Baaghi TV

Category: کھیل

  • پیرس اولمپکس،مختصر لباس پہن کر کھلاڑیوں کو توجہ بھٹکانے والی خوبصورت خاتون کو بڑا جھٹکا

    پیرس اولمپکس،مختصر لباس پہن کر کھلاڑیوں کو توجہ بھٹکانے والی خوبصورت خاتون کو بڑا جھٹکا

    پیرس اولمپکس،خوبصورتی اللہ کی طرف سے دی گئی ایک نعمت ہے، کسی خاتون کا بے پناہ خوبصورت ہونا باعث فخر ہوتا ہے لیکن اولمپکس میں ایک خاتون کا خوبصورت ہونا اسکی خامی بن گیا اور اس کو اولمپکس سے باہر کر دیا گیا، خاتون لوانا الونسو جو تیراک ہیں ان کی خوبصورتی کی وجہ سے انکوپیرس اولمپکس بھیج کر ملک نے واپس بلا لیا

    پیرس اولمپکس میں پاکستان نے بھی اس بار گولڈ میڈل جیتا، ارشد ندیم نے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کیا ،بھارت رواں برس کوئی گولڈ میڈل نہیں جیت سکا اور اسکا پیرس اولمپکس میں سفر ختم ہو گیا ہے،وہیں پیرس اولمپکس 2024 میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ،پیراگوائے کی تیراک لوانا الونسو کو ان کے ہی ملک نے یہ کہہ کر مقابلے سے آؤٹ کردیا کہ وہ بہت خوبصورت ہیں اسلیے وہ مقابلہ چھوڑیں اور واپسی کا سفر شروع کر دیں،غیر ملکی میڈیا کے مطابق لوانا الونسو خوبصورت ترین خاتون تھیں جس کی وجہ سے اولمپکس میں موجود افراد کی نظریں اسی پر ہوتی تھیں،اسکی خوبصورتی ان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کا دھیان بٹا رہی تھی، وہ اولمپک ولیج کے مراعات سے بھی محروم ہوگئی ہیں.

    پیرس اولمپکس کے آغاز سے ہی لوانا الونسو کی بے پناہ خوبصورتی شرکا اور دیکھنے والوں کو مسحور کر رہی تھی،ان کے ساتھی ان کے حسن کی تاب لانے سے قاصر تھے اور ان کا دھیان مقابلے کی بجائے لوانا الونسو کی جانب ہی رہتا تھا جس سے مبینہ طور پر ان کی کارکردگی متاثرہو رہی تھی،پیراگوائے کی قومی ٹیم کے منیجر نے اعلان کیا کہ لوانا کے وہاں ہونے کا پورے دستے پر نامناسب اثر پڑ رہا ہے

    پیرس اولمپکس کے دوران لوانا کو اولمپکس ولیج بھی فوری‌خالی کرنے کا کہا گیا حالانکہ دیگر کھلاڑیوں کو اولمپکس کے ختم ہونے تک وہاں رہنے کی اجازت ہے

    لوانا الونسو واپس پیرا گوئے پہنچ گئی ہے، وطن واپسی پر انہوں نے کوئی بات چیت نہیں کی اور کوئی تبصرہ نہیں کیا تا ہم انہوں نے تیراکی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا،اس موقع پر انہوں نے اپنے مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا.

    لوانا الونسو اور ٹیم پیراگوئے کے پاس پیرس میں ہونے والے اولمپکس کے بارے میں مختلف بیانات ہیں،کچھ کا کہنا ہے کہ اسے زبردستی بھیجا گیا ہے جبکہ کچھ افراد کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا،

    لواناالونسو کے پاس بٹر فلائی اسٹروک میں پیراگوئین کے متعدد ریکارڈ ہیں، پیراگوئین اولمپک کمیٹی نے لوانا الونسو کو ہٹانے کے فیصلے کے لیے مزید کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ صرف اتنا کہا گیا کہ الونسو نے "ایک نامناسب ماحول پیدا کیا”، جس نے ہر قسم کی قیاس آرائیوں کا دروازہ کھول دیا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق 20 سالہ سوئمر لوانا الونسو پیرس اولمپکس میں خواتین کے 100 میٹر بٹر فلائی ایونٹ کے سیمی فائنل کے لیے 0.24 سیکنڈز کے فرق سے کوالیفائی نہیں کرسکی تھیں ،سیمی فائنل میں کوالیفائی نہ کرنے کے باعث لوانا نے تیراکی سے ریٹائرمنٹ کا بھی اعلان کردیا تھا،لوانا پر اس حوالے سے بھی تنقید کی جارہی ہے کہ وہ اولمپک ولیج میں پراگوئے ٹیم کی جانب سے فراہم کیے گئے لباس کے بجائے مختصر اور چست لباس پہن کر اور دیگر ٹیموں سے ملاقاتیں کرکے اپنے دیگر مد مقابل کھلاڑیوں کی توجہ بھٹکانے کی وجہ بنیں
    Luana Alonso

    نامناسب ماحول پیدا کرنے کے باعث اولمپکس ویلیج سے نکالی گئیں پیراگوئے کی خاتون تیراک لوانا الونسو نے معروف برازیلی فٹبالر نیمار جونئیر سے متعلق انکشاف کیا ہے اور کہا کہ انسٹاگرام پر معروف برازیلی فٹبالر نیمار جونئیر نے انہیں پرائیوٹ میسج کرکے پیغام بھیجا تھا، 20 سالہ سوئمر لوانا الونسو نے دعویٰ کیا کہ برازیل کے سابق کپتان اور معروف فٹبالر فٹبالر نیمار جونئیر نے مجھے انسٹاگرام پر میسجز کیے، جو میں یہاں نہیں بتاسکتی،لوانا کا مزید کہناتھا کہ میں نے ملک نہیں چھوڑا نہ مجھے نکالا گیا ہے، غلط معلومات پھیلانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

    دوسری جانب نیمار جونئیر اِن دنوں اپنی چوٹ سے لڑرہے ہیں وہ انجری کے باعث کوپا امریکا ٹورنامنٹ میں بھی برزایل کی نمائندگی سے قاصر رہے تھے،اکتوبر میں ورلڈکپ کوالیفائر میں ایک حریف سے ٹکرانے کے بعد برازیل کی یوروگوئے سے 2-0 کی شکست کے دوران وہ روتے ہوئے اسٹریچر پر گئے تھے

    چینی سفیر کی جانب سے ارشد ندیم کو مبارکباد

    اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے

    مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    ایک میڈل انکو بھی دے دیں،جس نے قوم کی جان چھوڑ دی،خواجہ آصف

    جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان

    ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

    کرکٹر بننا تھالیکن عدم سہولت کی وجہ سے کرکٹ چھوڑی،ارشد ندیم

  • پیرس اولمپکس کے ہیرو ارشد ندیم کے سسر کا منفرد تحفہ: بھینس دینے کا اعلان

    پیرس اولمپکس کے ہیرو ارشد ندیم کے سسر کا منفرد تحفہ: بھینس دینے کا اعلان

    پیرس اولمپکس میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والے قومی ہیرو ارشد ندیم کو جہاں پاکستان بھر سے کروڑوں روپے کے انعامات سے نوازا جا رہا ہے، وہیں ان کے سسر محمد نواز نے اپنے داماد کو ایک منفرد تحفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ محمد نواز نے کہا ہے کہ وہ اپنے داماد کو بھینس تحفے میں دیں گے۔مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد نواز نے ارشد ندیم کی شاندار کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مجھے اپنے داماد پر فخر ہے اور میں ان کا بھرپور استقبال کروں گا۔ ان کی کامیابی نہ صرف ہمارے خاندان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔”جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے داماد کو کیا تحفہ دیں گے تو انہوں نے کہا، "میں اپنے داماد ارشد ندیم کو ایک بھینس تحفے میں دوں گا۔ یہ بھینس ان کے لیے میری طرف سے ایک محبت بھرا تحفہ ہے۔” ان کے اس بیان نے نہ صرف مقامی بلکہ ملکی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔
    محمد نواز نے مزید بتایا کہ ان کی 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں، جن میں سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی ارشد ندیم سے 6 سال قبل ہوئی تھی۔ ارشد ندیم اور ان کی بیٹی کے 3 بچے ہیں، جن میں 2 بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ "ہمارے دو بچے مقامی اسکول میں جاتے ہیں۔ بچی پہلی جماعت میں ہے جبکہ ایک بیٹے نے ابھی اسکول جانا شروع کیا ہے اور تیسرا بیٹا ابھی چھوٹا ہے،” محمد نواز نے بتایا۔جب ان سے ارشد ندیم کی شادی کے وقت کی زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، "شادی کے وقت ارشد ندیم چھوٹے موٹے کام کرتے تھے اور گھر پر ہی پریکٹس کرتے تھے۔ انہیں نیزہ بازی کا بہت شوق تھا اور وہ اس میں اپنا نام بنانا چاہتے تھے۔” محمد نواز نے کہا کہ انہیں اپنے داماد سے کبھی کوئی شکایت نہیں رہی۔ "ارشد ندیم جب بھی گھر آتے تھے، جو کچھ بھی کھانے کے لیے ملتا تھا وہ شوق سے کھا لیتے تھے۔”
    ارشد ندیم کی کامیابی پر جہاں پاکستان بھر میں جشن منایا جا رہا ہے، وہیں ان کے سسرال والوں کی طرف سے دیے جانے والے منفرد تحفے نے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ محمد نواز کا یہ اقدام نہ صرف ان کی داماد سے محبت کا مظہر ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سادہ اور دیہاتی پس منظر رکھنے والے لوگ اپنی خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ارشد ندیم کی کامیابی کا جشن چین میں بھی منایا جا رہا ہے، جہاں ان کے مداحوں نے ان کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

  • پاکستانی کوہ پیما ایم مراد سدپارہ براڈ پیک پر زخمی: ریسکیو آپریشن جاری

    پاکستانی کوہ پیما ایم مراد سدپارہ براڈ پیک پر زخمی: ریسکیو آپریشن جاری

    پاکستان کے معروف کوہ پیما ایم مراد سدپارہ براڈ پیک کی مہم جوئی کے دوران شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کیمپ ون پر پیش آیا، جہاں ان پر پتھر گرنے سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ایم مراد سدپارہ پاکستان کے نامور کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اب تک کے ٹو سمیت 8 ہزار میٹر سے بلند چار پہاڑوں کو سر کر چکے ہیں، جو ان کی مہارت اور تجربے کا ثبوت ہے۔ اس واقعے سے پہلے، سدپارہ نے گزشتہ ہفتے کے ٹو کی بلندی سے ایک اور کوہ پیما کی لاش کو اتارنے کا مشکل کام انجام دیا تھا۔ وہ کے ٹو کی صفائی مہم کی قیادت کر رہے تھے، جو ان کے ماحولیاتی شعور اور کوہ پیمائی کے شعبے میں ان کی خدمات کو ظاہر کرتا ہے۔
    بیس کیمپ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، سدپارہ کی حالت تشویشناک ہے۔ پاکستانی کوہ پیماؤں کی برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زخمی کوہ پیما کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے فوری طور پر ریسکیو کیا جائے۔ یہ مطالبہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ براڈ پیک جیسے بلند و بالا پہاڑوں پر طبی امداد کی فوری ضرورت ہوتی ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
    اس صورتحال کے جواب میں، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے مراد سدپارہ کو ریسکیو کرنے کے لیے انتظامیہ کو فوری ہدایات جاری کی ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کی ہے کہ حکومت مراد سدپارہ کی ریسکیو میں ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ریسکیو آپریشن کے حوالے سے فیض اللہ فراق نے بتایا کہ پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے دو مقامی پورٹرز کو براڈ پیک پر پہنچا دیا ہے۔ یہ تجربہ کار پورٹرز مراد سدپارہ کو تلاش کریں گے۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ مقامی پورٹرز اس علاقے کی جغرافیائی صورتحال سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور انہیں بلند ترین پہاڑوں پر کام کرنے کا تجربہ ہوتا ہے۔
    کوہ پیمائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ براڈ پیک جیسے پہاڑوں پر ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل اور خطرناک ہوتے ہیں۔ موسم کی تیزی سے بدلتی صورتحال، آکسیجن کی کمی، اور انتہائی سرد درجہ حرارت جیسے عوامل اس کام کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ اس لیے، ریسکیو ٹیم کو انتہائی احتیاط اور مہارت سے کام کرنا ہوگا۔پاکستان کی کوہ پیمائی کی برادری اس واقعے سے شدید پریشان ہے۔ کئی معروف کوہ پیماؤں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات میں مراد سدپارہ کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے اور حکومت سے ان کی فوری ریسکیو کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر کوہ پیمائی کے خطرات اور اس شعبے میں بہتر حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ریسکیو آپریشن کی پیش رفت سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی مراد سدپارہ کو حفاظت سے نیچے لایا جائے گا اور انہیں مناسب طبی امداد فراہم کی جائے گی۔

  • پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے ارشد ندیم کے   گھر پہنچتے ہوئے والدہ کے ساتھ جذباتی مناظر

    پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے ارشد ندیم کے گھر پہنچتے ہوئے والدہ کے ساتھ جذباتی مناظر

    قومی ہیرو اور اولمپک ایتھلیٹ ارشد ندیم آج میاں چنوں میں اپنے آبائی گھر پہنچ گئے، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ گھر پہنچتے ہی انہوں نے اپنی والدہ کو گلے لگایا اور اٹھا لیا، جس پر والدہ جذبات سے مغلوب ہو کر ان کا ہاتھ چومتی رہیں اور آنکھیں پرنم ہو گئیں۔ اس جذباتی منظر نے ہر کسی کے دل کو چھو لیا۔ارشد ندیم بھی اپنی والدہ کو گود میں اٹھا کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔ ان کے استقبال کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد امڈ آئی، جنہوں نے اپنے ہیرو کو پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ شہریوں نے ان کے ساتھ سیلفیاں بنائیں اور انہیں گلے لگایا۔
    پیرس اولمپکس 2024 میں پاکستان کے لیے 40 سال بعد سونے کا تمغہ جیتنے والے قومی ہیرو ارشد ندیم کا قافلہ 12 گھنٹے کے سفر کے بعد میاں چنوں پہنچ گیا، جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ ان کی آمد پر شہر میں جشن کا سماں تھا اور ہر طرف خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔قومی ہیرو ارشد ندیم جیسے ہی اپنے قافلے کے ہمراہ آبائی علاقے میاں چنوں پہنچے، تو وہاں ان کا استقبال کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں عوام موجود تھی۔ شہریوں کے چہروں پر خوشی نمایاں تھی اور وہ اپنے ہیرو کے انتظار میں گھنٹوں سے وہاں موجود تھے۔
    میاں چنوں بائی پاس پر ارشد ندیم کے دوستوں اور اہلخانہ نے ان کا پرجوش استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ عوام کی کثیر تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی، جنہوں نے قومی ہیرو کو پھولوں کے ہار پہنائے اور "ارشد ندیم زندہ باد” کے نعروں سے فضا کو گرما دیا۔ارشد ندیم کی آمد پر شہر کے داخلی راستوں پر "ویلکم ارشد ندیم” کے پوسٹرز آویزاں کیے گئے تھے، جبکہ ڈھول کی تھاپ پر رقص اور آتشبازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں تاکہ اس تاریخی لمحے کی خوشی کو مزید دوبالا کیا جا سکے۔ارشد ندیم کی واپسی پر عوام کی محبت اور عزت افزائی نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ واقعی قوم کے دلوں میں بس چکے ہیں۔ پیرس اولمپکس میں ان کی شاندار کامیابی نے نہ صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ ملک بھر کے لوگوں کو بھی فخر کا موقع فراہم کیا۔ارشد ندیم کے استقبال کے مناظر اور جشن کی یہ یادگار تصاویر ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، جس میں ایک بار پھر ثابت ہوا کہ جب کوئی پاکستانی دنیا کے کسی بھی کونے میں کامیابی حاصل کرتا ہے، تو پوری قوم اس کی کامیابی کا جشن مناتی ہے۔

    اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی پاکستان واپسی پر آج صبح سویرے ایک شاندار استقبال کیا گیا۔ پیرس اولمپکس میں پاکستان کو 40 سال بعد انفرادی گولڈ میڈل دلانے والے جیولن تھرو ایتھلیٹ کی آمد پر لاہور کے علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ارشد ندیم کی پرواز رات 1:25 بجے لینڈ ہوئی، جہاں ان کا خیرمقدم واٹر کینن سلیوٹ سے کیا گیا۔ مداحوں، سرکاری حکام اور میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد قومی ہیرو کے استقبال کے لیے جمع تھی۔ وفاقی وزیر احسن اقبال، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اور شزا فاطمہ سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے ارشد ندیم کا استقبال کیا۔ایئرپورٹ کے اسٹیٹ لاؤنج میں ارشد ندیم کے والد نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا اور پھولوں کا ہار پہنایا۔ اس جذباتی لمحے میں والد کی آنکھیں نم ہوگئیں اور خود ارشد ندیم بھی جذبات سے لبریز نظر آئے۔ ارشد کے والد نے کہا، "میرے بیٹے نے قوم کا مان رکھ لیا۔ میں تو ایک مزدور ہوں، یہ سب اللہ کا کرم ہے۔”
    ہوائی اڈے کے باہر مداحوں کا ایک سمندر امڈ آیا تھا۔ ارشد ندیم کے آبائی شہر میاں چنوں سے بھی خاندان کے افراد، رشتہ دار اور مداح بڑی تعداد میں پہنچے تھے۔ پرستاروں نے اپنے ہیرو پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے۔ "ارشد ندیم زندہ باد، پاکستان زندہ باد” کے نعرے فضا میں گونجتے رہے۔
    مداحوں کی کثیر تعداد کے پیش نظر، ارشد ندیم کو ایک ڈبل ڈیکر بس پر سوار کیا گیا۔ انہوں نے بس سے ہاتھ ہلا کر عوام کے جوش و جذبے کا جواب دیا اور ان کی محبت کا شکریہ ادا کیا۔ مداح بس کے ساتھ ساتھ چلتے ر ہے. لاہور سے اپنے گاؤں میاں چنوں جاتے ہوئے، ارشد ندیم نے راستے میں رائیونڈ کے تبلیغی مرکز میں نماز فجر ادا کی اور شکرانے کے نوافل پڑھے۔
    یاد رہے کہ ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں 92.97 میٹر کا تھرو کر کے نیا اولمپک ریکارڈ قائم کیا اور پاکستان کو تاریخ میں پہلی بار اولمپک جیولن تھرو مقابلے میں گولڈ میڈل دلایا۔اس تاریخی کامیابی نے پورے ملک میں جشن کی لہر دوڑا دی ہے، اور ارشد ندیم کی وطن واپسی پر ہونے والا یہ پرجوش استقبال اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ واقعی پاکستان کے نئے قومی ہیرو بن چکے ہیں۔

  • پاکستانی ایتھلیٹ کے ساتھ ناروا سلوک،ثمر خان کسٹم حکام پر پھٹ پڑیں

    پاکستانی ایتھلیٹ کے ساتھ ناروا سلوک،ثمر خان کسٹم حکام پر پھٹ پڑیں

    پاکستان کے ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا پاکستانی دنیا بھر میں خوشیاں منا رہے ہیں، ارشد ندیم آج پاکستان واپس پہنچیں گے جس کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں ،تو دوسری جانب حکومت اور اداروں کی جانب سے قومی ایتھلیٹ کے ساتھ ناروا سلوک کی ایک اور کہانی سامنے آئی ہے

    کسٹمز نے پاکستانی کو ہ پیما، قومی ایتھلیٹ ثمر خان کا سپانسر کردہ سامان قبضے میں لے لیا ہے،ثمر خان سامان قبضے میں لئے جانے کے بعد مشکلات کا شکار ہیں، لاہور ایئر پورٹ پر ثمر خان کا سامان کسٹم حکام نے قبضے میں لیا،کسٹم حکام نے سپانسر شدہ کوہ پیمائی کے جوتے روک لیے ہیں جو ان کی کامیابیوں کے اعتراف میں ایک بین الاقوامی کمپنی نے فراہم کیے تھے۔ پاکستان کی قومی ایتھلیٹ ہونے کے باوجود ثمر خان سے کسٹم حکام نے کہا ہے کہ وہ اپنا سامان لینے کے لیے بھاری رقم ادا کریں۔

    ثمر خان، جنہوں نے حال ہی میں یورپ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایلبرس کو فتح کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کے طور پر تاریخ رقم کی، نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انکشاف کیا کہ لاہور کسٹم نے اس کے سپانسر شدہ جوتے تین ہفتوں سے رکھے ہوئے ہیں،ثمر خان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مسلم لیگ ن کی حکومت سے بھی مدد کے لیے رابطہ کیا اور کہا کہ براہ کرم میرا سامان لینے میں میری مدد کریں تاکہ میں انہیں اپنی آنے والی مہم کے لیے استعمال کر سکوں،

    یہ صورتحال پاکستانی کھلاڑیوں کو درپیش ایک وسیع تر مسئلے پر روشنی ڈالتی ہے جنہیں اکثر حکومت کی طرف سے مناسب مدد اور وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ جب بیرونی اسپانسرز ضروری سامان فراہم کرنے کے لیے قدم رکھتے ہیں، تو ثمر خان جیسے ایتھلیٹس کو افسر شاہی کی جانب سے رکاوٹوں اور ڈیوٹی کی ادائیگی کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ثمر خان کی پریشانی نے حامیوں میں غم و غصے کو جنم دیا ہے، جو حکومت کے اقدامات کو قومی کھلاڑیوں کی ترقی اور پہچان میں ایک اہم رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    ثمر خان نے ایکس پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی ساتھ کہا کہ میرے کوہ پیمائی کے جوتے لاہور کسٹم نے 3 ہفتوں کے لیے ایسے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جیسے میں کوئی مجرم ہوں یا کروڑ پتی ہوں،میں نے یہ جوتے خریدے نہیں ہیں! یہ آپ کی قومی کھلاڑی کو اس کے کام کی حمایت کے لیے سپانسر کیے گئے ہیں .

    سپانسر شدہ بوٹ لینے کیلیے کسٹم والے 50 ہزار مانگ رہے کیوں بھئی؟ ثمر خان
    ثمر خان ویڈیو پیغام میں کہتی ہیں کہ جب میں کسی مسئلے پر بات کرتی ہوں تو آپ لوگ کہتے ہیں کہ ثمر کے مسئلے ختم نہیں ہوتے، ثمر کے نہیں اس ملک کے مسئلے ختم نہیں ہوتے،جب آپ کا ایتھلیٹ محنت کر رہا ہے، ہر ملک میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے اسکو ماہانہ تنخواہ نہیں ملتی،میڈیکل، سفری اخراجات کچھ نہیں ملتا پورا سال ہم سپانسر ڈھونڈتے رہتے ہیں،اور زندگی میں پہلی دفعہ جب کوئی سپورٹس آئٹم باہر سے سپانسر کرتا ہے اور وہ پاکستان چیز آتی ہے تو کسٹم والے پکڑ لیتے ہیں،تین ہفتے ہو گئے ہیں کسٹم والے لاہور ایئر پورٹ پر میرے بوٹ نہیں چھوڑ رہے، کہتے ہیں 50 ہزار سٹور کا کرایہ دو، میں کیوں دوں کرایہ، میں نے کہا تھا کہ ادھر رکھیں،پرانی شاپ سے ہم بڑی مشکل سے سپورٹس کی کٹ تلاش کرتے ہیں اور کٹ پورا کرنے میں ایک عرصہ لگ جاتا ہے،جب آپ نے ایتھلیٹ کو سپورٹ نہیں کرنا توکم از کم ہمارا جینا تو حرام نہ کریں ہم خود اپنی چیزیں منگواتے ہیں وہ بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتیں.مجھے میرے بوٹ میرے پوسٹل ایڈریس پر چاہیے.

    واضح رہے کہ پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمر خان نے منفرد اعزاز اپنے نام کر رکھا ہے، پاکستانی کوہ پیما ثمر خان نے یورپ کی سب سے اونچی پہاڑی ماؤنٹ ایلبرس کی چوٹی پر قومی پرچم لہرا دی، ثمرخان پہلی پاکستانی ہیں جنہوں نے 5 ہزار 642 فٹ بلند چوٹی ماؤنٹ ایلبرس سرکی اور واپسی پر سنو بورڈ پر نیچے اتریں، خیبر پختونخوا کے علاقے دِیر سے تعلق رکھنے والی ثمر خان ماؤنٹ ایلبرس سے سنوبورڈنگ کرکے اترنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں ،ثمر خان کو افریقہ میں کلیمنجارو سے گزرنے والی پہلی خاتون سائیکلسٹ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا غیر قطبی گلیشیئر ہے۔اس نے 2021 میں Redbull Homerun سنو بورڈنگ ریس میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔

    چینی سفیر کی جانب سے ارشد ندیم کو مبارکباد

    اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے

    مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان

    ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

  • بنگلہ دیش اے کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    بنگلہ دیش اے کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    بنگلہ دیش اے کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے، بنگلہ دیش کی ٹیم براستہ دوحہ پاکستان پہنچی ہے

    پاکستان شاہینز اور بنگلہ دیش اے کے درمیان ریڈ بال اور وائٹ بال سیریز 13 اگست کو اسلام آباد میں شروع ہوگی،دونوں ٹیموں کے درمیان اسلام آباد کے اسپورٹس کلب میں 2 چار روزہ میچز اور 3 ونڈے میچز کھیلے جائیں گے،دونوں ٹیموں کے مابین ریڈ بال اور وائٹ بال سیریز کے میچز 13 اگست سے 30 اگست تک ہوں گے، پہلا 4 روزہ ٹیسٹ میچ 13 اگست کو شروع ہوگا، دوسرا 4 روزہ ٹیسٹ میچ 20 اگست کو شروع ہوگا،50 اوورز پر مشتمل 3ایک روزہ میچوں کی سیریز بالترتیب 26، 28 اور 30 اگست کو کھیلی جائے گی

  • ارشد ندیم کو گولڈ میڈل سے نواز دیا گیا

    ارشد ندیم کو گولڈ میڈل سے نواز دیا گیا

    پیرس اولمپکس 2024 میں جیولن تھرو کے مقابلے میں تاریخ رقم کرتے ہوئے پاکستان کے ارشد ندیم کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ یہ لمحہ نہ صرف ارشد ندیم بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث بنا۔میڈلز کی تقسیم کی تقریب کے دوران گرینیڈا کے اینڈرسن پیٹرز کو برانز میڈل، جبکہ بھارت کے نیرج چوپڑا کو سلور میڈل دیا گیا۔ تاہم، ارشد ندیم نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ نیا اولمپک ریکارڈ قائم کیا اور گولڈ میڈل جیتا۔اس تاریخی کامیابی کے موقع پر پیرس میں پاکستانی پرچم فخر سے بلند ہوا اور قومی ترانہ بجایا گیا۔ جیسے ہی قومی ترانہ کی دھن فضا میں گونجی، ارشد ندیم کی آنکھیں نم ہوگئیں، ان کے چہرے پر خوشی اور فخر کے جذبات عیاں تھے۔ ارشد ندیم کی اس شاندار کامیابی نے پوری قوم کو خوشی سے سرشار کر دیا ہے، اور ان کے اس کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی محنت، عزم اور لگن نے انہیں اولمپکس کے سب سے بڑے اسٹیج پر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سامنے سرخرو کیا ہے۔

  • وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا ارشد ندیم  سے ٹیلیفونک رابطہ ،گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا ارشد ندیم سے ٹیلیفونک رابطہ ،گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے والے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹیلیفون پر مبارکباد دی۔ ارشد ندیم نے 92.97 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ نہ صرف گولڈ میڈل اپنے نام کیا بلکہ عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا، جس پر پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ارشد ندیم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "آپ کی شاندار کارکردگی نے نہ صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ آپ کی 92.97 میٹر کی تھرو نے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ کامیابی پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے، اور آپ نے اس کارنامے سے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔”ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق، مراد علی شاہ نے ارشد ندیم کو کراچی آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ "سندھ کے عوام آپ سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔
    کراچی میں آپ کا پرتپاک استقبال ہوگا، اور ہمیں فخر ہے کہ آپ جیسے ہیرو نے پاکستان کا نام عالمی سطح پر بلند کیا ہے۔”اس موقع پر ارشد ندیم نے وزیراعلیٰ کے فون کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا، "آپ کا مجھ سے بات کرنا میرے لیے باعث عزت ہے۔” ارشد ندیم نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دلایا کہ وہ جلد ہی کراچی آئیں گے اور سندھ کے عوام سے ملیں گے۔ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں جیولین تھرو مقابلے میں 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ عالمی ریکارڈ قائم کیا اور گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا۔ ان کی اس شاندار کارکردگی پر پوری قوم انہیں مبارکباد پیش کر رہی ہے، اور ان کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ارشد ندیم کو دی گئی دعوت اور ان کی کارکردگی پر ہونے والی گفتگو نے ان کی حوصلہ افزائی کی، اور یہ ملاقات پاکستان اور سندھ کے عوام کے لیے ایک یادگار لمحہ ہوگی۔

  • اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے

    اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نےکہا ہے کہ ماشاء اللہ پاکستان نے بتیس سال بعد پیرس اولمپکس میں صرف اور صرف ارشدندیم کی محنت کی وجہ سے گولڈ میڈل جیتا ہے۔میں اتنا جانتا ہوں کہ اس میں کارکردگی اور کامیابی میں ارشد کا کسی نے ساتھ نہیں دیا ۔

    مبشر لقمان یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یقینا قوم کی دعائیں اور نیک خواہشات ضرور ان کے ساتھ تھی مگرہماری حکومت سمیت اسپورٹس بورڈ اور اولمپکس ایسوسی ایشن ہمیشہ سے صرف اپنے ساتھ ہیں ۔ انھوں نےکبھی کسی ٹیلنٹ کونہ تو ڈھونڈا ہے نہ ہی پرکھا ہے ۔ بس اپنے ہی پیٹ بھرے ہیں ۔ بہرحال ا س موقع پر ارشد ندیم کے گولڈ میڈل کا کریڈٹ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے سابق صدر جنرل (ر)عارف حسن کو نہ دینا بھی زیادتی ہوگی،میری بات کسی کو اچھی لگے یا بری لگے ،کیونکہ اگر جنرل صاحب بیماری کے باعث عہدہ نہ چھوڑتے تو شاید اس دفعہ بھی میڈل مشکل ہی تھا،انکے عہدہ چھوڑنے کے بعد ہی میڈل ملا، اگر وہ کہہ دیتے کہ میں نے مرنے کے بعد ہی عہدہ چھوڑنا ہے تو ہم کیا کر لیتے،کیونکہ حقائق یہ ہیں کہ عارف حسن مارچ دوہزار چار سے جنوری دو ہزار چوبیس تک پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر رہے اور ان دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے کبھی کوئی تمغہ نہیں جیتا۔میر ی نظر میں ارشدکو کسی نے سپورٹ کیاہے تو وہ اس کے گھر والے اور گاوں والے ہیں ،پاکستان سپورٹس بورڈ نے اسکے ساتھ کیا کیا، 25 لاکھ تب دیا جب ایشیا میں ٹوکیو میں میڈل لیا تھا، اسکے لئے ٹریننگ کا کوئی انتظام نہیں دیا گیا، جب اس نے اولمپک سے 15 دن قبل ٹریننگ کی اجازت مانگی تھی وہ بھی رد ہو گئی تھی سات بہن بھائیوں میں ارشد ندیم کا تیسرا نمبر ہے۔ ان کے والد محمد اشرف ایک مزدور تھے اور پوری فیملی کے واحد کفیل تھے اس لیے ان کی معاشی حالت زیادہ مضبوط نہیں تھی۔ اس لیے جب اُنہوں نے ایتھلیٹ بننے کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس ٹریننگ کے اخراجات پورے کرنے اور بیرون ممالک میں ہونے والے مقابلوں میں حصّہ لینے کے لیے سفر کرنے کے پیسے نہیں تھے۔ اس حوالے سے ارشد ندیم کے والد محمد اشرف نے انکشاف کیاہے کہ ارشد ندیم کو ابتدائی دنوں میں ٹریننگ اور بیرون ملک سفر کرنے کے لیے گاؤں والوں اور رشتہ داروں نے پیسے دیے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہناتھا کہ آج ایک ویڈیو میرے سامنے آئی جس میں شہباز شریف صاحب کھڑے ہیں اور کہتے ہیں شاباش ارشد،رانا مشہود بھی واہ واہ کر رہے ہیں، میں انکے لئے انا للہ ہی پڑھا سکتا ہوں، ہر چیز پر ایسا کرنا ضروری ہے، اسکی مدد کریں ،اسکا تو گردہ پچھلے سال زخمی ہو گیا تھا اسکے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے، ارشد ندیم نے ٹریننگ کے لیے نئی جیولین خریدنے کے لیے مدد کی اپیل کی تھی توبھارتی اتھلیٹ نیرج چوپڑا نے بھی ان کے لیے سوشل میڈیا پر اپنی آواز اُٹھائی تھی پھر حکومت کو شرم آئی اور حکومت نے انہیں جیولین فراہم کی۔ ارشد ندیم کو صحت کے حوالے سے بھی کچھ مسائل کا سامنا رہا ہے اور گزشتہ سال اُنہیں اپنے گھٹنے کی سرجری بھی کروانی پڑی۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ صحت اور دیگر ممالک کے ایتھلیٹس جیسی اعلیٰ ترین سہولتوں اور سازوسامان کی عدم دستیابی کے باوجود بھی وہ قوم کی کرکٹ سے ایتھلیٹکس کی طرف کچھ توجہ مرکوز کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،ارشد ندیم کو حکومت نے کسی قسم کی کوئی سہولیات فراہم نہیں کیں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اچھا کچھ اسپورٹس جرنلسٹ ہیں جنہوں نے اس کامیابی کاجیسے رپورٹ کیاہے۔ اس سے آپکو اندازہوگا کہ ارشد نے کتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ سب سے پہلے برطانیہ سے موسی وڑائچ ہیں وہ کہتےہیں کہ نہ کوئی سینٹرل کنٹریکٹ،،نہ کوئی غیر ملکی کوچز،،نہ کوئی انٹرنیشنل لیگز،،نہ کوئی فون کمپنیوں کا سپانسر،نہ پیپسی،کوکا کولا سپانسر،نہ کوئی بینک سپانسر،نہ کوئی پراپر سپورٹنگ سٹاف،نہ کوئی پروفیشنل طریقے سے تیاری کے مواقع،پھر بھی گولڈ میڈل جیتنا اور وہ بھی اولمپک مقابلوں میں اسے کہتے ہیں ہیرا اسے کہتے ہیں چیمپئین۔۔ہماری قوم کو صرف کرکٹ کا ہی پتا ہے کیونکہ میڈیا نے ہمیشہ کرکٹ کو پرموٹ کیا ہے،اس ملک میں صرف کرکٹرز کو پیسہ دیا جاتا ہے،کسی دوسرے کھیل پہ توجہ نہیں دی جاتی،ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے جس نے تین اولمپک گولڈ میڈل جیتے ہیں چار ورلڈ کپ مقابلے جیتے ہیں پر اب کہاں ہے جس کی وجہ صرف نان پروفیشنل لوگوں کو انکی بھاگ دوڑ دی گئی سفارشی کلچر پہ ایسوسی ایشنوں اور فیڈریشنز کے صدر اور سیکرٹری لگائے گئے۔ویل ڈن ارشد ندیم آپ ایک چیمپئین ہو اور مجھے آپ پہ فخر ہے۔اب کئی لوگ سامنے آئیں گے کہ انہوں ارشد کے لئے یہ کیا ۔فلاں کیا ۔کئی کریڈٹ لینے والے آئیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    ایک میڈل انکو بھی دے دیں،جس نے قوم کی جان چھوڑ دی،خواجہ آصف

    جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان

    ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

  • ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    ارشد ندیم کی جانب سے پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے پر بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ سروج دیوی نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے

    بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں سروج دیوی کا کہنا تھا کہ ہم نیرج چوپڑا کے سلور میڈل جیتنے پر بھی خوش ہیں، ہمارے لیے سلور بھی گولڈ جیسا ہی ہے، ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے وہاں تک پہنچنے کے لیے سب محنت کرتے ہیں، ہم نیرج کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں اور اس بار بھی نیرج کے گھر واپس آنے پر ان کا پسندیدہ کھانا بناؤں گی،میدان میں سب کھیلنےکے لیے اترتے ہیں، کسی ایک کو جیتنا ہی ہوتاہے، بات ہریانہ اورپاکستان کی نہیں،یہ خوشی کی بات ہے۔

    نیرج چوپڑا کے والد ستیش کمار کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کی کامیابی کا دن ہوتا ہے، یہ دن ارشد ندیم کے لیے اچھا تھا اس لیے وہ گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے، مقابلے میں 12 ممالک مدِ مقابل تھے اور ان 12 ممالک میں سے ایک پاکستان جیتا ہے، ان کا دن اچھا تھا اسی لیے وہ جیت گئے، اولمپکس میں ہم لگاتار دوسری بار میڈل جیتنے میں کامیاب رہے یہ ہمارے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔

    یاد رہے کہ بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا نے ٹوکیو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا اور اس بار انہیں سلورمیڈل ملا ہے،

    بھارتی میڈیا پر پاکستانی ارشد ندیم کے چرچے ہیں، بھارتی شہری بھی سوشل میڈیا پر ارشد ندیم کی کارکردگی کو سراہ رہے ہیں اور گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد دے رہے ہیں، بھارتی میڈیا اینسٹینٹ بالی ووڈ نے ارشد ندیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں ارشد ندیم کو ناقابل یقین حد تک ہنر مند قرار دیا گیا،

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    واضح رہےکہ پاکستان نے آخری مرتبہ 8 اگست 1992 کو اولمپکس میڈل پوڈیم پر قدم رکھا تھا جب قومی ہاکی ٹیم نے بارسلونا اولمپکس میں نیدرلینڈز کو تین کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا تھا ، پاکستان نے آخری مرتبہ 1984 میں اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا جوکہ ہاکی ٹیم نے ہی دلوایا تھا،ارشد ندیم پاکستان کو انفرادی مقابلوں میں گولڈ میڈل دلوانے والے پہلے ایتھلیٹ ہیں

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

    پاکستان سپورٹس بورڈ کی نااہلی،پیرس اولمپکس کیلئےاسپرنٹر فائقہ ریاض اکیلےٹریننگ پرمجبور