Baaghi TV

Tag: ائی ایم ایف

  • بھارت پر جہاز ٹیسٹ ہو گئے، اتنے آرڈر مل رہے ہیں ہو سکتا ہے آئی ایم ایف کی ضرورت نہ رہے، خواجہ آصف

    بھارت پر جہاز ٹیسٹ ہو گئے، اتنے آرڈر مل رہے ہیں ہو سکتا ہے آئی ایم ایف کی ضرورت نہ رہے، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ کے دوران بھارت نے امریکا کو اپروچ کیا جبکہ چین سے بھی رابطہ کیا گیا، اگر بھارت نے اب بھی کوئی ایڈونچر کیا تو ویسے ہی جواب دیا جائےگا-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت کو شکست دے کر ہماری عزت میں اضافہ ہوا، جہاز ٹیسٹ ہوگئے، جس کے بعد آرڈر مل رہے ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ 6 ماہ بعد آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑے،پاک بھارت جنگ میں پاکستان کا جواب پوری دنیا نے دیکھا، مودی کو پھینٹی لگی ہے جس کے بعد اس کی اپنے ملک اور بیرون ممالک میں کوئی عزت نہیں رہی،بھارت نے اگر دوبارہ حملہ کیا تو ہم جنگ کے لیے تیار ہیں، اور مئی 2025 میں ہم نے یہ ثابت بھی کر کے دکھا دیا۔

    خواجہ آصف نے کہاکہ پاک بھارت جنگ کے دوران بھارت نے امریکا کو اپروچ کیا جبکہ چین سے بھی رابطہ کیا گیا، اگر بھارت نے اب بھی کوئی ایڈونچر کیا تو ویسے ہی جواب دیا جائےگا پاکستانی فوج کا لوہا پوری دنیا مانتی ہے، جبکہ مئی 2025 کی جنگ کے بعد بھارت کا اعتماد تباہ ہوگیا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی قابل اعتبار نہیں، یہ لوگ بھارت کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت میں شامل کچھ لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں خیبرپختونخوا کے معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہیے، میں پی ٹی آئی پر پابندی اور گورنر راج کے حق میں نہیں، کیوں سیاسی پارٹیوں پر پابند ی کا تجربہ ماضی میں کامیاب نہیں رہا۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف سے ورلڈ بینک  کے صدرآئی ایم ایف سربراہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

    وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک کے صدرآئی ایم ایف سربراہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے صدر اجے بنگا اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں-

    وزیر اعظم نے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کو حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا جس میں وسائل کو متحرک کرنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے حوالے سے اقدامات شامل ہیں،وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈے نے پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کی طرف گامزن کیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا اور پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دیا۔

    وزیر اعظم نے ورلڈ بینک کے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (2035-2026) کی بھی تعریف کی، جس کے تحت عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 40 ارب امریکی ڈالر کا تاریخی اور بے مثال وعدہ کیا ہے، وزیر اعظم نے اس کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے حوالے سے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    سیلاب متاثرہ شحض کی قیمتی بھینس چوری،برآمد کرنے کی استدعا

    صدر ورلڈ بینک نے پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے تعاون کے حوالے سے بینک کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے اقتصادی اصلاحات کے فروغ اور سی پی ایف کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے طویل مدتی و پائیدار اقدامات کے لیے مسلسل تعاون بڑھانے میں بینک کے پرزور عزم کا اظہار کیادونوں رہنماؤں نے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    آئی ایم ایف سربراہ کرسٹالینا جارجیوا کی ملاقات

    نیو یارک میں وزیراعظم شہباز شریف سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری معاشی تعاون، اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کی دیرینہ تعمیری شراکت کو سراہا، جو مینجنگ ڈائیریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی قیادت میں مزید مضبوط ہوئی ہے، انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے بروقت معاونت پر شکریہ ادا کیا، جس میں 2024 کے لیے 3 ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ، 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) شامل ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی پائیدار اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور اب ملک بحالی کی راہ پر گامزن ہے،انہوں نے اس سلسلے میں آئی ایم ایف کی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ حکومت کو معاشی اصلاحات کے نفاذ میں بھرپور رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

    اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مختلف اہداف اور وعدوں کو پورا کرنے کی طرف مسلسل پیش رفت کر رہا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پر حالیہ سیلاب کے اثرات کو آئی ایم ایف کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے۔

    پاک سعودی دفاعی معاہدہ،مسلم دنیا کے لیے مضبوط ڈھال

    آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا، انہوں نے بحالی کے مؤثر اقدامات کے لیے نقصانات کے تخمینے کی اہمیت کو اجاگر کیا،آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے مضبوط میکرو اکنامک پالیسیوں پر عمل کرنے کے لیے وزیر اعظم کے عزم کی تعریف کی اور آئی ایم ایف کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا، کیوں کہ پاکستان پائیدار طویل مدتی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقتصادی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

  • آئی ایم ایف کے پاکستان سے مزید مطالبات

    آئی ایم ایف کے پاکستان سے مزید مطالبات

    آئی ایم ایف نے اپنی نئی رپورٹ میں پاکستان،سےمزید مطالبات کردیئے-

    وفاقی سیکرٹری خزانہ کو سٹیٹ بینک بورڈ سے نکالنے اور ڈپٹی گورنرز کی خالی اسامی فوری پُر کرنے اور کمرشل بینکوں کی نگرانی میں حکومتی اختیارات ختم کرنے کی سفارش کردی،آئی ایم ایف نے گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسز اسیسمنٹ رپورٹ میں مزید مطالبات پیش کر دیئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو مزید خود مختاری دینے پر زور دیتے ہوئے سٹیٹ بینک ایکٹ میں مزید تبدیلی کا مطالبہ کردیا آئی ایم ایف نے وفاقی سیکرٹری خزانہ کو سٹیٹ بینک بورڈ سے نکالنے کی سفارش بھی کردی۔

    آئی ایم ایف کی سٹیٹ بینک کے دو ڈپٹی گورنرز کی خالی اسامیوں پر فوری بھرتی کرنے کی سفارش کرد۔ اس وقت ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک کی تین میں سے دو اسامیاں خالی ہیں،عالمی مالیاتی ادارے نے کمرشل بینکوں کی نگرانی میں حکومتی اختیارات ختم کرنے کی سفارش کردی اور کہا کہ سٹیٹ بینک کی خودمختاری مزید مضبوط بنانا ہوگی۔

    حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ان سفارشات پر بات چیت جاری ہے۔

  • حکومت کی آئی ایم ایف کو نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی یقین دہانی

    حکومت کی آئی ایم ایف کو نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی یقین دہانی

    حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کو نان فائلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق حکومتی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان نئے بجٹ سے متعلق مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جاری ہے آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کیلئے پاکستان کی معاشی ٹیم میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، پلاننگ کمیشن، اکنامک افیئرز ڈویژن اور وزارت پیٹرولیم کے حکام شامل ہیں۔

    ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ آمدن اور اخراجات پر حتمی مذاکرات ہوں گے، تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے پر بھی بات چیت ہوگی، حکومت سالانہ 10 سے 12 لاکھ تنخواہ لینے والوں کو ٹیکس فری کرنے کوشش کرے گی، وزیراعظم کی ہدایت پر ایف بی آر انکم ٹیکس میں ریلیف کی کوشش کریگامذاکرات 23 مئی تک جاری رہیں گے 22 مئی تک تمام بجٹ تجاویز کوحتمی شکل دی جائے گی۔

    پاکستان میں ذوالحج کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟

    ذرائع نے کہا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے آئی ایم ایف کو نان فائلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے جس کے تحت نان فائلرز کیلئے گاڑیاں، جائیداد کی خریداری پر پابندی ہوگی، نان فائلرزمالی لین دین کی ٹرانزیکشن نہیں کرسکیں گے۔

    ذرائع ایف بی آر نے کہا کہ نئے بجٹ میں نان فائلرز کیلئے آسانی نہیں بلکہ مزید سختی ہوگی، ٹیکس سسٹم سے نان فائلرز کی کیٹگری ختم کرنے پر کام جاری ہے۔

    پاکستان کی آپریشن "بُنیان مرصوص” کے دوران شاہین میزائل استعمال کے بھارتی دعوؤں کی تر دید

    ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف کو بریفنگ دی گئی کہ تاجر دوست اسکیم اپنے اہداف پورے نہیں کر سکتی، غیر رجسٹرڈ دوکانداروں پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھانے کے مثبت نتائج ملے، تاجروں، ہول سیلرز کیٹگری میں فائلرز کی تعداد میں 51 فیصد اضافہ ہوا، ٹیکس نادہندگان کے بارے میں تھرڈ پارٹی ڈیٹا کا تجزیہ جاری ہے۔

    ذرائع ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، اسلام آباد، کراچی، لاہور میں کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم فعال کر دیا گیا، اس نظام کو کارپوریٹ ٹیکس یونٹس تک بھی موثر توسیع دی جائے گی۔

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    پاکستان اور عالمی مالیاتی ٹیم کے درمیان آئندہ مالی سال 2025-26 سے متعلق پالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، وفد کے ساتھ آمدنی اور اخراجات سمیت بجٹ تخمینہ جات پر حتمی مذاکرات ہوں گے آئی ایم ایف کا وفد 22 مئی تک بجٹ کے حوالے سے مذاکر ات کے لیے اسلام آباد میں قیام کرے گا، آئی ایم ایف ٹیم سے بجٹ پر مذاکرات میں وزارت خزانہ، ایف بی آر اور پلاننگ کمیشن کے حکام شامل ہیں، آئی ایم ایف وفد کے ساتھ اسٹیٹ بینک حکام کے بھی مذاکرات ہوں گے۔

    اسرائیلی فوج غزہ پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کرلےگی،اسرائیلی وزیراعظم

  • نائیجیریا  آئی ایم ایف کے قرض سے آزاد ملک بن گیا

    نائیجیریا آئی ایم ایف کے قرض سے آزاد ملک بن گیا

    نائیجیریا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل کردہ 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض واپس کرکے قرض سے آزاد ملک بن گیا۔

    وائس آف افریقہ کے مطابق یہ ادائیگی 30 اپریل 2025 کو طے شدہ مدت سے پہلے مکمل کی گئی، جو مالیاتی ذمے داری اور بہتر قرض انتظام کی ایک مضبوط علامت ہے،2020 میں کورونا وبا کے آغاز پر، نائیجیریا نے آئی ایم ایف سے رجوع کرکے ری پیڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا ہنگامی قرض حاصل کیا تھا۔

    نائیجیریا نے یہ فنڈز صحت عامہ پر خرچ کرنے، کمزور طبقوں کو تحفظ دینے، اور معیشت کے کلیدی شعبوں کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیے، قرض کی مکمل ادائیگی کے بعد نائیجیریا کو آئی ایم ایف کے قرض دار ممالک کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

    پاک بھارت جنگ پر فیک نیوز واچ ڈاگ کی رپورٹ جاری

    پاکستانی کوہ پیما سرباز خان نے نئی تاریخ رقم کردی

    گودی میڈیا کی خونی اور جھوٹی صحافت، عالمی میڈیا نے پرخچے اُڑا دیئے!

  • آئی ایم ایف کا ترقیاتی بجٹ سے صوبائی نوعیت کےمنصوبے ختم کرنے کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا ترقیاتی بجٹ سے صوبائی نوعیت کےمنصوبے ختم کرنے کا مطالبہ

    اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے ترقیاتی بجٹ سے صوبائی نوعیت کے ترقیاتی منصوبے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاق 18ویں ترمیم کے بعد منتقل صوبائی منصوبوں پر ترقیاتی بجٹ خرچ نہ کرے وفاق آئندہ بجٹ میں 168 صوبائی ترقیاتی منصوبے وفاقی بجٹ سے نکالنے پر مجبور ہےصوبائی نوعیت کے 168 ترقیاتی منصوبوں کی لاگت 1100 ارب روپے ہے جبکہ وفاق 300 ارب روپے خرچ کر چکا ہے۔

    آئی ایم ایف نے صوبائی نوعیت کے 168 منصوبوں پر مزید خرچ کرنے سے روک دیا ہے ان منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے وفاق کو مزید 800 ارب روپے خرچ کرنا تھے تاہم اب 168 صوبائی نوعیت کے منصوبے صوبائی ترقیاتی بجٹ سے مکمل کیے جا سکتے ہیں۔

    وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی کے ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ یہ تمام منصوبے صوبائی دائرہ کار میں آتے ہیں، اس لیے انہیں آئندہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اس تبدیلی کے نتیجے میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم محدود ہونے کے امکانات ہیں، تاہم مالیاتی اصلاحات کے تحت یہ قدم ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پراپرٹی ٹیکس کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ

    پراپرٹی ٹیکس کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ

    حکومت نے پراپرٹی کے شعبے میں ٹیکس شرح کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومتی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کاروباری جمود کے باعث ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں کمی ہوئی۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ریئل اسٹیٹ پر بھاری ٹیکس کے باعث کاروبار جمود کو شکار ہے اور ٹیکسوں کی بلند شرح سے تعمیراتی شعبے کی شرح نمو 15 فیصد گری ہے۔واضح رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس کلیکشن کا شارٹ فال اکتوبر میں 101 ارب روپے ہو گیا تھا، جس کی وجہ درآمدات میں کمی اور مہنگائی کا تیزی سے نیچے آنا تھا۔ جاری کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ بنیادی طور پر درآمدی مرحلے اور مقامی سیلز ٹیکس کی وصولی میں تنزلی کی وجہ سے محصولات کم اکٹھا ہوئی ہیں۔اکتوبر میں ٹیکس وصولی 980 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 879 ارب روپے رہی تھی، یہ 101 ارب روپے کے بڑا فرق کو ظاہر کرتی ہے، تاہم محصولات میں گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں 24 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب 711 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔مالی سال 2025 کے پہلے 4 مہینوں میں 34 کھرب 42 ارب روپے کی محصولات اکٹھا کی گئیں تھیں، جو جولائی تا اکتوبر کے لیے 36 کھرب 32 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 190 ارب روپے یا 5.23 فیصد کی کمی تھی۔تاہم، پہلے 4 مہینوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں محصولات میں 25 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    پنجاب حکومت نے ایک استعفیٰ مانگا، 31 استعفے آ گئے

    خیبرپختونخوا، اسکولوں میں موسم سرما کی چھٹیوں میں توسیع

    مراد علی شاہ کا غیر ملکی سیاحوں سے لوٹ مار کا نوٹس

  • پاکستان کو اپنی نیٹ انٹرنیشنل انویسٹمنٹ پوزیشن مضبوط کرنا ہوگی، آئی ایم ایف

    پاکستان کو اپنی نیٹ انٹرنیشنل انویسٹمنٹ پوزیشن مضبوط کرنا ہوگی، آئی ایم ایف

    اسلام آباد: آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہےکہ پاکستان مصنوعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم نہ دکھائے، پاکستان کو اپنی نیٹ انٹرنیشنل انویسٹمنٹ پوزیشن مضبوط کرنا ہوگی، پاکستان کو بیرونی ذمہ داریاں کم کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کے کرنٹ اکاؤ نٹ میں عدم توازن کا خطرہ بڑھ رہا ہے،درآمدی پابندیوں کی وجہ سے شرح تبادلہ میں لچک کم ہورہی ہے، شرح تبادلہ کی ناکافی لچک سے کرنٹ اکاؤنٹ میں عدم توازن بڑھ رہا ہے۔

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان پرمجموعی قرض کی ادائیگیوں کی بڑی ذمہ داریاں ہیں، درآمدی پابندیوں کے لیے اضافی پالیسی ایڈ جسٹمنٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے ،2023 میں پاکستان کی نیٹ انٹرنیشنل انویسٹمنٹ پوزیشن131 ارب ڈالر تھی، مالی سال 2019 سے 2022 تک اوسطاً پوزیشن 116 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے قافلے میں ہیلی کاپٹر مشرقی آذربائیجان میں …

    آئی ایم ایف کے مطابق 2023 میں پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری 28.8 ارب ڈالر رہی، پاکستان کی نیٹ پورٹ فولیو سرمایہ کاری9.3 ارب ڈالرریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ میں معمولی سرپلس ہوا، دوسری سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ میں200 ملین ڈالرکا سرپلس ریکارڈ ہوا، اس دوران برآمدات میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا، بقیہ دو سہ ماہیوں کے دوران درآمدات میں اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے، رواں مالی سال پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس جی ڈی پی کا 0.8 فیصد رہےگا۔

    نواز شریف کا سیاسی ڈیرہ کامیاب ؟ تجزیہ ؛ شہزاد قریشی

  • حکومت کا کام کاروبارکرنا نہیں بلکہ نجی شعبے کو سازگار ماحول کی فراہمی ہے، وزیراعظم

    حکومت کا کام کاروبارکرنا نہیں بلکہ نجی شعبے کو سازگار ماحول کی فراہمی ہے، وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت کا کام کاروبارکرنا نہیں بلکہ نجی شعبے کو سازگار ماحول کی فراہمی ہے، ماضی کی کوتاہیوں سےسبق سیکھتے ہوئےہمیں آگے بڑھناہے مہنگے تیل سے بجلی کی پیداوارکو بتدریج ختم کرنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ٹیکس ایکسی لینس ایوارڈز کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ٹیکس دہندگان اوربرآمد کنندگان کومبارکباد پیش کرتاہوں معاشی سیکٹر اور حکومت ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں، مضبوط معیشت والوں کی آواز ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے، فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنا ہوگی، جبکہ نجی شعبے کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ شکر ہے آج رمضان ہے ورنہ قرض کے پیسوں کی چائے آپ کو پلاتے، ہم قرضے لے کر پروجیٹ کر رہے ہیں، قرضے لے کر تنخواہیں ادا کر رہے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ گروتھ بھی کرنی ہے، آئی ایم ایف کا پروگرام استحکام کیلئے ہےآئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور پروگرام کرنا ہے اس کے بغیر گزارا نہیں ہےہمیں لوگوں کو نوکریاں دینی ہیں، مہنگائی کا تدارک کرنا ہے-

    آئی جی پنجاب کو ایوارڈ ملنے پر یاسمین راشد نے جیل سے خط لکھ …

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ آئی ایم ایف کےساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے اگلے ماہ قسط مل جائے گی، آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور پروگرام کرنا ہے اس کے ساتھ گروتھ بھی کرنی ہے، 16ماہ کی حکومت میں ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،آئی ایم ایف کا پروگرام استحکام کیلئے ہے،ایئرپورٹس کو آؤٹ سورس کررہے ہیں۔

    وزیر اعظم نے ایف بی آر سے متعلق کہا کہ ایف بی آرکوڈیجیٹائزکیاجائے گا، 2700 ارب روپےکے محصولات سے متعلق مقدمات زیرالتوا ہیں، محصولات کاہدف 9 کھرب روپے ہے، منفرد ٹیکس پالیسی لانا ہوگی، قرضوں کے پہاڑ کو ختم کرنا ہوگا، صنعت،زراعت اور آئی ٹی کو فروغ دینا ہوگا، نوجوان ہماراقیمتی اثاثہ ہیں، انہیں ہنرمند بنانا ہوگا، قرضے لے کرتنخواہیں دی جا رہی ہیں۔

    بشریٰ بی بی کیلئے اصل سکیورٹی تھریٹ بنی گالہ میں ہے،وکیل سلمان صفدر

    فلسطین سے متعلق وزیر اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل سیکورٹی کونسل میں اس بربریت کیخلاف قرارداد منظورہوئی، اقوام متحدہ میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد خوش آئندہے غزہ جنگ بندی کی قرارداد پرعمل درآمد انتہائی ضروری ہے،غزہ میں اسرائیلی مظالم پرعالم السلام اشکبارہے ، وزیر اعظم نے ایک بار پھر فلسطین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست تک پاکستان حمایت جاری رکھے گا۔

    مریم نواز کا پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کمپلکس کی تکمیل میں تاخیر …

  • آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ

    عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے پاکستان سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور استعداد کار میں بہتری لانے کا مطالبہ کردیا ہے اور آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے ایک بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور استعداد کار میں بہتری لا کر مستحکم گروتھ حاصل کی جا سکتی ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب انتہائی کم ہے، ملک میں امیر طبقے پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈکپ کے لئے کمینٹیٹرز کے پینل کا اعلان
    سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی نہیں بنائی جائے گی,محسن نقوی

    علاوہ ازیں آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسی مانیٹری پالیسی کی ضرورت ہے جس سے مہنگائی میں کمی ہو سکے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں آئی ایم ایف معاہدے کا مقصد پاکستان کی معیشت میں استحکام لانا ہے تاکہ مزید بہتری لائی جاسکے۔

    یاد رہے گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع نہ کرنےکا فیصلہ کیا تھا اور ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرانےکی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے، اب تک 17 لاکھ سے زیادہ افراد ٹیکس گوشوارے جمع کراچکے ہیں۔
    جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ 30 ستمبر تک انکم ٹیکس گوشوارے 20 لاکھ سے تجاوز کرنےکا امکان ہے۔ تاہم حکام کے مطابق متعلقہ کمشنر کو پیشگی درخواست دینے پر آخری تاریخ میں سہولت دی جاسکتی ہے، ٹیکس دہندہ کی جانب سے درخواست دینے پر 15 روز اضافی دیے جاسکتے ہیں۔