Baaghi TV

Tag: آزادی صحافت

  • پاکستانی میڈیا نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، بلاول بھٹو

    پاکستانی میڈیا نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، بلاول بھٹو

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران عالمی سطح پر پاکستان اور بھارتی میڈیا آمنے سامنے تھے، اس دوران پاکستانی میڈیا نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا اور بہترین کردار ادا کیا۔

    یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر فیڈرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ایف یو جے نے آزادی صحافت کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے بھی صحافیوں کی تحریکوں میں ان کا ساتھ دیا، جبکہ تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) میں بھی صحافیوں کا کردار نمایاں رہا۔

    انہوں نے کہا کہ آج بھی آزادی صحافت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارتی پروپیگنڈا اور ڈس/مس انفارمیشن جیسے ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے، جو کہ پہلے پابندیوں کی زد میں تھا، تاہم بھارت سے حالیہ کشیدگی کے بعد حکومت نے اس پر سے پابندیاں ختم کیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ پارٹی آزادی اظہار رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی ہونی چاہیے۔

    بلاوایو ٹیسٹ: نیوزی لینڈ کی زمبابوے کے خلاف 9 وکٹوں سے فتح

    ایف بی آر میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ، 252 افسران کے تبادلے و تقرریاں

    ایف بی آر میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ، 252 افسران کے تبادلے و تقرریاں

    مصطفیٰ کھوکھر ریئل اسٹیٹ مافیا ، ایرانی صدر کے دورے کو سبوتاژ کیا جا رہا: عطا تارڑ

  • عالمی میڈیا تنظیموں کا غزہ میں صحافیوں کو داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ

    عالمی میڈیا تنظیموں کا غزہ میں صحافیوں کو داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ

    بین الاقوامی میڈیا اداروں اور آزادی صحافت کے لیے سرگرم عالمی تنظیموں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو غزہ میں رپورٹنگ کے لیے داخلے کی اجازت دی جائے۔

    رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس سمیت دیگر اداروں نے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ اسرائیل گزشتہ 20 ماہ سے صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے، جو ایک غیر معمولی اور تشویشناک صورتحال ہے۔خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ میڈیا کو غزہ تک آزاد، غیر مشروط اور غیر محدود رسائی دی جائے تاکہ جنگ زدہ علاقے سے درست معلومات سامنے آ سکیں۔ ساتھ ہی، ان صحافیوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے جو محاصرے کے دوران اندر سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

    تنظیموں کے مطابق اب تک تقریباً 200 صحافی اسرائیلی کارروائیوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات آزادی صحافت اور معلومات تک رسائی کے بنیادی حق پر براہ راست حملہ ہیں۔

    عالمی برادری، حکومتوں اور اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں صحافیوں اور عام شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    اوچ شریف:سروس اسٹیشنز پر کریک ڈاؤن، ڈینگی مہم میں غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی, عمران سیال

    ملیر جیل بریک: 115 ملزمان عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل، 111 قیدی تاحال مفرور

  • یوم آزادی صحافت، پاکستان میں ایک سال میں 4 صحافی قتل،104 مقدمے

    یوم آزادی صحافت، پاکستان میں ایک سال میں 4 صحافی قتل،104 مقدمے

    عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر فریڈم نیٹ ورک نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ایک برس میں چار صحافی قتل ہوئے جبکہ 104 سے زائد مقدمے صحافیوں پر درج کئے گئے

    تین مئی ، دنیا بھر میں عالمی یوم آزادی صحافت کے طور پر منایا جاتا ہے،تاہم پاکستان میں صحافت ، خطرناک ترین ہوتی جا رہی ہے، صحافیوں کو دھمکیاں، مقدمے، دباؤ، گرفتاریاں سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے، ریاستی جبر اور غیر ریاستی عناصر کی مبینہ کارروائیوں کے سبب پاکستان میں آزادی صحافت اور رائے کی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں

    پاکستان دنیا کے ان 3 ممالک میں شامل ہے جہاں پیکا کے کالے قانون کے تحت کسی آن لائن فورم پر رائے دینے پر بھی مقدمات درج کر لیے جاتے ہیں جب کہ دنیا کے باقی ممالک میں ہتک کے قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے، عالمی یوم صحافت پر پاکستانی صحافتی برادری اس بات کا عہد کرتی ہے کہ کسی بھی دباؤ کے باوجود آزاد انہ اور ذمہ دارانہ سچ عوام تک پہنچاتے رہیں گے ۔ غیر جانبدار اور آزاد صحافت کسی بھی ملک کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے،اسی لیے صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔

    میڈیا کی ذمہ داری ہے وہ صحافتی اخلاقیات کی پابندی کرے.صدر مملکت
    صدر مملکت آصف زرداری نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ صحافیوں کو ڈر اور خوف سے پاک ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے، صحافیوں کی سیکورٹی اور سلامتی کیلئےموثر اقدامات کی ضرورت ہے.پاکستان کا آئین آزادی صحافت کی ضمانت دیتا ہے.میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے وہ صحافتی اخلاقیات کی پابندی کرے. میڈیا کو جعلی خبروں کے سدباب کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے.میڈیا عالمی تشویش کے مسائل پر بیداری پیدا کرنے میں تعمیری کردار ادا کرے. موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے بچانے میں میڈیا کا کردار اہم ہے

    میڈیا اور تمام فریقین کو درست اطلاعات کیلئے ملکرکام کرنا ہوگا.وزیراعظم
    آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو سلام، حریت فکر کے محافظوں کو خراج تحسین.غزہ میں جان قربان کرنے والے مرد وخواتین صحافی انسانیت کے ہیروہیں.جبر سے لڑنا اور سچائی کو سامنے لانا ہی اس دن کا پیغام ہے.صحافت اور اظہار کی آزادی جمہوریت کی بنیاد ہے.میڈیا اور تمام فریقین کو درست اطلاعات کیلئے ملکرکام کرنا ہوگا.میڈیا اور اظہار آزادی پر پختہ یقین رکھتے ہیں.میڈیا انڈسٹری کی بہتری کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے،

    صحافیوں نے ہمیشہ جمہوریت کی نگہبانی اور نگرانی کی ،شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے آزادی صحافت کے دن پر پیغام میں کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے لئے صحافیوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، صحافیوں نے ہمیشہ جمہوریت کی نگہبانی اور نگرانی کی ہے، شہید بی بی کے ویژن کے تحت حکومت سندھ نے ہمیشہ آزاد صحافت، تعمیری مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیا ہے، صحافیوں کے تحفظ کے لئے سب سے پہلے پروٹیکشن آف جرنلسٹس کمیشن کا قیام پیپلز پارٹی کا کارنامہ ہے،اظہار آزادی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنی ترجیحات میں رکھا ہے,صحافیوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کا ویژن ہے,حکومت سندھ اور صحافیوں کے درمیان تعاون اور اشتراک کی متعدد مثالیں موجود ہیں،پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے عوامی مفادات اور جمہوری نظریات کے حصول کے لیے ہمیشہ آزاد صحافت کی وکالت کی ہے، حکومتوں کو جوابدہ بنانے اور احتساب و شفافیت کو یقینی بنانے میں صحافی بھائیوں کا ہمیشہ اہم کردار رہا ہے،

    آزاد میڈیا کے بغیر مضبوط جمہوریت اور موثر انصاف کا تصور نا ممکن ہے، خالد مسعود سندھو
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے یومِ صحافت کے دن کے موقع پر صحافی برادری کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صحافتی برادری ریاست کے چوتھا ستون کی اہمیت رکھتی ہے اور ملک میں مظلوم کی آواز کو حاکم تک پہنچانے کا سب سے معتبر طریقہ آزادی صحافت ہے ، آزادی صحافت ہی جمہوریت اور انصاف کی بنیاد ہے اور انسانی حقوق کی جان ہے آزادی صحافت کے لئے صحافیوں کی جدوجہد اور بے شمار قربانیاں لائق تحسین ہیں،پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہیں جہاں آئے روز صحافیوں پر تشدد اور ان کو شہید کیا جاتا ہے آزاد میڈیا کے بغیر مضبوط جمہوریت اور موثر انصاف کا تصور نا ممکن ہے، معاشرے کی اجتماعی اصلاح اور قوم کو اجتماعی شعور دینے میں میڈیا اور صحافیوں کا کردار ہمیشہ سے بہترین رہا ہے صحافت کے اس اہم کردار کے پیش نظر پاکستان مرکزی مسلم لیگ میڈیا کی مکمل آزادی پر نہ صرف یقین رکھتی ہے بلکہ اس مقصد کے لئے صحافیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اپنے دورِ حکومت میں صحافیوں کے لیے نٸی ہاٶسنگ سوساٸٹیوں و دیگر تمام سہولیات کو فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے تاکہ صحافی برادری کی معاشی پریشانیوں میں خاطر خواہ کمی ہو سکے

    آزادی صحافت کےلئے احساس ذمہ داری ضروری امرہے۔وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر آزاری اظہار کے لئے کوشاں صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز نےآزادی اظہار کیلئے شہید ہونے والے برصغیر کے پہلے صحافی مولوی محمد باقر کو سلام پیش کیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز نےدور آمریت میں حریت فکر کا علم بلند کرنے والے ہر صحافی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ میڈیا نے اجتماعی شعور بیدار کرنے کیلئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔مثبت تبدیلی کے لئے آزادی صحافت کےلئے احساس زمہ داری ضروری امرہے۔ شفافیت ،صحت مند جمہوریت اور باشعور عوام کے لئے اذادی اظہار ضروری امر ہے۔حکومت پنجاب صحافت اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔

    موجودہ دور صحافت اور صحافیوں کے لئے مشکل ترین دور ہے،جان محمد رمضان
    پی ایف یو جے آفیشل کے صدر جان محمد رمضان کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آزادی صحافت کا دن منایا جا رہا ہے، اقوام متحدہ کی جانب سے 3 مئی کو ہر سال آزادی صحافت کا دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد صحافت کے بنیادی اصولوں کی موجودہ صورتحال پر اعتماد کا اظہار کرنا اور دنیا میں صحافت کی موجودہ صورتحال کی شکل کو پیش کرنا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد صحافتی فرائض کے دوران قتل،زخمی یا متاثر ہونے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور انہیں خراج عقیدت و تحسین پیش کرنا ہے، صحافت آزادی رائے کا اظہار اور ریاست کے چار ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے،مگر آج ریاست کا یہی ستون نازک دور سے گزر رہا ہے اور اسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے، انقلابی رہنما نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ صحافت جمہوریت کا ستون ہے،خیالات و نظریات کا آزادانہ اظہار اور تنقید و اختلاف رائے کا حق کسی بھی جمہوری معاشرے کے بنیادی اصول ہوتے ہیں، صحافی اور صحافت کی ایک کٹھن تاریخ ہے لیکن موجودہ دور صحافت اور صحافیوں کے لئے مشکل ترین دور ہے جو تمام صحافیوں کو متحد ہوکر ان چیلنجز سے نمٹنا ہوگا

    حقوق کے ساتھ ساتھ صحافتی قدروں اور خبر کی تصدیق کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیئے،شازیہ مری
    آزادی صحافت کے عالمی دن پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری کا کہنا ہے کہ آزادیِ صحافت کیلے جدوجہد پر تمام صحافیوں کو سلام پیش کرتے ہیں،کٹھن اور مشکل مراحل کے باوجود پاکستان کے صحافیوں نے حق اور سچ کا علم بلند رکھا، سلام ہے ان صحافیوں کو جنہوں نے آمرانہ دور میں سچ لکھنے پر کوڑے کھائے، آمریت کے خلاف جدوجہد میں جیلیں کاٹنے اور کوڑے کھانے والے صحافیوں کو تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی، جن صحافیوں نے سچ کی تلاش میں اپنی جانیں گنوا دیں انہیں سرخ سلام پیش کرتے ہیں، ملک میں جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیئے صحافیوں نے ہمیشہ ہراول دستےکا کردار ادا کیا، آزادیِ اظہارِ رائے اور صحافیوں کے جائز حقوق پر پیپلز پارٹی کا موقف ہمیشہ ایک رہا ہے، آزادیِ اظہارِ رائے پر کوئی سمجھوتا برداشت نہیں، آزادیِ اظہارِ رائے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے زمہ داری سے سچ کو سامنے لانے والے صحافی خراج کے مستحق ہیں، حقوق کے ساتھ ساتھ صحافتی قدروں اور خبر کی تصدیق کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیئے،پیپلز پارٹی مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے صحافی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی،

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صحافی اور صحافتی اداروں کو غیرقانونی دباؤ سے آزاد کریں، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز
    آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحافی اور صحافتی ادارے کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں، ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ٹیلی ویژن پروگراموں کو رکوانا نشریات بند کرانا، صحافیوں کی برطرفی کیلئے غیرضروری دباؤ غیر قانونی مطالبات سمیت انہیں متعدد پابندیوں اور چینلجز کا سامنا رہا ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ صحافیوں بالخصوص خواتین صحافیوں کی کردار کشی بھی اسی مہم کا حصہ ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی شامل ہیں، ان تمام چیزوں کا مقصد صحافیوں کو دباؤ میں لاکر اظہار رائے پر قدغن لگانا ہے،صحافیوں کو ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی جانب سے نوٹسز کا اجرا اور سوشل میڈیا پر غیرقانونی پابندیاں، اہم مواقع پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کرنا، متعدد سیاسی اور غیرسیاسی سرگرمیوں کی کوریج رکوانا، پیمرا کے غیر قانونی نوٹسز سب کا مقصد عوام کو معلومات کے حق سے محروم رکھنا ہے جو جمہوری معاشروں کی روح کے صریحاً خلاف ہے، صحافیوں کے اغوا،جبری گمشدگیوں اور جھوٹے مقدمات کی بھی ایک طویل فہرست ہے جس سے ملک میں صحافیوں کو درپیش چیلنجز کی عکاسی ہوتی ہے،پاکستان صحافیوں کیلئے ان خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے جہاں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران متعدد صحافی شہید اور تاحیات معذوری کا شکار ہوئے، ان تمام صحافیوں کی قربانیوں نے ہمارے ارادوں اور عزم کو مزید مستحکم کیا ہے، آزاد اور ذمہ دار میڈیا ریاست، اس کے تمام اداروں اور عوام کے مفاد میں ہے، میڈیا پر قدغنیں لگانے والوں کو پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا اور تاریخ کا یہ سبق سب کو یاد رکھنا چاہیے،ایمنڈ نے صدر اور وزیراعظم سمیت تمام ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، پرنٹ، الیکٹرانک اور بالخصوص سوشل میڈیا سے متعلق کسی بھی قانون سازی سے قبل ایڈیٹرز، نیوز ڈائریکٹرز اور صحافتی تنظیموں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں اور غیرقانونی اور غیر آئینی اقدامات کا راستہ بند کریں، صحافی اور صحافتی اداروں کو غیرقانونی دباؤ سے آزاد کریں تاکہ وہ غیرجانب دارانہ اور شفاف ماحول میں اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔

    صحافی برادری کے ساتھ مل کر تعلیمی چیلنجز کا احاطہ کریں گے۔ وزیر تعلیم
    وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستانی صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی صحافی اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر پیشہ ورانہ امور سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی و دیگر مسائل اجاگر کرنے کے حوالے سے صحافیوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی و دیگر مافیا کے خطرات کے باوجود صحافی بے باک انداز میں مسائل اجاگر کرتے ہوئے ارباب اختیار کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ پریس فریڈم کے چیلنجز کے باوجود میڈیا ورکرز کی رپورٹنگ ارباب اختیار کیلئے معاون ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے فرائض کی ادائیگی میں شہید ہونے والے میڈیا ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ وزیر تعلیم نے میڈیا ورکرز سے تعلیمی و سماجی مسائل اجاگر کرنے اور ان مسائل کے حل کیلئے حکومت کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صحافی بھائیوں کے ساتھ مل کر تعلیمی چیلنجز کا احاطہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات لانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں صحافی برادری کی آراء کا بھی خیر مقدم کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم نے تعلیمی ایشو کو ہائی لائٹ کرنے کے حوالے سے تعلیمی رپورٹرز کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ایجوکیشن رپورٹرز کے ساتھ مل کر تعلیمی نظام میں درستی لائی جائے گی۔

    صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے اقدامات عمل میں لائے جائیں،فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس
    فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام عالمی یوم آزادی صحافت کے حوالے سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت گروپ لیڈر ایف یو جے و مرکزی نائب صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس رانا حبیب الرحمٰن، ممبر فیڈرل ایگزیکٹو کونسل معراج ملک، صدر فیصل آباد یونین آف جرنلسٹسں ساجد خاں، جنرل سیکرٹری میاں کاشف فرید، سابق صدر غلام دستگیر، خاورشفیق رندھاوا نے کی۔اس موقع پر نائب صدور خادم حسین گل، عبدالصبور، جوائنٹ سیکرٹری رباب چیمہ، انفارمیشن سیکرٹری میاں محمد ذیشان، ایگزیکٹو ممبران رانا راشدالعارفین، ظفراللہ خاں، سکندر بٹ، حمزہ شیخ، عدیل مان، ابرار اعوان، محمود احمد، ملک عرفان، شکیل جاوید، اخترعباس اختر، میاں رمضان، اشرف خاں، ملک ظہور، آصف سخی ممبران امنان راجپوت، رانا فیصل، شاہد بٹ، رانا عمران ودیگر نے شرکت کی۔ ریلی ایف یو جے کیمپ آفس سے شروع ہوکر چوک گھنٹہ گھر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر گروپ لیڈر و مرکزی نائب صدر پی ایف یو جے رانا حبیب الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں 3 مئی عالمی یوم آزادی صحافت کا دن صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے منایا جاتا ہے مگر افسوس کہ ملک پاکستان میں ریاست کے چوتھے ستون صحافت کو مکمل آزادی حاصل نہیں ہے صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران تشدد کا نشانہ بنانے اور ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ساتھ انکے خلاف جھوٹے و بے بنیاد مقدمات درج کیے جاتے ہیں لیکن ہمارے صحافی بھائی تمام تر خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دلیری اور بہادری کیساتھ حق، سچ کو بلند کررہے ہیں جبکہ حق کا ساتھ دینے پر آج تک فیصل آباد سمیت دنیا بھر میں درجنوں صحافیوں کو ناحق قتل بھی کیا گیا ہے۔ ان تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے قائدین رانا عظیم اور جی ایم جمالی کی قیادت میں ایف یو جے نے ہمیشہ صحافت پر قدغن لگانے والوں کیخلاف بھرپور مزاحمت کی جس کے باعث آج ہم ایک جگہ پر یکجا نظر آرہے ہیں۔ صدر ایف یو جے ساجد خاں نے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں صحافت دن بدن خطرات سے دوچار ہورہی ہے صحافیوں کیجانب سے کرپشن اور بے ضابطگیوں کو بے نقاب کرنے پر کرپٹ عناصر اور مافیا کیطرف سے ان کی منشاء کے مطابق حقائق کو دکھانے اور بیان کرنے کےلیے دباؤ ڈالا جاتاہے گزشتہ دنوں بھی ایف یو جے کے جوائنٹ سیکرٹری عبد الباسط راجپوت نے تھانہ پیپلزکالونی کی ذیلی چوکی طارق آباد کے انچارج رانا ساجد کی خلاف قانون ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے اور مبینہ رشوت وصول کرکے اسے چھوڑنے کی خبر نشر کی جس پر چوکی انچارج نے صحافی کو ہراساں کرنے کےلیے رپٹ درج کردی جس کی وجہ سے ایف یو جے کے ممبران سمیت صحافی برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے مگر ہم اپنے اتحاد اور اتفاق سے ان اوچھے ہتھکنڈوں کو ناکام بنادیں گے جبکہ صحافی برادری جرات کیساتھ عام آدمی کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ جنرل سیکرٹری میاں کاشف فرید نے کہا کہ ریاست کے چوتھے ستون صحافت کی آزادی کےلیے حکومت کیطرف سے قانون سازی تو کی جاتی ہے مگر ان قوانین پر عمل در آمد نہیں کیاجاتا جس کے نتیجہ میں آئے روز صحافیوں پر تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں اور صحافیوں کیخلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے اقدامات عمل میں لائے جائیں۔
    media fsd

  • نو برس کی جدوجہد; مبشر لقمان کے حق میں عدالت کا بڑا فیصلہ

    نو برس کی جدوجہد; مبشر لقمان کے حق میں عدالت کا بڑا فیصلہ


    سینئر اینکر پرسن اور معروف ٹی وی پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان کو مختلف عدالتوں میں 9 سال کی سخت جدوجہد کے بعد بالآخر آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے خلاف سیشن عدالت کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور اس حوالے سے کورٹ نے حتمی فیصلہ بھی جاری کردیا ہے۔


    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی درخواست قبول کرتے ہوئے سیشن عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور سیشن کورٹ کی طرف سے دو سال قبل دی گئی سزا کو ختم کردیا ہے۔

    تاہم واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے 16 دسمبر 2021 کو مبشر لقمان کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز کے والدین کے خلاف ایک پروگرام کرنے پر دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی
    یاد رہے کہ دعویدار نے دعویٰ دائر کیا تھا کہ مبشر لقمان نے 2016 میں پروگرام کے دوران ان کے خلاف ذاتی نوعیت کے ریمارکس دیئے تھے ، ایڈیشنل سیشن جج نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مرحوم انورعزیز نے مبشر لقمان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کیا تھا، مدعی مقدمہ کے مطابق مبشر لقمان کے الزامات کی وجہ سے انہیں دھمکیاں موصول ہوئیں تھیں۔


    فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ مبشر لقمان کی جانب سے فیصلے کی معطلی کی درخواست دائر کی گئی، دفعات قابلِ ضمانت ہونے کے باعث سات دنوں کے لیے مبشرلقمان کا فیصلہ معطل کیا تھا سات دنوں کے اندر مبشر لقمان کو ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھاکہ 5 لاکھ روپے مچلکوں کے عوض مبشر لقمان کو سنائی گئی سزا سات دنوں کے لیے معطل کی جاتی ہے، سات دنوں میں ہائیکورٹ میں اپیل دائر نہ کرنے کی صورت میں مبشر لقمان کو دو سال قید کی سزا کا فیصلہ بحال کردیا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈکپ کے لئے کمینٹیٹرز کے پینل کا اعلان
    سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی نہیں بنائی جائے گی,محسن نقوی
    آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ

    تاہم اب مبشر لقمان کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بحث ہوئی جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاررق نے سیشن کورٹ کے اس سزا کے فیصلے کو مکمل طور پر ختم کردیا ہے

  • پاکستانی صحافت پروفیسر وارث میر جیسوں کی  بہادری کے سبب  زندہ ہے

    پاکستانی صحافت پروفیسر وارث میر جیسوں کی بہادری کے سبب زندہ ہے

    آج صحافت کے عظیم استاد پروفیسر وارث میر کی پینتیس ویں برسی منائی جارہی ہے۔ پروفیسر وارث میر بائیس نومبر 1934 کو پیدا ہوئے اور نو جولائی 1987 کو ان کا 48 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔

    وارث میر نے اپنی سیکنڈری اسکول کی تعلیم پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے مرے کالج میں مکمل کی جبکہ 1964 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے صحافت اور ابلاغ عامہ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور 1965 میں اسی شعبہ میں بطور لیکچرار جامع میں درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے۔

    بعد ازاں وہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ مقرر ہوگئے جہاں کئی سال تک اپنی زمہ داریاں خوب نبھائیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ملک کے نامور اردو اخبارات میں مضامین لکھنا بھی شروع کردیا۔ وہ قومی اور بین الاقوامی مسائل پر زیادہ تر لکھتے تھے تاہم وہ اپنے قارئین میں خاص طور پر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران مقبول ہوئے تھے۔ جب انہوں نے جنرل ضیاء کی آمریت کے خلاف اپنی قلم کے ذریعے آواز حق بلند کیا تھا۔

    آج اگر صحافت پاکستان میں زندہ ہے تو وہ پروفیسر وارث میر جیسے بہادر اور عظیم صحافیوں کی بدولت ہے۔ لیکن کاش کہ کچھ بدنصیبوں کو ایسے سچے اور کھرے صحافیوں کی قدر ہوتی، وہ ان کےحق سچ کی مخالفت کرنے کے بجائے حقیقت پسندی پر خراج عقیدت پیش کرتے۔ 

    اگرچہ ایسے عظیم لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں لیکن قومی اسمبلی سمیت باقی تمام صوبائی اسمبلیوں میں بھی وارث میر کی بے پناہ خدمات کے پیش نظر قراردادوں کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ 

    پروفیسر وارث میر نے آمرانہ ادوار میں جمہوریت کے لئے جو جدوجہد کی اور اپنی جرات مندانہ تحریروں کے ذریعے جو کلمہ حق بلند کیا۔ اسے ہمیشہ پاکستان کی صحافت کی تاریخ میں زندہ رکھا جائے گا۔

    حبیب جالب اپنی ایک نظم بعنوان ’’وارث میر کے نام‘‘ لکھتے ہیں۔

    حق پرست و صاحب کردار وارث میر تھا

    آمروں سے برسر پیکار وارث میر تھا

    لفظ اس کا تیر تھا باطل کے سینے کے لئے

    اہل حق کا قافلہ سالار وارث میر تھا!

    ظلم سہتا تھا، کہتا نہیں تھا ظلمت کو ضیاء

    آنسوئوں کو پی کے نغمہ بار وارث میر تھا!

    پروفیسر وارث میر کے بیٹے اور سینئر صحافی حامد میر اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ: "جنرل ضیاء الحق نے 1977میں مارشل لاء لگایا اور صحافت پر پابندیاں لگ گئیں تو پروفیسر وارث میر اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ چلے گئے۔ وہ سٹی یونیورسٹی لندن میں دورانِ تعلیم بیمار پڑ گئے۔ 

    ایک اسپتال میں ان کا ہرنیا کا آپریشن ہوا جو بگڑ گیا اور حالت مزید خراب ہو گئی۔ 

    لہذا ڈاکٹروں نے انہیں کہا کہ اپنی وصیت لکھ دیں۔ پروفیسر وارث میر نے ایک مختصر وصیت تحریر کی جو کچھ یوں تھی ’’میں اپنی تمام منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد اپنی اہلیہ ممتاز میر کے نام منتقل کرتا ہوں اور اپنے بچوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھیں‘‘۔

    حامد میر کہتے ہیں کہ: یہ وصیت 1978میں لکھی گئی اور اُس وقت مجھ سمیت اُن کے تمام بچے اسکول میں پڑھتے تھے لیکن وہ اپنے بچوں سے اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھنے کی توقع رکھتے تھے۔

    میر کے مطابق: اس وصیت کا اسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور مریضوں نے بڑا مذاق اڑایا اور پروفیسر وارث میر کو ’’مسٹر میر! سولجر آف اسلام، اللہ اکبر‘‘ کہا جاتا۔ مذاق کے اس ماحول میں اُنہوں نے خواب میں خانہ کعبہ کی زیارت کی اور کچھ دنوں بعد پروفیسر وارث میر لندن کے اسپتال میں اپنا مضحکہ اڑواتے ہوئے مکہ جا پہنچے اور خانہ کعبہ کی زیارت کی تھی۔

    پروفیسر وارث میر کی تصانیف میں "فلسفہ خوشآمد پاکستان کی سیاست و صحافت، کیا عورت آدھی ہے؟ اور فوج کی سیاست نمایاں کتب ہیں۔ لہذا ہماری آج کل کی اس نوجوان نسل اور بالخصوص صحافت کے طالب علموں کو بجائے اینکروں کے پیچھے پڑنے اور ان کی مداح سرائی کرنے کے پروفیسر وارث میر جیسے بہادر صحافی کی تحاریر کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔

  • کیا نئے پاکستان میں آزادی صحافت کی کوئی جگہ نہیں؟ صحافیوں کا احتجاج

    کیا نئے پاکستان میں آزادی صحافت کی کوئی جگہ نہیں؟ صحافیوں کا احتجاج

    صحافتی فنڈز کی بندش اور بول چینل پر بے جا پابندی کی وجہ سے ہزاروں صحافیوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ اور آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔ جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور دیگر صحافتی تنظیموں کا مشترکہ اعلامیہ –

    اسلام آباد میں جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی اور چیئرمین جناب ایس ۔اے۔ صہبائی ‘ صدر جناب مجیب شامی سرپرست اعلی جناب ڈاکٹر شاہد مسعود ‘ چیف آرگنائزر جناب مبشر لقمان سیکرٹری جنرل جناب قاسم منیر کی طرف سے ایک واضح پیغام کے مطابق آزادی صحافت پر حملے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں – جنرل سیکرٹری جرنلسٹس ایسوسی ایشن پاکستان قاسم منیر ‘ قاسم جمشید’ غلام نبی کشمیری ‘ سدھیر کیانی ‘ ابوبکر’ بابر خان ناصر خان ،واجد جدون دیدار اور کبری بی بی کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے دیگر صحافیوں نے مظاہرے میں شرکت کی اور آزادی صحافت پر حملے کی بھر پور مذمت کی-

    سیکرٹری جنرل قاسم منیر نے چیرمین جناب ایس۔ اے۔ صہبائی کا پیغام قلمبند کراتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے ظالمانہ اقدامات اور میڈیا ورکرز کے فنڈز کی بندش اپنی ناکامی چھپانے کے لئے آزادی صحافت پر حملہ ہیں- حکومتی گٹھ جوڑ اور پیمرا کی ملی بھگت سے سچ کی آواز کو دبانے کی نا ممکن کوشش کی گئی- بول نیوز کی جبری بندش اور پانچ ہزار ملازمین کا بے روزگار ہونے کا امکان آزادی صحافت پر سنگین حملہ ہے- جس کے پیچھے حکومتی ناقص پالیسی اور پیمرا چیئرمین کا گٹھ جوڑ شامل ہے – حقائق کو دبانے کے لئے ہر دور میں آزادی صحافت پر حملے کیے گئے ہیں -آزادی صحافت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا قابل قبول نہیں ہے –

    حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے – حکومت مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہ ملک کے چوتھے ستون کے ساتھ ناروا برتاؤ کر رہی ہے- آج اسلام آباد اور راولپنڈی سے بڑی تعداد میں پیمرا آفس کے باہر صحافیوں نے احتجاج کیا – جس میں انہوں نے واضح موقف اختیار کیا آزادی صحافت پر حملے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی بے روزگاری کے خلاف ہم خون کے آخری قطرے تک پر امن احتجاج کرتے رہیں گے – حقائق اور سچ کی آواز کو کسی بھی صورت دبنے نہیں دیں گے
    موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اگر مصلحت سے کام نہ لیا تو اپنی ہی ہارس ٹریڈنگ کے جال میں پھنس کر حکومتی کرسی سے محروم ہو جائیں گے۔ موجودہ حکومت بڑے بحران کے ساتھ ساتھ بڑے مسائل کا شکار ہوجائے گی – حکومت کو اپنی ساخت بہتر بنانے کے لئے فوری طور پر احسن اقدامات کرنے ہوں گے – تاکہ ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے-

  • آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر سیمینار 6 فروری کو ہوگا، کے یو جے

    آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر سیمینار 6 فروری کو ہوگا، کے یو جے

    سیمینار پی ایف یو جے کی جاری جدوجہد کا حصہ ہے، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی مزدور اور صحافی مدعو
    کے یو جے کی جنرل کونسل 13 فروری 2021 کو کراچی پریس کلب میں ہوگی، مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ

    ملک میں آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت سیمینار 6 فروری 2021 کو مقامی ہوٹل میں ہوگا سیمینار میں ملک کی سیاسی قیادت، سینئر صحافیوں، سول سوسائٹی اور مزدور رہنماوں کو مدعو کیا گیا ہے اس موقع پر پی ایف یو جے کی 70 سالہ جدوجہد پر مبنی کتاب کی رونمائی اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی ویب سائٹ کا اجرا بھی کیا جائے گا ۔ سیمینار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی* *جانب سے ملک میں صحافت کو درپیش مسائل پر آگاہی اور ان کے حل کی تلاش میں جاری سیمینارز کا تسلسل ہے اس سلسلے کا پہلا سیمینار 14 جنوری 2021 کو لاہور میں ہوا تھا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں سیمینار کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں طے پایا کہ سیمینار میں تمام سیاسی جماعتوں، حکومتی نمائندوں، سینئر صحافیوں، وکلا اور ڈاکٹرز سمیت سول سوسائٹی کے ارکان اور مزدور رہنماوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اجلاس میں سیمینار، کتاب کی رونمائی اور ویب سائٹ کے اجرا کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئیں جو انتظامات کو حتمی شکل دیں گی* ۔ *اجلاس میں پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے فیصلے کے تحت 13 فروری کو کے یو جے کی جنرل کونسل بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ 13 فروری کو کے یو جے کی جنرل کونسل کراچی پریس کلب میں ہوگی۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اپنے تمام ارکان سے درخواست کی ہے کہ وہ سیمینار اور جنرل کونسل میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں.

  • ‘آزادیِ صحافت’ عمران خان کے بیان پررپورٹرز ود آؤٹ باڈرز کی تنقید

    ‘آزادیِ صحافت’ عمران خان کے بیان پررپورٹرز ود آؤٹ باڈرز کی تنقید

    اسلام آباد:پاکستان میں میڈیا کوآزادی دلانے کے لیے عالمی ادارہ رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز بھی میدان میں‌آگیا . رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے میڈیا پر قدغن لگانے سے متعلق اٹھائے گئے سوالوں کو مسترد کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    اگر کوئی شخص دانتوں کےساتھ ناخن کتراتا ہے تو سمجھ لو وہ شکار ہے ، کس چیز کا ؟ ڈاکٹروں نے بتا دیا

    خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں اپنے دورہ امریکا کے دوران کہا تھا کہ پاکستان میں آزادی صحافت پر قدغن لگائے جانے سے متعلق خبریں ‘مزاق’ ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے بیان کے بعد آر ایس ایف کے سیکریٹری جنرل کرسٹوفے ڈیلوئیری نے ایک خط تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ ‘یہ واضح ہے کہ یا تو آپ کو معلوم ہی نہیں، جس کی وجہ سے آپ کو اپنے قریبی لوگوں کو فوری طور پر ہٹا دینا چاہیے، یا پھر آپ جان بوجھ کر حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں .

    رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز نے الزام لگایا کہ عمران خان کی جانب سے یہ کہنا کہ پاکستان میں آزادیِ صحافت کامیابی سے پنپ رہی ہے، یہ ‘خلاف تہذیب’ ہے،رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز کے چیئرمین نے عمران خان پر زور دیا کہ ‘پاکستان میں صحافیوں کو اپنے پیشے کے مطابق محفوظ طریقے سے کام کی آزادی ہونی چاہیے’۔ رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز کے چیئرمین کا اشارہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی طرف تھا جو آج کل آزادی ملنے کے باوجود ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں

  • صحافی اپنی نجی زندگی ودیگر کاموں کو قربان کرکے عوام تک اصل حقائق پہنچاتے ہیں،صحافیوں کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    راولپننڈی:عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر سینئر صحافی سلطان شاہ نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا قلم نا کبھی بکے گا نا کبھی جھکے گا حقائق اور سچ ہر حال میں عوام تک پہنچاتے رہیں گے اور اس کے لئے ہمیں کسی قسم کی بھی قربانی دینی پڑی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے،اس وقت کثیر تعداد میں صحافی اپنے قلم کی پاسداری کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں جن میں اکثر دہشتگردی کا شکار ہوئے اور اکثر کو سچ کی پاداش میں سزا دی گئی .ماضی کی حکومت کی نسبت اس حالیہ حکومت میں صحافی مسائل کا شکار ہیں اکثر اداروں میں صحافی بیروزگاری کا شکار ہیں .عثمان ملک رپورٹر 24 نیوز نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی 24 گھنٹے خبر کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے تو وہ جان کی ہتھیلی پر رکھ کر کام کررہا ہوتا ،پاکستان میں کتنے صحافی ٹارگٹ ہوئے راولپنڈی کی بات کی جائے تو 2 صحافی شہید ہوئے اور اگر ہماری زندگی کی بات کی جائے تو ہمارے گھر والے عزیز شکوہ کرتے ہیں کے ہم ان کو وقت نہیں دیتے کیونکہ ہم نے بارش ہو ،سیلاب ہو،آندھی یا طوفان یا آنسو گیس ہم نے دن رات ایک کرکے عوام تک خبر پہنچانی ہوتی ہے.اس موجودہ حکومت میں صحافیوں کا کام بڑھ گیا ہے لیکن وہیں صحافیوں کو برطرف کیا جارہا ہے جہاں برطرف نہیں کیا جارہا ہے وہاں صحافیوں کی تنخواہوں کو بند کیا جارہا ہے اس وقت صحافی بیروزگارہورہے ہیں.عمر آصف رپورٹر سماء ٹی وی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافت معتبر پیشہ ہے ہم دن رات عوام تک معاشرے کے حقائق پہنچاتے ہیں کیونکہ خبر ہمارے پاس عوام کی امانت ہے اس کو عوام تک پہنچانا ہمارا حق ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت غیر صحافتی عناصر بہت زیادہ صحافت کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آچکے ہیں اور صحافت کو بدنام کررہے ہیں ،ہم صحافی ہر مشکلات برداشت کرکے عوام تک پہنچاتے ہیں انہوں نے عوام کے نام پیغام دیا کہ عوام حقیقی صحافی اور صحافت کا لبادہ اوڑھنے والوں کو پہچانیں اگر انہیں کو ایسا شخص نظر آتا ہے جس نے صحافت کا لبادہ اوڑھ رکھا اور غیرقانونی کام میں ملوث ہے تو وہ متعلقہ پریس کلب کو ان کی رپورٹ کریں