Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • پاکستان کا 2 ریاستی حل کی حمایت پر برطانیہ ،فرانس سمیت 13 ممالک کے مؤقف کا خیرمقدم

    پاکستان کا 2 ریاستی حل کی حمایت پر برطانیہ ،فرانس سمیت 13 ممالک کے مؤقف کا خیرمقدم

    پاکستان نے کینیڈا، فرانس، برطانیہ سمیت 13 ممالک کی جانب سے فلسطین کے مسئلے کے 2 ریاستی حل کی حمایت کے اعادے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات 2 ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد سے صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے،فلسطینی سرزمین کے انضمام یا قبضے کے مترادف اقدامات اور فلسطینی آباد ی کی جبری بے دخلی کی سخت مخالفت کی جائے گی، اسرائیل کو غیر قانونی بستیوں کی توسیع فوری طور پر روکنے اور آبادکاروں کے تشدد کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانا چاہیے، اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ سنگین جرائم کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

    پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق 2 ریاستی حل کا بھرپور حامی ہے، اس حل کے تحت 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور القدس شریف کو اس کا دارالحکومت قرار دیا جانا چاہیے،مستقل جنگ کے خاتمے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے 2 ریاستی حل ہی قابلِ عمل راستہ ہے، جبکہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی آبادکاری اور اس کے ساتھ جاری تشدد کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔

  • برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندی

    برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندی

    مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادی کاری کے مسئلے پر اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کے درمیان سفارتی کشیدگی شدید تر ہو گئی ہے۔

    برطانوی حکومت، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے مغربی کنارے کی بستیوں سے آنے والی آبادکاروں کی اسرائیلی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے اعلان کے بعد اسرائیل نے سخت ردعمل دیتے ہوئے مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصلیٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ گڈون سار نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی اقدام کو ”اخلاقی طور پر گمراہ کن اور اسرائیل کے اندرونی و انتخابی معاملات میں کھلی مداخلت“ قرار دیا ہے، اس کے علاوہ جیرمی کوربن سمیت متعدد برطانوی اہلکاروں اور شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

    یہ تنازع اس وقت مزید بڑھا جب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ایک مشترکہ بیان جا ری کرتے ہوئے دو ریاستی حل کی حفاظت کے لیے تجارتی اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا۔

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ہم اب فلسطینیوں کی تباہی اور حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے، لہذا ہمیں سیکیورٹی اور دو ریاستی حل کی بقا کے لیے اب عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی اقدامات کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے بھی تعبیر کیا، جسے اسرائیلی و زیر خارجہ نے اشتعال انگیز جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    دوسری جانب ڈنمارک، ناروے، اسپین اور سویڈن سمیت نو دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی ایک الگ بیان میں دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اس سفارتی جنگ کے دوران کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیاں امن کے مقاصد کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، اسی لیے کینیڈا دو ریاستی حل کے موقف پر قائم ہے،تاہم اس معاملے پر امریکا نے اپنے مغربی اتحادیوں سے مختلف موقف اختیار کیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پابندیاں مغربی کنارے میں حالات کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہیں، اور واشنگٹن اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمدات پر کوئی پابندی نہیں لگائے گا۔

  • فلسطینیوں کی جبری بے دخلی :پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی اسرائیلی وزرا کے بیانات کی شدید مذمت

    فلسطینیوں کی جبری بے دخلی :پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی اسرائیلی وزرا کے بیانات کی شدید مذمت

    پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزرائے دفاع و قومی سلامتی کے فلسطینیو ں کو غزہ سے بے دخل کرنے سے متعلق بیانات اور تجاویز کی شدید مذمت کی ہے۔

    مشترکہ بیان میں آٹھوں ممالک نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے ان بیانات کو مسترد کیا جن میں غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی یا بے دخلی کے منصوبوں اور طریقہ کار کی بات کی گئی ہے۔

    وزرائے خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق اشتعال انگیز بیانات اور تجاویز بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

    مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش یا منصوبے کو، خواہ یہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر ہو یا ان سے باہر، کسی بھی جواز یا بہانے کے تحت قبول نہیں کیا جائے گا، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو سرکاری پالیسی یا عملی اقدامات کی شکل دینے سے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس سے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر رہنے اور اپنے جائز حقوق کے حصول کا حق حاصل ہے جبکہ جبری بے دخلی خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی یا نام نہاد ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کے منصوبوں کی حمایت کی تھی، اس صورتحال پر امریکا کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے بھی کہا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے زبردستی نکالنے کے لیے امریکا کا حمایت یافتہ کوئی منصوبہ موجود نہیں۔

    پاکستان سمیت آٹھ ممالک اس سے قبل بھی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، اسرائیلی آبادکاری اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی کوششوں کو مسترد کرتے رہے ہیں،اگست 2026 میں بھی انہی آٹھ ممالک نے اسرائیل کے E1 آبادکاری منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کارروائیاں دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

  • جنگ کے دوران اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا،اسرائیلی وزیراعظم

    جنگ کے دوران اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر پر حملے اور بمباری پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا-

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اسرائیلی نیوز چینل ’24 نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطر کو ’دشمن ریاست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پالیسی کسی دوسرے ملک کے دباؤ کے تحت نہیں چلتی، اسرائیل نے جنگ کے دوران قطر پر حملہ اور بمباری کی اور قطر نے بھی اسرائیل کو نشانہ بنایا۔

    نیتن یاہو کا یہ بیان قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کے تقریباً ایک سال بعد سامنے آیا ہے، 9 ستمبر 2025 کو ہونے والے حملے میں حماس کے 5 ارکان اور قطری سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے، یہ حملہ حماس کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا تھا، جس میں امریکا کی حمایت سے غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت جاری تھی۔

    قطر نے اس حملے کو عالمی قوانین اور ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی تھی، جبکہ ایران، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک نے بھی اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حملے کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

    دوسری جانب نیتن یاہو نے غزہ کو بھیجی جانے والی قطری مالی امداد سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم انسانی امداد کے لیے تھی اور اسے اسرائیلی خفیہ اداروں موساد اور شن بیت کی سفارش پر منتقل کیا گیا تھا، ان کے مطابق غزہ میں داخل ہونے والی مجموعی رقم میں قطری فنڈز کا حصہ صرف 2 فیصد تھا۔

  • ایران نے حملہ کیا تو ’بھرپور طاقت‘ کے ساتھ جوابی کارروائی کریں گے،اسرائیل

    ایران نے حملہ کیا تو ’بھرپور طاقت‘ کے ساتھ جوابی کارروائی کریں گے،اسرائیل

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ’بھرپور طاقت‘ کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا۔

    اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج یہودیوں کے اہم مذہبی تہواروں کے سیزن کے دوران ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے لیے تیار ہے۔ یہ مذہبی تہوار ستمبر کے وسط میں شروع ہونے والے ہیں،فی الحال ایران خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم اسرائیل کو بھی ممکنہ ایرانی حملے کا خد شہ ہے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج دفاعی طور پر مکمل تیار ہے۔

    اسرائیل کاٹز نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل کسی دوسرے ملک کی مدد یا اجازت کا انتظار کیے بغیر خود کارروائی کرے گا ان کے مطابق اسرائیلی جنگی طیارے حملے کے لیے تیار ہیں-

    اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب ایرانی فورسز نے خطے کے مختلف مقامات پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کی ہیں،تاہم اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

  • امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار چھپا رہے ہیں،ترجمان ایرانی مسلح افواج

    امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار چھپا رہے ہیں،ترجمان ایرانی مسلح افواج

    ایرانی مسلح افواج کے سینیئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایک ہزار اسرائیلی اہلکار ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے۔

    بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار چھپا رہے ہیں افغانستان اور عراق جنگ کے دوران بھی امریکا نے ہلاکتوں کی مکمل تعداد فوری طور پر ظاہر نہیں کی تھی، امریکا نے بعض ہلاک فوجیوں کی باقیات بھی بعد میں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیں۔

    انہوں نے امریکی فوج کو ’’ہالی ووڈ اور پروپیگنڈا فوج‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ مسلم ممالک کے وسائل کو لوٹ کا مال سمجھتی ہے حالیہ جنگ نے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ امریکی فوج اور اسرائیلی حکومت کی طاقت کے حوالے سے بنائی گئی شبیہ حقیقت سے مختلف ہے جن ممالک نے اپنی سرز مین پر امریکی فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، انہیں بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ امریکا ان کا تحفظ نہیں کرسکتا ’’جو امریکا اپنا تحفظ نہیں کرسکتا، وہ دوسروں کا تحفظ کیسے کرے گا، آیت اللہ علی خامنہ ای اور میناب اسکول کے طلبہ کی ہلاکت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔

  • اسرائیلی پولیس اور انتہائی قدامت پسند یہودیوں کے درمیان جھڑپیں

    اسرائیلی پولیس اور انتہائی قدامت پسند یہودیوں کے درمیان جھڑپیں

    تل ابیب میں فوجی بھرتی کے خلاف احتجاج کے دوران اسرائیلی پولیس اور انتہائی قدامت پسند یہودی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

    اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ تل ہاشومر میں قائم فوجی بھرتی دفتر کے قریب مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں منتشر کرنے کی کارروائی شروع کی،مظاہرین کو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے متعدد بار منتشر ہونے کی ہدایت دی گئی، تاہم ان پر عوامی نظم میں خلل ڈالنے، راستے بند کرنے اور پولیس سے جھڑپوں کا الزام عائد کیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق درجنوں انتہائی قدامت پسند یہودی مظاہرین صبح سویرے فوجی بھرتی دفتر جانے والی سڑکوں پر جمع ہوئے اور بعض افراد رات سے ہی وہاں موجود تھے تاکہ بھرتی کا عمل شروع ہونے سے روکا جا سکے۔

    یہ احتجاج ایسے وقت میں جاری ہیں جب اسرائیلی سپریم کورٹ نے 25 جون 2024 کو فیصلہ دیا تھا کہ انتہائی قدامت پسند یہودیوں، جنہیں حریدی بھی کہا جاتا ہے، کو فوجی سروس سے عمومی استثنا نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ ان مذہبی اداروں کو سرکاری مالی امداد روکی جا سکتی ہے جن کے طلبہ فوجی سروس سے انکار کرتے ہیں۔

    حریدی یہودی اسرائیل کی تقریباً ایک کروڑ آبادی کا لگ بھگ 13 فیصد ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی زندگی تورات کی تعلیم و مطالعہ کے لیے وقف کرتے ہیں اور فوج میں شمولیت ان کی مذہبی شناخت اور طرزِ زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ کئی سینئر مذہبی رہنما اپنے پیروکاروں کو فوجی بھرتی سے انکار کرنے کی ہدایت بھی دے چکے ہیں۔

  • ایران نے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام بحال کیا تو دوبارہ حملہ کریں گے،اسرائیلی وزیر

    ایران نے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام بحال کیا تو دوبارہ حملہ کریں گے،اسرائیلی وزیر

    اسرائیل نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنا جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل ایک بار پھر حملہ کرے گا، چاہے ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے ہفتے کے روز اسرائیلی ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کی کوشش کو اسرائیل برداشت نہیں کرے گا، اگر ایران نے دوبارہ یہ پروگرام شروع کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل کارروائی کرے گا، چاہے اس دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاچکا ہو۔

    اسرائیلی وزیر کے مطابق اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کرچکا ہوتا انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے جائزے کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام 2 سے 4 سال پیچھے چلا گیا ہے جبکہ اسرائیل اپنی فوجی صلاحیت پہلے ہی ثابت کرچکا ہے، اور اگر ایران نے دوبارہ جوہری یا میزائل پروگرام کی تعمیر نو کی کوشش کی تو اسرائیل کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اسرائیلی وزیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اہم خطرہ سمجھتا ہے۔

  • شام نے حملے کے بعد اسرائیل سے رابطے معطل کر دیئے

    شام نے حملے کے بعد اسرائیل سے رابطے معطل کر دیئے

    شام نے ابو الظہور ملٹری ایئربیس پر اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل سے رابطے معطل کر دیئے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ اسرائیل پر فی الحال اعتماد نہیں، اسرائیلی حملے روکنا شام کی اولین ترجیح ہے، شام سفارت کاری کے ذریعے تعلقات کا خواہشمند ہے،اسرائیل سکیورٹی معاہدے پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، معاہدے میں اسرائیل سے تمام سکیورٹی امور پر اتفاق ہو گیا تھا، اسرائیل میں معاہدے تک پہنچنے کی حقیقی خواہش نہیں دیکھی، شام کی ترجیح سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اسرائیلی جارحیت روکنا ہے۔

    واضح رہے اسرائیل نے پانچ دن قبل شمال مغربی شام میں واقع ابو الظہور ملٹری ایئربیس پر فضائی حملے کیے جن میں رن وے اور اسٹوریج تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا،اس کے علاوہ آج بھی شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں واقع ایک گاؤں میں گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں، ڈرون نے بیت جن کے مضافاتی علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شہری زخمی ہوئے۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی میں ایک ایسے شخص کو نشانہ بنایا گیا جو ’’دہشتگرد حملوں کی تیاری کے آخری مراحل‘‘ میں تھا اور جس کی سرگر میاں اسرائیلی فوجیوں کے لیے فوری خطرہ بن رہی تھیں،شام کی وزارت خارجہ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    دمشق نے اسرائیل کو ایسے حملوں کے ممکنہ نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسرائیلی کارروائیاں رکوانے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • دمشق میں اسرائیل کا ڈرون حملہ ، متعدد افراد زخمی

    دمشق میں اسرائیل کا ڈرون حملہ ، متعدد افراد زخمی

    شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں واقع ایک گاؤں میں گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

    شامی حکام کے مطابق ڈرون نے بیت جن کے مضافاتی علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی میں ایک ایسے شخص کو نشانہ بنایا گیا جو ’’دہشتگرد حملوں کی تیاری کے آخری مراحل‘‘ میں تھا اور جس کی سرگرمیاں اسرائیلی فوجیو ں کے لیے فوری خطرہ بن رہی تھیں۔

    شام کی وزارت خارجہ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے،دمشق نے اسرا ئیل کو ایسے حملوں کے ممکنہ نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسرائیلی کارروائیاں رکوانے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    کویت نے بھی اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، خطے میں بار بار ہونے والی ایسی کارروائیاں کشیدگی میں اضافے اور علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق شام میں یہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیل کی جانب سے کیا جانے والا دوسرا حملہ ہے، جس کے باعث خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، امریکی خصوصی ایلچی برائے شام ٹام بارک نے بھی گزشتے ہفتے کی کارروائی کو ’’غیر ضروری‘‘ قرار دیا تھا۔

    علاقائی سطح پر بھی اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اردن نے حملے کو شام کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے شام کے خلاف بار بار کی جانے والی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔