Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • طالبان حکومت نے افغان الیکشن کمیشن  کو تحلیل کر دیا

    طالبان حکومت نے افغان الیکشن کمیشن کو تحلیل کر دیا

    کابل: طالبان حکومت نے افغان الیکشن کمیشن کو تحلیل کر دیا۔

    باغی ٹی وی :طالبان حکومت کے ترجمان بلال کریمی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ آزاد الیکشن کمیشن اور آزاد انتخابی شکایات کمیشن کے وجود اور کام کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی ہے اگر ہم نے کبھی ضرورت محسوس کی تو اسلامی امارت ان کمیشنوں کو بحال کردے گی۔

    بلال کریمی نے مزیدبتایا ہے کہ حکام نے رواں ہفتے دوسرکاری محکموں یعنی وزارتِ امن اور پارلیمانی امور کی وزارت کو بھی تحلیل کردیا ہےطالبان نے سابق انتظامیہ میں خواتین کے امور کی وزارت کو پہلے ہی بند کردیا تھا اور اس کی جگہ امربالمعروف اورنہی عن المنکرکی نئی وزارت قائم کردی تھی۔

    کیا فلسطینوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے؟ فلسطینیوں کا عالمی برادری سے…

    اس وزارت نے 1990ء کی دہائی میں طالبان حکومت کے پہلے دورمیں مذہبی اصول وضوابط کے سختی سے نفاذ کی وجہ سے بدنامی حاصل کی تھی اب طالبان عالمی برادری پردباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اربوں ڈالر کی معطل شدہ امداد بحال کرے طالبان نے اس مرتبہ اعتدال پسند حکمرانی کے علاوہ خواتین اور اقلیتوں کے احترام کا وعدہ کیا ہے۔

    دوسری جانب انتخابی پینل کے سربراہ رہنے والے اورنگ زیب نے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کو تحلیل کرنے کے بہت برے نتائج برآمد ہوں گے طالبان نے عجلت میں یہ فیصلہ کیا ہے اگریہ ڈھانچہ موجود نہیں تو مجھے سو فی صد یقین ہے کہ افغانستان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے کیونکہ کوئی انتخابات نہیں ہوں گے۔

    کابل: طالبان نے پاسپورٹ جاری کرنا شروع کر ديئے

    یاد رہے کہ ماضی میں اسی الیکشن کمیشن کے زیرنگرانی مغرب کی حمایت یافتہ سابق انتظامیہ کے دور میں انتخابات منعقد ہوتے رہے تھے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق 2006 میں قائم شدہ آئی ای سی کو صدارتی سمیت ہر قسم کے انتخابات کا انتظام اور نگرانی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    گذشتہ دورحکومت میں چارصوبوں کے گورنر رہنے والے ایک سینیرسیاستدان حلیم فدائی کا کہنا ہے کہ’’انتخابی کمیشن کو تحلیل کرنے کے فیصلے سےظاہرہوتا ہے کہ طالبان جمہوریت میں یقین نہیں رکھتے طالبان تمام جمہوری اداروں کے خلاف ہیں کیونکہ انھیں ووٹوں کے ذریعے نہیں،بلکہ گولیوں کے ذریعے اقتدار ملتا ہے۔

    واضح رہے کہ طالبان کے کابل میں افغان حکومت پر قبضے سے قبل انتہاپسند گروہوں نے انتخابی کمیشن کے متعدد عہدے داروں کو قاتلانہ حملوں میں ہلاک کردیا تھا۔

    اقوام متحدہ میں سفیر کی تعیناتی کے لئے طالبان کی دوبارہ درخواست

  • افغان باقی کہسار باقی الحکم للہ الملک للہ:افغان عوام کی مدد کرنے والوں کو سلام :شاہ محمود قریشی

    افغان باقی کہسار باقی الحکم للہ الملک للہ:افغان عوام کی مدد کرنے والوں کو سلام :شاہ محمود قریشی

    لاہور: افغان باقی کہسار باقی الحکم للہ الملک للہ:جو بھی افغان عوام کی مدد کرے گا:وہ انسانیت کی خدمت کرے گا:اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا ہے کہ پاکستان، اسلام آباد میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے بعد افغان عوام کی حمایت میں ہونے والی دو اہم پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہے۔

    اپنےایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کو امداد فراہم کرنے کی قرارداد منظور کی ہے جس میں بنیادی ضروریات فراہمی کی حمایت کی گئی ہے۔

    ایک اور پیشرفت میں، انہوں نے کہا کہ امریکا نے امداد کی فراہمی میں آسانی کے لیے طالبان کے ساتھ کاروبار کرنے والے امریکی اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

     

    یاد رہےکہ اس سے پہلے پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی افغانستان کے لیے انسانی امداد سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

    ذرائع کے مطابق منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فنڈز کی ادائیگی، دیگر مالیاتی اثاثوں یا اقتصادی وسائل اور امداد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے یا ضروری سامان اور خدمات کی اجازت ہے۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی امداد افغانستان میں بنیادی انسانی ضروریات سے متعلق ہے اور یہ طالبان سے منسلک اداروں پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

    امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرارداد کی منظوری عالمی برادری کا پیغام ہے کہ ہم افغان عوام کی مدد کے لیے متحد ہیں۔تھامس ویسٹ نے کہا کہ قرارداد امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تھی۔

    دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس کے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد بہت اہم پیش رفت ہے۔اس کے بغیرافغان عوام کی مدد کے دروازے کھل نہیں سکتے تھے۔

  • پاکستان کی کوششیں رنگ لانے لگیں:سلامتی کونسل میں افغانستان کے لئے امداد کی قرارداد منظور

    پاکستان کی کوششیں رنگ لانے لگیں:سلامتی کونسل میں افغانستان کے لئے امداد کی قرارداد منظور

    نیویارک :پاکستان کی کوششیں رنگ لانے لگیں:سلامتی کونسل میں افغانستان کے لئے امداد کی قرارداد منظور،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی افغانستان کے لیے انسانی امداد سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

    ذرائع کے مطابق منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فنڈز کی ادائیگی، دیگر مالیاتی اثاثوں یا اقتصادی وسائل اور امداد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے یا ضروری سامان اور خدمات کی اجازت ہے۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی امداد افغانستان میں بنیادی انسانی ضروریات سے متعلق ہے اور یہ طالبان سے منسلک اداروں پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

    امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرارداد کی منظوری عالمی برادری کا پیغام ہے کہ ہم افغان عوام کی مدد کے لیے متحد ہیں۔

    تھامس ویسٹ نے کہا کہ قرارداد امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تھی۔

    دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس کے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد بہت اہم پیش رفت ہے۔اس کے بغیرافغان عوام کی مدد کے دروازے کھل نہیں سکتے تھے۔

  • وزیر خارجہ نے کیا افغانستان کی مدد سے متعلق پیشرفت کا خیرمقدم

    وزیر خارجہ نے کیا افغانستان کی مدد سے متعلق پیشرفت کا خیرمقدم

    وزیر خارجہ نے کیا افغانستان کی مدد سے متعلق پیشرفت کا خیرمقدم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یواین سیکیورٹی کونسل کی افغانستان کی مدد کیلئے قرارداد منظورہوئی ،

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مدد سے متعلق پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہیں اقوام متحدہ،امریکی اداروں کومستحق افغان عوام کی مددمیں آسانی ہوگی

    قبل ازیں امریکی حکومتی ترجمان نے کہا انتظامہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گی تاکہ یہ سمجھ سکے کہ افغانی عوام کو اور کیا ضرورت ہے بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے چار ماہ یہ امدادی حکم جاری کیا ہے تعلیم شہریوں اور سول سوسائٹی کی ترقی سمیت مختلف سرگرمیوں کی حمایت کے لیے ہوگی بائیڈن انتظامیہ کے ایک افشیل نے کہا کہ نئے لائیسنس سے انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو اساتذہ اور ممکنہ طور پر دیگر سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے لیے موجود پابندیوں کی خلاف ورزی کے بغیر مدد ملے گی

    محکمہ خزانہ نے تین نئے جنرل لائسنس جاری کیے جو امریکی حکومت اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک پر پابندیوں کے بغیر افغانستان میں مزید امداد بھیجنے کی اجازت دیتے ہیں

    دوسری جانب امریکہ نے سلامتی کونسل میں افغانستان میں مدد کی نئی قرارداد جمع کرائی ہے قرار داد کے مطابق افغانستان کو امداد کی فراہمی کا اطلاق طالبان پر عائد پابندیوں پر نہیں ہوتا۔ افغانستان کیلئے قائم فنڈ کو طالبان سے دوررکھا جائے گا امریکا کی افغانستان سے متعلق نئی قرارداد پر جلد ووٹنگ کا امکان ہے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنانے کے لیے ایک نئی قرارداد جاری کی ہے۔اس فیصلے کے تحت بین الاقوامی امدادی ادارے اور ممالک اعتماد کے ساتھ اپنی امداد افغانستان تک پہنچا سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان 40 سال بعد اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کی تھی، اس سے قبل 1980 میں جب پاکستان میں یہ اجلاس منعقد ہوا تھا تب بھی توجہ کا مرکز افغانستان ہی تھا۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس سے خطاب میں امریکا کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو 4 کروڑ افغان عوام اور طالبان کی حکومت کو الگ کر کے دیکھنا ہوگا۔

    اپنی تقریر کے دوران وزیرِ اعظم نے بارہا امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے افغان طالبان پر پابندیاں لگا کر پیچیدگیاں بڑھانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان پابندیوں کا براہِ راست اثر وہاں کے عوام پر پڑ رہا ہے۔

    اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں ہے، وہاں سالہا سال کرپٹ حکومتیں رہیں، افغانستان کےحالات کی وجہ سےسب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا، جہاں 80 ہزار کے قریب لوگ دہسشت گردی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ اور اگر دنیا نےاقدامات نہ کیے تو یہ انسانوں کا پیدا کردہ سب سےبڑا انسانی المیہ ہو گا۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے افغان وزارت داخلہ کو چھ ملین ڈالر امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے تجویز کیا ہے کہ یہ رقم وزارت داخلہ کے اہلکاروں کی تنخواہوں کی مد میں خرچ کی جائے گی رقم سے ان افغان جنگجووں کی تنخواہیں بھی ادا کی جائیں گی جو افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفاتر کی سیکیورٹی پر مامور ہیں آئندہ برس دی جانے والی امداد سابق افغان حکومت کے ساتھ اقوام متحدہ کے معاہدے میں توسیع کے نتیجے میں دی جائے گی

    ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

    امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    او آئی سے اجلاس سے خطاب میں وزیر خارجہ نے او آئی سی اور عالمی دنیا سے کیا بڑا مطالبہ

    کشمیر میں بھارتی ڈومیسائل کا نیا قانون، او آئی سی نے بڑا اعلان کر دیا

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی نائیجر میں او آئی سی اجلاس سے قبل اہم ملاقات

    افغانستان کے بینکنگ سسٹم کی بحالی سے متعلق قرارداد بڑی پیشرفت ہے،قریشی

  • افغانستان کے معاملے پراوآئی سی کا کامیاب اورغیرمعمولی اجلاس بلا کرپاکستان نے کمال کردکھایا:امریکہ

    افغانستان کے معاملے پراوآئی سی کا کامیاب اورغیرمعمولی اجلاس بلا کرپاکستان نے کمال کردکھایا:امریکہ

    لاہور:افغانستان کے معاملے پراوآئی سی کا کامیاب اورغیرمعمولی اجلاس بلا کرکمال کردکھایا:پاکستان مبارک کا مستحق ہے:،اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ او آئی سی اجلاس میں عالمی برادری کو افغان عوام کی حمایت کیلئے تعاون جاری رکھنے کی دعوت پر پاکستان کے مشکور ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ افغانستان پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا غیر معمولی اجلاس انتہائی ضرورت مندوں کی مدد کیلئے ہمارے اجتماعی عزم اور عمل کی بہترین مثال ہے۔

    ٹویٹر پر انہوں نے مزید لکھا کہ امریکا اس اہم اجلاس کی میزبانی کرنے اور عالمی برادری کو افغان عوام کی حمایت کے لیے تعاون جاری رکھنے کی دعوت دینے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔

     

    واضح رہے کہ پاکستان 40 سال بعد اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کی تھی، اس سے قبل 1980 میں جب پاکستان میں یہ اجلاس منعقد ہوا تھا تب بھی توجہ کا مرکز افغانستان ہی تھا۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس سے خطاب میں امریکا کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو 4 کروڑ افغان عوام اور طالبان کی حکومت کو الگ کر کے دیکھنا ہوگا۔

    اپنی تقریر کے دوران وزیرِ اعظم نے بارہا امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے افغان طالبان پر پابندیاں لگا کر پیچیدگیاں بڑھانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان پابندیوں کا براہِ راست اثر وہاں کے عوام پر پڑ رہا ہے۔

    اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں ہے، وہاں سالہا سال کرپٹ حکومتیں رہیں، افغانستان کےحالات کی وجہ سےسب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا، جہاں 80 ہزار کے قریب لوگ دہسشت گردی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ اور اگر دنیا نےاقدامات نہ کیے تو یہ انسانوں کا پیدا کردہ سب سےبڑا انسانی المیہ ہو گا۔

  • افغان بھائیوں کومشکل میں نہیں دیکھ سکتے:انسانی بحران سے بچانے کےلیےدنیا کوآگےآنا چاہیے: آرمی چیف

    افغان بھائیوں کومشکل میں نہیں دیکھ سکتے:انسانی بحران سے بچانے کےلیےدنیا کوآگےآنا چاہیے: آرمی چیف

    راولپنڈی:افغان بھائیوں کومشکل میں نہیں دیکھ سکتے:انسانی بحران سے بچانے کےلیےدنیا کوآگےآنا چاہیے:اطلاعات کےمطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان پر بین الاقوامی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، وہاں انسانی المیہ کو جنم لینے سے روکنا ہو گا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کمانڈر رائل بحرین نیول فورس محمد یوسف العصام نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو ) کا دورہ کیا اور آرمی چیف سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آرکے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی صورتحال اور دو طرفہ دفاعی و سکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران بحرینی کمانڈر نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کااظہار کیا جبکہ پاکستان کی مسلح افواج کے پروفیشنلزم کی تعریف کیساتھ ساتھ افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار اور بارڈر منیجمنٹ کو سراہا۔

    اس موقع پر سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ روایتی روابط کی روایت برقرار رکھنا چاہتا ہے، دیرپا ہمہ جہتی تعاون اور تعلقات کی خواہش رکھتے ہیں، افغانستان پر بین الاقوامی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، افغانستان میں انسانی المیہ کو جنم لینے سے روکنا ہوگا، افغانستان میں امن و مفاہمتی اقدامات کی اہمیت اور ضرورت ہے۔

  • افغانستان کیلئے’انسانی ٹرسٹ فنڈ’ قائم کرنے پر اتفاق:او آئی سی اعلامیہ جاری

    افغانستان کیلئے’انسانی ٹرسٹ فنڈ’ قائم کرنے پر اتفاق:او آئی سی اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: افغانستان کیلئے’انسانی ٹرسٹ فنڈ’ قائم کرنے پر اتفاق:او آئی سی اعلامیہ جاری ،اطلاعات کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی ) کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی مقرر کرنے،انسانی ٹرسٹ فنڈ بنانے اور اقوام متحدہ کے ساتھ مشترکہ کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    او آئی سی اجلاس میں افغانستان کے انسانی بحران پر مشترکہ اوراجلاس میں فلسطین کی صورتحال پر اسلام آباد اعلامیہ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔

    اعلامیہ کے مطابق افغانستان کو کورونا کے تناظر میں ویکسین اور طبی امداد فراہم کی جائے گی ،افغانستان سے متعلق "انسانی ٹرسٹ فنڈ” قائم کیا جائے ،افغانستان کے لیے "غذائی تحفظ پروگرام تشکیل دیا جائے گا،افغانستان کے تناظر میں مالیاتی اور بینکنگ چینلز کھولے جائیں گے ،افغانستان پر نمائندہ خصوصی مقرر کیا جائے گا ،او آئی سی اور اقوام متحدہ نظام کے مابین مربوط میکانزم تشکیل دیا جائے گا ۔

    اعلامیہ میں بتایا گیا کہ افغانستان کے لیے انسانی، سکولو‍ں، ہسپتالوں کے لیے مالی امداد کو پابندیوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ،او آئی سی نے ادراک کیا کہ افغانستان کے لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کاوشیں کی جائیں گی۔

    او آئی سی سیکرٹری جنرل حِسین براھیم طہ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کا حامل اجلاس تھا، اس کے اثرات دور رس ہوں گے ،پاکستان کو میزبان ملک کی حیثیت سے اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔

    انہوں نے کہا کہ یورپی یونین، امریکا، برطانیہ، فرانس اور دیگر نے متحرک کردار ادا کرتے ہوئے امداد کا اعلان کیا ،یہ اجلاس افغان عوام کے لیے بہتر مستقبل کی امید ثابت ہو گا ،اسلامی ترقیاتی بینک کے تحت افغانستان کے لیے قائم کردہ ٹرسٹ فنڈ میں تمام ممالک امداد جمع کرائیں گے ،اسلامک فقہ اکیڈمی، علماء سے رابطے کر کے افغان فریقین میں اتفاق رائے پیدا کرے گی۔

    سیکرٹری جنرل او آئی سی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مندوبین نے شرکت کی، کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے شرکا کے شکر گزار ہیں،سیکریٹری جنرل او آئی سی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی سیکریٹری جنرل کے تعاون کے بغیر کانفرنس کا انعقاد ممکن نہیں تھا،افغان وفد کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا جبکہ اجلاس میں افغان صورتحال پر تبادلہ خیال اہم پیشرفت ہے۔

  • پاکستان کے دلیرانہ فیصلے: امریکا کو افغان جنگ اسکروٹنی بل سے پاکستان سے متعلق شق ختم کرنا پڑگئی

    پاکستان کے دلیرانہ فیصلے: امریکا کو افغان جنگ اسکروٹنی بل سے پاکستان سے متعلق شق ختم کرنا پڑگئی

    واشنگٹن:پاکستان کے دلیرانہ فیصلے: امریکا کو افغان جنگ اسکروٹنی بل سے پاکستان سے متعلق شق ختم کرنا پڑگئی ،اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ نے افغان جنگ کی مکمل جانچ پڑتال سے متعلق آزاد کمیشن کے قیام کی تشکیل کا بل منظور کرلیا ہے جب کہ بل کے پرانے ورژن میں شامل پاکستان کے کردار کی تحقیقات سے متعلق شق کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ میں ایک دفاعی بل کی منظور دی گئی ہے۔ بل میں افغان جنگ اور پاکستان سمیت خطے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک آزاد کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس بل کی سب سے خاص بات ہے یہ کہ پرانے ورژن کے برعکس اس بل میں افغان وار میں پاکستان کے کردار کی تحقیقات سے متعلق تجویز کی شق کو ختم کردیا گیا ہے البتہ کمیشن مختلف ممالک کے افغان جنگ پر اثر انداز ہونے اور افغان جنگ کے پرامن حل میں ان کے کردار کا جائزہ لے سکتا ہے۔

    اس وار کمیشن میں 16 ارکان شامل ہوں گے جن کا انتخاب ریپبلکن اور ڈیموکریٹک کے ارکان اسمبلی مساوی انداز میں کریں گے اور یہ کمیشن تین سال کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔کمیشن میں 2001 سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے موجودہ اور سابق ارکان کے ساتھ ساتھ کابینہ کی سطح کے اور افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسیوں کی منصوبہ بندی کرنے والے اعلی سطحی دفاعی عہدیداروں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

    بل کی سمری میں کہا گیا ہے کہ دو طرفہ پینل 20 سالہ جنگ کی اسکروٹنی اور انخلا کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے فوجی سازوسامان کا بھی احتساب بھی کرے گا اور افغانستان میں موجود امریکی شہریوں اور افغان اتحادیوں کو نکالنے کے منصوبے بھی بنائے گا۔بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیتوں کے انسداد دہشت گردی میں استعمال اور اقدامات کا جائزہ بھی لے گا۔

    دوسری طرف دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی وعسکری قیادت کے دلیرانہ فیصلوں کی وجہ سے امریکہ نے یہ محسوس کرلیا ہے کہ اگراب پاکستان کے ساتھ کوئی شرارت کی گئی تو اس کا سخت جواب ملے گا اورویسے بھی امریکہ اب پاکستان کی مرضی کے بغیرافغانستان میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا اس لیے امریکہ نے اپنے مفادات کو بچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے جو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے

  • ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    واشنگٹن:ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا،اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ناقص انٹیلی جنس معلومات پر فضائی کاروائیوں میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل کا انکشاف ہوا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں امریکا کی فضائی کاروائیاں ناقص انٹیلی جنس معلومات سے بھرپوررہیں۔

    شام میں امریکی فورسز کی فضائی کارروائی، 18 اتحادی جنگجو ہلاک امریکی اخبارکی رپورٹ کے مطابق غلط اطلاعات کی بنیاد پرکاروائیوں میں بچوں سمیت ہزاروں عام شہری قتل کر دیےگئے لیکن کسی بھی مقام پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نظر نہیں آئی۔

    دوسری جانب رپورٹ منظرعام پر آنےکے بعد ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ کیپٹن بل اربن نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بے قصور شہریوں کی ہلاکت پر شرمندہ ہیں اور غلطیوں سے سیکھنےکی کوشش کر رہےہیں۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف چند دن پہلے امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ فوجی انخلا سے چند دن قبل کابل میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں دس معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 29 اگست کو کابل میں ہونے والے ڈرون حملے میں ایک امدادی کارکن سمیت اس کے خاندان کے نو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والی سب سے کم سن بچی دو سال کی سمعیہ تھی۔

    پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس نے اس شخص کی کار کی آٹھ گھنٹوں تک نگرانی کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس کا تعلق افغانستان میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے تھا۔

    یہ جان لیوا حملے افغانستان میں امریکہ کی 20 سال تک جاری رہنے والی جنگ سے قبل آخری کارروائیوں میں سے ایک تھا۔

    جنرل کینتھ مکینزی نے اس حملے کو ایک افسوسناک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ یہ خاندان شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے منسلک ہو یا امریکی افواج کے لیے خطرہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک غلطی تھی اور میں اس پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘

  • افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے، وزیراعظم عمران خان

    افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے، وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: افغانستان میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کا غیرمعمولی اجلاس آج اسلام آباد میں جاری ہے-

    باغی ٹی وی : افغانستان کی صورتحال پر سعودی عرب کی تجویز اور پاکستان کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ کی کونسل کا 17واں غیر معمولی اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے غیر معمولی اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا –

    وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام معزز مہمانوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں یہ ستم ظریفی ہے کہ 41 سال قبل جب پاکستان میں او آئی سی کا اجلاس ہوا اس وقت بھی اس کا موضوع افغانستان ہی تھا، افغانستان 40 سال خانہ جنگی کا شکار رہا ہے اور افغانستان کی بیرونی امداد بند ہو چکی ہے۔


    انہوں نے کہا کہ جتنی مشکلات افغان عوام نے اٹھائیں کسی اور ملک کے عوام نے نہیں اٹھائیں اور افغانستان کے 4 کروڑ عوام کو بحران کا سامنا ہے جبکہ افغانستان کے حالات کی وجہ سے پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان کی قربانی دی-

    انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کے لیے امداد پر پاکستان کے مشکور ہیں،ترک وزیر خارجہ

    عمران خان نے کہا کہ دنیا نے افغانستان کے لیے مدد3شرائط سے مشروط کردی افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے اور دنیا کو افغان ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے افغانستان کا بینکنگ نظام جمود کا شکار ہے اور اگر اس وقت دنیا نے افغانستان کی مدد نہ کی تو یہ انسانوں کا پیدا کردہ بہت بڑا بحران ہو گا۔


    انہوں نے کہا کہ افغان آبادی غربت کی لکیر سے نیچے آ رہی ہے اور اس وقت افغانستان کی صورتحال انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے افغان عوام کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے افغان مسئلے پر دنیا کی خاموشی قابل افسوس ہے افغانستان میں عدم استحکام پوری دنیا کو متاثر کرے گاافغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کے معاملات حساسیت سے حل کرنے کی ضرورت ہے –

    انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹروں، اساتذہ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا نہ کی جائیں تو کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، اگر دنیا کو داعش کے خطرے سے بچانا ہے تو افغانستان کو مستحکم کرنا ہوگا۔


    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر افغانستان میں افراتفری ہوگی تو مہاجرین میں اضافہ ہوگا، یہ مہاجرین صرف پاکستان اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر ممالک کو بھی ان کا سامنا کرنا ہوگا افغانستان میں جاری افراتفری کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، میں دوبارہ یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ غیر مستحکم افغانستان کسی کے مفاد میں نہیں اور امید کرتا ہوں کہ اس اجلاس کے اختتام تک آپ تمام شرکا کسی روڈ میپ پر متفق ہوجائیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اسلامو فوبیا بہت اہم مسئلہ ہے دنیا میں اسلام کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ بہت زیادہ ہے-


    واضح رہے کہ او آئی سی اجلاس سعودی عرب کی دعوت پر طلب کیا گیا ہے جو اسلامی تعاون تنظیم کا چیئرمین ہے پاکستان نے اجلاس بلانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی میزبانی کی پیشکش کی تھی پاکستان کی دعوت پر اجلاس میں 22 ممالک کے وزرائے خارجہ، 10 نائب وزرائے خارجہ سمیت 70 وفود شریک ہیں۔

    دنیا کے مفاد میں ہے کہ افغانستان کی صورتحال نہ بگڑے، شاہ محمود قریشی