Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فضائی بمباری، 41 افراد شہید

    اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فضائی بمباری، 41 افراد شہید

    لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 41 افراد شہید ہو گئے۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید 41 افراد شہید ہوئے ہیں یہ حملے ایسے وقت میں جاری ہیں جب 17 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، مارچ سے جاری کشیدگی کے بعد مجموعی شہادتوں کی تعداد 2,659 جبکہ 8,183 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی افواج نے متعدد فضائی حملے کیے، جن میں نبطیہ، بنت جبیل، شوکین، کفر دجال اور دیگر علاقے شامل ہیں ان حملوں میں رہائشی مکانات اور گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق نبطیہ کے علاقے شوکین پر حملے میں 3 افراد، جبکہ کفر دجال پر گاڑی کو نشانہ بنانے سے 2 افراد شہید ہوئے اسی طرح لوازیہ میں ایک گھر پر حملے میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اسرائیلی فضائیہ نے نبطیہ کے قریب القدس چوک اور ضلع ٹائر کے علاقے صدیقین کے گرد بھی حملے کیے، جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان ہوا۔

    دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کے حملے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہیں، تاہم مقامی رپورٹس کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والوں میں عام شہری شامل ہیں ادھر حزب اللہ نے بھی اسرائیلی افواج پر جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں مختلف مقامات پر اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

  • اسپین اسرائیل تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی

    اسپین اسرائیل تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی

    گزشتہ دنوں غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ایک فلوٹیلا کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا تھا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد اسپین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی ،حراست میں لیے گئے افراد میں ہسپانوی نژاد فلسطینی کارکن سائف ابو کشک بھی شامل ہیں جبکہ سپین اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے یورپی یونین کو باضابطہ درخواست پیش کرے گا۔

    اسپین کے وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر سائف ابو کشک کو رہا کرے ابو کشک کو برازیل کے کارکن تھیاغو آویلا کے ساتھ اسرائیل کے جنوبی شہر اشکلون میں حراست میں رکھا گیا ہے قانونی امدادی تنظیم “لیگل سینٹر فار عرب مائنارٹی رائٹس اِن اسرائیل (عدالہ)” کے مطابق دونوں افراد نے حراست کے دوران بھوک ہڑتال شروع کر دی ہےانکے نمائندوں نے دونوں کارکنوں سے ملاقات کی، جنہوں نے الزام لگایا کہ انہیں حراست کے دوران مار پیٹ، آنکھوں پر پٹی اور تنہائی میں رکھنے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان پر ممکنہ طور پر حماس سے روابط کے الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے وزارت نے یہ بھی کہا کہ انہیں قونصلر ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔

    اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسپین اپنے شہریوں کا تحفظ کرے گا، بین الاقوامی قانون کی پاسداری جاری رکھے گا، اور اسرائیل سے ہسپانوی شہری کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ اسپین اور اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی غزہ جنگ کے حوالے سے شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور مسلسل اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتا رہا ہے-

  • ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران کے صوبے زنجان میں جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے گرائے گئے نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران دھماکا ہوا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز اُس وقت پیش آیا جب خصوصی ڈیمولیشن یونٹس ایک حساس مشن پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد امریکا اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد علاقے میں موجود نہ پھٹنے والے گولہ بارود کی نشاندہی کرکے ناکارہ بنانا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کلسٹر بموں اور دیگر بارودی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد زنجان کے وسیع علاقے کو خطرات لاحق ہو گئے تھے اس بارودی مواد کے باعث زرعی زمینوں سمیت تقریباً 1200 ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا۔

    بیان کے مطابق ان ہی خطرات کے پیش نظر خصوصی یونٹس نے انتہائی احتیاط اور مہارت کے ساتھ بارودی مواد کی تلاش، صفائی اور ناکارہ بنانے کا آپریشن شروع کیا تھا ٹیمیں اپنی ذمہ داریوں میں مصروف تھیں کہ اسی دوران ایک مقام پر بارودی مواد اچانک دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں یہ جانی نقصان ہوا تمام جاں بحق اہلکار تربیت یافتہ، تجربہ کار اور ماہر افراد تھے جو خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک خصوصی ٹیمیں 15 ہزار سے زائد نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنا چکی ہیں، تاہم اب بھی کئی علاقوں میں بارودی مواد موجود ہےیہ ہتھیار بین الاقوامی کنونشنز کے تحت ممنوع تصور کیے جاتے ہیں کیوں کہ ان کے چھوٹے چھوٹے حصے برسوں تک خطرہ بنے رہتے ہیں، کلیئرنس آپریشن کے دوران یہ مواد زمین کے نیچے تقریباً تین میٹر گہرائی میں بھی دفن پایا گیا، جس کی نشاندہی اور ناکارہ بنانے کا عمل انتہائی خطرناک تھا۔

  • سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان رہا

    سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان رہا

    سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ 2 کارکنوں کو تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل کیا گیا ہے-

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے ‘گلوبل صمود فلوٹیلا’ میں شامل 2 کارکنوں کو تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہےہسپانوی شہری سیف ابو کشک اور برازیلی نژاد تھیاگو آویلا کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے گا کیونکہ ان کا تعلق ایک ایسی تنظیم سے ہے جس پر امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔

    اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں کارکن ’پاپولر کانفرنس فار فلسطینی ابراڈ‘ منسلک ہیں، جس پر واشنگٹن نے حماس کے لیے خفیہ طور پر کام کرنے کا الزام لگایا ہے، ابو کشک مذکورہ تنظیم کے اہم رکن ہیں جبکہ تھیاگو آویلا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں زیرِ تفتیش ہیں اسرائیل میں مقیم ان دونوں ممالک کے قونصلر نمائندے جلد ان سے ملاقات کریں گے۔

    واضح رہے کہ اس امدادی بیڑے میں 50 سے زائد کشتیاں شامل تھیں جنہوں نے فرانس، اسپین اور اٹلی کی بندرگاہوں سے غزہ کا بحری محاصرہ توڑنے کے لیے سفر شروع کیا تھا،فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے ایک ہزار کلومیٹر دور بین الاقوامی سمندر میں کارروائی کرتے ہوئے 211 کارکنوں کو حراست میں لیا اور ان کے ساز و سامان کو نقصان پہنچایا۔

    اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں حراست میں لیے گئے درجنوں کارکن جمعہ کے روز یونانی جزیرے کریٹ پر اترے پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی حراست میں لیے گئے افراد میں شامل تھے، تاہم نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کی رہائی کی تصدیق کر دی ہے۔

  • حزب اللہ  نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو روایتی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے فائبر آپٹک یا جدید FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ یہ ڈرونز روایتی الیکٹرانک وارفیئر اور دفاعی نظاموں (جیسے آئرن ڈوم) سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ ریڈیو سگنل کے بجائے فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے آپریٹر سے جڑے ہوتے ہیں، جس سے ان کا سگنل جام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

    یہ ڈرونز طویل فاصلے سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو فیڈ کی بدولت انتہائی درست نشانہ بناتے ہیں ان ڈرونز کی وجہ سے اسرائیلی ٹینکوں، بالخصوص مرکاوا ٹینک، اور فوجی ٹھکانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں،، جس کے باعث نیتن یاہو نے حزب اللہ کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا ہے حزب اللہ نے اپنے ڈرون سسٹم کو جدید اور کم لاگت بنا کر میدان جنگ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہےیہ ٹیکنالوجی اسرائیل کے روایتی دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

  • امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں  ہے،برطانوی سفیر

    امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں ہے،برطانوی سفیر

    امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ امریکا کا خصوصی تعلق برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر صرف اسرائیل کے ساتھ ہے،امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں –

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو میں برطانوی سفیر نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعلق ضرور موجود ہے، خاص طور پر دفاع اور معیشت کے شعبوں میں، تاہم عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی صورتحال کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یورپ اب مکمل طور پر امریکا کے سکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کر سکتا، اس وقت امریکا کا خاص تعلق صرف ایک ملک کے ساتھ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہےبرطانوی سفیر نے موجودہ دور میں مغربی اتحادی ممالک کو اپنے تعلقات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سفیر کی ذاتی رائے اور خیالات ہیں اور حکومت کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔

  • اسرائیل نے صومالی لینڈ میں پہلا سفیر تعینات کر دیا

    اسرائیل نے صومالی لینڈ میں پہلا سفیر تعینات کر دیا

    اسرائیل نے خود ساختہ ریاست صومالی لینڈ میں اپنے پہلے سفیر کے تقرر کی منظوری دے دی ہے-

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے مائیکل لوٹم کو صومالی لینڈ میں اپنا پہلا سفیر مقرر کیا ہے۔ وہ اس وقت افریقہ کے لیے اسرائیل کے اقتصادی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس سے قبل آذربائیجان، کینیا اور قازقستان میں بطور سفیر فرائض انجام دے چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیتن یاہو نے دسمبر 2025 میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اس اقدام پر متعدد مسلم ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا اور خطے میں اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور تب سے وہ عملی طور پر خودمختار حیثیت رکھتا ہے، تاہم عالمی سطح پر اسے اب بھی صومالیہ کا حصہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور اسے محدود یا کوئی بین الاقوامی تسلیم حاصل نہیں، ماہرین کے مطابق اسرائیل کا یہ اقدام مشرقی افریقہ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک بڑی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

  • اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی وائرل تصویر نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے اس تصویر کے درست ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جائزے میں معلوم ہوا کہ تصویر ایک اسرائیلی فوجی کی ہے جو جنوبی لبنان میں ایک آپریشن کے دوران لی گئی ہے جب کہ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تحقیقات کے نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

    اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے فلسطینی رکن ایمن عودہ نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم انتظار کریں گے کہ پولیس ترجمان یہ دعویٰ کرے کہ فوجی کو حضرت عیسیٰ کے مجسمے سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔

    کنیسٹ کے ایک اور فلسطینی رکن احمد طیبی نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ غزہ میں مساجد اور گرجا گھروں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں اور یروشلم میں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر تھوکتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی، وہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو تباہ کرنے اور اس کی تصویر شائع کرنے سے بھی نہیں ڈرتےشاید ان نسل پرستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیکھ لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کیسے کی جاتی ہے اور پوپ لیو کی بھی بے حرمتی کیسے کی جاتی ہے؟-

    یہ بیان امریکی صدر کے حالیہ تنازعات کے تناظر میں دیا گیا، جن میں ان کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شامل تھی جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے نظر آئے تھے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ سے بھی اختلاف کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے گاؤں دیبل کے مضافات میں، اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع تھا اسرائیلی افواج نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران متعدد مذہبی مقامات، بشمول مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایااسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ سال آبادکاروں نے 45 مساجد پر حملے یا توڑ پھوڑ کی، جس کی تصدیق فلسطینی اتھارٹی کی وزارت مذہبی امور نے کی۔

    دوسری جانب مذہبی آزادی کے ڈیٹا سینٹر کے مطابق جنوری 2024 سے ستمبر 2025 کے درمیان عیسائیوں کے خلاف کم از کم 201 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر حملے آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے بین الاقوامی مذہبی شخصیات یا عیسائی علامات ظاہر کرنے والے افراد کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

  • ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    تہران میں اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت سنا دی گئی-

    ایرانی عدالتی ذرائع کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے حساس معلومات دشمن ملک تک پہنچائیں جسے قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیا گیا ہے مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے دونوں افراد کو سزائے موت کا حکم دیا حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں پر سخت کارروائی جاری رہے گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس نوعیت کے مقدمات اور فیصلے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

  • نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کےخلاف ہے۔

    سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو براہ راست قومی مفاد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف 3 دن باقی رہ گئے۔