئی ایسا نہیں ہے جو میرے اندر چھپی صلاحتیوں کو باہر نکال سکے.

    میرا نے کہا کہ ”جب میں کوئی پراجیکٹ سائن کرتی ہوں تو جی جان ایک کر دیتی ہوں”، ہمارے دور میں بہت ہی پروفیشنل انداز میں کام ہو رہا تھا. آج بھی ہو رہا ہے لیکن مجھے سید نور کے دور کے ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرکے زیادہ مزا آتا ہے. یاد رہے کہ فلمسٹار میرا کسی نہ کسی کنٹرورسی کو جنم دینے میں مہلارت رکھتی ہیں ان کے حوالے سے حال ہی میں کہا گیا ہے کہ وہ بہت اچھی طرح جانتی ہیں کہ خبروں میں کیسے رہنا ہے.

    راکھی عمرہ کرکے بھی نہیں بدلی عادل درانی

    بجلی کے بلوں پر فنکار سراپا احتجاج

    میری بڑی بہن نے میرے لئے والدین سے مار کھائی سبینا فاروق

  • حمائمہ ملک بشری اقبال کے ساتھ کھڑی ہو گئیں

    حمائمہ ملک بشری اقبال کے ساتھ کھڑی ہو گئیں

    ڈاکٹر عامر لیاقت مرحوم کی اہلیہ بشری اقبال نے اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے پہلی بار کھل کر انٹرویو میں بات کی ہے. انہوں نے کہا ہے کہ عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ دانیا شاہ نے ان کی وڈیوز وائرل کیں جس کے بعد وہ مایوس ہو گئے ، عورتیں یہ کیوں نہیں سوچتیں کہ عزت صرف عورتوں کی نہیں ہوتی بلکہ مردوں کی بھی عزت ہوتی ہے. انہوں نے کہا کہ عورت کارڈ کھیلنا آسان ہے لیکن یہ بھی سوچیں کہ مرد بھی ایک انسان ہے. بشری اقبال کے اس بیان کو سیکنڈ کیا ہے حمائمہ ملک نے. انہوں نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے زریعے کہا ہے کہ بشری اقبال نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ مرد بھی ایک انسان ہوتا ہے.

    ”حمائمہ ملک نے دانیا شاہ کا نام لئے بغیر انہیں اللہ سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا. ”یاد رہے کہ بشری اقبال نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا میں‌بہت سارے ایسے مرد ہیں جن کی ذاتی وڈیوز وائرل ہونے کے بعد انہوں نے دنیا سے منہ موڑ لیا ، لیکن ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں میں نے جن کی وڈیوز وائرل ہوئیں لیکن ان کو کوئی فرق ہی نہیں پڑا.

    راکھی عمرہ کرکے بھی نہیں بدلی عادل درانی

    بجلی کے بلوں پر فنکار سراپا احتجاج

    میری بڑی بہن نے میرے لئے والدین سے مار کھائی سبینا فاروق

  • روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا بولو نا، بولو نا

    روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا بولو نا، بولو نا

    سیالکوٹ سے باغی ٹی وی کے سٹی رپورٹرشاہد ریاض کاانتخاب
    نیرہ نور کو بلبل پاکستان کہا جاتا ہے۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لیے پس پردہ و براہ راست فلمی گانے، غزل، نظم و گیت وغیرہ گانے والی گلوکارہ تھیں۔ انکا شمار جنوبی ایشاء میں غزل گائیکی کے شارحین میں ہوتا تھا۔ ٹی وی اداکار شہریار زیدی ان کے شوہر اور جعفر زیدی ان کے بیٹے ہیں، 21 اگست 2022ء کو وفات پائی


    نیرہ نور 3 نومبر 1950ء کو موجودہ ہندوستان کے آسام میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندان پیشہ ورانہ طور پر تاجر تھا، جو امرتسر سے آسام کے شہر گوہاٹی میں آ بسا تھا۔ نیرہ کے والد مسلم لیگ کے ایک فعال رکن تھے اور 1958ء میں یہ خاندان پاکستان کی طرف ہجرت کر آئے۔ نیرہ کہتی ہیں کہ بچپن میں وہ کملا اور کانن دیوی کے مذہبی گیتوں (بھجن)، ٹھمری، غزل اور بیگم اختر (اختری بائی فیض الہ آبادی) سے بہت متاثر تھیں۔ نیرہ کا خاندان نہ تو فن موسیقی سے وابستہ تھا اور نہ ہی نیرہ نے موسیقی کے حوالے سے کوئی رسمی تعلیم حاصل کی۔ تاہم نیرہ کو دریافت کرنے کا سہرا پروفیسر اسرار کے سر ہے جنہوں نے 1968ء میں نیرہ کو اسلامیہ کالج لاہور کے اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے لیے قومی کالج برائے فنون ( National College of Arts) لاہور میں ایک عشائیہ کے بعد گاتے سنا تھا۔

    1971ء میں نیرہ نے پاکستان ٹیلی ویژن کے سلسلہ وار کھیلوں کے لیے گیت گانے سے اپنے باقاعدہ فن کا آغاز کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے بہت سے نامور شعرا جیسے مرزا غالب، ناصر کاظمی، ابن انشاء اور فیض احمد فیض وغیرہ کا کلام نہائت دلکش انداز سے گایا۔ جب کہ نیرہ نے دیگر مرد گلوکاروں جیسے کہ مہدی حسن، احمد رشدی و عالمگیر وغیرہ کے ساتھ دوگانے بھی گائے۔ نیرہ کل پاکستان محفل موسیقی میں تین سونے کے تمغے جیتیں، ٹی وی اداکار شہریار زیدی سے شادی ہوئی تھی، ان کو بہترین پس پردہ فلمی گلوکارہ کا نگار اعزاز بھی عطا کیا گیا تھا۔ پاک و ہند میں غزل و شاعری کے دلدادہ لوگوں کے لیے نیرہ نے لاتعداد مشاعروں اور موسیقی کی محفلوں میں اپنی آواز سے شعروں کو زندگی بخشی۔ بہزاد لکھنوی ریڈیو پاکستان کے ایک نامور شاعر، مکالمہ نویس، گیت کار اور مصنف ہیں شاید کہ ان کے بہترین گیتوں میں بہزاد لکھنوی کی یہ غزل ایک شاہکار ہے جس کے گانے پر نیرہ نے بے شمار داد تحسین وصول کی ہے۔

    نیرہ ایک ماہر اور موسیقی میں یکتا گلوکارہ تھیں۔ ناصر کاظمی ان کے دلپسند شاعر تھے۔ ذیل میں ان کی آواز میں ریکارڈ کی گئیں چند معروف غزلیں، گیت اور نغمے دئے جا رہیں
    رنگ برسات نے بھرتے کچھ تو (شاعر ناصر کاظمی)
    پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے(شاعر ناصر کاظمی)
    اے عشق ہمیں برباد نہ کر(نظم :شاعر اختر شیرانی)
    وطن کی مٹی گواہ رہنا(ملی نغمہ) نیرہ نور کی آواز میں یہ نغمہ کراچی سے خیبر تک سب سے زیادہ سنا جانے والا ملی نغمہ ہے۔
    روٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پیا بولو نا، بولو نا
    وطن کی مٹی گواہ رہنا(ملی نغمہ) نیرہ نور کی آواز میں یہ نغمہ کراچی سے خیبر تک سب سے زیادہ سنا جانے والا ملی نغمہ ہے ۔ 21 اگست 2022 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • احسان فراموش میں مومنہ اقبال کی اداکاری نے شائقین کے دل موہ لئے

    احسان فراموش میں مومنہ اقبال کی اداکاری نے شائقین کے دل موہ لئے

    سکس سگما کی پروڈکشن میں تیار ہونے والا ڈرامہ احسان فراموش ان دنوں آن ائیر ہے ڈرامے کی بائیس اقساط آن ائیر ہو چکی ہیں ، ڈرامے کی کاسٹ میں مومنہ اقبال . مشعال خان ، ہمایوں اشرف اور سلمان سعید اہم کردار ادا کررہے ہیں. مومنہ اقبال نے اس ڈرامے میں ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا ہے جو پیسوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے اور کسی کی خوشی سے وہ خوش نہیں ہوتی. مومنہ کو اس کی مالکن پالتی ہیں کیونکہ ان کا والد جو کہ مالکن کا ملازم ہوتا ہے وہ انتقال کر جاتا ہے. وہ اسکو اپنی بیٹی بنا کر رکھتی ہیں. لیکن مومنہ اقبال کبھی کسی کا اچھا نہیں‌چاہتیں. وہ جس گھر میں بیاہ کر جاتی ہیں وہاں جا کر فساد کرتی ہیں اور اپنی جیٹھانی کو نیچا دکھانے کےلئے اسکو تنگ کرتی ہیں.

    اور الٹا خود اپنے جیٹھ اور شوہر کی ہمدردیاں سمیٹتی ہیں . ”مومنہ کی اداکاری کو بے حد سراہا جا رہا ہے. ”اداکارہ کی ڈائیلاگ ڈلیوری اور چہرے کے تاثرات بہت پسند کئے جارہے ہیں . اگلی اقساط میں دکھایا جانے والا ہے مومنہ اپنی بہن کے شوہر سے متاثر ہوجاتی ہیں اب آگے کیا کرتی ہیں یہ تو آنے والی اقساط میں ہی پتہ چلے گا. مومنہ اس سے پہلے بھی کئی ڈراموں میں‌کام کر چکی ہیں لیکن احسان فراموش میں ان کی اداکاری کو بہت پذیرائی مل رہی ہے.

    راکھی عمرہ کرکے بھی نہیں بدلی عادل درانی

    بجلی کے بلوں پر فنکار سراپا احتجاج

    میری بڑی بہن نے میرے لئے والدین سے مار کھائی سبینا فاروق

  • پنجابی فلم ”بوہے باریاں“ 15 ستمبر کو سینماؤں کی زینت بنے گی

    پنجابی فلم ”بوہے باریاں“ 15 ستمبر کو سینماؤں کی زینت بنے گی

    پاکستانی فلم بینوں کی معیاری تفریح کیلئے ڈسٹری بیوشن کلب نے بین الاقوامی پنجابی فلم ”بوہے باریاں“ کی نمائش کا اہتمام کیا ہے جو جمعہ 15ستمبر کو ملک بھر کے سینماؤں کی زینت بنے گی۔منفرد کہانی، جاندار پلاٹ اور بہترین کردار نگاری سے سجا فلم کا پرومو سوشل میڈیا ویب سائٹس پر دنیا بھرکے شائقین کی توجہ بن چکا ہے جسے اب تک لاکھوں شائقین دیکھ اورسراہ چکے ہیں۔ فلمی حلقوں کے مطابق ”بوہے باریاں“ خواتین کے مسادی حقوق کے حوالے سے اہم فلم ہے جس میں ایک سادہ مگر دلچسپ کہانی کے پیرائے میں توہم پرستانہ نظریات اورفرسودہ روایات کو سامنے لایا گیا ہے۔ فلم میں بہترین میوزک اور جاندار مکالموں کا تڑکہ ہے جبکہ سٹار کاسٹ میں نامور بین الاقوامی پنجابی فنکارہ نیرو باجوہ، نرمل رشی،روبینہ باجوہ،جتندر کورسمیت دیگر فنکاروں نے مرکزی کردارا داکئے ہیں۔

    ڈسٹری بیوشن کلب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ عابد رشید نے کہاکہ ””بوہے باریاں“ دلچسپ کہانی پر مبنی مکمل تفریحی فلم ہے ” جس کی تشہیر کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے،جو شائقین روایتی فلموں سے الگ بہترین تفریحی فلم دیکھنے کے خواہش مند ہیں انکے لئے بوہے باریاں پیسہ وصول تفریح کا ذریعہ بنے گی۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ پاکستانی سینما کو اس قسم کی کہانیوںکی بے حد ضرورت ہے.

    راکھی عمرہ کرکے بھی نہیں بدلی عادل درانی

    بجلی کے بلوں پر فنکار سراپا احتجاج

    میری بڑی بہن نے میرے لئے والدین سے مار کھائی سبینا فاروق

  • ”کیری آن جٹا تھری“ نے  29 کروڑ سے زائد کمالئے

    ”کیری آن جٹا تھری“ نے 29 کروڑ سے زائد کمالئے

    پاکستانی کامیڈی سٹار ناصر چنیوٹی کی انٹرنیشنل پنجابی فلم ”کیری آن جٹا تھری“ کاملک بھر کے سینماؤں میں شاندار بزنس جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق ریلیز کے پہلے 10ہفتوں میں مذکورہ فلم نے 29 کروڑ سے زائد بزنس کیا جو کسی بھی غیر ملکی پنجابی فلم کا پاکستانی سینماؤں میں نیا ریکارڈ ہے۔ ڈسٹری بیوشن کلب کے توسط سے سینماؤں کی زینت بننے والی فلم تاحال فلم بینوں کی اولین پسند ہے اور لاہورکے ساتھ ساتھ پنجاب کے کئی شہروں، شہر قائد کراچی اورا سلام آباد میں تاحال فلم شاندار بزنس کررہی ہے۔

    ”پاکستان کے سٹار سنگر عاطف اسلم کا گایا سپر ہٹ گیت فلم کی ہائی لائٹ جبکہ ساتھ ہی ساتھ کامیڈی سٹار ناصر چنیوٹی کی منفرد رول میں بہترین کردار نگاری کو بھی شائقین نے خوب سراہا ہے۔” بہترین کامیڈی، ہٹ گیتوں اور جاندار کہانی سے مزین ”کیری آن جٹا تھری“ مشہور زمانہ سیریز کی تیسری فلم ہے جس میں مرکزی کردار گپی گریوال اور سونم باجوہ نے اد اکئے ہیں اور یہ فلم دنیا بھر میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی پنجابی فلم بن چکی ہے۔ اس سے قبل بھی کیری آن جٹا ون اور ٹو ریلیز ہو چکی ہے ، ان فلموں نے بھی بہت اچھا بزنس کیا.

     

    راکھی عمرہ کرکے بھی نہیں بدلی عادل درانی

    بجلی کے بلوں پر فنکار سراپا احتجاج

    میری بڑی بہن نے میرے لئے والدین سے مار کھائی سبینا فاروق

  • قیامت سے پہلے قیامت ، مہنگائی سے شہری خود کشیوں پر مجبور

    قیامت سے پہلے قیامت ، مہنگائی سے شہری خود کشیوں پر مجبور

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان)قیامت سے پہلے قیامت ، مہنگائی سے شہری خود کشیوں پر مجبور، بیروزگار دیہاڑی دار مزدورکا کوئی پرسان حال نہیں،اوچ شریف کے ایک دیہاڑی دار مزدور غریب محمد عامر کے باپ عبد القادر نے گھر میں فاقہ اور علاج کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے کالا پتھر پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ،جسے غریب اولاد نے آٹا بیچ کر مقامی ہسپتال لائے جسے مقامی ڈاکٹروں نے حالت تشویشناک ہونے پر ضلعی ہسپتال بہاولپور ریفر کر دیا

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں مہنگائی نے قیامت برپاکردی ہے ،دیہاڑی دار مزدور مہنگائی کے باعث بیروزگار ہو چکے ہیں جن کی آنکھیں اب حکومتی امداد کا انتظار کرتے کرتے پتھرانے لگی ہیں ۔ نگران حکومت کے آتے ہی مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ، مزدور طبقہ غربت کی چکی پستا جا رہا ہے ، جنوبی پنجاب کے شہر اوچ شریف میں مزدوروں کے گھروں میں نوبت فاقوں تک آگئی ہے ، اوچ شریف کے ایک دیہاڑی دار مزدور غریب محمد عامر کے باپ عبد القادر نے گھر میں فاقہ اور علاج کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے کالا پتھر پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ،غریب اولاد نے آٹا بیچ کر مقامی ہسپتال لائے جسے مقامی ڈاکٹروں نے حالت تشویشناک ہونے پر ضلعی ہسپتال بہاولپور ریفر کر دیا

    عبد القادر کے بیٹوں محمد عامر اور محمد ندیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا والد کافی عرصہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہے جس کی بیماریوں کا علاج کرتے ہوئے گھر میںنوبت فاقہ پر پہنچ گئی، ہمارے والد نے ہمارے معاشی حالات دیکھ کر کالا پتھر پی کر اپنی زندگی کاخاتمہ کرنے کی کوشش کی ، ان کے بیٹوں کا کہنا ہے کہ محنت مزدوری سے چند سو روپے ہی کماتے ہیں اب ان سے بھی محروم ہو گئے ہیں،والد کے علاج معالجے کے لئے تو دور،گھر کا چولہا چلانے اور دووقت کی روٹی کے بھی لالے پڑ گئے ہیں۔

    کٹھن امتحان سے گذرتے محمد عامر ،محمد ندیم نے حکومت سے امداد کی اپیل کی ہے، مختلف بیماریوں کا شکار عبد القادر کا کہنا ہے کہ انہیں پیسے نہیں چاہئیں،کوئی مسیحا بن کر اس کا علاج ہی کروا دے۔ مہنگائی کے باعث محمد عامر، محمد ندیم کی طرح ہزاروں مزدور ایسے ہیں جن کے لئے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو گیا ہے،غربت کے ہاتھوں بے بسی کی تصویر بنایہ گھراناکسی مسیحا کی مدد کا منتظر ہے، انکی حکومت وقت سے بھی ہی اپیل ہے کہ مشکل کہ اس گھڑی میں انکی مدد کی جائے

  • اصلاحی کہانیاں میری ترجیحات میں‌ہوتی ہیں احسن خان

    اصلاحی کہانیاں میری ترجیحات میں‌ہوتی ہیں احسن خان

    معروف اداکار احسن خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ میری کوشش ہوتی ہے ڈرامے کے ذریعےاچھا پیغام دوسروں تک پہنچے۔بہت ضروری ہے کہ ڈرامے ایسے بنائے جائیں جن کے زریعے سوسائٹی میں کوئی اچھا پیغام پھیلے. اور کہانی ایسی ہونی چاہیے جو دیکھنے والوں کے زہنوں میں‌سوال اٹھائے. احسن خان نے مزید کہا کہ سکرپٹ پڑھتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہےکہ اچھا پہلواجاگر کروں۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اصلاحی کام ہوہم حاضر ہیں، میرے ساتھ میرے ساتھی بھی اچھے کاموں میں شریک ہوتے ہیں،

    ”پاکستان میں بہت سے چینل میں بہت سے ڈرامے بن رہے ہیں۔”اداکار احسن خان کا مزید کہنا تھا کہ میری کوشش ہوتی ہے ڈرامے کے ذریعے اچھا پیغام دوسروں تک پہنچے۔ انہوں نے کہاکہ بڑی سکرین پر کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے. مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ مداح مجھے ہر کردار میں‌ہر بار پسند کرتے ہیں. یاد رہے کہ آج کل احسن خان کراچی میں ڈرامہ سیریل سکون کی شوٹنگ میں مصروف ہیں اس میں‌ان کے ساتھ عتیقہ اوڈھو ، عثمان پیرزادہ اور ثناء جاوید بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں . احسن خان کا کہنا ہےکہ سکون ڈرامے کی کہانی ہٹ کر ہے جو شائقین کو بہت پسند آئیگی.

    راکھی عمرہ کرکے بھی نہیں بدلی عادل درانی

    بجلی کے بلوں پر فنکار سراپا احتجاج

    میری بڑی بہن نے میرے لئے والدین سے مار کھائی سبینا فاروق

  • ثناء نواز اپنی گاڑی چھوڑ کر پنک بس میں‌سوار ہو گئیں

    ثناء نواز اپنی گاڑی چھوڑ کر پنک بس میں‌سوار ہو گئیں

    سب جانتے ہیں کہ لالی وڈ کی معروف اداکارہ ثناء نواز اپنی فٹنس کا بہت خیال رکھتی ہیں وہ کھانا پینا بھول سکتی ہیں لیکن جم جانا اور ایکسرسائز کرنا نہیں‌بھول سکتیں. ثناء گزشتہ دنوں اپنے جم میں تھیں ایکسرسائز کرکے نکلیں تو انہوں نے اپنی گاڑی میں بیٹھنے کی بجائے پنک بس میں بیٹھنے کو ترجیح دی. جب وہ پنک بس میں سوار ہوئیں تو وہاں پہلے سے موجود خواتین حیران رہ گئیں اور انہوں نے ثناء سے بات چیت کرنے کے ساتھ ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں، بہت ساری خواتین نے ان سے سوال کیا کہ آپ اپنی گاڑی میں‌گھر کیوں نہیں‌گئیں ؟

    تو ثناء نے کہا کہ ”میں دراصل پنک بس پر سوار ہونا چاہتی تھی سفر کرنا چاہتی تھی”، میرا کافی عرصے سے دل تھا تو میں آج جب میں جم سے نکلی تو میں‌نے سوچا کہ کیونکہ بس کا سفر کیا جائے سو بس میں‌سوار ہوگئی. اور یہاں آ کر آپ لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہورہی ہے. ثناء نے کہا کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ کبھی کبھار لوکل ٹرانسپورٹ‌کا سفر ضرور کرتی ہوں تاکہ ان کو بھی پتہ چلے کہ لوکل ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا کیسا ہوتا ہے. ثناء نے کہا کہ پنک بس سروس بہت زبردست ہے.

    راکھی عمرہ کرکے بھی نہیں بدلی عادل درانی

    بجلی کے بلوں پر فنکار سراپا احتجاج

    میری بڑی بہن نے میرے لئے والدین سے مار کھائی سبینا فاروق