Baaghi TV

Tag: اسرائیلی فوج

  • امریکی یونیورسٹی کا اسرائیلی فوج کی تربیت کیلئے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف

    امریکی یونیورسٹی کا اسرائیلی فوج کی تربیت کیلئے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف

    امریکا کی معروف یونیورسٹی کی جانب سے مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کی تربیت کے لیے امریکی بحریہ کو لاشیں فروخت کر نے کا انکشاف سامنے آیا ہے-

    امریکی ریاست نیواڈا میں میڈیکل کیس مینیجر کے طور پر کام کرنے والی مریم وولپن کو یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا یعنی یو ایس سی کے ایک طالب علم صحافی کی طرف سے ایک ایسا پیغام ملا جس نے انہیں شدید پریشان کر دیا یہ طالب علم جینیفر نیہرر اس ٹیم کا حصہ تھیں جو اس سنگین الزام کی تحقیقات کر رہی تھی کہ سائنسی تحقیق اور تعلیم کے لیے یونیورسٹی کو عطیہ کیے جانے والے انسانی جسم مبینہ طور پر امریکی مسلح افواج کو فروخت کیے جا رہے ہیں، اور ان میں سے کچھ لاشیں اسرائیلی فوج کے سرجنوں کے پاس بھی پہنچائی گئی ہیں.

    مریم وولپن نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ یہ سن کر میرا دل بیٹھ گیا، میری 101 سالہ والدہ جینیٹ کا انتقال 2021 میں ہوا تھا، وہ دوسری جنگ عظیم میں فلائٹ نرس کے طور پر خدمات انجام دے چکی تھیں اور انہوں نے اپنی مرضی سے اپنا جسم یو ایس سی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اب مجھے یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں میری والدہ کا جسم بھی غزہ کی جنگ جیسے تنازعات کے لیے فوجی ٹیموں کی جراحی کی تربیت میں تو استعمال نہیں ہوا.

    اس حوالے سے بنائی گئی دستاویزی فلم ’ڈائریکٹ فرام‘ میں ایسے کئی خاندانوں کو دکھایا گیا ہے جو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کے پیاروں کی باقیات فوجیوں کی تربیت کے لیے استعمال ہوئیں طالب علم صحافیوں کی اس ٹیم نے 2025 میں اس کہانی کو بے نقاب کیا تھا، اور ان کی رپورٹ کے مطابق یو ایس سی سدرن کیلیفورنیا کے ان دو اداروں میں سے ایک ہے جو امریکی بحریہ کو اسرائیلی سرجنوں کی تربیت کے لیے لاشیں فراہم کرتے رہے ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق، سرکاری دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ 2018 سے اب تک یو ایس سی نے امریکی بحریہ اور اسرائیلی فوج کے مشترکہ تربیتی معاہدوں کے تحت کم از کم 90 کے قریب تازہ لاشیں فراہم کی ہیں اگرچہ اس اسرائیلی تربیتی پروگرام کی عوامی معلومات بہت محدود ہیں، لیکن 2020 میں یو ایس سی اور امریکی بحریہ کے انسٹرکٹرز کے لکھے گئے ایک طبی مقالے سے اس عمل کی اندرونی تفصیلات سامنے آتی ہیں.

    اس مقالے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ان سرجنوں کو جنگ میں جراحی کی مہارت کا چار روزہ کورس کرایا جاتا ہے جو بالکل فرنٹ لائن پر کام کرتے ہیں اس تربیت کے دوران عطیہ شدہ جسموں میں ایک خاص طریقے سے مصنوعی خون پمپ کیا جاتا ہے تاکہ وہ بالکل زندہ انسانوں کی طرح نظر آئیں اور میدان جنگ میں زخمی فوجیوں کی طرح ان کے جسم سے خون بہتا ہوا دکھائی دے.

    اس مقالے میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح ان لاشوں پر گولیوں کے زخم اور دھماکا خیز مواد سے لگنے والی چوٹوں کی نقل تیار کر کے فوجیوں کو تربیت دی جاتی ہےاس حساس معاملے پر جب یو ایس سی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ امریکی بحریہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اس تربیت کے دوران تجربہ کار ٹراما سرجن جراحی کے آلات کی مدد سے پیچیدہ زخموں کے نمونے تیار کرتے ہیں تاکہ ایک انتہائی حقیقت پسندانہ تربیتی ماحول فراہم کیا جا سکے دوسری جانب کئی ماہر سرجنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا طریقہ کار عام تعلیمی پروگراموں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف انتہائی مخصوص فوجی تربیت کے لیے ہی ہوتا ہے.

    رپورٹ کے مطابق، وفاقی معاہدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ پچھلی ایک دہائی سے جاری ہے اور اسرائیلی فوجی ڈاکٹرز 2013 میں ہی اس تربیت کے لیے لاس اینجلس پہنچنا شروع ہو گئے تھےیو ایس سی نے اپنے ایک ای میل جواب میں اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کوئی فوجی پروگرام ہے، بلکہ اسے ایک تعلیمی کورس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں شامل اسرائیلی طبی عملہ فوج سے تعلق نہیں رکھتا تھا.

    تاہم رپورٹ کے مطابق یو ایس سی کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو یعنی یو سی ایس ڈی کی مدد لینا پڑی، اور طلبہ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ 2024 سے 2026 کے اوائل تک 124 لاشیں یو سی ایس ڈی سے یو ایس سی منتقل کی گئیں، یو سی ایس ڈی نے بھی اس با ت کی تردید کی ہے کہ یہ ملٹری ٹریننگ ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ لفظ اس کورس کی غلط عکاسی کرتا ہے.

    اس تنازع نے اب عطیہ دہندگان کے خاندانوں میں ایک شدید بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ عطیہ کے دستاویزات میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ ان کے پیاروں کے جسم امریکی یا غیر ملکی فوج کی تربیت کے لیے استعمال ہوں گے.

    یو ایس سی سے وابستہ ایک ڈاکٹر محمد رعد نے اس نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ کیا مریض کو اس بات کا علم تھا، اور کیا وہ غیر ملکی فوجوں کے ساتھ اس طرح کے طریقہ کار کو جان کر کبھی اس کی اجازت دیتے؟

    اسی طرح جینیفر گومز، جن کی دادی نے 2012 میں اپنا جسم عطیہ کیا تھا، انہوں نے بھی سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے الجزیرہ سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھاکہ ہم بین الاقوامی افواج کو اپنے خاندان کےجسموں پر تربیت کے لیے یہاں بلا رہے ہیں،خاص طور پر ان افواج کو جن پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں، میری دادی جیسے لوگ یہ سوچ کر جسم عطیہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا کے لیے کچھ اچھا کر رہے ہیں، یہ سوچ کر نہیں کہ وہ کسی ملٹری فورس کو زیادہ طاقتور بنائیں گے.

    اس انکشاف کے بعد انگریزی کی پروفیسر ونڈی سمتھ نے بتایا کہ اب وہ اپنا جسم عطیہ کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں کیونکہ وہ کسی بھی طرح اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرنا چاہتیں، اور انہوں نے اور ان کے شوہر نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں.

    اس تمام صورتحال پر ریسرچ کے حامیوں کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ طبی تعلیم کے لیے لاشوں کا عطیہ ضروری ہے، لیکن مریم وولپن جیسے لواحقین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اس معاملے میں شفافیت لانی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے.

    طالب علم صحافیوں نے یونیورسٹیوں کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ کسی خاص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں، طالب علم صحافی ساشا ریو کا کہنا تھا کہ ہمارا واحد ایجنڈا صرف سچائی کو سامنے لانا تھا، جبکہ ان کے ساتھی تھامس مٹھی نے بتایا کہ جن خاندانوں سے انہوں نے بات کی ہے وہ اس صورتحال سے شدید صدمے میں ہیں.

    دستاویزی فلم کے سامنے آنے سے کچھ دیر پہلے، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ہیلتھ نے اپنے سوال و جواب کے صفحے پر یہ نئی معلومات شامل کی ہیں کہ عطیہ کردہ جسموں کو دوسری تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے اور انہیں ملٹری میڈیکل عملے کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس پر لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ صرف قانونی کارروائی سے بچنے اور اپنے دفاع کی ایک کوشش ہےاس تمام احتجاج کے باوجود، امریکی بحریہ نے یو ایس سی کے ساتھ اس پروگرام کے معاہدوں کی 2029 تک تجدید کا ارادہ ظاہر کیا ہے.

  • اسرائیلی فوج کا لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے (قلعۃ الشقیف) پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع اس اہم اور تاریخی مقام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے قلعے پر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے تصاویر جاری کیں۔

    صلیبی دور میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ ایک بلند پہاڑی چوٹی پر واقع ہے اور لبنان۔اسرائیل سرحد سے تقریباً 15 کلومیٹر (9 میل) کے فاصلے پر واقع ہونے کے باعث اسے غیرمعمولی تزویراتی اہمیت حاصل ہے،تاحال لبنانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی فوری ردعمل یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    بیوفورٹ قلعہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے تحفظ میں شامل ایک تاریخی ورثہ ہے اسرائیل ماضی میں اس قلعے اور اس کے اطراف کے علاقے پر 18 برس تک قابض رہا تھا، تاہم وہ 2000 میں لبنان سے انخلا کے دوران یہاں سے واپس چلا گیا تھااسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری توسیع پذیر فوجی کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ العمل ۔ اسرائیل پر اس جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بیوفورٹ قلعے پر قبضے کو ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا ہےٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گولانی بریگیڈ کی قیادت میں اسرائیلی افواج نے دریائے لیتانی کو عبور کرتے ہوئے بیوفورٹ کی پہاڑی چوٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایات اور میری رہنمائی میں اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا، دریائے لیتانی کو عبور کیا اور بیوفورٹ ریج پر قبضہ کیا، جو الجلیل (گیلیلی) کی بستیوں کے دفاع اور ہماری افواج کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم تزویراتی مقام ہے اس آپریشن کو پہلے خفیہ رکھا گیا تھا اور اس پر اطلاعاتی پابندی عائد تھی، علاقے میں لڑائی ابھی بھی جاری ہے اور اسرا ئیل حزب اللہ کو مزید کمزور کرنے اور اپنی شمالی سرحد کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

    مبصرین کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوج کی یہ پیش قدمی گزشتہ 25 برس سے زائد عرصے کے دوران ملک کے اندر سب سے گہری دراندازی شمار کی جا رہی ہے-

  • اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی کارروائی کا آغاز کردیا

    اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی کارروائی کا آغاز کردیا

    اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف محدود زمینی کارروائیاں کا آغاز کردیا ہے۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں 91ویں ڈویژن کے فوجیوں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی زمینی کارروائیاں شروع کی ہیں، جن کا مقصد اگلے دفاعی حصے کو مضبوط بنانا ہے یہ سرگرمیاں وسیع تر دفاعی اقدامات کا حصہ ہیں، جن کے تحت ایک مضبوط فارورڈ دفاعی پوزیشن قائم اور مستحکم کی جا رہی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا اور علاقے میں سرگرم جنگجوؤں کو نشانہ بنانا شامل ہے تاکہ خطرات کو کم کیا جا سکے اور شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے لیے اضافی سیکیورٹی کی تہہ پیدا کی جا سکے زمینی دستوں کے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے متعدد اہداف پر حملے کیے گئے،ان حملوں میں توپ خانے اور اسرائیلی فضائیہ دونوں کا استعمال کیا گیا تاکہ کارروائی کے دوران موجود خطرات سے بچا جا سکے۔

    برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں خطرناک وبا ، 2 طالب علم ہلاک، 11 شدید بیمار

    دوسری جانب اسرائیل کی لبنان کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری ہیں الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان حملوں میں قنطرہ، ساوانہ، برج قلاویہ، سلطانیہ اور شقرا کے قصبے شامل ہیں۔ تاہم حملے میں ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

    مشرق وسطیٰ جنگ: پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس سے 90 پروازیں منسوخ

    واضح رہے کہ لبنان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں 2 مارچ کو اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا تھااس کے بعد اسرائیل نے لبنان پر فضائی حملے شروع کر دیے تھے اور سرحدی علاقوں میں فو جی دراندازیاں بھی کیں۔

  • اکتوبر 2023 حملے روکنے میں ناکامی، اسرائیل نے 3 جرنیل برطرف کر دیے

    اکتوبر 2023 حملے روکنے میں ناکامی، اسرائیل نے 3 جرنیل برطرف کر دیے

    اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2023 کے حملے روکنے میں ناکامی پر تین اعلیٰ جرنیلوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق تل ابیب سے جاری بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ تینوں افسران حملہ روکنے میں ناکامی کے ذاتی طور پر ذمہ دار تھے، اسی لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔عرب میڈیا نے مزید بتایا کہ فوج کے متعدد سینئر افسران کے خلاف بھی انضباطی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں، جن میں بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی شامل ہے۔ تاہم تینوں جرنیل باضابطہ برطرفی سے قبل خود ہی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ فوج میں اعلیٰ سطح پر نئی تقرریوں کا عمل 30 دن کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کی کارکردگی کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ سیکیورٹی سسٹم میں پائے جانے والے نقائص کو دور کیا جاسکے۔اس اقدام کو حملے کے بعد سے جاری دباؤ اور فوجی ناکامیوں کے تناظر میں ایک بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے

    امریکاکا میانمار کے شہریوں کا قانونی اسٹیٹس ختم کرنے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی ذمہ دار اتحادی، بائیکاٹ سیاسی غلطی ہے: عطا تارڑ

    گلگت بلتستان حکومت تحلیل، نگراں وزیر اعلیٰ کا اعلان

  • حساس معلومات خدشہ،اسرائیلی فوج کے سینئر افسران سے چینی گاڑیاں واپس

    حساس معلومات خدشہ،اسرائیلی فوج کے سینئر افسران سے چینی گاڑیاں واپس

    حساس معلومات لیک ہونے کے خدشے کے باعث اسرائیلی فوج نے اپنے سینئر افسران کو دی گئی چینی گاڑیاں واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کے پیشِ نظر تقریباً 700 چینی گاڑیاں واپس لی جا رہی ہیں، جن میں زیادہ تر چیری ٹیگو 8 پرو ماڈلز شامل ہیں۔یہ گاڑیاں 2022 سے لیفٹیننٹ کرنل اور کرنل رینک کے افسران کو فراہم کی گئی تھیں، خاص طور پر اُن افسران کو جن کی فیملی بڑی تھی۔رپورٹس کے مطابق سال کے آغاز میں ہی فوجی اڈوں میں چینی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، کیونکہ ان میں نصب کیمروں اور سینسرز کے ذریعے حساس معلومات اکٹھی کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ان خبروں پر کسی تبصرے سے گریز کیا

    غزہ صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک مقام ہے، انتونیو گوتریس

    لندن آنے والی ٹرین میں چاقو زنی، دو گرفتار، دس زخمی

    راولپنڈی میں 216 غیرقانونی افغان شہری گرفتار، 18 مالک مکان بھی حراست میں

  • اسرائیلی فوج کاغزہ سے انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا

    اسرائیلی فوج کاغزہ سے انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا

    اسرائیلی فوج نے غزہ سے انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فلسطینیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوجی کنٹرول میں آنے والے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کریں۔

    امریکی ایلچی وٹکوف کے مطابق، انخلا کے اس مرحلے کے بعد یرغمالیوں کی رہائی کے لیے 72 گھنٹوں کی مدت شروع ہو گئی ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی معاہدے پر قائم رہیں اور اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حماس آج سے دو سال پہلے والی حماس نہیں رہی.

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی باضابطہ طور پر نافذ ہو چکی ہے اور حکومت کی منظوری کے بعد فوجی دستوں کا انخلا معاہدے کے مطابق شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ بعض علاقوں میں فوجی دستے بدستور تعینات رہیں گے اور شہریوں کو ان کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    وطن ہمارا ، اس کی حفاظت ہماری پہلی اور آخری ترجیح ہے،سبیل اکرام

    علی امین گنڈاپور کا وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ گورنر کو موصول

  • جاسوسی الزام، اسرائیلی فوج نے دو کم عمر فلسطینی بچے گرفتار کر لیے

    جاسوسی الزام، اسرائیلی فوج نے دو کم عمر فلسطینی بچے گرفتار کر لیے

    اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں کارروائی کرتے ہوئے دو کم عمر فلسطینی بچوں کو ’’جاسوسی‘‘ کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق فوجی اہلکاروں نے بچوں کو حراست میں لینے کے بعد ان پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے۔ عینی شاہدین کے مطابق فوجیوں نے بچوں سے ان کے والد کے بارے میں پوچھ گچھ کی اور موقع پر موجود افراد کو فلم بندی سے روک دیا۔مقامی افراد اور دکاندار جب بچوں کی حمایت میں سامنے آئے تو فوجیوں نے انہیں ہراساں کیا اور دھمکیاں دیں۔ بعدازاں اہلکار بچوں کے گھر کی جانب گئے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو پیچھا کرنے سے بھی روک دیا۔

    ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب ایک راہگیر نے بچوں کی کم عمری کی بنیاد پر رہائی کا مطالبہ کیا تو ایک فوجی نے جواب دیا: "مجھے پرواہ نہیں”۔

    برطانیہ سے چوری شدہ مہنگی گاڑی کراچی پہنچ گئی، انٹر پول
    گوجرہ:کھیوڑہ مائینز کے کسان 20 سال سے نہری پانی کی قلت کا شکار

    ارکان قومی اسمبلی کو آئندہ ہفتے آئی پیڈز ملیں گے، ایاز صادق

  • غزہ پر اسرائیلی حملے، اسکول اور خیمے نشانہ، 21 فلسطینی شہید

    غزہ پر اسرائیلی حملے، اسکول اور خیمے نشانہ، 21 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج نے غزہ میں اسکول، خیموں اور رہائشی علاقوں پر بمباری میں شدت پیدا کر دی ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارےکے مطابق دن بھر جاری حملوں میں مزید 21 فلسطینی شہید ہوئے۔غزہ سٹی کے مغربی علاقے میں قائم الفارابی اسکول، جہاں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے، اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنا، جس میں کم از کم 8 افراد شہید ہوئے۔ایک اور حملہ غزہ سٹی کے شیخ رضوان محلے میں کیا گیا، جہاں 9 افراد شہید ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل تھے۔ اسی طرح رِمال محلے میں بے گھر افراد کے خیمے پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں 2 بچے شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    عینی شاہد صہیب فودہ نے بتایا کہ وہ الفارابی اسکول میں گدے پر سو رہے تھے کہ دھماکے کی آواز سنائی دی اور ایک بلاک ان کے چہرے پر آ لگا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کزن کی بیٹی بھی شدید زخمی ہوئی۔مزید برآں، عینی شاہد محمد عاید نے الجزیرہ کو بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں تاحال ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور لاشوں کو نکالنے کا کام کر رہی ہیں۔

    پاکستان میں دوسرا چاند گرہن، سپر بلڈ مون کا دلکش نظارہ

    سندھ میں سیلاب کا خدشہ، 1651 دیہات متاثر ہونے کا امکان

    روس کی کینسر مخالف ویکسین طبی آزمائشوں میں کامیاب

    موبائل سمز کا ڈیٹا لیک، وزیر داخلہ کا نوٹس، انکوائری ٹیم تشکیل

  • یمن سے داغا گیا میزائل فضاء میں ناکارہ بنا دیا گیا،اسرائیل

    یمن سے داغا گیا میزائل فضاء میں ناکارہ بنا دیا گیا،اسرائیل

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضاء میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق میزائل داغے جانے سے قبل اسرائیل کے مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ماضی میں یمن کے حوثی باغی اسرائیلی حملوں کے ردِعمل میں کئی بار اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کر چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے حوثیوں نے حماس کی حمایت میں حملوں میں تیزی لائی ہے۔

    اسرائیل نے غزہ پر ممکنہ قبضے کی تیاری کے لیے سرحدی علاقوں میں مزید فوجی کمک تعینات کر دی ہے۔تازہ اسرائیلی بمباری میں 60 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ غذائی قلت کے باعث مزید 3 اموات کے بعد قحط سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 303 ہو چکی ہے۔

    بھارت کی انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی، پاکستان کا شدید احتجاج

    پشاور کے خواجہ سرا پولیس سے پریشان

    ٹرمپ کی زبانی مودی کی بزدلی،ہندوستان کا پاکستان پر حملہ، نیوی بھی تیار

    سیلاب متاثرین کیلئے سعودی امداداخوت ومحبت کا اظہار .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

  • اسرائیلی فوج کا ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف

    اسرائیلی فوج کا ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف

    ایران نے اسرائیل پر ایک مرتبہ پھر میزائل حملہ کردیا، بیرشیبہ میں میزائل گرنے سے شدید نقصان ہوا ہے، کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور 7 افراد زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیلی فوج نے ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ میزائل انٹرسیپٹر سسٹم میں ممکنہ تکنیکی خرابی کے باعث میزائل کو روکا نہیں جا سکا یہ واقعہ جمعے کی صبح اسرائیل کے جنوبی شہر بیرشیبہ میں پیش آیا، جہاں ایران کی جانب سے داغا گیا میزائل رہائشی اپارٹمنٹس کے قریب آ گرا۔ واقعے میں کم از کم پانچ افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ متعدد گاڑیوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

    ایک فوجی اہلکار کے مطابق، آج صبح بیرشیبہ پر ایران کے حملے میں ایک بیلسٹک میزائل داغا گیا، جسے روکا نہیں جا سکا اور کئی رہائشی اپارٹمنٹس کے قریب گرا، یروشلم پوسٹ کے مطابق سوروکا میڈیکل سینٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بیرشیبہ کے علاقے میں میزائل گرنے سے 7 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایمرجنسی سروسز فراہم کرنے والے ادارے میگن ڈیوڈ ایڈم کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح جنوبی اسرائیل پر ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی بارش کے بعد اسے کسی زخمی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انٹرسیپٹر نظام میں خرابی کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے حملوں سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے، جبکہ ٹائمز آف اسرائیل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج اس واقعے کو ایک تکنیکی ناکامی کے طور پر دیکھ رہی ہے، جو دفاعی صلاحیت پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔