Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران کے صوبے زنجان میں جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے گرائے گئے نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران دھماکا ہوا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز اُس وقت پیش آیا جب خصوصی ڈیمولیشن یونٹس ایک حساس مشن پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد امریکا اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد علاقے میں موجود نہ پھٹنے والے گولہ بارود کی نشاندہی کرکے ناکارہ بنانا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کلسٹر بموں اور دیگر بارودی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد زنجان کے وسیع علاقے کو خطرات لاحق ہو گئے تھے اس بارودی مواد کے باعث زرعی زمینوں سمیت تقریباً 1200 ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا۔

    بیان کے مطابق ان ہی خطرات کے پیش نظر خصوصی یونٹس نے انتہائی احتیاط اور مہارت کے ساتھ بارودی مواد کی تلاش، صفائی اور ناکارہ بنانے کا آپریشن شروع کیا تھا ٹیمیں اپنی ذمہ داریوں میں مصروف تھیں کہ اسی دوران ایک مقام پر بارودی مواد اچانک دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں یہ جانی نقصان ہوا تمام جاں بحق اہلکار تربیت یافتہ، تجربہ کار اور ماہر افراد تھے جو خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک خصوصی ٹیمیں 15 ہزار سے زائد نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنا چکی ہیں، تاہم اب بھی کئی علاقوں میں بارودی مواد موجود ہےیہ ہتھیار بین الاقوامی کنونشنز کے تحت ممنوع تصور کیے جاتے ہیں کیوں کہ ان کے چھوٹے چھوٹے حصے برسوں تک خطرہ بنے رہتے ہیں، کلیئرنس آپریشن کے دوران یہ مواد زمین کے نیچے تقریباً تین میٹر گہرائی میں بھی دفن پایا گیا، جس کی نشاندہی اور ناکارہ بنانے کا عمل انتہائی خطرناک تھا۔

  • سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان رہا

    سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان رہا

    سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت صمود فلوٹیلا کے بیشتر کارکنان کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ 2 کارکنوں کو تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل کیا گیا ہے-

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے ‘گلوبل صمود فلوٹیلا’ میں شامل 2 کارکنوں کو تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہےہسپانوی شہری سیف ابو کشک اور برازیلی نژاد تھیاگو آویلا کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے گا کیونکہ ان کا تعلق ایک ایسی تنظیم سے ہے جس پر امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔

    اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں کارکن ’پاپولر کانفرنس فار فلسطینی ابراڈ‘ منسلک ہیں، جس پر واشنگٹن نے حماس کے لیے خفیہ طور پر کام کرنے کا الزام لگایا ہے، ابو کشک مذکورہ تنظیم کے اہم رکن ہیں جبکہ تھیاگو آویلا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں زیرِ تفتیش ہیں اسرائیل میں مقیم ان دونوں ممالک کے قونصلر نمائندے جلد ان سے ملاقات کریں گے۔

    واضح رہے کہ اس امدادی بیڑے میں 50 سے زائد کشتیاں شامل تھیں جنہوں نے فرانس، اسپین اور اٹلی کی بندرگاہوں سے غزہ کا بحری محاصرہ توڑنے کے لیے سفر شروع کیا تھا،فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے ایک ہزار کلومیٹر دور بین الاقوامی سمندر میں کارروائی کرتے ہوئے 211 کارکنوں کو حراست میں لیا اور ان کے ساز و سامان کو نقصان پہنچایا۔

    اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں حراست میں لیے گئے درجنوں کارکن جمعہ کے روز یونانی جزیرے کریٹ پر اترے پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی حراست میں لیے گئے افراد میں شامل تھے، تاہم نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کی رہائی کی تصدیق کر دی ہے۔

  • حزب اللہ  نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو روایتی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے فائبر آپٹک یا جدید FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ یہ ڈرونز روایتی الیکٹرانک وارفیئر اور دفاعی نظاموں (جیسے آئرن ڈوم) سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ ریڈیو سگنل کے بجائے فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے آپریٹر سے جڑے ہوتے ہیں، جس سے ان کا سگنل جام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

    یہ ڈرونز طویل فاصلے سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو فیڈ کی بدولت انتہائی درست نشانہ بناتے ہیں ان ڈرونز کی وجہ سے اسرائیلی ٹینکوں، بالخصوص مرکاوا ٹینک، اور فوجی ٹھکانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں،، جس کے باعث نیتن یاہو نے حزب اللہ کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا ہے حزب اللہ نے اپنے ڈرون سسٹم کو جدید اور کم لاگت بنا کر میدان جنگ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہےیہ ٹیکنالوجی اسرائیل کے روایتی دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

  • امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں  ہے،برطانوی سفیر

    امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں ہے،برطانوی سفیر

    امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ امریکا کا خصوصی تعلق برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر صرف اسرائیل کے ساتھ ہے،امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں –

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو میں برطانوی سفیر نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعلق ضرور موجود ہے، خاص طور پر دفاع اور معیشت کے شعبوں میں، تاہم عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی صورتحال کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یورپ اب مکمل طور پر امریکا کے سکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کر سکتا، اس وقت امریکا کا خاص تعلق صرف ایک ملک کے ساتھ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہےبرطانوی سفیر نے موجودہ دور میں مغربی اتحادی ممالک کو اپنے تعلقات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سفیر کی ذاتی رائے اور خیالات ہیں اور حکومت کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔

  • اسرائیل نے صومالی لینڈ میں پہلا سفیر تعینات کر دیا

    اسرائیل نے صومالی لینڈ میں پہلا سفیر تعینات کر دیا

    اسرائیل نے خود ساختہ ریاست صومالی لینڈ میں اپنے پہلے سفیر کے تقرر کی منظوری دے دی ہے-

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے مائیکل لوٹم کو صومالی لینڈ میں اپنا پہلا سفیر مقرر کیا ہے۔ وہ اس وقت افریقہ کے لیے اسرائیل کے اقتصادی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس سے قبل آذربائیجان، کینیا اور قازقستان میں بطور سفیر فرائض انجام دے چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیتن یاہو نے دسمبر 2025 میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اس اقدام پر متعدد مسلم ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا اور خطے میں اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور تب سے وہ عملی طور پر خودمختار حیثیت رکھتا ہے، تاہم عالمی سطح پر اسے اب بھی صومالیہ کا حصہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور اسے محدود یا کوئی بین الاقوامی تسلیم حاصل نہیں، ماہرین کے مطابق اسرائیل کا یہ اقدام مشرقی افریقہ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک بڑی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

  • اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی وائرل تصویر نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے اس تصویر کے درست ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جائزے میں معلوم ہوا کہ تصویر ایک اسرائیلی فوجی کی ہے جو جنوبی لبنان میں ایک آپریشن کے دوران لی گئی ہے جب کہ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تحقیقات کے نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

    اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے فلسطینی رکن ایمن عودہ نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم انتظار کریں گے کہ پولیس ترجمان یہ دعویٰ کرے کہ فوجی کو حضرت عیسیٰ کے مجسمے سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔

    کنیسٹ کے ایک اور فلسطینی رکن احمد طیبی نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ غزہ میں مساجد اور گرجا گھروں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں اور یروشلم میں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر تھوکتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی، وہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو تباہ کرنے اور اس کی تصویر شائع کرنے سے بھی نہیں ڈرتےشاید ان نسل پرستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیکھ لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کیسے کی جاتی ہے اور پوپ لیو کی بھی بے حرمتی کیسے کی جاتی ہے؟-

    یہ بیان امریکی صدر کے حالیہ تنازعات کے تناظر میں دیا گیا، جن میں ان کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شامل تھی جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے نظر آئے تھے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ سے بھی اختلاف کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے گاؤں دیبل کے مضافات میں، اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع تھا اسرائیلی افواج نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران متعدد مذہبی مقامات، بشمول مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایااسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ سال آبادکاروں نے 45 مساجد پر حملے یا توڑ پھوڑ کی، جس کی تصدیق فلسطینی اتھارٹی کی وزارت مذہبی امور نے کی۔

    دوسری جانب مذہبی آزادی کے ڈیٹا سینٹر کے مطابق جنوری 2024 سے ستمبر 2025 کے درمیان عیسائیوں کے خلاف کم از کم 201 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر حملے آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے بین الاقوامی مذہبی شخصیات یا عیسائی علامات ظاہر کرنے والے افراد کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

  • ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    تہران میں اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت سنا دی گئی-

    ایرانی عدالتی ذرائع کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے حساس معلومات دشمن ملک تک پہنچائیں جسے قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیا گیا ہے مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے دونوں افراد کو سزائے موت کا حکم دیا حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں پر سخت کارروائی جاری رہے گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس نوعیت کے مقدمات اور فیصلے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

  • نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    نیتن یاہو نےٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا، کملا ہیرس

    امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ پر مجبور کیا جو امریکی عوام کی خواہشات کےخلاف ہے۔

    سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو براہ راست قومی مفاد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے سفارتی حل پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ ایران امریکا کی 15 روزہ جنگ بندی کے صرف 3 دن باقی رہ گئے۔

  • لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی افواج نے حملے جاری جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں متعدد حملوں کا اعتراف کیا ہے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر صیہونی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔

    بیان میں اِن حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُسے جنگ بندی کے باوجود اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہے مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں ہی اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگیا ہے فرانس نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کرتے ہوئے لبنانی حکومت سے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجی کی شناخت فلوریان مونٹوریو کے نام سے ہوئی جب کہ اسی واقعے میں دیگر تین فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ٕ

    اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطابق ان کی پٹرولنگ ٹیم جنوبی لبنان کے علاقے غندوریہ میں سڑک کے کنارے بارودی مواد صاف کرنے میں مصرو ف تھی کہ اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی جبکہ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا کہا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات لبنان اور اس کے دوست ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جعمرات کو 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی اور حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اسرائیل کو جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے لبنان پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری ہیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ’سیکیورٹی زون‘ قائم کر لیا ہےجنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے ان تمام علاقوں میں بدستور موجود رہے گی۔

  • اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

    اٹلی کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

    اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فوجی سازوسامان کے تبادلے اور ٹیکنالوجی تحقیق شامل تھی۔

    اطالوی خبر رساں ادارے اے این اے ایس اے کے مطابق وزیراعظم جورجیا میلونی نے شہر ویرونا میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے اور کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیاانہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہایت اہم ہے، جو نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد کی فراہمی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے-

    توانائی پالیسی کے حوالے سے روسی گیس پر عائد پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنا ایک مؤثر ہتھیار ہے گزشتہ برسوں میں روس پر ڈالا گیا اقتصادی دباؤ امن کے قیام کے لیے ہمارا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، اور امید ظاہر کی کہ 2027 کے اوائل تک اس حوالے سے پیش رفت ہوگی۔

    وزیراعظم میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پوپ سے متعلق حالیہ بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ناقابل قبول قرار دیاانہوں نے پوپ لیو سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے معاشرے میں خود کو مطمئن محسوس نہیں کریں گی جہاں مذہبی رہنما سیاسی ہدایات کے تابع ہوں۔

    امریکا کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایک اسٹریٹجک اتحادی ہے، تاہم اتحادی ہونے کے باوجود اختلاف رائے کا اظہار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے جب آپ دوست اور اتحادی ہوں، خصوصاً اسٹریٹجک سطح پر، تو آپ میں یہ حوصلہ بھی ہونا چاہیے کہ جہاں اختلاف ہو وہاں اسے بیا ن کیا جا سکے۔