Baaghi TV

Tag: آزاد کشمیر

  • آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال،نواز شریف نے کل اجلاس طلب کر لیا

    آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال،نواز شریف نے کل اجلاس طلب کر لیا

    مسلم لیگ (ن) کے صدرنواز شریف نے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر کل لاہور میں اہم اجلاس طلب کر لیا ۔

    اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی، جبکہ اہم سیاسی فیصلوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، سینیئر رہنما طارق فاروق اور سابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس خصوصی طور پر شریک ہوں گے،وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے اہم رہنماؤں بھی اجلاس میں موجود ہوں گے-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے اجلاس میں آزاد کشمیر کی قیادت کو درپیش چیلنجز، سیاسی رابطوں، پارٹی تنظیم سازی اور آئندہ کے ممکنہ اقدامات پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

    سیاسی حلقوں کی نظریں اس اجلاس پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے فیصلے آزاد کشمیر کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کی سمت کا تعین بھی اسی اہم مشاورتی نشست میں ہونے کا امکان ہے۔

  • فیصلے عوامی رائے کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں،خواجہ آصف

    فیصلے عوامی رائے کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں،خواجہ آصف

    خواجہ آصف نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی جیسے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے عناصر عوامی رائے یعنی انتخابات کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں۔

    ایکس اکاؤنٹ پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں کہا ہے کہ انتخابات قریب ہوں تو متنازع معاملات کو عوام کی عدالت میں لے جانا ہی جمہوری سوچ کا بنیادی تقاضا ہے عوامی رائے کے بجائے قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے اپنے نظریات مسلط کرنے والے عناصر کے عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی جیسے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے عناصر عوامی رائے یعنی انتخابات کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں ، اگر کوئی شخص یا گروہ تشدد اور مسلح جتھوں کے ذریعے اپنے غیر آئینی اور ریاست مخالف ایجنڈے کو نافذ کرنے کی کوشش کرے گا تو ریاست پوری قوت سے قانون پر عملدرآمد کرے گی،کشمیری عوام کو اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کا موقع فراہم کیا جائے گا اور فیصلے عوامی رائے کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں۔

  • آزاد کشمیر سے متعلق تارکین وطن اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات مسترد

    آزاد کشمیر سے متعلق تارکین وطن اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات مسترد

    اسلام آباد: پاکستان نے برطانیہ میں مقیم بعض تارکین وطن کے آزادکشمیر پر غیرذمہ دارانہ بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور غیر ملکیوں کے بیانات غیر ذمہ دارانہ اور غلط ہیں،پاکستان اور آزاد کشمیر کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کیا جائے یہ افراد اپنے ملک کی مثبت ترقی میں کردار ادا کریں،پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کرتی ہیں پاکستان بعض برطانوی اراکین پارلیمنٹ کےغیر ضروری بیانات اور سوالات کا بھی نوٹس لیتا ہے، یہ بیانات برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے اس مسئلے کے تاریخی پس منظر سے عدم واقفیت کے عکاس ہیں، نوآبادیاتی دور کی سوچ رکھنے والوں کو یاد دلانا ضروری ہے پاکستان خودمختار اور جمہوری ریاست ہے ، پاکستان دیگرممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر یقین رکھتا ہے، پاکستان دوسروں سے بھی اسی طرز عمل کی توقع کرتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور آزاد کشمیر حکومتیں شہریوں کے پرامن اجتماع کا احترام کرتے ہیں، آزادی اظہار اور جمہوری عمل میں شرکت کے آئینی حقوق کو بھی مکمل طور پر تسلیم اور ان کا احترام کرتے ہیں توڑپھوڑ،عوامی خدمات خصوصاً اسپتالوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں، بے گناہ شہریوں یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا قتل بھی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ پاکستان برطانوی حکومت سے مطا لبہ کرتا ہےکہ کالعدم تنظیموں کی حمایت کرنے والوں کو باز رہنےکی تلقین کرے، برطانوی حکومت ایسے افراد کو جمہوری عمل، عدالتی فیصلوں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے کی ہدایت دے، آزاد کشمیر اورپاکستان کے آئین، جمہوری اقدار، عدالتی فیصلوں اور قانون کی بالادستی کی ضمانت دیتے ہیں۔

  • پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب

    پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا ہے، جس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ناخوش ہیں اور آج کے اجلاس میں بلاول بھٹو کی جانب سے آزاد کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر اہم فیصلے متوقع ہیں،پارٹی اجلاس آج شام اسلام آباد میں ہو گا،اجلاس میں آزاد کشمیر میں جاری حالات، سیاسی حکمت عملی اور امن و امان کی صورتحال پر غور کیا جائے گا، جبکہ پارٹی رہنما موجودہ بحران کے حل کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کریں گے۔

    یاد رہے دو روز قبل آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا تھا جبکہ کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے،جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں کشیدگی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    گزشتہ روز بھی اسلام آباد میں واقع زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں موجودہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور آئندہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    دوسری جانب وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ اگر کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • آزاد کشمیر: سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی موقف درست قرار دے دیا

    آزاد کشمیر: سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی موقف درست قرار دے دیا

    آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف کی توثیق کر دی ہے۔

    صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل اے 46 کے تحت سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کی آئینی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے طلب کی گئی تھی، جس پر عدالت نے جامع آئینی تشریح جاری کی۔

    سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا عدالت نے واضح کیا کہ ان نشستوں کی قانونی و تاریخی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہوئی ہے عدالت کے مطابق ان نشستوں کے ڈھانچے یا حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔

    عدالت نے واضح کیا کہ آئینی ترمیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مقررہ آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے رائے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22 کی شق 4 کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے اور کسی بھی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جا سکتا۔

    سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے قیام کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

    اس ریفرنس کی سماعت ہفتے کے روز سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں پورا دن جاری رہی سماعت کے دوران راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین بار کونسل ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنی سربمہر آئینی رائے ایوانِ صدر ارسال کی، جسے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ ملک احتشام نے صدر کے دفتر تک پہنچایا۔

    آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 53 نشستوں میں سے 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر مقیم ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں، جبکہ آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں اس کے علاوہ 12 نشستیں جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص ہیں، جن پر پاکستان کے مختلف شہروں، جن میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں مقیم کشمیری ووٹ ڈالتے ہیں۔

    انتخابات سے قبل ان 12 مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت پر اختلافات سامنے آئے تھے، جس کے بعد حکومت نے قانونی ابہام دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رہنمائی طلب کی ریفرنس میں عدالت سے رائے مانگی گئی تھی کہ آیا ان نشستوں کو ختم کیا جا سکتا ہے یا انہیں محض علامتی نمائندگی تک محدود کیا جا سکتا ہے۔

    یہ 12 نشستیں اسمبلی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہیں، جس کے باعث آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں ان کی اہمیت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف شامل ہیں، ان نشستوں پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہاجر نشستوں کے نتائج اکثر حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

    سپریم کورٹ کی حالیہ رائے کے بعد مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت مزید واضح ہو گئی ہے اور حکومت کا مؤقف قانونی طور پر درست قرار پانے کے ساتھ ساتھ ان نشستوں سے متعلق جاری سیاسی تنازع کو بھی ایک اہم آئینی سمت مل گئی ہے

  • آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا انتخابی اتحاد کا اعلان

    آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا انتخابی اتحاد کا اعلان

    اسلام آباد : آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) نے آئندہ انتخابات 2026 میں مشترکہ طور پر حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

    جموں و کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاس میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے انتخابی اتحاد پر اتفاق کیا اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس اور دیگر رہنما شریک ہوئے،جے یو آئی (ف) کے وفد کی قیادت مولانا سعید یوسف نے کی جبکہ مولانا امتیاز عباسی اور مولانا ادریس بھی موجود تھے۔

    فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ جے یو آئی (ف) نے ہمیشہ جمہوری رواداری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ اتحاد خطے کی سیاست میں مثبت تبدیلی لائے گا چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ دونوں جماعتیں اصولی بنیادوں پر اکٹھی ہوئی ہیں اور پیپلز پارٹی امیدواروں کے حق میں جے یو آئی بھرپور انتخابی مہم چلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پلندری اور دھیرکوٹ میں پیپلز پارٹی جے یو آئی امیدواروں کی حمایت کرے گی جبکہ دیگر حلقوں میں جے یو آئی پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کرے گی۔

    مولانا سعید یوسف نے کہا کہ اتحاد خطے کی سیاست میں اہم پیش رفت ہے اور دونوں جماعتیں مل کر عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کریں گی اتحاد کا باضابطہ اعلان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی آمد پر کیا جائے گا۔

    دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس اتحاد کو عوامی مفاد اور سیاسی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ جدوجہد سے انتخابی کامیابی حاصل کی جائے گی۔

  • آزاد جموں و کشمیر انتخابات: نواز شریف کا امیدواروں کے لیے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ

    آزاد جموں و کشمیر انتخابات: نواز شریف کا امیدواروں کے لیے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں امیدواروں کے لیے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ کیاہے-

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر میں انتخابات کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت دیگر رہنماوں نے شرکت کی۔

    مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے الیکشن مہم کے دوران آزاد کشمیر جانے کا فیصلہ کیا ہے، نواز شریف کا جون کے وسط میں آزاد کشمیر جانے کا امکان ہے اور ان کے ساتھ مریم نواز بھی جاسکتی ہیں نواز شریف نے شہباز شریف کو بطور وزیراعظم اور مریم نواز کو بطور وزیراعلیٰ، قانون کے مطابق کشمیر میں الیکشن مہم میں شرکت کی ہدایت کی ہے، شہباز شریف اور مریم نواز کے آزاد کشمیر میں 2 سے 3 جلسے متوقع ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں نوازشریف نے آزادجموں وکشمیر کے45 انتخابی حلقوں سے 206سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کیے اور ہر امیدوار کو دو سے تین منٹ ہی گفتگو کے لیے دیے گئے جبکہ پارٹی صدر نواز شریف بورڈ ارکان کی مشاورت سے دو سے تین روز میں حتمی امیدواروں کا فیصلہ کریں گے،انٹرویوز میں کامیاب امیدواروں کو 30 روز میں پارٹی ٹکٹ جاری کیا جائے گا۔

    ذرائع نے بتایا کہ نوازشریف اور پارلیمانی بورڈ نے امیدواروں سے پارٹی سے وابستگی اور عوامی مقبولیت کے بارے میں سوالات کیے اور آزاد کشمیر الیکشن پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما امیر مقام کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی ہے آزاد کشمیر کے رہنماؤں نے نواز شریف کے سامنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران نظریہ پاکستان اور نظریہ تحریک آزادی کو شدید نقصان پہنچا، ہماری تحریک آزادی کو 5 سال میں جتنا نقصان پہنچا اسے واپس لانے میں بہت عرصہ لگے گا۔

    امیدواروں نے نوازشریف سے گفتگو کے دوران بتایا کہ 5 سال میں آزاد کشمیر میں جو کھیل کھیلا وہ افسوسناک ہے، کشمیریوں نے آزادی کےلیے اپنی جان اور اپنے بچوں کو شہید کروا کر لاشیں اٹھائیں، مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جوکشمیریوں کےحقیقی نظریہ اور شہدا کی وارث ہے،آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا جیتنا ناگزیر ہے وگرنہ آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    نوازشریف نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میں خود کشمیری ہوں اور کشمیریوں سے محبت میرے خون میں شامل ہے، آزاد کشمیر کے الیکشن میں خود آکر اپنے امیدواروں کےلیے ووٹ مانگوں گا وفاق اور پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوگی۔

    پارلیمانی بورڈ کے ارکان میں خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، محمد صفدر اور برجیس طاہر شامل ہیں اس کے علاوہ شاہ غلام قادر، راجہ محمد فاروق حیدر، مشتاق منہاس، چوہدری محمد سعید اور چوہدری طارق فاروق بھی بورڈ کے ارکان میں شامل ہیں اجلاس میں نجیب نقی خان، افتخار گیلانی اور چوہدری عبدالرحمان بھی شریک ہوئے۔

  • وزیراعظم آزادکشمیر نے چوہدری رشید کو وزارت سے برطرف کر دیا

    وزیراعظم آزادکشمیر نے چوہدری رشید کو وزارت سے برطرف کر دیا

    وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اپنی کابینہ کے اہم رکن چوہدری محمد رشید کو عہدے سے برطرف کردیا۔

    یہ سخت فیصلہ چوہدری رشید کی مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے، چوہدری محمد رشید کے پاس پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی وزارتیں تھیں،برطرفی کا فیصلہ وزیراعظم آزادکشمیر کی ہدایت پر فوری طور پر نافذ کر دیا گیا.

    چوہدری محمد رشید نے آج سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر کے ہمراہ اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنا اللہ سے ملاقات کی تھی، ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں چوہدری رشید اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان معاملات طے پاچکے ہیں اور وہ جلد ہی باقاعدہ طور پر ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کرنے والے ہیں-

    چوہدری رشید کی ان سیاسی سرگرمیوں کو وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے انہیں وزارت سے فارغ کرنے کا حکم جاری کر دیا،،چوہدری محمد رشید کی وزارت ختم کرکے محکموں کے نئے قلمدانوں پر مشاورت جاری ہے۔

    دوسری جانب آزاد کشمیر میں عام انتخابات سے قبل گہما گہمی عروج پر ہے اور سیاسی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا ہے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کل (8 مئی) لاہور میں ن لیگ آزاد کشمیر کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں نواز شریف نے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس مسلم لیگ ن کے سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں کل دن 11 بجے طلب کیا ہے-

    نواز شریف پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کے بعد ٹکٹ کے لیے درخواستیں دینے والے لیگی رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے،اس سے قبل نواز شریف نے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس مظفرآباد میں طلب کیا تھا، تاہم اچانک دورہ منسوخ کرکے لیگی قیادت کو لاہور بلا لیا گیا۔

  • معرکہ حق کا ایک سال مکمل،مظفرآباد میں  پروقار تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل،مظفرآباد میں پروقار تقریب کا انعقاد

    معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نڑول اسٹیڈیم میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ’پاکستان زندہ باد‘ اور ’پاک فوج زندہ باد‘ کے نعروں سے فضا گونج اٹھی اس موقع پر شہدا اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا،تقریب میں بھارت کے خلاف معرکہ حق کی کامیابی پر مبنی ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی، نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے متعلق فلم نے حاضرین کو افسردہ کر دیا-

    تقریب میں معروف گلوکارہ آئمہ بیگ اور علی عظمت سمیت دیگر معروف گلوکاروں نے پرفارم کرکے تقریب کو چار چاند لگا دیے پروگرام کے دوران مختلف ملی نغمے پیش کیے گئے، جبکہ بچوں نے ٹیبلو بھی پیش کیا کشمیری ثقافت سے جڑے نغموں نے بھی محفل کو چار چاند لگا دیے۔ شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم لہرا کر یکجہتی کا اظہار کیا تقریب میں نتاشہ خان اور ڈاکٹر عبدالباسط سمیت دیگر فنکاروں نے بھی ملی نغمے پیش کیے۔

    تقریب میں ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، طلبہ نے معرکہ حق کی کامیابی پر پاک فوج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جوشیلے نعرے بھی لگائے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھورنے کہاکہ گزشتہ برس بھارت نے مشکوک واقعے کو بنیاد پر پاکستان پر الزام تراشی کی اور پھر حملہ کردیا،پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن ہم اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پاکستان علاقائی سالمیت کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے، بھارت کی جانب سے خطے کا امن سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی،پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، جبکہ سفارتی محاذ پر بھی کامیابی حاصل کی۔

  • 5 جی سروسز کا آغاز:وزیراعظم آزاد کشمیر نے عوام کو خوشخبری سنادی

    5 جی سروسز کا آغاز:وزیراعظم آزاد کشمیر نے عوام کو خوشخبری سنادی

    آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اعلان کیا ہے کہ 10 مارچ سے 5 جی سروسز کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے-

    وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور 5 جی ٹیکنالوجی کے ذریعے آزاد کشمیر تیز رفتار انٹرنیٹ، جدید تعلیم، ای ہیلتھ، ای گورننس اور ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور میں داخل ہوگا۔

    اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان نسل کو یہ خوشخبری دیتے ہوئے انہیں خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ حکومت نے ڈیجیٹل دنیا کی جانب اہم پیش قدمی کی ہے 5 جی ٹیکنالوجی سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، آئی ٹی اور فری لانسنگ کے مواقع وسیع ہوں گے اور باصلاحیت نوجوان عالمی مار کیٹ سے براہ راست منسلک ہو سکیں گے۔

    کاش مریم نواز کراچی آجائیں تو یہاں بھی بہتری ہوسکے،مومنہ اقبال

    انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ریاست کا ہر شہر اور ہر گاؤں ڈیجیٹل ترقی کے سفر میں برابر کا شریک ہو اس مقصد کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا سٹرکچر کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور دور دراز علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی تعلیم و تربیت فراہم کی جا ئے گی تاکہ وہ جدید معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ان کے نزدیک 5 جی صرف انٹرنیٹ کی رفتار نہیں بلکہ ترقی، روزگار اور خوشحالی کی رفتار ہے انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ 4 جی سہولت آزاد کشمیر کو تقریباً پانچ سال بعد ملی تھی، تاہم اس بار 5 جی سہولت پاکستان میں آغاز کے ساتھ ہی حاصل کر لی گئی ہے۔

    ڈی آئی خان: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، گنڈاپور گروپ کے 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

    انہوں نے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان اور سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی راشد حنیف سمیت متعلقہ ٹیم کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ان کی شبانہ روز کاوشوں سے یہ ممکن ہواحکومت نے ٹیلی کام سیکٹر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے رائٹ آف وے چارجز ختم کیے اور ون ونڈو سہولت فراہم کی تاکہ ٹیلی کام آپریٹرز کو آزاد کشمیر میں بہتر مسابقتی ماحول میسر آ سکے اور عوام کو معیاری سہولیات حاصل ہوں۔