Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • 21 برس بعد بھارت کی 21 سالہ ہرناز بنیں مس یونیورس 2021

    21 برس بعد بھارت کی 21 سالہ ہرناز بنیں مس یونیورس 2021

    21 برس بعد بھارت کی 21 سالہ ہرناز بنیں مس یونیورس 2021

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں ہونے والے مس یونیورس 2021 کے مقابلے مییں بھارت کی 21 سالہ اداکارہ نے ٹائٹل جیت لیا

    اسرائیل میں ہونیوالے مس یونیورس 2021 کے مقابلوں میں بھارت کی اداکارہ اور ماڈل ہرناز کور سندھو نے ٹائٹل جیتا اور مقابلے کے فاتح قرار پائیں، دوسرے نمبر پر جنوبی افریقہ کی لالیلا مسونے اور پیرا گوئے کی نادیہ فرسٹ رنر اپ قرار ہائیں، میکسیکو کی آندریا میزا، نے اسرائیل کے ایلات میں منعقدہ مس یونیورس 2021 ایونٹ میں اپنا تاج نئے جانشین کو سونپ دیا ہے

    بھارتی پنجاب ست تعلق رکھنے والی 21 سالہ ہرناز سندھو نے اسرائیلی شہر ایلات میں مس یونیورس کے 70 ویں ایونٹ میں بھارت کی نمائندگی کی، ہرناز نے 2000 میں لارا دتہ کے ٹائٹل جیتنے کے 21 برس بعد یہ ٹائٹل جیتا اور مس یونیورس کا خطاب حاصل کیا، اس سے قبل سشمیتا نے 1994 میں یہ ٹائٹل جیتا تھا،

    مس یونیورس کا ٹائٹل جیتنے کے بعد ہرناز سندھو کا کہنا تھا کہ آج کے نوجوانوں کو سب سے بڑا دباؤ خود پر یقین کرنا ہے یہ جاننا کہ آپ منفرد ہیں اور یہی چیز آپ کو خوبصورت بناتی ہے دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا بند کریں اور آئیے مزید اہم چیزوں کے بارے میں بات کریں جو دنیا بھر میں ہو رہی ہیں یہ وہی ہے جسے آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے باہر آؤ، اپنے لیے بولو کیونکہ آپ اپنی زندگی کے رہنما ہیں آپ اپنی آواز ہیں مجھے خود پر یقین تھا اور اسی لیے میں آج یہاں کھڑی ہوں

    پنجاب سے تعلق رکھنے والی ہرناز نے اپنے ماڈلنگ کیرئیر کا آغاز 17 سال کی عمر میں کیا۔ ہرناز سندھو اس وقت پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔ اس کی والدہ پیشے سے ماہر امراض چشم ہیں۔ ہرناز 17 سال کی عمر سے ہی مقابلہ حسن میں حصہ لے رہی ہیں اور اس سے قبل مس دیوا 2021، فیمینا مس انڈیا پنجاب 2019 کے ٹائٹل جیت چکی ہیں اور فیمینا مس انڈیا 2019 میں ٹاپ 12 میں شامل تھیں۔

    فلسطین سے اظہار یکجہتی: جنوبی افریقہ کا اسرائیل میں مس یونیورس تقریب کا بائیکاٹ

  • پہلےاسرائیلی وزیراعظم کا دورہ متحدہ امارات:سخت سیکورٹی میں استقبال کی تیاریاں:دنیا کی نظریں لگ گئیں

    پہلےاسرائیلی وزیراعظم کا دورہ متحدہ امارات:سخت سیکورٹی میں استقبال کی تیاریاں:دنیا کی نظریں لگ گئیں

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ آج متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی وقت وہ متحدہ عرب امارات اترسکتے ہیں‌، اس طرح یو اے ای کا دورہ کرنے والے وہ تاریخ کے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بن جائیں گے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ متحدہ عرب امارات کے دورے پر آج ابوظہبی پہنچ رہے ہیں جہاں ان کا استقبال ولی عہد شہزادہ محمد بن زائد النہیان کریں گے۔

    اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہمراہ ہوگا۔ سرکاری دورے میں تجارتی او سفارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی رفتار پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دورے کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ یہ کسی بھی اسرائیلی وزیراعظم کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ تاریخی دورے میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدہ ابراہیمی پر بات چیت کی جائے گی۔

    اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن معاہدہ ایک سال قبل طے پایا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف سفارتی تعلقات بحال ہوچکے ہیں بلکہ کئی تجارتی معاہدے بھی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی ثالثی میں بحرین، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور مراکش اسرائیل کو تسلیم کرکے اور سفارتی تعلقات بحال کرچکے ہیں۔

  • اسرائیلی وزیر دفاع کا صیہونی فوج کو ایران پر حملے کی تیاری کا حکم

    اسرائیلی وزیر دفاع کا صیہونی فوج کو ایران پر حملے کی تیاری کا حکم

    فلوریڈا: اسرائیلی وزیر دفاع بنی گینٹز نے صیہونی فوج کو ایران پر حملے کی تیاری کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع بنی گینٹز امریکا کے دورے پر ہیں جہاں وہ امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر دباؤ بڑھانے کے اقدامات کر رہے ہیں اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے امریکیوں کو بتایا کہ انہوں نے ایک آخری تاریخ مقرر کر دی ہے جس میں اسرائیلی فوج کو ایران پر حملے کی تیاری مکمل کرنے کی ضرورت پوری کرنے کو کہا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع بنی گینٹز نے فوج کو ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا ہے اور انہوں نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو بھی ایران پر حملے کی تیاری سے آگاہ کر دیا ہے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    العربیہ کے مطابق عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ (امریکی اور یورپی) ویانا مذاکرات میں صبر کھو رہے ہیں مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی دنیا کی ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور بین الاقوامی برادری جان گئی ہے کہ ایران ان کے ساتھ گیم کھیل رہا ہے ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے جس کے لیے صیہونی فوج کو اسٹرائیک کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔

    العربیہ کے مطابق ایک سینیر سفارتی ذریعے نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایران پرحملے سے متعلق اپنی تیاریوں کا اظہار جمعہ کے روز کیا تھا تاہم امریکا نے بینی گینٹز کی اس تجویز کو ویٹو نہیں کیا اخبار "یروشلم پوسٹ” کے حوالے سے بتایا کہ بہ ظاہر امریکی حکام بھی اسرائیلی وزیر دفاع کے اس ممکنہ اقدام کے بارے میں خاموش دکھائی دیئے۔

    ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کی ہرممکن کوشش کریں گے اسرائیل

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گینٹز نے کل ہفتے کو انکشاف کیا کہ امریکا اور یورپی ممالک اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ان کا اشارہ ویانا میں ایرانیوں کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کے حوالے سے بات چیت کی طرف تھا دریں اثنا اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے جنوبی سرحد پر جنگی منظر نامے کے مطابق اچانک مشقیں کی ہیں۔

    گزشتہ روز گینٹز نے واشنگٹن میں تحقیقی اداروں کے سربراہان اور سینیر محققین کے سامنے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک ہر ضروری چیز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر حملہ کرنے کے لیے اپنے ملک کے مغرب میں اپنی طاقت بنا رہا ہے۔ خاص طورپر اسرائیل ایران کا ہدف ہوسکتا ہے لیکن ہم اپنے شہریوں اور املاک کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    نیٹو کا جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی مسافر بردارہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے

    انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری عزائم کو ناکام بنانے اور خطے میں ایرانی مداخلت روکنے کت کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے امریکی انتظامیہ کے عزم پر اعتماد ہے۔

    امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل…

  • نیٹو کا جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی مسافر بردارہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے

    نیٹو کا جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی مسافر بردارہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے

    ماسکو:امریکی جاسوسی طیارہ اور اسرائیلی ہوائی جہاز تصادم سے بال بال بچ گئے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق کہ اسرائیل سے اڑان بھرنے والا مسافر بردار طیارہ اور ایک امریکی نیٹو جاسوسی طیارہ بحیرہ اسود کے اوپر اچانک آمنے سامنے آگئے جس پر اسرائیلی ہوائی جہاز نے فضائی تصادم سے بچنے کیلئے فوراً طیارے کو زمین کی طرف غوطہ دیا۔

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    روس کی فیڈرل ایئر ٹرانسپورٹ ایجنسی نے بیان میں کہا کہ نیٹو کا CL600 جاسوسی طیارہ تیل ابیب سے 142 مسافرں کو ماسکو جانے والے اسرائیلی طیارے کےراستے میں اچانک آگیا تھا۔

    ایروفلوٹ نامی اسرائیلی پرواز کو مبینہ طور پر جاسوس طیارے سے اپنا فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے 500 میٹر (1,600 فٹ) زمین کی طرف تیزی سے آنا پڑا۔

    ایوی ایشن اتھارٹی، Rosaviatsia نے کہا کہ سوچی کے بحیرہ اسود کے ریزورٹ سے Skopje جانے والے ایک چھوٹے CL-650 طیارے کو بھی اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔

    انڈونیشیا: آتش فشاں پہاڑ پھٹنے سے ہزاروں افراد کی نقل مکانی،ہرطرف خوف وہراس

    ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ جاسوس طیارہ نیٹو کے کس رکن کا تھا۔ روس کی وزارت دفاع نے جمعہ کو کہا کہ اس نے بحیرہ اسود کے اوپر دو امریکی فوجی جاسوس طیاروں کی حفاظت کے لیے لڑاکا طیاروں کو گھیر لیا ہے۔

    ماسکو میں امریکی سفارت خانے نے اس واقعے کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جب اسے پہلی بار انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
    Rosaviatsia نے کہا کہ خطے میں نیٹو طیاروں کی پروازوں میں اضافہ سویلین طیاروں کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے اور ماسکو نے ان پر سفارتی شکایت درج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے یوکرین اور بحیرہ اسود کے علاقے پر بین الاقوامی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

    مودی ایک ظالم شخص ہے جس سے انصاف ،خیر اور اچھائی کی توقع نہیں کی جاسکتی: راہل…

  • ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کی ہرممکن کوشش کریں گے    اسرائیل

    ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کی ہرممکن کوشش کریں گے اسرائیل

    اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ تہران کے پاس جوہری بم نہ ہو۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر امیکم نورکن نے کہا تل ابیب ایک "انشورنس پالیسی” کی نمائندگی کرتا ہے جو اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ایران جوہری بم حاصل نہیں کرے گا ہم انشورنس پالیسی رکھتے ہیں، ہم غلطیاں کرتے ہیں، لیکن ہم غلطیوں کی اصلاح کرلیتے ہیں ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے کہ تہران کے پاس جوہری بم نہ ہو۔

    "ٹائمز آف اسرائیل” کے مطابق منگل کے روز اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ ان کے ملک کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ ایک تازہ معاہدہ کیا جائے یا پھر ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کا منصوبہ بنایا جائے۔

    ایران نے جوہری پروگرام میں تمام” حدیں” عبور کر لی ہیں اسرائیلی وزیراعظم

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 29 نومبر کو ویانا میں جوہری مذاکرات کا ساتواں دور شروع ہوا تھا منگل کے روز ایرانی جوہری معاہدے میں شریک یورپی ممالک نے اس فائل پر مذاکرات کی بحالی کے ایک دن بعد کہا کہ بات چیت میں آنے والے دنوں میں ایرانیوں کی "سنجیدگی” کا اندازہ لگایا جائے گا اور بات چیت کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    سنہ 2015 کے بین الاقوامی معاہدے میں شریک ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے ویانا میں سفارت کاروں نے خبردار کیا کہ "اگر ایرانی ہمیں سنجیدگی نہیں دکھاتے ہیں کہ تواگلے 48 گھنٹے نازک ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ جمعرات کو بینی گینٹز نے کہا تھا کہ تل ابیب ایران کے جوہری پروگرام پر فوجی حملہ کرنے کی صلاحیت تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے ہمیں ایران کے حوالے سے اپنے شراکت داروں پر اثر انداز ہونا ہے اور ان کے ساتھ مسلسل بات چیت کرنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل ایک ایسا جوہری معاہدہ چاہتا ہے جو نہ صرف یورینیم کی افزودگی کے مسئلے کو حل کرے بلکہ خطے میں ایران کی سرگرمیوں کو بھی حل کرے۔

    دوسری جانب ویانا جوہری مذاکرات میں ایران نے امریکا سے دو طرفہ مذاکرات کا امکان مسترد کر دیا ہے ترجمان ایرانی وزارت خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ ویانا میں امریکی وفد سے دو طرفہ ملاقات نہیں ہوگی-

    دنیا کو ایران کے جوہری پروگرام سے لاتعلق نہیں ہونا چاہیے سعودی عرب

    ایران جوہری معاہدہ بحالی کے لیے مذاکرات 29 نومبر سے شروع ہوئے جن میں ایران، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ جوہری معاہدے پربات چیت میں شریک ہوئےجبکہ جوہری معاہدے پر مذاکرات میں امریکا بالواسطہ طور پر شریک ہوگا۔

    واضح رہے کہ ایران اور 6 ممالک کے درمیان ایرانی جوہری معاہدہ 2015ءمیں ہوا تھا، 2018ء میں امریکا یک طرفہ طور پر معاہدے سے علیحدہ ہو گیا تھا جس کے بعد ایران نے بھی معاہدے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

  • اسرائیل کا تمام ممالک پر سفری پابندی کا فیصلہ:اہم وجہ جان کرہرکوئی حیران

    اسرائیل کا تمام ممالک پر سفری پابندی کا فیصلہ:اہم وجہ جان کرہرکوئی حیران

    تل ابیب: اسرائیل کا تمام ممالک پر سفری پابندی کا فیصلہ:اہم وجہ جان کرہرکوئی حیران،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے کورونا کی نئی شکل کے سامنے آنے پر تمام غیر ملکیوں کے ملک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی افریقا میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کی نئی شکل اومی کرون کے زیادہ متعدی ثابت ہونے پر جنوبی افریقا پر سفری پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    قبل ازیں اسرائیل نے بھی جنوبی افریقا سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی لیکن اب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے تمام غیر ملکیوں کے ملک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تاہم غیر ملکیوں پر سفری پابندی کا فیصلہ کابینہ سے منظوری کے بعد نافذ العمل ہوگا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے مطابق غیرملکیوں پر سفری پابندی 14 دن کے لیے ہوگی اور یہ فیصلہ اسرائیلی عوام کی جانوں کی حفاظت کیلیے کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ 14 دنوں کی پابندی سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس دوران نئے ویرینٹ سے متعلق تمام شکوک واضح ہوجائیں گے اور مزید تفصیلات جیسے ہلاکت خیزی اور ویکسین کی مزاحمت بھی سامنے آجائے گی۔

    دوسری طرف خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک میں کوویڈ 19 کی ایک نئی قسم کی تشخیص کی ہے جس کے اندر میوٹیشنز کی بڑی تعداد موجود ہے۔سائنسدانوں نے اس کی وجہ کرونا (کورونا) کیسز میں بڑھتے ہوئے اضافے کو قرار دیا ہے۔

    سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس نئے وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے افریقہ کو بڑی مقدار میں ویکسین کی ہنگامی بنیاد پر ضرورت ہے۔

    برطانیہ کے ویلکم سینگر انسٹی ٹیوٹ کے جینومکس انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جیفری بیرٹ نے کہا کہ ویکسینز بھیجنے کا وقت اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’نئے ویریئنٹ کو پھیلنے سے روکنے کے علاوہ تخلیقی انداز میں متاثرہ علاقوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی افریقہ میں رواں ماہ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے کرونا کے کیسز کی تعداد میں 10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

     

  • کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    سول ایوی ایشن (سی اے اے) کی جانب سے کورونا کی نئی قسم کے پیش نظر نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سول ایوی ایشن نے نیا سفر ہدایت نامہ پاکستان آنے والی فلائٹس سے متعلق جاری کیا ہے سی اے اے نے جنوبی افریقہ سمیت افریقہ کے 6 ملکوں اور ہانگ کانگ میں سفری پابندی عائد کر دی۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کیٹگری سی میں شامل ممالک کی نئی فہرست جاری کی گئی ہے۔ کورونا کی نئی لہر کی وجہ سے جنوبی افریقہ سمیت 7 ممالک کو کیٹگری سی میں شامل کیا گیا ہے کیٹگری سی کی فہرست میں شامل ممالک میں جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، موزمبیق، لیسوتھو، بوٹسوانہ، نمیبیا، ایسواتینی ہیں۔

    بیرون ملک سے آئے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان پہنچنے پر مسافروں کا ایئرپورٹ پر ریپد انٹیجن ٹیسٹ ہو گا سی اے اے کے مطابق کورونا مثبت آنے پر مسافروں کو سرکاری قرنطینہ سینٹرز میں رکھا جائے گا۔

    دوسری جانب ملک میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا کیس سامنے آنے پراسرائیل نے چودہ دن کے لیے غیر ملکیوں کی اپنے ملک میں آمد پر پابندی عائد کر دی ہے اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی وفاقی کابینہ کی جانب سے سرحدیں مکمل طور پر بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے اور پابندی کا اطلاق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سے ہوچکا ہے۔

    غیر ملکیوں کی آمد پر پابندی کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے ویکسینیٹڈ اسرائیلی شہریوں کو بھی تین دن کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہوگا جبکہ وہ اسرائیلی شہری جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی انہیں سات دن کے لیے قرنطینہ مکمل کرنا ہوگا۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    اسرائیل نے 50 افریقی ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے ان ممالک سے سفر کر کے اسرائیل آنے والے اسرائیلی شہریوں کو حکومت کی طرف سے متعین کردہ ہوٹلوں میں لازمی قرنطینہ کرنا ہوگا اور ٹیسٹس کروانے ہوں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے مزید افریقی ممالک کیلئے پروازیں روک دی ہی ۔سعودی وزارت داخلہ نے ملاوی،زیمبیا،مڈغاسکر اور انگولا کے لیے پروازیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب نے سیشلز، ماریشس اور کوموروس جزائر کیلئے بھی پروازیں روک دی ہیں۔

    کورونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک پاکستان نے ہانگ کانگ سمیت 6 افریقی ممالک پر سفری پابندی عائد کر دی

    دوسری جانب امریکی دوا ساز کمپنی موڈرنا نے اعلان کیا یے کہ وہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے لیے ویکسین کے بوسٹر شاٹ تیار کرے گی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپنی نے کورونا کے نئے ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے تین آپشنز پر مشتمل حکمت عملی میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ اومی کرون سے بچنے کے لیےموجودہ ویکسین کی زیادہ خوراک استعمال کی جائے۔

    موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیفن بینسل نے کورونا کی نئی قسم کو تشویشناک قرار دیا ہےان کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نئی قسم کے خلاف اپنی حکمت عملی پر جلد عملدرآمد کریں۔

    پاکستان میں مزید 303 کورونا کیسز رپورٹ

    دوسری جانب یورپی یونین کے ڈرگ ریگولیٹرزکا کہنا ہے کہ وہ نئی قسم کا جائزہ لے رہے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اومی کرون کے لیے نئی ویکسین کی ضرورت ہے یا نہیں اومی کرون سے متعلق معلومات ابھی نا کافی ہیں ان معلومات سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے کہ یہ قسم زیادہ پھیلے گی یا ویکسین سے حاصل کی گئی مدافعت اس کے لیے کافی نہیں ہوگی یہ جاننے میں کچھ وقت لگے گا کہ اومی کرون کے لیے کسی نئی میڈیسن کی ضروت ہو گی یا نہیں۔

    کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں انکشاف ہوا اور اس کے بعد یہ وائرس بیلجیئم، بوٹسوانا، اسرائیل، ہانگ کانگ اور یورپی ممالک میں بھی پایا گیا ہے۔

    کورونا وائرس کی نئی اور خطرناک ترین قسم اومی کرون یورپ بھی پہنچ گئی غیر ملکی میڈیا کے مطابق کورونا کی نئی قسم اومی کرون جرمنی، اٹلی اور برطانیہ بھی پہنچ گئی ہے جرمنی کے وزارت صحت کے حکام کے مطابق جنوبی جرمنی کی ریاست باویریا میں نئےکورونا وائرس کے دو کیسز اور ایک مشتبہ کیس ملک کے مغرب میں پایا گیا ہے۔

    سب سے پہلے جنوبی افریقہ سے واپس آنے والے ایک شخص میں اومی کرون کی علامات کی تشخیص ہوئی ہے۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا کہ برطانیہ میں اومی کرون وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز ہیں، ایک کیس چیلمسفورڈ اور ایک ناٹنگھم میں پایا گیا ہے دونوں افراد حال ہی میں جنوبی افریقہ کے سفر سے واپس آئے تھے۔

    اٹلی کے نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ موزمبیق سے میلان واپس آنے والے ایک شخص میں اومیکرون کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اس کے علاوہ چیک ریپبلک میں بھی نئے ویرینٹ کا ایک مشتبہ کیس رپورٹ کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی تھی بتایا گیا ہے کہ یہ قسم کورونا کی پہلے سے معلوم اقسام سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ابھی اس نئی قسم کے بارے میں مکمل سائنسی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ۔ کینیڈا، برازیل، پاکستان، جاپان اور ساوتھ کوریا سمیت کئی ممالک نے افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اور کئی ایونٹ بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کا ویمن ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائر میچ منسوخ کردیا گیا تھائی لینڈ بمقابلہ امریکہ اور پاکستان بمقابلہ زمباوے میچز شیڈول کے مطابق ہوں گےورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے 12 ویں وزارتی کانفرنس کو بھی ملتوی کر دیا ہے، کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ جنرل کونسل کے صدر نے اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا اور کہا کہ صحت کے لئے ضروری ہے کہ کام چلتا رہے، کانفرنس بعد میں منعقد کی جائے گی-

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی-

  • اسرائیل اور بیرون ممالک سے فنڈ لیے گئے، مریم اورنگزیب

    اسرائیل اور بیرون ممالک سے فنڈ لیے گئے، مریم اورنگزیب

    ‏ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کی احتساب عدالت کےباہرمیڈیاسےگفتگو‏
    ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عوام سے بہتر کوئی نہیں جانتا ،اسرائیل اور بیرون ممالک سے فنڈ لیے گئے ،‏لاہور کو آلودہ ترین شہر قرار دےدیا گیا ،حکمرانوں نے ڈھائی سال سے اپنے مخالفین کو کال کوٹھریوں میں بند کر رکھا ہے ،
    سیسلین مافیا وہ ہوتاہے جو عوام کا آٹا اور چینی چوری کرتاہے،سیسلین مافیا وہ ہوتاہے جو اسرائیل اور بھارت سے فنڈ منگوائے ،سوال پوچھوتو شہباز شریف جیل جاتاہے،
    سیف اللہ نیازی سینیٹ کی سیٹ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ،پاکستان پر مافیا مسلط ہے ،نوکریاں فرینڈز آف بنی گالہ کو ملتی ہیں ،ہر روز ایک ڈاکے،چوری کی تصویر پاکستانی عوام کے سامنے آتی ہے،سوال پوچھو تو، شہباز شریف،رانا ثناء اللہ،حمزہ شہباز جیل جاتے ہیں،جب تک ملک میں آلودہ حکمران مسلط ہوں گے،معیشت آلودہ ہوگی،مریم اورنگزیب

  • پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

    یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

    پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

    اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔

  • "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا  مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 کیا ہے؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    مسئلہ فلسطین دنیا کے بڑے اور تاریخی تنازعات میں سے ایک ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد بالخصوص برطانیہ و دیگر ممالک نے جیوش ایجنسی کے ساتھ مل کر نام نہاد "ہولو کاسٹ” میں بچ جانے والے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو اکٹھا کرکے ایک جگہ پر بسانے کھ منصوبے پر کام شروع ہوا جس کے لیے بیت المقدس(یروشلم) اور اس کے گرد و نواح کے علاقے کا انتخاب کیا گیا کہ یہودی بیت المقدس پر ہیکل سلیمانی کا دعویٰ کرتے ہیں. اس پلان کی وجہ سے ایک تو یہودیوں کو کوئی دیس مل جاتا اور دوسرا مستقل عرب دنیا کو ایک خطرے سے دوچار رکھا جاسکتا تھا تاکہ وہ آگے چل کر دنیا میں کوئی موثر کردار نہ ادا کرپائیں.
    اس کے لیے چودہ مئی 1948 کو یروشلم کو عالمی نگرانی کے تحت چلانے ، اس کے گرد و نواح میں یہودیوں کی آبادکاری اور اسرائیل کے قیام کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو گیارہ مئی 1949 کو منظور کرکے اسرائیل کے قیام باقاعدہ عمل میں لایا گیا.جس کو عرب لیگ اور عرب ہائی کمیٹی نے مسترد کیا اور اس خطے میں جنگ چھڑ گئی جو تاحال جاری ہے جس میں بڑی جنگیں بھی شامل ہیں جن میں عرب ممالک بھی شامل ہوتے رہے اور اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہوتی رہی لیکن ان سب جھڑپوں اور جنگوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطینیوں کی بہت بڑی تعداد بے گھر ہوتی چلی گئی اور اسرائیل یکے بعد دیگرے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کرتا چلا گیا.
    بین الاقوامی اداروں اور ملکوں کی مداخلت کے باوجود مسئلہ فلسطین لاینحل مسئلہ رہاہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ و جدل کی ایک وجہ بھی یہی مسئلہ فلسطین ہے.ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ایک پلان پیش کی ہے جس کو دی ڈیل آف سنچری کا نام دیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کے لیے اس صدی کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا. اس منصوبے کے مین نکات یہ ہیں.

    مشرقی یروشلم پر مکمل اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جائے گا اور شہر کے ایک حصے میں فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے گا.
    چار سال کے لیے یہودی بستیوں کی آبادکاری پر پابندی عائد ہوگی جبکہ مغربی کناروں سمیت اب تک جو یہودی بستیاں قائم ہوچکی ہیں وہ اسرائیل کا حصہ ہوں گی.
    اپنی بستیوں سے نکالے گئے فلسطینی جو غزہ کی پٹی میں محصور ہوچکے ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکیں گے.
    اسرائیل اردن کے بادشاہ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یروشلم کے مقدس مقامات کی انتظامیہ کا موجودہ نظام برقرار رہے گا
    فلسطینیوں کے لیے مختص کیے گئے علاقے آئندہ چار سال آمد و رفت کے لیے کھلے رہیں گے اور وہاں کوئی تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا۔
    اس وقت کے دوران فلسطینیوں کے پاس موقع ہوگا کہ وہ اس پلان کا جائزہ لیں، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کریں اور ’خود مختار ریاست کے لیے تعین شدہ پیمانے پر پورا اتریں.

    اس منصوبے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پلان کے تحت فلسطینیوں کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی ایک آزاد ریاست قائم کر لیں. ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پلان سے فلسطینی علاقہ دوگنا ہو جائے گا اور مشرقی یروشلم دارالحکومت بن جائے گا جہاں امریکہ اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔
    اسرائیل نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہتے ہوئے انھیں ‘وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا بہترین دوست’ قرار دیا ہے.
    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ‘منصوبہ اس صدی کا ایسا موقع ہے جسے ہم ضائع نہیں کریں گے۔
    جبکہ فلسطینی اتھارٹی اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرچکی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غرب اردن پر اسرائیلی حاکمیت کو مستقل طور پر مسلط کرنے کے مترادف ہے۔
    فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک ’سازش‘ ہے میں ٹرمپ اور نتن یاہو کو کہتا ہوں یروشلم برائے فروخت نہیں ہے۔ ہمارے حقوق برائے فروخت نہیں ہیں اور نہ ہی سودے کے لیے ہیں۔ آپ کا منصوبہ، آپ کی سازش منظور نہیں ہوگی۔‘
    حماس نے مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے اس منصوبے کو اشتعال انگیز اور فضول قرار دیا ہے۔ ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو یکطرفہ اور اسرائیل نواز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
    پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کی حمایت کی ہے، پاکستان فلسطینیوں کو جائز حقوق اور حق خود ارادیت دینے کا حامی ہے اور پاکستان ایسی فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا جو 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی سرحدی حدود پر مشتمل ہو اور القدس جس کا دارالحکومت ہو.
    امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر غور کے لیے عرب لیگ کا اجلاس ہفتے کے روز طلب کیا گیا ہے۔