Baaghi TV

Tag: اسد قیصر

  • مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے،اسد قیصر

    مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے،اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے عمران خان سے مشاورت ناگزیر ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں اسد قیصر نےکہاکہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ایک آئینی اور قانونی ضرورت تھی، لیڈر آف دی اپوزیشن کے بغیر اسمبلی چل نہیں سکتی، لیڈرآف دی ہاؤس اوراپوزیشن کی یکساں حیثیت ہے اور آئین اس پر واضح ہےبانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا، کیا نوازشریف کے بغیر مسلم لیگ ن کچھ فیصلہ کر سکتی ہے؟ کیا آصف زرداری یا بلاول بھٹو کے بغیر پیپلز پارٹی کوئی فیصلہ کرے گی؟ یہ ناسمجھی ہوگی کہ عمران خان سے مشاورت یا ملاقات کے بغیر ہی کوئی فیصلہ ہو۔

    اسدقیصر کا کہنا تھاکہ جب تک ملاقات نہیں ہوگی تب تک کوئی بھی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی، مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے، مائنز اینڈ منرلز سے متعلق بل ہماری سیاسی سوچ اور بیانیہ کے خلاف نہیں ہوگا، ہمارے صوبے کے اختیار سے بڑھ کر کوئی بھی چیز بل میں نہیں ہوگی، صوبے کو کمزور یا پوزیشن کمپرومائز کرنے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوگا جو بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے اسی کے مطابق یہ بل پاس ہوگا ، اگر دائیں بائیں سے کوئی کوشش ہوتی ہے توہم ایسا بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔

  • اسد قیصر کی  جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے فیصلے پر قوم سے معذرت

    اسد قیصر کی جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے فیصلے پر قوم سے معذرت

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اسد قیصر نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے فیصلے کو تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے قوم سے معذرت کر لی۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اسد قیصر نے اعتراف کیا کہ عمران خان کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں جنرل باجوہ کو مدتِ ملازمت میں توسیع دینا غلط فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ایکسٹینشن نہیں دینی چاہیے اور ہم اس فیصلے پر قوم سے معافی چاہتے ہیں۔

    آئندہ کی جنگی صورتِحال میں پاکستان کیطرف سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بھارتی آرمی چیف

    فیلڈ مارشل کا بھارتی دوغلی پالیسیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کا عزم

  • پشاورہائیکورٹ  نےاسد قیصر  کی  گرفتار ی روک دی

    پشاورہائیکورٹ نےاسد قیصر کی گرفتار ی روک دی

    پشاورہائیکورٹ نے پولیس کو پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کو گرفتار کرنے سے روک دیا-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست پر سماعت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی، جس میں اسد قیصر کو حفاظتی ضمانت دے دی گئی عدالت نے اسد قیصر کو 24 نومبر 2024 کے بعد درج مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم بھی جاری کردیا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت میں بھی حفاظتی ضمانت دی گئی تھی، لیکن اس کا آرڈر تحریری شکل میں نہیں لکھا گیا تھا انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اس بار ضمانت کا آرڈر تحریری شکل میں جاری کیا جائے۔

    چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نےاستفسار کیا کہ اسد قیصر کے خلاف کس قسم کے مقدمات درج ہیں اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایف آئی اے اور نیب کے کوئی مقدمات اسد قیصر کے خلاف درج نہیں ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے درخواست میں اسلام آباد پولیس سے بھی رپورٹ طلب کرنے کی استدعا کی، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہاں ان کے خلاف کوئی مقدمات درج ہیں یا نہیں۔

    عدالت نے اسلام آباد پولیس کو 15 دن کے اندر رپورٹ جمع کرنے کا حکم دیا، عدالت نے کہا کہ اسلام آباد کے آئی جی سے رپورٹ طلب کی جائے گی، کمشنر سے رپورٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

  • تحریک انصاف کا مولانا فضل الرحمان سے رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    تحریک انصاف کا مولانا فضل الرحمان سے رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    باغی ٹی وی کےزرائع نے بتایا کہ اسد قیصر نے مولانا فضل الرحمان کی طبیعت کے بارے میں بھی پوچھا۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے رابطے میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کی آئندہ ہفتے ملاقات طے پاگئی۔ زرائع کا کہنا تھا کہ طے پانے والی ملاقات کے دوران پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن گرینڈ الائنس میں شامل ہونے کی دعوت دے گی۔

    دوسری طرف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن کے لیے تمام توانائیاں خرچ کی ہیں۔ جبکہ قبائلی علاقوں کے عوام پریشان ہیں اور اپنے علاقے چھوڑ رہے ہیں۔ اور جو آپ کو سبز باغ دکھائے گئے تھے امید ہے آپ ان باغوں میں گھومتے ہوں گے۔ تمام مکاتب فکر کا مؤقف ہے کہ اسلحے کا استعمال نہیں کرنا۔ اور جن علاقوں میں امن تھا وہاں بھی اب وحشت ہے۔ قبائلیوں کو جو سبز باغ دکھائے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔ اور قبائلی علاقوں سے جتنے فنڈز کا وعدہ ہوا تھا وہ پورا نہیں کیا گیا۔

    رجب بٹ کے بعد ٹک ٹاکر ذوالقرنین بھی گرفتار

  • 26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں 14 فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    اسد قیصر کے خلاف 26 نمبر چنگی توڑ پھوڑ کیس میں درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ہوئی۔آج کی سماعت میں اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اسد قیصر کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر اسد قیصر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، تاہم ان کے وکیل صفائی عائشہ خالد نے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    اسد قیصر کے خلاف تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں توسیع کر کے انہیں 14 فروری تک مقدمہ میں گرفتاری سے تحفظ فراہم کر دیا ہے۔یہ پیش رفت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے لیے ایک بڑی راحت کی بات ہے، کیونکہ اس سے قبل بھی مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں کی حفاظتی ضمانتیں منظور کی جا چکی ہیں

    سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

  • عمران کو سزا سنانے والے ججز  اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگائے جا رہے،اسد قیصر

    عمران کو سزا سنانے والے ججز اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگائے جا رہے،اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کو متنازعہ بنانے پر تلی ہوئی ہے اور عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ حکومت نے 17 جنوری کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلایا ہے، جس میں ہائی کورٹ کے نئے ججز کی تقرری کی جانی ہے۔ اس اجلاس میں توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے والے ججز، شاہ رخ ارجمند اور ہمایوں دلاور کو ہائی کورٹ کے نئے ججز بنانے کا امکان ہے تاکہ وہ سزا سنانے کے بعد اپیلوں کی سماعت بھی کر سکیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ حکومت عدلیہ کے فیصلوں کو متنازعہ بنانے کے لیے مختلف حکمت عملی اپناتے ہوئے اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدلیہ کو اتنا کمزور بنانا چاہتی ہے کہ وہ ایگزیکٹو کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کر سکے۔ اس سے ملک میں انصاف کا نظام متاثر ہوگا اور جب انصاف حقدار تک نہیں پہنچے گا تو ملک کیسے ترقی کر سکے گا۔علدیہ حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے، تاکہ عوام کو عدلیہ پر اعتماد بحال ہو سکے۔

    اس کے ساتھ ہی، اسد قیصر نے کہا کہ اگر عدلیہ کو حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں رکھا گیا، تو ملک میں عدلیہ کا کردار کمزور ہو جائے گا اور اس کا اثر ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر پڑے گا۔

    اسد قیصر نے مزید بتایا کہ القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ جج ناصر جاوید رانا نے تیسری بار مؤخر کیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ کو دباؤ میں لا کر فیصلے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، اسد قیصر نے کہا کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ عدالتیں اپنے فیصلے جلد سنائیں گی تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔اسد قیصر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور ملک میں عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنائے تاکہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے ہو سکیں۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

  • عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے فی الحال کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسے کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔ کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جہاں ممبران کو مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی مذاکراتی عمل میں مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔ تاہم، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد انا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں میں پھیلتی ہوئی مایوسی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔ ہماری خواہش ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بشریٰ بی بی کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں رد کر دیں ہیں اور کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غلط خبریں پھیلائی ہیں کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ "ہمارے کسی بھی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بانی کمیٹی ہی مذاکرات میں شامل ہے اور وہی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ سے پہلے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔ "ہم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی آگاہ کیا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔” بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ اُنہیں امید تھی کہ آج ملاقات ہوگی، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ کل تک یہ ملاقات ممکن ہو جائے گی۔بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کے دو اہم مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دو اہم مطالبات ہیں: ایک تو اسیران کی رہائی اور دوسرا جوڈیشل کمیشن کا قیام۔ انہوں نے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے ان مطالبات کے لیے ایک وقت کی حد بھی دی ہے۔

    چئیرمین پی ٹی آئی نے بانیٔ پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے القادر کیس میں کسی بھی ذاتی فائدے کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں گواہوں نے عدالت میں بھی کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا براہِ راست کوئی لین دین نہیں تھا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں امید ہے کہ القادر کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی دونوں بری ہوں گے۔”اس کے ساتھ ہی بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات پر فوری طور پر عمل کرے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو سکے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھے۔

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اوچ شریف: چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی

  • پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 30 جنوری تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی راہداری ضمانت کی درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے سماعت کی۔ اس موقع پر اسد قیصر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ اس وقت اپنی راہداری ضمانت کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس وقت درخواست گزار کہاں ہیں تو اسد قیصر کے وکیل نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں اور عدالت آ رہے ہیں۔ جسٹس کامران حیات میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ "ٹھیک ہے، جب وہ عدالت آئیں گے تو پھر کیس کی سماعت کریں گے۔”اس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو 2 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض راہداری ضمانت دی اور پولیس کو 30 جنوری تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما،سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہیں

    پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد اسد قیصر نے میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے خلاف بے تحاشا مقدمات درج ہیں اور ان کے ارکان اسمبلی کے خلاف بھی جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اسد قیصر نے 26 نومبر کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دن پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کیا گیا، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ "26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے، ” انہوں نے بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک کارکنوں کی رہائی نہیں ہوگی، وہ خود کو رہائی کے لیے پیش نہیں کریں گے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ حکومت کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، جبکہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ "ہمیں افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر افسوس ہے، اور اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔”اسد قیصر نے افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اپنا کلچر ہے اور ہمیں افغانستان کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ہے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ کل مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، تین مطالبات سامنے رکھے،غیر قانونی کام بند کئے جائیں، جیلوں میں بند ورکر، عمران خان کو رہا کیا جائے، رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رعایت مانگ رہے ہیں، انہوں نے انتقاما کیس بنائے کوئی قانونی حیثیت نہیں،سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں،اتنے کیسز بنائے گئے ہیں کہ اہم مقدمات کی اہمیت ختم ہوگئی ہیں،پارلیمنٹرین پر دھشتگردی، قتل اور غداری کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، سویلین کا ملٹری کورٹ میں فیصلے پر مایوسی ہوئی،پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، پاکستان تحریک انصاف کے کسی کارکن ایک گملہ تک نہیں توڑا، ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے، پارلیمنٹ کے پاس اختیارات ہونی چاہئے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،ہم نے اپنا مؤقف حکومت کے سامنے رکھا ہے، آگے بڑھنا ہے، ملک کی معاشی صورتحال، امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم ملک کو بحران سے نکالنا چاہتے ہیں،ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل پر ہمیں شدید تشویش ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی ہمیں شدید مایوسی ہے کہ اگر سپریم کورٹ ہی آئین کے خلاف چلی جائے تو پھر عام لوگ کہاں جائیں،

    قبل ازیں اسد قیصر کو پشاور ہائی کورٹ سے 30 جنوری تک راہداری ضمانت مل گئی ہے

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

  • قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایوان میں تیز شور و غل کے دوران دونوں کے بیانات میں شدت آئی۔

    رانا تنویر نے اسد قیصر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا کردار فاشسٹ جماعت کا ہے اور یہ جماعت ہٹلر اور مسولینی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا اور وفاقی حکومت پر چڑھائی کی۔ رانا تنویر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو غلط اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں، جیسے کہ پنجاب حکومت چھاپے مار رہی ہے، جو کہ حقیقت سے بعید ہیں۔

    اسد قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک انصاف کے خلاف اس قسم کے بے بنیاد الزامات سن کر افسوس ہوتا ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ رانا تنویر کے بیانات حقیقت سے عاری ہیں۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ رانا تنویر اپنی حکومت کے ادوار میں ہونے والی بدعنوانیوں کا جواب دیں اور عوامی مسائل پر بات کریں۔

    رانا تنویر نے اس موقع پر کہا، "چار سالوں میں آپ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، اور اس کے باوجود آپ کو شرم نہیں آئی۔ پنجاب حکومت اگر چاہے تو 10 لاکھ افراد کو سڑکوں پر لا سکتی ہے، لیکن آپ پنجاب سے 5 لوگ بھی نہیں نکال سکے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی، اور ان کی حکومت صرف سیاسی مداخلت اور الزامات کے ذریعے کام کر رہی تھی۔

    اس دوران ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا اور دیگر ارکان بھی اس بحث میں شامل ہوگئے، جس کے باعث اجلاس کی کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل ہو گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو مداخلت کرنا پڑی تاکہ ایوان کی کارروائی دوبارہ بحال ہو سکے۔

    قومی اسمبلی سیکریٹریٹ ترمیمی بل 2024سید نوید قمر نے پیش کیا، پاکستان اینیمل کونسل ترمیمی بل مزید غور کے لے قائمہ کمیٹی کوبھیج دیاگیا ،عالیہ کامران نے کہا کہ بل سینیٹ سے منظور ہوچکا ہے اسے یہاں منظور کیا جائے، وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ جانوروں سے متعلق کونسل کے بل سے اتفاق کرتا ہوں، بل میں کمی ہے جسے دور کرنے کے لیے کمیٹی میں غور کیاجائے.

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    امریکا کے مختلف حصوں میں پراسرار ڈرونز کی اصل حقیقت کیا؟

    ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں تنقید کے ماحول سے نکلنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ