Baaghi TV

Category: شوبز

  • ٹک ٹاکر ہونے کی وجہ سےلوگ ہلکا لیتے تھے رومیصہ خان

    ٹک ٹاکر ہونے کی وجہ سےلوگ ہلکا لیتے تھے رومیصہ خان

    معروف ٹک ٹاکر رومیصہ خان نے کہا ہے کہ ٹک ٹاکر ہونے کی وجہ سے لوگ مجھے ہلکا لیتے تھے، لیکن جب میری کام کرنے کی صلاحیتیں آزمائی گئیں تو پھر مجھے ڈرامے اور فلمیں بھی ملنا شروع ہو گئیں. میں آج بھی فخر سے کہتی ہوں کہ ہاں میں ٹک ٹاکر ہوں. انہوں نے کہا کہ جب مجھے چیلنج کیا جانے لگا کہ میں ٹک ٹاکر ہوں‌ کچھ نہیں کر سکتی تو میں نے کہا کہ پھر آئو میں بتاتی ہوں کہ میں کیا کر سکتی ہوں .

    مجھے فلم ملی ہے میں نے اچھی اداکاری کی ہے اس سے پہلے بھی میں نے چاند تارا جیسے ڈراموں میں‌کام کیا، ”میں اور عاشر وجاہت پہلے بھی ایک ساتھ کام کر چکے ہیں”. اور ہماری ہماری کمیسٹری بہت پسند ہے لوگوں کو ہمیں امید ہے کہ جان فلم میں بھی ہمیں بہت پسند کیا جائیگا. رومیصہ خان نے کہا کہ میں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ میری لکس کیس ہیں فلم یا ڈرامے میں ، میں صرف اپنی اداکاری پر فوکس کرتی ہوں. اور جب کوئی بھی فنکار اچھی اداکاری پر فوکس کرے تو اس کی اداکاری حقیقت کے قریب معلوم ہوتی ہے.میں اپنے مداحوں کو کبھی بھی مایوس نہیں کروں گی.

    ایمن خان وزن میں کمی کے لئے کوشاں

    کرن جوہر کا راکی اور رانی کی پریم کہانی کے حوالے سے انسٹاگرام پر چیٹ سیشن

    مولا جٹ جیسی فلمیں بنانی ہوں گی معمر رانا

  • الحمراء میں آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت خواتین آرٹسٹوں سے درخواستیں وصول کرنے کے لئے خواتین ڈیسک کا قیام

    الحمراء میں آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت خواتین آرٹسٹوں سے درخواستیں وصول کرنے کے لئے خواتین ڈیسک کا قیام

    آرٹس کونسل الحمراء میں آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت خواتین آرٹسٹوں سے درخواستیں وصول کرنے کے لئے خواتین ڈیسک کا قیام لایا گیا ہے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر محمد سلیم ساگر نے اس کہا کہ اس اقدام کا مقصد خواتین آرٹسٹوں کے لئے درخواستیں جمع کروانے کے عمل کو آسان بنانا ہے،خواتین ڈیسک الحمراء آرٹس کونسل کے ایڈمن بلاک کے داخلی دروازے پر بنایا گیا ہے،جہاں الحمراء کا عملہ خواتین سے درخواستیں وصول کرئے گا۔

    واضح رہے محکمہ اطلاعات وثقافت،حکومت پنجاب کی ہدایت پر الحمراء آرٹسٹ کونسل ٗ آرٹسٹ سپورٹ فنڈ 2023-24کے تحت درخواستیں وصول کر رہا ہے، ”اب تک سینکڑوں کی تعداد میں آرٹسٹوں سے درخواستیں وصول کی جا چکی ہیں”، یہ عمل نہایت خوش اسلوبی و جاری ہے۔محکمہ اطلاعات وثقافت،حکومت پنجاب کی طرف سے آرٹسٹوں کو آرٹسٹ سپورٹ فنڈ میں درخواستیں جمع کروانے کے لئے تشہیری مہم کے تحت آگاہ کیا گیا ہے۔آرٹسٹ 04اگست2023تک اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت ایسے فنکاروں کی مدد کی جائیگی جو پریشان حال ہیں اور ان کا کوئی دوسرا کمانے کا زریعہ نہیں ہے. اس سلسلے میں پنجاب حکومت کی کاوشیں یقینا سراہنے کے قابل ہیں.

    فلم ” کدی دادے دیاں، کدی پوتے دیاں ” جمعہ کو ریلیز کی جائیگی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں فارس شفیع کا کردار مجھے آفر ہوا تھا احمد علی بٹ

    کومل رضوی کی شادی کا مالٹا میں جشن

  • برصغیر پاک و ہند کی مشہور گائیکہ مختار بیگم

    برصغیر پاک و ہند کی مشہور گائیکہ مختار بیگم

    استاد پرویز پارس صاحب کے مطابق قیام پاکستان سے پہلے سردار بائی، انور بائی لوہاری منڈی والی، عیدن بائی اکھیاں والی، عنایت بائی ڈھیرو والی، زہرہ بائی آگرے والی، اختری بائی فیض آبادی اور مختار بیگم مشہور گائکوں میں شامل تھیں۔ مختار بیگم نے ٹھمری، دادر اور غزل گائیکی میں بہت نام کمایا۔

    کلاسیکل میوزک ریسرچ سیل ریڈیو پاکستان کے مطابق مختار بیگم کا سنہ پیدائش 1923 ہے۔ مگر یہ سنہ دو وجوہات کی بنا پر درست معلوم نہیں ہوتا۔ اول ان کی آغا حشر سے وابستگی اور دوم نور جہاں کا استاد ہونا۔ روایت ہے مختار بیگم نے آغا حشر سے شادی کر لی تھی۔ اگر یہ درست ہے تو آغا حشر 1935 میں وفات پا گئے تو اس لحاظ سے مختار بیگم کی عمر اس وقت صرف 12 سال بنتی ہے۔ جو درست معلوم نہیں ہوتی۔ نور جہاں کے بقول انہوں نے مختار بیگم سے گائیکی کی تربیت حاصل کی تھی۔ نورجہاں کا سن پیدائش 1926 ہے۔ اس لحاظ سے مختار بیگم نور جہاں کی استاد کیسے ہو سکتی ہیں؟

    مختار بیگم 12 جولائی 1911ء میں امرتسر میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد غلام محمد موسیقی کے بڑے دلدادہ تھے اور خود بھی بہت اچھا ہارمونیم بجاتے تھے۔ انہوں نے مختار بیگم کو کلاسیکی موسیقی کی تربیت دلوانے کے لئے پٹیالہ گھرانے کے مشہور موسیقار استاد عاشق علی خان کی شاگردی میں دے دیا۔
    لندن میں مقیم کلاسیکل موسیقی کے رسیا سردار بلبیر سنگھ کنول کے مطابق مختار بیگم 1911 میں امرتسر میں پیدا ہوئیں۔ اس زمانے میں امرتسر میں دو گائکوں کا بہت چرچا تھا؛ ایک مختار بیگم اور دوسری جدن بائی جو بعد میں نرگس کے نام سے جانی جاتی ہیں اور مشہور بھارتی ادکار سنجے دت کی ماں ہیں۔
    بعدازاں مختار بیگم نے استاد اللہ دیا خان مہربان، استاد فتوخان، پنڈت شمبھو مہاراج اور پنڈت مچھو مہاراج سے بھی اکتساب فیض کیا۔ وہ ٹھمری، دادرا اور غزل گائیکی میں یکساں عبور رکھتی تھیں۔

    اس دوران مختار بیگم کا امرت سر میں طوطی بولنے لگا۔ اس دور میں برصغیر میں تھیٹریکل کمپنیوں کا عروج تھا۔ آغا حشر جب میڈن کمپنی میں ملازم تھے یہ کمپنی امرت سر آئی۔ آغا حشر نے مختار بیگم کا گانا سن کر ان کو کلکتہ آنے کی دعوت دی۔ جو اس دور میں فلم سازی کا مرکز تھا۔ مختار بیگم نے یہ دعوت قبول کر لی اور کلکتہ کا رخ کیا۔ یہ 1931-32 کی بات ہے۔ اس دوران انہوں نے 14 فلموں میں کام کیا۔ وہ بیک وقت رقاصہ و گلوکارہ تھیں۔

    مختار بیگم کی زندگی کا دل چسپ پہلو ان کی آغا حشر سے محبت تھی۔ مختار بیگم کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے آغا حشر سے شادی کی تھی۔ آغا حشر نے مختار بیگم کے لئے بطور خاص کئی ڈرامے اور غزلیں لکھیں۔ تین ڈرامے مختار بیگم پر فلمائے بھی گئے۔ ان میں ’ہندوستان‘، ’بلوا منگل‘ اور ’عورت کا پیار‘ شامل ہے۔ حشر کی مشہور غزل ’چوری کھل نہ جائے کہیں نسیم بہار کی‘ مختار بیگم سے منسوب کی جاتی ہے۔
    قیام پاکستان سے پہلے سردار بائی، انور بائی لوہاری منڈی والی، عیدن بائی اکھیاں والی، عنایت بائی ڈھیرو والی، زہرہ بائی آگرے والی، اختری بائی فیض آبادی اور مختار بیگم مشہور گائکوں میں شامل تھیں۔ مختار بیگم نے ٹھمری، دادر اور غزل گائیکی میں بہت نام کمایا۔

    کلاسیکل میوزک ریسرچ سیل ریڈیو پاکستان کے مطابق مختار بیگم کا سنہ پیدائش 1923 ہے۔ مگر یہ سنہ دو وجوہات کی بنا پر درست معلوم نہیں ہوتا۔ اول ان کی آغا حشر سے وابستگی اور دوم نور جہاں کا استاد ہونا۔ روایت ہے مختار بیگم نے آغا حشر سے شادی کر لی تھی۔ اگر یہ درست ہے تو آغا حشر 1935 میں وفات پا گئے تو اس لحاظ سے مختار بیگم کی عمر اس وقت صرف 12 سال بنتی ہے۔ جو درست معلوم نہیں ہوتی۔ نور جہاں کے بقول انہوں نے مختار بیگم سے گائیکی کی تربیت حاصل کی تھی۔ نورجہاں کا سن پیدائش 1926 ہے۔ اس لحاظ سے مختار بیگم نور جہاں کی استاد کیسے ہو سکتی ہیں؟ لندن میں مقیم کلاسیکل موسیقی کے رسیا سردار بلبیر سنگھ کنول کے مطابق مختار بیگم 1911 میں امرتسر میں پیدا ہوئیں۔ اس زمانے میں امرت سر میں دو گائکوں کا بہت چرچا تھا؛ ایک مختار بیگم اور دوسری جدن بائی نرگس دت کی ماں کا۔

    آٹھ سال کی عمر میں مختار بیگم کو استاد عاشق علی خان پٹیالے والے کی شاگردی میں دے دیا گیا۔ انہوں نے کچھ عرصے بعد مختار بیگم کو ان کے ماموں استاد اللہ دیا خان کے سپرد کر دیا۔ استاد اللہ دیا خان نے مختار بیگم کو اپنے جانشین استاد فتو خان کے سپرد کر دیا۔ ان دونوں استادوں کے بعد مختار بیگم ایک بار پھر استاد عاشق علی کی شاگردی میں آئیں۔ مختار بیگم کے والد غلام محمد نے اظہار جذبات کا فن سکھانے کے لئے ان کو دو بھائیوں پنڈت شمبھو مہاراج اور پنڈت لچھو مہاراج کے سپرد کیا۔ مختار بیگم نے ایک سال تک اظہار جذبات کی تعلیم حاصل کی۔
    اس دوران مختار بیگم کا امرت سر میں طوطی بولنے لگا۔ اس دور میں برصغیر میں تھیٹریکل کمپنیوں کا عروج تھا۔ آغا حشر جب میڈن کمپنی میں ملازم تھے یہ کمپنی امرت سر آئی۔ آغا حشر نے مختار بیگم کا گانا سن کر ان کو کلکتہ آنے کی دعوت دی۔ جو اس دور میں فلم سازی کا مرکز تھا۔ مختار بیگم نے یہ دعوت قبول کر لی اور کلکتہ کا رخ کیا۔ یہ 1931-32 کی بات ہے۔ اس دوران انہوں نے 14 فلموں میں کام کیا۔ وہ بیک وقت رقاصہ و گلوکارہ تھیں۔

    مختار بیگم کی زندگی کا دل چسپ پہلو ان کی آغا حشر سے محبت تھی۔ مختار بیگم کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے آغا حشر سے شادی کی تھی۔ آغا حشر نے مختار بیگم کے لئے بطور خاص کئی ڈرامے اور غزلیں لکھیں۔ تین ڈرامے مختار بیگم پر فلمائے بھی گئے۔ ان میں ’ہندوستان‘، ’بلوا منگل‘ اور ’عورت کا پیار‘ شامل ہے۔ حشر کی مشہور غزل ’چوری کھل نہ جائے کہیں نسیم بہار کی‘ مختار بیگم سے منسوب کی جاتی ہے۔

    مختار بیگم کی شخصیت کا اہم جز ان کی خوش لباسی تھا۔ جس کی طرف منٹو نے آغا حشر کے خاکے میں اشارہ کیا ہے۔ وہ گائیکی کے دوران سفید ساڑھی زیب تن کرتی تھیں۔ نور جہاں کے بقول انہوں نے ساڑھی کا یہ انداز مختار بیگم سے سیکھا۔ یہی انداز اقبال بانو نے بھی اپنایا۔
    1935 میں آغا حشر کی وفات کے بعد مختار بیگم بمبئی چلی گئیں۔ وہاں مختار فلم کمپنی کی بنیاد رکھی۔ 1936 میں پریم کی آگ، 1935 میں دل کی پیاس اور 1947 میں آخری فلم متوالی میرا میں کام کیا اور موسیقی ترتیب دی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی جماعت پر پابندی،ایاز صادق نے اعلان کر دیا
    یوکرینی وزیر خارجہ رواں ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
    کوئی بتا دے ریاست پر حملہ کرنا جرم ہے یا نہیں؟ جاوید لطیف
    جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد رکن پارلیمنٹ کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی
    پاکستان اور سری لنکن بورڈ الیون کا دو روزہ میچ ڈرا
    تقسیم کے بعد راولپنڈی آ گئیں۔ بعدازاں PIA کے کچن انچارج سید قمر الزماں سے شادی کی اور کراچی میں رہائش پذیر ہوئیں۔ ان کے فن کے عقیدت مندوں میں ملکہ ترنم نورجہاں بھی شامل تھیں۔
    مختار بیگم نے اپنی بہن فریدہ خانم اور نسیم بیگم کو گلوکاری جب کہ اداکارہ رانی کو رقص اور اظہار جذبات کی تعلیم دی۔
    25 فروری 1982ء کو پاکستان کی مشہور مغنیہ مختار بیگم کراچی میں وفات پاگئیں۔
    مختار بیگم کراچی میں سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • مجھ پر تنقید ہونا کم ہو گئی ہے امیتابھ بچن

    مجھ پر تنقید ہونا کم ہو گئی ہے امیتابھ بچن

    بالی وڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن جو کہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک رہتے ہیں انہوں نے حالیہ دنوں میں ایک ٹویٹ کیا جس میں‌انہوں نے لکھا کہ جیسے جیسے میری عمر بڑھ رہی ہے ویسے ویسے مجھ پر تنقید کم ہو رہی ہے. میں نوٹس کررہا ہوں عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ لوگ مجھ پر میرے کام پر تنقید کم کرنے لگے ہیں. انہوں نے کہا کہ جب میں شروع شروع میں انڈسٹری میں آیا تھا اس وقت بہت تنقید برداشت کی. انہوں نے کہا کہ وہ کچھ وقت کام ترک کرکے گزرے لمحات کے عکس کو دیکھنے اور پھر سے تروتازہ اور توانا ہونے میں صرف کرتے ہیں، تروتازہ و توانا ہونے کا مطلب عمر سے نہیں بلکہ علم و آگہی سے ہے کہ دنیا اور ہمارے گرد و پیش کیا ہو رہا ہے۔

    یاد رہے کہ ”امیتابھ بچن جب فلم انڈسٹری میں آئے تو ان کی پہلی 14 فلمیں فلاپ ہوئیں ان کو فلاپ اداکار کہا جانے لگا ”، لیکن ان کی قسمت نے ایسا پلٹا کھایا کہ وہ بالی وڈ کے شپنشاہ بن گئے اور آج وہ بہت سارے نئے ایکٹرز کے لئے رول ماڈل ہیں.

    فلم ” کدی دادے دیاں، کدی پوتے دیاں ” جمعہ کو ریلیز کی جائیگی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں فارس شفیع کا کردار مجھے آفر ہوا تھا احمد علی بٹ

    کومل رضوی کی شادی کا مالٹا میں جشن

  • ایشا دیول کی پیدائش پر دھرمنیدرا نے پورا ہسپتال بک کروایا

    ایشا دیول کی پیدائش پر دھرمنیدرا نے پورا ہسپتال بک کروایا

    بالی وڈ اداکار دھرمیندر جنہوں نے اداکارہ ہیما مالنی کے ساتھ دوسری شادی کی، ان کے بارے میں ہیما مالنی کی ایک دوست کا وہ پرانا انٹرویو وائرل ہو رہا ہے جس میں ہیما مالنی اور ایشا دیول بھی موجود ہیں. ہیما مالنی کی دوست نے انٹرویو کے دوران کہا کہ جب ایشا دیول کی پیدائش ہونے والی تھی تو اس وقت دھرمیندر نے 100 کمروں پر مشتمل پورا ہسپتال کرائے پر بک کروالیا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2 نومبر 1981 کی بات ہے، اس دن ایشا دیول کا جنم ہوا، جو ہیمامالنی اور دھرمیندر کی پہلی اولاد ہے۔

    اداکارہ کی دوست نے کہا کہ دھرمیندر نے ہیمامالنی کی ڈلیوری کو خفیہ رکھنے کےلئے ڈاکٹر دستور پورا نرسنگ اسپتال جو 100 کمروں پر مشتمل تھا، کرائے پر بک کروالیا۔دوران پروگرام یہ واقعہ سننے پر ہیمامالنی اور ایشا دیول کے چہرے سے فخر کے تاثرات عیاں تھے،انٹرویو کے دوران ہیما مالنی نے اپنی دوست کی بات کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہمارے سگے رشتے داروں سے ہٹ کر مجھ سے اس دوران ملنے والی یہ پہلی خاتون تھیں۔یاد رہے کہ” دھرمیندر نے پہلی شادی پرکاش کور سے کی” جس میں سے سنی دیول اور بابی دیول پیدا ہوئے ، ہیما مالنی کے ساتھ شادی کرنے کےلئے دھرمیندر کو مسلمان ہونا پڑا.

    فلم ” کدی دادے دیاں، کدی پوتے دیاں ” جمعہ کو ریلیز کی جائیگی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں فارس شفیع کا کردار مجھے آفر ہوا تھا احمد علی بٹ

    کومل رضوی کی شادی کا مالٹا میں جشن

  • اچھی شاعری جذبات کی عکاسی ہوتی ہے ریشم

    اچھی شاعری جذبات کی عکاسی ہوتی ہے ریشم

    معروف اداکارہ ریشم جو سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں ان کو شاعری سے بے حد لگائو ہے. وہ اکثر غزلیں اور شعر پڑھتی ہوئی وڈیوز میں دکھائی دیتی ہیں. اداکارہ نے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ اچھے شاعر اور ان کی اچھی شاعری دلوں کی ترجمانی کرتی ہے . اچھی اور معیاری شاعری ہوتی ہی جذبات کی عکاسی ہے. مجھے بہت سارے شاعروں کی شاعری پسند ہے فارغ اوقات میں‌اکثر شعرو شاعری ہی پڑھتی رہتی ہوں. انہوں نے کہا کہ میری لائبریری میں‌فیض احمد فیض سے لیکر احمد فراز جیسے شہرہ آفاق شعرا کی کتابیں موجود ہیں ۔مجھے ناصرکاظمی ، احمد فراز اور محسن نقوی نے بھی بڑا متاثر کیا ۔ انہوںنے کہاکہ خود بھی شاعری کرتی ہوں اور اپنے شعر لکھ بھی لےتی ہوں ، مجھے ادب سے خصوصی لگاو ہے۔

    اداکارہ نے کہا کہ ”گانوں کی اچھی شاعری بھی مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے”، میوزک سے بھی بے حد لگائو ہے اور میرے پاس میوزک کے حوالے سے بھی اچھی کلیکشن ہے. انہوں نے کہا کہ مجھے خود بھی گنگنانے کا بہت شوق ہے اور اکثر میں اپنے پسند کے گانے گنگناتی بھی ہوں. یاد رہے کہ ریشم نے نوے کی دہائی میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور آج تک اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کررہی ہیں.

    فلم ” کدی دادے دیاں، کدی پوتے دیاں ” جمعہ کو ریلیز کی جائیگی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں فارس شفیع کا کردار مجھے آفر ہوا تھا احمد علی بٹ

    کومل رضوی کی شادی کا مالٹا میں جشن

  • خود سکینڈلز بنوانے والی لڑکی نہیں ہوں زارا شیخ

    خود سکینڈلز بنوانے والی لڑکی نہیں ہوں زارا شیخ

    اداکارہ زارا شیخ نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں ایسی ہیروئنز بھی موجود ہیں جو شہرت حاصل کرنے کےلئے اپنے جھوٹے سکینڈلز زخود بنواتی ہیں تاکہ وہ ہر طرف ڈسکس ہوں. اور انہیں وہ شہرت ملے جس کا ان کو خواب ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے شہرت حاصل کرنے کےلئے کبھی اوچھے ہتھکنڈے استعمال نہیں کئے، مجھے آج تک جتنا بھی کام ملا ہے، وہ میرے ٹیلنٹ کی وجہ سے ملا ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے جتنا بھی کام کیا ہے میں اس سے بے حد مطمئن ہوں.

    میزبان کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فلمیں میری پہچان ہیں اور میں فلموں سے کبھی بھی الگ نہیں ہو سکتی” آج بھی اگر مجھے اچھا کردار ملا تو میں ضرور کروں گی”، فلموں نے مجھے بہت نام دیا میں آج جو کچھ بھی ہوں فلموں کی ہی بدولت ہوں اور میرے مداحوں کا پیار مجھے شوبز انڈسٹری سے الگ نہیں ہونے دیتا. انہوں نے کہاکہ ہمارے دور میں جو فلمیں بنی اور جو ان کو لوگوں کا ریسپانس ملا وہ آج بھی یاد کروں تو دل خوش ہو جاتا ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے ڈرامہ سیریل رقص بسمل میں کام کیا بہت اچھا لگا.

     

    فلم ” کدی دادے دیاں، کدی پوتے دیاں ” جمعہ کو ریلیز کی جائیگی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں فارس شفیع کا کردار مجھے آفر ہوا تھا احمد علی بٹ

    کومل رضوی کی شادی کا مالٹا میں جشن

  • اداکارہ بننے کے بعد پتہ چلا اچھا گا لیتی ہوں نمرہ خان

    اداکارہ بننے کے بعد پتہ چلا اچھا گا لیتی ہوں نمرہ خان

    اداکارہ نمرہ خان نے کہا ہے کہ میں بچپن سے ہی ٹام بوائے ہوں ، میرے سارے شوق لڑکوں جیسے تھے میں ڈریسنگ بھی ویسی ہی کرتی تھی. انہوں نے کہا کہ مجھے اداکارہ بننے کے بعد پتہ چلا کہ میں تو بہت اچھی گلوکارہ بھی ہوں اور گلوکاری تو میں زیادہ اچھی کر لیتی ہوں. انہوں نے کہا کہ میں ہر کسی کی اداکاری سے کچھ نہ کچھ سیکھتی ہوں لیکن میں صنم سعید کی اداکاری سے بہت متاثر ہوں وہ حقیقت کے قریب اداکاری کرتی ہیں، مجھے اگر ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آیا تو ضرور کروں گی.

    انہوں نے کہا کہ میری انڈسٹری میں بہت ساری دوستیاں نہیں ہیں میں اپنے کام سے کام رکھتی ہوں ، کام کرکے گھر چلی جاتی ہوں ، پارٹیوں کا بھی بہت کم حصہ بنتی ہوں. انہوں نے کہا کہ اشنا شاہ انڈسٹری میں میری بہترین دوست ہیں لیکن ہمارا ملنا ملانا کم ہی ہوتا ہے. انہوں نے کہا کہ میری توجہ ابھی پوری طرح میرے کیرئیر پر ہے اور مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب لوگ مجھے دیکھ کر پہچان لیتے ہں . یاد رہے کہ نمرہ خان نے کچھ عرصہ پہلے شادی کی تھی اور وہ شادی ناکامی سے دوچار ہو گئی تھی اس شادی کی ناکامی کے بعد نمرہ کافی پریشان رہیں.

    فلم ” کدی دادے دیاں، کدی پوتے دیاں ” جمعہ کو ریلیز کی جائیگی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں فارس شفیع کا کردار مجھے آفر ہوا تھا احمد علی بٹ

    کومل رضوی کی شادی کا مالٹا میں جشن

  • نور جہاں کی پہنی ہوئی ساڑھی خریدی آج بھی پہنتی ہوں بشری انصاری

    نور جہاں کی پہنی ہوئی ساڑھی خریدی آج بھی پہنتی ہوں بشری انصاری

    سینئر اداکارہ بشری انصاری کہتی ہیں کہ کس کو معلوم نہیں ہے کہ میں نورجہاں کی بہت بڑی مداح ہوں ، میں ان کی نقل اتارتی تھی تو جو داد ملتی تھی بہت اچھا لگتا تھا، مجھے کبھی بھی نورجہاں نے اس وجہ سے ڈانٹا نہیں تھا. ان کو دیکھ کر ساڑھیاں پہننے کا شوق ہوا ، ان کی وفات کے بعد میں نے انکے گھر والوں سے ان کی ایک ساڑھی خریدی ، وہ ساڑھی آج بھی میرے پاس ہے اورمیں اکثر پہنتی ہوں اور بہت اچھا محسوس کرتی ہوں.

    انہوں نے کہا کہ صرف میں‌ہی نہیں میری بہنیں بھی ساڑھیاں پہننے کی شوقین رہی ہیں سب آج بھی ساڑھیاں پہنتی ہیں. ”مجھے ساڑھی پہن کر اپنا آپ بہت اچھا لگتا ہے”. بشری انصاری نے کہا کہ میری بہنیں بہت خوبصورت ہوا کرتی تھیں وہ جب کبھی بازار میں جاتیں تو لوگ مڑ مر کر انہیں دیکھتے تھے، میں کوئی بہت خوبصورت نہیں تھی میری رنگت زرا سانولی تھی اس لئے میرے گھر والے مجھے کلو کہا کرتے تھے. بشری انصاری نے کہا کہ ساڑھی بہت ہی باوقار لباس ہے جس کو پہن کر میں بہت زیادہ آرام دہ محسوس کرتی ہوں .یاد رہے کہ بشری انصاری نے اپنے گھر کے کمرے میں نورجہاں کی تصویر لگا رکھی ہے وہ انکو دیوانہ وار پسند کرتی ہیں.

    فلم ” کدی دادے دیاں، کدی پوتے دیاں ” جمعہ کو ریلیز کی جائیگی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں فارس شفیع کا کردار مجھے آفر ہوا تھا احمد علی بٹ

    کومل رضوی کی شادی کا مالٹا میں جشن

  • کاجول نے شاہ رخ خان کو اپنا وکیل بنا لیا

    کاجول نے شاہ رخ خان کو اپنا وکیل بنا لیا

    بالی وڈ اداکارہ کاجول نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ شاہ رخ خان نہایت ہی نرم دل انسان ہیں اور بہت ہی اچھے دوست اور انسان ہیں، میں ان کی ان عادات سے کافی متاثر ہوں. ان سے جب پروگرام کے دوران سوال ہوا کہ اجے دیوگن کے علاوہ آپ کس کو اپنا وکیل مقرر کرنا چاہیں گی تو انہوں نے کہا کہ میں شاہ رخ خان کو اپنا وکیل مقرر کرنا چاہوں گی وہ خواتین کو بہت زیادہ عزت دیتے ہیں. انہوں نے کہا کہ میرا شاہ رخ خان کے ساتھ تیس سالہ تعلق ہے اور میں اس کے ساتھ بہت زیادہ کمفرٹبیل رہتی ہوں.

    اداکارہ نے کہا کہ ”شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت ہی یادگار رہا ہے، وہ اچھے دوست ہیں سیٹ پر بہت چھیڑ چھاڑ بھی کرتے رہتے ہیں”. یاد رہے کہ کاجول اور شاہ رخ خان کی جوڑی کو شائقین بہت زیاد ہ پسند کرتے ہیں اور ان کو ایک ساتھ دیکھنے کےلئے بے تاب رہتے ہیں. ان کے کریڈٹ پر سپر ہٹ فلمیں ہیں اور ان کے گیت آج بھی مقبول ہیں. کاجول نے اجے دیوگن کے ساتھ بھی کام کیا لیکن شاہ رخ کے ساتھ انکی جوڑی کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے.

    فلم ” کدی دادے دیاں، کدی پوتے دیاں ” جمعہ کو ریلیز کی جائیگی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں فارس شفیع کا کردار مجھے آفر ہوا تھا احمد علی بٹ

    کومل رضوی کی شادی کا مالٹا میں جشن