Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • آرمی چیف کاآزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کادورہ:یادگار شہدا پرحاضری:شہدا کوخراج تحسین

    آرمی چیف کاآزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کادورہ:یادگار شہدا پرحاضری:شہدا کوخراج تحسین

    راولپنڈی: آرمی چیف کا آزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کا دورہ، یادگار شہدا پر حاضری ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کو کرنل کمانڈنٹ آزاد کشمیر کے بیجز لگا دیئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کا دورہ کیا اور یاد گار شہدا پر حاضری دی جبکہ فاتحہ خوانی بھی کی۔

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق سپہ سالار نے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کو کرنل کمانڈنٹ آزاد کشمیر کے بیجز لگائے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر رجمنٹ کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل کارکردگی کی تعریف کی۔

  • افغانستان کی امداد کیلیے پاکستانی پیشکش پر بھارت عجیب کشمکش میں‌ گرفتار

    افغانستان کی امداد کیلیے پاکستانی پیشکش پر بھارت عجیب کشمکش میں‌ گرفتار

    اسلام آباد÷کابل ÷ دہلی:افغانستان کی امداد کیلیے پاکستانی پیشکش پر بھارت عجیب کشمکش میں‌ گرفتار،اطلاعات کے مطابق افغانستان کیلئے پاکستان کے راستے بھارت سے گندم اور ادویات لے جانے کی منظوری دے دی گئی۔

    پاکستان کی طرف سے بھارت کو افغانستان کے ساتھ معاشی روابط کی پیش کش کے جہاں کچھ مثبت اثرات سامنے ائے ہیں‌ وہاں کچھ اس کے بھارت پر بھی بظاہر اچھے نہیں ہیں‌، یہ وجہ ہے شاید کہ پاکستانی جذبہ خیرسگالی پر بھی سیاست کرتے ہوئے بھارت نےواویلا شروع کر دیا ہے۔ افغانستان کےلئےراہداری ‏دینے کے پاکستانی فیصلے پر بھارت کا پروپیگنڈا جاری ہے۔

    ادھر اس حوالے سے پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان کو گندم بھارتی ٹرکوں میں اپنےعملےکےساتھ بھجوانےپر بضد ہے اس حوالے سے نئی دہلی ‏حکومت کا کہنا ہے کہ گندم بھارتی ٹرکوں کےذریعے بھارتی ڈرائیور کےساتھ جائےگی، ساتھ ہی بھارت نے دھمکی دے دی ہے کہ اگر ان ٹرکوں کو یا ٹرک ڈرائیورز کو کچھ نقصان پہنچا تو اس کا ذمہ دارپاکستان اور صرف پاکستان ہی ہوگا

    بھارت کے الزامات پر پاکستان نے بھارت کو ایک بڑی پیش کش کی ہے ،پاکستان نے گندم کیلئےعالمی ادارہ خوراک کے تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ خوراک ‏نے گندم کی ترسیل وتقسیم پرآمادگی ظاہر کی ہے ، پاکستان کا کہنا ہےکہ پاکستان کے راستے بھارت ڈبلیوایف پی کے ٹرکوں سےگندم افغانستان لے جا سکتا ‏ہے بھارت 30 روز میں گندم افغانستان بھجوائے پاکستان تیارہے۔

    پاکستان کے وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی پیشکش پر بھارت نےعالمی ادارہ خوراک سے ابھی تک رابطہ نہیں کیا پاکستان بھارتی ٹرکوں کواپنی سرزمین پر ‏داخلے کی اجازت نہیں دےسکتا، پاکستان نےافغان ٹرکوں کےاستعمال کابھارتی مطالبہ بھی مستردکر دیا ہے۔ایف ‏بی آر اور کسٹمز نے افغان ٹرانسپورٹیشن کی استعداد کو ناکافی قرار دیا ہے۔

    دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی درخواست پر پاکستان نے راہداری کی اجازت دی، بھارت جلدافغانستان ‏کیلئے گندم پاکستانی راستےسےبھیجنےکابندوبست کرے بھارت پاکستان کی مخلصانہ پیشکش کوسیاست کی نذر ‏نہ کرے۔دوسری طرف افغان حکومت نے پاکستان کے ذریعے بھارتی گندم اور ادویات پر پاکستانی اقدامات پر اطمنان کا اظہارکیا ہے اور کہا کہ امید ہے کہ یہ تجارت کامیاب رہے گی

     

  • نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

    نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

    نائن الیون کے متاثرہ خاندان نے امریکا کے پاس موجود افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کے طور پردینے کا مطالبہ کر دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق جو بائیڈن انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے وہ وفاقی عدالت کو کابل کو رقم واپس دینے یا اسے متاثرین کے اہلِ خانہ میں تقسیم کرنے سے قومی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات سے آگاہ کرے گی۔

    جوبائیڈن کا 9/11 حملوں سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کرنےکا حکم

    رپورٹ کے مطابق ’امریکا کا محکمہ انصاف نائن الیون مدعیان کے وکلا کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ اگر حکومت افغانستان کو رقم واپس نہ کرے تواسے متاثرین میں تقسیم کرنے کا معاہدہ کیا جاسکے تجویز پر غور کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل، حکومت کے اداروں سے رابطہ کر رہی ہے-

    نائن الیون کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان ،پاکستان کو ہوا، رحمان ملک

    واضح رہے کہ 20 سال قبل 9/11 کے واقعے کے بعد کم و بیش 150 متاثرہ خاندانوں نے اپنے نقصان کے معاوضے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، واقعے میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھےاس قانونی دعویٰ میں القاعدہ اور طالبان کو نامزد کیا گیا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی اس لیے انہیں معاوضے کی بھی ادائیگی کرنی چاہیے۔

    نائن الیون کے سازشی نظریات پر یقین رکھتا ہوں آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ…

    برسبین میں جہاز نے شہریوں کو نائن الیون یاد کرا دیا

    ایک دہائی قبل عدالت نے مدعا علیہان کو واقعے میں ملوث پایا اور انہیں 7 ارب ڈالر مالیت کا زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم فیصلہ علامتی ظاہر ہوا کیونکہ نائن الیون کے فوری بعد امریکا نے افغانستان پرحملہ کیا اور طالبان کا تخت الٹتے ہوئے القاعدہ کو ختم کردیا تھا۔

    رواں سال 15 اگست کو طالبان واپس اقتدار میں آئے اور دعویٰ کیا کہ نیویارک میں امریکی وفاقی ذخائر میں منجمد افغان مرکزی بینک کے تقریباً 7 ارب ڈالرز کے اثاثوں پر ان کا حق ہے۔

    امریکی جیل میں 43 سال سے قید بے گناہ شخص کو رہائی مل گئی

  • اقدام قتل میں ملوث ملزم کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام

    اقدام قتل میں ملوث ملزم کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام

    اقدام قتل میں ملوث ملزم کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام

    تھانہ رحمان بابا پولیس نے اقدام قتل میں ملوث ملزم کے افغانستان فرار کی کوشش ناکام بناتے ہوئے گرفتار کر لیا، گرفتار ملزم کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان سے ہے جس نے گزشتہ ہفتے چچازاد پر فائرنگ کی تھی جس کی فائرنگ سے ایک راہگیر شدید زخمی ہوا تھا، ملزم کے قبضہ سے اسلحہ اور آئس بھی برآمد کر لی گئی ہے جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران گزشتہ ہفتے اقدام قتل کی واردات کے بعد نامعلوم مقام فرار ہونے اور موقع ملتے ہی افغانستان فرار کی کوشش کا اعتراف کر لیا ہے، ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے

    گزشتہ روز تھانہ رحمان بابا پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ اقدام قتل میں ملوث ملزم ایاز خان ولد عمرا خان ضروری دستاویزات لے کر ہمسایہ ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے جس پر ایس ایچ او تھانہ رحمان بابا عبداللہ جلال نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم آیاز ولد عمرا خان کو گرفتار کر لیا، ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران گزشتہ ہفتے اقدام قتل کی وارادت کے بعد نامعلوم مقام روپوش ہونے اور گزشتہ روز دستاویزات وغیرہ لے کر افغانستان فرار ہونے کی کوشش کا اعتراف کر لیا ہے جس کے قبضہ سے اسلحہ اور آئس بھی برآمد کر لی گئی ہے جس سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے

    قبل ازیں ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ صدر کی حدود میں چند روز قبل ہونے والی ڈکیتی کا ڈراپ سین مرکزی ملز سمیت پانچ سہولت کار گرفتارکر لئے گئے ، تھانہ صدر کی حدود سے یوسف کے مقام پرتین نقاب پوش ملزمان ڈکیٹ براہ راستہ باب ڈیرہ لائٹ بینک سے یوسف برانچ میں داخل ہوئے نقاب پوش ملزمان نے بینک پر تعینات سکیورٹی گارڈ کو بذریعہ اسلحہ آتش فائرنگ کرکے زخمی کیا اور بینک کے اندر داخل ہو گئے جہاں پر نقاب پوش ملزمان نے بینک کے اندر بینک کے عملے کو یرغمال بنالیا اور بینک سے مجموعی طور پر 42 لاکھ روپے سے زائد کی رقم لوٹ کر فرار ہو گئے واقعے کا مقدمہ تھانہ صدر میں فوری طور پر رجسٹر کیا گیا آر پی او ڈیرہ شوکت عباس اور ڈی پی او ڈیرہ کیپٹن ریٹائرڈ نجم الحسنین لیاقت نے واقعے کی سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس ڈی پی او صدر سرکل حافظ محمد عدنان خان کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی ٹیم نے تمام حالات اور جائے وقوعہ کا مفصل جائزہ لیا

    ڈی پی او ڈیرہ کی سخت ہدایات و زیر نگرانی ٹیم نے بینک ڈکیتی کے ملزم والی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملنے والے شواہد کی بنیاد پر جدید سائنسی و تکنیکی بنیادوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کا تعاقب کیا بالآخر ایس ڈی پی او صدر سرکل حافظ محمد عدنان خان کے ہمراہ ٹیم نے شب و روز محنت کرتے ہوئے واقعے کا مرکزی ملزم خان محمد عارف جاوید ولد فتح خان قوم بلوچ سکنہ اپر دیر کو ضلع مالاکنڈ سے گرفتار کر لیا اور ملزم کے قبضہ سے مبلغ چار لاکھ روپے بھی برآمد کر لئے اس کے علاوہ ڈکیتی میں ملوث دو مرکزی ملزمان صفدر ولد غلام اختر قوم بلوچ سکنہ تھویا فاضل اور امجد ویعقوب سکنہ صوابی کو گرفتاری کے لیے تاحال چھاپے مارے جارہے ہیں البتہ دو مرکزی ملزمان کو رہائش کھانا اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والے پانچ سہولت کار محمد ارسلان والد ملازم حسین سکنہ کچی پائیند خان محمد سلیمان ولد اختر خان قوم بلوچ سکنہ تو فاضل محمد عرفان ولد قیوم نواز قوم بلوچ سکنہ کو کار محمد ذریعہ ولد شیخ عبد اللطیف قوم شیخ سکنا مندرہ کلاں مدثر علی ولد علی بہادر قوم گنڈاپور سکنہ شیخ یوسف کو بھی گرفتار کر لیا سہولت کار محمد ارسلان کے قبضہ سے مبلغ تین لاکھ روپے جبکہ سہولت کار محمد عرفان کے قبضہ سے چھ لاکھ پچاس ہزار روپے اور دو عدد پسٹل 30 بور برآمد کر لئے جبکہ ملزم مدثر علی کو مرکزی ملزمان کو رہائش اور طعام دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اس کے علاوہ سہولت کاری کے الزام میں ملزم رجب علی ولد اختر قوم بلوچ سکنہ تو یہ فاضل تا حال آدم گرفتار ہے اس کے علاوہ مرکزی آدم گرفتار ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جن کو بہت جلد گرفتار کر کے بقایہ لوٹی گئی رقم برآمد کر لی جائے گی

    قبل ازیں ایس ایچ او درابن یاسین خان ہمراہ انچارج درابن چیک پوسٹ اکرام اللہ و نفری پولیس نے بین الصوبائی منشیات سمگلنگ کے خلاف کامیاب کاروائی سرانجام دی ہے ایسں ایچ او درابن یاسین خان ہمراہ نفری پولیس درابن چیک پوسٹ پر موجود تھے کہ ایک گاڑی نمبر ATL-991 جو کہ کوئٹہ سے ڈیرہ اسماعیل خان براستہ درابن روڈ آرہی تھی، جس کو درابن چیک پوسٹ پر روکا گیا، گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے اپنا نام محمد یاسر ولد عالمگیر خان بتلایا،گاڑی مذکورہ بالا کو مشکوک پاکر گاڑی کو چیک کیا گیا تو گاڑی کے خفیہ خانوں اور سیٹوں میں چھپائے گئے چرس کے 30 پیکٹ برآمد ہوئے،جن کو برموقع بذریعہ ڈیجیٹل سکیل وزن کیا گیا تو چرس کی مجموعی مقدار 36 کلوگرام برآمد ہوئی جس کو برموقع قبضہ پولیس کیا گیا،جب کہ گاڑی کو پولیس کی تحویل میں لے کر ڈرائیور (ملزم) مذکورہ بالا کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کر دیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

  • افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے،    آرمی چیف

    افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، آرمی چیف

    چیف آف آرمی سٹاف (COAS) جنرل قمر جاوید باجوہ سے آج جی ایچ کیو میں سیکرٹری جنرل آف ڈیفنس اینڈ نیشنل آرمامنٹ ڈائریکٹر اٹلی لیفٹیننٹ جنرل لوسیانو پورٹولانو نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف سے اٹلی کے سیکریٹری جنرل دفاع نے ملاقات کی ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی حالیہ پیش رفت سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال اور بالخصوص تربیت اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں فوجی تعاون بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان کا شاہین ون اے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    سی او اے ایس نے کہا کہ پاکستان عالمی اور علاقائی معاملات میں اٹلی کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہم اپنے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے خواہاں ہیں –

    آرمی چیف نے افغانستان کو امداد پہنچانے کےلیے فوری طور پر طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے‘‘۔

    صحافی احمد نورانی کی اہلیہ پر لاہور میں حملہ، آر آئی یو جے کی شدید مذمت

    اٹلی کے سیکریٹری جنرل دفاع نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا اعتراف کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے خصوصی کوششوں اور علاقائی استحکام میں کردار کو بھی سراہا۔

    فاروق ستار سے ملاقات اتفاقیہ نہیں تھی کراچی ان سے ہی ملنے آئی تھی : حریم شاہ

  • پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،سفیر پاکستان

    پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،سفیر پاکستان

    واشنگٹن:پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،سفیر پاکستان کا بی بی سی کو انٹریو،اطلاعات کے مطابق سفیر پاکستان ڈاکٹر اسد مجید خان نے بی بی سی ورلڈ نیوز کے پروگرام یلدا حکیم کے ساتھ انٹرویومیں کہا ہےکہ پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،

    بی بی سی کو انٹریودیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ،افغانستان میں 5 بلین روپے کے سازوسامان سمیت ویزہ کے اجراء ، انسانی بنیادوں پر امداد اور طبعی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنا رہا ہے۔

    سفیر پاکستان کا بی بی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغان عوام کے ساتھ ساتھ ہم بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کو بھی مدد اور سہولیات دے رہے ہیں۔افغان عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان نے بھی اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان افغانستان میں انسانی بنیادوں پر سب سے زیادہ امداد اور سہولیات فراہم کر رہا ہے۔عالمی برادری کو افغانستان میں معاشی تباہی اور انسانی المیےکو روکنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گئے۔

    افغانستان میں اطلاعات کے مطابق ابھی تک سیکورٹی کےحالات معمول کے مطابق ہیں اور مثبت تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

  • عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے: آرمی چیف

    عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے: آرمی چیف

    راولپنڈی: عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے:اطلاعات کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان، پاکستان اور ایران کے فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس اور برطانیہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان نائیجل کیسی نے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی حالیہ پیش رفت سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق برطانوی نمائندہ خصوصی نائیجل کیسی نے بھی افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے کاوشوں اور علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کااعادہ کیا۔

    ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ ہم دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں، پاکستان عالمی و علاقائی سطح کے امور میں برطانیہ کے کردار کو اہمیت دیتا ہے اور برطانیہ کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، افغانستان میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا نہ ہونے دینے کے لیے عالمی اشتراک کی ضرورت ہے، عالمی توجہ سے افغانستان میں انسانی بحران کو روکا جاسکتا ہے، افغان عوام کی معاشی بہتری کے لیے مربوط کوششیں کرنا ہوں گی۔

  • طالبان کی فتح،شہریوں کی ادائیگی نوافل

    طالبان کی فتح،شہریوں کی ادائیگی نوافل

    قصور
    دنیا بھر کی طرح اہلیانِ قصور نے بھی افغانستان میں طالبان کی فتح کا خیر مقدم کیا،لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی ،شکرانے کے نوافل ادا کئے ،

    تفصیلات کے مطابق اہلیان قصور نے افغانستان میں امریکہ کی شکست و طالبان کی کامیابی پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے کل کابل کی فتح کے بعد شہریوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی اور شکرانے کے نوافل ادا کئے
    سیاسی،سماجی،صحافی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان میں مکمل قیام امن کیلئے طالبان گورنمنٹ پاکستانی گورنمنٹ سے تعاون کرے گی اور افغانستان کو ایک صحیح اسلامی ریاست کی طرف لے کر جائے گی

  • جہاد ہی میں عزت ہے – عمران محمدی

    جہاد ہی میں عزت ہے – عمران محمدی

    جہاد ہی میں عزت ہے
    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    تمہارے لیے جہاد سب سے بہتر ہے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
    نکلو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
    التوبة : 41

    اور فرمایا
    كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
    تم پر لڑنا لکھ دیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمھیں سراسر نا پسند ہے اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمھارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لیے بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    البقرة : 216

    *جہاد،دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب، غموں اور پریشانیوں سے بچنے کا زریعہ ہے*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمھاری ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟
    الصف : 10
    تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
    تم اللہ اور اس کے رسو ل پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
    الصف : 11

    عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُنَجِّي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ ”
    مسند احمد 22172
    اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے زریعے غم اور پریشانی سے نجات دیتا ہے

    *جہاد ،اقامت دین اور حفاظت اسلام کا بہترین زریعہ ہے*

    ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
    (بخاري كِتَابُ الإِيمَانِ، بَابٌ: {فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ} [التوبة: 5]،25)
    ۔ مجھے ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ ( رہا ان کے دل کا حال تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

    جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ”
    مسلم 1922
    یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور اس کے دفاع کیلئے ہمیشہ ایک جماعت قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی

    ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ نے فرمایا
    وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ
    (مسلم، كِتَابُ الْإِيمَانِ،بَابُ الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ،124)
    اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز او رزکاۃ میں فرق کریں گے ، کیونکہ زکاۃ مال (میں اللہ) کا حق ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ (اونٹ کا) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے ،جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا ۔

    *جہاد، مومنین کے سینوں کو ٹھنڈا اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرتا ہے*

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ
    ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔
    التوبة : 14
    وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
    اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
    التوبة : 15

    *اکٹھی پانچ بشارتیں*

    ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے والے کفار سے لڑنے کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ پانچ وعدے کیے ہیں

    1 اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں انھیں عذاب دے گا، جو کفار کے قتل، زخمی، قید ہونے اور ان سے مال غنیمت کے حصول کی صورت میں ہو گا

    2 دوسرا یہ کہ ’’ يُخْزِهِمْ ‘‘ انھیں رسوا کرے گا، ان کی فوجی قوتوں کا گھمنڈ توڑ کر ان کی حکومت کی عزت خاک میں ملا کر انھیں ذلیل و رسوا کرے گا

    3 تیسرا یہ کہ ’’ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ ‘‘ ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں غلبہ عطا کرے گا۔
    اسے الگ اس لیے ذکر فرمایا کہ ہو سکتا تھا کہ کفار تو ذلیل ہو جائیں مگر مسلمانوں کے ہاتھ بھی کچھ نہ آئے۔

    4 چوتھا یہ کہ ’’وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ‘‘ تمھارے ان سے لڑنے اور غلبہ پانے سے ان مومنوں کے سینوں کو شفا ملے گی جو ان کفار موذیوں کے ہاتھوں ظلم و ستم سہتے رہے۔

    5 پانچواں یہ کہ ’’ وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ‘‘ ان کے دلوں کے غصے کو دور کرے گا۔
    (تفسیرالقرآن الکریم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ)

    حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں
    دنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات سن کر دل میں غصہ تو آتا ہی ہے، جیسے اب بھارت وکشمیر، فلسطین و فلپائن، برما، عیسائی اور کمیونسٹ ممالک میں مسلمانوں پر ظلم کی داستانیں سن کر دل کو غصہ آتا ہے، کفار پر فتح یاب ہونے سے اس غصے کا بھی مداوا ہوتا ہے

    *جہاد کی تیاری سے دشمن مرعوب ہوکر دب جاتا ہے اور امت محفوظ ہوجاتی ہے*

    فرمایا اللہ تعالیٰ نے
    وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
    اور ان کے لیے جتنی کر سکو قوت کی صورت میں اور تیار بندھے گھوڑوں کی صورت میں تیاری رکھو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو ڈرائو گے اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو بھی جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے اور تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمھاری طرف پوری لوٹائی جائے گی اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
    الأنفال : 60

    اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے ہمارے استاذ گرامی لکھتے ہیں
    یعنی اس قدر مضبوط تیاری رکھو کہ اللہ کا دشمن اور تمھارا دشمن اور تمھارے ساتھ کد رکھنے والا ہر شخص تم سے خوف زدہ رہے اور لڑنے کی جرأت ہی نہ کر سکے۔ ان واضح دشمنوں میں مشرکین، یہود و نصاریٰ اور جانے پہچانے منافق سب شامل ہیں۔نیز مسلمانوں کی صفوں میں کفار کے چھپے ہوئے ہمدرد منافق بھی شامل ہیں۔
    علاوہ ازیں کئی اقوام جو بظاہر اس وقت تمھارے خلاف نہیں، مگر موقع پانے پر دل میں تم سے لڑائی کا ارادہ رکھتی ہیں، تمھاری مکمل تیاری اور ہر وقت جہاد میں مصروف رہنا سب کو خوف زدہ رکھے گا

    *جہاد، مظلوموں کی مدد کا اہم راستہ ہے*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا
    اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔
    النساء : 75

    اور فرمایا
    أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
    ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا پوری طرح قادر ہے۔
    الحج : 39

    *جہاد چھوڑنے سے ذلت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوتی ہے*

    سیدنا ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے
    ” إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ ؛ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ ”
    (ابو داؤد، کِتَابُ الْإِجَارَةِ،بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ الْعِينَةِ،3462صحیح)
    ” جب تم عینہ کی بیع کرنے لگو گے ، بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے ، کھیتی باڑی ہی پر مطمئن ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جو کسی طرح زائل نہ ہو گی حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ ۔ “

    اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
    اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور بدل کر تمھارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
    التوبة : 39

    *امت مسلمہ کی معاشی ترقی جہاد سے ہی وابستہ ہے*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” جُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي ”
    بخاري،معلقا تحت الحديث 2757
    مسند احمد، 5093
    میرا رزق میرے نیزے کے سائے تلے رکھ دیا گیا ہے اور جو میرے حکم کی مخالفت کرے گا اس پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دی گئی ہے

    اور اللہ تعالیٰ اسی جہاد کے مفید اثرات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
    وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَرْضًا لَمْ تَطَئُوهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا
    اور تمھیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
    الأحزاب : 27

    *جہاد اور مسلمانوں کی تعداد*

    جہاد کی فرضیت سے پہلے تیرہ سالہ مکی اور ایک سالہ مدنی زندگی میں بھرپور دعوتی سرگرمیوں اور جد و جہد کے باوجود جب بدر کی جنگ ہوئی تو اس میں 313 مسلمان شامل تھے اور شاید کہ تب تک مجموعی تعداد 1000 سے متجاوز نہ ہو گی
    لیکن اس جنگ کے ثمرات دیکھیں کہ ٹھیک ایک سال بعد تعداد اس سے ڈبل ہوجاتی ہے اور اس کے چھ سال بعد جب مکہ فتح کیا تو بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور خواتین کے علاوہ صرف لشکر اسلام کی تعداد دس ہزار تھی
    پندرہ دن بعد حنین و ہوازن کی طرف رخ کیا تو یہی لشکر 12 ہزار نفوس پر مشتمل تھا اور اس کے ایک سال بعد تبوک کی طرف روانگی ہوئی تو اسلامی لشکر 30 ہزار جنگجوؤں کی تعداد میں تھا
    عزت و قوۃ کے یہ سب مظاہر جہاد فی سبیل اللہ کے ثمرات ہیں

    اسی فتح، نصرت اور جہاد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ
    جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔
    النصر : 1
    وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
    اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔
    النصر : 2
    فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
    تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
    النصر : 3

    ہمارے حافظ صاحب لکھتے ہیں
    *جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے مکہ فتح فرما دیا تو وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد دو سال نہیں گزرے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور تمام قبائل میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اسلام کا اقرار نہ کرتا ہو۔*
    تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ

    *ایک ایک آدمی کو تین تین سو اونٹ دے دیئے گئے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی
    40 ہزار بکریاں
    24 ہزار اونٹ
    6 ہزار قیدی
    اور اس کے علاوہ بے شمار نقدی، سونا چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آیا

    صحیح مسلم میں ہے
    وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً
    اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ،پھر سواونٹ پھر سواونٹ۔

    صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :
    «وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6022)
    اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ،مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے

    ایسے ہی آپ نے
    ابوسفیان بن حرب اور اس کے بیٹے یزید و معاویہ کو سو سو اونٹ عطا کیئے
    ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ
    ان کے بیٹے یزید رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ
    دوسرے بیٹے معاویہ رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ

    حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو 200 اونٹ عطا فرمائے
    بحوالہ الرحیق المختوم

    یہ سب جہاد فی سبیل اللہ کی بدولت ممکن ہوا

    *دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں ایک ہی شخص کو دے دیں*

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
    آپ فرماتے ہیں
    ” مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ”
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6020)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لا نے) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ،کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں ،وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔

    *5 کروڑ 61 لاکھ 60 ہزار روپے کا سالانہ بجٹ*

    عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں :
    ’’جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خمس میں سے ہر بیوی کو اسّی (۸۰) وسق (دو سو چالیس من) کھجوریں اور بیس (۲۰) وسق (ساٹھ من) جو دیا کرتے تھے (اور یہ وظیفہ آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا)۔‘‘
    [ أبو داوٗد، الخراج، باب ما جاء في حکم أرض خیبر : ۳۰۰۶، و قال الألباني حسن الإسناد ]

    کھجور اچھی بھی ہوتی ہے درمیانی بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی
    اگر ہم اوسط ریٹ فی کلو 500 کے مطابق بھی حساب کریں تو 80 وسق یعنی 300 من کھجور (جوکہ 12000 کلو بنتی ہے) 60 لاکھ روپے مالیت ہے

    اور 20 وسق یعنی 75 من جو (جوکہ 3000 کلو بنتے ہیں)
    فی کلو جو کا اوسط ریٹ 80 روپے ہے
    75 من جو تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار روپے کے بنتے ہیں

    گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر زوجہ محترمہ کو ٹوٹل 62 لاکھ 40 ہزار روپے سالانہ دیا کرتے تھے

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیک وقت 9 ازواج مطہرات موجود رہی ہیں

    اس حساب سے 9 بیویوں کا سالانہ خرچ 5 کروڑ 61 لاکھ 60 ہزار روپے بنتا ہے

    کیا دنیا میں کوئی شخص اتنا مالدار پایا گیا ہے جو اپنی بیویوں کو اتنی بھاری رقم سالانہ جیب خرچ کے طور پر دیتا ہو ❓

    نوٹ، ایک وسق تقریباً 3 من 30 کلو کا ہوتا ہے

    *5 کروڑ 40 لاکھ روپے کا بجٹ*

    خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہو گیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو یعنی 450 تولہ سونے) کے برابر تھا۔ جوکہ(موجودہ سونے کے ریٹ 1 لاکھ 20 ہزار روپے فی تولہ کے حساب سے) 5 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے برابر ہے یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں
    اور اسی زندگی پر قناعت کرتیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے اختیار کی تھی

    *ہر بچے کا وظیفہ مقرر کیا جانے لگا*

    تاریخ کی یادوں میں یہ بات معروف ہے کہ عھد فاروقی میں مسلمانوں کے ہربچے کا وظیفہ بیت المال سے جاری کردیا جاتا تھا

    اور یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کا کوئی خلیفہ افق پر چھائے ہوئے بادلوں کو جب برسے بغیر واپس جاتے ہوئے دیکھتا تو انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرماتا تم جہاں کہیں بھی برسو گے آخر تمہارا خراج تو میرے پاس ہی آئے گا

    *فتوحات کا سیل رواں*

    مولانا اقبال کیلانی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب "جہاد کے مسائل” کے مقدمہ میں بڑی خوبصورت ترتیب سے چند فتوحات کا تذکرہ کیا ہے

    آپ لکھتے ہیں
    عہد صدیقی 632 ء تا 635 ء (دورانیہ تقریباً اڑھائی سال)
    اس دوران حیرہ اور عراق فتح ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت، مرتدین، اور منکرین زکوٰۃ کا خوب بندوبست کیا گیا

    عہد فاروقی 635ء تا 645ء
    635ء میں اسلامی فوجیں ایران میں داخل ہوئیں اور 642ء تک (صرف 7 سالوں میں) قادسیہ، مدائن، جلولاء، حلوان، خوزستان، اصفہان،ہمدان، رے، طبرستان، آزربائیجان، آرمینیا، کرمان اور خراسان فتح ہوئے
    دوسری طرف
    635ء میں دمشق
    636ء میں حمص، انطاکیہ، بیت المقدس
    638ء میں پورا ملک شام فتح ہوا
    641ء میں مصر
    647ء میں تیونس
    653ء میں الجزائر، یونان اور قبرص
    670ء میں قیروان
    674ء میں بخارا
    675ء میں سمر قند فتح ہوا
    693ء میں اسلامی فوجیں ساحل اطلس تک پہنچ چکی تھی
    700ء میں ایشیاء کوچک میں داخل ہوئیں
    711ء میں ایک طرف طارق بن زیاد نے سپین اور آدھا فرانس فتح کرلیا تھا تو دوسری طرف محمد بن قاسم کراچی سے ملتان تک اسلامی پھریرا لہرا رہا تھا
    809ء میں کارسیکا
    810ء میں سارڈینا
    823ء میں کریٹ
    826ء میں سسلی
    846ء میں جنوبی اٹلی اور
    870ء میں مالٹا مسخر ہوا

    *جہاد کی برکت سے صرف 200 سال میں بحر اسود سے لیکر ملتان تک اور سمرقند سے لیکر فرانس تک 90 لاکھ مربع میل پر اسلامی پھریرا لہرا رہا تھا*

    *بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ*

     تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
     خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

     مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
     تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا

    اور آپ نے مزید لکھا

     تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
    خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
     دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
     کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
     شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاںداروں کی
     کلِمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

     ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے
     پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
     تجھ سے سرکش ہُوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
     تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
     نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
     زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے

    *جہاد کی تازہ بشارتیں*

    فی زمانہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ میں کس قدر خیر اور برکت رکھی ہے

    1️⃣ یہ کل کی بات ہے جب امریکہ بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت 100 سے زائد ملکوں کو ساتھ لیئے نہتے افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا اور اس وقت کے امریکی صدر نے کہا تھا کہ یہ تو ہمارے سامنے چار گھنٹے نہیں ٹھہر سکتے
    مگر چشم فلک نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہی امریکہ صرف 20 سال کے مختصر عرصے میں راتوں رات ایسے بھاگا کہ سیکیورٹی پر مامور افغان فورسز کو بھی معلوم نہیں ہونے دیا

    اور تاریخ میں مسلمانوں کے خلاف اتنے بڑے صلیبی اتحاد کی مثال نہیں ملتی لیکن مزے کی بات ہے کہ اتنی بڑی ذلت آمیز شکست کی مثال بھی شاید کہیں نہیں ملے گی

    2️⃣ اگر تھوڑا پیچھے چلیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ امریکہ بہادر کو ہزیمت سے دوچار کرنے والے یہ مجاہدین امریکہ کی آمد سے صرف 11 سال پہلے دنیا کی بہت بڑی سپر پاور روس کو شکست کے مزے چکھا کر ابھی پوری طرح سے تازہ دم بھی نہیں ہوئے تھے

    3️⃣ اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس سرخ ریچھ کے آنے سے صرف 60 سال قبل انہی مجاہدین کے آباؤ اجداد ایک ایسی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا چکے ہیں جو اپنے آپ کو برطانیہ عظمی کہلواتی تھی اور "عظمی” کا لاحقہ لگانے کی وجہ یہ تھی کہ ان کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا لیکن آج وہی برطانیہ سکڑ کر افغانستان سے بھی چھوٹا ہوگیا ہے اور "عظمی” تو دور کی بات "برطانیہ” بھی نہیں رہا اس کی جگہ "انگلینڈ” نے لے لی ہے

    *گویا 1919 تا 2021 صرف ایک صدی میں جہاد کی برکت سے ایک ایسی قوم نے تین سپر پاوریں ڈھیر کردیں کہ جنہیں ڈھنگ سے کپڑے بھی استری کرنے نہیں آتے*

    4️⃣ اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو برصغیر سے انگریز کا نکلنا اور وطن عزیز پاکستان کا قیام پزیر ہونا کسی سیاسی یا جمہوری جدوجہد نہیں بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کا عظیم ثمرہ ہے
    (ان شاء اللہ اس موضوع پر جلد ہی لکھنے کا ارادہ ہے جس میں دلائل سے یہ بات ثابت کی جائے گی کہ قیام پاکستان، جہاد فی سبیل اللہ سے ہی ممکن ہوا ہے)

    5️⃣ جہاد افغانستان سے وطن عزیز پاکستان میں خوشحالی، فراوانی اور آسودگی پیدا ہوئی ہے اگر ہم 1980 سے پہلے کے حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں وہ بہت سی نعمتیں اور سہولیات نظر نہیں آئیں گی جنہیں ہم آج استعمال کر رہے ہیں
    صرف چینی اور آٹے کی کیفیت ملاحظہ فرمائیں لوگ لائنوں میں کھڑے ہو کر آٹا حاصل کرتے تھے اور چینی تو صرف سرکاری ڈیپو سے ہی ملا کرتی تھی اور وہ بھی محدود مقدار میں کہ کوئی اس سے زیادہ نہیں لے سکتا تھا اور اس کے لیے بھی پہلے کارڈ بنوانے پڑتے تھے
    گویا اس جہاد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ایک طرح سے قحط سالی کا خاتمہ کیا

    6️⃣ اگر یہ بات کہوں کہ وطن عزیز پاکستان کو ایٹم بم کی شکل میں بے پناہ قوۃ بھی اسی روسی جہاد کی بدولت حاصل ہوئی ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا
    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روس کے خلاف لڑنا پوری دنیا کی مجبوری بنا دیا تھا جس کی وجہ سے سب لوگ پاکستان کے محتاج تھے اور یہی وہ حالات تھے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی طاقتوں کے ناچاہتے ہوئے بھی ایٹمی پروگرام پایا تکمیل تک پہنچایا گیا ورنہ نارمل حالات میں یہ ممکن ہی نہیں تھا

    7️⃣ اور پھر امریکہ کے خلاف ہونے والے جہاد 2001 سے پہلے اور بعد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو بہت فرق نظر آتا ہے
    وطن عزیز پاکستان میں نظر آنے والی بہترین سڑکیں، اعلی کوالٹی کی گاڑیاں، انڈسٹریل پروگریس، بڑھتا ہوا تجارتی حجم، اور افواج پاکستان کی دسترس میں آنے والی جدید ٹیکنالوجی، اسلحہ اور پاکستان کا مضبوط ہوتا ہوا دفاع 2001 سے پہلے کہاں نظر آتا تھا

    8️⃣ اسی کی دہائی میں وطن عزیز پاکستان کے اندر سوشلزم کا نظریہ بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا تھا روٹی کپڑا اور مکان کے بظاہر خوبصورت نعرے کی آڑ میں اسے نافذالعمل بنانے کے منصوبے تشکیل دیئے جا رہے تھے کوئٹہ اور پشاور جیسے شہروں میں جگہ جگہ سرخ انقلاب کے حق میں وال چاکنگ نظر آتی تھی بہت سے لوگ اپنے آپ کو کامریڈ یا سرخے کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے قریب تھا کہ پاکستان سوشل ازم کی گود میں چلا جاتا مگر جہاد کی برکت دیکھئے کہ وطن عزیز میں ایک گولی چلائے بغیر کیسے اس ممکنہ انقلاب کو الٹ کر رکھ دیا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ماسکو میں بھی اسے راندہ درگاہ قرار دیا گیا

    9️⃣ اسی کی دہائی سے پیچھے چلیں جائیں تو وطن عزیز پاکستان میں داڑھی، ٹوپی، پگڑی اور برقعے کے وہ مظاہر نظر نہیں آتے جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کوئی بڑا عالم ہوتا تو شاید اس کے چہرے پر داڑھی نظر آتی تھی یا پھر کوئی بوڑھا داڑھی رکھ لیتا نوجوانوں میں تو اس بات کا تصور بھی نہیں تھا
    آدھے رخسار تک پہنچتی ہوئی لمبی لمبی قلمیں رکھنے کا رواج عام تھا اور شلوار ٹخنوں سے اوپر کرنا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
    مگر اس کے بعد سے اب تک روزبروز یہ تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے
    نوجوانوں کے چہرے داڑھی سے سجتے سنورتے نظر آرہے ہیں اور یہی شرح نمو برقعے اور پردے کی ہے
    یہ تصور عام تھا کہ نماز، آذان اور مسجد میں جانا تو بوڑھوں کا کام ہے مگر اب اللہ کے فضل سے مساجد میں نوجوانوں کی بڑی تعداد دکھائی پڑتی ہے

    🔟 آپ حیران ہوں گے کہ روسی اور امریکی دونوں حملوں کا اصل ٹارگٹ اسلام اور مساجد و مدارس کو کنٹرول بلکہ ختم کرنا تھا امریکی صدر بش نے تو مدارس اسلامیہ کی بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ "ہم مجھر پیدا کرنے والے جوہڑ بند کردیں گے”
    مگر اللہ کا فضل اور جہاد کی برکت دیکھیں کہ اسی دوران وطن عزیز پاکستان میں مساجد و مدارس کا جال بچھا دیا گیا جتنی خوبصورت مساجد آج موجود ہیں پہلے کہاں نظر آتی تھیں آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی مدارس کی عمارتیں عالم کفر کا منہ چڑا رہی ہیں کوئی چلے اور دیکھے جامعہ محمدیہ، سلفیہ ،مرکز طیبہ ،جامعہ رحمانیہ ،دارالعلوم، حقانیہ، بنوریہ کی وسیع رقبے پر مشتمل فن تعمیر کی عظیم شاہکار عمارتیں اور پھر ان مدارس کا میس شیڈول دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے کہ عالم کفر تو انہیں مٹانے آیا تھا مدارس اور ان کے طلبہ کی تعداد میں ساٹھ ستر فیصد اضافہ ہوا ہے

  • عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    باغی ٹی وی کے مطابق افغان طالبان نے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھارت کے ساتھ جنگ والی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیک اکاؤنٹ‌سے خبر نشر کی گئ ہے . ہم اس بیان کی تردی کرتے ہوئے ہیں.واضح‌رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی مبینہ ایک تویٹ کہاگیا تھا کہ مسلمان کی کافر سے دوستی ناممکن ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان سے منسوب عید کے بعد غزوہ ہند کے اعلان کا فیک پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا . جسے ملک کے معروف صحافیوں ، عسکری تجزیہ نگاروں اور الیکٹرانک میڈیا سے شئر کی گیا. افغان طالبان کے ترجمان زبیج اللہ مجاہد نے اس پوسٹر کی تردید کرتے ہو کہا کہ ہے جس ٹویٹڑ اکاونٹ سے یہ پوسٹر شئر کیا گیا ہے وہ فیک اکاؤنٹ ہے تمام میڈیا کے ادارے نوٹ کر لیں

    کل طالبان سے منسوب ایک فیک پوسٹر میں یہ طالبان سے متعلق یہ بیان دیا گیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک امارات اسلامیہ کی ہندوستان سے دوستی ممکن نہیں ہے۔ فتح کابل کے بعد ، امارات اسلامیہ نے کشمیر کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے کو بھی فتح کرنا ہے ان شاء اللّٰہ۔ اس کے بعد ہندوستان کے دو انتخاب ہیں ، یا تو مکمل ہتھیار ڈالنا اور اسلام قبول کرنا یا غزوہِ ہند کا سامنا کریں۔

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    جان اچکزئی کی ٹویٹ

    زید حامد کی ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261864387515744257?s=20

    زید حامد کی ایک اور ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261854126432018433?s=20