Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    فتنتہ الخوارج کے خارجی نورولی اور غٹ حاجی کی آڈیو لیک منظر عام پر آ گئی

    ذرائع کے مطابق "آڈیو میں خارجی نور ولی محسود غٹ حاجی کوپاکستان میں داخل ہونے والے دہشتگردوں کو واپس نہ آنے کے لیے دباو ڈال رہا ہے” لیک آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خارجی نور ولی محسود کہتا ہے کہ "مجاہدین کو اطلاع کر دو کہ ہماری طرف سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں””ہر کوئی اپنے آپ کو تیار رکھے اور سب قربانی دینے کے لیے تیار رہیں، مجاہدین کو راستہ بدلنے کی اجازت نہیں””ہماری کوشش ہے کہ سب ساتھ مل کر اسی راستے پر چلتے رہیں”

    دفاعی ماہرین کاکہنا ہے کہ "لیک آڈیو واضح ثبوت ہے کہ فتنتہ الخوارج کے سرغنہ افغانستان میں چھپے بیٹھے ہیں جہاں سے وہ دہشتگردوں کوہدایات جاری کرتے ہیں” ،فتنتہ الخوارج کی افغانستان میں محفوظ پناگاہیں افغان طالبان کی براہ راست مدد اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں”،فتنتہ الخوارج افغان سرزمین سے افغان طالبان کی مکمل حمایت سے پاکستان میں دہشتگرد حملے کرتے ہیں "،”یہ ثابت ہو چکا ہے کہ فتنتہ الخوارج اور افغان طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں””لیک آڈیو سےواضح طور پر مستقبل میں بھی افغانستان سے مزید خارجیوں کے پاکستان میں داخل ہونے کا اشارہ ملتا ہے” "خارجی نور ولی افغانستان میں بیٹھ کر چھوٹے درجے کے دہشتگردوں کو نام نہاد جہاد میں جان دینے کیلیے مجبور کر رہا ہے” "خارجی نور ولی کی ہدایات ظاہر کرتی ہیں کہ حملے کرنے والے نچلے درجے کے دہشتگرد اب افغانستان میں بیٹھے آقاؤں سےتنگ آچکے ہیں”اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کے پاکستان کی طرف سے موثر انگیجمنٹ سے خوارجین کے لیے افغانستان کی زمین تنگ پڑتی جا رہی ہے، اگر فتنتہ الخوارج کافتنہ صحیح معنوں میں جہاد ہے تو خارجی نور ولی جیسے سرغنہ خود آگے ہو کر سیکیورٹی فورسز کا سامنا کیوں نہیں کرتے”” یہ حقیقت ہے کہ خارجی نور ولی جہاد کے نام پر اپنے پیروکاروں کو گمراہ کر کے ڈالر کما رہا ہے”

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا

    سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا

    پاکستان، افغانستان اور یو اے ای کے درمیان سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا.

    رپورٹ کے مطابق پچاس اوورز پر مشتمل ٹورنامنٹ ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلا جائے گا، تین ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ کا فائنل 26 نومبر کو ہوگا۔سعد بیگ کی زیرقیادت ٹیم ہفتہ کو دبئی پہنچی ، ٹیم نے تین پریکٹس سیشنز میں حصہ لیا۔پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ میں دیگر ٹیموں سے مقابلے کے لیے بھرپور تیار اور پرعزم ہے، تین ملکی سیریز کے اختتام کے بعد پاکستان آٹھ ٹیموں پر مشتمل اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں حصہ لے گا، انڈر 19 ایشیا کپ 29 نومبر سے 8 دسمبر تک دبئی اور شارجہ میں ہوگا۔15 رکنی سکواڈ میں سے تین کھلاڑیوں سعد بیگ، شاہ زیب خان اور طیب عارف کو آئی سی سی اکیڈمی میں کھیلنے کا تجربہ بھی حاصل ہے کیونکہ تینوں کھلاڑی گزشتہ سال اسی مقام پر ہونے والے اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں شامل تھے۔سعد بیگ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹورنامنٹ کی تیاری اچھی رہی ہے، کھلاڑیوں کے تربیتی سیشن بھی بہترین رہے اور اب ہماری توجہ کل کے کھیل اور ٹورنامنٹ پر ہے۔سعد بیگ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان اور متحدہ عرب امارات دونوں مضبوط سائیڈز ہیں اوریہ اے سی سی ایشیا کپ سے پہلے کمبینیشن بنانے کا بہترین موقع ہے۔تین ملکی سیریز کے لیے پاکستان انڈر 19 سکواڈ میں سعد بیگ (کپتان، وکٹ کیپر) (کراچی)، عبدالسبحان (ایبٹ آباد)، علی رضا (سیالکوٹ)، فہام الحق (لاہور)، فرحان یوسف (لاہور)، ہارون ارشد (کراچی)، حسن خان (راولپنڈی) )، محمد احمد (لاہور)، محمد حذیفہ (بہاولپور)، محمد ریاض اللہ (ایبٹ آباد)، نوید احمد خان (کراچی)، شاہ زیب خان (ایبٹ آباد)، طیب عارف (سیالکوٹ)، عمر زیب (ایبٹ آباد) اور عثمان خان (فاٹا) جبکہ ریزرو کھلاڑیوں میں احمد حسین (پشاور)، رضوان اللہ (کراچی) اور یحییٰ بن عبدالرحمٰن (لاہور) شامل ہیں۔پاکستان انڈر 19 کے تمام میچز آئی سی سی اکیڈمی میں کھیلے جائیں گے ۔ پاکستانی وقت کے مطابق میچز کا آغاز صبح 10.30 بجے ہو گا۔

    اورماڑہ کے سمندر میں پاکستان گوسٹ گارڈ کی گشتی ٹیم پرحملہ

    بابا گرونانک کی تقریبات میں شرکت کے لئے لاڑکانہ سے یاتری روانہ

    چیف آف جنرل اسٹاف اویس دستگیر کی چینی آرمی کے کمانڈر سے ملاقات

  • افغانستان کا دوہرا معیار،اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،مگر خواتین کی تعلیم پر پابندی

    افغانستان کا دوہرا معیار،اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار،مگر خواتین کی تعلیم پر پابندی

    طالبان وزیر کا ٹی وی پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بیان
    افغانستان حکومت کے ایک وزیر نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں یہ بیان دیا ہے کہ تحریک طالبان افغانستان اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں رکھتی۔

    طالبان حکومت کے اس بیان پر ردعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر ان مسائل کی روشنی میں جو افغان خواتین کی تعلیم، خواتین کے حقوق اور جدید تعلیم کے حوالے سے موجود ہیں۔افغان وزیر نے کہا، "ہم عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے تیار ہیں، بشمول اسرائیل کے ساتھ۔” ان کے اس بیان نے کئی سوالات کو جنم دیا، خاص طور پر یہ کہ طالبان کی حکومت کی پالیسیوں میں کس حد تک تبدیلی آرہی ہے۔ایک طرف افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کا بغیر پردے کے گھروں سے نکلنے پر پابندی ،دوسری جانب اسرائیل جیسے ملک جو غزہ میں انسانیت کا قتل عام کر رہا ہے کو افغان حکومت تسلیم کرنے کو تیار ہے،

    افغان وزیر کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔افغانستان میں 87 فیصد افغان لڑکیوں اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ 70 فیصد خواتین پولیس افسر اور اہلکاروں کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ دوہری پالیسی ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ جبکہ ایک طرف بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اشارے دیے جا رہے ہیں، دوسری طرف داخلی مسائل اور خواتین کی تعلیم میں رکاوٹیں موجود ہیں۔مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ طالبان کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرنی ہوگی تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جا سکیں۔

    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پرپابندیاں نہ صرف خواتین کی ترقی کو روکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کو محدود کرنا ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو جدید دور کے تقاضوں کے خلاف ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ ایک بڑی معاشرتی بحرانی صورت حال پیدا کر سکتا ہے

  • ایرانی فورسز کی فائرنگ سے 200 سےزائد افغان شہری جاں بحق

    ایرانی فورسز کی فائرنگ سے 200 سےزائد افغان شہری جاں بحق

    سیستان: افغان میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں فائرنگ سے 200 سےزیادہ افغان شہری جاں بحق ہوگئے جبکہ ایرانی بارڈر گارڈز کی جانب سے فائرنگ کی تردید کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق افغان شہری غیر قانونی طریقے سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، ایران میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔

    ایران میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ایران میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغانوں کی تعداد 300 تھی، ایرانی بارڈرگارڈز نے پہاڑوں میں چھپ کر افغان شہریوں کو نشانہ بنایاایرانی بارڈر گارڈز کی فائرنگ سے صرف 50 افغان شہری بچ سکے۔

    ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں اسرائیلی شہری گرفتار

    افغان عینی شاہد کا بتانا ہے کہ ہمیں ایران کے علاقے کلگان سراوان میں نشانہ بنایا گیا، ہمارے قافلے میں 300 افراد تھے جن میں سے 270 یا 280 مارے گئے۔

    دوسری جانب افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان حکومت واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، افغانستان کے حکومتی ادارے اور سفارتی مشنز اس حوالے سے تحقیقات کررہے ہیں۔

    ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں

  • ایس سی او اجلاس،افغانستان شریک نہیں ہو گا

    ایس سی او اجلاس،افغانستان شریک نہیں ہو گا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان اجلاس میں افغانستان شامل نہیں ہو گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی ایس سی او اجلاس میں افغانستان کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی،پاکستان نے بطور ایس سی او چیئر افغانستان کی شرکت میں رکاوٹیں نہیں ڈالیں، افغانستان ایس سی او کا ممبر نہیں، آبزرور ریاست اور غیر فعال ہے،افغانستان 7 جون 2012 کو ایس سی او کا آبزرور بنا اور ستمبر 2021 سے غیر فعال ہے، امارات اسلامی افغانستان نے ایس سی او افغان معاہدے کی اکثر شقوں کو تسلیم نہیں کیا، امارات اسلامی افغانستان سابق افغان حکومت کو اپنی پیشرو حکومت تسلیم نہیں کرتی،ذرائع کے مطابق امارت اسلامی افغانستان کے لیے ایس سی او افغان معاہدے کو تسلیم کرنا ضروری ہے، ایس سی او کے دو آبزرور ممالک افغانستان اور منگولیا ہیں، ایس سی او سربراہان اجلاس میں ڈائیلاگ پارٹنرز کو بھی مدعو نہیں کیا گیا، ایس سی او سیکرٹریٹ نے صرف آبزرور رکن منگولیا کو مدعو کیا ہے۔

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا سربراہی اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں چین، روس، بھارت، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس پاکستان کے لیے سفارتی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں خطے کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں اقتصادی ترقی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام کے امور شامل ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی اور فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کارروائیاں کریں گے۔ سڑکوں پر گشت، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس، اور اہم مقامات پر سکیورٹی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔اس کانفرنس میں بھارت کی شرکت بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی نمائندے کی شرکت کی تصدیق کی جا چکی ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

  • افغان وزارت خارجہ کا بیان قابل مذمت،ناقابل قبول ہے،پاکستان

    افغان وزارت خارجہ کا بیان قابل مذمت،ناقابل قبول ہے،پاکستان

    افغانستان کی وزارت خارجہ کے بیان پر پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ کا درعمل سامنے آیا ہے
    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان مسترد کرتے ہیں، افغان وزارت خارجہ کا بیان غیر سنجیدہ تھا،یہ بیان پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابل قبول اور قابل مذمت مداخلت ہے،جمہوری ملک کو لیکچر دینے کے بجائے اپنے مقامی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے،افغانستان کو دہشت گرد گروپوں کو جگہ دینے سے انکار کرکے بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدوں کو بھی پورا کرنا چاہیے،افغانستان میں دہشت گرد گروپس پڑوسی ممالک کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، افغانستان کو ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکنا چاہیے،پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور تعاون کے لیے پر عزم ہے،

    واضح رہے کہ پاکستان کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ پڑوسی ملک پاکستان میں حکومت اور سیاسی مخالفین کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے جس کے منفی اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔عوام کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کا بہترین طریقہ گفت و شنید اور افہام و تفہیم سے ہے۔ حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ مذاکرات سے انکار مسئلے کو مزید پیچیدہ کررہا ہے۔ہم پاکستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ حکومت پاکستان اور بااثر ادارے بڑھتی ہوئی ناراضگیوں کے ساتھ معقول اور حقیقت پسندانہ سلوک کرے۔

    افغان وزارت خارجہ کا گمراہ کن بیان یہ گماں ظاہر کرتا ہے کہ کیا افغان بلوائی جنہوں نے کل توڑ پھوڑ میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا، وہ ہمسایہ ملک نے سرکاری طور پر تو فراہم نہیں کیے تھے؟ کیا اس بیان کے بعد کیا تحریک انتشار اور سرحد پار سہولت کاروں کے درمیان گٹھ جوڑ میں کوئی شک رہ گیا ہے ؟کیا اس بیان سے یہ تاثُر بھی نہیں ملتا کہ پاکستان کے قومی ترانے کے دوران بیٹھے رہنے کی اجازت بھی گنڈا پور نے خود ہی دی تھی ؟بہت حیرت انگیز بات ہے کہ افغانستان جہاں جمہوریت بالکل مفقود ہے، انسانی حقوق نام چیز ناپید ہے اور عورتوں کو بھر بکریوں سے ابتر سمجھا جاتا ہے وہ ملک آج ہمیں سمجھا جا رہا ہے – دیکھو تو سہی کون بول رہا ہے بجائے اپنا گھر سیدھا کرنے کے افغان حکومت اپنے بڑے ابو کو مشورے دے رہی ہے،شدید اچنبھے کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی صورت حال نہیں بلکہ پاکستان خطے کیلئے خطرہ ہے ،واہ جی واہ،دوسروں کو نصیحت۔ خود میاں فضیحت

  • روس کا افغانستان کے لیے خصوصی پروٹوکول‘ بڑی تجارتی سرگرمیاں ‘پاکستان فیصلہ کرنے میں ناکام

    روس کا افغانستان کے لیے خصوصی پروٹوکول‘ بڑی تجارتی سرگرمیاں ‘پاکستان فیصلہ کرنے میں ناکام

    روس نے علاقائی ملکوں کے ”ماسکو فارمیٹ“ اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ سیاسی‘ اقتصادی‘ انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں بات چیت اور عمل درآمد کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا ہے.

    باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق میزبان ماسکو نے افغانستان پر مشاورت کے ماسکو فارمیٹ کے چھٹے اجلاس میں افغانستان کے وزیرخارجہ عامرخان متقی کوخصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا اجلاس میں چین‘ پاکستان بھارت‘ ایران‘ قازقستان‘ کرغزستان‘ تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندے اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی.روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی وزیر خارجہ لاوروف نے اپنی تقریر میں کہا کہ انہیںخاص طور پر افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کو خوش آمدید کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے جو اس تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مسائل کا حل یا ان پر بات چیت ملکی نمائندوں کے بغیرممکن نہیں ہے شرکاءنے افغانستان کے لیے بین الاقوامی انسانی امداد کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کا سیاسی محرک نہیں ہونا چاہیے.

    اجلاس کے دوران افغانستان کی ترقی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا گیا شرکا نے انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کی کوششوں میں کابل کی مدد کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کیا اجلاس کے شرکاءنے افغانستان میں شامل علاقائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی ترقی میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور کابل کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تبادلوں اور سرمایہ کاری کے تعاون کی امید افزا نوعیت کو نوٹ کیا.روسی وزارت خارجہ کی پریس ریلیز کے مطابق شرکا نے افغانستان کے لیے بین الاقوامی انسانی امداد کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کا سیاسی محرک نہیں ہونا چاہیے شرکاءنے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں طالبان حکام پر زور دیا گیا ہے کہ کہ وہ افغان عوام کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے ان کی مزید نقل مکانی کو روکنے اور مہاجرین کی واپسی کے لیے ضروری حالات فراہم کریں.

    ماسکو فارمیٹ 2017 میں قائم کیا گیا تھا جس کے بعد سے یہ غربت کے شکار اور جنگ زدہ افغانستان کو درپیش چیلنجوں پر بات چیت کا ایک باقاعدہ پلیٹ فارم بن گیا ہے طالبان حکومت کہہ چکی ہے کہ ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے افغانستان کو اپنی قومی معیشت کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے برکس جیسے فورمز میں شرکت کی ضرورت ہے برکس اس وقت دس ملکوں پر مشتمل تنظیم ہے جسے برازیل‘روس‘ بھارت‘ چین اور جنوبی افریقہ نے قائم کیا تھاادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنی دیرینہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرئے اور ہمسایہ ممالک میں پیش آنے والی تبدیلیوں کے مطابق امریکی پالیسی کے زیراثررہنے کی بجائے بھارت کی طرزپر غیرجانبدرانہ خارجہ پالیسی اپناتے ہوئے پوری دنیا خصوصا ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرئے.

    سکیورٹی فورسز نے بحالی امن کیلئے ہمیشہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،وزیر اعلی بلوچستان

    گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں گورنر راج لگانے کا اشارہ دے دیا

  • افغان خواتین کی سیاسی پناہ سے متعلق یورپی عدالت نے  فیصلہ سنا دیا

    افغان خواتین کی سیاسی پناہ سے متعلق یورپی عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    یورپی یونین کی اعلی عدالت نے افغان خواتین کو سیاسی پناہ دینے سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا۔

    غیر ملکی میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا ہے کہ افغان خواتین کو سیاسی پناہ دینے کے لیے صرف جنس اور قومیت ہی کافی ہے۔ای سی جے نے فیصلہ سنایا کہ طالبان کی طرف سے خواتین کے خلاف اختیار کیے گئے امتیازی اقدامات ظلم کی کارروائیاں ہیں جو کہ پناہ گزینوں کی حیثیت کو تسلیم کرنے کا جواز ہیں۔سویڈن، فن لینڈ اور ڈنمارک پہلے ہی سیاسی پناہ حاصل کرنے والی تمام افغان خواتین کو پناہ گزین کا درجہ دے چکے ہیں۔یہ فیصلہ آسٹریا کی جانب سے 2015 اور 2020 میں پناہ کی درخواست دینے کے بعد دو افغان خواتین کی پناہ گزین کی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد آیا ،دونوں خواتین نے انکار کو آسٹریا کی سپریم ایڈمنسٹریٹو کورٹ کے سامنے چیلنج کیا جس نے پھر ای سی جی سے فیصلہ طلب کیا تھا۔ای سی جے کیس کی دستاویز میں کہا گیا کہ ایف این نے عدالت کو بتایا کہ اگر ایک خاتون کے طور پر انہیں افغانستان ڈی پورٹ کیا جاتا ہے تو انہیں اغوا کا خطرہ لاحق ہو جائے گا، وہ اسکول جانے سے قاصر ہوں گی اور شاید وہ اپنی کفالت کرنے سے قاصر ہوں گی۔

    کراچی میں منوڑا کے ساحل پر دو خواتین سمیت چار افراد ڈوب گئے

    پاکستانی ٹیم کا بدترین شکست کا باعث بننے والی بیٹنگ لائن کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • افغانستان میں انسانی بحران اور سکیورٹی صورتحال درست کرنا ضروری ہے،شہزادہ فیصل بن فرحان

    افغانستان میں انسانی بحران اور سکیورٹی صورتحال درست کرنا ضروری ہے،شہزادہ فیصل بن فرحان

    نیویارک: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ،افغانستان کو دہشتگردوں کا شکار بننے کیلئے اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، افغانستان میں انسانی بحران اور سکیورٹی صورتحال درست کرنا ضروری ہے،عالمی برادری یوکرین روس بحران ختم کرے، سعودی عرب اس کیلئے بھرپورکوشش کر رہاہے۔

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا سعودی عرب فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کویکسر مستردکرتا ہے، سعودی عرب جنگ کے آغاز سےاب تک فلسطینی عوام کیلئے 5 ارب ڈالر امداد دے چکا ہے، فلسطینیوں کیلئے یو این امدای ایجنسیز کے تعاون سے 106ارب ڈالرکے پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے سروسز، غذا، دوا اور دیگر ضروری اشیاکے پراجیکٹس شامل ہیں۔

    شام میں امریکی فوجی اڈےپرڈرون حملہ

    سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا امید ہے ایران اپنے ایٹمی، بیلسٹک مزائل پروگرام پر عالمی برادری سے تعاون کرےگا، جنگ سے متاثرہ شام سے تعلقات بحالی کا مقصد خطے میں امن کو فروغ دینا ہے، سعودی عرب یمن بحران، بحیرہ احمرکی صورتحال کے پُرامن حل کیلئے ہرکوشش کی حمایت کر رہا ہے، افغانستان کی صورتحال جنگجو ملشیا، مختلف گروپوں کیلئے سازگاربنی ہوئی ہے، افغانستان کو دہشتگردوں کا شکار بننے کیلئے اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، افغانستان میں انسانی بحران اور سکیورٹی صورتحال درست کرنا ضروری ہے۔

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے،نیتن یاہو

  • مجھے افغانستان نہیں جانے دیا جا رہا،اعظم سواتی

    مجھے افغانستان نہیں جانے دیا جا رہا،اعظم سواتی

    پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی افغانستان جانے کی اجازت نہ دینے کے خلاف درخواست کی پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    اعظم سواتی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی،اعظم سواتی عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ مجھے افغانستان جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی،بلیو پاسپورٹ پر جانا چاہتا ہوں لیکن اسحاق داڑ کلاون بیٹھا ہے اسکی وجہ سے نہیں جاسکتا، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ عدالت میں ایسے الفاظ استعمال نہ کریں،اعظم سواتی نے عدالت سے معذرت کرلی،پشاور ہائیکورٹ نے اعظم سواتی کا بلیو پاسپورٹ پر افغانستان سفر کی اجازت کے لیے کیس میں وزارت خارجہ سے جواب طلب کرلیا

    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ عمران خان جیل سے نکلیں گے اور ملک سیاسی استحکام آئے گا، کرپٹ حکومت اور انکے ہینڈلرز نے قاضی فائز عیسی، عامر فاروق اور راجہ سکندر کا کندھا استعمال کرکے آزاد عدلیہ اور بنیادی انسانی حقوق پر چڑھائی کی اس کا مقابلہ کریں گے، غیر منتخب حکومت نے عدلیہ پر چڑھائی کی، فرسودہ اور انصاف کے منافی ترامیم پر ان کو شکست ہو گی، پشاور میں 3 اکتوبر کو وکلاء کنونشن ہو گا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد