Baaghi TV

Category: موسم

  • پنجاب میں21 اگست تک بارشیں، اربن فلڈنگ کا خدشہ،الرٹ جاری

    پنجاب میں21 اگست تک بارشیں، اربن فلڈنگ کا خدشہ،الرٹ جاری

    پنجاب میں مون سون بارشوں کے چھٹے اسپیل کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف اضلاع میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے-

    پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال اور اٹک میں بارش متوقع ہے، جبکہ سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں بھی بارش کا امکان ہے، لاہور، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب سمیت سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور نورپور تھل میں بھی بارشیں ہوسکتی ہیں فیصل آباد، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 20 اور 21 اگست کو بارش متوقع ہے، جبکہ لیہ اور بھکر میں بھی انہی تاریخوں کے دوران بارش کا امکان ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ ساہیوال، پاکپتن، بہاولنگر، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے 17 سے 20 اگست کے دوران لاہور سمیت مختلف شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جبکہ برساتی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے،مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے اس صورتحال کے پیش نظر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں،محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات، لوکل گورنمنٹ اور لائیو اسٹاک کے متعلقہ اداروں کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے تاکہ بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جاسکے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچے اور بوسیدہ مکانات میں رہائش اختیار نہ کی جائے۔ آندھی یا طوفان کی صورت میں شہری محفوظ مقامات پر رہیں اور آسمانی بجلی سے بچاؤ کے لیے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں،بچوں کو نشیبی علاقوں، جمع شدہ پانی، بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے دور رکھا جائے، گرج چمک اور طوفانی موسم کے دوران شہری کھلے آسمان تلے جانے سے گریز کریں،اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری فوری طور پر پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

  • ملک بھر میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، دریاؤں میں سیلاب کا خطرہ

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، کشمیر اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، کشمیر اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ راولپنڈی، لاہور، گجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور شیخوپورہ میں بھی بادل برسنے کی پیشگوئی کی گئی ہے17 سے 19 اگست کے دوران دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ ندی نالوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔

    مون سون بارشوں کے باعث ملک میں دریاؤں اور ڈیموں کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، تربیلا ڈیم اپنی آخری حد تک بھر گیا جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 68 فیصد تک پہنچ گئی ہےدریائے سندھ میں تربیلا، کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، جبکہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران دریائے راوی اور چناب میں بھی نچلے درجے کے سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے-

    محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور کشمیر میں وسیع پیمانے پر تیز بارشوں کی پیشگوئی کی ہے دریائے جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے بالائی علاقوں میں بھی موسلا دھار بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے،خیبرپختونخوا کے اضلاع پشاور، مردان، سوات، ایبٹ آباد اور ہری پور میں موسلا دھار بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ دریائے سندھ کے بالائی علاقوں، ڈیرہ غازی خان، میانوالی اور بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں بھی بارش کا امکان ہے۔

    گلگت بلتستان کے اضلاع استور، دیامر، گلگت اور اسکردو میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ چنیوٹ، فیصل آباد، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ سمیت پنجاب کے مزید اضلاع میں بھی بادل برسنے کا امکان ہےبلوچستان کے اضلاع بارکھان اور شیرانی میں بھی بارش کی پیشگوئی کے بعد انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کی پیشگوئی،اربن فلڈنگ کا خدشہ

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کی پیشگوئی،اربن فلڈنگ کا خدشہ

    محکمہ موسمیات نے 13 اگست کی شام سے 14 اگست کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کی پیشگوئی کی،ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، مردان، صوابی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شدید بارش کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے،بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہورہی ہیں جبکہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ بھی ملک کے شمال مغربی حصوں پر موجود ہے،آج کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، پوٹھوہار، شمال مشرقی اور جنوبی پنجاب میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، بعض مقامات پر موسلا دھار بارش بھی ہوسکتی ہے۔

    پنجاب میں راولپنڈی، مری، گلیات، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، فیصل آباد، جھنگ، جہلم، اٹک، چکوال، بہاولپور، ساہیوال سمیت متعدد علاقوں میں بارش متوقع ہے،سندھ میں تھرپارکر، عمرکوٹ اور گھوٹکی جبکہ بلوچستان میں موسیٰ خیل، بارکھان، کوہلو، ژوب اور خضدار میں شام یا رات کے اوقات میں بارش اور گرج چمک متوقع ہے،ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

    خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں آج سے 15 اگست تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےپی ڈی ایم اے نے کے پی میں بارشوں سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بارش متوقع ہے، اس کے علاوہ مردان، صوابی، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، خیبر، مہمند اور کرم میں بھی بارش کا امکان ہےبارشوں کے باعث حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جب کہ مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہےپی ڈی ایم اے نے دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی نالوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی ہے۔

  • صرف 24 گھنٹوں میں  150 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہونے کا امکان،بیجنگ میں ہائی الرٹ

    صرف 24 گھنٹوں میں 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہونے کا امکان،بیجنگ میں ہائی الرٹ

    چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منگل کی شام سے صرف 24 گھنٹوں میں شہر کے بعض علاقوں میں 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔

    چینی محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کی شام سے جمعرات تک بیجنگ کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش ہوگی، بعض مقامات پر 6 گھنٹوں کے دوران مجموعی بارش 100 ملی میٹر سے زائد جبکہ 24 گھنٹوں میں 150 ملی میٹر سے تجاوز کرسکتی ہے ٹونگ ژو، ڈاشنگ، فانگ شان، منتوگو، ہوائی رو اور فنگ تائی سمیت بیجنگ کے کئی اضلاع میں 24 گھنٹوں کے دوران بارش 200 ملی میٹر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

    یہ مقدار بیجنگ کی سالانہ اوسط بارش کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے بیجنگ میں ایک سال کے دوران اوسطاً تقریباً 528 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، جس کا زیادہ تر حصہ جون سے ستمبر کے درمیان برسنے والے مون سون کے موسم میں ہوتا ہے اس طرح بعض علاقوں میں ایک ہی دن کے دوران ہونے والی بارش شہر کی سالانہ اوسط بارش کے ایک تہائی سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی بارش کی ایک بڑی وجہ چین کے جنوب میں موجود ٹائیفون ڈولفن سے آنے والی نمی اور شمالی چین کی جانب موجود ٹھنڈی ہوا کا آپس میں ملنا ہے،اس موسمی نظام کے نتیجے میں بیجنگ اور اس کے گردونواح میں شدید بارشوں کے لیے سازگار حالات پیدا ہوئے ہیں۔

    شدید بارش کے پیش نظر بیجنگ کے پہاڑی ضلع منتوگو میں حکام نے منگل کو سیلاب کے حوالے سے سب سے بلند درجے کا ہنگامی الرٹ جاری کردیا،حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے، پہاڑی علاقوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے ساتھ ساتھ پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب اور دیگر خطرات بھی پیدا ہوسکتے ہیں،شہریوں کو موسمی صورتِ حال پر نظر رکھنے اور حکام کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں آج بھی بارش کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں آج بھی بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آج بھی بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں آج مطلع جزوی ابر آلود رہے گا اور وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے، ہوا کی رفتار کم ہونے کے باعث شہر میں حبس کی شدت برقرار رہے گی لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 28 جبکہ زیادہ سے زیادہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 89 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں نے زرعی اراضی اور فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے انتظامیہ نے بابوسر روڈ کو سیلابی صورتحال کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔

    کراچی میں بھی جزوی ابر آلود موسم کے ساتھ رات کے وقت چند مقامات پر ہلکی بارش یا بوندا باندی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، شہر کا درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی پیش گوئی ہے، جبکہ جنوب مغربی سمت سے ہوائیں چل رہی ہیں-

    ادھر پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا کے مطابق 29 جولائی سے جاری بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 6 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 65 مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہےمتاثرہ علاقوں میں ایبٹ آباد، پشاور، سوات، بونیر، خیبر، چترال اور دیگر اضلاع شامل ہیں۔

    محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں نے نشیبی علاقوں، پہاڑی مقامات اور ندی نالوں کے اطراف رہنے والے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  • لوئر چترال : جغور گول نالہ میں سیلاب، کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع

    لوئر چترال : جغور گول نالہ میں سیلاب، کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع

    شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے جغور گول نالہ میں سیلاب کے باعث گاؤں میں پانی داخل ہوگیا جس سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا-

    سیلاب کے باعث26 مکانات اور ایک مسجد کو شدید نقصان پہنچا ہےسیلاب میں ایک رابطہ پل بھی بہہ گیا اور کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ سیلاب سے قابل کاشت زرعی اراضی اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا،متاثرہ علاقوں میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو و فلاحی اداروں کی امداد ٹیمیں پہنچ گئیں جہاں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر راؤ حاشم عظیم اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ساجد علی یوسفزئی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،

    محکمہ موسمیات کے مطابق،دوسری جانب خیبر پختو خوا کے بالائی اضلاع چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، مانسہرہ اور بٹگرام میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، ملاکنڈ، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، ایبٹ آباد، کرم، خیبر، باجوڑ، ڈیرہ اور بنوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوراں بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز دیر میں 61 ملی میٹر بارش، مالم جبہ میں 25، چراٹ اور کاکال میں 22، بالاکوٹ اور پشاور میں 32 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

  • ملک بھر میں مون سون بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری

    ملک بھر میں مون سون بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 26 جون سے یکم اگست تک ملک بھر میں مون سون بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔

    رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 126 افراد جاں بحق جبکہ 404 افراد زخمی ہوئے خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 55 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 26 بچے شامل ہیں جبکہ پنجاب میں 47 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 19 بچے شامل ہیں، جبکہ 295 افراد زخمی ہوئے جن میں 68 بچے بھی شامل ہیں،سندھ میں 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں بلوچستان میں 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں بارشوں سے متاثرہ افراد کے لیے 75 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے، جبکہ گرمی کی شدت سے نمٹنے کے لیے 333 ہیٹ ویو کیمپس بھی لگائے گئے جہاں 2,203 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 4 ریسکیو آپریشنز کے ذریعے 9 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں 2 اور سندھ میں 5 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

  • کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

    کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے،دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے-

    ترجمان کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہےدریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جہاں کالاباغ میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 72 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیر آباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 3400 کیوسک ہے، جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب ہے مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کی پیشگوئی ہے، جبکہ بالائی کیچمنٹس میں متوقع بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور ان سے ملحقہ نالوں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    ڈی جی سیف انور جپہ کے مطابق لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جبکہ مری، گلیات اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہےدریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں،حکومت پنجاب نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں، جہاں تمام بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی،شہری موسم اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیروتفریح سے گریز کریں اور بچوں کو ہرگز ان مقامات پر نہ نہانے دیں۔

  • ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی،ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت کی ریاست گجرات کے شمال میں موجود ہوا کا کم دباؤ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مغرب اور شمال مغرب کی جانب بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں مسلسل پاکستان کے جنوب مشرقی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ بھی شمالی علاقوں پر اثر انداز ہے۔

    محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے عین مطابق سندھ کے بیشتر علاقوں میں شدید بارش کا آغاز ہوچکا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر کوٹ میں 169 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے جبکی بدین میں بھی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال کا سامنا ہےتھرپارکر، سکھر، شہید بینظیر آباد، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سانگھڑ، خیرپور، مٹھی، میرپورخاص، عمرکوٹ، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈو الہ یار سمیت کئی اضلاع میں شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    اسی طرح پنجاب کے شیخوپورہ، قصور، فیصل آباد، ملتان، ساہیوال، اوکاڑہ، بہاولنگر، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور پوٹھوہار کے علاقوں میں بھی نشیبی مقامات زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جبکہ پشاور اور نوشہرہ میں بھی اربن فلڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    پیشگوئی کے مطابق بالائی خیبرپختونخوا کے دیر، سوات، کوہستان، بونیر، بٹگرام، مانسہرہ، شانگلہ اور ایبٹ آباد، نیز مری، گلیات اور کشمیر میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود رہے گا،جبکہ کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، پوٹھوہار، خیبرپختونخوا اور ڈیرہ غازی خان کے برساتی نالوں میں اچانک طغیانی بھی آ سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کو سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، کشمیر اور شمال مشرقی بلوچستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہنے اور کہیں کہیں شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔

    کراچی کے حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں آج شام سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران ہلکی سے معتدل بارش اور مضافاتی علاقوں میں بعض مقامات پر تیز یا موسلادھار بارش ہو سکتی ہے،محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی انتظامات مکمل رکھنے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، موسمی صورتحال پر نظر رکھنے اور بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • راولپنڈی اسلام آباد  میں طوفانی بارش، نالوں میں طغیانی، نشیبی علاقے زیرآب، اسکول بند

    راولپنڈی اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالوں میں طغیانی، نشیبی علاقے زیرآب، اسکول بند

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں صبح ہونے والی موسلا دھار بارش سے سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر انتظامیہ نے اطراف کی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔

    نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور نالہ لئی کے کنارے آباد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو فوری انخلا کی ہدایت کردی گئی اسلام آباد سے بڑا سیلابی ریلا راولپنڈی کی جانب بڑھ رہا ہے خطرے کے پیش نظر نشیبی آبادیوں کے انخلا کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

    کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح پہلے 14.5 فٹ تک پہنچی اور پری الرٹ لیول عبور کیا بعد ازاں مسلسل اضافے کے ساتھ 18.5 فٹ تک جا پہنچی گوالمنڈی میں بھی پانی کی سطح 7 فٹ سے بڑھ کر 11 فٹ ہوگئی۔

    راولپنڈی میں ڈبل روڈ سمیت متعدد سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہوگیا جبکہ آریہ محلے کی گلیاں بھی زیرآب آگئیں بارش اور پانی جمع ہونے کے باعث اسلام آباد ایکسپریس وے پر راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی ٹریفک مکمل طور پر رک گئی شدید بارش کے پیش نظر راولپنڈی سٹی کے تمام اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کردیا گیا، جبکہ اسلام آباد کے متعدد اسکول بھی بند کرکے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا گیا ہے۔

    راولپنڈی ڈپٹی کمشنر کے مطابق نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریا میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے صفدر آباد میں 4 نمبر چونگی کے قریب نالہ لئی کا پانی باہر آگیا، جس سے متعدد گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں جبکہ پانی گھروں اور دکانوں میں بھی داخل ہوگیا کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 28.5 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں 23 فٹ تک پہنچ گئی، جبکہ دونوں مقامات پر آبادی کے انخلا کے لیے مقررہ حد 20 فٹ ہے۔

    صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے نالہ لئی کے کنارے آباد علاقوں، بالخصوص غریب آباد اور دیگر حساس علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں دوسری جانب بارش سے نالہ کورنگ میں بھی پانی کا بہاؤ تیز ہوگیا ہے، جبکہ آبپارہ مارکیٹ کے قریب درخت گرنے سے سڑک کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بند ہوگیا۔

    اسی طرح اسلام آباد کے ای الیون میں بھی نالہ بھر جانے سے پانی سڑک اور بعض بیسمنٹس میں داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق ان بیسمنٹس کو پہلے ہی سیل کیا جاچکا تھا۔ غوری ٹاؤن فیز ٹو میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی جہاں نہ صرف سڑکیں اور گلیاں زیر آب آئیں بلکہ پانی گھروں میں بھی داخل ہو گیا۔

    اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ کورال چوک سے کھنہ پل تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، جبکہ کئی مسافر گاڑیوں سے اتر کر پیدل اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ دفاتر جانے والے ملازمین اور دیگر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی میں شمس آباد میں سب سے زیادہ 194 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-8 میں 150 ملی میٹر بارش ہوئی جڑواں شہروں میں اب تک اوسطاً 126 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گولڑہ میں 157، سیدپور میں 98، چکلالہ میں 71 اور بوکرہ میں 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

    راولپنڈی انتظامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور ایم ڈی واسا نے نالہ لئی کے اطراف صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اضافی ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے نکاسی آب کا عمل بھی جاری ہے۔