Baaghi TV

Category: موسم

  • مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک رہے گا، این ڈی ایم اے

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ،پاکستان موسمیاتی تباہی کے دہانے پر آگیا، جس کے ممکنہ خطرناہ اثرات سے ملک میں سیلاب و خشک سالی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور فنڈنگ کے معاملات پر سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں اجلاس کی صدارت جنید اکبر نے کی جب کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک میں حالیہ صورتحال اور مستقبل کے خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے اور آنے والے سال میں شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگیں گے،چترال شمال و جنوب اور اسکردو جیسے علاقے مستقبل میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں،مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک برقرار رہے گا، پانی کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ستلج کے علاقے سے اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے مختلف متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان بھی بھجوایا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں تباہ شدہ مقامات کی تعمیر نو کی جائے گی۔

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    ان کا کہنا تھا کہ خطرناک علاقوں میں لوگ پانی کے راستوں پر رہ رہے تھے، ملک بھر کے نشیبی علاقوں کو خالی کروا یا جائے گا، ریسکیو نے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بہترین کام کیا اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلاحی تنظیموں نے بھی بہترین کام کیہ جون 26 سے اب تک کا تمام ڈیٹا موجود ہے، آنے والا سال بدقسمتی سے زیادہ مشکل ہوگا، ہمیں مل کر گلیشئرزکا تحفظ کرنا ہوگا، دنیا کے دوسرے بڑے گلیشئر ہمارے ملک میں ہیں۔

    اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے سوال کیا کہ کیا این ڈی ایم اے ارلی وارننگ دے گا؟ کمراٹ میں جھیل بنی اور اس سے سارے علاقے کی خوبصورتی برباد ہوگئی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ محکمہ موسمیات چند ماہ کا بتاتا ہے، ہم نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں،ملک میں 7500 گلیشئرز ہیں، شمالی علاقوں میں زیادہ پگھل رہے ہیں،گلیشئر کے مکمل پگھلنے کے بعد خشک سالی کے امکانات بڑھ جائیں گے، خشک سالی سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی اور پانی کی کمی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    پی اے سی اجلاس میں جنید اکبر نے کہا کہ پاکستان کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے،انہوں نے شکوہ کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کی سزا بھگت رہے ہیں مگر بدلے میں ہمیں امداد نہیں بلکہ صرف قرضے مل رہے ہیں۔

    اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد دنیا نے پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے تھے جن میں 8.9 ارب کثیرالجہتی اداروں اور 1.4 ارب دو طرفہ وعدے شامل تھے، تاہم عملی طور پر زیادہ تر رقم قرضوں کی صورت میں دی گئی، جبکہ صرف 21 لاکھ ڈالر کی گرانٹ ملی، سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر کا تیل ادھار فراہم کیا اور مجموعی طور پر 93 کروڑ ڈالر کی عارضی فنڈنگ موصول ہوئی۔

    اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ملاقات،فلسطین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ

    سیکرٹری اقتصادی امور کے مطابق سیلاب کے بعد 16 ارب ڈالر کی ضروریات کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس میں سے 8 ارب ڈالر خود اور 8 ارب عالمی اداروں سے لینے کا منصوبہ بنایا گیا، تاہم بریفنگ کے مطابق ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کی بڑی کمٹمنٹس بھی زیادہ تر قرض کی صورت میں تھیں۔

  • بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب پیدا ہو گیا ، جس سے مزید درجنوں دیہات متاثر ہو گئے۔

    فلڈ کاسٹنگ ذرائع کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 4 ہزار 664 کیوسک جبکہ اخراج 98 ہزار 353 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہےدریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 95 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے ، گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 22 فٹ سے بلند ہونے کے باعث مزید دیہات زیر آب آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہےاپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم پر دریائے ستلج کی تباہ کاریاں جاری ہیں ، سیلاب سے 10عارضی بند بہہ گئے ، متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے ، متاثرین اونچے ٹیلوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

    دریائے ستلج میں ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، ہریکے کے بالائی اور زیریں علاقے اونچے درجے کی سیلابی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں، ستلج اور اس سے منسلک دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے،دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ تربیلا اور تونسہ پر پانی کی سطح معمول کے مطابق ہے-

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر اونچے درجے اور سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہےاسی طرح دریائے چناب میں مرالہ اور خانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، ڈیموں کی بات کی جائے تو تربیلا ڈیم مکمل بھر چکا ہے جبکہ منگلا 76 فیصد بھرا ہے، بھارتی ڈیموں میں بھاکرا 80 فیصد، پونگ 87 فیصد اور تھیئن ڈیم 85 فیصد بھرے ہوئے ہیں،تاہم بھارت کے مادھوپر ڈیم سے پانی کے اخراج کی وارننگ کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، این ڈی ایم اے نے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں دریائے راوی میں جسر کے مقام پر 80 ہزار سے ایک لاکھ 25 ہزار کیوسک تک کے بہاؤ کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ 50 ہزار سے 2 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتی ہے، اسی طرح دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ایک لاکھ 90 ہزار سے 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک کے بہاؤ کے ساتھ شدید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

    کراچی : ملیر جیل سے 225 قیدی فرار ہونے کی انکوائری مکمل، رپورٹ تیار

    ہائیڈرولوجیکل اعداد و شمار کے مطابق راوی اور اس سے منسلک نالوں میں مسلسل درمیانی سے شدید بارش کے باعث تھیئن ڈیم میں پانی 1717 فٹ تک پہنچ گیا ہے، پیر تک دریائے راوی میں کوٹ نیناں کے مقام پر 64 ہزار کیوسک پانی خارج ہو رہا تھا، جو 24 گھنٹوں میں جسر کے مقام پر ’نچلے سے درمیانے درجے‘ کے سیلاب کا باعث بن سکتا ہے اور اگر بارشیں جاری رہیں اور اسپِل وے مزید کھولے گئے تو 27 اگست تک اونچے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بتایا کہ دریائے سندھ، چناب، راوی اور ستلج کے زیریں علاقوں سے ہفتے کے روز سے اب تک 24 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، یہ دریا بالائی علاقوں میں شدید مون سون بارشوں کے باعث نچلے سے اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں اور اگلے 48 گھنٹوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی ہے،انخلا کی یہ کارروائی قصور، اوکاڑا، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی اور نارووال میں کی گئی، کیونکہ بھارت کی جانب سے سیلابی الرٹ ملنے کے بعد ان اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

    ممتاز صحافی عبدالستار خان کی نیب سے متعلق انگریزی کتاب،کی تقریب رونمائی

    ادھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بھی پنجاب میں شدید بارشوں کے پیش نظر سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا، اگلے 48 گھنٹوں میں بالائی علاقوں میں بارش کے باعث دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ ہے، دریائے چناب، راوی اور ستلج میں ’اونچے سے بہت اونچے درجے‘ کے سیلاب کا خطرہ ہے، جبکہ راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    ممکنہ سیلاب کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان کے کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے، قصور، اوکاڑا، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی سیلاب کے پیش نظر الرٹ پر رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں میں نارووال میں 27 ملی میٹر، سیالکوٹ 5 ملی میٹر، قصور 4 ملی میٹر، لاہور اور گوجرانوالہ 3 ملی میٹر، جبکہ گجرات اور خانیوال میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

  • محکمہ موسمیات نے ایک اور طاقتور اسپیل کی پیشگوئی کردی

    محکمہ موسمیات نے ایک اور طاقتور اسپیل کی پیشگوئی کردی

    محکمہ موسمیات نے 27 اگست سے طاقتور اسپیل کی پیشگوئی کردی ہے-

    کراچی میں آج دن بھر موسم ابر آلود رہے گا، حالیہ مون سون سسٹم کے کمزور پڑنے کے باوجود شہر قائد میں موسم زیادہ تر ابر آلود اور ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہےمحکمہ موسمیات ارلی وارننگ پیشگوئی کے مطابق کراچی میں آج سے منگل تک ہلکی بارش کا امکان ہےاتوار اور پیر کو شہر کا مطلع زیادہ تر ابر آلود رہنے کی توقع ہے جبکہ منگل کو موسم ابرآلود اور مرطوب ریکارڈ ہو سکتا ہے۔

    کراچی میں آج درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، ہوا میں نمی کا تناسب 85 فیصد ہے، جنوب مغرب سے ہوائیں 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

    آج تھر پارکر، بدین، عمرکوٹ، میر پور خاص، بدین اور سانگھڑ میں چند مقامات پر تیز ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے جبکہ قمبر شہداد کوٹ، دادو، لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد اور گھوٹکی میں گرج چمک کے ساتھ درمیانی تا ہلکی بارش کا امکان ہےگڈو بیراج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ سکھر اور کوٹری بیراج میں بالترتیب درمیانے اور معمول کا بہاو ہے۔

    واضح رہے کہ کراچی میں 27 اگست سے مون سون کے اگلے اسپیل کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

  • مختلف شہروں میں موسلادھار بارش ، ندی ، نالوں میں طغیانی ، نشیبی علاقے زیر آب

    مختلف شہروں میں موسلادھار بارش ، ندی ، نالوں میں طغیانی ، نشیبی علاقے زیر آب

    مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، شدید بارش سے اسلام آباد کا علاقہ بہارہ کہو اٹھال چوک پانی میں ڈوب گیا، بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیااسلام آباد میں موسلادھار بارش کے بعد راول ڈیم کے اسپل وے کھول دیئے گئے، شدید بارش کے باعث مارگلہ ہلز پر ٹریل 2-3-4 اور 5 کو آج بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہےعلاوہ ازیں خیبر پختونخوا اور پنجاب موسلادھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ، چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں کئی افراد جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق بارشوں کے سسٹمز کی موجودگی سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر میں تیز بارشوں، آندھی اورژالہ باری کا امکان ہےاین ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظرمتعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔

    پنجاب میں شدید بارشیں اور سیلاب کی وجہ سے تربیلاڈیم 99 فیصد تک بھر گیافلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق تربیلاڈیم میں پانی کا لیول1549.20 فٹ ریکارڈ کیا ہے جو 99 فیصد جبکہ منگلاڈیم میں پانی کا لیول 1219.40 فٹ ہونے کے بعد 76فیصد تک بھر گیا ہےاسی طرح راول ڈیم کا لیول 1751.70 فٹ، خانپور ڈیم 1979 فٹ، سملی ڈیم کا لیول 2313.90 فٹ ہے۔

    ادھر دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 5 لاکھ 43 ہزار 184 اور اخراج 5 لاکھ 7 ہزار853 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے اور ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ تربیلا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    اس کے علاوہ دریائے راوی کے اہم مقامات پربہاؤ معمول کے مطابق ہے، دریائے راوی کے ملحقہ نالہ بسنتر میں بہاؤ میں کمی کے ساتھ نچلے درجے کا سیلاب ہے، دریائے جہلم، چناب، کابل اور ناری کے اہم مقامات پر بہاؤ معمول کے مطابق ہےڈی جی خان ریجن کے پہاڑی برساتی نالے سنگھڑ، وہواء اور کوڑا میں بھی بہاؤ معمول کے مطابق ہے جبکہ راجن پور ریجن کے پہاڑی برساتی نالوں میں کوئی بہاؤ نہیں ہے۔

    دوسری جانب بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کے باعث مزید کئی نشیبی علاقے ڈوب گئے اور ہزاروں ایکڑ پرکھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں طوفان سے تباہی کے نتیجے میں اب تک 8 افراد جاں بحق اور 47 زخمی ہوگئے جبکہ تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث متعدد دیواریں اور چھتیں گر گئیں، طوفان کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔

    ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان عبدالناصر خان نے ضلع میں طوفان سے ہونے والے نقصانات اور جانی نقصان کے سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے،رپورٹ کے مطابق طوفان کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 5 تحصیل ڈیرہ اسماعیل خان اور 3 تحصیل پہاڑپور سے ہیں جبکہ 47 زخمیوں میں سے 41 کا علاج ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال اور 6 کا میاں محمد ٹیچنگ اسپتال میں جاری ہے۔

    زخمیوں میں 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے، جو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ 18 زخمیوں کو مشاہدے کے لیے مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے، حادثات میں معمولی زخمی ہونے والے 26 افراد کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اب تک تحصیل کلاچی، درازندہ، پاروہ اور درابن سے کوئی ہلاکت یا زخمی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان عبدالناصر خان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈیرہ اور اسسٹنٹ کمشنر سید ارسلان نے دیر رات تک اسپتالوں کا دورہ کیا اور ریسکیو آپریشنز کی نگرانی کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے متاثرین کے لیے فوری طبی امداد اور سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے اسپتال انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کیا۔

    ضلعی انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کو مزید تیز کر دیا گیا ہے، اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کریں ۔

    طوفان کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ کر سڑکوں پر گر گئے، جس سے ٹریفک متاثر ہوگئی جبکہ گھروں اور عمارتوں پر نصب سولر پینلز بھی ٹوٹ کر گر گئے۔ شدید ہواؤں کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے ضلع تاریکی میں ڈوب گیا۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے مختلف حادثات میں آٹھ افراد کے جاں بحق ہونے پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف اور امداد کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، ان حادثات کے زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے متاثرین کے نقصانات کے ازالے اور ان کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی بھر پور معاونت کرے گی، مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں، متاثرین کی امداد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 406 ہوگئی جبکہ 247 افراد زخمی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے 15 اگست سے اب تک ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی،جاں بحق افراد میں 305 مرد، 55 خواتین اور 46 بچے جبکہ زخمیوں میں 179 مرد، 38 خواتین اور 30 بچے شامل ہیں۔

    بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 3526 گھروں کو نقصان پہنچا، جس میں 2945 گھروں کو جزوی اور 577 گھر مکمل منہدم ہوئےسیلاب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر میں اب تک مجموعی طور پر جاں حق افراد کی تعداد 337 اور صوابی میں 46 ہوگئی۔ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع سوات، بونیر، باجوڑ، مانسہرہ، شانگلہ، دیر لویر، بٹگرام، ڈی آئی خان اور صوابی میں پیش آئے۔

    متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ ادارے آپس میں رابطے میں ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیںپی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

  • مون سون بارشوں کے آٹھویں اسپیل کا الرٹ جاری

    مون سون بارشوں کے آٹھویں اسپیل کا الرٹ جاری

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے صوبے میں مون سون کے 8 ویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا ہے، جس کے مطابق مون سون بارشوں کا آغاز 23 اگست سے ہورہا ہے۔

    ملک کے بالائی اور وسطی حصوں میں 23 سے 27 اگست کے دوران تیز ہواؤں، گرج چمک اور وقفے وقفے سے موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے محکمہ موسمیات کے مطابق 22 اگست سے بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون کی طاقتور ہوائیں ملک کے شمالی حصوں میں داخل ہوں گی جبکہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ بھی 22 اگست کی رات سے شامل ہو جائےگا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ اور مشرقی جنوبی بلوچستان میں 27 سے 29 اگست تک شدید بارشوں کا امکان ہے 23 سے 27 اگست کے دوران کشمیر کے مختلف اضلاع بشمول وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، حویلی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں اکثر مقامات پر بارش جبکہ بعض مقامات پر شدید بارش متوقع ہے،گلگت بلتستان کے علاقوں دیامیر، استور، غذر، ہنزہ، اسکردو، شگر، گانچھے اور گلگت میں بھی بارشوں کا امکان ہےخیبرپختونخوا کے اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، ملاکنڈ، باجوڑ، پشاور، مردان، کرک، بنوں، لکی مروت، وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت متعدد علاقوں میں بارشیں متوقع ہیں۔

    معرکہ حق میں پاکستان نے سچ کی طاقت سے مکار دشمن کو شکست دی ،عطا تارڑ

    پنجاب میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، سرگودھا، فیصل آباد، ساہیوال، خوشاب اور دیگر اضلاع میں 23 سے 27 اگست کے دوران بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ 24 اور 27 اگست کو ڈیرہ غازی خان، بھکر، لیہ، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، راجن پور اور رحیم یار خان میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہےسندھ کے تھرپارکر، عمر کوٹ، مٹھی اور میرپورخاص میں 23 سے 26 اگست کے دوران بارش کی توقع ہے جبکہ بلوچستان کے بارکھان، موسیٰ خیل، لورالائی، سبی، ژوب، قلات اور خضدار میں بھی 23 سے 26 اگست تک بارشیں برس سکتی ہیں۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ان دنوں میں شدید بارشوں کے باعث شمالی پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے برساتی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ مسافروں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں کا سفر احتیاط سے کریں اور موسم کی صورتحال سے باخبر رہیں۔

    کالعدم بی ایل اے کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کا قریبی ساتھی گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا

    دوسری جانب اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) آزاد کشمیر نے بھی 23 اگست سے شروع ہونے والے بارشوں کے نئے سلسلے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہےبارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے تمام ضلعی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو کہا گیا ہے کہ وہ دوران بارش ندی نالوں اور خطرناک مقامات کے قریب جانے سے اجتناب کریں اور ناگزیر سفر کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔

    شدید بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے اضافے سے متعلق الرٹ جاری کردیا گیا ہے جبکہ بالائی پنجاب کے اضلاع میں طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں۔

    ترجمان کے مطابق 23 سے 27 اگست تک دریاؤں کے بالائی حصوں میں شدید طوفانی بارشوں کے باعث پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات ، حافظ آباد سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہےدریائے جہلم، چناب، راوی، ستلج اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبہ بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کردیا ہے۔

    سوات : امدادی کارروائیوں کے دوران مدارس کے طلبا کی ایمانداری کی اعلیٰ مثال

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج کے ارد گرد رہائش پذیر شہریوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات دے دی ہیں،ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر نچلے درجے جبکہ تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے اور سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے،اس کے علاوہ دریائے چناب، جہلم اور راوی میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے، تربیلا ڈیم 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 75 فیصد بھر چکا ہے جبکہ بھارتی ڈیمز میں بھاکڑا 80، پونگ 87 اور تھین ڈیم 85 فیصد بھر چکا ہے۔

  • اگلے 24 گھنٹوں میں کراچی اور سندھ میں شدید بارش کی پیشگوئی

    اگلے 24 گھنٹوں میں کراچی اور سندھ میں شدید بارش کی پیشگوئی

    کراچی اور سندھ کے بعض علاقوں میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے-

    اگلے 12 سے 24 گھنٹوں میں کراچی اور سندھ کے بعض علاقوں میں 50 سے 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہو سکتی ہے، جس سے شہری سیلاب، پانی جمع ہونا اور روزمرہ زندگی میں خلل کا خدشہ ہے،سندھ کے اوپر ایک شدید سسٹم بن رہا ہے جو بدھ کی رات کے بعد کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری مراکز کو متاثر کرے گا، یہ سسٹم صبح تک سمندر کی طرف منتقل ہونے کا امکان ہے اور نچلے سندھ میں شدید بارش کا سبب بن سکتا ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان نے کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص اور سکھر سمیت خطرے والے علاقوں کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے سرکاری اپ ڈیٹس پر گہری نظر رکھیں،کراچی، حیدرآباد، سکھر اور میرپورخاص میں مسلسل بارش اور ناقص نکاسی آب کے باعث شہری سیلاب کا خدشہ ہےٹھٹھہ، بدین، جامشورو اور دادو جیسے اضلاع میں اچانک سیلاب کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

    اسپارکو نے ربیع الاول کے چاند کی متوقع رویت کے بارے میں پیشگوئی کر دی

    دریائے سندھ اور اس کی شاخوں میں پانی کی سطح بڑھنے سے نچلے علاقوں میں پانی بھرنے کا خدشہ ہے،اہم شاہراہیں اور مقامی سڑکیں زیر آب آ سکتی ہیں، جس سے ٹریفک اور روزمرہ کے معمولات شدید متاثر ہوں گے،بجلی اور ٹیلی کام سروسز میں بھی ممکنہ خلل کی توقع ہے-

    حکام نے سیلاب کے پیش نظر شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے قیمتی سامان اور مویشی کو محفوظ جگہوں پر منتقل کریں،گھریلو افراد کو ہنگامی کٹس تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جن میں خوراک، پانی، ادویات اور فرسٹ ایڈ شامل ہوں، اس کے علاوہ یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ برقی آلات کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتی جائے اور زیر آب سڑکوں یا بجلی کے کھمبوں سے مکمل پرہیز کیا جائے، شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مستند سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی برقرار، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

  • بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنا نقصان ہوا؟ اعداد و شمار جاری

    بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کتنا نقصان ہوا؟ اعداد و شمار جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) نے بارشوں اور سیلاب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے جانی نقصان کی اعداد و شمار جاری کر دیئے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے باعث ملک بھر میں 41 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 29 مرد، 9 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، بارشوں اور سیلاب کے باعث خیبر پختونخوا میں 19 افراد جاں بحق جبکہ 1 زخمی ہوا، گلگت بلتستان میں 11 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے، سندھ میں بھی بارشوں سے 11 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون سیزن کے دوران،بارشوں کے باعث اب تک ملک بھر میں 748 افراد جاں بحق اور 978 زخمی ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 459 مرد، 11 خواتین اور 178 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 475 مرد، 243 خواتین اور 260 بچے شامل ہیں، بارشوں اور سیلاب میں ملک بھر میں 990 مکان گرے اور 3 ہزار 898 مویشی بھی ہلاک ہوئے،اب تک پنجاب میں 165، خیبر پختونخوا میں 446 اور سندھ میں 40 افراد جاں حق ہو چکے، اسی طرح گلگت بلتستان میں45، آزاد کشمیر میں 22 اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

    دوسری جانب پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے ) نے خیبرپختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ، بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ڈیٹا بھی جاری کیا ہےجس کے مطابق کے پی میں بارشوں اور سیلاب سے مجموعی طور پر377 افراد جاں بحق جبکہ 182 زخمی ہوئے، کے پی میں سیلاب سے مجموعی طور پر1377 گھروں کو نقصان پہنچا، 1022 گھروں کو جزوی جبکہ 355 گھر مکمل گر گئے،بونیر،صوابی،باجوڑ،مانسہرہ میں کلاؤڈ برسٹ،بارشیں اور سیلاب کےباعث حادثات پیش آئے، صرف بونیر میں 228 افراد جاں حق ہوئے۔

  • پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی صورتحال

    پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی صورتحال

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی صورتحال سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔

    پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مون سون بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے باعث کئی علاقوں میں نچلے اور درمیانے درجے کا سیلاب پیدا ہو چکا ہے،دریائے سندھ میں تربیلا اور کالا باغ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جب کہ چشمہ اور تونسہ بیراج پر پانی کی سطح درمیانے درجے کے سیلاب کے برابر پہنچ چکی ہے۔ دریائے ستلج میں بھی گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ سلیمانکی کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔

    ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے کابل، جہلم، راوی اور چناب میں اس وقت پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم لاہور میں نالہ ایک، پلکھو اور نالہ بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں صورتحال حساس ہو سکتی ہےادھر تربیلا ڈیم 99 فیصد بھر چکا ہے اور اس وقت اس کا واٹر لیول 1549 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ منگلا ڈیم 74 فیصد بھر چکا ہے جس کا موجودہ سطحی لیول 1216.55 فٹ ہےپانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث قریبی نشیبی آبادیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں، نہروں، ندی نالوں اور تالابوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور نہ ہی ان میں نہانے کی کوشش کریں،دریاؤں کے پاٹ میں رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم

  • ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی

    ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ اور شمال مشرقی و جنوبی بلو چستان میں اکثر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ کہیں کہیں تیز اور شدید موسلادھار بارش کا امکان ہےبالائی خیبر پختونخوا، کشمیر، شمال مشرقی و جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش ہونے کی توقع ہے،خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی 22 اگست تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے

    محکمہ موسمیات نے سندھ بلوچستان سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں 22 اگست تک شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، اس دوران اسلام آباد، کشمیر، گلگت بلتستان اور بالائی پنجاب کے مختلف اضلاع بشمول راولپنڈی، اٹک، مری، چکوال، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش ہونے کا امکان ہے۔

    پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع

    سندھ کے علاقوں سانگھڑ، سکھر، بے نظیر آباد(نواب شاہ)، مٹھی، تھرپارکر، عمر کوٹ، میرپورخاص، حیدرآباد، کراچی، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، ٹنڈوالہیار، ٹنڈو محمد خان، جامشورو، خیبرپور، لاڑکانہ اور جیکب آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں معمول سے تیز بارش ہو سکتی ہےبلوچستان کے علاقوں سبی، بارکھان، قلعہ سیف اللہ، کیچ، موسیٰ خیل، لورالائی، ژوب، خضدار، لسبیلہ، آواران، گوادر اور پنجگور میں بھی22 اگست تک تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم

  • پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع

    پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع

    پاک فضائیہ نے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب ریلیف آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سی 130 طیاروں نے پی اے ایف بیس نور خان سے 7 ٹن خشک راشن، روزمرہ استعمال کی اشیا اور جان بچانے والی ادویات گلگت پہنچائیں امدادی سامان نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے دور دراز متاثرہ علاقوں میں تقسیم ہوگا،زمینی راستے منقطع ہونے کے باوجود متاثرہ خاندانوں تک ضروری سامان بروقت پہنچایا گیا، پاک فضائیہ کی ٹیموں نے سیلاب میں پھنسے 75 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مربوط اور بروقت کارروائی ملک گیر ایمرجنسی ریلیف مہم کا حصہ ہے، جو قدرتی آفات کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے عزم کی عکاس ہے امدادی کارروائیاں مربوط اور انتہائی سرعت کے ساتھ جاری رہیں گی،پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی پاک فضائیہ کے طیارے اور زمینی ٹیمیں مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف رہیں گی اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، رہائش اور طبی امداد فراہم کی جائے گی،پاک فضائیہ کے بروقت اور جرات مندانہ ردعمل نے گلگت بلتستان کے متاثرہ خاندانوں کو نئی امید دلائی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلح افواج ہر مشکل گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔