Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • غزہ پر اسرائیلی حملے جنگ نہیں، دہشت گردی ہے،پوپ فرانسس

    غزہ پر اسرائیلی حملے جنگ نہیں، دہشت گردی ہے،پوپ فرانسس

    فرانس: عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے غزہ میں نہتے شہریوں پر اسرائیلی فوج کے حملوں کو دہشت گردی قرار دے دیا کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملے جنگ نہیں، دہشت گردی ہے-

    باغی ٹی وی: پوپ فرانسس نے ہفتہ وار دعائیہ خطاب میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں دو مسیحی خواتین کے قتل کی مذمت کرتےہوئےکہا کہ غزہ سے مسلسل سنگین اور دردناک خبریں آرہی ہیں،نہتے شہریوں کو بموں، گولیوں کانشانہ بنایا جارہا ہےمقدس مقامات کے اندر بھی ایسے حملے ہو رہے ہیں، اسنائپرز نے چرچ میں خاتون اور اس کی بیٹی کو مارا، دیگر کو زخمی کیا، کچھ کہتے ہیں یہ دہشت گردی ہے، یہ جنگ ہے، ہاں یہ دہشت گردی ہے، خدا جنگ روکتا ہے، کمانیں اور نیزے توڑتا ہے، آئیے خدا سے امن کی دعا کریں۔

    اسرائیلی حملوں کی مکمل بندش تک مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا،حماس

    واضح رہے کہ آج اسرائیلی فضائیہ نے پھر جبالیا کیمپ پر بمباری کی جس میں 20 سے زیادہ فلسطینی شہید اور 100ے زیادہ زخمی ہوگئے اسرائیلی فوج کے نشانہ بازوں نے گرجا گھر میں پناہ لی ہوئی دو خواتین کو قتل کردیا مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں اسرائیلی فوج نے 5 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔

    اسلام آباد:ڈاکوؤں نے پولیس ہیڈ کانسٹیبل کو بیٹے سمیت گولیاں مار کر شہید کر …

  • اسرائیلی حملوں کی مکمل بندش تک مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا،حماس

    اسرائیلی حملوں کی مکمل بندش تک مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا،حماس

    غزہ:حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کی مکمل بندش تک مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق حماس کی جانب سے مذکورہ بیان ایسے وقت پرسامنے آیا ہے جب دو روز قبل اسرائیلی فورسز نے اپنے ہی تین شہریوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا، تینوں شہری حماس کے یرغمالی تھے اور وہ ہاتھ میں امن کا جھنڈا تھامے آگے بڑھ رہے تھے اس واقعہ کے بعد اسرائیلی کے حمایتی یورپی ممالک کی جانب سے تل ابیب پر جنگ بندی کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور اس سلسلے میں برطانیہ اور جرمنی کے وزرا خارجہ نے ’جنگ بندھی‘ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’’اب تک ہزاروں معصوم شہری ہلاک‘‘ ہوچکے ہیں۔

    علاوہ ازیں حماس نے واضح کیا کہ اسرائیلی یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی حملوں کی بندش سے مشروط ہیں اور اس سلسلے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے تمام فریقین کو پیغام پہنچا دیا گیا ہےاگر یرغمالیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں وہ بڑی تعداد میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرے گی، جن میں ہائی پروفائل شخصیات بھی شامل ہیں‘‘۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی قید میں 129 یرغمالیوں کی واپس کے لیے قسم اٹھائی ہے انہوں نے کہا کہ حماس کے خاتمے تک اسرائیلی جنگ جاری رہےگی۔

    اسرائیل اور قطری حکام نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ناروے میں ہفتے کے روز ایک ملاقات طے کی گئی تھی یہ ملاقات یرغمالیوں کے لیے نئی کوششوں کے سلسلے میں طے ہوئی تھی،اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے ہفتے کے آخر میں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ملاقات کی جس میں حماس کے ساتھ نئے مذاکرات کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔

  • اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے یرغمالیوں کی جانوں پر جوا کھیل رہا ہے-

    باغی ٹی وی : فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں موجود اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے، اسرائیل اب بھی اپنے یرغمالیوں کی جانوں پر جوا کھیل رہا ہے اور ان کے گھر والوں کے جذبات کی پرواہ نہیں کر رہا۔

    ایک بیان میں ابو عبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے کل اپنے3 فوجیوں کو خود قتل کیا، اس نے انہیں رہا کروانے کے بجائے انہیں مارنے پر ترجیح دی، یہ ایک مجرمانہ فعل ہے جو کہ اسرائیل نے ہماری قید میں موجود اپنے لوگوں کے خلاف جاری رکھا ہوا ہے۔

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    دوسری جانب القسام کی جانب سے ‘وقت ختم ہو رہا ہے’ کے عنوان سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کو دکھایا گیا ہے فلسطینی مزاحمتی فورسز کے بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج پر جوابی حملوں میں تیزی آگئی ہےالقسام اور القدس بریگیڈز نے مختلف کارروائیوں میں راکٹوں، مارٹرگولوں اور اسنائپر رائفلز سے حملے کرکے متعدد صیہونی فوجی ہلاک کر دئیے۔

    غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    ادھر اسرائیل اور قطری حکام نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ناروے میں ہفتے کے روز ایک ملاقات طے کی گئی تھی ۔ یہ ملاقات یرغمالیوں کے لیے نئی کوششوں کے سلسلے میں طے ہوئی تھی،اسرائیل اور قطر کے درمیان اس سلسلے میں نئی کوششوں کے لیے قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ڈائریکٹر کے درمیان ناروے میں ہورہی ہے۔ امکان ہے کہ اس ملاقات میں مصری حکام بھی شریک ہوں گے، مذاکرات کے نئے آغاز میں حماس کے اندر معاہدے کی شرائط کے بارے میں اختلاف رائے بھی ہے۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    امریکی جریدے وال سٹریٹ کے مطابق یہ مذاکراتی کوشش اس افسوسناک واقعے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں اسرائیلی فوجی غزہ میں اپنے یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کرتے کرتے انہیں اپنے ہی ہاتھوں ہلاک کر بیٹھے۔

    واضح رہےکہ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے آج اعتراف کیا تھا کہ حماس کی قید میں موجود تین اسرائیلی شہری خود اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فرینڈلی فائرنگ میں مارےگئے ہیں تینوں اسرائیلی مغوی قید سے فرار ہوئے اور اس دوران اسرائیلی فوج نے انہیں حماس کے ساتھی ہونےکے شبہ میں مار دیا جبکہ واقعےکے خلاف اسرائیل میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔

  • اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، سات روزہ جنگ بندی ہوئی تا ہم اس کے بعد اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کر دیئے، حماس نے سات اکتوبر کو کئی اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا تھا، اب اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو خود ہی مارنے کا اعتراف کیا ہے

    حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ میں رکھا ہوا ہے، کئی یرغمالی جنگ بندی کے دوران رہا ہوئے تا ہم کئی اب بھی حماس کے قبضے میں ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو گولیاں مار دیں اور پھر اعتراف کیا کہ غلطی سے خطرہ سمجھ کر گولیاں ماریں،جس سے یرغمالیوں کی موت ہو گئی

    اسرائیلی فوج سے جاری بیان کے مطابق شجائیہ میں اسرائیلی فوج نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو خطرہ سمجھا اور گولی مار دی،واقعہ کے بعد اسرائیلی فوج نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تا ہم اس سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں یرغمالیوں کو بچانے کے لئے مزید محتاط ہو نا ہو گا، اس ضمن میں غزہ میں تمام اسرائیلی فوجیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے.اسرائیلی فوج کی گولیوں سے ہلاک دو یرغمالیوں کی شناخت اسرائیلی فوج نے ظاہر کر دی ہے، جبکہ تیسرے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ خاندان کے کہنے پر شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی،مرنیوالے دو یرغمالیوں میں یوتم ہیم اور سیمر الطلالقہ شامل ہیں، جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنایا تھا.

    دوسری جانب اسرائیلی حملے میں الجزیرہ ٹی وی کے سینئر رپورٹر وائل الدحدوح زخمی ہوگئے ہیں،اسرائیل نے خان یونس میں حیفا سکول کی تباہی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے قریب بمباری کی، جس سے صحافی وائل الدحدوح زخمی ہو گئے،انکے ہاتھ اور کمر پر زخم آئے،وائل الدحدوح کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی 25 اکتوبر کو اسرائیلی فوج کی بمباری میں شہید ہو چکے ہیں،

    اسرائیل اورحماس کے درمیان 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہوئی تھی،اسرائیلی حملوں میں 18 ہزار سے زائد فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد زخمی ہیں،اسرائیل اور حماس کے مابین قطر کی کوششوں سے سات روزہ عارضی جنگ بندی ہوئی تھی تا ہم سات دنوں کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہو گئی،اس جنگ بندی کے دوران دونوں اطراد سے قیدیوں کی رہائی ہوئی تھی،اب بھی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں تا ہم اب اسرائیل نے موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کا قطرکا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے

    موساد کے ڈائریکٹر نے دوحہ کا سفر کرنا تھا مگر اب اسرائیلی حکومت نے انہیں منع کر دیا وہ دوحہ نہیں جا رہے، جنگ بندی کے لئے پہلے بھی کوشش قطر میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں یرغمالی رہا ہوئے تھے،قبل ازیں 13 دسمبر کو اسرائیلی چینل نے رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی جنگی کابینہ نے دورہ منسوخ کردیا اورسینئراسرائیلی افسران بات چیت پھر سے شروع کرنے کے لئے قطر نہیں جائیں گے۔ سی این این کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم دفتر کا ماننا ہے کہ غزہ میں 135 یرغمالی بچے ہیں، جن میں سے 115 زندہ ہیں۔ سی این این نے کئی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل، امریکہ اور قطر نے بات چیت شروع کرنے کے طریقوں پرغوروخوض جاری رکھا ہواہے

    اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندان موساد چیف کے قطر کا دورہ منسوخ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں اور اسرائیلی حکومت سے جواب طلبی کر رہے ہیں، خاندانوں کا کہنا ہے کہ ہم تنگ آ چکے ہیں، ہمارے پیاروں کو واپس لایا جائے،حکومت بے حسی ختم کرے،

  • غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    اسرائیل کی پارلیمنٹ نے قومی بجٹ میں مزید 25.9 بلین شیکل (7 بلین ڈالر) کا اضافہ کرنے کی منظوری دی ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے قومی بجٹ میں 7 بلین ڈالر کی منظوری دی تاکہ غزہ جنگ کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے جیسا کہ فوجی ارکانِ محفوظہ کے لیے معاوضہ اور اندرونی طور پر بے گھر ہونے والوں کے لیے ہنگامی رہائش –

    کنیسیٹ کے ایک ترجمان نے کہا کہ 2023 کے بجٹ کو بڑھا کر 510 بلین شیکل ($ 139 بلین) کر دینے والی اس ترمیم کی توثیق 59 قانون سازوں نے حق میں ووٹ دے کر کی جبکہ 45 نے مخالفت کی اسرائیل نے مئی میں 2024 کے بجٹ کے ساتھ 2023 کا اصل بجٹ پاس کیا۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کی طرف سے سات اکتوبرکے بعد اسرائیلی فوج کوایک دن میں دوسرا بڑا جانی نقصان پہنچایا ہےاسرائیلی عسکری، سیاسی اورعوامی حلقوں میں اس حملے پر بحث جاری ہے جس میں ایک درجن کے قریب اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

    ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج میں گولانی بریگیڈ کو "تکلیف دہ دھچکے” کا نشانہ بنایا گیا جب وہ منگل کے روز غزہ کی پٹی کے مشرق میں واقع الشجاعیہ محلے میں "القسام” بریگیڈ کی گوریلا کارروائی کا شکار ہو ابتدائی طور پر اس حملے میں نو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا گیا جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ یہ جھڑپ اڑھائی گھنٹے تک جاری ہی۔

    بغیر اجازت انٹرویو شہریوں کی پرائیویسی میں دخل اندازی ہے،لاہور ہائیکورٹ

    اخباری نے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گولانی بریگیڈ کے کمانڈر کرنل یائر بلے نے اس واقعے کے بعد اپنے سپاہیوں سے خطاب کیا اور کہا کہ "حملہ تکلیف دہ تھا ہم نے اچھے دوستوں، جنگجوؤں اور لیڈروں کو کھو دیا‘‘۔

  • قائد اعظم کی اسرائیل کے معاملے پر رائے سے اختلاف کرنا "کفر” نہیں

    قائد اعظم کی اسرائیل کے معاملے پر رائے سے اختلاف کرنا "کفر” نہیں

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نےکہا ہےکہ ‘دو ریاستی حل’ ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے۔

    باغی ٹی وی: ایک انٹرویو میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ "دو ریاستی حل” ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے، قائد اعظم نے اسرائیل کے معاملے پر جو رائے دی تھی اس سے اختلاف کرنا "کفر” نہیں ہوگا فلسطین کے دو ریاستی حل کی تجویزپاکستان یا میں نے نہیں دی، فلسطین کا دو ریاستی حل دنیا دے رہی ہے، یہ تاثر درست نہیں کہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہم نے دیا۔

    نگران وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ایک بیان میں کیا کہ یہ صرف قائداعظم کی نہیں علامہ اقبال کی بھی پوزیشن تھی جو کہ عدل، انصاف، بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھی اور ہے،یہ بھی غلط ہے کہ پوری دنیا ایسا کہہ رہی ہے، دنیا میں اس موضوع پر کئی آرا پائی جاتی ہیں، صرف مغربی بلاک امریکی قیادت میں یہ راگ الاپ کر اپنے جرائم کی سزا فلسطینوں کو دینا چاہتا ہے۔
    https://x.com/SenatorMushtaq/status/1735235655741870585?s=20
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کی پوزیشن کو تبدیل کرنےکا اختیار کسی نگران وزیراعظم کو نہیں ہے، پارلیمنٹ میں اس پر بحث نہیں ہوئی اور نہی ہی کسی منتخب حکومت نے اس کی منظوری نہیں دی ہے، ایک نگران وزیراعظم کیسے دو ریاستی حل کی پالیسی دے سکتا ہے اور وہ بھی اس حالت میں کہ وہاں پر نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم جاری ہیں، اس موقع پر دو ریاستی حل کی بات زخموں پر نمک پاشی ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ میں برطانوی میڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران اسرائیلی سفیر زیپی ہوٹو ویلی نےکھلے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان کا ملک دو ریاستی حل کو غزہ میں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کسی صورت قبول نہیں کرے گا، بلکہ اسے مکمل طور پر مسترد کرتا ہےاسرائیل آج یہ جانتا ہے اور پوری دنیا کو بھی یہ جان لینا چاہیےکہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ اپنی ریاست قائم نہیں کرنا چاہتے، جس طرح آج بھی فلسطینی اسرائیلی ریاست کے بغیر اپنا نقشہ اور نعرہ اونچی آواز میں پیش کر رہے ہیں کہ وہ ‘من النہر الی البحر’ اپنی ریاست چاہتے ہیں، اسی طرح یہی ہمارا موقف ہےکہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہو سکتی۔

  • سعودی ولی عہد  سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات ہوئی ہے

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات سعودی عرب میں ہوئی،ملاقات میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بات چیت کی گئی،سعودی ولی عہد اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات کے حوالہ سے وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جیک سلیوان کے درمیان غزہ میں انسانی اقدامات اور فلسطین میں اہم امداد کی ترسیل میں اضافے پر بھی گفتگو کی گئی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر اسرائیل کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سمیت اسرائیل کی وار کیبنٹ کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ جیک سلیوان اپنے دورہ اسرائیل کے دوران غزہ میں حماس کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مزید حملوں کی ضرورت پر بھی بات کریں گے

    دوسری جانب شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اسکول میں گھس کر وہاں پناہ لیے ہوئے شیرخوار بچوں اور عورتوں سمیت بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کا انکشاف ہوا ہے،الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے اسکول شادیہ ابو غزالہ میں گھس کر وہاں پناہ لینے والے فلسطینی مردوں کو چُن چُن کر پکڑا اور الگ کمروں میں لے جا کر فائرنگ کر کے مار ڈالا،عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے اسکول کے کمروں میں داخل ہو کر وہاں موجود خواتین اور چھوٹے بچوں پر بھی فائرنگ کی، شیر خوار بچوں کو بھی فائرنگ کر کے قتل کیا.

  • یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    جنیوا: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : "عرب میڈیا” کے مطابق عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے 193 رکن ممالک میں سے 153 ممالک نے قرارداد کے حق میں جبکہ 10 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا، 23 ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے، قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے والے ممالک میں امریکا اور اسرائیل سمیت دیگر شامل ہیں یہ تعداد ان 140 ممالک سے زیادہ ہے جنہوں نے یوکرین پر حملے کرنے کی وجہ سے روس کی مذمتی قراردادوں کی حمایت کی تھی۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ ووٹنگ عالمی امن و سلامتی کی ذمہ دار سلامتی کونسل کی بار بار ناکامی کے بعد ہوئی ہےاسرائیل کے سب سے طاقتور اتحادی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے ایک، امریکہ نے جمعہ کو فائر بندی کے مسودے کو روکنے کے لیے ویٹو کا استعمال کیا تھاسلامتی کونسل کو کوئی بیان جاری کرنے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد ایک ماہ سے زیادہ وقت لگا اس نے نومبر کے وسط میں اس تنازع میں انسانی بنیادوں پر ’تعطل‘ کے لیے چار متن مسترد کیے۔

    فلسطینی مندوب ریاض منصور نے قرارداد کی منظوری کو تاریخی دن قرار دیا، مذکورہ قرارداد میں امداد کی رسائی اور یرغمال افراد کو غیرمشروط طور پر رہا کرنےکا مطالبہ کیا گیا،اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے غزہ میں جنگ بندی فوری ممکن بنانے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوذمہ دار نہ ٹھہرایا گیا تو اسے جنگ جاری رکھنے کا جواز مل جائےگااسرائیل کا مقصد فلسطین کے پورے تصورکو مٹانا ہے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں مصر کے سفیر اسامہ محمود عبدالخالق محمود نے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرنے کی واشنگٹن کی کوششوں کے بارے میں کہا کہ یہ افسوسناک کوششیں دوہرے معیار کی ایک گھناؤنی علامت ہیں۔

    صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ ڈینس فرانسز نے کہا کہ انسانی زندگیاں بچانا سب کی ترجیح ہونی چاہیے، ہمیں جنگ کے بنیادی اصولوں اور اقدار سے انحراف نہیں کرنا چاہیے دنیا اس وقت غزہ میں انسانی زندگیوں کےخاتمے کا مشاہدہ کررہی ہے، اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹریس نے غزہ کی پٹی میں امن عامہ کی مکمل تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہے بہت سے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گذشتہ جمعے کو سلامتی کونسل کی ناکامی کی مذمت کی تھی اور سیکرٹری جنرل نے اتوار کو کونسل کے اختیارات اور ساکھ کو ’کمزور‘ قرار دیا تھا۔

    ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد ایردان نے اس قرارداد کو ’منافقانہ قرارداد‘ قرار دیا کہا کہ اس میں حماس کے انسانیت کے خلاف جرائم کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ اس میں حماس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد بھی فلسطین پر اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے حماس کے 7 اکتوبر اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اسرائیل کی بمباری میں 18,400 سے زائد فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔

    دوسری جانب "العربیہ” کےمطابق اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے مزید شہری بے گھر ہوں گے اور وسیع پیمانے پر مزید نقل مکانیوں کو خدشہ ہو گا ، اس وقت دنیا میں 114 ملین شہری بے گھر ہو کر در بدر ہیں ان میں سے 40 ملین لوگ درجنوں جنگوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں، ایک بڑی تعداد یوکرین اور سوڈان کے شہریوں کی ہے ۔

    پناہ گزینوں کے شعبے کے سربراہ فلیپو گرینڈی نے ہر چار سال بعد جنیوا میں ہونے والی تقریب میں کہا کہ اس وقت غزہ میں بھی بڑی تباہی جاری ہے لیکن ابھی تک سلامتی کونسل جنگ بندی کروانے میں ناکام ہے ہم دیکھ رہے ہیں ابھی مزید ہلاکتیں ہوں گی اور مزید شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گا اس لیے بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ان بحران میں پھنسے فلسطینیوں کو نہ بلائے، عالمی برادری کو چاہیے کہ اوہ غزہ پر اپنی پوری توجہ رکھے ، اس سے اپنی نظریں نہ ہٹائے انہوں نے نقل مکانی کرنے ، بے گھر اور مصائب میں مبتلا ہونے والے کروڑوں لوگوں کے لیے فنڈنگ کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پر تشویش ظاہر کی۔

  • غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4  افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے-

    باغی ٹی وی: اسرائیل نے 27 اکتوبر کو غزہ میں زمینی آپریشن شروع کیا تھا اور اب تک اسے مجاہدین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہےزمینی آپریشن میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،اسرائیلی افواج نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں 4 افسران سمیت 7 فوجی مارے گئے ہیں جس کے بعد زمینی آپریشن میں ہلاک اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 104 ہوگئی، زخمی فوجیوں میں سے 133 کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب مزاحمتی تنظیم حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کے اندرونی علاقوں میں داخل ہونے والی اسرائیلی فوج سے دو بدو لڑائی جاری ہے اور اسرائیل کے فیلڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو مارٹر گولوں، دھماکا خیز آلات سے نشانہ بنایا ہے اسرائیلی فوج کی 44 گاڑیاں تباہ اور 40 اسرائیلی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    قبل ازیں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نےکہا تھا کہ اسرائیل طاقت سے اپنا کوئی یرغمالی رہا نہیں کراسکتا،فوجی طاقت سے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرایا جا سکتا۔

    ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جنگی کابینہ مذاکرات کیے بغیر اپنے یرغمالیوں کو رہا نہیں کراسکتی، اسرائیلی یرغمالی کی ہلاکت طاقت کے زور پر رہا کرانےکی کوشش کا نتیجہ ہے،گزشتہ 10 روز میں غزہ میں ہمارے لوگوں نے 180 سے زائد اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا ہے، جھڑپوں میں اسرائیلی فوجیوں کا بڑا جانی نقصان ہوا ہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہماری مزاحمت جاری رہےگی انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لوگوں کی حمایت اور جنگ بندی کے لیے احتجاج جاری رکھیں۔

  • القسام بریگیڈز  نے  اسرائیلی فوج پر حملوں کی نئی ویڈیو جاری کردی

    القسام بریگیڈز نے اسرائیلی فوج پر حملوں کی نئی ویڈیو جاری کردی

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نےکہا ہےکہ اسرائیل طاقت سے اپنا کوئی یرغمالی رہا نہیں کراسکتا،فوجی طاقت سے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرایا جا سکتا۔

    باغی ٹی وی: ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جنگی کابینہ مذاکرات کیے بغیر اپنے یرغمالیوں کو رہا نہیں کراسکتی، اسرائیلی یرغمالی کی ہلاکت طاقت کے زور پر رہا کرانےکی کوشش کا نتیجہ ہے،گزشتہ 10 روز میں غزہ میں ہمارے لوگوں نے 180 سے زائد اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا ہے، جھڑپوں میں اسرائیلی فوجیوں کا بڑا جانی نقصان ہوا ہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہماری مزاحمت جاری رہےگی انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لوگوں کی حمایت اور جنگ بندی کے لیے احتجاج جاری رکھیں۔

    دوسری جانب فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے غزہ میں حملہ آور ہونے والی اسرائیلی فوج پر حملوں کی نئی ویڈیو جاری کردی ہے جس میں القسام کے جنگجوؤں کو اسرائیلی ٹینکوں اور فوجیوں پر حملہ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، صیہونی افواج کی جانب سے غزہ میں مسلسل عالمی قوانین اور اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی افواج عام شہریوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنارہی ہے تاہم اسرائیلی فوج کو القسام بریگیڈز کی جانب سے سخت مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1733402995662934453?s=20
    القسام کے ترجمان ابو عبیدہ کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کے 44 ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا گیا، ان حملوں میں 40 اسرائیلی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1733455377730023462?s=20
    واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے حماس کے خلاف جاری جنگ میں اب تک 420 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 2 ہزار سے زائد معذور ہوچکے ہیں، اسرائیلی محکمہ دفاع نے 2 ہزار سے زیادہ فوجیوں کے معذور ہونےکی تصدیق کی ہے، مجموعی طور پر 5 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 58 فیصد سے زائد شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت خراب ہے۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1733526427751051384?s=20
    اسرائیلی وزارت دفاع کی سربراہ نے اخبار کو بتایا کہ ہمیں اس سے قبل اس طرح کی صورت حال کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا، زخمی فوجیوں کے ہاتھوں اور ٹانگوں میں شدید زخم آئے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے ہاتھ اور پاؤں کاٹنے پڑے ہیں12 فیصد زخمی ایسے ہیں جنہیں شدید اندرونی زخم آئے ہیں اور ان کے اعضا شدید متاثر ہوئے ہیں 7 فیصد فوجی شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں اور ہمیں اندازہ ہےکہ ایسے فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔