Baaghi TV

Tag: ائی ایم ایف

  • پاکستان کی بیرونی فنانسنگ، آئی ایم ایف  کا91 ارب ڈالر کا ہوشربا تخمینہ

    پاکستان کی بیرونی فنانسنگ، آئی ایم ایف کا91 ارب ڈالر کا ہوشربا تخمینہ

    آئی ایم ایف نے جولائی 2023 سے 2026 کے مالی سال تک پاکستان کی مجموعی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت کے ہوش ربا اعداد و شمار کا تخمینہ لگایا ہے جو 91.536 ارب ڈالرکا ہے۔

    دی نیوز کے مابق یہ تخمینہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کو بار بارآئی ایم ایف کے پاس بیل آوٹ پیکج کے لیے جانے کی ضرورت ہوگی ۔ بالخصوص مارچ 2024 میں جب 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی معیاد ختم ہو گی،جہاں تک ایس بی اے کی بات ہے تو یہ صرف ایک خلا کو کچھ دیر کےلیے پرکرنے کا انتظام ہے اور پاکستان میں انتخابات جیت کرآنے والی نئی حکومت کو ایک اور درمیانے مدت کے انتظام کیلئے تگ و دو کرنا ہوگی۔

    ایک اعلیٰ ذریعے کا کہنا ہے کہ موجودہ اسٹینڈ بائی پروگرام کی مدت میعاد پوری ہونے پر پاکستان کے پاس ایک اور تین سالہ درمیانی مدت کے پروگرام کےلیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگاموجودہ جاری خسارےکا کھاتہ آئندہ تین سال کےلیے 6 سے 7 ارب ڈالر کی رینج میں روکا جاسکتا ہے اور اس طرح اس مد تین سال کےلیے مجموعی رقم 20.6 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوگی تو گویا درآمدات کو دبانے کا سلسلسہ جاری رہنے والا ہے۔

    پاکستان کوآئی ایم ایف فنڈنگ کےعلاوہ اضافی فنانسنگ درکارہوگی،ریٹنگ ایجنسیز

    آئی ایم ایف کی ورکنگ نے تخمینہ لگایا ہے کہ ملک کی درآمدات2023 او 24 کے درمیان 64.109 ارب ڈالر2024-25 کے درمیان 64.9 ارب ڈالراور2025-26 کے دوران 71.115 ارب ڈالر رہے گی جب کہ اسی عرصے کے دوران ملک کی برآمدات بالترتیب 30.8 ارب ڈالر ، 31.14ارب ڈالر اور 35.8 ارب ڈالر رہیں گی اس تین سالہ مدت کےدوران جاری کھاتوں کے خسارے کا مجموعی تخمینہ 20.618 ارب ڈالر ہےمتفقہ تخمینوں کے مطابق آئی ایم ایف اسٹاف اور پاکستانی حکام نے دکھایا ہے کہ سال 2023-24 کے درمیان پاکستان کی فنانسنگ ضروریات 28.409 ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہیں۔

    میں اپنے دل سے مٹاؤں گی تیری یاد مگر، تو اپنے ذہن سے پہلے نکال …

  • پاکستان کوآئی ایم ایف فنڈنگ کےعلاوہ اضافی فنانسنگ درکارہوگی،ریٹنگ ایجنسیز

    پاکستان کوآئی ایم ایف فنڈنگ کےعلاوہ اضافی فنانسنگ درکارہوگی،ریٹنگ ایجنسیز

    آئی ایم ایف معاہدے کے باوجود بین الاقومی ریٹنگ ایجنسیز موڈیز اور فچ نے پاکستانی معیشت پر خدشات کا اظہار کیا ہے-

    موڈیز اورفچ کا کہنا ہےکہ کرتےہوئے کہا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی اور معاشی بحالی کیلئے پاکستان کو آئی ایم ایف فنڈنگ کے علاوہ اضافی فنانسنگ درکار ہوگی پاکستان کو رواں مالی سال میں 25 ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کرنا ہے، قرض ادائیگیوں کی رقم پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر سے 7 گنا زیادہ ہے-

    موڈیز اورفچ کا کہنا ہےکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دوبارہ بڑھنے کی صورت میں آئی ایم ایف فنڈنگ ناکافی ہوگی، پاکستان نے آئی ایم ایف معاہدے کیلئے ٹیکسزمیں اضافہ کیا اور اخراجات میں کمی کی، اس کے علاوہ پاکستان نے معاہدے کیلئے شرح سود بھی بڑھا کر تاریخ کی بلند سطح پر کردی ہے۔

    میں اپنے دل سے مٹاؤں گی تیری یاد مگر، تو اپنے ذہن سے پہلے نکال …

    موڈیز کا کہنا ہے کہ 9 ماہ کے پروگرام میں پاکستان کو آئی ایم ایف کا مکمل 3 ارب ڈالر فنڈ ملنا غیریقینی ہے۔ پاکستان کو دوطرفہ اور کثیرا لاقوامی شراکت داروں سے ملنے والی مالی امدادبھی متاثرہوسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 12 جولائی 2023 کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والا ہے جس میں دستخط شدہ ایل او آئی کےذریعے 3 ارب ڈالرز کےقلیل مدتی بیل آؤٹ پیکج کی منظوری اور1 ارب ڈالرزکی قسط جاری کرنےکےلیے پاکستان کی درخواست پر غور کیا جائے گا یہ 1 ارب ڈالرز کی قسط فنڈ کے ایگز یکٹیو بورڈ سے قرضہ پیکج کی منظوری کے بعد اگلے چند دنوں میں ادا کر دی جائے گی۔

    اس جدید دور میں مذہبی جذبات کی توہین کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے،صادق سنجرانی کا …

    آئی ایم ایف کا عملہ پہلے ہی ایگزیکٹو بورڈ کے ممبران میں ایل او آئی کی کاپیاں بھیج چکا ہے جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور گورنر اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اور توانائی کے شعبوں میں اہم اصلاحات کرنے کی یقین دہانی کرائی تاکہ مالیاتی کھاتوں کی خرابیوں پر قابو پایا جا سکے۔

  • پاکستان کو قرض کی منظوری،آئی ایم ایف  کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آئندہ ہفتے ہو گا

    پاکستان کو قرض کی منظوری،آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آئندہ ہفتے ہو گا

    پاکستان کے قرض معاہدے کی منظوری کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 12 جولائی کو ہوگا۔

    باغی ٹی وی: آئی ایم ایف حکام کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو قرض کی پہلی قسط جاری کی جائےگی پاکستان کو دی جانے والی پہلی قسط کا حجم ایک اعشاریہ ایک (1.1) ارب دس کروڑ ڈالر ہوگا۔

    آئی ایم ایف اعلامیہ کے مطابق معاہدہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم کرے گا جس سے سماجی شعبے کے لیے فنڈز کی فراہمی بہتر ہوگی جب کہ پاکستان ٹیکسز کی آمدن بڑھائےگا ٹیکس کی آمدن بڑھنے سے عوام کی ترقی کے لیے فنڈنگ بڑھ سکےگی، معاہدہ پاکستان میں مالی نظم و ضبط کا باعث بنےگا جس سے توانائی کی اصلاحات یقینی بنائی جائیں گی جب کہ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کے حساب سے مقرر کیا جائےگا۔

    ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ کمی

    واضح رہےکہ 30 جون کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا ہےیہ تین ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس 12 جولائی کو بلائے جانے کی پہلے ہی تصدیق کرچکے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط تسلیم کرلی،پاکستان کو آئندہ مالی سال کے لیے 12 جولائی کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے قبل گیس کی قیمت فروخت میں 45 تا 50 فیصد اور بجلی کےنرخ میں ساڑھے3 سے 4 روپےفی یونٹ تک اضافہ کرنا ہوگا۔

    آئی ایم ایف کی ایک اور شرط تسلیم، گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ

  • آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی

    آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی

    آئی ایم ایف کی 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی، 600 ارب کے اضافی ٹیکس کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ٹریلین (دو ہزار ارب) روپے کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی اور فنڈ کا سخت اضافی ٹیکس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بنیادی خسارے پر کوئی مالیاتی تاخیر نہیں، آئی ایم ایف کا منی بجٹ کے ذریعے 600 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا مطالبہ، پاکستانی حکام کا عدم اتفاق، پاکستان نے آئی ایم ایف سے سیلاب کے اخراجات کے لیے 500 ارب روپے کی معافی کی درخواست کردی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈ کا GDP کے 0.2 فیصد کے بنیادی خسارے کے ہدف کو ایک ٹریلین روپے کے مارجن سے شگاف ڈالنے کا تخمینہ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اپنی ابتدائی تشخیص میں 2022-23 کے بجٹ کے تخمینے میں 2000 ارب روپے سے زیادہ کی خلاف ورزی کا پتا چلا ہے جس کے نتیجے میں بجٹ خسارے اور بنیادی خسارے کے اہداف بڑے مارجن کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مذاکرات کے تنازہ کا بڑا حصہ مالیاتی گراوٹ اور اعداد و شمار کی مفاہمت ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت آئی ایم ایف پاکستانی حکام سے منی بجٹ کے ذریعے 600 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کے اقدامات کرنے کا کہہ رہا ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے اس سے بالکل اتفاق نہیں کیا اور دلیل دی کہ بنیادی خسارہ اس حد تک بالکل نہیں بڑھے گا۔ اب ایسے شعبے درج ہیں جہاں دونوں فریقوں کے مختلف خیالات ہیں اور دونوں فریقین کو 9 فروری 2023 تک عملے کی سطح کے معاہدے کی جانب بڑھنے کے لیے اختلافات کو دور کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ موجودہ مالی سال 2022-23 کے بنیادی خسارے کے حصے کے طور پر فنڈ کے ساتھ طے شدہ حد سے زیادہ پاکستان کے نقصان میں جانے والے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے میں اضافہ کو شامل کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    دریں اثناء پاکستان نے رواں مالی سال 2022-23 کے بجٹ خسارے خاص طور پر بنیادی خسارے کا حساب لگانے کے لیے آئی ایم ایف سے سیلاب کے اخراجات کے لیے 500 ارب روپے کی معافی کی درخواست کی ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف نے اب تک اس کا حساب لگایا ہے کہ جی ڈی پی کے 0.2 فیصد کے بنیادی خسارے کے ہدف کو ایک ٹریلین روپے سے زیادہ کے بڑے مارجن کے ساتھ شگاف ڈالا جائے گا۔

  • پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی مد میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر مل گئے

    پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی مد میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر مل گئے

    پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی مد میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر مل گئے۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو IMF کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت مشترکہ ساتویں اور آٹھویں جائزے کو مکمل کرنے کے بعد ایک ارب 16 کروڑ ڈالر کی رقم مل گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے قرض ملنے سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے، اس کے ساتھ کثیر جہتی اور دو طرفہ ذرائع سے دیگر رقوم کی وصولی میں بھی مدد ملے گی۔


    آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 29 اگست کو ساتویں اور آٹھویں اقتصادی جائزے کی منظوری دی تھی۔

  • آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

    آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

    کراچی: اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے-

    باغی ٹی وی : قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے ایس بی پی پوڈ کاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو اتنا آسان نہ لیا جائے۔


    انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) حکام تمام اقدامات سے مطمئن ہیں، اسٹاف لیول معاہدے سے بورڈ میٹنگ میں بڑی آسانی ہوتی ہے ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کو پیسے مل جائیں گے۔

    دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر مرتضیٰ سید نےای میل پر جواب میں بتایا کہ آئی ایم ایف کےساتھ جاری پروگرام کےسبب ہماری اگلے 12 مہینوں کی مالی سال 23-2022 کے لیے 33.5 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت پوری ہو چکی ہےجبکہ مالی صورت حال کے حوالے سے مارکیٹ کے غیر ضروری خدشات چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ اسٹاف لیول معاہدے کا اگلا جائزہ اجلاس پاکستان کو کمزور ممالک کی فہرست سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا جبکہ زیادہ تر ممالک کو آئی ایم ایف کی حمایت حاصل نہیں۔

    انہوں نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے قرضوں کی صورتحال جو مارکیٹوں کےلیے اہم نقطہ ہے،اس کی صورتحال قرضوں والے دیگر کمزور ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے،پاکستان پر بیرونی قرضے کم ہیں،پریزینٹیشن میں پاکستان کی صورتحال کا موازنہ حال ہی میں دیوالیہ ہونے والے سری لنکا سےکرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی بیرونی دباؤ آیا پاکستان نےزری پالیسی کو سخت کردیا اور روپے کی قدر کم کرنے کی اجازت دی۔

    ہمیں امید ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں حقیقت ظاہر ہو جائے گی اور پاکستان کے حوالے سے غیر ضروری خدشات ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا کی مالی صورت حال زیادہ خراب ہے۔

  • ڈالرکی پھراونچی پرواز،معاشی حالات پریشانی کا سبب بننے لگے

    ڈالرکی پھراونچی پرواز،معاشی حالات پریشانی کا سبب بننے لگے

    کراچی: انٹربینک / ڈالر مزید مہنگا اور روپیہ کمزور، ڈالر کی قدر میں مزید 2 روپے 44 پیسے کا اضافہ ہو گیا۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 202 روپے کی سطح سے تجاوز کرگیا، ڈالر 200.06 سے بڑھ کر 202.50 روپے کا ہوگیا ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 204.50 سے زائد کا ہو گیا ہے۔

    گزشتہ روز پیٹرول کی ڈبل سنچری کے بعد ڈالر کی بھی دوبارہ ڈبل سنچری ہو گئی تھی، انٹربینک میں ڈالر 2.38 پیسے مہنگا ہونے کے بعد انٹربینک میں ڈالر 200.30 کا ہوگیا تھا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 201 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔

    سات جون بروز منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں بھونچال آگیا اور ڈالر3روپے 94پیسے مہنگا ہوا تاہم دن کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر 202.83 روپے کا ہوگیا۔

    اس سےقبل انٹربینک میں ڈالر تاریخ میں پہلی بار204روپے کا ہوا۔اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 3.50 روپے کے اضافے سے 204.50 روپے کی سطح پر پہنچ گیا جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

    اس سے قبل 6 جون کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 2 روپے 14پیسے اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 200 روپے 6 پیسے ہوگئی تھی۔

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی قدر اور سونے پر سرمایہ کاری بڑھنے کی وجہ سے ملک میں سونے کے بھاؤ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    منگل کے روز بین الاقومی مارکیٹ میں فی اونس سونا 5 ڈالر کمی کے بعد ایک ہزار 849 ڈالر ہوگیا تاہم عالمی مارکیٹ کے برعکس مقامی صرافہ بازار میں سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا مزید ایک ہزار 250 روپے مہنگا ہوکر ایک لاکھ 43 ہزار 250 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونے کی قیمت ایک ہزار 72 روپے بڑھ کر ایک لاکھ 22 ہزار 814 روپے ہوگئی.

    ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر،اوپن مارکیٹ میں ڈالر205 روپے کا ہو گیا

    سونے کے مقابلے میں چاندی کے بھاؤ میں استحکام دیکھا گیا اور منگل کو فی تولہ چاندی ایک ہزار 570 جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت ایک ہزار 346 روپے رہی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر پاکستانی روپے پر دباؤ برقرار رکھے گا۔ آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے قرض کی وصولی کی واضح صورت حال تک ڈالر کی قدر میں نمایاں گراوٹ مشکل نظرآرہی ہے۔

    وفاقی کابینہ کی چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری

    ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالرکے بڑھنے اورروپے کی قدر گرنے میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ امپورٹس کی وجہ سے بہت دباو ہے،دوسری وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ایک بڑی وجہ ہے

    ماہرین معیشت کا کہنا ہےکہ تیل کےلیے ایڈوانس پے منٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ماہ جون میں ادائیگیوں کا حجم بھی بڑھ گیا ہے جوپاکستانی روپے پر بہت دباوکی صورت حال اختیار کرگیا ہے

    چین نے دوستی کا حق ادا کر دیا، پاکستان کا 2 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض ری فنانس

    اس کے ساتھ ساتھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ عالمی کساد بازی بھی پاکستان معاشی بدحالی کا سبب بن رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ڈالراب پھربڑی تیزی کے ساتھ اوپر کو جارہا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے لیے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے کی بے قدری بھی پاکستانی معیشت کے لیے ایک خطرناک مسئلہ ہے

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بڑی تیزی سے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے

    یہ بھی کہا جارہاہے کہ عالمی سطح پر سفرکرنے کے حوالے سے ڈالرکا استعمال بھی ایک وجہ ہے اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف اور چین سے ملنے والی رقم کی تاخیر ہے جس کے ملنے کی صورت میں‌معاملات میں وقتی طور پرحالات کے بہتر ہونے کی امید ہے

  • ڈالرنے ترکی کی کرنسی کا ستیاناس کرکے رکھ دیا:”لیرا”لیراں لیراں ہوگیا:

    ڈالرنے ترکی کی کرنسی کا ستیاناس کرکے رکھ دیا:”لیرا”لیراں لیراں ہوگیا:

    انقرہ :ڈالرنے ترکی کی کرنسی کا ستیاناس کرکے رکھ دیا:”لیرا”لیراں لیراں ہوگیا:،اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کا دعویٰ کرنے والا مسلم ملک اب پھرآئی ایم ایف کی گود میں جاگرا ، ادھرتازہ ترین اطلاعات میں کہا گیا ہےکہ ترکی میں بھی ڈالر کی اڑان بے لگام ہوگیا ہے اور لیرا مزید سات فیصد گرگیا کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو بھی ترکی کی کرنسی لیرا ڈالر کے مقابلے میں سات فیصد سے زائد گرگئی جس کے بعد لیرا کی قدر چودہ اعشاریہ تینتیس تک ریکارڈ کی گئی۔

    ادھر انقرہ سے آنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو بھی ترکی کی کرنسی لیرا ڈالر کے مقابلے میں سات فیصد سے زائد گرگئی جس کے بعد لیرا کی قدر چودہ اعشاریہ تینتیس تک ریکارڈ کی گئی۔ لیرا کی بے قدری کو روکنے کیلئے ترکی کے مرکزی بینک کو مداخلت کرنا پڑگئی جس کے بعد دو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں لیرا کو مزید گرنے سے بچالیا گیا۔

    دن بھر کاروبار کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر چودہ کے بعد ایک نئی نچلی سطح پر گر گئی۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق پہلے دن میں 14.99 کی ریکارڈ کم ترین سطح سے تھوڑی ریکوری ہوئی اور کرنسی 14 کو عبور کرکے گرین بیک تک پہنچ گئی۔ واضح رہے کہ لیرا کی گراوٹ کے باعث ترکی کے مرکزی بینک نے اعلان کیا تھا کہ وہ غیرملکی کرنسی کی مارکیٹ میں براہ راست مداخلت کو روکنے اور لیرا کو بڑھانے کیلئے ڈالر فروخت کرے گا۔