Baaghi TV

Tag: ارشد شریف

  • صحافی ارشد شریف کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا اقدام

    صحافی ارشد شریف کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا اقدام

    اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے صحافی ارشد شریف کی درخواست آج رات سماعت کیلئے مقرر کردی ہے۔

    اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق صحافی ارشدشریف کی پٹیشن پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم جاری کردیا ہے، جس کے مطابق عدالت نے صحافی ارشد شریف کو رات ساڑھے 11 بجے پیش ہونے کا کہا ہے۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی ہے کہ وہ ارشد شریف کی حاضری میں معاونت کریں۔

    خیال رہے کہ اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف حیدر آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمہ ریاستی اداروں کےخلاف گفتگو کرنے کے تحت درج کیا گیا، پولیس نے بتایا کہ طیب حسین نامی نوجوان نے گزشتہ روزمقدمہ درج کرایا ہے۔

    ارشد شریف کے خلاف مقدمہ پر پی ایف یوجے کے سابق صدر افضل بٹ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ایف آئی اےکےتحت پرچہ درج ہوا تو قانون کی خلاف ورزی ہے، کسی بھی ادارے، شخص کو صحافیوں کی رائے کو دبانےکا اختیارنہیں۔

    ارشد شریف پر مقدمے کیخلاف صحافیوں کا بھرپور احتجاج.اطلاعات کے مطابق نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز سے منسلک سینئر صحافی ارشد شریف پر مقدمہ درج ہونے کے خلاف صحافیوں نے بھرپور احتجاج کیا ہے۔

    لاہور میں احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں صحافیوں اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عالیہ حمزہ نے شرکت کی۔ انہوں نے ارشد شریف کے خلاف مقدمہ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    رہنما پی ٹی آئی عالیہ حمزہ نے کہا کہ اے آر وائی پر پابندیوں کے خلاف پی ٹی آئی سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوگی، حکومت کی پی ٹی آئی سے کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ شہید باپ اور شہید بھائی کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، ہم ارشد شریف اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، رانا ثنا للہ چوڑیاں پہن لیں، کل تک مریم اور رانا ثنا اللہ خواتین کے حقوق کی بات کر رہے تھے۔عالیہ حمزہ نے کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری ریاستی غندہ گردی ہے۔

    صحافی افضل بٹ نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یاد کریں جنگ کے دفتر کو آگ مسلم لیگ (ن) نے لگائی تھی، آئیں اور اس تحریک کا حصہ بنیں، پارٹی بننا ہے تو صحافیوں اور پاکستان کی بنیں۔

  • اداروں کیخلاف تنقید:ارشد شریف پر مقدمہ درج

    اداروں کیخلاف تنقید:ارشد شریف پر مقدمہ درج

    حیدرآباد:ارشد شریف پر مقدمہ درج ،اطلاعات کے مطابق نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ "ریاستی اداروں کے خلاف گفتگو” کرنے کے تحت درج کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ، مقدمہ حیدرآباد کےتھانہ بی سیکشن میں درج کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ ریاستی اداروں کےخلاف گفتگو کرنے کے تحت درج کیاگیا، پولیس نے بتایا کہ طیب حسین نامی نوجوان نے گزشتہ روزمقدمہ درج کرایا ہے۔

     

     

    ارشد شریف کے خلاف مقدمہ پر پی ایف یوجے کے سابق صدر افضل بٹ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ایف آئی اےکےتحت پرچہ درج ہوا تو قانون کی خلاف ورزی ہے، کسی بھی ادارے، شخص کو صحافیوں کی رائے کو دبانےکا اختیارنہیں۔

    صحافتی اداروں اور تنظیموں نے اس مقدے کے اندراج کے خلاف احتجاج کیا ہے، یاد رہے کہ ایف آئی آر کی کاپی میں ارشد شریف کا نام تک صحیح نہیں لکھا۔

    پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج کرتے وقت دیکھنا چاہیے کہ کس نام سے درج کررہے ہیں، اگراپ کوکسی میڈیا ادارے اور صحافی پراعتراض ہے تو شکایت لکھ کردیں۔

    ماہر قانون ابوذر سلمان نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایف آئی آر کے متن میں 3پینل کوڈ کے سیکشن لگائے گئے ہیں، میں نے ایف آئی آر کا متن دیکھاہے، مسئلہ ایف آئی آر سے نہیں اس کےطریقہ کار سے ہے۔

    ابوذر سلمان نے مزید کہا کہ دفعات کی سزا 7 سے 10سال تک ہے، ضروری ہےکہ پہلے معاملے کی انکوائری کی جائے، مدینہ منورہ واقعے میں 15 سے 20 ایف آئی آردرج ہوئی تھی، سندھ پولیس نےایف آئی آرکاٹی ہے، پولیس اور سندھ حکومت کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

    ماہر قانون کا کہنا تھا کہ ارشد شریف نے اپنی طرف سے کوئی چیزبیان نہیں کی، ارشد شریف نے تاریخ بیان کی، ان کیخلاف ایف آئی آرشرمناک حرکت ہے، ایسی ایف آئی آرکاٹی گئیں توکوئی انوسٹی گیٹو جرنلزم نہیں کرے گا۔

  • عدلیہ پرتنقید:عدالت نے اےآروائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا

    عدلیہ پرتنقید:عدالت نے اےآروائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا

    اسلام آباد :عدلیہ پرتنقید :عدالت نے اےآروائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے سینیئر اینکر ارشد شریف کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے حوالے سے عدالت نے اے آر وائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا ہے ، اور کہا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 19 اے کی کے استعمال کے حوالے سے اپنے ادارے کی پالیسی وضح کریں

    اس سے پہلے جمعے کے روز اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’ایک بیانیہ بنا دیا گیا کہ عدالتیں کھلیں، عدالتیں کھلیں گی اور کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ ’ارشد شریف کی پٹیشن کاغذ کا ایک ٹکڑا تھی مگر ہم نے سنا۔ آپ کہتے ہیں اس رات عدالت کیوں کھلی، کیا آپ کا چینل آئین کو عدالت سے بہتر سمجھتا ہے۔‘چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ معاملہ آئین یا کسی پسے ہوئے طبقے کا ہو تو عدالتیں رات تین بجے بھی کھلیں گی۔

    واضح رہے کہ جمعرات کو صحافی ارشد شریف کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو ارشد شریف سمیت کسی بھی صحافی کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئے ڈی جی ایف اے اور آئی جی اسلام آباد کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

    جمعے کو دوران سماعت ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے ارشد شریف کے خلاف نہ تو کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی کوئی انکوائری کی ہے جبکہ اس حوالے سے تحریری وضاحت بھی جاری کر دی گئی ہے۔’معاملہ آئین یا کسی پسے ہوئے طبقے کا ہو تو عدالتیں رات تین بجے بھی کھلیں گی‘

    دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اے آر وائی نیوز پر کاشف عباسی کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے ارشد شریف کے وکیل فیصل چوہدری سے پوچھا کہ ’کیا آپ نے کاشف عباسی کا پروگرام دیکھا؟‘’پروگرام میں حقائق کی تصدیق کے بغیر کیا کچھ کہا گیا، انھوں نے کہا کہ عدالت رات کو کیوں کھلی؟ عدالت سے عوام کا اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ ’ایک بیانیہ بنا دیا گیا کہ عدالتیں کھلیں، عدالتیں کھلیں گی اور کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

  • کیا آپکا چینل عدالتوں سے زیادہ آئین کو سمجھتا ہے.سیاسی بیانیوں سے ہمیں فرق نہیں پڑتا،.عالت

    کیا آپکا چینل عدالتوں سے زیادہ آئین کو سمجھتا ہے.سیاسی بیانیوں سے ہمیں فرق نہیں پڑتا،.عالت

    12 بجے عدالت کیوں کھلی؟ قیدیوں کی وین کیوں آئی ؟ اہم راز سے پردہ اٹھ گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ،صحافی ارشد شریف کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے چینل پر کاشف عباسی کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ کہا گیا کہ عدالتیں کیوں کھولی گئیں، کونسا آرڈر سپریم کورٹ نے جاری کیا جس سے کسی کو مسئلہ ہوا؟کیا لوگوں کا اعتماد عدالتوں پر سے ختم کرنا چاہتے ہیں؟ عدالتیں کیوں کھولیں ایک بیانیہ بنا دیا گیا ہے،عدالتیں کھلیں کیونکہ کسی کو آئین توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے، سپریم کورٹ نے اس روز کونسا آرڈر پاس کیا؟ آپکا چینل اس دن کہہ رہا تھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،جو درخواست دائر ہوئی تھی وہ اگلے روز جرمانے کے ساتھ خارج ہو گئی تھی،کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ عدالت اہم نوعیت کے معاملات کو نہ دیکھے،یہ عدالت تنقید سے نہیں گھبراتی لیکن عوام کا اعتماد ختم کیا جا رہا ہے،

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اے آر وائی نیوز کے رپورٹر کو روسٹرم پر بلا لیا ،اور استفسار کیا کہ کیا آپ نے ہائیکورٹ کی پریس ریلیز اپنے ادارے سے شیئر نہیں کی تھی؟ رپورٹر نے عدالت کو جواب دیا کہ میں نے ادارے کو آگاہ کر دیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مطیع اللہ جان والے معاملے پر اس عدالت نے کس وقت آرڈر کیا تھا؟ اگر رات کو ارشد شریف کو کوئی اٹھائے تو یہ عدالت کیس نہ سنے؟آپکو اس عدالت کو جواب دینا ہو گا کہ یہ مہم کیوں چلائی جا رہی ہے؟ سپریم کورٹ نے واضح پیغام دیا کہ کسی کو آئین توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، عدالتیں بول نہیں سکتیں تو انکے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے،کیا آپکا چینل عدالتوں سے زیادہ آئین کو سمجھتا ہے ؟جھوٹ کے اوپر ایک بیانیہ بنا دیا گیا ہے، عدالتیں کھل گئیں،ہم تنقید سننے کو تیار ہیں لیکن اس طرح تو نہ کریں،عدالت نے پسے ہوئے طبقے کی درخواستیں عدالتی اوقات کے بعد بھی سنی ہیں، اگر آئین یا پسے ہوئے طبقے کا کوئی معاملہ ہو تو عدالتیں 3 بجے بھی کھلیں گی، اس عدالت کا گزشتہ 3 سال کا ریکارڈ اٹھائیں،آپکے چینل نے مسنگ پرسنز اور بلوچ طلبہ پر کتنے پروگرام کیے؟ یہ عدالت مسنگ پرسنز اور بلوچ طلبہ کے مسائل سنتی ہے، یہ پہلی بار نہیں ہے کبھی ایک شروع ہو جاتا ہے کبھی دوسرا،ہم نے حلف لیا ہوا ہے ان سیاسی بیانیوں سے ہمیں فرق نہیں پڑتا،یہ کام نہ کریں یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کونسا آرڈر پاس کیا جو تنقید کی جا رہی ہے،افضل بٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ نے ایسا کوئی آرڈر نہیں کیا تھا، سلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کے بارے میں جس طرح کی باتیں ہوتی ہیں، اس لیےکہ وہ جواب نہیں دے سکتے،یہاں پر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے، میں ہائیکورٹ کے رپورٹر کو کریڈٹ دیتا ہوں وہ زبردست کام کرتے ہیں،سیاسی بیانیوں کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد ختم کیا جا رہا ہے،9اپریل کو اس عدالت نے کوئی بھی درخواست انٹرٹین نہیں کی،اگلے روز ایک لاکھ جرمانے کے ساتھ مسترد کی، صحافیوں کو اس شہر میں گولیاں ماری گئیں دن دیہاڑے اٹھایا گیا،کیا عدالت نے جرم کیا کہ انکی درخواستیں سنیں یا ارشد شریف کی سن رہے ہیں،ایک چیف جسٹس نہایت اہم نوعیت کا کیس کسی بھی وقت سن سکتا ہے،2019میں نوٹیفکیشن نکالا کہ اہم کیسز عدالتی اوقات کے بعد بھی سنے جائیں گے،میں نے کہا کہ اہم نوعیت کی درخواست آئے گی تو وہ مجھ تک ضرور پہنچے گی، پھر یہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ ہم کسی کے کہنے پر رات کو بیٹھے تھے کیا کوئی ہمیں اپروچ کرنے کی جرات بھی کر سکتا ہے؟ اس بیانیے کو عدالتوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، کیا یہ بیانیہ اس دن سے نہیں چل رہا کہ عدالتیں رات کو کھلیں،افسوس ناک ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا،اگر 4 جولائی 1977 کو عدالتیں بیٹھی ہوتیں تو آج تاریخ مختلف نہ ہوتی، 12اکتوبر 1999 کو عدالتیں بیٹھی ہوتیں تو کیا تاریخ مختلف نہ ہوتی؟

    ارشد شریف نے کہا کہ ہم مسنگ پرسنز کا ایشو اٹھانا چاہتے ہیں لیکن نامعلوم لوگوں کی جانب سے روکا جاتا ہے، ہم یہ معاملہ اٹھانا چاہتے ہیں لیکن غیراعلانیہ سنسر شپ ہے اور دھمکیاں ملتی ہیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے 9 اپریل کی رات بڑا واضح موقف دیا ہے،عدلیہ کسی غیرآئینی اقدام کو برداشت نہیں کریگی اور بات ختم،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ارشد شریف اور ان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کا مسئلہ حل ہو گیا؟ وکیل نے کہا کہ کال آئی کہ بوئنگ 777 کی اسٹوری پر کوئی ایکشن لیا جا رہا ہے،انہوں نے مجھے پٹیشن فائل کرنے کا کہا تھا جو میں نے دائر کی،ارشد شریف نے بتایا کہ رات ڈیڑھ بجے بھی گھر کے باہر سادہ کپڑوں میں لوگ موجود تھے، عید آ رہی ہے، ان دنوں میں وکیل سے رابطہ بھی مشکل ہو جاتا ہے،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عید کے دنوں میں بھی کچھ ہوا تو عدالت کھلے گی؟

    ایف آئی اے حکام نے عدالت میں کہا کہ ہم نے کوئی ایکشن نہیں لیا، کوئی انکوائری نہیں کی،ہراساں کرنے کے الزام میں بھی کوئی صداقت نہیں، ہم نے اس متعلق تحریری وضاحت بھی جاری کر دی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 9اپریل کی رات اس عدالت کی صرف لائٹس آن ہوئی تھیں کسی کو کیا مسئلہ ہے؟ شائد آئیسکو کو لائٹس آن ہونے سے کوئی مسئلہ ہوا ہو، فیصل چودھری نے کہا کہ خبریں چلیں کہ قیدیوں کی وین بھی آ گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کی وین اس لیے آئی کہ مظاہرین وہاں آ گئے، ان کے لیے وین آئی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 12 مئی تک ملتوی کر دی

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ ارشد شریف یا کسی بھی صحافی کو ایف آئی اے ہراساں نہ کرے