Baaghi TV

Tag: آزاد کشمیر

  • مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، مریم نواز

    مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، مریم نواز

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے-

    مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ن لیگ کی حکومت آئی تو آزادکشمیر کے ہر گاؤں میں سڑکیں بنائیں گے، مسلم لیگ (ن) کی سیاست ترقی، تعلیم اور عوامی خدمت کی سیاست ہے، ہم کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے نہیں بلکہ لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں، اگر عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا تو آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائے گی اور ریاست میں بھی پنجاب طرز کے ترقیاتی اور فلاحی منصوبے شروع کیے جا ئیں گے۔

    مریم نواز نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ لازوال ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی،انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ آزاد کشمیر آ کر صرف تقریریں کرتے ہیں، دوسروں پر الزامات عائد کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی بتائیں کہ ریاست میں حکومت کس کی ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے انہوں نے کیا اقدامات کیے۔

    مریم نواز نے اپناگھر اپنی چھت اسکیم کے تحت آزاد کشمیر میں 5 لاکھ تک گھر بنانے کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ آزاد کشمیر میں دھی رانی پروگرام شروع کریں گے، نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرض دیں گے، نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور الیکٹرک بائیک بھی فراہم کریں گے، آزاد کشمیر کے 2 ہزار طلباء کو ہونہار اسکالرشپ دیں گے، آزاد کشمیر کے 400 بچوں کا لاہور میں مفت علاج کیا گیا، پنجاب کے فلاحی منصوبے آزاد کشمیر میں بھی شروع کریں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسوں کا تحفہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بسیں جلد آزاد کشمیر پہنچ جائیں گی تاکہ شہریوں کو جدید سفری سہولیات میسر آ سکیں،15 موبائل اسپتال بھی جلد اپنی خدمات کا آغاز کریں گے، جس سے دور دراز علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولت حاصل ہوگی۔

    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے، صرف وعدے نہیں پنجاب کی کارکردگی لے کر آپ کے پاس آئی ہوں، جتنا مضبوط پاکستان ہوگا اتنا ہی مضبوط آزاد کشمیر بھی ہوگامیں مظفرآباد مہمان بن کر نہیں آئی یہ آزاد جموں کشمیر میرا ہے، میں خون سے بھی کشمیری ہوں دل اور دماغ سے بھی کشمیری ہوں، میں روح سے اور نسلوں سے بھی کشمیری ہوں۔

    انہوں نے کہاکہ 2021 کے انتخابی مہم میں جتنی محبتیں اور دعائیں ملی تھیں وہ بھول نہیں سکتی، اس الیکشن میں آزاد کشمیر میں ہماری 17 نشستیں اور اس وقت کے وزیراعظم کی 3 نشستیں تھی، اس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے نتائج الٹ دو، اس لیے آج یہاں مسائل ہیں، انہوں نے مجھے نوازشریف کے سامنے گرفتار کیا تاکہ میں کشمیر نہ جاسکوں، آج وہی نواز شریف اور مریم نواز یہاں آزاد کشمیر میں کھڑے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ وہ یہاں ووٹ مانگنے نہیں آئے لیکن اگر آپ نے ن لیگ کو منتخب کیا تو یہ وعدہ ہے کہ آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائیگی، انہوں نے کہا جہاں ن لیگ کی حکومت ہے وہاں کے حالات اور دیگر جگہوں کی حالات دیکھ لیں، حالات میں یہ فرق کیوں ہے، یہ فرق نواز شریف اور ن لیگ ہے، پنجا ب کے چپے چپے پر ترقی ہے، جب تک آزادکشمیر کے ہر بچے کو مفت تعلیم نہیں ملے گی، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی محنت کی وجہ سے پنجاب میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، پنجاب میں صوبائی وزیر تعلیم کا بیٹا سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے،کل ایک ویڈیو دیکھی جس میں بابا جی جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے پوچھا تو بابا جی نے کہا کہ نوازشریف کا جلسہ ہے، بابا جی کو بتایا گیا کہ جلسہ تو کل ہے باباجی نے کہا میں شوق میں آج آگیا، بابا جی نے کہا کہ جلسے میں ہماری بیٹی مریم نواز آرہی ہیں۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کریں تاکہ آزاد کشمیر میں ترقی، خوشحالی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکےمیں وزیراعظم پاکستان سے کہوں گی کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلاسود قرضہ دیا جائے، جبکہ اسپیشل افراد کو ہمت کارڈ دیے جائیں گے۔

  • آزاد کشمیر  عام انتخابات: الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد، نیا شیڈول جاری

    آزاد کشمیر عام انتخابات: الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد، نیا شیڈول جاری

    آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے عام انتخابات 3 مرحلوں میں کرانے کا اعلان کرتے ہوئے نیا انتخابی شیڈول جاری کر دیا جبکہ الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد کر دیے گئے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی،اس طرح آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا عمل 3 مراحل میں مکمل ہوگا، ہر مرحلے کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد اسی مرحلے کے غیر سرکاری اور سرکاری نتائج جاری کیے جائیں گے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابی شیڈول میں تبدیلی انتظامی امور، انتخابی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے، شفاف، منظم اور پرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہےمرحلہ وار انتخابات سے سکیورٹی، انتخابی عملے کی تعیناتی اور انتخابی عمل کی نگرانی بہتر انداز میں ممکن ہو سکے گی،تمام ریٹرننگ افسران، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ نئے انتخابی شیڈول کے مطابق اپنی تیاریاں مکمل کریں تاکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابا ت کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔

  • آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی 5 جولائی کی کال مسترد

    آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی 5 جولائی کی کال مسترد

    آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی 5 جولائی کی ہڑتال کی کال کو مسترد کر دیا۔

    آزاد کشمیر کے عوام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی احتجاجی کال کو واضح طور پر مسترد کر دیا، میرپور سمیت مختلف اضلاع میں صورتحال پرامن ہے اور تمام کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق آزاد جموں و کشمیر بھر میں روزمرہ معمولات زندگی بحال، شہریوں نے ہڑتال کو مکمل طور پر رد کر دیا شہریوں کا کہنا تھا کہ ہڑتال کی کال کالعدم ایکشن کمیٹی کی پرتشدد کارروائیوں اور انتشار پھیلانے کی ایک اور مذموم کوشش ہے، عوام جھوٹی افواہوں پر دھیان نہ دیں اور اپنے کاروباری معاملات معمول کے مطابق چلائیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ ریاست بھر میں تمام کاروباری مراکز، سرکاری و نجی دفاتراور بازار معمول کے مطابق کھلے ہیں، کالعدم ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں سے ریاست کو پہلے ہی کافی معاشی اور سماجی نقصان پہنچ چکا ہے، آزاد جموں و کشمیر کی عوام اب مزید کسی انتشار یا بدامنی کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں۔

    عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ انتشار اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے امن، استحکام اور ترقی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  • استحکام پاکستان پارٹی کا آزاد کشمیر کی نشستوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان

    استحکام پاکستان پارٹی کا آزاد کشمیر کی نشستوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان

    اسلام آباد: استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) نے آزاد کشمیر کی 35 نشستوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا۔

    آئی پی پی کے مرکزی صدر عبدالعلیم خان نے امیدواروں میں پارٹی ٹکٹ تقسیم کیے۔ جبکہ اس موقع پر آئی پی پی آزاد کشمیر کے صدر سردار تنویر الیاس بھی موجود تھے، جو خود ایل اے 15، ایل اے 22 اور ایل اے 25 سے انتخاب لڑیں گے پارٹی نے مختلف حلقوں کے لیے اپنے امیدوار نامزد کرتے ہوئے ایل اے 2 سے محمد معروف، ایل اے 3 سے تسلیم عارف، ایل اے 4 سے تیمور حسن اور ایل اے 8 سے ذوالفقار علی کو امیدوار نامزد کیا۔

    اسی طرح ایل اے 9 سے طاہر فرید، ایل اے 10 سے محمد یوسف، ایل اے 11 سے محمد طالب، ایل اے 12 سے صبیحہ صدیق اور ایل اے 13 سے نثار انصر ابدالی آئی پی پی کے امیدوار ہوں گے ایل اے 16 سے اعجاز احمد، ایل اے 17 سے عامر نذیر، ایل اے 18 سے مرتضیٰ احمد، ایل اے 19 سے شہزاد عزیز، ایل اے 21 سے بلال شکیل، ایل اے 23 سے سردار رئیس انقلابی اور ایل اے 24 سے عنایت اللہ کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

    آئی پی پی کی جانب سے ایل اے 27 سے سردار تبارک، ایل اے 30 سے مقبول گجر، ایل اے 31 سے راجہ مظہر قیوم، ایل اے 35 سے عبدالقادر اور ایل اے 36 سے ادیب امجد بٹ کو پارٹی کا ٹکٹ دیا گیا ہے ایل اے 39 سے محمد طاہر کھوکھر، ایل اے 40 سے سلیم بٹ، ایل اے 41 سے سعید ڈار، ایل اے 42 سے بلال بٹ، ایل اے 43 سے حمزہ بزمی اور ایل اے 5 سے افتخار حسین کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

    اسی طرح ایل اے 6 سے علی شان سونی اور ایل اے 28 سے کوثر تقدیس گیلانی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے باقی نشستوں پر آج رات یا کل امیدواروں کے نام کا اعلان کردیا جائے گا۔

  • آزادکشمیر کے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا 29 جون سےکاروبار شروع کرنےکا اعلان

    آزادکشمیر کے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا 29 جون سےکاروبار شروع کرنےکا اعلان

    آزادکشمیر کے تاجر اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں نے 29 جون سےکاروبار اور ٹرانسپورٹ کھلے رکھنے کا اعلان کردیا۔

    وائس چیئرمین مرکزی انجمن تاجران گوہر کشمیری، صدر انجمن تاجران مدینہ مارکیٹ راجا ابرار مصطفیٰ، صدر ٹرانسپورٹ آپریٹرز یونین مظفرآباد ڈویژن خواجہ اعظم رسول اور انجمن تاجران و ٹرانسپورٹرز یونین مظفرآباد ڈویژن کے دیگر صدور و عہدیداران نے مظفرآباد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی موجودہ سرگرمیوں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا۔

    تاجر اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں نےکہا کہ جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم نہیں ہوئی تھی ہم اس کے ساتھ تھے، اب نہیں ہیں، ہم پاک فوج، پاکستان کے عوام اور حکومت کے خلاف نہیں ہوسکتے، انہوں نے جو ساتھ دیا ہم نہیں بھول سکتے راولاکوٹ میں بیٹھے یہ کون لوگ ہیں؟ ہم ان کے ساتھ نہیں، 12 سیٹوں کا معاملہ آئینی ہے، یہ ہمارا کبھی مسئلہ نہیں رہا، اب بھی وقت ہے صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے توکوئی بات نہیں اب بھی وقت ہیں وہ واپس آجائیں۔

    تاجر رہنما گوہر کشمیری کا کہنا تھا کہ 29 جون کو تمام تاجر اپنے کاروبار شروع کریں، بنیادی عوامی مسائل کے حل کے لیے چلائی گئی تحریک میں تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں عام آدمی کے لیے سستا آٹا اور سستی بجلی کا مطالبہ منظور کرایا گیا، ان بنیادی مسائل کے حل کے بعد مزید کسی مطالبے کی ضرورت نہیں تھی، تاہم بعد ازاں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے تاجروں سے کسی قسم کی مشاورت کیے بغیر اپنی جانب سے نئے مطالبات شامل کر دیے۔

    انہوں نے کہاکہ ہم اس ریاست کے باشندے ہیں اور اس کے ساتھ ہماری ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔ ریاست کے اندر اچھے اور برے میں تمیز کرنا ہم سب کا فرض ہے حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جسے سراہا جانا چاہیے۔

    گوہر کشمیری نے کہاکہ تحریک کا مقصد صرف عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا تھا، جس کے لیے حکومت اور تاجروں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کی عوام کو نئی انفراسٹرکچر اسکیموں، ٹیکسوں میں کمی، تعلیم اور صحت کے خصوصی پیکجز سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ریلیف ملا۔

    فراہم کی، جو اس پورے خطے کے لیے ایک ریکارڈ ہے، جبکہ دیگر معاملات کے حل کے لیے الگ کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں۔

    انہوں نے واضح کیاکہ یہ تحریک کسی سیاسی مفاد، انتخابی عمل، قانون ساز اسمبلی کی نشستوں یا علاقائیت سے متعلق نہیں تھی بلکہ خالصتاً عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے شروع کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ہماری اپنی ہے، حکومت بھی ہمارے اپنے لوگوں کی ہے اور عوام بھی ہمارے ہی ہیں، اس لیے تمام مسائل کا حل باہمی مذاکرات، احترام اور افہام و تفہیم کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

    گوہر کشمیری نے کہاکہ تحریک ابتدا سے پرامن رہی، تاہم اچانک اس کا رخ کسی اور جانب موڑ دیا گیا، جس پر تاجروں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے بھرپور احتجاج بھی ریکارڈ کرایا، چارٹر آف ڈیمانڈ میں مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ تاجروں سے کسی مشاورت یا اتفاق رائے کے بغیر شامل کیا گیا۔ بعد ازاں حکومت نے قانون ساز اسمبلی کے فلور پر اس معاملے پر غور کیا اور اسے آئینی معاملہ قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس کا حل اسمبلی کے اندر ہی نکالا جائے گا۔

    دوسری جانب آزاد کشمیر میں معمولات زندگی کہیں مکمل طور پر اور کہیں جزوی طور پر بحال ہیں مظفرآباد شہر میں میڈیکل اسٹور، سبزی فروٹ کی دکانیں اوربیکری کھلی ہیں جبکہ میرپور، بھمبر اور نیلم کے علاقے آٹھ مقام میں کاروباری مراکز جزوی طورپرکھلے ہیں۔

  • آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال،نواز شریف نے کل اجلاس طلب کر لیا

    آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال،نواز شریف نے کل اجلاس طلب کر لیا

    مسلم لیگ (ن) کے صدرنواز شریف نے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر کل لاہور میں اہم اجلاس طلب کر لیا ۔

    اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی، جبکہ اہم سیاسی فیصلوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، سینیئر رہنما طارق فاروق اور سابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس خصوصی طور پر شریک ہوں گے،وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے اہم رہنماؤں بھی اجلاس میں موجود ہوں گے-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے اجلاس میں آزاد کشمیر کی قیادت کو درپیش چیلنجز، سیاسی رابطوں، پارٹی تنظیم سازی اور آئندہ کے ممکنہ اقدامات پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

    سیاسی حلقوں کی نظریں اس اجلاس پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے فیصلے آزاد کشمیر کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کی سمت کا تعین بھی اسی اہم مشاورتی نشست میں ہونے کا امکان ہے۔

  • فیصلے عوامی رائے کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں،خواجہ آصف

    فیصلے عوامی رائے کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں،خواجہ آصف

    خواجہ آصف نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی جیسے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے عناصر عوامی رائے یعنی انتخابات کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں۔

    ایکس اکاؤنٹ پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں کہا ہے کہ انتخابات قریب ہوں تو متنازع معاملات کو عوام کی عدالت میں لے جانا ہی جمہوری سوچ کا بنیادی تقاضا ہے عوامی رائے کے بجائے قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے اپنے نظریات مسلط کرنے والے عناصر کے عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی جیسے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے عناصر عوامی رائے یعنی انتخابات کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں ، اگر کوئی شخص یا گروہ تشدد اور مسلح جتھوں کے ذریعے اپنے غیر آئینی اور ریاست مخالف ایجنڈے کو نافذ کرنے کی کوشش کرے گا تو ریاست پوری قوت سے قانون پر عملدرآمد کرے گی،کشمیری عوام کو اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کا موقع فراہم کیا جائے گا اور فیصلے عوامی رائے کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں۔

  • آزاد کشمیر سے متعلق تارکین وطن اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات مسترد

    آزاد کشمیر سے متعلق تارکین وطن اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات مسترد

    اسلام آباد: پاکستان نے برطانیہ میں مقیم بعض تارکین وطن کے آزادکشمیر پر غیرذمہ دارانہ بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور غیر ملکیوں کے بیانات غیر ذمہ دارانہ اور غلط ہیں،پاکستان اور آزاد کشمیر کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کیا جائے یہ افراد اپنے ملک کی مثبت ترقی میں کردار ادا کریں،پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کرتی ہیں پاکستان بعض برطانوی اراکین پارلیمنٹ کےغیر ضروری بیانات اور سوالات کا بھی نوٹس لیتا ہے، یہ بیانات برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے اس مسئلے کے تاریخی پس منظر سے عدم واقفیت کے عکاس ہیں، نوآبادیاتی دور کی سوچ رکھنے والوں کو یاد دلانا ضروری ہے پاکستان خودمختار اور جمہوری ریاست ہے ، پاکستان دیگرممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر یقین رکھتا ہے، پاکستان دوسروں سے بھی اسی طرز عمل کی توقع کرتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور آزاد کشمیر حکومتیں شہریوں کے پرامن اجتماع کا احترام کرتے ہیں، آزادی اظہار اور جمہوری عمل میں شرکت کے آئینی حقوق کو بھی مکمل طور پر تسلیم اور ان کا احترام کرتے ہیں توڑپھوڑ،عوامی خدمات خصوصاً اسپتالوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں، بے گناہ شہریوں یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا قتل بھی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ پاکستان برطانوی حکومت سے مطا لبہ کرتا ہےکہ کالعدم تنظیموں کی حمایت کرنے والوں کو باز رہنےکی تلقین کرے، برطانوی حکومت ایسے افراد کو جمہوری عمل، عدالتی فیصلوں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے کی ہدایت دے، آزاد کشمیر اورپاکستان کے آئین، جمہوری اقدار، عدالتی فیصلوں اور قانون کی بالادستی کی ضمانت دیتے ہیں۔

  • پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب

    پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا ہے، جس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ناخوش ہیں اور آج کے اجلاس میں بلاول بھٹو کی جانب سے آزاد کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر اہم فیصلے متوقع ہیں،پارٹی اجلاس آج شام اسلام آباد میں ہو گا،اجلاس میں آزاد کشمیر میں جاری حالات، سیاسی حکمت عملی اور امن و امان کی صورتحال پر غور کیا جائے گا، جبکہ پارٹی رہنما موجودہ بحران کے حل کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کریں گے۔

    یاد رہے دو روز قبل آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا تھا جبکہ کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے،جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں کشیدگی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    گزشتہ روز بھی اسلام آباد میں واقع زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں موجودہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور آئندہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    دوسری جانب وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ اگر کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • آزاد کشمیر: سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی موقف درست قرار دے دیا

    آزاد کشمیر: سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی موقف درست قرار دے دیا

    آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف کی توثیق کر دی ہے۔

    صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل اے 46 کے تحت سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کی آئینی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے طلب کی گئی تھی، جس پر عدالت نے جامع آئینی تشریح جاری کی۔

    سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا عدالت نے واضح کیا کہ ان نشستوں کی قانونی و تاریخی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہوئی ہے عدالت کے مطابق ان نشستوں کے ڈھانچے یا حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔

    عدالت نے واضح کیا کہ آئینی ترمیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مقررہ آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے رائے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22 کی شق 4 کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے اور کسی بھی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جا سکتا۔

    سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے قیام کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

    اس ریفرنس کی سماعت ہفتے کے روز سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں پورا دن جاری رہی سماعت کے دوران راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین بار کونسل ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنی سربمہر آئینی رائے ایوانِ صدر ارسال کی، جسے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ ملک احتشام نے صدر کے دفتر تک پہنچایا۔

    آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 53 نشستوں میں سے 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر مقیم ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں، جبکہ آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں اس کے علاوہ 12 نشستیں جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص ہیں، جن پر پاکستان کے مختلف شہروں، جن میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں مقیم کشمیری ووٹ ڈالتے ہیں۔

    انتخابات سے قبل ان 12 مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت پر اختلافات سامنے آئے تھے، جس کے بعد حکومت نے قانونی ابہام دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رہنمائی طلب کی ریفرنس میں عدالت سے رائے مانگی گئی تھی کہ آیا ان نشستوں کو ختم کیا جا سکتا ہے یا انہیں محض علامتی نمائندگی تک محدود کیا جا سکتا ہے۔

    یہ 12 نشستیں اسمبلی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہیں، جس کے باعث آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں ان کی اہمیت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف شامل ہیں، ان نشستوں پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہاجر نشستوں کے نتائج اکثر حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ کی حالیہ رائے کے بعد مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت مزید واضح ہو گئی ہے اور حکومت کا مؤقف قانونی طور پر درست قرار پانے کے ساتھ ساتھ ان نشستوں سے متعلق جاری سیاسی تنازع کو بھی ایک اہم آئینی سمت مل گئی ہے