Baaghi TV

Category: موسم

  • لوئر چترال : جغور گول نالہ میں سیلاب، کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع

    لوئر چترال : جغور گول نالہ میں سیلاب، کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع

    شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے جغور گول نالہ میں سیلاب کے باعث گاؤں میں پانی داخل ہوگیا جس سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا-

    سیلاب کے باعث26 مکانات اور ایک مسجد کو شدید نقصان پہنچا ہےسیلاب میں ایک رابطہ پل بھی بہہ گیا اور کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ سیلاب سے قابل کاشت زرعی اراضی اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا،متاثرہ علاقوں میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو و فلاحی اداروں کی امداد ٹیمیں پہنچ گئیں جہاں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر راؤ حاشم عظیم اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ساجد علی یوسفزئی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،

    محکمہ موسمیات کے مطابق،دوسری جانب خیبر پختو خوا کے بالائی اضلاع چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، مانسہرہ اور بٹگرام میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، ملاکنڈ، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، ایبٹ آباد، کرم، خیبر، باجوڑ، ڈیرہ اور بنوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوراں بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز دیر میں 61 ملی میٹر بارش، مالم جبہ میں 25، چراٹ اور کاکال میں 22، بالاکوٹ اور پشاور میں 32 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

  • ملک بھر میں مون سون بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری

    ملک بھر میں مون سون بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 26 جون سے یکم اگست تک ملک بھر میں مون سون بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔

    رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 126 افراد جاں بحق جبکہ 404 افراد زخمی ہوئے خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 55 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 26 بچے شامل ہیں جبکہ پنجاب میں 47 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 19 بچے شامل ہیں، جبکہ 295 افراد زخمی ہوئے جن میں 68 بچے بھی شامل ہیں،سندھ میں 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں بلوچستان میں 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں بارشوں سے متاثرہ افراد کے لیے 75 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے، جبکہ گرمی کی شدت سے نمٹنے کے لیے 333 ہیٹ ویو کیمپس بھی لگائے گئے جہاں 2,203 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 4 ریسکیو آپریشنز کے ذریعے 9 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں 2 اور سندھ میں 5 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

  • کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

    کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے،دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے-

    ترجمان کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہےدریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جہاں کالاباغ میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 72 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیر آباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 3400 کیوسک ہے، جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب ہے مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کی پیشگوئی ہے، جبکہ بالائی کیچمنٹس میں متوقع بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور ان سے ملحقہ نالوں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    ڈی جی سیف انور جپہ کے مطابق لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جبکہ مری، گلیات اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہےدریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں،حکومت پنجاب نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں، جہاں تمام بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی،شہری موسم اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیروتفریح سے گریز کریں اور بچوں کو ہرگز ان مقامات پر نہ نہانے دیں۔

  • ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی،ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت کی ریاست گجرات کے شمال میں موجود ہوا کا کم دباؤ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مغرب اور شمال مغرب کی جانب بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں مسلسل پاکستان کے جنوب مشرقی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ بھی شمالی علاقوں پر اثر انداز ہے۔

    محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے عین مطابق سندھ کے بیشتر علاقوں میں شدید بارش کا آغاز ہوچکا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر کوٹ میں 169 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے جبکی بدین میں بھی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال کا سامنا ہےتھرپارکر، سکھر، شہید بینظیر آباد، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سانگھڑ، خیرپور، مٹھی، میرپورخاص، عمرکوٹ، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈو الہ یار سمیت کئی اضلاع میں شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    اسی طرح پنجاب کے شیخوپورہ، قصور، فیصل آباد، ملتان، ساہیوال، اوکاڑہ، بہاولنگر، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور پوٹھوہار کے علاقوں میں بھی نشیبی مقامات زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جبکہ پشاور اور نوشہرہ میں بھی اربن فلڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    پیشگوئی کے مطابق بالائی خیبرپختونخوا کے دیر، سوات، کوہستان، بونیر، بٹگرام، مانسہرہ، شانگلہ اور ایبٹ آباد، نیز مری، گلیات اور کشمیر میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود رہے گا،جبکہ کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، پوٹھوہار، خیبرپختونخوا اور ڈیرہ غازی خان کے برساتی نالوں میں اچانک طغیانی بھی آ سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کو سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، کشمیر اور شمال مشرقی بلوچستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہنے اور کہیں کہیں شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔

    کراچی کے حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں آج شام سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران ہلکی سے معتدل بارش اور مضافاتی علاقوں میں بعض مقامات پر تیز یا موسلادھار بارش ہو سکتی ہے،محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی انتظامات مکمل رکھنے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، موسمی صورتحال پر نظر رکھنے اور بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • 31 جولائی سے سندھ بھر میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے31 جولائی سے 2 اگست کے دوران کراچی سمیت صوبہ سندھ کے تمام اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مون سون کی بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق، خلیجِ بنگال میں موجود ہوا کا شدید کم دباؤ مزید شدت اختیار کر کے ‘ڈیپ ڈپریشن’ میں تبدیل ہو چکا ہے، جو اس وقت بھارت کی ریاستوں اڑیسہ اور چھتیس گڑھ پر موجود ہے اس کے علاوہ بحیرہ عرب اور خلیجِ بنگال سے مون سون کی مرطوب ہواؤں کا ملک کے بالائی و وسطی علاقوں میں داخلے کا امکان ہے، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ پہلے ہی ملک کے شمالی حصوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

    اس موسمیاتی سسٹم کے تحت 31 جولائی سے 2 اگست کے دوران پورے سندھ میں شدید تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ متاثر ہونے والے اضلاع میں تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سجاول، ٹھٹہ ، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، مٹیاری، جامشورو، نوابشاہ اور نوشہرو فیروز، دادو، جیکب آباد، شکارپور، سکھر اور گھوٹکی، کشمور، لاڑکانہ اور کراچی شامل ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 31 جولائی سے 2 اگست کے دوران متوقع مصلادھار بارشوں کے باعث سکھر، شہید بینظیر آباد (نوابشاہ)، حیدرآباد، بدین، مٹیاری، میرپورخاص، عمرکوٹ، ٹنڈو محمد خان، قمبر شہداد کوٹ، شکارپور، دادو اور جیکب آباد کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور اربن فلڈنگ کا شدید خدشہ ہے،انتظامیہ اور متعلقہ ادارے پیشگی حفاظتی اقدامات مکمل رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

  • آج سے پنجاب میں مون سون بارشوں کا نیا اسپیل

    آج سے پنجاب میں مون سون بارشوں کا نیا اسپیل

    پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آج سے صوبے بھر میں مون سون بارشوں کے چوتھے اسپیل کی پیشگوئی کی،ہےیہ سلسلہ 5 اگست تک جاری رہ سکتا ہے۔

    لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، قصور، شیخوپورہ، سرگودھا، ساہیوال، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور دیگر اضلاع میں موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، جبکہ بالائی کیچمنٹ ایریاز میں بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر میلہ نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بوسیدہ اور کچے مکانات میں رہائش نہ رکھیں، آسمانی بجلی اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

  • موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں ، احسن اقبال

    موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں ، احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 5 ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں

    اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے دورے کے بعد نیوز بریفنگ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے مون سون سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا تھا، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کر رہی ہے،پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 5 ممالک میں شامل ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اب تک مون سون کے دوران 109 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، تاہم زیادہ تر اموات سیلابی ریلوں سے نہیں بلکہ عمارتوں اور دیگر انفراسٹرکچر کے گرنے کے باعث ہوئیں،پاکستان کو 2022 اور 2025 میں تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں، حکومت سیلاب اور شدید حدت سے ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق ملک نے کہا کہ دنیا کے چند بڑے ممالک گرین ہاؤس گیسز کے سب سے بڑے اخراج کنندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے صرف 3 ممالک تقریباً 57 فیصد جبکہ 10 ممالک 70 فیصد سے زائد گرین ہاؤس گیسز خارج کر رہے ہیں،پاکستان گرین ہاؤس گیسز کے بڑے اخراج کنندگان میں شامل نہیں، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہا ہےدرجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے تباہ کن سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور تباہ کن سیلابوں کا سبب بن رہا ہے۔ تباہی کوئی اور پھیلا رہا ہے، لیکن اس کی قیمت پاکستان جیسے ممالک ادا کر رہے ہیں، پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی ناانصافی اور دوہرے معیار کے معاملے کو بارہا اجاگر کر رہا ہے اور دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ غریب اور کم آلودگی پھیلانے والے ممالک پر موسمیاتی تباہی مسلط نہیں کی جا سکتی۔

    مصدق ملک نے کہا کہ حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں میں ہزاروں پاکستانی جانیں ضائع ہوئیں، اسی لیے پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی انصاف کا مقدمہ بھرپور انداز میں اٹھا رہا ہے اور اپنے موسمیاتی حقوق کے لیے ہر بین الاقوامی فورم پر مؤثر آواز بلند کرتا رہے گا وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تمام متعلقہ ادارے ایک مربوط نظام کے تحت کام کر رہے ہیں اور سیکیورٹی، منصوبہ بندی، مالیات، اطلاعات اور آبی وسائل سے متعلق اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم کی جا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیٹا سائنس، ڈرونز، سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پیشگی وارننگ اور بروقت فیصلہ سازی کا مؤثر نظام فعال بنایا جا سکے شمالی علاقوں، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں اس مرتبہ معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے، تاہم حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

  • دریائے سندھ اور راوی پر نچلے درجے کا سیلاب

    دریائے سندھ اور راوی پر نچلے درجے کا سیلاب

    پی ڈی ایم اے کے مطابق،دریائے سندھ کے کالا باغ اور تونسہ جبکہ دریائے راوی کے بلوکی اور سدھنائی کے مقامات پر اب بھی نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔

    پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں بتدریج کمی ریکارڈ کی گئی ہے دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ ایک ہزار کیوسک جبکہ تونسہ کے مقام پر 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے،تاہم تونسہ بیراج میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، اسی طرح دریائے ستلج اور دریائے جہلم میں بھی پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں مسلسل بہتری آ رہی ہے اور مرالہ، خانکی، قادر آباد، تریموں اور پنجند کے مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول پر آ چکا ہے دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر 63 ہزار کیوسک اور سدھنائی کے مقام پر 53 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، جہاں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، جبکہ جسڑ اور شاہدرہ کے مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے،وزیرآباد کے نالہ پلکھو میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 4 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں ایک ہزار کیوسک پانی کے بہاؤ کے ساتھ نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔

    قبل،ازیں،دریائے چناب میں پانی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث تحصیل جلالپورپیروالا میں زمیندارہ بند ٹوٹنے سے 5 بستیاں زیرآب آگئیں،دریا کے کنارے آباد علاقوں سے مکینوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی جبکہ دریائے سندھ میں پانی سطح بڑھنے سے بند ٹوٹنے پر رحیم یارخان کے تین دیہات میں پانی داخل ہوگیا اور کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں۔

    شیخوپورہ میں گاؤں ہڈیالہ ورکاں سمیت کئی بستیاں زیرآب آگئیں اور تیار فصلیں شدید متاثر ہوئیں، سلابی ریلے کی زد میں آکر شیخوپورہ لاہور سیکشن پر ریلوے ٹریک پل ٹوٹ گیا جس کے باعث لاہور فیصل آباد سیکشن پر متعدد ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں اور کچھ کا روٹ تبدیل کر دیا گیا۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر میلہ نے کہا کہ بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا تھا، تاہم دریائے چناب کے بالائی کیچمنٹ ایریاز میں بارشیں رک چکی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں سے دریا میں طغیانی میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہےحکومت پنجاب نے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور فلڈ ریلیف کیمپس میں متاثرین کو بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور موسم و سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

    پنجاب بھر میں ڈیموں، دریاؤں، نہروں اور جھیلوں میں تیراکی اور بغیراجازت کشتی رانی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، دفعہ 144 کے تحت گلیوں، سڑکوں ، کھلی جگہوں پر بارش کے جمع شدہ پانی میں نہانے پر بھی پابندی ہوگی۔

  • مون سون کی شدید بارشیں:پنجاب میں دفعہ 144 نافذ

    مون سون کی شدید بارشیں:پنجاب میں دفعہ 144 نافذ

    لاہور: حکومت پنجاب نے مون سون کی شدید بارشوں، دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بارش کے پانی میں نہانے، آبی ذخائر میں تیراکی اور بغیر اجازت کشتی رانی پر پابندی عائد کر دی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے ڈیموں، نہروں، دریاؤں، جھیلوں اور تالابوں میں نہانے اور تیراکی پر مکمل پابندی ہو گی،اس کے علاوہ گلی محلوں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر بارش کے جمع شدہ پانی میں نہانے کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہےبغیر اجازت جھیلوں اور دریاؤں میں کشتی رانی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام پابندیاں دفعہ 144 کے تحت آئندہ دو ماہ تک نافذ العمل رہیں گی۔

    محکمہ داخلہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مون سون کے دوران ممکنہ اربن فلڈنگ، تیز بہاؤ اور آبی حادثات سے شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے، صوبے کے مختلف آبی ذخائر میں پانی کی بلند سطح کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

    ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، بعض مقامات پر پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی جاری ہے، جبکہ راولپنڈی میں ممکنہ بارشوں کے پیش نظر رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے،ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کی حفاظت کے لیے ندی نالوں میں نہانے پر پابندی بھی عائد کر دی ہے لاہور سمیت پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے لاہور میں بارش کے باوجود موسم میں حبس برقرار ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 28 جولائی تک ایسی بارشوں کا امکان نہیں جو بڑے پیمانے پر سیلاب کا سبب بنیں، تاہم 29 جولائی سے مون سون کا ایک نیا اور زیادہ وسیع سلسلہ بالائی دریائی کیچمنٹ ایریاز، اسلام آباد، بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنی لپیٹ میں لے گا، جس سے بارشوں کی شدت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

    ادھر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عمر عباس میلہ نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، نشیبی ندی نالوں میں اچانک سیلاب اور مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

    انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو دریاؤں اور ندی نالوں کے اطراف دفعہ 144 کے سخت نفاذ کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ عوام کو خطرناک مقامات پر جانے سے روکا جا سکے۔ صوبائی پالیسی کے تحت بارشوں یا سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم جزوی طور پر ابر آلود اور مرطوب رہنے کا امکان ہےپشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، صوابی، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، کوہستان، تورغر، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، مہمند، خیبر، کرم، کوہاٹ، اورکزئی، ہنگو، کرک، لکی مروت، بنوں اور شمالی وزیرستان میں بارش کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گزشتہ روز پشاور، چراٹ، کالام، مالم جبہ، دیر اور پٹن میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ پٹن میں 14 ملی میٹر، چراٹ میں 7 ملی میٹر، کالام، دیر اور مالم جبہ میں 5،5 ملی میٹر جبکہ پشاور میں 3 ملی میٹر بارش ہوئی، پشاور میں کم سے کم درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ صوبے میں سب سے کم درجہ حرارت مالم جبہ میں 13 اور کالام میں 15 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

    بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے، تاہم ژوب، موسیٰ خیل، شیرانی، بارکھان، خضدار اور گرد و نواح میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 اور قلات میں 33 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ زیارت میں 27، ژوب میں 35، سبی میں 39، تربت میں 42، نوکنڈی میں 45، چمن میں 38، جبکہ ساحلی علاقوں گوادر میں 31 اور جیوانی میں 33 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

    اُدھر کراچی میں آج کم سے کم درجہ حرارت 28.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ موجودہ درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 78 فیصد ہے اور جنوب مغرب سے 12 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں،شہر میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، جبکہ مطلع جزوی ابر آلود، گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ بوندا باندی بھی متوقع ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق مجموعی طور پر دریاؤں کی صورتحال قابو میں ہے، اگرچہ دریائے چناب اور راوی کے بعض مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول سے زیادہ ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ اور دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہے، جبکہ دریائے سندھ میں تربیلا، دریائے کابل میں نوشہرہ اور دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔

    ڈویژن نے بتایا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مرالہ کے مقام پر دریائے چناب اور بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ دریائے راوی پر سدھنائی کا مقام بلند وارننگ کی حد کے سب سے قریب ہے اسی طرح آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔