Baaghi TV

Category: موسم

  • آج  سے 17 ستمبر تک ملک کے بیشترحصوں میں مزید بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    آج سے 17 ستمبر تک ملک کے بیشترحصوں میں مزید بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے آج 14 ستمبر سے 17 ستمبر تک ملک کے بیشترحصوں میں مزید بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی ہے-

    رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بھی گرج چمک کےساتھ مزید بارش متوقع ہے، راولپنڈی، مری اور گلیات سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ہےاسی طرح پشاور، سوات، چترال اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارش متوقع ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بھی بارش کی توقع ہے ، بلوچستان کے اضلاع ژوب، بار کھان اور موسیٰ خیل میں بھی بارش کا امکان ہےکل سے17ستمبر کے دوران لاہور،سیالکوٹ،شیخوپورہ ،نارروال ،گجرات میں بارش کی توقع ہے ، گوجرانوالہ ،وزیرآباد ،قصور ،اوکاڑہ اورننکانہ صاحب سمیت مختلف علاقوں میں بارش متوقع ہے۔

    اسی طرح پشاور ،دیر ،چترال ،سوات ،ملاکنڈ ،مردان میں بارشیں متوقع ہیں،خیبرپختونخوا کےپہاڑی علاقوں ،گلگت بلتستان ،مری ،گلیات اور کشمیر میں لینڈ سلا ئیڈنگ کاخدشہ ظاہر کیا گیا ہے،دنیا کے بڑے شہروں کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کے جائزے کی رپورٹ جاری ہوئی ہے جس میں پاکستان کے 4 بڑے شہر بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق دنیا کے 72 بڑے شہروں پر مبنی یہ رپورٹ موسمیاتی خطرات کا جائزہ لینے والی کمپنی الفاجیو نے جاری کی ہے جس میں یہ بھی دیکھا گیا کہ شہر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں جنوبی ایشیا کے 6 شہر مومسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی سب سے کم صلاحیت رکھنے والے شہروں میں شامل ہیں، ان شہروں میں انڈیا کا احمد آباد 41 کے اسکور کے ساتھ پہلے، حیدرآباد دوسرے، پاکستان کا ملتان 38 کے اسکور کے ساتھ تیسرے، ڈ ھاکہ چوتھے، لاہور پانچویں نمبر، فیصل آباد ساتویں اور کراچی آٹھویں نمبر پر ہے۔

    الفا جیو نےان شہروں کو لاحق موسمیاتی خطرے کی بڑی وجوہات میں شدید گرمی اورموسمیاتی خطرات کےمقابلےمیں محدود موافقتی اقدامات کوقرار دیا ہے ،کمپنی کے مطابق جنوبی ایشیا میں ایسے شہروں کی تعداد زیادہ ہے جہاں موسمیاتی خطرات کی شدت کے مقابلے میں موافقت اور تحفظ کے اقدامات ابھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکے۔

    رپورٹ میں موسمیاتی خطرے کو صرف سیلاب تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ اندرونِ ملک اور ساحلی سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور سمندری طوفانوں سمیت مختلف خطرات کو جائزے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد شہروں میں موجود موافقتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے باقی ماندہ خطرے کا اندازہ لگایا گیا۔

    رپورٹ کےمطابق دنیا کے نسبتاً زیادہ موسمیاتی لچک رکھنے والے بڑے شہروں میں شکاگو، بارسلونا، پیرس، لندن، ایڈیس ابابا، نیروبی اور میلبورن شامل ہیں دوسری جانب چین کے بیجنگ، تیانجن، شین ژین اور شنگھائی نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی کارکردگی کے اعتبار سے بہتر کارکردگی دکھائی۔

    الفاجیو نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو خاص توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ممالک کے بڑے شہروں میں موسمیاتی خطرات زیادہ ہیں جبکہ ان خطرات کو کم کرنے کی صلاحیت اور موافقتی اقدامات میں خلا برقرار ہے رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال قدرتی آفات کے بعد بحالی، بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور آبادی کی نقل مکانی جیسے مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

  • گلگت بلتستان میں کلاؤڈ برسٹ سے سیلاب، شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں بند

    گلگت بلتستان میں کلاؤڈ برسٹ سے سیلاب، شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں بند

    گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچادی، جس کے باعث شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں بند ہوگئیں، زرعی اراضی، فصلوں اور مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔

    ہفتے کی علی الصبح شدید بارش کے بعد آنے والے اچانک سیلاب نے غذر کے مختلف علاقوں میں گھروں اور فصلوں کو نقصان پہنچایا، نوبہار گاؤں میں سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتے ہوئے گش گش جماعت خانہ کو بھی نقصان پہنچایا، جبکہ فصلیں، پھل دار درخت اور زرعی اراضی بھی تباہ ہوگئی۔

    مختلف علاقوں میں سیلاب کے باعث امیٹ سے برجنگل جانے والی سڑک بند ہوگئی جبکہ راستے میں بجلی کی ترسیلی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا، سڑک کی بندش کے باعث مقامی آبادی کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا،متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ سڑک کو ٹریفک کے لیے بحال کیا جائے اور سیلاب متاثرین کو فوری امداد فراہم کرتے ہوئے ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

    گلگت بلتستان پولیس کے ترجمان کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سوست سے خنجراب ٹاپ تک شاہراہ قراقرم مکمل طور پر بند ہے، متعلقہ ادار ے شاہراہ کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں،حکام نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    دوسری جانب ٹورازم پولیس کے مطابق ہنزہ میں مرتضیٰ آباد اور حسن آباد گاؤں کے درمیان شاہراہ قراقرم کا وہ حصہ جو لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگیا تھا، ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

    گلگت بلتستان میں یوں تو یکم اگست سے وقفے وقفے سے بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس قدر شدید بارش پہلے کبھی نہیں دیکھی،مسلسل بارش کے باعث گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت بھی گر گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ دیامر کے مطابق بابوسر ٹاپ پر ہفتے کی صبح رواں سیزن کی پہلی برف باری ہوئی، تاہم بابوسر روڈ پر ٹریفک بدستور جاری رہی۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق رواں سال جون سے اگست کے دوران خطے میں بادل پھٹنے اور گلیشیئرز پگھلنے کے نتیجے میں 120 سیلابی واقعات پیش آئے ان سیلابوں کے باعث درجنوں مکانات، زرعی اراضی، باغات، درخت، آب پاشی کی نہریں اور سڑکیں تباہ ہوئیں جبکہ بجلی کے نظام کو بھی نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں کے مکین کئی روز تک دیگر علاقوں سے منقطع رہے۔

    ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں موسمی حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں، جس کے نتیجے میں بار بار سیلاب، بادل پھٹنے کے واقعات، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور غیر معمولی درجہ حرارت جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کے پہلے ہی نازک ماحولیاتی نظام کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے 8 ہزار سے زائد گلیشیئرز، تقریباً 300 گلیشیائی جھیلوں اور بلند و بالا پہاڑوں پر مشتمل اس خطے میں رہنے والی آبادی کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید قدرتی آفات کا سامنا ہے-

  • گزشتہ 66 برسوں کے دوران اگست 2026 چھٹا گرم ترین مہینہ قرار

    گزشتہ 66 برسوں کے دوران اگست 2026 چھٹا گرم ترین مہینہ قرار

    پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نےماہانہ کلائمٹ سمری جاری کردی-

    پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اگست کے دوران اوسط بارش 45.4 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جومعمول سے 23 فیصد کم رہی، اگست 2026 کے دوران ملک کا اوسط درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو معمول سے 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے اور گزشتہ 66 برسوں کے دوران اگست کا چھٹا گرم ترین مہینہ قرار پایا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں رات کے وقت کم سے کم اوسط درجہ حرارت 25.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 0.9 ڈگری زیادہ اور گزشتہ 66 برسوں میں ساتواں گرم ترین رہا،اسی طرح دن کے وقت زیادہ سے زیادہ اوسط درجہ حرارت 36.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا، جو معمول سے 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ اور اگست کے مہینے میں گزشتہ 66 برسوں کا ساتواں گرم ترین درجہ حرارت ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اگست کے دوران ملک کا گرم ترین مقام بلوچستان کا شہر نوکنڈی رہا جہاں 20 اور 21 اگست کو پارہ 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، ماہ کا کم ترین درجہ حرارت 9.5 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا اگست کے دوران سب سے زیادہ بارش سندھ کے شہر مٹھی میں ہوئی جہاں 2 اگست کو 126 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور ماہانہ بنیاد پر راولپنڈی میں 586.6 ملی میٹر بارش کے ساتھ سب سے زیادہ مجموعی بارش ریکارڈ ہوئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ وسطی استوائی بحرالکاہل میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں تقریباً 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ برقرار رہا جبکہ انڈین اوشن ڈائی پول بھی معمولی مثبت مرحلے میں ہے۔

  • اپر سوات اور وادیِ کالام میں  سال کی پہلی برف باری ، پوری وادی نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی

    اپر سوات اور وادیِ کالام میں سال کی پہلی برف باری ، پوری وادی نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی

    خیبر پختونخوا میں اپر سوات اور وادیِ کالام کے بلند پہاڑی سلسلوں پر سال کی پہلی برف باری کے بعد پوری وادی نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی ہے۔

    اچانک برف باری کے بعد علاقے میں سردی کی شدت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے، اس دلکش پیش رفت سے جہاں کالام کے مناظر مزید سحر انگیز ہو گئے ہیں، وہی پورے خطے میں باقاعدہ ’سرد موسم‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔اپر سوات اور اس کے گردونواح، بالخصوص وادیِ کالام کے بلند پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوتے ہی قدرتی مناظر یکسر بدل گئے ہیں۔

    اس حسین منظر کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کا جوش و خروش بھی دیدنی ہے اور مختلف شہروں سے وادی کی جانب سیاحوں کی آمد کی توقع کی جا رہی ہےبرف باری کے ساتھ ہی یخ بستہ ہواؤں کے چلنے سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ مقامی رہائشیوں نے گرم ملبوسات کا استعمال شروع کر دیا ہے-

    بحرین، کالام، مہوڈنڈ اور اترور جیسے بالائی علاقے سمندر کی سطح سے 2,000 میٹر سے زیادہ کی بلندی پر واقع ہیں، جہاں ہر سال موسمِ سرما کی آمد پر برف باری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے.یہ برف باری نہ صرف علاقے میں سیاحت اور مقامی معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، بلکہ گرمیوں کے موسم میں دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

  • 5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی ،گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ

    5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی ،گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی اور خطہ پوٹھوہار میں 5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

    اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت گرد و نواح میں رات گئے موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا،محکمہ موسمیات کے مطابق مسلسل اور تیز بارشوں کے باعث جڑواں شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی تک محدود نہیں رہے گا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 6 ستمبر تک جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 5 ستمبر تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جن میں راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، اٹک، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، قصور اور اوکاڑہ شامل ہیں۔

    پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے

    ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کو نشیبی علاقوں کی نگرانی، نالوں کی صفائی اور بارش کے پانی کی فوری نکاسی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں پہاڑی اور سیاحتی علاقوں کا رخ کرنے والے شہریوں کو بھی موسم کی صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے سفر کی منصوبہ بندی کرنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ملک میں جاری مون سون کے شدید اسپیل اور غیر معمولی حد تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث شمالی علاقہ جات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور طغیانی کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے انتظامی اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے-

    امریکا کی ٹاپ پارٹی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری، نیویارک کی صرف دو جامعات شامل

    این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گلگت بلتستان کے اضلاع غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، اسکردو، گانچھے اور کھرمنگ اور آزاد کشمیر میں وادی نیلم اور گردو نواح کے ندی نالوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے،علاوہ ازیں صوبہ خیبر پختونخوا میں چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان کے پہاڑی علاقوں کو بھی حساس قرار دیا گیا، ان علاقوں میں سیلابی صورتحال اور سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہے۔

    گلگت بلتستان، سوات اور مری جانے والے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سفر سے قبل مقامی انتظامیہ یا این ڈی ایم اے ہیلپ لائن (1129) سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،حساس علاقوں میں امدادی ٹیموں، بھاری مشینری اور ہنگامی ادویات کا انتظام مکمل کر لیا گیا ہے تاکہ سڑکیں بلاک ہونے کی صورت میں فوری بحالی ممکن بنائی جا سکے، تابکار حرارت اور شدید بارشوں کا ایک ساتھ ملنا پہاڑی جھیلوں کے بند توڑنے کا باعث بنتا ہے، جس سے چند منٹوں میں لاکھوں کیوسک پانی نچلے علاقوں کی طرف بہتا ہے۔

    نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک اے آئی کے استعمال پر پابندی

  • انسانیت موسمیاتی تباہی سے بچنے کی حد سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،سیکرٹری اقوام متحدہ

    انسانیت موسمیاتی تباہی سے بچنے کی حد سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،سیکرٹری اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق دنیا موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات سے بچنے کے لیے مقرر کردہ 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد جلد عبور کر جائے گی-

    اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کوئلے، تیل اور گیس کے مسلسل استعمال سے زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد عبور کرنے والا ہےاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ انسانیت موسمیاتی تباہی سے بچنے کی حد سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوچکی ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا ہے کہ 1.5 ڈگری کی حد آئندہ چند برسوں میں عبور ہوجائے گی موجودہ حکومتی پالیسیوں کے تحت 2100 تک عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 2.6 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ موسمیاتی اہداف پر انتہائی مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو درجہ حرارت صدی کے وسط میں تقریباً 1.8 ڈگری پر پہنچ کر بلند ترین سطح حاصل کرسکتا ہے۔‘

    اقوام متحدہ نے اب ’اوور شوٹ‘ حکمت عملی تجویز کی ہے، جس کے تحت پہلے درجہ حرارت میں اضافے کی بلند ترین سطح کو محدود کیا جائے گا اور پھر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور فضا سے کاربن نکالنے کے ذریعے عالمی درجہ حرارت کو بتدریج 1.5 ڈگری سے نیچے لانے کی کوشش کی جائے گی،اس مرحلے میں دنیا کو کئی دہائیوں تک شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، سمندر کی سطح میں اضافے، برفانی تودوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے مسائل کا سامنا رہ سکتا ہے۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی سے خوراک کی پیداوار متاثر، پانی کی قلت میں اضافہ اور مزید اموات و بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ مرجانی چٹانوں سمیت کئی انواع کے معدوم ہونے کا خطرہ بھی بڑھے گا گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹیکا کی برفانی چادروں کا نقصان، ایمیزون کے جنگلات کا خاتمہ اور بحرِ اوقیانوس کے اس نظام میں خلل جو یورپ کے بیشتر حصے کو نسبتاً گرم رکھتا ہے، ممکنہ خطرناک ’ٹِپنگ پوائنٹس‘ میں شامل ہیں، سائنس دانوں کے مطابق 1.5 ڈگری کی حد کوئی ایسی ’موسمیاتی کھائی‘ نہیں جس کے بعد سب کچھ ختم ہوجائے، بلکہ ہر ایک ڈگری کا معمولی حصہ بھی بچانا موسمیاتی نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔

  • گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ

    گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ

    اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بارشوں اور بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے الرٹ کے مطابق غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، سکردو اور وادی نیلم کے علاقے حساس قرار دیئے گئے ہیں، جہاں گلیشیا ئی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب کا خطرہ موجود ہے، این ڈی ایم اے نے چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان اور مانسہرہ میں بھی سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے سے خبردار کر دیا۔

    دوسری جانب نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نےپوٹھوہار اور بالائی خیبرپختونخوا میں تیز بارشوں کاالرٹ جاری کر دیا،اسلام آباد،راولپنڈی، اٹک ، جہلم اور مری میں 2 سے 5 ستمبر کے دوران شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،دیر، سوات، بونیر، ملاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، صوابی اور پشاور میں بھی شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس کے باعث شہری علاقوں میں اچانک سیلاب جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے نے شہریوں کو گلیشیئرز سے آنے والے دریاؤں، ندی نالوں، نشیبی علاقوں اور خطرناک پہاڑی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے ادارے نے عوام پر زور دیا ہے کہ موسم اور ممکنہ خطرات سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

  • اپر سوات میں شدید بارشوں کا ہائی الرٹ جاری، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    اپر سوات میں شدید بارشوں کا ہائی الرٹ جاری، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    اپر سوات میں 2 سے 5 ستمبر تک شدید گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق یکم سے 4 ستمبر کے دوران گلوف، اچانک سیلابی ریلوں اور ملبے کے بہاؤ کا خدشہ ہے، جبکہ شدید بارشوں کے باعث دریائے سوات اور اس کے معاون نالوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوسکتی ہے۔

    پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بندش کا بھی خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ممکنہ صورتحال کے پیش نظر ریسکیو ٹیموں، مشینری اور متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں کو دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر آبی گزرگاہوں سے دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ شہریوں کو دریا کے کنارے کیمپنگ سے بھی اجتناب کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی صورتحال پر نظر رکھیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔

  • راولپنڈی اسلام آباد  میں طوفانی بارش، نالوں میں طغیانی، نشیبی علاقے زیرآب، اسکول بند

    راولپنڈی اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالوں میں طغیانی، نشیبی علاقے زیرآب، اسکول بند

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں صبح ہونے والی موسلا دھار بارش سے سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر انتظامیہ نے اطراف کی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔

    نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور نالہ لئی کے کنارے آباد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو فوری انخلا کی ہدایت کردی گئی اسلام آباد سے بڑا سیلابی ریلا راولپنڈی کی جانب بڑھ رہا ہے خطرے کے پیش نظر نشیبی آبادیوں کے انخلا کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

    کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح پہلے 14.5 فٹ تک پہنچی اور پری الرٹ لیول عبور کیا بعد ازاں مسلسل اضافے کے ساتھ 18.5 فٹ تک جا پہنچی گوالمنڈی میں بھی پانی کی سطح 7 فٹ سے بڑھ کر 11 فٹ ہوگئی۔

    راولپنڈی میں ڈبل روڈ سمیت متعدد سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہوگیا جبکہ آریہ محلے کی گلیاں بھی زیرآب آگئیں بارش اور پانی جمع ہونے کے باعث اسلام آباد ایکسپریس وے پر راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی ٹریفک مکمل طور پر رک گئی شدید بارش کے پیش نظر راولپنڈی سٹی کے تمام اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کردیا گیا، جبکہ اسلام آباد کے متعدد اسکول بھی بند کرکے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا گیا ہے۔

    راولپنڈی ڈپٹی کمشنر کے مطابق نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریا میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے صفدر آباد میں 4 نمبر چونگی کے قریب نالہ لئی کا پانی باہر آگیا، جس سے متعدد گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں جبکہ پانی گھروں اور دکانوں میں بھی داخل ہوگیا کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 28.5 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں 23 فٹ تک پہنچ گئی، جبکہ دونوں مقامات پر آبادی کے انخلا کے لیے مقررہ حد 20 فٹ ہے۔

    صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے نالہ لئی کے کنارے آباد علاقوں، بالخصوص غریب آباد اور دیگر حساس علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں دوسری جانب بارش سے نالہ کورنگ میں بھی پانی کا بہاؤ تیز ہوگیا ہے، جبکہ آبپارہ مارکیٹ کے قریب درخت گرنے سے سڑک کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بند ہوگیا۔

    اسی طرح اسلام آباد کے ای الیون میں بھی نالہ بھر جانے سے پانی سڑک اور بعض بیسمنٹس میں داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق ان بیسمنٹس کو پہلے ہی سیل کیا جاچکا تھا۔ غوری ٹاؤن فیز ٹو میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی جہاں نہ صرف سڑکیں اور گلیاں زیر آب آئیں بلکہ پانی گھروں میں بھی داخل ہو گیا۔

    اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ کورال چوک سے کھنہ پل تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، جبکہ کئی مسافر گاڑیوں سے اتر کر پیدل اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ دفاتر جانے والے ملازمین اور دیگر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی میں شمس آباد میں سب سے زیادہ 194 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-8 میں 150 ملی میٹر بارش ہوئی جڑواں شہروں میں اب تک اوسطاً 126 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گولڑہ میں 157، سیدپور میں 98، چکلالہ میں 71 اور بوکرہ میں 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

    راولپنڈی انتظامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور ایم ڈی واسا نے نالہ لئی کے اطراف صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اضافی ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے نکاسی آب کا عمل بھی جاری ہے۔

  • مون سون بارشوں کا آخری سپیل، مغربی ہوائیں پاکستان میں داخل،آج سے بارشوں کی پیشگوئی

    مون سون بارشوں کا آخری سپیل، مغربی ہوائیں پاکستان میں داخل،آج سے بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے آج سے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کردی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہوائیں پاکستان میں داخل ہوگئیں، مون سون بارشوں کا آخری سپیل آج دوپہر کے بعد شروع ہونے کا امکان ہے، جس کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوسکتی ہے،مری اور گلیات سمیت کشمیر اور گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ بارش کے باعث بالائی علاقوں میں موسم مزید سرد اور خنک ہونے کا امکان ہے۔

    خیبرپختونخوا میں دیر، سوات، کوہستان، بٹگرام، پشاور، نوشہرہ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے،پنجاب کے مختلف علاقوں، جن میں جہلم، چکوال، اٹک، سیالکوٹ اور گجرات شامل ہیں، میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،جبکہ سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے، تاہم ساحلی علاقوں میں مطلع جزوی ابرآلود رہ سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ 6 ستمبر تک جاری رہ سکتا ہے، اس دوران بالائی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ہے۔