Baaghi TV

Tag: آئی پی پی

  • مینیڈیٹ ملا تو جہانگیر ترین وزیراعظم ہونگے.  صدر  استحکام پاکستان پارٹی

    مینیڈیٹ ملا تو جہانگیر ترین وزیراعظم ہونگے. صدر استحکام پاکستان پارٹی

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدرعبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ صرف میرے ساتھ نہیں پوری قوم کے ساتھ دھوکا ہوا، تحریک انصاف کا دی اینڈ ہے، آئندہ عام انتخابات سب کیخلاف لڑیں گے، جیتنے پرجہانگیرترین استحکام پاکستان پارٹی کے وزیراعظم کےامیدوارہوں گے ۔ جبکہ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی بنانےکا فیصلہ سب دوستوں نے ملکرکیا، پی ٹی آئی میں شامل لوگ نیاپاکستان بنانےمیں چیئرمین کاساتھ دینا چاہتے تھے،اورسب نے اپنےاپنےحصے کے تحت کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ میراپرویزخٹک سے براہ راست رابطہ نہیں ہوا شاہ محمود سے بھی بات نہیں ہوئی، اسد عمرسے ملاقات ہوئی،انہیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت بھی دی، اسدعمرسیاست کرنا چاہیں گےتوہماری پارٹی میں شامل ہوجائیں گے۔ صدرآئی پی پی نے کہا کہ میں نےسب کودعوت دی ہے کسی سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ، نئی سوچ اورخوبصورت پاکستان کی کوشش کرنےوالا پارٹی میں شامل ہوسکتا ہے،ہراس شخص کیلئے دروازے کھلےہیں جو9 مئی میں ملوث نہیں تھا۔عید کےبعد بہت سارے دوست استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوں گے۔ بہت سےلوگ حلقوں اوردوستوں میں مشاورت کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی چھوڑنے والوں میں25 فیصد سےزائد لوگ ہمیں جوائن کر چکے، جو لوگ علیحدہ ہوئےانہوں نےسیاست کرنی تھی اس لیے پلیٹ فارم چاہیےتھا۔

    انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا ساتھ دینےکا فیصلہ اپنی ذات کیلئےنہیں کیاتھا،یہ سوچ کرفیصلہ کیاتھاکہ ملک کےلیےکچھ کروں گا،اپنےکاروبارکوتحفظ دیناہوتا توق لیگ چھوڑکرن لیگ جوائن کرتا،چیئرمین پی ٹی آئی کی ساکھ نمل اورشوکت خانم کی وجہ سے تھی، نمل اورشوکت خانم کودیکھ کرقوم چیئرمین پی ٹی آئی پراعتبارکربیٹھی،میں آج تک شوکت خانم کا سب سے بڑا ڈونرہوں، شوکت خانم کے سی ای اوفیصل سلطان پرراعتبارہے، مجھےاعتماد ہے کہ میرے پیسے بےایمانی میں نہیں جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویزخٹک کوبتایا تھاکہ ان کی وجہ سےبہت سی مشکلات دیکھیں،چیئرمین پی ٹی آئی پرویزخٹک سےناراض تھے،اسی لیےپنجاب میں بزداراورکے پی میں محمود خان کا فارمولا لگایا تھا،چیئرمین پی ٹی آئی کہتےتھےآئندہ بھی بزدارکووزیراعلیٰ بناؤں گا،محمودخان کونہیں جانتا لیکن عثمان بزدارکواچھی طرح جانتا ہوں،عثمان بزدارنےجوکچھ پنجاب کےساتھ کیا میں اس کا گواہ ہوں۔

    عبدالعلیم خان نے کہا کہ محمودخان نکماہوسکتاہےلیکن کرپٹ نہیں تھا،عثمان بزدار ”رج“ کے نکمےاوربےایمان بھی تھے، پنجاب فرح گوگی،شوہراورچیئرمین پی ٹی آئی کےگھرسےچل رہا تھا،عثمان بزدارفرح گوگی اوربشریٰ بی بی کےفرنٹ مین تھے،عثمان بزداران کیلئے پیسے اکٹھےکرتا تھا،ساتھ اپنےلیےبھی رکھتا تھا،عثمان بزدارکا کام ایک کلیکٹرکا تھا،وزیراعلیٰ بن کریہ مال اکٹھا کرتےاورفرح گوگی کودیتےتھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی اورکمشنرلگنےکاریٹ بھی مقررکردیا گیا تھا،پنجاب میں وہ سب کچھ ہواجواس سےپہلےکبھی نہیں سنا تھا، یہ ریٹ صرف ایک مخصوص مدت کے لیےہوتاتھا،اسی ریٹ کےمطابق ڈی پی اوسمیت دیگرلوگ لگتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی کوسب معلوم تھا میں نے بھی بتایا تھا،وہ کوئی ایسی چیزنہیں کرسکتے تھےجس کی گھرسے منظوری نہ ہو،اور انہوں نے وہ تمام چیزیں کیں جوانہیں مرشد نےکہیں۔

    عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان کومرشد چلارہےتھے،ہرچیزکا فیصلہ مرشد سےہوتا تھا،کس سےملنا ہے،کس وقت باہرنکلنا ہےسب فیصلےمرشد کےتھے،سیکریٹری اوروزیرلگانےکی منظوری بھی مرشد سےہوتی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کوایماندارنہیں سمجھتا،چیئرمین پی ٹی آئی کومرشد کی کرپشن کامعلوم تھا،اس وقت کےآئی ایس آئی چیف نےچیئرمین پی ٹی آئی کوکرپشن کابتایا،انہوں نےبتایاکہ رشوت کامال،ہیرےکی انگوٹھیاں آپ کےگھرمیں ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے انہیں کہا آپ سرخ لکیرعبورکررہے ہیں،اورانہوں نے اسی دن آئی ایس آئی چیف کوہٹا دیا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے بے ایمانی کا بتانےوالوں کو ہی ہٹادیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان لوگوں کویقین دلاتا تھا کہ ایماندارلوگوں کولاؤں گا،باقی لوگوں کوبھی اندازہ ہورہا ہےجوانہوں نےکہا تھا سب اُلٹ ہوا،چیئرمین پی ٹی آئی کواس وقت چھوڑا جب وہ حکمران تھے،انہوں نےلوگوں کی امیدتوڑدی،اورڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں اب پھر اگلی باری مجھےدو،چیئرمین پی ٹی آئی مکافات عمل کاشکارہے،ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے،شاہ محمودکےٹویٹ پرمیں نےکہا تھا اللہ کوپتا ہےکس کا“دی اینڈ“ہے۔

    صدراستحکام پاکستان پارٹی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے4 سال میں50 لاکھ میں سے کتنے گھربنائے؟ انکو50لاکھ گھرنہ بنانےپرکوئی شرمندگی نہیں،قوم سمجھتی تھی چیئرمین پی ٹی آئی آئیں گےتونیاپاکستان بنےگا،گھرکےلوگوں نےبزدار،فرح گوگی اوربےایمان لوگ لگانےکا کہا،اگرعثمان بزدارنیا پاکستان تھا توکیایہ قوم کے ساتھ دھوکا نہیں تھا؟صرف میرےساتھ نہیں پوری قوم کےساتھ دھوکاہوا۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ وزیراعظم بننےکےبعدچیئرمین پی ٹی آئی نےتمام باتوں سےانحراف کیا،یقین تھاچیئرمین پی ٹی آئی کسی چورکی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے،یقین تھاکہ چیئرمین پی ٹی آئی بےایمان نہیں ہیں،جورول ماڈل دکھاتےتھےہم ان پریقین کرتےتھے،شوکت خانم میں فرح گوگی،بزدار کو لگاکردیکھیں کوئی ایک روپیہ نہیں دےگا۔

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جھوٹاشخص ہے،ہماری حکومت آئی توفرح گوگی کوخودجاکرواپس لائیں گے،فرح گوگی اسی دنیامیں ہے،انٹرپول کےذریعےواپس لایاجائے،مال کتنااکٹھاہوااورکہاں پہنچایایہ سب فرح گوگی،بزدارسےمعلوم ہوگا،فرح گوگی کوسامنےلایاجائے سب بتادےگی مال کہاں کہاں پہنچایا،عثمان بزدارکووزارت اعلیٰ دینےکافیصلہ بیگم صاحبہ نےکیاتھا،پی ٹی آئی کےپہلے100دن کےپروگرام کاانچارج میں تھا،100روزمکمل ہونےپرتقریب میں چیئرمین پی ٹی آئی بطوروزیراعظم آئے،عثمان بزدارنےمجھےتقریب میں مدعونہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرشد نہیں چاہتی تھیں چیئرمین پی ٹی آئی اپنےبیٹوں سےملیں، جس کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی ساڑھے3 سال اپنے بچوں کونہیں ملے،چیئرمین پی ٹی آئی کےلیے صرف وہ خود اہم ہے،وہ خودنمائی کاشکارہیں،9مئی کےواقعات میں چیئرمین پی ٹی آئی کاکلیدی کردارہے،وہ 9 مئی کےواقعات میں استعمال ہوئے،ملک کوغیرمستحکم کرنے والی قوتیں سانحہ 9 مئی میں ملوث تھیں،اورعالمی قوتیں بھی ملوث تھیں، اورلوگوں کواس نہج تک پہنچانےکےپیچھےپوری منصوبہ بندی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ کرنل شیرخان کےمجسمےنالےمیں پھینکنےوالےکون سےپاکستانی ہیں؟قائد اعظم کی اپنی چیزوں اورمسجدکوبھی جلایا گیا،ان کےلوگوں نےجناح ہاؤس جاکران تصاویرکو جلایا،کوئی محب وطن ان تصاویر پرکوئی اسٹیکرلگانےکا بھی نہیں سوچ سکتا، جناح ہاؤس کی دیواروں پرقائداعظم اورفاطمہ جناح کی تصاویرلگی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نےپیپلزپارٹی،ن لیگ اورکسی دوسری جماعت سےکسی کونہیں لیا،پی ٹی آئی میں موجودسارےلوگ9مئی کےذمےدارنہیں ہیں، جب تک زندہ ہوں فوج کےساتھ رہوں گا،اپنی فوج کےساتھ ہوں،اسٹیبلشمنٹ بھی ہمارےملک کی ہے۔

    عبدالعلیم خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی دی گئی تاریخ پرانتخابات ہونے چاہئیں، ہماراکسی پارٹی سےاتحاد نہیں ہورہا، انہی جماعتوں کیساتھ ملکرالیکشن لڑنا تھا تواپنی پارٹی بنانےکی کیا ضرورت تھی؟ 40 سال سے برسراقتدارجماعتوں کےساتھ ملکرکیسےالیکشن لڑیں؟ پی ڈی ایم اورپی ٹی آئی دونوں کےخلاف الیکشن لڑیں گے،الیکشن میں جیت کی صورت میں جہانگیر ترین استحکام پاکستان پارٹی کے وزیراعظم کے امیدوارہوں گے جبکہ وزیر اعلیٰ کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔ صدر آئی پی پی نے کہا کہ نوجوانوں کوپیروں پرکھڑاکرنےکیلئےبلاسودآسان قرضےدیں گے،یوسی سطح پرفری ڈسپنسریاں بنائیں گے،دوائیاں بھی مفت ملیں گی،مزدورکی کم سےکم اجرت50ہزارروپےکریں گےچھوٹےکسان کیلئےلگائی جانےوالےٹیوب ویل کی بجلی بھی مفت ہوگی،غریب کیلئے300یونٹ تک بجلی مفت ہوگی،اس کی ادائیگی حکومت کرےگی ،بی آئی ایس پی اتنابڑاکریں گےکہ غریبوں کی مشکلات دورہوں۔

  • جہانگیر ترین کے خلاف گھناؤنی سازش کے مرکزی کردار چیئرمین پی ٹی آئی اور ثاقب نثار تھے،عون چوہدری

    جہانگیر ترین کے خلاف گھناؤنی سازش کے مرکزی کردار چیئرمین پی ٹی آئی اور ثاقب نثار تھے،عون چوہدری

    رہنما استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) عون چوہدری جہانگیر ترین سے ملاقات کے بعد آصف علی زرداری اور نواز شریف کو جہانگیر ترین کا اہم پیغام پہنچانے دبئی روانہ ہوگئے-

    باغی ٹی وی: لندن سے دبئی کےلیے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عون چوہدری کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے خلاف گھناؤنی سازش کے مرکزی کردار چیئرمین پی ٹی آئی اور ثاقب نثار تھے اہم شخصیت نے جہانگیر ترین کے خلاف سازش میں چیئرمین پی ٹی آئی اور ثاقب نثار کے ملوث ہونے کی تصدیق کی۔

    عون چوہدری کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے غیرقانونی اور غیر اخلاقی بنیادوں پر جہانگیر ترین کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنے اقتدار کی راہ ہموار کی ثاقب نثار اور چیئرمین پی ٹی آئی نے جہانگیر ترین کے ساتھ ایسا ظلم کیا جیسا نواز شریف کے ساتھ ہوا تھا اللّٰہ کا شکر ہے کہ اب جہانگیر ترین انتخابی سیاست کےلیے اہل ہوگئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا : ق لیگ نے ن لیگ کی بڑی وکٹ گرا لی

    پی ٹی آئی کے رہنماعثمان ڈار کی فیکٹری پر چھاپہ

    عون چوہدری کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو چیلنج کرتا ہوں حلفاً بتائیں انہوں نے کیا ثاقب نثار کے ساتھ مل کر سازش نہیں کی؟ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ جہانگیر ترین کی ریویو پٹیشن مسترد کروانے میں ان کا کیا کردار تھا؟ شواہد موجود ہیں کہ جہانگیر ترین کی ریویو پٹیشن سپریم کورٹ سے مسترد کروانے میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی کا ہاتھ تھا عملیات کی بنیاد پرجہانگیر ترین کو انتخابی سیاست سے فارغ کروایا گیاجہانگیر ترین تین دن بعد واپس لاہور پہنچ جائیں گے جبکہ دبئی میں اہم ملاقاتوں میں شرکت کے بعد میں بھی لاہور جاؤں گا۔

    پی پی ن لیگ مذاکرات، ایجنڈہ سیاسی و معاشی استحکام

    پیپلز پارٹی نے ن لیگ سے پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں سیٹیں مانگ لیں

    قائم مقام صدر نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کردیئے

  • آئی پی پیز کی مہنگی بجلی از عدنان عادل

    بجلی بنانے کی نجی کمپنیاں عرف عام میںآئی پی پیز کہلاتی ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی کے وسط میںبے نظیر بھٹوکے دوسرے دور حکومت میں ان کا ڈول ڈالا گیا۔ مقصد تھا کہ نجی شعبہ خاص طور سے بیرونی سرمایہ کار بجلی بنانے کے منصوبے لگائیں تاکہ ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔کہا گیا کہ حکومت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں کہ وہ اربوں روپے سے یہ منصوبے لگائے۔ اس وقت کے حکمرانوں نے بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے جن کی شرائط کا زیادہ تر فائدہ نجی کمپنی کو تھا‘ بجلی خریدنے والے سرکاری ادارہ اور صارفین کو نہیں۔ ایک تو نجی کمپنیوں کو حکومت نے یہ ضمانت دی کہ وہ ہر حال میں ان کی بجلی کی ایک خاص مقدار کی قیمت لازمی طور پر ادا کرے گی خواہ استعمال کرے یا نہ کرے۔ یہ ضمانت اس لیے دی گئی کہ بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کار اربوں روپے لگاتا ہے۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں سرمایہ نہیں لگا سکتا کہ اس کی بنائی ہوئی چیز منڈی میں فروخت ہو یا نہ ہو۔ دوسرے‘ان کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا جو نرخ (ٹیرف) مقرر کیاگیا وہ بہت زیادہ تھا۔ اس معاملہ پراسو قت ماہرین نے بہت شورمچایا لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہوگئی۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ مہنگی۔ اس مہنگی بجلی کے باعث ملک میں کارخانے چلانا مشکل ہوتا چلا گیا کیونکہ مال بنانے پر لاگت دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہوگئی۔

    بے نظیر بھٹو دور میں کیے گئے معاہدوں کی عمر پچیس سے تیس سال تھی۔اب یہ منصوبے عوام کا خون چوس کراور صنعتوں کوتباہ و برباد کرنے کے بعد اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہیں۔انیس سو ستانوے میں نواز شریف کی دوسری حکومت آئی تو انہوں نے سرکاری پلانٹ جیسے کوٹ ادو پاور پلانٹ بھی نجی شعبہ کو اونے پونے داموں‘ قسطوں پر فروخت کردیے۔اور ان ہی سے مہنگے داموں بجلی خریدنے کے معاہدے بھی کرلیے۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے آئی پی پیز کی ایک نئی پالیسی دی۔ توقع تھی کہ اس بار ملکی مفاد کے پیش نظر بہتر پالیسی دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہُوا۔ اس دور میںبھی نجی شعبہ میں بجلی بنانے کے جو معاہدے ہُوے ان میں کم و بیش وہی شرائط تھیں جو ماضی میں تھیں۔ نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو پھر انہوں نے ایک اورنئی آئی پی پی پالیسی دی۔ اسکے تحت چینی سرمایہ کاروں نے بھی کوئلہ اور ایل این جی (قدرتی گیس) سے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے۔ چین ہمارا دوست ملک ہے۔ اس سے ہمارے تزویراتی (اسٹریٹجک) تعلقات ہیں۔ان منصوبوں کی لاگت اور ان کے زیادہ نرخوں پر بات کرنا ایک حساس معاملہ ہے۔ایف آئی اے نے آئی پی پیز پر جو تحقیقات کی ہیں ان میں ان کی ہوش رُبا منافع خوری سامنے آئی ہے۔ یہ درست ہے کہ آئی پی پیز نے پاکستانی قوم کو ہزاروں ارب روپے کا چونا لگایا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کمپنیوںنے جو بھی مال سمیٹا ہے اُسکی اجازت انہیں قانونی معاہدوں کے تحت دی گئی۔ یہ توپا لیسی بنانے والوں کی نااہلی ہے یا بدنیتی ہے کہ انہوں نے ایسے یکطرفہ عہد نامے بنائے جن سے بجلی کے صارفین کو نقصان ہوا۔

    پہلی گڑ بڑ تو ان کمپنیوں نے پلانٹ لگانے کی قیمتوں میں کی۔فرض کیجیے کہ ایک پلانٹ اگر ایک سو روپے میں لگتا ہے تو اسکی قیمت سوا سو روپے یا ڈیڑھ سو روپے ظاہر کی اور نیپرا(بجلی کا نرخ مقرر کرنے کا ریگولیٹری ادارہ) نے اسے قبول کرلیا۔ دوسرے‘ بجلی کے پلانٹ بنانے والی کمپنیاںجیسے جنرل الیکٹرک وغیرہ احتیاط کے طور پر اپنے پلانٹ کی ایفی شنسی(یعنی یہ مشینری کتنے تیل سے کتنی بجلی بنائے گی ) اصل سے کم رکھتی ہیں تاکہ اگر کوئی اونچ نیچ ہو تو انہیں بعد میںجرمانہ ادا نہ کرنا پڑے۔ اسکا فائدہ بھی آئی پی پیز نے اٹھایا۔ اگر ایک پلانٹ ایک سو لیٹر تیل یا اسکے برابر گیس سے بجلی بنارہا تھا تو دستاویزات میں سوا سو لیٹر بتایا گیا ۔نیپرانے بجلی کا نرخ بھی سوا سو لیٹر پر مقرر کیا۔یوں اس کمپنی کوحقیقت میں پچیس لیٹر تیل کی بچت ہورہی تھی ۔ظاہر ہے اس کام میں بہت بڑی مقدار میں تیل استعمال ہوتا ہے تو یہ فرق کروڑوں روپے سالانہ میں جا پہنچتا ہے۔ زیادہ تر آئی پی پیز نے پاکستانی عوام کاخون چوس کر اسطرح لمبا چوڑا مال بنایا ۔بجلی بنانے والے پلانٹ میں تیل کی اصل کھپت اوردستاویزات میں ظاہر کردہ کھپت کے فرق کو مدّنظر رکھے بغیر بجلی کا نرخ مقرر کرنا نیپرا کی نالائقی ہے۔

    اب تک آئی پی پیز کے جو معاہدے ہوئے وہ ہماری بدقسمتی ہے۔ لیکن ماضی میںجو ہونا تھا ‘سو ہوگیا۔ اب حکومت ان پر انکوائری کروا کر ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ آئی پی پیز کے ساتھ حکومت پاکستان کی ضمانت کے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگر حکومت ان کی خلاف ورزی کرے یا اُن کوقانونی جواز کے بغیر منسوخ کرے تو یہ کمپنیاں نہ صرف پاکستانی عدالتوںسے رجوع کرسکتی ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف تصفیہ کے عالمی ادارہ میں بھی جاسکتی ہیں۔اس سے پہلے پاکستان حکومت عالمی ادارہ میںریکوڈک کا مقدمہ اور ترکی کی بجلی بنانے کی کمپنی’ کارکے ‘کا دائر مقدمہ ہار چکی ہے اور اسے اربوں ڈالر کے بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔ اب اگر ان معاہدوں کو یکطرفہ طور پر چھیڑا گیا تو یہ کمپنیاں عدالت میںچلی جائیں گی جہاں حکومت کا مقدمہ جیتنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ بیرونی اور نجی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ اس معاملہ کا حل یہی ہے کہ حکومت ان کمپنیوں سے بات چیت کے ذریعے معاہدوں پر نظر ثانی کرلے اور تیل کی اصل کھپت کو سامنے رکھ کر بجلی کے نرخ آئندہ کے لیے کم کروالے۔ اگر ایسا ہوسکے تو عوام کے لیے یہ بھی بڑا ریلیف ہوگا۔
    عدنان عادل