Baaghi TV

Tag: آغا نیاز مگسی

  • میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    نصرت زہرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ اور صحافی نصرت حسین زہرا کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے ان کے والدین کا تعلق امرتسر سے ہے جو کہ تقسیم ہند سے چند ماہ قبل ہجرت کر کے پاکستان آگئے ۔ ان کے والد صاحب کا نام امانت علی اور والدہ محترمہ کا نام فہمیدہ بانو ہے ان کے 3بھائی اور 5 بہنیں ہیں ۔نصرت زہرا نے کراچی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا ہے ۔وہ ایشیا کے پہلے پنجابی نیوز چینل اپنا ٹی وی میں بحیثیت نیوز اینکر فرائض انجام دے چکی ہیں وہ دنیائے ادب کے مقبول ترین ادبی پروگرام” بزمِ شاعری” میں بحثیت میزبان ایک برس تک بخوبی فرائض انجام دیے انہوں نے پاکستان کی مقبول ترین شاعرہ پروین شاکر کی شاعری اور شخصیت سے متاثر ہو کر شاعری شروع کی اور وہ پروین شاکر کو ہی شاعری میں اپنا استاد مانتی ہیں ۔انہوں نے پروین شاکر کی سوانح حیات ” پارہ پارہ” کے نام سے تحریر کی ہے ۔نصرت زہرا کی شاعری کا مجموعہ” الفراق ” ترتیب و اشاعت کے مرحلے میں ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوک ہر خار پر جو خوں ٹھہرا
    مری ہستی میں تو جنوں ٹھہرا

    تری راہوں کو چن لیا دل نے
    پھر مرے خواب کا زبوں ٹھہرا

    جانے کس دھن میں چل رہی تھی ہوا
    خطۂ یاس میں سکوں ٹھہرا

    رنگ بدلے کئی زمانوں نے
    دل کی حالت کہ جوں کا توں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی
    وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    کیا کہا تو نے دل گرفتہ سے
    پرچم آس سرنگوں ٹھہرا

    مضمحل تھا کوئی بہت کل رات
    پھر طلسمات کا فسوں ٹھہرا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے طوفان اس سفر میں ہیں
    جیسے کچھ حادثے نظر میں ہیں

    میرے بھی دل میں راکھ اڑتی ہے
    تیرے بھی خواب اس اثر میں ہیں

    وہ گھنا پیڑ ہو کہ سایہ طلب
    آخرش سب ہی چشم تر میں ہیں

    پیاس سے دم مرا بھی گھٹتا ہے
    شب کے سناٹے بھی خبر میں ہیں

    خواہش بے نوا ہے جب سے سوا
    تیرے افسانے ہر نگر میں ہیں

  • ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    کیسے کیسے لوگ / آغا نیاز مگسی

    گزشتہ شب واٹس ایپ پر خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ صاحبہ کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں کے متعلق تعارفی سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ میرا تعلق ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان پنجاب میں ہے یا سندھ صوبے میں ؟ مجھے ان کے اس غیر متوقع بلکہ معصومانہ سوال پر ایک لمحے کیلئے تھوڑا سا غصہ آیا لیکن جلد ہی میں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے وضاحت کی کہ محترمہ بلوچستان نہ تو پنجاب میں ہے اور نہ ہی سندھ میں واقع ہے بلکہ یہ بھی پاکستان کا ایک صوبہ ہے تاہم ، میں ان کو اس وقت یہ بتانا بھول گیا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور معدنیات و دیگر قدرتی وسائل کے لحاظ سے شاید دنیا کا سب سے امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود غربت اور پسماندگی میں بھی بلوچستان ایک عالمی ریکارڈ رکھتا ہے۔

    کراچی کی ایک سینیئر شاعرہ جو کہ بیرون دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کر چکی ہیں وہ گزشتہ 4 ماہ سے مجھ سے پوچھتی رہتی ہیں کہ آغا صاحب آپ کس شہر سے ہیں ؟ اور میرا ہر بار وہی جواب ہوتا ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہوں ان سے بھی سینیئر ترین شاعرہ جرمنی کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ مذہبی اسکالر بھی ہیں وہ گزشتہ 5 سال سے سال میں ایک یا دو بار مجھ سے رابطہ کر کے پوچھتی ہیں کہ آغا صاحب وہ جو آپ نے میرا تعارف لکھا تھا اگر آپ کے پاس اس کی کاپی ہے تو پلیز مجھے سینڈ کریں مجھ سے کسی اخبار یا میگزین والے نے مانگا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میں واٹس ایپ پر انہی کی ڈی پی سے کاپی پیسٹ کر کے انہیں دوبارہ ارسال کر کے ان کی ڈھیر ساری دعائیں سمیٹ لیتا ہوں ایسا معاملہ صرف خواتین تک محدود نہیں ہے۔

    نصیر آباد میں ایک ڈپٹی کمشنر صاحب کافی عرصہ پہلے تعینات تھے میں جب بھی ان سے کسی سلسلے میں ملاقات کیلئے جاتا تو مجھے بڑے اخلاق سے کہتے کہ ” جی جناب حکم فرمائیں آپ کس ڈپارٹمنٹ سے ہیں ” ۔؟

  • کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    طاہرہ سید

    یوم پیدائش 6 نومبر 1958

    پاکستان کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ،خوب صورت گلوکارہ طاہرہ سید 6 نومبر 1958 میں پیداہوئیں۔ وہ برصغیر کی نامور کلاسیکل گلوکارہ ملکہ پکھراج اور معروف ادیب و مصنف سید شبیر حسین شاہ کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے بچپن ہی میں 10 سال کی عمر سے گائیکی شروع کی جبکہ 14 سال کی عمر میں 1969 میں وہ پہلی بار ریڈیو پاکستان اور 1970 میں پی ٹی وی پر گانے کیلئے آئیں۔ اپنی والدہ ملکہ پکھراج، استاد اختر حسین اور استاد نذر حسین سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ امریکہ اور ہندوستان سمیت کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ صدارت سے نوازا گیا ۔ اپریل 1985 میں نیشنل جیوگرافک میگزین نے طاہرہ سید کو اپنے سرورق /ٹائٹل پر شائع کیا۔ طاہرہ سید نے 1975 میں معروف ٹی وی کمپیئر اور وکیل سید نعیم بخاری سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹی کرن اور ایک بیٹا حسنین پیدا ہوا۔ طاہرہ سید اور اس وقت کے وزیر اعظم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی 1990 میں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی ۔ نواز شریف انہیں پی سی بھوربن میں بلا کر رات دیر گئے تک ان سے ” غزلیں ” سنتے رہتے جس کو وہ معاوضے میں سینیٹر سیف الرحمان کی کمپنی ” ریڈکو ” کے ذریعے ہر ماہ 10 لاکھ روپے بینک ٹو بینک ٹرانسفر کرا دیتے تھے۔

    طاہرہ سید کی نواز شریف سے زیادہ قربت کے باعث نعیم بخاری نے طاہرہ کو طلاق دے دی ۔ نعیم بخاری سے علیحدگی کے بعد طاہرہ نے دوسری شادی نہیں کی جبکہ نعیم بخاری نے دوسری شادی کی جس سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ طاہرہ کے دونوں بچے وکیل بن گئے۔ کرن بخاری نیو یارک میں اور حسنین بخاری مسقط میں وکالت کر رہے ہیں ۔ طاہرہ سید اب بھی رومانویت پسند ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر عورت کی زندگی میں رومان کو خاص اہمیت حاصل ہے اگر مجھے پھول دے یا کارڈ لکھ کر ارسال کرے یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ طاہرہ کے گائے ہوئے کئی گیت ، غزلیں اور نغمے بہت مشہور ہیں جن میں

    1 ہر اک جلوہ رنگین مری نگاہ میں ہے

    2 ہم سا کوئی ہو تو سامنے آئے

    3یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے ،و دیگر شامل ہیں

  • زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار

    یوم پیدائش 2 نومبر 1971

    آغا نیاز مگسی

    ہندوستان اور پاکستان کی معروف ٹی وی اور فلمی اداکارہ زیبا بختیار 2 نومبر 1971 میں کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ممتاز قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل پاکستان یحیٰی بختیار اور ہنگری کی عیسائی خاتون ایوا کی بیٹی ہیں، زیبا بختیار نے 1988 میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامہ ” انارکلی ” سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیاجبکہ 1991 میں ایک انڈین فلم ” حنا”میں کام کر کے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا ،

    1995 انہوں نے مشہور انڈین گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع خان سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹا اذان پیدا ہوا۔ چار سال کی ازدواجی زندگی کے بعد دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ 1989 میں ان کی شادی جاوید جعفری سے ہوئی ایک سال بعد 1990 میں ان کے درمیان علیحدگی ہوئی۔ سائرہ بختیار زیبا بختیار کی بہن جبکہ ڈاکٹر سلیم بختیار اور ڈاکٹر کریم بختیار ان کے بھائی ہیں۔ زیبا بختیار کی مستقل رہائش کراچی میں ہے،

  • میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    سوچتی ہوں کہ ملے حلم میں گوندھا ہوا شخص
    علم اوتار سا اور لہجہ پیمبر جیسا

    شہلا شہناز

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی ایک خوب صورت پاکستانی شاعرہ اور ماہر تعلیم پروفیسر شہلا شہناز صاحبہ کا تعلق فیصل آباد پنجاب سے ہے وہ 7 اپریل 1976 میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد یونس اور والدہ محترمہ کا نام صفیہ ہے۔ وہ 4 بہن بھائی ہیں جن میں شہلا سب سے بڑی ہیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم اپنے پیدائشی شہر فیصل آباد میں حاصل کی جبکہ ماسٹرز پنجاب یو نیورسٹی لاہور سے کیا۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے اس کے علاوہ اردو اور انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اسکول کے زمانے سے ہی شاعری شروع کی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ محکمہ تعلیم پنجاب میں لیکچرر مقرر ہو گئیں اوراس وقت اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ 7 اگست 2014 میں ان کی شادی ہوئی اور ماشاء اللہ وہ ایک ہونہار بیٹے کی ماں ہیں۔ شہلا شہناز صاحبہ بہت خوب صورت شاعری کرتی ہیں لیکن درس و تدریس اور گھریلو مصروفیات کے باعث مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اور اب تک انہوں نے اپنی شاعری کی کوئی کتاب بھی شائع نہیں کی ہے ۔ علامہ اقبال، میر تقی میر، پروین شاکر ، یاسمین حمید اور مجید امجد ان کے پسندیدہ شعراء میں شامل ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ تری قربت کہ سطر ِ خوشنما لکھنے لگی
    تُو پلٹ آیا تو میں کتنا نیا لکھنے لگی

    ایک ٹھوکر تک ہے یہ انبار ِخشت و سنگ سب
    راہ کی دیوار کو میں راستہ لکھنے لگی

    تم مجھے اس آنکھ کی پُتلی میں دیکھو گے تمام
    یہ جو میں حرف ِ ہنر کو آٸنہ لکھنے لگی

    دن کو خط بھیجا تو اُس میں چھاٶں تہہ کر کے رکھی
    رات کو مکتوب لکھا تو دیا لکھنے لگی

    کور آنکھوں کے لیے میں نے تراشے تھے نجوم
    گونگے ہونٹوں کے لٸے حرف ِ صدا لکھنے لگی

    لہر کو دریا کی مٹھی میں پڑا رہنے دیا
    اور صحراٶں کی قسمت میں گھٹا لکھنے لگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تھا کوئی شخص مرے دل میں سمندر جیسا
    اب تو سناٹا ہے ہر سو میرے اندر جیسا

    ہجر لذت سے تہی وصل بھی پھیکا پھیکا
    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    شہلا شہناز

  • بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز

    بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلوچستان کی پہلی خاتون آفیسرز کا اعزاز بہت سی باصلاحیت خواتین کو حاصل ہے جن میں بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر کا منفرد اور قابل فخر اعزاز محترمہ عائشہ زہری ، بلوچستان کی پہلی خاتون میڈیکل سپرنٹنڈنٹ و پہلی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر D H O کا منفرد اعزاز ڈاکٹر رخسانہ مگسی صاحبہ کو حاصل ہے جبکہ بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز محترمہ پری گل ترین کو حاصل ہے وہ بلوچستان کی پہلی پی ایس پی کرنے والی خاتون پولیس آفیسر ہیں انہیں 2021 میں کوئٹہ میں بحیثیت ASP تعینات کیا گیا جس سے انہیں بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے جبکہ سب انسپکٹر محترمہ صوبیہ خانم کو 2022 میں کوئٹہ کینٹ پولیس تھانہ کی S H O مقرر کیا گیا جس سے انہیں بلوچستان کی پہلی خاتون S H O کا منفرد اعزاز حاصل ہو گیا اور یہ دونوں خواتین پولیس افسران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہیں ۔

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    حال ہی میں خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی پی ایس پی آفیسر محترمہ فریال فرید صاحبہ کو بلوچستان میں پہلی خاتون S S P کا منفرد اعزا حاصل ہوا ہے جن کی تقرری بطور ایس ایس پی جعفر آباد میں ہوئی ہے ان کی گفتگو اور عزم سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہاں بحیثیت خاتون ایس ایس پی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی ۔ بلوچستان میں مختلف شعبوں میں بہت سی دیگر خواتین افسران بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انشاء الله ان کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

  • کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    ہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    سیلم احمد

    اردو زبان میں سلیم احمد جیسے شاعر اور ادیب کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو ادب کے لئے اس طرح وقف کردیا ہو کہ کبھی کبھی دھوکا ہونے لگتا ہو کہ وہ گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ مجسمہ ٔ خیال ہوں۔ ایسے ہی ایک شاعر اور ادیب سلیم احمد بھی تھے۔ جناب سلیم احمد27 نومبر1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں ان کے تعلقات پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے استوار ہوئے جو دم آخر تک قائم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔ جناب سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔ سلیم احمد کی وجۂ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ اور جن کی صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔ سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اورپاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی تحریر کی جس پرانہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔ ٭یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق اور تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔
    ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:
    اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا۔
    روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے۔

    سیلم احمد کی چند منتخب غزلیں

    غزل

    نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    افق پہ دیکھنا تھا میں قطار قازوں کی
    مرا رفیق کہیں دور جانے والا تھا

    مرا خیال تھا یا کھولتا ہوا پانی
    مرے خیال نے برسوں مجھے ابالا تھا

    ابھی نہیں ہے مجھے سرد و گرم کی پہچان
    یہ میرے ہاتھوں میں انگار تھا کہ ژالہ تھا

    میں آج تک کوئی ویسی غزل نہ لکھ پایا
    وہ سانحہ تو بہت دل دکھانے والا تھا

    معانی شب تاریک کھل رہے تھے سلیمؔ
    جہاں چراغ نہیں تھا وہاں اجالا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    بیٹھے ہیں سنہری کشتی میں اور سامنے نیلا پانی ہے
    وہ ہنستی آنکھیں پوچھتی ہیں یہ کتنا گہرا پانی ہے

    بیتاب ہوا کے جھونکوں کی فریاد سنے تو کون سنے
    موجوں پہ تڑپتی کشتی ہے اور گونگا بہرا پانی ہے

    ہر موج میں گریاں رہتا ہے گرداب میں رقصاں رہتا ہے
    بیتاب بھی ہے بے خواب بھی ہے یہ کیسا زندہ پانی ہے

    بستی کے گھروں کو کیا دیکھے بنیاد کی حرمت کیا جانے
    سیلاب کا شکوہ کون کرے سیلاب تو اندھا پانی ہے

    اس بستی میں اس دھرتی پر سیرابیٔ جاں کا حال نہ پوچھ
    یاں آنکھوں آنکھوں آنسو ہیں اور دریا دریا پانی ہے

    یہ راز سمجھ میں کب آتا آنکھوں کی نمی سے سمجھا ہوں
    اس گرد و غبار کی دنیا میں ہر چیز سے سچا پانی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    دیدنی ہے ہماری زیبائی
    ہم کہ ہیں حسن کے تمنائی

    بس یہ ہے انتہا تعلق کی
    ذکر پر ان کے آنکھ بھر آئی

    تو نہ کر اپنی محفلوں کو اداس
    راس ہے ہم کو رنج تنہائی

    ہم تو کہہ دیں سلیمؔ حال ترا
    کب وہاں ہے کسی کی شنوائی

    اور تو کیا دیا بہاروں نے
    بس یہی چار دن کی رسوائی

    ہم کو کیا کام رنگ محفل سے
    ہم تو ہیں دور کے تماشائی

    وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے
    ان کی شہرت ہے میری رسوائی

    معتقد ہیں ہماری وحشت کے
    شہر میں جس قدر ہیں سودائی

    عشق صاحب نے دل پہ دستک دی
    آئیے مرشدی و مولائی

    یہ زمانے کا جبر ہے کہ سلیمؔ
    ہو کے میرے بنے ہیں سودائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔
    .
    بشکریہ ، عامر شیرازی

    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 29 اگست یوم وفات میر محبوب علی خان آصف

    29 اگست یوم وفات میر محبوب علی خان آصف

    لاو تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
    کس کس کہ مہر ہے سر محضر لگی ہوئی

    میر محبوب علی خان آصف
    تاریخ وفات: 29 اگست 1911

    اردو کو سب سے پہلے اپنی سلطنت کی سرکاری زبان بنانے والے حکمران اور نامور شاعرنظام الملک حیدرآباد ۔۔میر محبوب علی خان آصفؔ جا ششم

    میر محبوب علی آصف خان 17 اگست 1866 میں پیدا ہوئے۔۔انہیں 884 میں مکمل اختیارات کے ساتھ قلمرو آصفی کا حضور نظام تسلیم کر لیا گیا۔حیدر آباد میں سرکاری زبان انہیں کے دور 1884 ء میں فارسی سے اردو کر دی گئی۔
    میر محبوب علی خان آصفؔ تخلص کرتے تھے، وہ داغ دہلوی اور حضرت جلیل مانک پوری کے شاگرد تھے۔موصوف و جملہ اصناف سخن پر قدرت حاصل تھی۔غزلیات کے علاوہ ‘تعلیم’ اور ‘اصلاح فوج’ وغیرہ کے متعلق انہوں نے بہت سی اخلاقی نظمیں کہی ہیں۔غزلوں میں جگہ جگہ اخلاق کا درس ملتا ہے مثلاً ان کے یہ دو مقطعے۔۔

    آصف کو جان ومال سے اپنے نہیں دریغ
    گر کام آئے خلق کی راحت کے واسطے
    آصفؔ کا ہے یہ قال سنہیں صاحب غیرت
    احسان نہ لے ہمت مردانہ کسی کا
    اعلیٰ حضرت شاہالعلوم آصفؔ نے تغزل میں بھی بڑے اچھے اشعار کہے ہیں

    کبھی نہ دب کے لیں گے ہم ان سے آصف
    وہ شاہِ حسن سہی، شہر یار ہم بھی ہے

    لو اور سنوکہتے ہیں وہ دیکھ کر مجھکو
    یہ شخص بلا شبہ ہے دیوانہ کسی کا

    نہیں ہے اگر تو ہماراتو کیا ہے
    زمانہ میں کوئی کسی کا ہوا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
    کس کس کی مہر ہے سرِمحضر لگی ہوئی
    یہ شعرفیض کا نہیں۔ فیض صاحب نے اس شعر کی صرف تظمین کی ہے۔ تظمین کا مطلب ہے کہ کسی اور شاعر کے مصرع یا پھر مکمل شعر کو اپنی نظم یا غزل کا حصہ بنا لینا۔یہ شعر نظام ششم نواب محبوب علی خاں والی حیدر آباد کا ہے۔ 1900ءکے لگ بھگ ریاست کے چند اعلیٰ افسران نے ان کے خلاف ایک سازش تیار کی۔ یہ اطلاع ملنے پر انہوں نے متعلقہ کاغذات طلب کئے کہ دیکھیں کن کن لوگوں نے اس سازش میں حصہ لیا ہے اور یہ مصرع کہا ”لاﺅ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں۔ بعد کو اس مصرع پر دوسرا مصرع لگا کر شعر پورا کر دیا۔

    29 اگست’ 1911 میں اردو کے اس محسن اعظم نے رحلت پائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کلاسک سے ماخوذ

    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک  یادگار نشست کا احوال

    نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک یادگار نشست کا احوال

    آغا نیاز مگسی

    ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی منفرد شخصیت کے مالک ، بلوچستان کے سابق گورنر ، سابق وزیر اعلیٰ سابق وفاقی وزیر اور بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب محمد اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927 میں بارکھان بلوچستان میں اپنے ننھیال کھیتران قبیلہ کے گھر میں پیدا ہوئے اور26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں ایک سانحے کا شکار ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی یہ پراسرار موت بھی بہت سی دیگر نامور شخصیات کی طرح آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ مجھے ان کی نمازہ جنازہ کا منظر دیکھنے اور رپورٹنگ کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے جس میں اندرون بلوچستان سے شریک ہونے والا میں واحد صحافی تھا بلکہ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں ان کا صحیح موقف پیش کرنے کا اعتماد حاصل کرنے کے باعث تقریباً 9 سال تک ٹیلی فون پر ان کی خبریں میں پیش کرتا رہا ۔ یہی وجہ تھی کہ کوئٹہ کے بہت سے نامور صحافی کسی موضوع یا کسی اہم مسئلے پر ان کا موقف جاننے کیلئے مجھ سے رابطہ کر کے نواب صاحب کا موقف معلوم کرتے تھے اور اسی تعلق اور اعتماد کے تناظر میں 2005 میں نصیر آباد اور جعفر آباد کے سینیئر صحافی دوستوں عبدالستار ترین ، دھنی بخش مگسی ، شیخ عبدالرزاق اور محمد وارث دیناری نے مجھے حکم دیا کہ میں نواب صاحب سے رابطہ کر کے ان سے ملاقات کیلئے وقت لے لوں ۔ میں نے نواب صاحب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جنہوں نے از راہ شفقت فرمایا کہ آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنے صحافی دوستوں کو میرے پاس لے آئیں ۔ میں نے دوستوں سے رابطہ کر کے نواب صاحب کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا جس کے بعد انہوں نے ڈیرہ الله یار کے اپنے قبیلے کے ایک بااعتماد نوجوان دریحان بگٹی کو مجھ سے رابطہ کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دیں ۔ ہم لوگ 12 دسمبر 2005 کو ڈیرہ الله یار سے ڈیرہ بگٹی کیلئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں ایک پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے عبدالستار ترین کو زبردستی دو پہر کو کھانا کھلانے کیلئے روکا جس کی وجہ سے ہمیں کافی تاخیر ہو گئی۔ جب ہم ڈیرہ بگٹی شہر میں داخل ہوئے تو ایک دو جگہ پر ہم کسی ضرورت کے تحت گاڑی سے نیچے اترے تو لوگ ہمیں کہتے کہ آپ نواب صاحب کے مہمان ہیں ؟ ہم نے حیرت سے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولے کہ نواب صاحب بہت دیر تک اپنی ” کچہری ” یعنی محفل میں آپ لوگوں کا انتظار کرتے رہے ۔ ہم پہلے نواب صاحب کے مہمان خانے گئے جہاں ہمارے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے ہمیں ان کی خلوت گاہ پہنچا دیا گیا ۔

    ہم جیسے ہی ان کی آرام گاہ میں داخل ہوئے انہوں نے از راہ مذاق کہا کہ میں تو اس انتظار میں تھا کہ بی بی سی ریڈیو سے کب خبر چلتی ہے کہ نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کیلئے ڈیرہ بگٹی جانے والے نصیر آباد اور جعفر آباد کے صحافی اغوا کر لیے گئے ہیں ۔ ان سے ملاقات میں ، میں نے اپنے صحافی دوستوں کا ان کے شہر اور صحافتی ادارے کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے تعارف کرایا جس کے بعد انہوں نے بلوچی رسم کے مطابق ہم سے بلوچی ” حال” لینا چاہا چناں چہ میں نے انہیں ” حال ” دیا اور ان سے ” حال” لیا جس کے بعد ان سے باقاعدہ انٹرویو / گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ۔ میرے دوستوں نے ان سے حالات حاضرہ کے مطابق سیاسی سوالات کئے جبکہ میں نے ان سے ذاتی نوعیت کے غیر سیاسی سوالات کئے جن میں ان کے رومان، مذہبی و فکری رجحان ، پسندیدہ شخصیات ، سیر وسیاحت اور خود کو ڈیرہ بگٹی تک محدود رکھنے کے متعلق سوالات شامل تھے جن کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جوانی میں عشق بھی کیا، دنیا کے کئی ممالک کا مطالعاتی دورہ بھی کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی سال سے ڈیرہ بگٹی سے باہر نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی نظریں ڈیرہ بگٹی پر مرکوز ہیں اس لئے میں ڈیرہ بگٹی سے باہر نہیں نکلتا جبکہ 18 سال سے گوشت نہ کھانے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ مذہبی لحاظ سے بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی شخصیت سے متاثر ہیں اس لئے ان کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے گوشت کھانا ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ شخصیات میں رابندر ناتھ ٹیگور اور ہٹلر کا نام لیا۔ دسمبر کی یخ بستہ رات میں ان کے ساتھ ہونے والی ہماری نشست رات 9 بجے سے صبح 3 بجے تک یعنی 6 گھنٹوں پر محیط تھی ۔ اس گفتگو کے دوران ایک بار ہمارے ایک دوست نے ان سے یہ سوال کیا کہ نواب صاحب آپ کبھی حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودیہ بھی گئے یا نہیں تو اس کے جواب میں خلاف توقع نواب صاحب نے ہمارے صحافی دوست سے تلخ لہجے میں سوال کیا کہ ابھی جو مگسی صاحب (میری جانب اشارہ) نے میرے بیرونی ممالک کے دوروں کی فہرست میں جن ممالک کے نام لکھے ہیں تو کیا ان میں سعودی عرب کا نام شامل ہے ؟ اس غیر متوقع سوال اور جواب سے محفل کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیا لیکن تقریباً نصف گھنٹے سکوت اور خاموشی کے بعد پھر سے محفل خوشگوار ہو گئی۔ اس طویل اور یادگار نشست کا اختام خود نواب اکبر خان بگٹی نے یہ کہہ کر ، کر دیا کہ اب آپ لوگوں پر نیند کا غلبہ طاری ہو رہا ہے اس لئے جا کر آرام کریں اس طرح ان کے ساتھ ہونے والی یادگار نشست اختتام پذیر ہو گئی جس کی یادیں ابھی تک ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔

    نوٹ : 2018 سے میں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظر میں صحافت کے شعبے سے قطع تعلق کر لیا ہے جس کے بعد میرا کسی بھی صحافتی ادارے سے تعلق نہیں ہے ۔ (آغا نیاز مگسی )

  • اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
    ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

    احمد فراز

    یوم پیدائش : 12 جنوری 1931
    یوم وفات : 25 اگست 2008
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رومان کی علامت اور مزاحمت کا استعارہ سمجھے جانے والے سید احمد شاہ علی المعروف احمد فراز 12 جنوری 1931ء میں کوہاٹ خیبر پختونخواہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ہندکو ، سید خاندان سے تھا۔ ان کی مادری زبان ہندکو اور پشتو تھی مگر انہوں نے اردو کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ وہ شاعر ابن شاعر تھے۔ شاعری انہیں اپنے والد سے وراثت میں ملی اُن کے والد سید محمد شاہ برق فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ وہ پہلے احمد شاہ کوہاٹی کے نام سے مشہور تھے مگر فیض احمد فیض کے مشورے سے انہوں نے اپنا نام احمد فراز رکھ دیا۔ طالبعلمی کے دوران ہی ان کا پہلا شعری مجموعہ ” تنہا تنہا” شائع ہوا۔ وہ اس دوران ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک تھے مگر تعلیم کی تکمیل کے بعد محکمہ تعلیم میں لیکچرر تعینات ہو گئے ۔ 1976 میں احمد فراز کو ” اکادمی ادبیات پاکستان ” کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا لیکن 1977 میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کی مخالفت کی بناء پر انہیں کچھ عرصہ جلاوطن ہونا پڑا۔ حالات سازگار ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ” لوک ورثہ” اور ” نیشنل بک فائونڈیشن” کے سربراہ مقرر ہوئے ۔

    احمد فراز بیک وقت رومان کی علامتوں سے لے کر، مزاحمت کے استعاروں تک، ہجر کے مراحل سے وطن پرستی کی فکری اساس تک کی معنویت کے شاعر تھے، اُنہیں حروف اور موضوعات کی کوئی قلت نہ تھی، وہ اپنی شعری روایت اور تاثیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
    فراز کی شاعری میں سچائی، غزل کی نغمگی، کیفیات و جذبات و وجدان کا کھرا پن ، ندرتِ خیال،دل موہ لینے والی رومانوی و خواب آور کسک، گمان کے ہلکورے لیتے کٹورے، یقین کے ہمالے اور تصنّوع کی آلائشوں سے پاک جذبات کا اظہار ملتا ہے۔

    فراز کا یہی وہ شاعرانہ امتیاز ہے جس کی بدولت وہ نہ صر ف اس دور میں بلکہ آنے والے تمام ادوار میں بھی یا د کیے جائیں گے اور ان کا نام تاریخ کے باب میں ہمیشہ جلی اور روشن رہے گا۔ فراز کے ایک درجن سے زائد شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، تنہا تہنا، جاناں جاناں اور فرقت شب و دیگر شامل ہیں ۔

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
    میرا قلم عدالت میرے ضمیر کی ہے

    اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
    جبھی تو لوچ کماں کا زباں تیر کی ہے

    دور ہے تو، تو تری آج پرستش کر لیں
    ہم جسے چھو نہ سکیں، اس کو خدا کہتے ہیں

    کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
    کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

    سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
    ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے

    اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
    یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں

    گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
    مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
    پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
    اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
    جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے