Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • اشرف غنی کے تاخیری حربے از عدنان عادل

    اشرف غنی طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان سے مصالحتی عمل میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، جس کے باعث گزشتہ ہفتہ افغان طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ قیدیوں کی رہائی پر بات چیت ختم کردی اور ان کا وفد افغان دارلحکومت سے واپس قطر روانہ ہوگیا۔تئیس مارچ کو امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپوکابل گئے تھے جہاں انہوں نے اشرف غنی کو صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ طالبان سے مصالحتی معاہدہ پر عملدرآمد کریں ورنہ امریکہ یکطرفہ طور پر اپنی تمام افواج افغانستان سے نکال لے گا اور انکی حکومت کو ایک ارب ڈالر کی وہ امداد نہیں دے گا جسکا وعدہ کیا گیا تھا۔ امریکہ کی اس تنبیہ کے باوجود اشرف غنی نے طالبان سے حالیہ بات چیت میں سخت روّیہ اختیار کیا اور اُن پندرہ سینئرطالبان کمانڈروں کو قید سے رہا کرنے سے انکار کردیاجس کامطالبہ طالبان کررہے تھے۔ حالانکہ طالبان نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی بار کابل انتظامیہ کے وجود کو عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس سے بات چیت شروع کی تھی۔ مائک پومپیو کے کابل میں ناکام مشن کے بعد امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیا کے لیے نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھی چند روز پہلے تنبیہ کے انداز میں یہ بیان دیا کہ امریکہ افغانستان کو اسی صورت میں مالی امداد دے گا جب وہاں تمام فریقوں پر مشتمل حکومت قائم ہوگی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس کا لب و لہجہ خاصا سخت تھا۔ اس پیغام کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ اب بین الاقوامی امداد دینے والے افغانستان میں پہلے کی طرح کام نہیںکریں گے۔ عالمی امدادسب فریقوں پر مشتمل حکومت کو ہی دی جائے گی۔اس اعتبار سے ایلس ویلز کی تنبیہ پومپیو سے بھی ایک قدم آگے تھی کہ انہوں نے نہ صرف امریکی امداد بلکہ تمام عالمی امداد کو افغان امن عمل اور وسیع البنیاد حکومت کے قیام سے مشروط کردیا۔یہ امریکی وارننگ اس لیے بہت اہمیت رکھتی ہے کہ افغانستان حکومت کا اسّی فیصد سے زیادہ بجٹ بیرونی امداد پر مشتمل ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک گزشتہ اٹھارہ برسوں میں کابل حکومت کو براہ راست ایک سو چالیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم دے چکے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو کااپنی فوجیں افغانستان میں رکھنے پر جو اخراجات ہوئے وہ اس کے سوا ہیں۔ ان حالات میں اشرف غنی کا طالبان سے مذاکرات میں ہٹ دھری پر مبنی روّیہ بلاوجہ نہیں ہے۔ جب انتیس فروری کو امریکہ اور طالبان نے قطر میں امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے ۔اس سے اشرف غنی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ مستقبل میں افغانستان میں طالبان کو اپنا بڑااتحادی اور شریک کار بنانا چاہتی ہے۔امریکہ افغانستان میںجو وسیع البنیاد حکومت بنانے کی بات کررہا ہے اس میں طالبان غالب ہونگے ۔

    اشرف غنی اور ان کی اتحادی لبرل اشرافیہ اقتدار میں جونئیرحصہ دار ہونگے۔ امریکہ کے طالبان سے معاہدہ کے نتیجہ میں بھارت کو بھی بڑا دھچکہ پہنچا ہے کیونکہ وہ امریکہ کا شریک کار بن کر افغانستان اور وسط ایشیا میں اپنے ایجنڈے کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا۔بھارت کی پالیسی یہ رہی ہے کہ کابل میں ایسی حکومت قائم رہے جو علاقائی سیاست میںاس کی حامی اور پاکستان کی مخالف ہو‘ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں اس کی مددگار ہو۔امریکی پالیسی میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار کم سے کم رہ جائے گا جبکہ پاکستان کا کردار زیادہ اہم ہوجائے گا۔ امریکہ اور طالبان معاہدہ صرف افغانستان نہیں بلکہ علاقائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اس معاہدہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ امریکہ کی وسط ایشیائی تزویراتی پالیسی میںبھارت کی جگہ پاکستان کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی۔ بھارت کے لیے یہ ایک بڑا صدمہ ہے۔ اسی لیے بھارت طالبان کے خلاف اشرف غنی حکومت کی بھرپور مدد کررہا ہے۔ بھارت کا کابل کی لبرل اشرافیہ میں گہرا اثر و رسوخ ہے جس پر وہ بھاری سرمایہ کاری کرتا ہے۔اشرف غنی کے ارد گرد جو لوگ ہیں انکے دہلی کے حکمرانوں سے گہرے روابط ہیں۔موجودہ حالات میں ان دونوں کا مشترک مفاد یہ ہے کہ طالبان کو کابل میں حکومت بنانے کا موقع نہ مل سکے۔ مصالحتی عمل کو اتنا طویل اور پیچیدہ بنادیا جائے کہ امریکہ اور طالبان کا امن معاہدہ غیر مؤثر ہوجائے۔ یہ دونوں پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ امریکہ کے افغانستان میں طویل مدتی‘ تزویراتی مفادات ہیں۔ وہ اگر یکطرفہ طور پر فوجوں کا انخلا کرے گا ،تو اسکے خطہ میں مفادات اور اسکی ساکھ کو سخت نقصان پہنچے گا ۔اس لیے صدر ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل نہیں کرسکیں گے۔ بھارت سفارتی سطح پر ہر وہ کوشش کرے گا جس سے صدر ٹرمپ کواپنی دھمکی پر عمل کرنے سے کچھ عرصہ کے لیے باز رکھا جاسکے۔

    منصوبہ یہ ہے کہ وسیع البنیاد حکومت کے قیام میں کم سے کم اتنی تاخیر ہو جائے کہ اس سال نومبر میںامریکہ کے صدارتی الیکشن گزر جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن ہار جائیںاور نیا ڈیموکریٹک صدرانکی پالیسی جاری نہ رکھے‘ طالبان سے معاہدہ توڑ دے۔یوں ایک بار پھر بھارت اور افغان لبرل اشرافیہ کا گٹھ جوڑکابل پر براجمان رہے۔ تاریخی حقیقت ہے کہ ڈیموکریٹ صدورپاکستان کی بجائے بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں ۔ امریکہ اور طالبان کے معاہدہ کے بعد بھارت نے اشرف غنی کو ڈٹ جانے کی تھپکی دی ہے جس سے اُن کے حوصلے بلند ہوئے ہیں ورنہ وہ اور افغان لبرل اشرافیہ اس پوزیشن میں نہیں کہ ایک دن بھی امریکی امداد کے بغیر گزارہ کرسکیں‘ نہ وہ امریکی افواج کی مدد کے بغیر طالبان کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔اگلے چند مہینوں میں واضح ہوجائے گا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے افغان منصوبہ پرکس قدر ثابت قدمی سے عمل کرتی ہے اور طالبان غنی انتظامیہ پر اپنا دباؤ کس قدر بڑھاتے ہیں۔

    عدنان عادل

  • ملٹری کیمپ پر خودکش حملہ، پانچ فوجی زخمی

    کابل: دارالحکومت میں ملٹری کے تربیتی مرکز پر خودکش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں تین فوجی زخمی ہوگئے۔افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد کارروائی کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی اور نہ ہی دھماکے میں کوئی اہلکار جاں بحق ہوا۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں خودکش حملہ آور نے ملٹری ٹریننگ سینٹرکےقریب خود کو دھماکے سے اڑایا جس کے نتیجے میں پانچ فوجی زخمی ہوئے۔ادھر افغان صوبے فاریاب میں فورسز کے فضائی حملےمیں دوافغان طالبان کمانڈرملااحمد اورقاری معراج ہلاک جبکہ دو طالبان زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    یاد رہے کہ 2 نومبر کو افغانستان کے دو صوبوں میں بم دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں 9 بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

    پہلا دھماکہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے تخار کے ضلع درقد میں ہوا جس کے نتیجے میں اسکول جانے والے 9 طلب علم جاں بحق ہوئے۔ پولیس حکام کا کہنا تھا بم سڑک کنارے نصب تھا اور جیسے ہی بچے یہاں سے گزرنے لگے زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 9 بچے جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

    گورنر تخار جواد ہجیری کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 8 سے گیارہ سال کے درمیان تھیں جبکہ تین بچے تاحال لاپتہ ہیں۔ اسی طرح دوسرا دھماکہ پکتیکا کے گاؤں سلطان میں ہوا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد سمیت 7 جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

  • پاکستانی سفارت کاروں کوہراساں کرنے کی اطلاعات !

    کابل: ایک طرف اسلام آباد میں اپنوں نے غیروں کو خوش کرنے کے لیے اودھم مچا رکھا ہے تودوسری طرف افغان حکام پاکستانی سفارت کاروں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بننے لگے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکام نے پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

    مولانا کا ’’حلوہ مارچ‘‘قائداعظم کی اپوزیشن اورفواد چوہدری کا جلوہ

    تفصیلات کے مطابق افغان حکام پاکستانی سفارت کاروں کو نقل و حرکت کے دوران روکنے لگے ہیں، سفارت خانے کے ذرایع نے بتایا کہ افغان حکام سفارت کاروں کی گاڑیاں روک کر نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں۔بتایا گیا کہ سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ گزشتہ روز شروع ہوا، سفارت کاروں کو آتے جاتے روک کر ان سے نازیبا زبان میں گفتگو کی جاتی ہے۔

    آزادی مارچ ، شہباز شریف کا سی وی اوربلاول کی معصومیت کے تذکرے

    پاکستان نے معاملہ افغان وزارت خارجہ کے ساتھ اٹھا لیا ہے، تاہم دوسری طرف افغان وزارت خارجہ اپنی خفیہ ایجنسی کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے۔یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل افغانستان کی سیکورٹی فورسز نے پاک افغان سرحدی علاقے پر بلا اشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت پانچ شہری اور 6 جوان زخمی ہو گئے تھے۔

    معروف اینکرمبشرلقمان نے دھرنا ختم ہونے کی پشین گوئی کردی

  • افغان طالبان کے خودکش حملے میں دو غیر ملکی فوجیوں سمیت 12 افراد ہلاک

    افغان طالبان کے خودکش حملے میں دو غیر ملکی فوجیوں سمیت 12 افراد ہلاک

    کابل : خود کش حملے نے افغان کتھ پتلی حکومت اور اتحادیوں کو ہلا کر رکھ دیا ،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان طالبان کے خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں امریکا اور رومانیہ کے 2 فوجی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق خودکش کار بم دھماکا مصروف سفارتی علاقے میں ہوا جہاں امریکی سفارتخانہ بھی قائم ہے جبکہ ایک ہفتے کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ تھا۔نیٹو ریزولیوٹ مشن کے بیان کے مطابق دو سروس اراکین ‘کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے’، بیان میں ہلاک اراکین کے نام یا دیگر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    کابل سے ذرائع کے مطابق یہ چوتھا امریکی اہلکار تھا جو گزشتہ دو ہفتے کے دوران افغانستان میں ہونے والے حملوں میں نشانہ بنا۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے کہا کہ خودکش دھماکے میں 42 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ 12 گاڑیاں تباہ ہوئیں۔چند گھنٹے بعد افغان طالبان نے پڑوسی صوبے لوگر میں افغان ملٹری بیس کے باہر کار بم دھماکا کیا جس میں 4 شہری ہلاک ہوئے۔

  • بہت جلد افغان طالبان سے 13 ہزار امریکی فوجیوں کی محفوظ واپسی کا معاہدہ ہوجائے گا ، زلمے خلیل زاد

    بہت جلد افغان طالبان سے 13 ہزار امریکی فوجیوں کی محفوظ واپسی کا معاہدہ ہوجائے گا ، زلمے خلیل زاد

    دوحہ:افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا فائنل راونڈ شروع ، افغان طالبان سے بہت جلد امریکی فوجیوں کی محفوظ واپسی کا معاہدہ ہوجائے گا، اس سلسلے میں‌ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد پھر قطر روانہ ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کامیاب اختتام کے قریب ہیں۔زلمے خلیل زاد نے قطر روانگی سے قبل کہا کہ امریکا دوحہ میں بقیہ تمام معاملات کے تصفیے کے لیے تیار ہے۔

    امریکی خصوصی ایلچی نے کہا کہ امن عمل کی کامیابی سے افغان عوام داعش کو شکست دینے کی مزید مضبوط پوزیشن میں آ جائیں گے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں افغان امن عمل اور بین الافغان مذاکرات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ نومبر 2020 میں امریکی انتخابات سے پہلے افغانستان سے 13 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی واپسی پر زور دے رہے ہیں۔دوحہ مذاکرات کے نئے راؤنڈ میں امریکی انخلا کی ٹائم لائن طے کرنے کے بدلے تشدد میں کمی اور داعش یا القاعدہ کو تحفظ فراہم نہ کرنے کے افغان طالبان کے وعدے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

  • 11 شہریوں کی ہلاکت، اقوامِ متحدہ حرکت میں آگیا

    11 شہریوں کی ہلاکت، اقوامِ متحدہ حرکت میں آگیا

    کابل:پاکستانی سرحد کے نزدیکی صوبے میں افغان سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں11 افغان شہری مارے گئے ۔حکومتی سیکیورٹی ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کا کہنا ہے کہ پکتیا میں طالبان کی خفیہ پناہ گاہ پر آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 11 عسکریت پسند مارے گئے جن میں 2 عسکری کمانڈر بھی تھے۔

    افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاون مشن کا کہنا ہے کہ اسے تلاشی کے عمل کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر سخت تشویش ہے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ٹیمز اس کی تحقیقات کررہی ہیں۔اقوام متحدہ نے حکومت افغانستان سے اس سارے معاملے کی رپورٹ مانگ لی ہے.

    ذرائع کے مطابق مقامی سیاستدان کا کہنا تھا کہ حکومتی فورسز نے عیدالاضحٰی کی تعطیلات کے دوران طالبعلموں کی ایک تقریب کو نشانہ بنایا۔پکتیا کی صوبائی کونسل کے رکن اللہ میر خان بہرمزوئی نے بتایا کہ ’یونیوسٹی کے ایک طالبعلم نے اپنے ہم جماعتوں کو عشایئے پر مدعو کر رکھا تھا، جب سیکیورٹی فورسز نے گھر کا گھیراؤ کیا اور انہیں باہر نکال کر ایک ایک کر کے قتل کردیا‘۔

  • کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    گزشتہ ہفتہ کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ کھیلا گیا دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین نے انتہائی دلچسپی اور جوش و خروش سے اپنی اپنی ٹیموں کو نعرے بازی اور جھنڈے لہرا کر سپورٹ کیا اس میچ کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش ائے۔ ویسے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر چند یورپی ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان اسٹیڈیم میں لڑائی مار کٹائی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن گزشتہ کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی شائقین پر تشدد کے واقعات بلکل الگ نوعیت کے ہیں کیونکہ ان واقعات میں ملوث پشتون قوم کی نام نہاد نمائندہ جماعت پی ٹی ایم ہے جس نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کرنے اور مارکٹائی کے لیے کرکٹ میچ کو منتخب کیا۔ اسی میچ کے دوران ہوائی جہاز اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا جس کے پیچھے بینرز پر پاکستان مخالف تحریریں درج تھیں ان واقعات کے بعد پاکستانی عوام میں بھی افغانیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی پاکستان اور اس کی افواج کو اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اب تو مسلح کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن میں سے ایک کا تزکرہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پی ٹی ایم کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جا کر اس طرح کے متشدد پاور شو کر سکتی ہے؟ دراصل حقائق اس کے منافی ہیں کرکٹ میچ کے دوران لڑائی مارکٹائی، پاکستان مخالف نعرے بازی اور جہاز کے پیچھے بینرز لہرانا اس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں افغانیوں اور پاکستانی پختونوں سے بہادر، مہمان نواز اور وفادار قوم دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں ہے دشمن (انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور چند پچھلی صفوں میں شامل مسلم ممالک) اپنے اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے چند پختونوں (پی ٹی ایم) کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے چہرے کے پیچھے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں کرکٹ میچ میں بھی شرپسند افغانی، انڈین اور پی ٹی ایم کا بکائو مال تھا تاکہ پاکستانیوں کو پختونوں اور پختونوں کو پاکستانیوں کے خلاف کر کے نفرت کی آگ کو بھڑکایا جائے اور پاکستان میں قومیت اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں ایک بار پھر کہتا ہوں پاکستانی پختونوں اور افغانیوں سے زیادہ پاکستان کا وفادار اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا پختونوں اور افغانیوں کو برا مت کہیں بلکہ پاکستانی اداروں کو پی ٹی ایم، این ڈی ایس اور راء کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ قارئین جس وقت میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں اس وقت پی ٹی ایم کے جھنڈے کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کی این ڈی ایس امریکہ میں قوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف زہریلا احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہوں جس میں ممکنہ طور پر مظاہرین ان پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت پی ٹی ایم کے نہاد لیڈروں کے پروٹیکشن آرڈرز کی فکر میں ہیں اور ان کو بہادر بچے کہتی ہیں۔ آخر میں پاکستانی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر پختون یا افغانی پی ٹی ایم نہیں ہے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور پاکستان کے اصل دشمنوں انڈیا، امریکہ، اسرائیل، این ڈی ایس اور ان کے ایجنٹوں کو پہچانئے۔ دشمن پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر اور فرقہ وارانہ فسادات چاہتا ہے آپ اس سازش کو ناکام بنائیں اور پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑے رہیں۔
    پاکستان ذندہ باد

  • انگلینڈ سے پے درپے شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم آج کس کے مدمقابل ہونے جارہی ہے

    انگلینڈ سے پے درپے شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم آج کس کے مدمقابل ہونے جارہی ہے

    دورہ انگلینڈ کی تلخ یادیں لیے پاکستانی ٹیم آج ورلڈ کپ کے وارم اپ میچ میں افغانستان سے ٹکرائے گی. دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ ورلڈ کپ جوکہ اسی ماہ میں شروع ہو رہا ہے. اس کے وارم اپ میچز کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں آج پاکستان اور افغانستان مدمقابل ہوں گے. افغانستان کی نسبت پاکستان کی ٹیم زیادہ مضبوط نظر آتی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ایک روزہ میچز میں پے درپے 10 میچز میں شکست کھانے والی ٹیم آج افغنستان کے خلاف کیا رنگ دکھاتی ہے. محمد عامر اور وہاب ریاض کی شمولیت سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں.