Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد  ایران پربڑا حملہ ایک گھنٹہ پہلے منسوخ کیا،سربراہ اسرائیلی فضائیہ

    صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد ایران پربڑا حملہ ایک گھنٹہ پہلے منسوخ کیا،سربراہ اسرائیلی فضائیہ

    اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اوہمر ٹشلر نے انکشاف کیا ہے کہ 8 جون کو ایران کے خلاف ایک بڑے فضائی آپریشن کی تمام تیاریاں مکمل تھیں، تاہم حملہ روانگی سے محض ایک گھنٹہ قبل روک دیا گیا۔

    ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق فضائیہ کے اہلکاروں کے نام اپنے پیغام میں جنرل اوہمر ٹشلر نے بتایا کہ 8 جون کی دوپہر پوری اسرائیلی فضائیہ ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کے لیے تیار تھی اس آپریشن کے دوران ایران کے اندر سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا جانا تھا، تاہم اسکواڈرنز میں بریفنگ کے دوران آخری لمحے میں کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا،دفاعی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف تقریباً 1500 کلومیٹر دور حملے بھی کیے تھے، جن میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچا اور دیگر سرکاری تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق پہلے مرحلے میں جنگی طیاروں نے مغربی اور وسطی ایران میں فضائی دفاع کے 9 نظاموں کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرے مرحلے میں جنوب مغربی ایران کے ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں قائم 3 فیکٹریوں پر حملے کیے گئے اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان تنصیبات کو میزائلوں کی تیاری کے لیے خام مال فراہم کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو مزید حملوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے جنگ میں مزید شدت پیدا کی تو اسے اس محاذ پر تنہا رہنا پڑ سکتا ہے گزشتہ ہفتے جاری کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان متعدد بار رابطے ہوئے نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید کارروائی کے حق میں تھے، جبکہ ٹرمپ جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل پر زور دیتے رہے نیتن یاہو نے ایران کے خلاف ایک بڑ ے آپریشن کی منظوری بھی دے دی تھی، تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد اس کارروائی کو روک دیا گیا اور طیاروں کی روانگی سے قبل ہی حملہ منسوخ کر دیا گیا-

  • حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام  اور  اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام اور اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے-

    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل قانی کا کہنا تھا کہ شدید فوجی دباؤ اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود مزاحمتی محاذ کا ایک بھی گروہ میدان نہیں چھوڑا مزاحمتی گروہوں کی مسلسل موجودگی نے ایران کے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے خطے میں موجود مزاحمتی گروہوں نے ایران کی حمایت میں امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے خود اقدام کیا اور اس حوالے سے تہران کی جانب سے انہیں براہِ راست کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔

    اسماعیل قانی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کو ختم کیے جانے یا اس کی طاقت کمزور ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ لبنانی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور اسے ختم کرنا ممکن نہیں، حزب اللہ کی صلاحیتیں عوامی سطح پر نظر آنے والی طاقت سے کہیں زیادہ ہیں اور ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے دکھائی گئی قوت درا صل برفانی تودے کی صرف نوک تھی۔

    ایرانی جنرل نے باب المندب آبنائے کو ایران کے حامی گروہوں کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک برتری قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران امریکی جنگی جہازوں نے اس علاقے سے گزرنے سے گریز کیاانہوں نے حالیہ سفارتی کوششوں میں شریک ایرانی مذاکرات کاروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ لبنان میں ہونے والی پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری اور سفارتی محاذوں پر سرگرم عناصر ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں، حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔

  • اسرائیل  امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے،انتہا پسند اسرائیلی وزیر

    اسرائیل امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے،انتہا پسند اسرائیلی وزیر

    اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی بن گویر نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے اور وہ امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے۔

    اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایتامار بن گویر نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اس لیے اسرائیل اس کا فریق نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا اسرائیل پر کوئی اطلاق نہیں ہوتا ٹرمپ کا معاہدہ ہمارے لیے پابند نہیں ہے اسرائیل امریکا کے تابع نہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی نے مزید کہا کہ اسرائیل کو لبنان میں اپنی افواج کے زیرِ قبضہ آنے والے کسی بھی علاقے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے ہم اس معاہدے کے شراکت دار نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا ہمیں لبنان میں اپنے جنگجوؤں کے قبضے میں آنے والے کسی بھی علاقے سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 14 جون کو اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مکمل ہو چکا ہےانہوں نے امریکی بحری ناکہ بند ی فوری طور پر ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے ٹول فری کھولنے کا بھی اعلان کیا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے، سب کو مبارک ہو میں آبنائے ہرمز کو ٹول فری بنیادوں پر مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دیتا ہوں اور ساتھ ہی امریکا کی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی منظو ری دیتا ہوں دنیا کے جہاز اپنے انجن شروع کریں، تیل کو آزادانہ بہنے دیں۔

  • اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نےواضح کیا کہ اگر ایران نے لبنان میں پیش آنے والے واقعات کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل بھرپور جوابی کارروائی کرے گا ، اس حملے کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو تھے۔

    یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر اسرائیلی حملے پر تنقید کی تھی،صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے معاہدہ اب بھی ممکن حد تک قریب ہے۔

    ایران کے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جنوبی بیروت کے مضافات پر اسرائیلی حملے کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت یا سیاسی عزم نہیں رکھتا،ایران کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس کے سخت جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے،ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انگلی ٹریگر پر ہے اور وہ دشمن کے دل پر وار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بیروت پر حملہ ایسے دن نہیں ہونا چاہیے تھا جب ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب تر ہے۔

  • ایران معاہدہ بچانا ہے توسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دیں،ٹرمپ کے سابق مشیر کا مشورہ

    ایران معاہدہ بچانا ہے توسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دیں،ٹرمپ کے سابق مشیر کا مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کامیاب بنانا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دینی چاہیے۔

    جو کینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا اور د عویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو ناکام بنانے کی متعدد کوششیں کیں اور اگر امریکا نے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو مستقبل میں بھی ایسی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کو خلیجی ممالک میں موجود اپنی فوجی تنصیبات اور اڈوں پر تعینات اہلکاروں کو بھی خاموشی سے واپس بلانے پر غور کرنا چاہیے کیونکہ یہ اڈے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں،اگر امریکی فوجی اہداف ایران کی پہنچ سے دور ہوں گے تو ایرانی سخت گیر عناصر کے لیے امریکا کو دوبارہ جنگ میں دھکیلنا مشکل ہو جائے گا واشنگٹن کو ایسے تمام عوامل ختم کرنے چاہئیں جو امریکا کو دوبارہ ایران یا اسرائیل کے ساتھ کسی نئے تنازع میں الجھا سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ جو کینٹ نے ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ سے استعفیٰ دیا تھا ان کا حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ سیاسی معاہدے سے متعلق سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

  • اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا،ٹرمپ

    اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کو صرف کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، جسے کسی بھی صورت فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور یہ پابندی مستقل نوعیت کی ہوگی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد افزودگی کے برابر ہوگی تو انہوں نے واضح شرح بتانے کے بجائے کہا کہ ایران صرف پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کر سکے گا اگر ایرانی حکومت مستقبل میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلا ف سخت کارروائی کرتی ہے یا انہیں قتل کرتی ہے تو ایسی صورت میں ایران کو مکمل پابندیوں میں نرمی حاصل نہیں ہو سکے گی تاہم ذرائع کے مطا بق یہ شرط مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ حصہ نہیں ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر بھی سخت تنقید کی، انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ایک بہت مشکل آدمی ہیں اور انہیں امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور معاہدے کے حتمی مراحل میں رکاوٹیں پیدا کیں ایران کے خلاف امریکی میزائل اور فضائی حملوں نے تہران پر دباؤ بڑھایا اور اسی وجہ سے ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا۔

    ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے ایرا ن مزید حملوں سے بچنا چاہتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہوئی۔

  • مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    ایران اور اسرائیل کے درمیان تاریخ کی پہلی براہِ راست اور کھلی جنگ کو 1 سال مکمل ہو چکا ہے، اس تنازع سے یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

    روس کے سرکار ی ٹی وی نیٹ ورک ’آرٹی‘ نےاپنےمضمون میں ایران اسرائیل جنگ سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے ہیں، ’آرٹی‘ کے مطابق دہائیوں سے جاری بالواسطہ یا ’خفیہ جنگ‘ کا اب باقاعدہ خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا موڑ پچھلے سال 13 جون 2025 کو آیا تھا، جب اسرائیل نے دہائیوں پرانی خفیہ دشمنی کو سامنے رکھتے ہوئے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات سے وابستہ حساس مقامات پر براہِ راست فضائی حملے کیے۔

    ’آر ٹی ‘ میں شائع مضمون کے مطابق ان حملوں کے ساتھ ہی برسوں سے جاری وہ خفیہ معرکہ آرائی کھلے فوجی تصادم میں بدل گئی جو اس سے قبل صرف سائبر حملوں،اقتصادی پابندیوں، پراکسی گروپوں، سفارتی دباؤ اور محدود نوعیت کی خفیہ کارروائیوں تک محدود تھی اسرائیل کا بنیادی مقصد ان حملوں کے ذریعے ایران کی اسٹرٹیجک اور دفاعی صلاحیتوں کو ایسا نقصان پہنچانا تھا جس سے وہ مفلوج ہو جائے، تاہم توقعات کے برعکس تہران نہ تو سیاسی طور پر کمزور ہوا اور نہ ہی اس نے پسپائی اختیار کی۔

    ’آر ٹی‘ کے مطابق ایران نے فوری اور مؤثر جوابی عسکری کارروائی کے ذریعے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ شدید ترین دباؤ کو برداشت کرنے اور اس کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہےاکتوبر 2023 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اگرچہ بعض اسرائیلی حکام نے حماس کو ایران کا نمائندہ قرار دیا، تاہم کئی تجزیہ کاروں کے مطابق حماس اپنی الگ سیاسی حکمتِ عملی اور اہداف رکھتی ہے اس کے باوجود اس بحر ان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا تھا اوراس میں سب سے اہم بات ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای تھے، تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای سےزیادہ ایران کے اسٹرٹیجک اثاثے ہدف تھے تاہم توقعات کے برعکس ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا کہ وہ شدید دباؤ برداشت کرنے اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری طاقت بلکہ ریاستی استحکام، اتحادوں اور عوامی یکجہتی کا بھی امتحان لیا بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، لیکن یہ معاہدہ تنازع کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ بداعتمادی برقرار رہی اور مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات بھی ختم نہ ہو سکے۔

    ’آر ٹی‘ نے لکھا کہ مبصرین کے مطابق جون 2025 کی جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کی ’آزمائش‘ تھی، نہ کہ اس تنازع کا اختتام۔ اگرچہ ایران کو فوجی، سیاسی اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑا، لیکن وہ اپنی دفاعی اور علاقائی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا تھا، اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں ہوئی 2026 کے دوران دوبارہ ابھرنے والی کشیدگی نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور مستقبل میں ایک نئی محاذ آرائی کا امکان موجود ہے۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ جون 2025 کی جنگ نے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی حکمتِ عملیوں کو بدل کر رکھ دیا اس نے ثابت کر دیا کہ ایران اور اسرائیل کے در میان بالواسطہ جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب براہِ راست تصادم ایک حقیقت بن چکا ہے ایران کے لیے یہ جنگ قومی عزم اور مزاحمت کی علامت بن گئی، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ اس کی پیشگی فوجی کارروائیوں کی پالیسی کا اہم امتحان ثابت ہوئی دونوں ممالک نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی ایک بڑے علاقائی بحران کے خطرات بھی واضح ہو گئے، جس میں آج مشرقِ وسطیٰ سب سے زیادہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔

    ایک سال بعد بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا خطہ مستقبل میں کسی اور بڑی جنگ سے بچ سکے گا یا نہیں ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پچھلی جنگ ختم ہو چکی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگلی جنگ کی نوعیت کیا ہوگی اور اس کے اثرات کتنے وسیع ہوں گے۔

  • نیتن یاہو  نے اسرائیل کوامریکا کا ’کلائنٹ اسٹیٹ‘ بنا دیا ہے،اسرائیلی اپوزیشن لیڈر

    نیتن یاہو نے اسرائیل کوامریکا کا ’کلائنٹ اسٹیٹ‘ بنا دیا ہے،اسرائیلی اپوزیشن لیڈر

    اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان سامنے آنے والے مجوزہ معاہدے کو اسرائیل کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یائر لاپڈ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مجوزہ معاہدے میں اسرائیل جنگ کے دوران اپنے کسی بھی بڑے مقصد کو حاصل نہیں کرسکا ایرانی حکومت اب بھی قائم ہے، ایران کا میزائل پروگرام بدستور موجود ہے اور تہران مستقبل میں اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ ترقی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یائر لاپڈ کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی ’مکمل ناکامی‘ کا نتیجہ ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے اسرائیل کو ایک خودمختار ریاست کے بجائے امریکا کا ’کلائنٹ اسٹیٹ‘ بنا دیا ہے پریس کانفرنسوں، میڈیا مہمات یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کے ذریعے اس ناکامی کو چھپایا نہیں جاسکتا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں، تاہم اس معاہدے کی تفصیلات اور حتمی شکل کے بارے میں مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔

  • اسرائیلی مسافر بردار طیارے سے رابطہ منقطع ، نیٹو نے جنگی طیارے روانہ کر دیے

    اسرائیلی مسافر بردار طیارے سے رابطہ منقطع ، نیٹو نے جنگی طیارے روانہ کر دیے

    اسرائیلی مسافر بردار طیارے سے رابطہ منقطع ہونے پر نیٹو نے جنگی طیارے فضا میں بھیج دیے۔

    عبرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل سے یورپ جانے والی ایک مسافر پرواز سے فضائی رابطہ منقطع ہونے پر ہنگری کی فضائیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جنگی طیارے روانہ کر دیے جس سے سیکیورٹی اداروں میں ہلچل مچ گئی-

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائی کمپنی آرکیا کی پرواز تل ابیب سے جمہوریہ چیک کے دارالحکو مت پراگ جا رہی تھی کہ ہنگری کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد مقامی ایئر ٹریفک کنٹرول سے اس کا رابطہ قائم نہ ہوسکارابطہ نہ ہونے پر نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے اعلیٰ درجے کا الرٹ جاری کیا جس کے بعد ہنگری کی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں کو فوری طور پر فضا میں بھیجا گیا تاکہ مسافر طیارے سے بصری اور ریڈیو رابطہ قائم کیا جا سکے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جنگی طیاروں نے اسرائیلی مسافر طیارے کے قریب پہنچ کر اس سے رابطہ کیا اور ہائی جیک ہونے یا کسی اور مشکوک سرگرمی کے بارے میں تصدیق کی،اسرائیلی پائلٹ کی جانب سے نفی میں جواب ملنے پر صورتحال معمول پر آ گئی اور پرواز نے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے پراگ میں بحفاظت لینڈنگ کی۔

    واقعے کے بعد آرکیا ایئرلائن نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس حساس معاملے کی اندرونی سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں پرواز کا عملہ منظور شدہ فلائٹ پلان اور پہلے سے طے شدہ فضائی راستوں کے مطابق کام کر رہا تھا مذکورہ پرواز کے دوران کسی بھی مرحلے پر نہ طیارے، نہ مسافروں اور نہ ہی عملے کو کوئی خطرہ درپیش ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ یورپ کی فضائی حدود میں کسی بھی مسافر طیارے کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہونا انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ عالمی سکیورٹی حالات میں ایسے واقعات کو ممکنہ ہائی جیکنگ، تکنیکی خرابی یا سکیورٹی خطرے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

  • ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ بین الاقوامی معاہدے یا مفاہمت میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا اور اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے تناظر میں اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود کرے یا انہیں روک دے لبنان میں کشیدگی میں کمی سے خطے میں سفارتی ماحول بہتر ہوگا اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    تاہم اس معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات موجود ہیں اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور دیگر ممکنہ خطرات کے خلاف کارروائی اس کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا نیتن یاہو نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی پالیسی کسی دوسر ے ملک کی خواہشات کے مطابق ترتیب نہیں دے گا اور اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گاایران سے متعلق کسی عالمی معاہدے کا حصہ بننا اسرائیل کے لیے لازمی نہیں اسرائیل اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔