Baaghi TV

Category: کھیل

  • بورڈ آف گورنرز کی تشکیل کے بعد پی سی بی کے الیکشن کا اعلان کریں گے ،شاہ خاور

    بورڈ آف گورنرز کی تشکیل کے بعد پی سی بی کے الیکشن کا اعلان کریں گے ،شاہ خاور

    قائمقام چیئرمین پی سی بی شاہ خاور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بطور پی سی بی الیکشن کمشن میری تین ماہ کیلئے تقرری ہوئی پی سی بی میں،الیکشن کمشنر کا کام یہی ہوتا ہے کہ پی سی بی چیئرمین کے الیکشن کروائے جائیں،

    شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ہمیں مشکلات کا سامنا تھا کیوں کہ بلوچستان کی ہائی کورٹ سے آرڈر تھا کہ یہ منیجمنٹ کمیٹی بی او جی نہیں بنا سکتی،بلوچستان ہائی کورٹ جاکر خود اس فیصلے کو خارج کرائی اور اس کے بعد کوئی مسئلہ نہیں کہ بورڈ آف گورنر نہ بن سکے، منیجمنٹ کمیٹی سے بات ہوئی اور انھوں نے 16 جنوری کو اجلاس بلایا مگر آئی پی سی نے روک دیا،آئی پی سی منسٹری سے ملاقات کے بعد دوبارہ اجلاس کیا گیا جس میں پی سی بی منیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین نے استعفیٰ دیا،بورڈ آف گورنر میں اس وقت گیارہ ممران ہیں، جن میں دو پرائم منسٹر کے نومینی ہوتے ہیں، بورڈ آف گورنرز کی تشکیل کے بعد پی سی بی کے الیکشن کا اعلان کریں گے ،

    شاہ خاور کا مزید کہنا تھا کہ پہلے ایبٹ آباد اور ملتان ریجن کے الیکشن نہیں ہوئے تھے مگر مکمل ہوچکے ہیں،امید ہے کل تک آئی پی سی منسٹری کو نوٹیفائی کردیں گے اور بورڈ آف گورنر تشکیل دے دیں گے،بورڈ آف گورنر تشکیل دینے کے بعد الیکشن کی تاریخ بھی بتا دی جائے گی،اگر کوئی خاص وجہ نہ ہوتو الیکشن کمشنر کا کام یہی ہے کہ وہ الیکشن کروائے،پی سی بی کی شق ہے کہ چیئرمین کے استعفے کے بعد اگلے چار ہفتے میں الیکشن کروائے جائیں،ہمارے پاس کوئی خاص وجہ نہیں ہے کہ ہم الیکشن نہ کروائیں،ہمارا کام ہے جلد سے جلد الیکشن کروائیں،یہ ٹرینڈ شروع ہوجانا چاہیے کہ آنے والی حکومت کو بورڈ آف گورنر سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے،ہم 8 فروری سے پہلے بھی الیکشن کروا سکتے ہیں مگر یہ تاریخ آگے بھی جاسکتی ہے،ہم آئین کے مطابق الیکشن کروانے کی کوشش کریں گےہمارا ڈے ٹو ڈے افیئر کا کام ہے، ضرورت پڑی تو جن کوچز یا سٹاف کے کنٹرکٹ ختم ہوچکے ہیں ان کو دیکھیں گے

    واضح رہے کہ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے محسن نقوی کو باضابطہ طور پر پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز میں نامزد کیا، پی سی بی آئین کے تحت الیکشن کمشنر شاہ خاور قائم مقام چیئرمین پی سی بی بنے ہیں.

    واضح رہے کہ ذکا اشرف چیئرمین پی سی بی تھے تا ہم انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا، ذکا اشرف کے بعد اب شاہ خاور قائمقام چیئرمین ہوں گے

  • ویرات کوہلی  چوتھی بار آئی سی سی مینز ون ڈے کرکٹر آف دی ایئر قرار

    ویرات کوہلی چوتھی بار آئی سی سی مینز ون ڈے کرکٹر آف دی ایئر قرار

    ہندوستانی بلے باز ویرات کوہلی کو 50 اوور کے فارمیٹ میں شاندار کارکردگی کے اعتراف میں 2023 کے لیے آئی سی سی مینز او ڈی آئی کرکٹر آف دی ایئر سے نوازا گیا ہے۔35 سالہ کھلاڑی نے چوتھی بار یہ اعزاز حاصل کیا، سابق جنوبی افریقی کپتان ایب ڈی ویلیئرز کے ساتھ پچھلا ٹائی توڑ کر، جنہوں نے اسے تین بار جیتا تھا۔ ویرات کوہلی نے خاص طور پر ہوم ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں ان کی شراکت نے فائنل تک ہندوستان کے سفر میں اہم کردار ادا کیا۔27 میچوں میں، انہوں نے مجموعی طور پر 1377 رنز بنائے، ایک وکٹ لے کر اور 27 کیچ بنا کر بھی اپنی استعداد کا مظاہرہ کیا۔ 2022 میں اپنی واپسی پر تعمیر کرتے ہوئے، کوہلی نے 2023 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس نے ون ڈے میں بہترین فارم کو پہنچایا اور آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ میں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کی کارکردگی کا اختتام کیا۔

    ورلڈ کپ کے دوران، اس نے مسلسل 11 میں سے 9 اننگز میں کم از کم ایک نصف سنچری اسکور کی، جس نے 765 رنز بنا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا – جو مردوں کے کرکٹ ورلڈ کپ میں کسی انفرادی بلے باز کی طرف سے اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے، جس نے 2003 میں سچن ٹنڈولکر کے پچھلے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ .کوہلی نے ٹورنامنٹ کا اختتام 95.62 کی اوسط اور 90.31 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ کیا، جس میں تین سنچریاں بھی شامل تھیں، جن میں سے ایک نیوزی لینڈ کے خلاف اہم سیمی فائنل میں آئی تھی۔ یہ سنچری ون ڈے میں ان کی 50ویں سنچری تھی، جس سے وہ فارمیٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ سنچری اسکور کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔فائنل میں ایک اور نصف سنچری کے باوجود، کوہلی ہندوستان کو فتح سے ہمکنار نہ کر سکے، اور احمد آباد میں فائنل میں ان کے آؤٹ ہونے نے ہندوستان کی ٹائٹل جیتنے کی خواہشات میں ان کے اہم کردار پر زور دیا۔
    سال کے لیے، کوہلی نے 72.47 کی شاندار اوسط سے 1377 رنز مکمل کیے، انہوں نے 24 اننگز میں چھ سنچریاں اور آٹھ نصف سنچریاں بنائیں۔

  • پشاور زلمی پی ایس ایل 9 کے شیڈول سے ناخوش

    پشاور زلمی پی ایس ایل 9 کے شیڈول سے ناخوش

    پشاور زلمی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سیزن نو کے حال ہی میں اعلان کردہ شیڈول پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔بیان کے مطابق، فرنچائز خود کو غیر یقینی کی کیفیت میں پاتی ہے اور اس نے میچوں کی تقسیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔فرینچایز پشاور زلمی نے کہا، "مثالی طور پر، پشاور آنے والے پی ایس ایل میچوں کی میزبانی کے موقع کی توقع کر رہا تھا۔ تاہم، موجودہ شیڈول نے ٹیم کی انتظامیہ کو مایوس کر دیا ہے، کیونکہ یہ ان کی توقعات سے کم ہے۔”فرنچائز نے کہا کہ شیڈولنگ کے عمل کے دوران اس کے خدشات کو مناسب طریقے سے دور نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے حتمی ریلیز پر اعتماد کا فقدان ہے۔پشاور زلمی کی انتظامیہ راولپنڈی میں صرف چار اور کراچی میں واحد میچ کی تقسیم سے خاصی مایوس ہے۔ یہ تقسیم ان کی ابتدائی توقعات کے مطابق نہیں ہے
    شیڈول کے باضابطہ طور پر جاری ہونے سے پہلے ہی، پشاور زلمی نے فیصلہ سازی کے عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔ فرنچائز نے مداحوں کی مضبوط بنیاد کی وجہ سے پانچ میچ راولپنڈی اور تین کراچی میں کرانے کی درخواست کی تھی۔شیڈول کے اجراء کے بعد لاہور میں شیڈول چار میچز کم کرنے اور دیگر دو وینیوز پر میچز مختص کرنے کی درخواست کی گئی۔پشاور زلمی کی انتظامیہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو اپنے تحفظات اور تحفظات سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ فرنچائز اپنی توقعات کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ ہونے کے لیے شیڈول پر نظر ثانی کی کوشش کرتی ہے۔ نہ صرف پشاور زلمی کے شائقین موجودہ شیڈول سے مایوس ہیں بلکہ ٹیم کے کمرشل اور مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو بھی چیلنجز اور تحفظات کا سامنا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ "پی ایس ایل کو فروغ دینے اور اسے مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود، زلمی نے پی سی بی کو شیڈولنگ کے عمل میں تمام فرنچائزز کے مفادات پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پشاور زلمی کے شیڈول کے از سر نو جائزہ کے مطالبہ کے ساتھ ہوا، خاص طور پر راولپنڈی اور کراچی میں اپنے میچوں کی میزبانی پر زور دیا۔ جبکہ ٹیم پی ایس ایل 9 میں شرکت کا ارادہ رکھتی ہے، انہوں نے اپنے خدشات دور ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا نواں سیزن 17 فروری 2024 کو پی سی بی کے ہیڈ کوارٹر لاہور میں شروع ہونے والا ہے۔ افتتاحی میچ میں دو بار کی چیمپئن اور موجودہ ٹائٹل ہولڈرز، لاہور قلندرز کا مقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ سے ہوگا، جو 2016 اور 2018 کے ایڈیشن کی فاتح ہیں۔

    یہ پریمیئر کرکٹ ایونٹ چار شہروں کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں کھیلا جائے گا، جس کا اختتام 18 مارچ کو کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں ہوگا۔مقابلے کے دوران، کراچی 11 میچوں کی میزبانی کرے گا، جن میں کوالیفائر، دو ایلیمینیٹر اور فائنل شامل ہیں۔ لاہور کا قذافی سٹیڈیم اور راولپنڈی کا پنڈی کرکٹ سٹیڈیم ہر ایک نو میچز کی میزبانی کرے گا۔ اولیاء کا شہر کہلانے والا ملتان پانچ میچوں کا گواہ ہوگا۔ کنگز، قلندرز، سلطانز اور یونائیٹڈ جیسی ٹیمیں اپنے اپنے ہوم گراؤنڈز پر پانچ میچز کھیلیں گی جبکہ پشاور زلمی چار میچ پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گی۔ دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں تین تین میچ کھیلے گی، ایک میچ 25 فروری کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوم سائیڈ سلطانز کے خلاف کھیلا جائے گا۔پچھلے ایڈیشن کی طرح پی ایس ایل کا آئندہ نواں ایڈیشن بھی دو ٹانگوں میں کھلے گا۔ 17 سے 27 فروری تک میچز ملتان کرکٹ سٹیڈیم اور لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہوں گے جس میں کل 14 میچز کھیلے جائیں گے۔ اس کے بعد کرکٹ ایکشن راولپنڈی کے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم اور کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں منتقل ہوجائے گا، جہاں 28 فروری سے 12 مارچ تک 16 میچ کھیلے جائیں گے۔ ٹورنامنٹ کا اختتام کراچی میں پلے آف کے ساتھ ہوگا۔

  • محمد حفیظ نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں شکست کا ذمہ دار کھلاڑیوں کو قرار دیا

    محمد حفیظ نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں شکست کا ذمہ دار کھلاڑیوں کو قرار دیا

    قومی کر کٹ ٹیم کے ڈائریکٹر محمد حفیظ نے آسٹریلین ٹیسٹ اور نیوزی لینڈ کے T20I میں شکستوں کا ذمہ دار ی کھلاڑیوں پر ڈال دی ، مقامی میڈیا کے مطابق محمد حفیظ نے پی سی بی کے قائم مقام چیئرمین شاہ خاور سے ملاقات کی جب کہ پی سی بی کے سی او او سلمان نسیم بھی موجود تھے۔ حفیظ نے اظہار خیال کیا کہ کھلاڑیوں کی توجہ کھیل پر نہیں تھی، کیونکہ ان کی بنیادی توجہ جاری فرنچائز ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت پر تھی۔اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ حفیظ کا بطور ڈائریکٹر کردار آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مایوس کن پرفارمنس کے بعد ختم ہو جائے گا۔ پاکستان کو انڈر 3-0 سے شکست ہوئی جبکہ بلیک کیپس نے گرین انڈر مینز کو 4-1 سے شکست دی۔پروفیسر حفیظ کا 15 دسمبر تک ٹیم کے ساتھ معاہدہ تھا۔یاد رہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ اور پی سی بی کے الیکشن کمشنر شاہ خاور نے 23 جنوری کو چیئرمین پی سی بی کے اختیارات سنبھالے تھے۔
    بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) وزارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق اور پی سی بی کے آئین کے آرٹیکل 7(2) کے مطابق، الیکشن کمشنر کو چیئرمین پی سی بی کے اختیارات حاصل ہیں۔شاہ خاور گزشتہ 14 ماہ میں پی سی بی کی قیادت کرنے والے پانچویں شخص ہیں۔ ان سے قبل رمیز راجہ، نجم سیٹھی، احمد شہزاد فاروق رانا اور ذکا اشرف بھی بورڈ کے امور کے انچارج رہ چکے ہیں۔

    "

  • آصفہ بھٹو زرداری نے سندھ پریمیئر لیگ (ایس پی ایل) کا افتتاح کردیا

    آصفہ بھٹو زرداری نے سندھ پریمیئر لیگ (ایس پی ایل) کا افتتاح کردیا

    کاش ہماری سیاست دانوں میں بھی ایسیا جزبہ ہوتا جو سپورٹس مین میں ہے پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے سندھ پریمیئر لیگ (ایس پی ایل) کا افتتاح کردیا۔ آصفہ بھٹو نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے ہمیں سکھایا ہے کہ نہ تیرا، نہ میرا، ہم سب کا پاکستان، کھیل لوگوں کو جوڑتے ہیں، انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے، کرکٹ پاکستانیوں کے خون میں دوڑتی ہے، سندھ میں ٹیلنٹ کی کوٸی کمی نہیں ہے، کاش سیاست میں اسپورٹس مین اسپرٹ ہوتی تو ہمارا ملک بھی ترقی کرتا۔


    کراچی میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصفہ بھٹو نے کہا کہ سندھ پریمیئر لیگ کو سندھ میں ویلکم کرتے ہیں، سندھ دھرتی کے نوجوان بہت کچھ کرسکتے ہیں، بہت خوشی ہے کہ سندھ میں اس لیگ کا انعقاد ہورہا ہے، اس بار پاکستان کی عوام صحیح لوگوں کا انتخاب کریں گے۔رہنما پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت سندھ کے لوگوں کے لیے یہ کام کررہی ہے، میری نیک تمنا ئیں تمام ٹیموں کے ساتھ ہیں، اس بار پاکستان کی عوام نئی سوچ کا انتخاب کریں گے۔

  • سوریا کمار نے مسلسل دوسری بار ٹی ٹوئنٹی کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیت لیا

    سوریا کمار نے مسلسل دوسری بار ٹی ٹوئنٹی کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیت لیا

    دبئی: آئی سی سی نے سال 2023 کی مختلف کیٹیگریز کے بہترین کرکٹرز کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: مینز ٹی ٹوئنٹی کرکٹر آف دی ایئر کے لیے نیوزی لینڈ کےمارک چیپمین، یوگینڈا کے ایلپیش رامجانی، زمبابوے کے سکندر رضا اور بھارت کے سوریا کماریادیو کے درمیان سخت مقابلہ تھا، تاہم بھارت کے سوریا کمار یادیو سال 2023 میں شاندار کارکردگی دکھا کر مینز ٹی ٹوئنٹی کرکٹر آف دی ایئر قرارپائے، انہوں نے یہ اعزاز مسلسل دوسری بار حاصل کیا ہے۔

    سوریا کمار یادیو نے 2023 میں 17 ٹی ٹوئنٹی اننگز میں 48.86 کی اوسط سے 733 رنز اسکور کیے جبکہ ان کا اسٹرائیک ریٹ 155.95 رہا، دوسری جانب ویمنز کیٹیگری میں ویسٹ انڈیز کی کپتان ہیلے میتھیوز سال کی بہترین ٹی 20 پلیئر رہیں۔

    پاکستان عوامی تحریک کا پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف کی حمایت کا اعلان

    کرکٹ ورلڈ کپ میں اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کرنے والے نیوزی لینڈ کے ابھرتے ہوئے نوجوان کرکٹر راچن رویندرا نے آئی سی سی ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتا ہے ، جبکہ ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر آسٹریلیا کی فوئبے لچفیلڈ رہیں۔

    نیدر لینڈز کے باسڈیلیڈا مینز ایسوسی ایٹ کرکٹر آف دی ایئر قرار پائے جبکہ کینیا کی کوئنٹر ایبل ویمنز ایسوسی ایٹ کرکٹر آف دی ایئر قرار پائیں۔

    علاوہ ازیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سال 2023 کی بہترین ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 ٹیم کا اعلان بھی کردیا۔

    سعودی عرب میں پہلا شراب خانہ کھلنے کی تیاری

    آئی سی سی کی جانب سے تینوں فارمیٹس کی ٹیمز آف دی ایئر کا اعلان کردیا گیا ہے جس میں کوئی بھی پاکستانی کرکٹر شامل نہیں، ون ڈے ٹیم آف دی ایئر کا کپتان بھارتی کرکٹر روہت شرما کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ون ڈے ٹیم آف دی ایئر میں بھارت کے شبمن گل، ویرات کوہلی، محمد سراج، کلدیپ یادیو اور محمد شامی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا کے ٹریوس ہیڈ اور ایڈم زمپا اور نیوزی لینڈ کے ڈیرل میچل، جنوبی افریقا کے ہینرک کلاسن اور مارکو جینسن بھی ٹیم آف دی ایئر کا حصہ ہیں۔

    ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر کی بات کی جائے تو آسٹریلوی کھلاڑی پیٹ کمنز کو کپتان نامزد کیا گیا ہے ٹیسٹ ٹیم میں عثمان خواجہ، دیموتھ کرونا رتنے، کین ولیمسن اور جو روٹ، ٹریوس ہیڈ، رویندر جڈیجا اور ایلکس کیری شامل ہیں،آئی سی سی کی اعلان کردہ بہترین ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں بھی کسی پاکستانی کرکٹر کا نام نہیں ہے۔

    وزارت مذہبی امور کی ملک بھر میں نماز استسقاء ادا کرنے کی اپیل

  • شاہ خاور نے قائم مقام چیئرمین پی سی بی کا چارج سنبھال لیا

    شاہ خاور نے قائم مقام چیئرمین پی سی بی کا چارج سنبھال لیا

    پی سی بی میں تبدیلی،ایڈووکیٹ شاہ خاور نے قائم مقام چیئرمین پی سی بی کا چارج سنبھال لیا

    الیکشن کمشنر پی سی بی شاہ خاور نے عارضی چارج سنبھالا ہے ، شاہ خاور بورڈ آف گورنرز کی تشکیل کریں گے،شاہ خاور چار ہفتوں کے اندر چیئرمین پی سی بی کے انتخابات کرائیں گے ،شاہ خاور بورڈ کے روز مرہ کے معاملات بھی دیکھیں گے،شاہ خاور پی سی بی پہنچے تو سی او او سلمان نصیر نے شاہ خاور کا استقبال کیا،شاہ خاور آج سلمان نصیر سمیت دیگرحکام سے اہم امورز پر بریفنگ لیں گے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے محسن نقوی کو باضابطہ طور پر پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز میں نامزد کیا، پی سی بی آئین کے تحت الیکشن کمشنر شاہ خاور قائم مقام چیئرمین پی سی بی بنے ہیں.

    واضح رہے کہ ذکا اشرف چیئرمین پی سی بی تھے تا ہم انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا، ذکا اشرف کے بعد اب شاہ خاور قائمقام چیئرمین ہوں گے

  • غیر ملکی لیگز کے لیے پی سی بی کی این او سی پالیسی سے کھلاڑی ناراض

    غیر ملکی لیگز کے لیے پی سی بی کی این او سی پالیسی سے کھلاڑی ناراض

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے غیر ملکی لیگز کے لیے این او سی جاری نہ کرنے پر قومی ٹیم کے کھلاڑی برہم ہیں، ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کی وجہ سے شکایات کی ڈھیر لگ گئی.کھلاڑیوں نے لیگز کے لیے این او سی کے حوالے سے پی سی بی کی پالیسی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے، اس معاملے پر ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ متعدد بات چیت میں مصروف ہیں۔ٹیم انتظامیہ کو اپنی شکایات میں، انہوں نے کہا ہے کہ ہر کھلاڑی کو مختلف معیارات کے تحت این او سی جاری کرنے کے لیے جانچا جا رہا ہے۔ کچھ کھلاڑی ایک سال کے اندر تھرڈ لیگ کھیل چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ دیگر کھلاڑیوں کو بھی این او سی دیا جانا چاہیے۔ کھلاڑیوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر قومی ذمہ داری نہیں ہے تو پی سی بی کو این او سی جاری کرنا ہوگا۔

    جب انہیں مکمل لیگ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے تو وہ دو این او سی رکھنے کی افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔قومی ذمہ داری کے باوجود پی سی بی این او سی جاری کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کر رہا ہے اور کھلاڑی غیر منصفانہ حالات میں سینٹرل کنٹریکٹ سے خارج ہونے کا معاوضہ بھی نہیں مانگ سکتے۔کھلاڑیوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کام کا بوجھ کیسے طے کیا جاتا ہے۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ بغیر کسی میڈیکل یا بائیو مکینیکل ٹیسٹ کے کام کے بوجھ کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ ناانصافی کی صورت میں، کھلاڑی مرکزی معاہدوں سے دستبردار ہونے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ پی سی بی نے اعظم خان اور شاداب خان کو این او سی جاری کر دیا ہے جو پہلے ہی دو لیگز کھیل چکے ہیں۔واضح رہے کہ وکٹ کیپر بلے باز محمد حارث کو بی پی ایل میں شرکت کیے بغیر ڈھاکہ سے واپس آنا پڑا کیونکہ پی سی بی نے انہیں این او سی جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔حارث بی پی ایل کے دسویں ایڈیشن میں چٹوگرام چیلنجرز کی نمائندگی کے لیے ڈھاکہ پہنچے تھے۔تاہم، پی سی بی کی جانب سے این او سی کے لیے ان کی درخواست مسترد کر دی گئی، اس کی وجہ جولائی 2023 سے دو لیگز میں شرکت تھی۔ اس نے جولائی میں کینیڈا کی گلوبل ٹی 20 لیگ اور اگست 2023 میں لنکا پریمیئر لیگ میں کھیلا۔قبل ازیں، پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے آنے والی فرنچائز پر مبنی لیگز میں شرکت کے لیے این او سی دے دیا ہے۔

  • بابر اعظم نے شاندار کارکردگی دکھا کر  رنگپور نے اسٹرائیکرز کو شکست دے دی

    بابر اعظم نے شاندار کارکردگی دکھا کر رنگپور نے اسٹرائیکرز کو شکست دے دی

    رنگپور رائیڈرز نے سلہٹ اسٹرائیکرز کے خلاف پاکستان کے سابق کپتان بابر اعظم کی جاری بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) 2024 میں شاندار کارکردگی کی بدولت فتح حاصل کر دی،توقع بہت زیادہ تھی کیونکہ رنگپور کے کپتان نورالحسن سوہن نے ٹاس کے دوران بابر کی پلیئنگ الیون میں شمولیت کا اعتماد سے اعلان کرتے ہوئے کہا، "ظاہر ہے کہ کنگ بابر میچ میں شامل ہیں۔پہلے بیٹنگ کرنے کے لیے کہے جانے کے بعد، سلہٹ اسٹرائیکرز نے خود کو 120 رنز کے مجموعی اسکور تک محدود پایا، اس نے پہلی اننگز میں آٹھ وکٹیں گنوائیں۔ایک شاندار لمحہ اس وقت پیش آیا جب باؤنڈری پر تعینات بابر اعظم نے آخری اوور میں دوشن ہیمنتھا کو آؤٹ کرنے کے لیے دوڑتے ہوئے، گیند کو واپس لے کر اور براہ راست ہٹ لگا کر شاندار ایتھلیٹکزم کا مظاہرہ کیا۔بابر اعظم کے میدان میں آتے ہی سٹیڈیم کا ماحول بدل گیا، شائقین کرکٹ کی جانب سے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ہجوم ‘بابر بابر’ کے نعروں سے گونج اٹھا، جس نے کرکٹ سنسنی کے لیے ان کی تعریف کو واضح کیا۔جوش و خروش اس وقت نمایاں تھا جب رنگپور کے کپتان نورالحسن سوہن نے ٹاس کے دوران بابر کو پلیئنگ الیون میں شامل کرنے کا پر اعتماد انداز میں اعلان کیا، اور اس بات کی تصدیق کی، "ظاہر ہے کنگ بابر میچ کے لیے موجود ہیں۔”پہلے بیٹنگ کی ہدایت ملنے پر، سلہٹ اسٹرائیکرز کو پہلی اننگز میں آٹھ وکٹیں گنوانے کے بعد مجموعی طور پر 120 رنز تک محدود کر دیا گیا۔بابر نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا جب اس نے آخری اوور میں دوشن ہیمنتھا کو ہٹانے کے لیے براہ راست ہٹ لگائی۔دریں اثنا، رنگپور رائیڈرز کو ہدف کے تعاقب کے آغاز سے ہی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس نے 39 کے اسکور پر چھ وکٹیں گنوا دیں۔تاہم، بابر اور عظمت اللہ عمرزئی نے 89 رنز کی میچ وننگ پارٹنرشپ قائم کرنے کی مشترکہ کوششیں کیں، بالآخر رنگپور رائیڈرز کو ایک قریبی مقابلے والے میچ میں فتح کے لیے آگے بڑھایا۔ ان کی مضبوط شراکت داری اور شاندار بلے بازی نے 18.2 اوورز میں ہدف حاصل کرتے ہوئے چار وکٹوں سے شاندار فتح کی راہ ہموار کی۔بابر نے 114.28 کے اسٹرائیکنگ ریٹ سے 49 گیندوں پر چھ چوکوں کی مدد سے 56 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہنے میں اہم کردار ادا کیا۔

  • پیٹ کمنز نے گلین میکسویل کی شراب نوشی کی عادت پر  کیا کہا؟

    پیٹ کمنز نے گلین میکسویل کی شراب نوشی کی عادت پر کیا کہا؟

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز نے گلین میکسویل کی شراب پینے کی عادات پر خاموشی توڑ دی جب بعد میں ایک کنسرٹ میں شراب نوشی کے سیشن کے بعد انہیں کچھ دیر کے لیے اسپتال میں داخل کیا گیا۔ 35 سالہ میکسویل بے ہوش ہو گیا جس کے بعد جائے وقوعہ پر ایمبولینس طلب کی گئی۔ اگرچہ ان کا اسپتال میں قیام بہت مختصر تھا لیکن کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) نے پہلے ہی آل راؤنڈر کے خلاف تحقیقات شروع کر دی تھیں۔ کمنز کو میکسویل کے طرز عمل سے کوئی سروکار نہیں تھا کیونکہ آل راؤنڈر ورلڈ کپ کے دوران اپنے گھوڑے سے گر گیا تھا اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے میچ سے باہر ہو گیا تھا۔ممکنہ طور پر، میرے خیال میں صرف ‘میکسی’ ہی اس کا جواب دے سکتا ہے،” کمنز نے کہا کہ کیا میکسویل سے یہ پوچھا گیا کہ کیا انہیں فیصلہ سازی پر توجہ دینا ہوگی۔ ہم سب بالغ ہیں اور بالغ ہونے کا ایک حصہ یہ ہے کہ آپ اپنے فیصلے خود کریں۔ اس واقعے کے لحاظ سے، وہ آسٹریلیا کے دورے پر نہیں تھے، وہ وہاں ایک نجی تقریب کے لیے گئے ہوئے تھے، اس لیے وہ کرکٹ ٹیم کے ساتھ نہیں تھے، اس لیے یہ تھوڑا مختلف ہے، لیکن قطعی طور پر، آپ کوئی بھی فیصلہ کریں۔ آپ کو اس کا مالک بننا ہے اور اس کے ساتھ آرام دہ رہنا ہے۔
    کمینز نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میدان میں کارکردگی کے لحاظ سے آپ واقعی کھلاڑیوں کی کارکردگی سے زیادہ کچھ نہیں مانگ سکتے، لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ جس طرح سے ہم اس کے بارے میں گئے ہیں، ٹیم نے ناقابل یقین نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ وہ پچھلے دو سالوں میں جس طرح سے ہم اس کے بارے میں گئے ہیں اس سے بہت سارے لوگوں کو فخر ہوا ہے۔”دوسری جانب 2015 کا ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان مائیکل کلارک اس حقیقت پر بہت زیادہ فکر مند تھے کہ میکسویل کو اسپتال میں داخل ہونا پڑا اور انہوں نے کرکٹ آسٹریلیا پر زور دیا کہ وہ کیا ہوا اس کی تہہ تک جائے۔ کلارک نے کہا، کہ میکسویل کو ایمبولینس میں ڈالنا مجھے پریشان کر گیا . انہوں نے مزید کہا۔دوسری چیز جو ہمیں کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ ٹھیک ہے۔ اس نے وہاں (ہسپتال میں) رات نہیں گزاری۔ میں ایسے وقت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جب مجھے ایمبولینس بلانی پڑی ہو یا ایمبولینس کو میرے لیے بلانا پڑا ہو، چاہے میں کتنا ہی نشے میں ہوں،