Baaghi TV

Tag: آغا نیاز مگسی

  • رمیش چندر دت ایک ہندوستانی سول سرونٹ اور  معاشی مورخ

    رمیش چندر دت ایک ہندوستانی سول سرونٹ اور معاشی مورخ

    رمیش چندر دت (13 اگست 1848ء –- 30 نومبر 1909ء) ایک ہندوستانی سول سرونٹ، معاشی مورخ، مصنف اور رامائن و مہابھارت کے مترجم تھے۔

    رمیش چندر دت کی پیدائش ایک ممتاز کائستھ بنگالی خاندان میں ہوئی۔ اس خاندان کے افراد اپنے ادبی و علمی اکتسابات کی بنا پر خاصے معروف تھے۔ ان کی والدہ کا نام تھکامنی اور والد کا ایسام چندر دت تھا۔ ان کے والد بنگال میں ڈپٹی کلکٹر تھے اور رمیش اکثر دفتری فرائض میں ان کے ساتھ ہوتے۔ ابتدا میں انھوں نے متعدد بنگالی اسکولوں میں پڑھا، پھر کلکتہ کے ہیئر اسکول میں داخل ہوئے۔ سنہ 1861ء میں ان کے والد مشرقی بنگال میں ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ والد کی بے وقت موت کے بعد ان کے چچا اور معروف مصنف شوشی چندر دت ان کی کفالت کرنے لگے۔ رمیش انیسویں صدی عیسوی کے بنگال کی انتہائی مشہور شاعرہ تورو دت کے عزیزوں میں تھے۔

    رمیش سنہ 1864ء میں کلکتہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ سنہ 1866ء میں آرٹس کے پہلے امتحان میں دوسرے نمبر سے کامیاب ہوئے اور وظیفہ پایا۔ ابھی وہ بی اے کے طالب علم ہی تھے کہ سنہ 1868ء میں اپنے خاندان کی اجازت کے بغیر اپنے دو دوستوں بہاری لال گپتا اور سریندرناتھ بنرجی کے ساتھ لندن چلے گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    اُس وقت تک محض ایک اور ہندوستانی ستیندر ناتھ ٹیگور ہی انڈین سول سروس کے اہل سمجھے گئے تھے۔ دت نے ان کی ہمسری کا ارادہ کیا۔ یونیورسٹی کالج لندن میں رمیش دت نے برطانوی مصنفین کا مطالعہ جاری رکھا۔ سنہ 1869ء میں وہ انڈین سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوئےاور تیسرا مقام حاصل کیا۔ 06 جون 1871ء کو آنریبل سوسائٹی آف دی مڈل ٹیمپل نے انھیں بار کاؤنسل میں مدعو کیا۔
    ابھی رمیش چندر دت بر سر منصب ہی تھے کہ بڑودا میں 30 نومبر 1909ء کو 61 برس کی عمر میں وفات پائی۔

  • مشہور زمانہ نعت اور گمنام شاعر

    مشہور زمانہ نعت اور گمنام شاعر

    پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

    ولی صاحب

    تاریخ پیدائش : 10 اگست 1908

    شاعری کی دنیا میں کچھ افسوسناک پہلو بھی واقع ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کافی ایسے شعرا گزرے ہیں جن کی شاعری یا ان کا کلام قومی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور ہوتے ہیں کہ وہ زبان زد خاص و عام ہوتے ہیں مگر شاعر کا نام کسی کو معلوم نہیں ہوتا یا پھر وہ شاعری کسی اور شاعر کے نام سے منسوب ہو کر مشہور ہو جاتی ہے ایسے ہی شعراء کی فہرست میں برصغیر کے گیت نگار اور فلم پروڈیوسر و ڈائریکٹر ولی محمد خان المعروف ولی صاحب ہیں جن کا نعتیہ کلام دنیا بھر میں مشہور ہوا جس کا بول ہے

    پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
    ایا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

    اس نعتیہ کلام کو سب سے پہلے گانے کی سعادت 1937 میں گلوکارہ شمشاد بیگم کو حاصل ہوئی جس کی دھن مشہور موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے تیار کی تھی اس کے بعد نیرہ نور سمیت بہت سے گلوکاروں اور نعت خوانوں نے گایا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ میں نے فیس بک اور گوگل پر بہت سرچ کیا مگر شاعر کا نام کہیں بھی اس کلام کے ساتھ لکھا ہوا نظر نہیں آیا۔ ولی صاحب نے 36 اردو فلموں کیلئے 200 کے لگ بھگ گیت لکھے ہیں ۔ ولی صاحب 10 اگست 1908 میں پونا ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1956 میں وہ ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان میں آباد ہوئے مشہور شاعر ناظم پانی پتی ان کے بھائی تھے۔ ولی صاحب نے معروف اداکارہ ممتاز شانتی سے شادی کی۔ 1997 میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
    چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے
    ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھراضافہ
    گیسٹ ہاؤس کی آڑ میں قحبہ خانہ،5 خواتین سمیت 11 ملزمان گرفتار
    نئے چئیرمین نیپرا نے چارج سنبھال لیا
    پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت
    انجرڈ پرسنز میڈیکل بل؛ مریض کو پوچھا تک نہیں جاتا. سینیٹر مہر تاج
    مشہور زمانہ نعت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    بھاتی نہیں ہمدم مجھے جنّت کی جوانی
    سنتا نہیں زاہد سے میں حوروں کی کہانی

    عاشق ہوں مجھے عشق ہے دیوار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    واللہ رازدار ہیں طیبہٰ کے باب کے
    بکھرے ہوئے ورق مری دل کی کتاب کے
    مجھ کو سنبھالیئے مجھے اپنی جناب سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    ہر آہ گئی عرش پہ یہ آہ کی قسمت
    ہر اشک پہ اک خُلد ہے ہراشک کی قیمت
    تحفہ یہ ملا ہے مجھے دربار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    حاضر گدائے در ہے شہنشاہ ! السلام
    مولا سلام سرورِذی جاہ ! السلام
    دونوں جہاں کے قبلہ ء حاجات ! السلام

    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے
    پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

  • وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    شگفتہ شفیق

    8 اگست 1969: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی معروف ادیبہ ، شاعرہ اور افسانہ نگار شگفتہ شفیق 8 اگست 1969 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے حمد، نعت ، غزل اور نظم کی اصناف میں شاعری کی ہے جبکہ نثر میں انہوں نے کہانیاں اور افسانے بھی لکھے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئی تھیں مگر اللہ کے فضل سے تندرست ہو کر اس سے چھٹکارہ پا چکی ہیں۔ شفگتہ شفیق گلستان جوہر کراچی میں مستقل سکونت پذیر ہیں ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔
    1 , میرا دل کہتا ہے
    2 , یاد آتی ہے
    3 , جاگتی آنکھوں کے خواب
    4 , شگفتہ نامہ
    5 , مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے تو گھر میں رہتے ہیں موسم کمال کے
    اللہ کرے نہ آئیں کبھی دن زوال کے

    اتنا بڑا کیا ہے اسی نے تو پال کے
    آنے نہ دے جو پاس مرے دن ملال کے

    اک یاد تیری ساتھ تھی اب وہ بھی ڈھل گئی
    قصے پرانے ہو گئے میرے گلال کے

    دل کو بہت سکون اسے دیکھ کے ملا
    خوش باش ہیں وہ خوب مجھے بھول بھال کے

    دنیا کی بات چھوڑیئے قصہ یہ گھر کا ہے
    دن جا چکے ہیں لوٹ کے رنج و ملال کے

    آنسو بہا کے باپ نے بیٹے سے یہ کہا
    کیا مل گیا تجھے مری پگڑی اچھال کے

    میں سوچتی ہوں کیسی شگفتہؔ یہ بات ہے
    اب تو پہاڑ بن گیا غم پال پال کے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر کوئی ہے سلسلہ الزام کا
    یہ وطیرہ ہے مرے گلفام کا

    روز کرتا ہے وہ روشن شام کو
    اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا

    خوبصورت دل ربا سی شاعری
    سلسلہ ہے روح تک الہام کا

    چاہتوں کی بارشیں کرتا ہے وہ
    خوب واقف ہے وہ اپنے کام کا

    دل میں اپنے سوچتی ہوں میں کبھی
    وقت آئے گا مرے آرام کا

    وہ جنوں خیزی تو کب کی مٹ چکی
    اب شگفتہؔ واسطہ ہے نام کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لگن زندگی کی جگانی پڑے گی
    خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی

    گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی
    ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی

    ابھی مل گئے ہم کبھی یہ بھی ہوگا
    کہ رسم جدائی نبھانی پڑے گی

    تجھے کھو کے جینا بھی کیا زندگی ہے
    مگر زندگی یوں بتانی پڑے گی

    تیرا شیوہ چلتی ہواؤں سے لڑنا
    ہر اک بات تجھ سے چھپانی پڑے گی

    تیرے تیکھے تیور بتاتے ہیں مجھ کو
    کہ ہستی تو اپنی مٹانی پڑے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طلب عشق ساری مٹا دی ہم نے
    اس کو روکا نہ صدا دی ہم نے

    خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے راکھ راہوں میں اڑا دی ہم نے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

  • گوہر جان ،منفرد گلوکارہ  رقاصہ اور شاعرہ

    گوہر جان ،منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ

    تاریخ پیدائش 26 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوٸیں۔ وہ آرمینیاٸی نسل کی عیساٸی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہاٸش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گٸیں ۔ وکٹریہ کا اسلامی نم ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گاٸیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گٸی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیراٸی مل گٸی۔ گوہر جان گاٸیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گاٸی ہوٸی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔ گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گاٸیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے ماٸی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گٸی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • فرانز کافکا ،بیسویں صدی کے بہترین ناول نگار

    فرانز کافکا ،بیسویں صدی کے بہترین ناول نگار

    3 جون 1924 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فرانز کافکا کا شمار بیسویں صدی کے بہترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ 3 جولائی 1883 چیک ریپبلکن کے شہر پراگ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیلم سے لے کر قانون کی ڈگری تک پراگ میں ہی تعلیم حاصل کی ۔ وہ یہودی مذہب سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے والد کا نام ہرمن اور والدہ محترمہ کا نام جوئی تھا۔ ان کی مادری زبان عبرانی تھی ۔ ان کا اصل نام امسخل تھا عبرانی زبان میں اس کا معنی ” کوا” ہے جسے چیک زبان میں کافکا اور ہندی زبان میں کاگا کہا جاتا ہے اور وہ فرانز کافکا کے نام سے مشہور ہوئے۔ کوے کو بدنصیبی ،نحوست اور شر کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور اتفاق سے کافکا بھی زندگی بھر بدنصیبی کا شکار رہے جس کی وجہ سے انہوں نے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کی مگر ان کے دوست میکس برڈ نے ان کو خودکشی کرنے سے روک لیا۔

    انہوں نے اپنی زندگی میں 3 بار عشق کیا ان کا پہلا عشق 1912 میں فیرو لین نامی لڑکی سے ہوا 5 سال تک ان کے درمیان جذباتی تعلق قائم رہا جس کے بعد فرولین کی شادی ہو گئی اور کافکا دل تھام کر رہ گیا۔ 1920 میں ان کا دوسرا عشق ملینا نامی ایک لڑکی سے ہو گیا جو کہ شادی شدہ تھی اس لیے اس سے ان کی شادی ممکن نہیں ہو سکی ۔ ملینہ نے بھی کافکا کو ٹوٹ کر چاہا کیوں کہ اسے اپنے شوہر سے محبت نہیں ملی تھی ۔ ایک بار کافکا نے ملین کو خط میں لکھا کہ میں بہت خراب، بیکار اور رشتے نہ نبھانے والا نہیں ہوں جس پر ملینا نے اسے جواب میں لکھا کہ خواہ تم ایک لاش کی طرح ہی کیوں نہ ہو لیکن مجھے پھر بھی تم سے ہی محبت رہے گی۔ 1923 میں ان کا تیسرا عشق ڈورا ڈائمنڈ نامی لڑکی سے ہوا لیکن یہاں پر بھی عشق و محبت میں ناکامی اس کا مقدر بن گئی ڈورا کی شادی بھی کہیں اور ہو گئی جس کے باعث کافکا نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ انہوں نے اپنے ناول اور افسانے وغیرہ جلانے کا ارادہ کیا مگر ان کے دوست میکس برڈ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ میکس برڈ کے ساتھ مل کر انہوں نے صیہونی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 3 جون 1924 میں وہ ٹی بی کے مرض میں ویانا کے ایک سینی ٹوریم ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ کافکا کی وفات کے بعد ان کے دوست میکس برڈ نے ان کی کتابیں شائع کروائیں جن میں ناول”دی ٹرائل ” قلعہ” اور امریکا اور ایک افسانہ A Hunger Artist شامل ہیں ۔ 2017 میں یاست جواد نے کافکا کا کے شاہکار ناول The Triel کا ” مقدمہ” کے نام سے اردو زبان میں ترجمہ کر کے نیشلطبک فائونڈیشن سے شائع کروایا جبکہ محمد عاصم بٹ نے ان کے افسانہ کا ” فاقہ کش فنکار” کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا۔ فرانز کافکا کے ناول” دی ٹرائل ” پر 4 فلمیں بن چکی ہیں ۔

  • اوول کے ہیرو   فضل محمود  کا یوم وفات

    اوول کے ہیرو فضل محمود کا یوم وفات


    ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ایوا گارڈنر 50 کی دہائی میں فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ کی شوٹنگ کے لیے لاہور آئی تھی ، ایک کلب میں اس نے فضل محمود کو دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی اور پھر خواہش ظاہر کی کہ فضل اس کے ساتھہ رقص کرے 1954ء کے دورۂ انگلینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ملکہ برطانیہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملکہ الزبتھہ نے فضل محمود کو دیکھہ کر فوراً کہا کہ آپ پاکستانی نہیں لگتے، آپ کی آنکھیں نیلی کیوں ہیں؟

    پاکستان نے فضل محمود کی 12 وکٹوں کی بدولت اوول ٹیسٹ جیتا تو اگلے دن برطانوی اخبار نے سرخی لگائی
    ENGLAND FAZZALED OUT
    اس کے بعد فضل محمود ’’ اوول کے ہیرو‘‘ کہلاتے رہے۔
    1955میں وزڈن نے انہیں سال کے 5 بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا ۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے۔

    ان دنوں صرف فلمی اداکارائیں اشتہارات میں اپنے حسن کا راز بتایا کرتی تھیں۔ پھر جب اس نوجوان کرکٹر کی شہرت کے ساتھہ اس کے حسن وجمال کا چرچا شروع ہوا۔ گورا چٹا نیلی آنکھوں والا فضل محمود لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ تواشتہاری کمپنیوں نے بھی فضل محمود کی شہرت سے فائدہ اٹھانا چاہا اور یوں فضل محمود برل کریم کے اشتہار میں آکر پاکستان کے پہلے کھلاڑی ماڈل بن گئے۔

    فضل محمود 18 فروری 1927 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج سے گریجویشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے1943 سے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ دس ٹیسٹوں میں کپتانی بھی کی. پاکستان کو 1952ء میں ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ ملا اور پاکستان نے پہلا مقابلہ ہندوستان کے خلاف دہلی میں کھیلا جہاں اسے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کے کھلاڑی بوجھل دل کے ساتھہ میدان سے لوٹ رہے تھے کہ باؤنڈری لائن پر کھڑی ایک لڑکی نے کہا
    "اچھا کھیلے، لیکن ہندوستان سے جیت نہیں سکتے!”۔
    یہ لڑکی تھی اس وقت کے وزیراعظم ہندوستان جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی ، جو بعد میں خود بھی وزیراعظم بنیں اور اس جملے کے مخاطب تھے پاکستان کے نائب کپتان فضل محمود ، جنہوں نے اپنی آپ بیتی”From Dusk to Dawn” میں اس کا ذکر کیا ہے۔

    فضل نے اس طعنے کا جواب لکھنؤ میں کھیلے گئے اگلے ٹیسٹ میں دیا، پہلی اننگز میں 5 اور دوسری اننگزمیں 7 یعنی کل 12 وکٹیں لے کر، جس کی بدولت پاکستان نے ایک اننگز اور 43 رنز کے بڑے مارجن سے مقابلہ جیت لیا ۔
    پھر فروری 1959 میں کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میں گیری سوبرز کو آؤٹ کرکے فضل محمود ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔

    شاعر تک فضل محمود کی شہرت اور مقبولیت سے متاثر ہوئے۔ مجید امجد کی 1955 کی نظم ’’ آٹو گراف ‘‘ کی یہ سطریں فضل محمود کے بارے میں ہی ہیں۔۔۔

    وہ باؤلر ایک ، مہ وشوں کے جمگٹھوں میں گھر گیا
    وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
    حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
    ۔
    فضل محمود نے کیرئر میں 34 ٹیسٹ کھیلے اور 139 وکٹیں حاصل کیں ۔
    فضل محمود پولیس میں ملازم ہوئے اور ڈی آئی جی کے عہدے تک پہنچے۔
    ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک منہاج القران میں شامل ہوگئے۔ اس کے سیاسی بازو پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے الیکشن بھی لڑا۔

    آخری عمر میں جانے کیا جی میں آئی کہ بیوی کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد عشأ سے فجر تک کا وقت داتا دربار پر گزارتے رہے۔ اپنے محلے کی مسجد میں اذان بھی دیتے تھے۔
    فضل محمود کا 30 مئی 2005 کو لاہور میں انتقال ہوا، اور قبرستان مسافر خانہ، گڑھی شاہو میں سپردخاک ہوئے۔

  • مسرت شاہین  ،کامیاب  اداکارہ ناکام  سیاستدان ،

    مسرت شاہین ،کامیاب اداکارہ ناکام سیاستدان ،

    اردو ، پشتو اور پنجابی فلموں کی مشہور پاکستانی اداکارہ اور رقاصہ مسرت شاہین 23 مئی 1954 میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون اداکارہاور ڈانسر ہیں جنہوں نے اسلامک کلچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مسرت شاہین کی وجہ شہرت پشتو فلموں میں مخصوص قسم کا رقص کرنا ہے جن کے ڈانس کی وجہ سے ان کے چاہنے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ وہ سینما کی اسکرین پر جب بھی ڈانس کرتے ہوئے جلوہ گر ہوتی تھیں تو سینماؤں میں موجود تماشبین دیوانہ وار سیٹیاں بجاتے ہوئے جھومنے لگ جاتے تھے جیسے ان پر سحر یا وجد طاری ہو گیا ہو۔ مسرت شاہین نے مجموعی طور پر 216 فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں پشتو کی 120 فلمیں ، پنجابی کی 58 اردو کی 33 اور 5 ڈبل ورژن فلمیں شامل ہیں ۔

    ان کی مشہور فلموں میں حسینہ ایٹم بم، آوارہ اور دھمکی ، زلزلہ ، دلہن ایک رات کی، وغیرہ شامل ہیں ۔ مسرت شاہین نے 2000عیسوی سن میں پاکستان تحریک مساوات (P T M) کے نام سے اپنی ایک سیاسی جماعت قائم کی اور 2002 کے عام انتخابات میں ڈیرہ اسماعیل خان سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ۔ مولانا اور اداکارہ ، رقاصہ اور سیاست دان کے درمیان مقابلہ بڑا دلچسپ رہتا تھا ۔ مسرت شاہین کہتی تھیں کہ میں ڈیرہ اسماعیل خان کی اصل باشندہ ہوں مولانا صاحب پنیالہ کے ہیں اس لیے ووٹ کی اصل حقدار میں ہوں ساتھ میں وہ رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہتیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب قابل احترام بزرگ شخصیت اور میرے بھائیوں جیسے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ہر بار مولانا سے الیکشن میں شکست سے دوچار ہوتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود سیاست سے مایوس یا دل برداشتہ نہیں ہوئیں اور مستقبل میں کامیابی کیلئے اب بھی پرامید دکھائی دیتی ہیں ۔

  • صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    لمحوں میں انہیں وقت کی سازش نے گرایا
    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صادقہ نواب سحر

    8 اپریل 1959 یوم پیدائش
    ۔……………………….

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس، ناول نگار ، ڈرامہ رائٹر اور ماہر تعلیم صادقہ نواب سحر 8 اپریل 1959 میں گنٹور(آندھرا پردیش) میں پیدا ہوئیں ۔انھوں نے اردو میں ایم اے اورپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بلکہ ہندی اور انگریزی میں بھی ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں ۔اردو ادب کی دنیا میں وہ ایک ناول نگار؛افسانہ نگار ؛شاعرہ؛ڈراما نگار؛تنقید نگار؛مترجم اور بچوں کی ادیبہ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ صادقہ نواب سحر کا اصل نام صادقہ آرا ہے ان کے والد کا نام خواجہ میاں شیخ اور شوہر کا نام محمد اسلم نواب ہے۔ وہ مختلف تعلیمی اداروں میں لیکچرار کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے کے بعد کے ایم سی کالج کھپولی مہاراشٹر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے رٹائر ہوئیں۔ ان کے اردو شعری مجموعے ، ست رنگی، باوجود، چھوٹی سی یہ دھرتی، دریا کوئی سویا سا اردو افسانوی مجموعے، خلش بے نام سی، انگاروں کے پھول، بیچ ندی کا مچھیرا ، اردو ڈراموں کا مجموعہ ” مکھوٹو کے درمیان” ہندی افسانوی مجموعے ” منت” شیشے کا دروازہ ” شائع ہو چکے ہیں۔

    غزل

    تمہاری یاد میں ڈوبے کہاں کہاں سے گئے
    ہم اپنے آپ سے بچھڑے کہ سب جہاں سے گئے

    نئی زمین کی خواہش میں ہم تو نکلے تھے
    زمین کیسی یہاں ہم تو آسماں سے گئے

    زمانے بھر کو سمیٹا تھا اپنے دامن میں
    پلٹ کے دیکھا تو خود اپنے ہی مکاں سے گئے

    یہ کھوٹے سکے ہیں الفاظ اس صدی کی سنو
    یہ ان کا دور نہیں یہ تو اس جہاں سے گئے

    سحر فضول کی خواہش ہے زندگی جینا
    مرے تو لوگ نہ جانیں گے کس جہاں سے گئے

  • مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے

    مینا کماری ناز

    اداکارہ و شاعرہ

    یوم وفات : 31 اگست 1972
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی نامور اداکارہ شاعرہ مینا کماری ناز جنہیں” ملکہ غم ” بھی کہا جاتا ہے ان کا اصل نام ماہ جبیں ہے ۔ وہ یکم اگست 1932 میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام علی بخش اور والدہ کا نام نیپرو بھاوتی ٹیگور تھا مسلمان ہونے کے بعد ان کا اسلامی نام اقبال بیگم رکھا گیا۔ مینا کماری نے 6 سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے ” لیدر فیس” فلم سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا ۔ وہ تین بہنیں تھیں ان کی دوسری بہنوں کا نام خورشید اور مدھو تھا۔ فلم ڈائریکٹر وجے بھٹ نے ان کو مینا کماری کا فلمی نام دیا تھا جبکہ مینا کماری نے شاعری میں اپنے لیے ناز تخلص اختیار کیا ۔ 1952 میں انہوں نے فلمساز کمال امروہوی سے دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی لیکن محبت کی یہ شادی کامیاب نہیں ہو سکی۔ چند برس بعد ہی ان کے درمیان علیحدگی ہو گئی جس کے بعد مینا کماری نے دوسری شادی نہیں کی ۔ کمال امروہوی کی بیوفائی کے بعد مرد حضرات پر ان کا اعتبار نہیں رہا۔ انہوں نے بقیہ تمام عمر تنہائی ، درد وغم سہتے ، اداکاری اور شاعری کرتے گزار دی۔ شاعری میں انہوں نے گلزار سے اصلاح لی تھی ۔ مینا کماری نے کل 94 فلموں میں کام کیا انہیں فلم ” بیجو باورا” سے بے پناہ شہرت اور پذیرائی ملی ۔ مینا کماری کو ہندوستان کی پہلی خاتون اداکارہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔ 31 مارچ 1972 میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کے انتقال کے بعد ” چاند” کے عنوان سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔

    منتخب کلام

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    ……………….

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
    ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

    پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
    رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

    مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
    اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

    خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
    کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تیری رہگزر سے، دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے، اپنا مزار گزرے
    .
    بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
    شاید اسی طرف سے، اک دن بہار گزرے
    .
    دار و رسن سے دل تک، سب راستے ادھورے
    جو ایک بار گزرے، وہ بار بار گزرے

    بہتی ہوئی یہ ندیا، گھلتے ہوئے کنارے
    کوئی تو پار اترے، کوئی تو پار گزرے
    .

    مسجد کے زیر سایہ، بیٹھے تو تھک تھکا کر
    بولا ہر اک منارا، تجھ سے ہزار گزرے
    .
    قربان اس نظر پہ، مریم کی سادگی بھی
    سائے سے جس نظر کے، سو کردگار گزرے
    .
    تو نے بھی ہم کو دیکھا، ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
    تو دل ہی ہار گزرا، ہم جان ہار گزرے

  • جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی

    آرتی کماری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ ولادت:25 مارچ 1977ء
    جائے ولادت:گیا، بہار
    والد کا نام:الکھ نرنجن پرساد سنہا
    والدہ کا نام:ریتا سنہا
    شوہر کا نام:مادھویندر پرساد
    موجودہ/مستقل پتا:ششی بھون، آزاد کالونی، روڈ 3
    ماڑی پور، مظفر پور بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آرتی کماری کی شاعری سے انتخاب

    عشق میں وصل کم تھا جدائی بہت
    کروٹوں میں سسکتی رہی زندگی

    تُو نہیں ہے زیست میں تو تیرگی ہے ہر طرف
    ہجر کی تنہائی میں دل کو جلایا جائے گا

    زخم اتنے دیجئے جتنے کہ سہہ پاؤں گی میں
    درد گزرا حد سے تو ہمت میری بڑھ جائے گی

    آہٹ سی کیا ہوئی کہ مرا دل سہم گیا
    اب دل کی دھڑکنوں کو جگانے لگے ہیں آپ

    اوروں کے عیب دیکھیے اِک شرط ہے مگر
    اک روز اپنے گھر کے بھی حالات دیکھیے

    دل کی دھڑکن ذرا تیز ہونے لگی
    پاؤں جب بھی بڑھے تیرے گھر کی طرف

    میری دنیا میرا مسکن میری جنت تُو ہے
    مجھ کو سینے سے لگا پاس بلا لے مجھ کو

    دور تک ریت ہے نہ دریا ہے
    پیاس کو پیاس سے پیا کیجے

    جن کے لیے تھی دل کی وہ محفل سجی ہوئی
    آئے نہیں وہ رسم نبھانے تمام رات

    میں تو بکھرنے والی تھی راہِ حیات میں
    تُو بن کے حوصلہ ملا تو مَیں سنور گئی

    غم سے جب ملنا ملانا ہو گیا
    کم خوشی کا آنا جانا ہو گیا

    تیرے ہمراہ یوں چلنا نہیں آتا مجھ کو
    وقت کے ساتھ بدلنا نہیں آتا مجھ کو

    ہر طرف ہے شور جاری خوف طاری ہے
    من ویوتھت ہے سانس بھاری خوف طاری ہے

    يدُھ میں کتنے ہی نر سنہا ر کا کارن بنا تھا
    دروپدی کا وہ کٹل پریہاس ہم سب جانتے ہیں

    منگل راہو کیتو شنیچر جب بھی آنکھ دکھاتے ہیں
    جپ تپ سنیم دان سے اکثر اُن کو مناتی میری ماں

    نہ گھبرائیں گے بادھا سے نہ ہا ریں گے نراشا سے
    چلیں گے مشکلوں کو پار کر اگلی صدی میں ہم

    پریم کی بھاونا رکھو من میں
    پشپ کھلتے ہیں جیسے اپون میں
    تُم بھی رم جاؤ اس طرح مجھ میں
    جیسے مِیرا رمی ہے موہن میں

    خامشی بڑھنے لگی ہے آرتی
    حال آنکھوں سے سنانا چاہئے

    یہ دیکھیے کہ پیاس ہےہونٹوں پہ کس قدر
    آنکھوں کے درمیان سمندر نہ دیکھیے

    میرا سایہ بچھڑ گیا مجھ سے
    دھوپ سر سے اُتر گئی ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تری یاد میں جو گزارا گیا ہے
    وہی وقت اچھا ہمارا گیا ہے
    بھلا اور کیا اپنا پن وہ دکھائے
    ترا نام لے کر پکارا گیا ہے
    تمہیں میری حالت پتہ کیا چلے گی
    مرا جو گیا کب تمہارا گیا ہے
    تمہیں عشق کا آئنہ مان کر کے
    مقدر کو اپنے سنوارا گیا ہے
    عجب ہے محبت کا میدان یارو
    نہ جیتا گیا ہے نہ ہارا گیا ہے
    لکھا ریت پر نام میں نے تمہارا
    ندی میں بھی چہرہ نہارا گیا ہے
    ہے میری بھی عادت تمہارے ہی جیسی
    ہر اک رنگ مجھ پہ تمہارا گیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مشکلیں لاکھ ہوں لیکن مری خواہش ہوگی
    آپ کا ساتھ نبھانے کی تو کوشش ہوگی
    تہمتیں کتنی لگاؤ گے محبت پہ مری
    اس سے تو شہر میں نفرت کی نمائش ہوگی
    ان اندھیروں سے کوئی خوف نہیں ہے مجھ کو
    میں سمجھتی ہوں یہاں نور کی بارش ہوگی
    کوئی منصف کسی مجرم کو سزا کیسے دے
    جب عدالت میں وکیلوں کی سفارش ہوگی
    اب تو مظلوم بھی خنجر کا سہارا لے گا
    نہ کوئی ونتی کرے گا نہ گزارش ہوگی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    تمہیں دنیا کی نظروں سے بچا کر ساتھ رکھنا ہے
    مری چاہت کا خط ہو تم چھپا کر ساتھ رکھنا ہے
    مرے آنگن میں ٹھہرے ہیں تمہاری یاد کے سائے
    تمہارے آنے تک دل سے لگا کر ساتھ رکھنا ہے
    کہانی کی طرح تم کو سنا سکتی نہیں سب کو
    تمہیں گیتوں کے جیسے گنگنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سجانا ہے کبھی ہاتھوں میں مہندی کی طرح تجھ کو
    کبھی آنکھوں میں کاجل سا سما کر ساتھ رکھنا ہے
    میں تتلی کی طرح ہوں پھول کے جیسا ہے تو ہمدم
    میں دل ہوں سو تجھے دھڑکن بنا کر ساتھ رکھنا ہے
    سفر مشکل بہت ہے اور منزل دور ہے اپنی
    ہمیں مشکل کو ہی ہمت بنا کر ساتھ رکھنا ہے