Baaghi TV

Category: موسم

  • کراچی میں  گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ  بارش کا خدشہ، الرٹ جاری

    کراچی میں گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا خدشہ، الرٹ جاری

    کراچی میں 18 جون کو طوفانی موسم، گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کے خدشے کے پیش نظر محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ دنوں کے دوران گرد آلود ہواؤں کے ساتھ گرج چمک اور بارش کا امکان موجود ہے، جس کے باعث 18 جون تک الرٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ موسمی صورتحال کے پیش نظر پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے احتیاطی اقدامات شروع کرتے ہوئے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام آپریشنل شعبوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ ایپرن اور ٹارمک پر کھڑے فکس ونگ اور روٹری ونگ طیاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے، جبکہ ڈھیلے آلات اور دیگر سامان کو بھی محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکےاس کے علاوہ برقی تنصیبات اور کیبلز کی مکمل جانچ، فالو می گاڑیوں کی فعالیت برقرار رکھنے، اور ایئر فیلڈ لائٹس اور پٹس کی سروس ایبلٹی یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تمام متعلقہ اداروں کو موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور محفوظ فضائی آپریشنز کے لیے ضروری احتیاطی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی اور بارش کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی اور بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی، گرج چمک اور بارش کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شام کے اوقات میں آندھی، گرج چمک اور بارش کی پیشگوئی کی ہے پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، کرک اور بنوں میں تیز بارش متوقع ہے، جبکہ ڈی آئی خان، چترال، سوات، دیر اور میران شاہ میں آندھی اور بارش کا امکان ہے اسی طرح کوہستان، شانگلہ اور بونیر میں بھی تیز بارش کی تو قع ظاہر کی گئی ہے، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام اور پاڑاچنار میں گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش ہو سکتی ہے ژوب، شیرانی، زیارت، کوہلو، نصیر آباد، کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ قلعہ عبداللہ، ہرنائی، سبی، بارکھان، خضدار اور ڈیرہ بگٹی میں بھی چند مقامات پر بارش متوقع ہے۔

    ڈی جی محکمہ موسمیات عرفان ورک کے مطابق ڈیرہ غازی خان، لیہ اور بھکر میں دوپہر کے وقت بارش کا امکان ہے، جبکہ آج سے 20 جون تک پنجاب کے بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں لاہور، گوجرانوالہ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین اور جہلم میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہےشمال مشرقی بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بھی بارش کا امکان ہے، جس سے موسم خوشگوار ہونے کی توقع ہےخیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں 20 جون تک موسلادھار بارشیں متوقع ہیں، جبکہ صوبے کے بالائی اور وسطی اضلاع میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان کے بعض علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی موجود ہے، جس سے شاہراہوں پر آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے۔

    عرفان ورک نے سیاحوں اور شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ بارشوں کے دوران دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی ریلوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • ملک  میں   11 سے 13 جون  تک بارشوں ،گرد آلود طوفان اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    ملک میں 11 سے 13 جون تک بارشوں ،گرد آلود طوفان اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں 11 سے 13 جون کے دوران گرد آلود طوفان، تیز ہواؤں، بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفانی موسم کی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 11 جون کو ملک کے بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کا ایک سسٹم داخل ہونے کا امکان ہے جو 13 جون تک برقرار رہے گا، جبکہ اسی دوران بحیرۂ عرب سے مرطوب ہوائیں بھی ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوں گی ا
    س موسمی نظام کے زیر اثر اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں وقفے وقفے سے گرد آلود طوفان، تیز ہوائیں اور بارش و گرج چمک کے ساتھ بعض مقامات پر شدید بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔

    شمال مشرقی بلوچستان میں بھی بارش اور گرج چمک کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ بالائی سندھ میں اس دوران گرد آلود طوفان اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید ہوائیں، ژالہ باری اور بجلی گرنے کے واقعات کمزور ڈھانچوں، سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں شدید بارش شہری علاقوں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ گلگت بلتستان، کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔

    پی ایم ڈی نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں، جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

  • 12 جون تک گرمی کی شدت برقرار، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارش کی بھی پیشگوئی

    12 جون تک گرمی کی شدت برقرار، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارش کی بھی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 12 جون تک ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں میں دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیریں علاقوں میں 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی توقع ہے، اسلام آباد، شمالی پنجاب اور بالائی خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کل تک شدید گرمی برقرار رہے گی، تاہم اسلام آباد میں 11 اور 12 جون کو بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا اور شمالی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی 11 اور 12 جون کو بارش متوقع ہے، راولپنڈی، لاہور اور دیگر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور سندھ کے بیشتر اضلاع میں گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے بلوچستان کے اضلاع ژوب اور موسیٰ خیل میں 11 اور 12 جون کو گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے پشاور، سوات، چترال، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بھی 11 اور 12 جون کو بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 12 جون سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ہے۔

  • ملک بھر میں آج سے شدید گرمی، کئی شہروں میں درجہ حرارت 50 ڈگری کے قریب پہنچنے کا امکان

    ملک بھر میں آج سے شدید گرمی، کئی شہروں میں درجہ حرارت 50 ڈگری کے قریب پہنچنے کا امکان

    محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے 12 جون تک شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر کے خدشے کا انتباہ جاری کیا ہے-

    تازہ موسمی پیش گوئی کے مطابق بالائی فضاؤں میں بلند دباؤ کے نظام کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعدد علاقوں میں گرمی کی شدت میں نمایاں اضا فہ متوقع ہے ماہرین کے مطابق 8 سے 11 جون کے دوران ہیٹ ویو اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے جبکہ بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے-

    کراچی میں درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں پارہ 48 سے 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی شہروں میں بھی درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

    پنجاب کے وسطی اور بالائی علاقوں، بشمول راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات اور دیگر شہروں میں درجہ حرارت 41 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں پشاور، مردان، بنوں، لکی مروت، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں درجہ حرارت 41 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کے خطرات بڑھ سکتے ہیں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی استعمال کریں اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں۔

    دوسری جانب (این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں، جس سے بعض علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں  گرمی کی شدت میں اضافہ

    ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی جبکہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں خشک اور شدید گرم موسم کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے تاہم بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے خیبرپختونخوا کے اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان اور مالاکنڈ میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ اسی طرح باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے مختلف علاقوں میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے۔

    سوات، چترال اور دیر کے چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، چارسدہ، مردان اور دیگر میدانی اضلاع کے بعض علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی توقع ہے ہری پور، وزیرستان اور کرم کے بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جس سے مقامی سطح پر موسم خوشگوار ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے جبکہ ملک کے دیگر میدانی علاقوں میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،جبکہ لاہور میں اس وقت درجہ حرارت تقریباً 32 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کے بعد زیادہ سے زیادہ 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔

    ماہرین کے مطابق دن کے ساتھ ساتھ اب راتوں میں بھی گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا، اور کم سے کم درجہ حرارت 26 سے بڑھ کر 28 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جس سے حبس اور گرمی مزید محسوس ہوگی محکمہ موسمیات پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک سے دو روز کے دوران گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ متوقع ہے، جبکہ کل درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہےشہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  • رواں ماہ ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان

    رواں ماہ ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان

    محکمہ موسمیات نے جون 2026 کے لیے بارشوں اور درجہ حرارت کا آؤٹ لک جاری کر دیا،جس کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول کے مطابق یا معمول سے کم بارشوں اور درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں بارشیں معمول سے کم رہنے کی توقع ہے،گلگت بلتستان اور بالا ئی خیبر پختونخوا میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے جبکہ شمالی سندھ اور مغربی پہاڑی علاقوں میں بارشیں معمول کے قریب رہنے کی توقع ہے۔اسی طرح جون میں ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبر پختونخوا میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی شدت کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

  • ملک میں  شدید گرمی اور پانی کی قلت کا خدشہ، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری

    ملک میں شدید گرمی اور پانی کی قلت کا خدشہ، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشیں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت متوقع ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت، ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک بھر میں اوسط 22.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے تقریباً 10 فیصد کم رہی، جبکہ اوسط درجہ حرارت 29.2 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو معمول سے 0.8 ڈگری زیادہ تھا پنجاب میں 29.7 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 19 فیصد زیاد ہ رہی، تاہم سند ھ میں صرف 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے 91 فیصد کم تھی بلوچستان میں بارشوں کی کمی 71 فیصد رہی جبکہ گلگت بلتستان میں بارشیں معمو ل سے 33 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئیں۔

    جون 2026 کے لیے جاری ماہانہ پیشگوئی کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول کے برابر یا معمول سے کچھ کم رہنے کا امکان ہےسب سے زیادہ کمی شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور خیبرپختونخوا کےبعض ملحقہ علاقوں میں متوقع ہے اس کے برعکس گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا میں معمول سے کچھ زیادہ بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں ایل نینو کی صورتحال دوبارہ فعال ہو چکی ہے اور آئندہ مہینوں میں اس کے برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ بحر ہند کا ڈائپول فی الحال غیر جانبدار مرحلے میں ہے ان موسمی عوامل کے باعث بارشوں کی جغرافیائی تقسیم غیر متوازن رہ سکتی ہے جون کے دوران ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبرپختونخوا میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا رجحان نمایاں ہو سکتا ہے، جبکہ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

    مارچ تا مئی 2026 کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 148 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 26 فیصد زیادہ رہی، جبکہ اوسط درجہ حرارت معمول سے ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ پنجاب میں اس عرصے کے دوران بارشیں 31 فیصد اور سندھ میں 106 فیصد زیادہ رہیں، تاہم آئندہ جون تا اگست کے عر صے میں صورتحال مختلف رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق جون تا اگست 2026 کے دوران پنجاب، سندھ، زیریں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے شمالی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان، شمالی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں بارشیں معمول کے برابر یا اس سے زیادہ رہ سکتی ہیں شمال مشرقی پنجاب میں بارشوں کی کمی سب سے زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے بارشوں میں کمی کے باعث خریف فصلوں کی بوائی اور ابتدائی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے جبکہ آبپاشی کے لیے پانی کی طلب میں اضافہ ہوگا۔

    دوسری جانب شمالی علاقوں میں زیادہ بارشیں، برف پگھلنے کے عمل میں تیزی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جس سے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات پیدا ہوں گے شدید گرمی، وقفے وقفے سے بارشوں اور نمی میں اضافے کے باعث ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں اسی طرح درجہ حرارت کے شدید فرق کے نتیجے میں گرد آلود آندھیاں، تیز ہوائیں اور ژالہ باری کے واقعات بھی فصلوں، باغات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

  • دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے عالمی پیشگوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکا ن 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیا تی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے، بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکا میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے،ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر 2سے7 سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

  • آج مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ  ملک میں داخل ہوگا

    آج مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل ہوگا

    پنجاب بھر میں آج سے 5 جون تک بیشتر اضلاع میں تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ آج ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کے اثرات کے باعث پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش متوقع ہے بعض مقامات پر موسلا دھار بارش اور ژالہ باری بھی ہو سکتی ہےبارشوں کے باعث گرمی کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے، تاہم چند علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش سے معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور مقامی سطح پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہےممکنہ خطرات کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے چترال، دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ کے لیے الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔