Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی صدر ونائب صدر سے ملاقات،احتجاج میں امریکی پرچم نذرآتش

    اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی صدر ونائب صدر سے ملاقات،احتجاج میں امریکی پرچم نذرآتش

    اسرائیل کے غزہ پر حملے اور اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران احتجاج کیا گیا، اس دوران مظاہرین نے امریکی پرچم کو آگ لگادی۔

    بدھ کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا تھا،اس دوران امریکی کانگریس کے باہر بھر پور احتجاج کیا گیا تھا،اسی احتجاج کے دوران امریکی پرچم کو نذر آٹش کیا گیا، واقعہ پر امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹس کی اگلے صدارتی انتخاب کے لیے ممکنہ امیدوار کملا ہیرس نے امریکی پرچم جلانے کی مذمت کی اور کہا کہ جانب سے امریکی پرچم کو جلانے کا واقعہ قابل نفرت اور حب الوطنی سے عاری حرکت ہے

    علاوہ ازیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی امریکی دورے کے دوران امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کی بقیہ مدت صدارت میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے، صدر بائیڈن کےعوامی خدمات میں گزارے 50 سال قابل تعریف ہیں،بائیڈن کی اسرائیل کے لیے 50 سالہ حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    نائب امریکی صدر کاملا ہیرس سے بھی اسرائیلی وزیراعظم کی ملاقات ہوئی ہے، اس ملاقات میں کاملا ہیرس کا کہنا تھا کہ غزہ کی صورتحال پر خاموش نہیں رہیں گے، غزہ جنگ بندی معاہدہ کرنے کا وقت آگیا ہے ،امریکی نائب صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کیلئے اقدامات کریں اس سے فلسطینی سویلینز کی مشکلات میں آسانی پیدا ہوگی،

    نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا،اسرائیلی وزیراعظم

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

  • اسرائیل کا یمن اور لبنان پر فضائی حملہ

    اسرائیل کا یمن اور لبنان پر فضائی حملہ

    اسرائیل نے یمن پر فضائی حملہ کیا ہے اور حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے

    اسرائیلی فضائیہ ے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے یمن پر حملہ کیا،اسرائیل نے لبنان پر بھی فضائی حملہ کیا ہے،مغربی یمنی بندرگاہی شہر حدیدہ میں اسرائیلی فوج نے حوثی اہداف کو نشانہ بنایا،تین سکیورٹی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوبی لبنان میں ڈپووں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے گولہ بارود کو ذخیرہ کر رہے تھے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ حوثیوں کے مضبوط گڑھ حدیدہ میں متعدد "فوجی اہداف” کو نشانہ بنایا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ اس کا حملہ "حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی ریاست کے خلاف کیے گئے سینکڑوں حملوں کے جواب میں” تھا۔

    ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تک اسرائیل نہ پہنچ سکے۔اسرائیلی وزیراعظم
    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ بندرگاہ کو حوثی ملیشیا کے لیے ایرانی ہتھیاروں کے داخلے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اسرائیل کی سرحدوں سے تقریباً 1,800 کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے والے حملے دشمنوں کے لیے ایک یاد دہانی ہیں کہ ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تک اسرائیل نہ پہنچ سکے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد حوثیوں کو پیغام دینا تھا۔ گیلنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ”اس وقت حدیدہ میں جو آگ جل رہی ہے وہ پورے مشرق وسطیٰ میں نظر آرہی ہے اور اس کی اہمیت واضح ہے۔” "حوثیوں نے ہم پر 200 سے زیادہ بار حملہ کیا۔ پہلی بار جب انہوں نے کسی اسرائیلی شہری کو نقصان پہنچایا، ہم نے انہیں مارا۔ اور ہم یہ کسی بھی جگہ کریں گے جہاں اس کی ضرورت ہو گی۔

    حوثی تحریک کے زیر انتظام المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے کہا کہ فضائی حملوں میں 80 افراد زخمی ہوئے۔ حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یمن کو ” اسرائیلی جارحیت” کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور صوبے کے پاور اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد "عوام کے مصائب میں اضافہ کرنا اور یمن پر غزہ کی حمایت بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے” لیکن یہ صرف یمن کے عوام اور اس کی مسلح افواج کو اس حمایت کو برقرار رکھنے کے لیے مزید پرعزم بنائیں گے۔

    یمن کے انصار اللہ حوثی گروپ کے ترجمان کا ہنگامی بیان
    اسرائیل نے آج یمن کے حدیدہ پر شہر پر بمباری کی ،یہ بمباری شہری اہداف پر کی گئی ہے ،جس میں الیکٹریسٹی اسٹیشن آئل ریفائنری اور دو بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ،اسرائیلی دہشت گردی میں ہمارے مسلمان شہید ہوئے ہیں ،ہم اسرائیل کی بمباری کا جواب دیں گے ،آج سے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب جنگی علاقہ ہے،اسرائیلی شہری تل ابیب چھوڑ دیں ،ہم تل ابیب پر حملہ کریں گے ،ہم ہر قیمت پر غزہ کی مدد اور نصرت جاری رکھیں گے ہم اسرائیل سے لمبی جنگ لڑنے کے لیے تیار رہیں ،تاکہ اسرائیل غزہ کا محاصرہ ختم کردے اور مظلوموں کا خون بہانا بند کردے ،ہم پوری امت مسلمہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قضیہ فلسطین کے لیے کھڑے ہوجائیں ،یمن کے غیور مسلمان اسرائیل سے لڑیں گے اور سبق سکھائیں گے

    یمن پر امریکی ساختہ F35 جہازوں سے بمباری کی گئی ،یہ جہاز 2000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے بحر احمر میں مصر سعودی عرب کی حدود سے گزر کر یمن پہنچے ،فضا میں ان جہازوں میں اٹلی کے جہازوں سے تیل بھرا گیا ،

    قبل ازیں جمعہ کو حوثی باغیوں کے ڈرون حملے میں تل ابیب کے وسط میں امریکی سفارت خانے کے قریب ایک شخص ہلاک اور کم از کم 10 دیگر زخمی ہوئے تھے،

    جنوری سے، امریکی اور برطانوی افواج یمن میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں، جسے باغیوں نے غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی کارروائیوں کا انتقام قرار دیا ہے۔ تاہم جن بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے کئی کا تعلق اسرائیل سے نہیں ہے۔مشترکہ افواج کے فضائی حملوں نے اب تک ایران کی حمایت یافتہ فورس کو روکنے میں بہت کم کام کیا ہے۔

    دوسری جگہوں پر، فلسطینیوں نے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کے جمعہ کے تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اس فیصلے پر تنقید کی۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی عدالت کے فیصلے کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور ہونا چاہیے،اردن کے وزیر خارجہ نے بھی آئی سی جے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔اقوام متحدہ کی عدالت نے جمعہ کے روز اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اپنا قبضہ "جتنا جلد ممکن ہو” ختم کرے اور اپنی "بین الاقوامی طور پر غلط کارروائیوں” کے لیے مکمل معاوضہ ادا کرے۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ نے عدالت کی رائے کو "بنیادی طور پر غلط” اور یک طرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، اور اپنے موقف کو دہرایا کہ خطے میں سیاسی تصفیہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہودی قوم اپنی سرزمین پر قابض نہیں ہو سکتی‘‘۔امریکہ نے عدالت کے فیصلے پر تنقید کی، واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس سے تنازع کو حل کرنے کی کوششیں پیچیدہ ہو جائیں گی۔

  • غزہ، اسرائیل کی اسکول میں پناہ لینے والے فلسطینیوں پر بمباری ، 29 شہید

    غزہ، اسرائیل کی اسکول میں پناہ لینے والے فلسطینیوں پر بمباری ، 29 شہید

    خان یونس: غزہ میں اسکول کے قریب بےگھر افراد کے کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 29 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کو 9 ماہ مکمل ہوگئے ہیں غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کے مشرق میں اباسان الکبیرہ قصبے میں العودہ اسکول کے گیٹ کے باہر اسرائیل کی جانب سے فضائی حملہ ہوا جس میں کم از کم 29 افراد شہید ہوگئے، زخمیوں میں متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ حکام نے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چار دن میں اسرائیل کی جانب سے بے گھر افراد کو پناہ دینے والے اسکولوں پر یہ چوتھا حملہ ہے۔ غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 38 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ہم نے حماس کے عسکری ونگ سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد کو نشانہ بنانے کے لیے گولہ باری کی،جبکہ ایک ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے شہریوں کو مشرقی خان یونس اور دیگر علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جس سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

  • اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے،یورپی یونین

    اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے،یورپی یونین

    برسلز: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے نگراں جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ غزہ کو ملبے کا ڈھیر بننے اور اسے ایک اور صومالیہ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    ’’العربیہ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ اسرائیل منظم طریقے سے فلسطین میں ایک علاقے کا دوسرے علاقے سے الحاق پر کام کر رہا ہےمغربی کنارے میں اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے اس سے امن نہیں بلکہ جنگ اور انتشار آئے گا، غزہ میں جنگ مزید طویل ہوسکتی ہے، اور اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے۔

    جوزپ بوریل نے کہا کہ غزہ کو ملبے کا ڈھیر بننے اور اسے ایک اور صومالیہ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،یورپی یونین غزہ جنگ کو روکنے اور فلسطین کے دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے عرب ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

  • غزہ : اسرائیلی فوج  کا حملہ، اسماعیل ہنیہ کی بہن اور ان کے خاندان کے 13 افراد شہید

    غزہ : اسرائیلی فوج کا حملہ، اسماعیل ہنیہ کی بہن اور ان کے خاندان کے 13 افراد شہید

    غزہ : اسرائیلی فوج نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی بہن کے مکان پر میزائل حملہ کیا جس کے نتیجے میں اسماعیل ہنیہ کی بہن اور ان کے خاندان کے 13 افراد شہید ہوگئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی بہن اپنے خاندان کے ہمراہ ساحل کے قریب ایک پناہ گزین کیمپ کی ایک عمارت میں رہائش پذیر تھیں، اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑاکا فوجی طیاروں نے شتی پناہ گزین کیمپ کی دو عمارتوں کو نشانہ بنایا ان عمارتوں میں حماس کے کمانڈرز موجود تھے۔

    ملک بھر میں 26 جون سے بارشوں کی پیشگوئی

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے پناہ گزین کیمپ میں جس عمارت کو نشانہ بنایا ان میں ایک مکان اسماعیل ہنیہ کی بہن کا تھا، حملے میں بہن اور 13 دیگر رشتہ دار شہید ہوگئے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے اس سے قبل بھی اسماعیل ہنیہ کے خاندان کو اسی علاقے میں ایک کار پر سفر کے دوران نشانہ بنایا تھا جس میں اسماعیل ہنیہ کے بیٹے حازم، عامر اور محمد کے علاوہ پوتے بھی شہید ہوگئے تھےغزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار 500 سے تجاوز کرگئی جب کہ 86 ہزار سے زائد زخمی ہیں شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

    کارگل جنگ میں تعاون پر بھارت اسرائیل کو غزہ کیخلاف اسلحہ فراہم کر رہا …

  • کارگل جنگ میں تعاون پر  بھارت اسرائیل کو غزہ کیخلاف اسلحہ فراہم کر رہا ہے،اسرائیلی سابق سفیر

    کارگل جنگ میں تعاون پر بھارت اسرائیل کو غزہ کیخلاف اسلحہ فراہم کر رہا ہے،اسرائیلی سابق سفیر

    تل ابیب: اسرائیل کے سابق عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے 1999 کی کارگل جنگ میں اسرائیلی تعاون پر اب غزہ جنگ کے لیے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے ایک سابق سفیر Daniel Carmon نے بھارت میں بھی تعینات رہ چکے ہیں نے اسرائیلی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل ان چند ممالک میں سے ایک تھا جس نے کارگل جنگ کے دوران بھارت کو اسلحہ فراہم کیا تھا۔

    سابق اسرائیلی سفیر کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے غزہ جنگ کے لیے ڈرونز اور گولہ بارود اسرائیل کو سپلائی کیا گیا ہے۔

    2014 سے 2018 کے دوران بھارت میں اسرائیلی سفیر کے طور پر کام کرنے والے Daniel Carmon نے کہا کہ ‘بھارتیوں کی جانب سے ہمیں ہمیشہ یاد دلایا جاتا تھا کہ اسرائیل کارگل جنگ کے دوران ہمارے ساتھ تھا، بھارتی کبھی اس بات کو بھول نہیں سکتے اور اب وہ ممکنہ طور پر احسان کا بدلہ چکا رہے ہیں-

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    فروری 2024 میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ بھارت کی جانب سے اسرائیل کو 20 جدید ترین Hermes 900 ڈرونز فراہم کیے گئے تھےیہ ڈرونز حیدرآباد دکن کی فیکٹری میں تیار کیے گئے اور اس فیکٹری کو اسرائیل نے ہی قائم کیا تھا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق مئی میں اسپین نے ایک مال بردار بحری جہاز کو بھارت سے اسرائیل جاتے ہوئے روکا تھا اس بحری جہاز میں 27 ٹن فوجی سپلائی موجود تھی، بھارتی حکومت کی جانب سے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی گئی اور اب سابق اسرائیلی سفیر کے بیان پر بھی کوئی ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

    سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں،شیری رحمان

  • غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، حماس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی ٹی وی چینل 14 کو انٹرویو میں وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ جنگ سے متعلق اپنی منصوبہ بندی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جنگ جلد ختم کرنے کی خواہش ہے جس کے دو فائدے ہوں گےغزہ میں جنگ کے خاتمے سے ہم لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر اپنی مزید فوج بھیج سکیں گے تاکہ بے گھر اسرائیلی اپنے گھروں کو محفوظ طریقے سے واپس آسکیں۔

    وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ علاوہ ازیں غزہ جنگ کے خاتمے سے اسرائیلی فوجیں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف یکسو ہوکر بڑے پیمانے کارروائیاں کرسکیں گے جو وقت کی ضرورت بھی ہے غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، حماس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے وہ غزہ میں حماس کی حکومت ختم کرکے علاقے کا انتظام فلسطین اتھارٹی کے حوالے کرنے کے حامی نہیں، غزہ میں حماس اور اس کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوجیں لمبے عرصے تک غزہ میں ہی رہیں گی اور سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کریں گی۔

    ’پائریٹس آف دی کیریبین‘ کے اداکار شارک حملے میں جاں بحق

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 88 ہزار کے قریب زخمی ہیں، شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ سے اب تک 21 ہزار فلسطینی بچوں کے لاپتہ ہو نے کا انکشاف ہوا ہے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے حقوق اور فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے نتیجے میں جو ہزاروں بچے لاپتہ ہیں وہ یا تو تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں یا انہیں کسی اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا ہے یا پھر انہیں اسرائیلی فوجی گرفتار کرکے لے گئے ہیں۔

    انڈونیشیا میں نیشنل ڈیٹا سینٹر پر سائبر حملہ، متعدد حکومتی سروسز متاثر

    سیو دی چلڈرن کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ ہزاروں بچے دوران جنگ اپنے والدین سے بچھڑے اور ان میں بچوں کی ایک نامعلوم تعداد ہے جنہیں جبری لاپتہ کرکے غزہ سے باہر لے جایا گیا جہاں ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہےغزہ میں جنگ کی صورتحال میں معلومات جمع کرنا اور ان کی تصدیق کرنا مشکل ہے مگر کم از کم 17 ہزار بچے اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئے ہیں جب کہ 4000 بچے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں، بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنہیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا ہے۔

    پنجاب میں ینگ ڈاکٹر کی ہڑتال،سینئر‌ڈاکٹرز کی چھٹیاں منسوخ

  • اسرائیل میں لاکھوں افراد  کا احتجاج،نیتن یاہو سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ

    اسرائیل میں لاکھوں افراد کا احتجاج،نیتن یاہو سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ

    تل ابیب: اسرائیل میں لاکھوں افراد نیتن یاہو حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے غزہ میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ معاہدہ کرنے، اسرائیل میں نئے انتخابات کے انعقاد اور نیتن یاہو سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا، تل ابیب میں سیکڑوں افراد نے آگ لگا کر کئی سڑکیں بلاک کر دیں، اسرائیلی پولیس اور مظاہرین کے درمیان چھڑپیں بھی ہوئیں اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔

    دوسری جانب یروشلم اور قیصریہ میں ہزاروں مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائش گاہوں کے باہر احتجاج کیا، مظاہرین نے غزہ جنگ اور حزب اللہ کے ساتھ تنازع سے نمٹنے میں ناکامی پر حکومت پر سخت تنقید کی۔

    غزہ جنگ : دو امریکی فوجیوں نے اپنی خدمات جاری رکھنے سے معذرت کرلی

    علاوہ ازیں غزہ جنگ کی امریکی حمایت کے خلاف احتجاج ،امریکی ائیر فورس کے دو پائلٹوں نے فوج میں اپنی خدمات سے معذرت کرلی،امریکی ائیر فورس کے دو پائلٹوں نے باضمیر احتجاج کرتے ہوئے فوج میں اپنی خدمات سے معذرت کرلی ان فوجیوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگی جرائم اور مسخ شدہ بچوں کی ہزاروں ویڈیوز جو ہمارے فونز تک پہنچ رہی ہیں، فوج کے اندر اور باہر امریکی عوام کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں،ہم ایسی انتظامیہ کے لیے خدمات جاری نہیں رکھ سکتے جو امریکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

    پاکستانی وفد بھارت سے مذاکرات کیلیے جموں پہنچ گیا

    جنگ مخالف ایک امریکی تنظیم کے مطابق امریکی فوج کے دیگر 40 اہلکار بھی غزہ جنگ کے خلاف مستعفی ہونے پر غور کر رہے ہیں جکہ غزہ جنگ میں اسرائیل کی حمایت پر بائیڈن انتظامیہ کے کئی عہدیدار بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔

  • غزہ جنگ : دو امریکی فوجیوں نے اپنی خدمات جاری رکھنے سے معذرت کرلی

    غزہ جنگ : دو امریکی فوجیوں نے اپنی خدمات جاری رکھنے سے معذرت کرلی

    غزہ جنگ کی امریکی حمایت کے خلاف احتجاج ،امریکی ائیر فورس کے دو پائلٹوں نے فوج میں اپنی خدمات سے معذرت کرلی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق امریکی ائیر فورس کے دو پائلٹوں نے باضمیر احتجاج کرتے ہوئے فوج میں اپنی خدمات سے معذرت کرلی ان فوجیوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگی جرائم اور مسخ شدہ بچوں کی ہزاروں ویڈیوز جو ہمارے فونز تک پہنچ رہی ہیں، فوج کے اندر اور باہر امریکی عوام کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں،ہم ایسی انتظامیہ کے لیے خدمات جاری نہیں رکھ سکتے جو امریکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

    جنگ مخالف ایک امریکی تنظیم کے مطابق امریکی فوج کے دیگر 40 اہلکار بھی غزہ جنگ کے خلاف مستعفی ہونے پر غور کر رہے ہیں جکہ غزہ جنگ میں اسرائیل کی حمایت پر بائیڈن انتظامیہ کے کئی عہدیدار بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔

    گزشتہ روز اپنے شعبے میں مستعفی امریکی اہلکاروں میں سب سے سینیئر اور امریکی محکمہ خارجہ میں اسرائیل فلسطینی امور کے ماہر اینڈریو ملر نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

    اینڈریو ملر امریکی محکمہ خارجہ میں بطور نائب معاون وزیر برائے اسرائیل و فلسطینی امور کام کر رہے تھے، اینڈریو ملر نے استعفیٰ کی وجہ خاندانی ذمہ داریاں قراردیں امریکی میڈیا کے مطابق اینڈریو ملر کا کہنا تھا کہ جنگ کے سبب مصروفیات کی وجہ سے خاندان کو وقت نہیں دے پایا تھا، یہ ذمہ داریاں نہ ہوتیں تو ملازمت پر برقرار رہتا، اینڈریو ملر اسرائیل نواز پالیسیوں کیخلاف تھے، مستعفی اینڈریو ملر فلسطینیوں کے حقوق اور فلسطینی ریاست کے حق کے حامی تھے۔

  • لبنان میں  اسرائیلی فوج  کا فضائی حملہ،جما عت اسلامیہ کے سرکردہ رہنما  جاں بحق

    لبنان میں اسرائیلی فوج کا فضائی حملہ،جما عت اسلامیہ کے سرکردہ رہنما جاں بحق

    بیروت: لبنان کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی فوج نے ایک کار کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا جس میں جماعت اسلامیہ کے سرکردہ رہنما ایمن غطمہ جاں بحق ہوگئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے مشرقی لبنان کی مغربی وادیٔ بقاع کے الخیارہ ٹاؤن چوک پر ایک کار کو نشانہ بنایا، ڈرون حملے میں کار مکمل طور پر تباہ ہوگئی اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی کے رہ نما ایمن غطمہ ایک دہشت گرد تھا جو حماس اور جماعت اسلامی لبنان کو ہتھیار فراہم کرتا تھا انٹیلی جنس بنیادوں پر حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر جماعتہ السلامیہ کے رہنما کی کار کو نشانہ بنایا جو دہشت گردی منصوبہ بندی کے لیے بلائی گئی میٹنگ میں جا رہا تھا۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی لبنان میں متعدد کاروں کو نشانہ بنایا ہے جس میں حزب اللہ کے کمانڈرز سوار تھے دو روز قبل اسرائیلی میزائل حملے میں ایک کار تباہ ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے کمانڈر عباس ابراہیم حمزہ حمادہ المعروف ’فضل‘ جاں بحق ہوگئے تھے اسرائیلی بمباری میں جنوبی لبنان کے علاقے حومین الفوقا قصبے میں ایک اور کار کو بھی نشانہ بنایا تھا جس میں حزب اللہ کے رہنما محمد جمعہ کا بیٹا شہید ہو گیا تھا۔