Baaghi TV

Tag: آزاد کشمیر

  • کہیں چھٹیوں میں اضافہ تو کہیں سکول کھل گئے

    کہیں چھٹیوں میں اضافہ تو کہیں سکول کھل گئے

    کہیں چھٹیوں میں اضافہ تو کہیں سکول کھل گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد تعلیمی ادارے کھل گئے تا ہم آزاد کشمیر میں سردی کی شدت میں اضافے کے بعد چھٹیوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے

    سندھ میں موسم سرما کی چھٹیاں 20 دسمبر سے یکم جنوری تک تھیں، آج تین جنوری کو سندھ بھر میں تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں ،تا ہم سردی کی وجہ سے آج پہلے روز تعلیمی اداروں میں طلبا کی حاضری کی شرح کم رہی، محمہ تعلیم سندھ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ والدین بچوں کو سکول بھیجیں، پہلے کرونا کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے طلبا کا کافی نقصان ہو چکا ،محکمہ تعلیم کے مطابق اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کے تحت تعلیمی کلینڈر پرعملدرآمد کیا جارہا ہے

    این سی او سی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد طلبا کی ویکسی نیشن پر زور دیا جائے اور انکی ویکسی نیشن کروائی جائے، سرد موسم میں سکول آنے والے طلبا کا کہنا تھا کہ سردی اب بھی ہے اتنی سردی میں صبح صبھٰ سکول آنا پڑ رہا ہے، چھٹیوں میں اضافہ کیا جائے، طلبا کے والدین کا بھی کہنا تھا کہ سخت سردی کی وجہ سے بچے بیمار ہوں گے، اسلئے چھٹیوں میں مزید اضافہ کیا جائے،

    دوسری جانب آزاد کشمیر میں سردی کی شدت میں اضافے کے بعد حکومت نے تعلیمی اداروں میں مزید چھٹیوں کا اعلان کر دیا ہے آزاد کشمیرحکومت نے مزید پانچ چھٹیاں بڑھا دی ہیں جس کے بعد اب سکول آٹھ جنوری کو کھلیں گے، آزاد کشمیر میں سردی کی لہر میں تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے حکومت نے چھٹیوں میں اضافہ کیا،

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    سموگ کے تدارک کے لئے لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے کیا پوچھ لیا؟

    مغل پورہ کی طرف جائیں آسمان کا رنگ ہی بدل جاتا ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سموگ کے تدارک کے لیے لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے سکول بند کرنے کی عدالت کو کروائی یقین دہانی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    کالج میں مجرا، لڑکی ہوش برقرار نہ رکھ سکی پرنسپل سے لپٹ گئی ،ویڈیو وائرل،کالج سیل

    ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو وائرل

    سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل

    گھر سے خاتون کی نعش برآمد،بھائی نے بہن کو گولی مار دی،پولیس

    بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنیوالا سفاک درندہ گرفتار

    این سی او سی اجلاس،تعلیمی اداروں میں چھٹیوں بارے الگ الگ تجاویزآ گئیں

  • ایک دن آزاد کشمیر میں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    ایک دن آزاد کشمیر میں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    بیٹھے بیٹھے فیصلہ ہوا آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے دیکھ کر آئیں کیا چل رہا ہے, چند دوستوں کے ساتھ اسلام آباد سے ہم روانہ ہوئے, ہماری پہلی منزل میر پور تھی. میر پور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا بھی جلسہ تھا. میر پور چیک پوسٹ کراس کی تو الگ ہی منظر تھا ہر طرف سیاسی پارٹیوں کے پرچم, بینرز آویزاں تھے. یہاں ایک نئی جماعت کا پرچم بھی آویزاں تھا,یہ کشمیر کے الیکشن میں پہلی مرتبہ حصہ لینے والی جماعت جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا پرچم تھا. ہم نے اپنے اس سفر میں اس جماعت کے امیدواروں سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی. ہماری پہلی منزل میرپور حلقہ ایل اے 3 تھی جہاں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار چوہدری شبیر چیچی سے ملاقات کرنا تھی. چوہدری شبیر چیچی کے پاس پہنچے ان سے ہم نے الیکشن کے حوالے سے گفتگو کی وہ پرعزم نظر آرہے تھے. چوہدری شبیر چیچی بتانے لگے پہلے وہ مسلم کانفرنس کے ساتھ تھے لیکن اس بار انہوں نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دیکھا تو انہوں نے سوچا کہ وہ اس جماعت کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لیں جو ختم نبوت ﷺ اور کشمیر کی آزادی کے لیے صف اول میں نظر آتے ہیں. چوہدری شبیر چیچی کہنے لگےان کا مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ سے ہے, وہ پاکستان کے کچھ سیاستدانوں سے بہت نالاں تھے کہ یہ لوگ باہر سے آکر ہمیں دو ٹکے کا کہتے ہیں ,کہنے لگے میں تو اپنے حلقہ کی عوام سے کہتا ہوں ہم کشمیر کے مقامی لوگ ہیں, کشمیر کی مقامی جماعت ہیں آپ ہمارا ساتھ دیں.اس موقع پر ان سے میرپور کے حوالے سے دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی .

    اسی دوران ہمیں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے حلقہ ایل اے 4 کھڑی شریف کے امیدوار چوہدری خالد حسین آرائیں کی طرف چلنا تھا, موومنٹ کے میڈیا کوآرڈینیٹر انیس الرحمان باغی بھی ہمارے ساتھ تھے. میرپور شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر منگلا کے علاقے میں ہم داخل ہوئے تو بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات چوہدری خالد حسین کے آویزاں تھے .چوہدری خالد حسین ہمارے انتظارمیں تھے لیکن ہم تاخیر سے ان کی طرف پہنچے وہ نکل چکے تھے اور اب ہم ان کے انتظار میں وہاں موجود تھے. کچھ دیر بعد چوہدری خالد حسین کندھے پر سفید رومال رکھے داخل ہوئے اور ہماری آمد پر شکریہ ادا کیا. چوہدری خالد حسین کو ہم نے نہایت پرجوش پایا وہ بھی اپنے علاقے اور کھڑی شریف کی عوام سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے. ہمیں یہ بھی کچھ ذرائع سے معلوم ہوا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے امیدوار کی طرف سے انہیں دستبردار ہونے کی پیشکش بھی کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی. چوہدری خالد حسین کہنے لگے کہ اب وہ وقت نہیں رہا ٹوٹی نلکے کی سیاست کی جائے, اب ہم خدمت انسانیت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں, عوام کے اور بھی بہت سے مطالبات ہیں میں اگر کامیاب نہ بھی ہوسکا تو میرے دروازے کھڑی شریف کی عوام کے لیے کھلے ہیں. میرپور میں سیاسی حوالے سے ہم نے صورتحال کا جائزہ لیا تو زیادہ تر لوگ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کررہے ہیں. ن لیگ کے انتخابی جلسہ کے حوالے سے ہمیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ کوٹلہ ارب علی خان سے ایم این اے عابدرضا کوٹلہ نے پانچ سو افراد کو اپنے ساتھ لا کر مریم نواز کا جلسہ کامیاب کروایا لیکن عوامی سطح پر ان کی پوزیشن اتنی مظبوط نہیں .قائد اعظم سٹیڈیم میں بھی پنڈال سج چکا تھا جہاں وزیر اعظم عمران خان نے بھی خطاب کرنا تھا .ہم میرپور سے نکلے اور اگلی منزل ہماری کوٹلی تھی. کوٹلی ہم دھنواں سے تتہ پانی کے علاقے میں پہنچے یہاں مسلم کانفرنس دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھی اور یہاں تحریک لبیک کے بینرز اور پرچم بھی ہمیں دیکھنے کو ملے, یہاں ہم جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار سانول آکاش کے بارے نجی چینل پر ایک رپورٹ دیکھ چکے تھے, انہوں نے تتہ پانی شہر میں اپنی انتخابی ریلی سے خطاب کرنا تھا, سانول آکاش ایڈووکیٹ کے بارے بتایا گیا وہ دھنواں کے علاقے میں کچے مکان میں رہتے ہیں, موٹر سائیکل پر کمپین کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کا کوئی بنک بیلنس نہیں,

    JK یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوارسانول آکاش امیدوار راج محل کے ساتھ
    سانول آکاش ایڈووکیٹ بتانے لگے انہوں اسی تتہ پانی سے طلبہ سیاست کا آغاز کیا اور آج اسی تتہ پانی میں وہ اپنا انتخابی جلسہ کرکے فخر محسوس کررہے ہیں. تتہ پانی کے بارے سن رکھا تھا کہ یہاں ایک چشمہ ہے وہاں پانی شدید گرم ہوتا ہے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے ہم قریب ہی چشمے پر پہنچے .چشمے کا پانی واقعی نہایت گرم تھا. یہاں سے ہم واپسی کی رات لی اور رات کے ایک بجے ہم واپس اسلام آباد اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے .

  • آزاد کشمیر انتخابات.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    آزاد کشمیر انتخابات.. تحریر:خنیس الرحمٰن

    اس وقت آزاد کشمیر میں انتخابات کا شور سنائی دے رہا ہے۔ہر شخص اپنی من پسند پارٹی اور امیدوار کو سپورٹ کررہا ہے۔الیکشن میں تقریباََ بیس دن باقی ہیں۔جوں جوں پولنگ کا دن قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں میں ایک نیا جوش اورولولہ محسوس کیا جارہا ہے۔جہاں تحریک انصاف،پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار و کارکنان جیت کے لیے پرعزم ہیں وہیں کچھ نئی جماعتیں بھی اس سیاسی اکھاڑے میں قدم رکھ کر جیت کے لیے پرعزم ہیں۔لیکن اصل مقابلہ تین بڑی جماعتوں کے درمیان ہے۔ سب جماعتوں کے قائدین اپنی جماعتوں کو جتوانے کے لیے سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے بھی کشمیر کا دورہ کیا۔وہ آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے اپنے دورے کے دوران کوٹلی کے علاقے ہجیرہ میں خطاب کے دوران کہا کہ جیالے بھاری اکثریت سے کامیاب ہونگے،آزاد کشمیر میں اگلی حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی۔اس دوران وہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں اپنے امیدواران کی کارنر میٹنگز اور جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔انہیں آزاد کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کا خدشہ ہے۔انہوں نے کوٹلی میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ یہ خود دھاندلی کے ذریعے ملک پر مسلط ہوئے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی بات کی جائے تو گذشتہ پانچ سال انہوں نے کشمیر میں حکومت کی۔مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر کی سیاسی مہم کے لیے مریم نواز صاحبہ کو میدان میں اتارا ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں گلگت بلتستان کے انتخابات میں مریم نواز صاحبہ نے بھر پور مہم میں حصہ لیا لیکن وہاں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شہباز شریف بھی مریم نواز کے ساتھ مل کر کشمیر کی انتخابی مہم چلائیں گے۔مریم نواز آٹھ جولائی کو کشمیر میں اپنی مہم کا آغاز کریں گی۔

    پاکستان تحریک انصاف بھی کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔تحریک انصاف کی طرف سے علی امین گنڈا پور پہلے سے ہی مظفر آباد میں موجود ہیں اور مہم چلا رہے ہیں۔سردار تنویر الیاس بھی بھر پور متحرک ہیں،سردار تنویر الیاس نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔اس دوران وزیر اعظم کے کشمیر دورے کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

    تمام بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مسلم کانفرنس،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں بھی الیکشن کی بھر پورتیاری کررہی ہیں۔سابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ حمید گل کی جماعت بھی حصہ لے رہی ہے۔اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں تحریک لبیک اور جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ بھی حصہ لے رہی ہے،دونوں جماعتوں کا کشمیر کی سیاست میں پہلا قدم ہے۔تحریک لبیک پر شروع میں پابندی بھی لگائی گئی لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے ترجمان سردار حمزہ رافع نے بتایا کہ وہ تمام حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر چکے ہیں،ان کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں وہ کشمیر کی محرومیاں دور کرنا چاہتے ہیں اور بلدیاتی الیکشنز بحال کروانا ان کے منشور کا حصہ ہے،انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر موومنٹ کے سربراہ سردار بابر حسین تحریک انصاف سے منسلک رہے اس کے بعد انہوں نے اپنے چند نظریاتی رفقاء کے ساتھ مل کر جماعت کی بنیاد رکھی ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی مہلک وباء میں موومنٹ نے خدمت خلق کا کام بھی کیا ,بھوکوں تک کھانا پہنچایا اور گھر گھر جاکر کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی دی اور آئندہ بھی خدمت کے کام کرتے رہیں گے .گذشتہ روز سوموار کے دن اسلام آباد پبلک سیکرٹریٹ میں امیدواران سے گفتگو کرتے ہوئے سردار بابر حسین نے کہا کہ عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پچیس جولائی کو کرسی پر مہر لگا کر اسے کامیاب بنائیں،ہمارا مقصد کشمیر کی تحریک کو اجاگر کرنا ہے۔بلدیاتی انتخابات کے لیے ریاست کو مجبور کریں گے تاکہ نوجوان قیادت اوپر آئے اور کشمیر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کرادار ادا کرے۔سردار بابر حسین خود بھی سہنسہ،پنجیڑہ کے حلقے سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور حلقے میں کارنر میٹنگز کررہے ہیں۔آزاد کشمیر کی فتح کا تاج کس کے سر سجے گا اب اس کا فیصلہ عوام پچیس جولائی کو کرے گی۔

  • ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی تیاری، نیا آرڈیننس جاری، وزیر اعظم نے قانون سازی کے لئے ہدایت جاری کردی

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی تیاری، نیا آرڈیننس جاری، وزیر اعظم نے قانون سازی کے لئے ہدایت جاری کردی

    آزاد جموں وکشمیر میں ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اورذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت نے نیا آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کی تفصیلات بتاتے ہوئے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر مطہر نیاز رانا نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کی شکایات سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے اس اہم مسئلہ کی جانب فوری توجہ دی اور قانون سازی کی ہدایت کی جس کے بعد یہ آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔اس آرﮈیننس کے مطابق اشیاء خوردونوش اور ادویات کے 30 آ ئٹمز کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے لیے سزا کا تعین کیا گیا ہے.
    ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کو تین سال تک سزا اور ذخیرہ کیے گے مال کے پچاس فیصد کے برابر جرمانہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے مطابق ذخیرہ شدہ مال کو ضبط کرنے کے بعد نیلام کیا جاے اور جس جگہ مال ذخیرہ کیا گیا ہوگا وہاں متعلقہ آفیسر بغیر وارنٹ داخل ہو کر مال ضبط کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی ناقابل ضمانت جرم ہوگا اور اسکا مقدمہ مجاز خصوصی مجسٹریٹ کی عدالت میں ٹرائل ہوگا۔
    ذخیرہ اندوزی کے جرم میں کسی کمپنی، پارٹنرشپ یا کارپوریٹ باڈی کی صورت میں اسکے جملہ ڈائریکٹرز، مینجیرز،ایجنٹس اور ممبرز وغیرہ کے خلاف کارروائی کی جاے گی اور مقدمہ کی سماعت خصوصی مجسٹریٹ کی عدالت میں ہو گی۔مجسٹریٹ کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ جہاں مال ذخیرہ کیا گیا ہو وہاں داخل ہو کر موقع پر ہی مقدمہ کی سماعت کرے گا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی کے حوالہ سے غلط معلومات دینے والے افراد کو تین سال سزا اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہوگا جبکہ ذخیرہ اندوزی کی اطلاع دینے والے شخص کو حکومتی خزانہ میں جمع ہونے والی رقم کے دس فیصد کے برابر ایوارڈ دیا جاے گا۔
    ذخیرہ اندوزی آرڈیننس کو دیگر نافذ شدہ قوانین پر فوقیت حاصل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر نے کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے باعث اشیا خوردونوش اور ادویات کے ذخیرہ کرنے کے اقدامات کے انسداد کے لیے یہ آرڈیننس جاری کیا ہے جس سے آزادکشمیر کے اندر ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور اشیا ضروریا کی قیمتیں کنٹرول میں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ زخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت سے سخت کاررای عمل میں لائے جانے کے لیے یہ قانون سازی کی گئی ہے۔