Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • بیجنگ میں اسرائیلی سفارت کار پر چاقو سے حملہ

    بیجنگ میں اسرائیلی سفارت کار پر چاقو سے حملہ

    چین میں اسرائیلی سفارت کار پر چاقو سے حملہ کیا گیا ہے

    اسرائیلی سفارت کار چاقو حملے میں زخمی ہو گیا ہے جسے علاج کے لئے فوری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، بیجنگ میں اسرائیلی سفارتکار پر حملہ سفارت‌خانے کے قریب نہیں بلکہ کسی اور مقام پر ہوا. واقعہ کے بعد اسرائیلی سفارت خانے کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے،

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ایک سفارت کار چاقو کے حملے میں زخمی ہوا ہے، تا ہم اسکی حالت بہتر ہے،

    یہ واقعہ حماس اور اسرائیل کے مابین لڑائی کے ساتویں دن پیش آیا، اسرائیل کے حملے میں 16 سو کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،اسرائیل نے حملوں کے بعد دنیا بھر میں مقیم اسرائیلی شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا تھا،

    اسرائیلی سفارت کار پر حملے سے اسرائیل اور چین کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں، بیجنگ میں اسرائیل کے ایلچی نے حماس کے حالیہ حملوں کی چین کی جانب سے مذمت نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے جاری تنازع پر چین کے موقف کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    دوسری جانب بھارت میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، آج جمعہ کو بھارت کے کئی شہروں میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کا امکان ہے،حکومت کی جانب سے احتجاج اور مظاہروں پر پابندی لگائی گئی ہے تاہم امکان ہے کہ جمعہ کے بعد احتجاج ہو گا، چاندنی چوک میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، نئی دہلی کے علاقے پہاڑ گنج میں یہودی عبادت گاہ چباڑ ہاؤس کی بھی سیکورٹ سخت کر دی گئی ہے

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • 212 بھارتی شہری اسرائیل سے دہلی پہنچ گئے

    212 بھارتی شہری اسرائیل سے دہلی پہنچ گئے

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد بھارت نے اپنے شہریوں کا اسرائیل سے انخلاف شروع کر دیا ہے،

    بھارت کی پہلی خصوصی پرواز اسرائیل سے 212 بھارتی شہریوں کو لے کر دہلی پہنچ گئی ہے، پرواز صبح چھ بجے دہلی پہنچی، بھارتی وزیر راجیو چندر شیکھر نے اسرائیل سے واپس آنے والے بھارتی باشندوں کا استقبال کیا، انہوں نے بھارتی شہریوں سے بات چیت بھی کی،اسرائیل میں تقریبا 18 ہزار بھارتی شہری ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں، بھارت کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کریں گے بھارتیوں کی حفاظت یقینی بنائیں،

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی توجہ اپنے شہریوں کو واپس لانے پر ہے،جو بھی اسرائیل سے واپس آنا چاہتا ہے وہ رجسٹریشن کروائے، ہم اسے واپس لائیں گے،آپریشن اجئے اسی لئے شروع کیا گیا ہے،

    دوسری جانب بھارت میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، آج جمعہ کو بھارت کے کئی شہروں میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کا امکان ہے،حکومت کی جانب سے احتجاج اور مظاہروں پر پابندی لگائی گئی ہے تاہم امکان ہے کہ جمعہ کے بعد احتجاج ہو گا، چاندنی چوک میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، نئی دہلی کے علاقے پہاڑ گنج میں یہودی عبادت گاہ چباڑ ہاؤس کی بھی سیکورٹ سخت کر دی گئی ہے

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • پاکستان اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی آواز بن گیا

    پاکستان اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی آواز بن گیا

    فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں آج ملک بھر میں یوم یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے
    مظلوم فلسطینی مسلمانوں پراسرائیلی بربریت کے خلاف تمام بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ہیں ،وفاقی دارالحکومت میں مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام یوم یکجہتی فلسطین ریلی نکالی گئی ہے، ریلی کی قیادت چیئرمین مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کر رہے ہیں ، مقررین کا کہنا تھا کہ آج جمعہ کا دن فلسطین کے مظلومین سے عہد وفا کا دن ہے۔ آج کا احتجاج ہر اس باضمیر، غیور اور شجاع کا احتجاج ہے جو مظلومین کا حامی اور ظالمین کا مخالف ہے۔مذہب ، مسلک ،رنگ ، نسل ،زبان تمام تفریقات سے بالاتر ہو اسرائیلی بربریت کے خلاف آواز اٹھانا اخلاقی و انسانی فریضہ ہے.

    فلسطین میں جاری اسرائیلی بمباری، معصوم فلسطینیوں کی ہلاکتیں ،سندھ ہائیکورٹ بار نے مذمتی قرارداد پیش کردی،
    سندھ ہائیکورٹ بار نے پاکستان سمیت مسلم ممالک کو فلسطین کیلئے آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا، جاری اعلامیہ کے مطابق
    سندھ ہائیکورٹ بار نے پاکستان سمیت مسلم ممالک کو یو ین او میں فلسطینوں کے قتل عام پر آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ اسرائیل نے معصوم فلسطینیوں کا پانی، گیس بجلی کھانا سب بند کر دیا، مسلسل گولہ اور بمباری سے معصوم فلسطینیوں کی شہادتیں ہو رہیں ہیں، غزا میں اسرائیل کی بم باری سے اسپتالیں بھی تباہ ہوگئیں ہیں،

    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    اسرائیل افواج نے فضاء سے غزہ میں کئی کتابچے گرائے ہیں، جن پر غزہ کے رہائشیوں کے لیے پیغام لکھا ہوا تھا، پیغام میں کہا گیا ہے کہ غزہ شہر ، جنگی علاقے میں تبدیل ہو چکا ہے، آپ کو فوری طور پر اپنے گھر خالی کر کے جنوب کی طرف جانا ہو گا۔ آپ کو اپنے گھروں کو واپس نہیں آنا چاہیے، جب تک کہ اسرائیل کوئی اعلان نہ کرے۔▪️ فائر وال کے قریب جانا ممنوع ہے اور جو بھی قریب آتا ہے وہ خود کو موت کے منہ میں لے جائے گا۔اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خاندانوں کی سلامتی چاہتے ہیں تو جنوب کی طرف چلے جائیں، حماس انسانی ڈھال کے طور پر معصوم شہریوں کو استعمال کر رہا ہے اسلئے شہری نکلیں اور حماس کو کچلنے کا موقع دیں،

    اسرائیلی بمباری سے حماس کی جانب سے یرغمال 13 اسرائیلی ہلاک
    دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر حملے کے دوران جن اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا ان میں سے 13 اسرائیلی، اسرائیل کی ہی بمباری سے ہلاک ہو گئے ہیں، اسرائیلی فوج نے حماس کےاس دعوے پر کہا کہ وہ ابھی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے

    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتارکر لیا گیا، اسرائیلی پولیس نے کفر قاسم میں ایک 14 سالہ بچے کی گرفتار کیا ہےم جس نے ہفتے کی صبح اسرائیلی سرزمین کے اندر حماس کی طرف سے کیے گئے حملے کی تعریف کی۔
    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی بچے نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر حماس کے حملے کے حوالے سے حماس کی طرف سے شائع کردہ ایک ویڈیو کلپ کو دوبارہ شیئر کیا۔اور حماس کی تعریف کی،جس کے بعد اسرائیلی پولیس پولیس نے بچے کی ماں کو بھی گرفتار کر لیا جبکہ بچے کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "پولیس کبھی بھی دشمن کی حمایت لیے اکسانے کے اظہار کو برداشت نہیں کرے گی

    اسرائیلی آرمی چیف کا حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کا اعتراف
    اسرائیلی آرمی چیف نےا حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کی وجہ سکیورٹی فورسز کی غلطی ہے،حماس کے ہفتے کو حملے سے ہم سنبھل نہیں پائے،حماس سے یرغمال افراد کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے،حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کو مکمل طور پر ختم کریں گے غزہ بھی اب ایسا نہیں رہے گا جیسا پہلے تھا

    دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی سیکنڈ سیکرٹری رابعہ اعجاز نے خطاب کیا،رابعہ اعجاز نے ایجنڈا آئٹم 80 پر چھٹی کمیٹی کی "انسانیت کے خلاف جرائم” پر بحث میں خطاب کیا،اپنے خطاب میں پاکستان نے غزہ میں قیامت خیز اسرائیلی مظالم کی مذمت اور فلسطینیوں کے حق میں پھرپور آواز اٹھائی،پاکستان کے مستقل مشن کی سیکنڈ سیکرٹری نے فلسطین میں قبضے، جبر اور تشدد کے نہ ختم ہونے والے سلسلے پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا

    رابعہ اعجاز کا کہنا تھا کہ غزہ میں بڑھتا ہوا اور شدید انسانی بحران، اندھا دھند فضائی بمباری سے شروع کیا گیا، اس میں شہری علاقوں اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے محفوظ مقامات پر حملے بعید از برداشت ہیں, غزہ میں خوراک، ایندھن اور ادویات جیسے ضروری سامان کی غیر منصفانہ ناکہ بندی ناقابل برداشت ہے,انسانیت کے خلاف جرائم سب سے زیادہ سنگین بین الاقوامی برادری کو خطرے میں ڈالنے والے جرائم ہیں,فلسطین، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر، قبضے اور تشدد کے دیگر حالات میں بھی انسانیت کے خلاف بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے,پاکستان کو فلسطین پر قبضے، جبر اور تشدد کے حوالے سے گہری تشویش ہے, اسرائیلی قابض افواج کی غزہ کی فلسطینی آبادی کو اجتماعی سزا کے طور پر مظالم برداشت سے باہر ہیں, ان میں عام شہریوں و اقوام متحدہ کے محفوظ اہداف پر اندھا دھند فضائی بمباری اور خوراک، ایندھن اور ادویات کی غیر انسانی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ میں بگڑتی سنگین انسانی صورتحال ناقابل قبول ہیں, یہ کارروائیاں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں ،جارحیت اور تشدد کا موجودہ دور ایک افسوسناک یادداشت ہے,
    یہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری غیر قانونی اسرائیلی قبضے، جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی بے عزتی کا براہ راست نتیجہ ہے، اس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی شامل ہیں جو فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کو تسلیم کرتی ہیں،عالمی برادری کو 1967 سے پیشگی سرحدوں پر ایک قابل عمل، خودمختار و متصل فلسطینی ریاست کے ساتھ ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا دو ریاستی حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، ایسی فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو, ایسے حل کی عدم موجودگی میں مشرق وسطیٰ میں امن ناپید رہے گا, پاکستان نے ممبر ممالک کی گذارشات کا بغور جائزہ لیا ہے اور دسمبر 2023 تک دیگر ممبر ممالک کے تبصروں کا بے انتظار ہے،پاکستان اس ڈیڈ لائن سے پہلے اپنے تحریری ریمارکس بھی دے گا, گزشتہ اجلاسوں میں، متعدد وفود نے مسودے کے مضامین کے مواد سے متعلق مسلسل خدشات کا اظہار کیا ہے,خصوصا عالمی دائرہ اختیار کے نظریے کی وسیع تشریح پر مبنی مسودہ آرٹیکل 7، 9، اور 10 نے خدشات کو جنم دیا ہے, یہ نظریہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر کمیٹی نے ابھی تک اتفاق رائے نہیں کیا ہے,مسودے میں غلامی، تشدد اور جبری گمشدگی جیسے جرائم و انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام اور سزا سے متعلق مضامین کو اقوام متحدہ کنوینشنز کے مطابق یقینی بنانا بہت ضروری ہے,ہمیں ان اصطلاحات کی تشریح میں ابہام اور عدم مطابقت کا سبب بننے والی نئی ​​تعریفوں کے تعارف کو روکنے میں احتیاط برتنی چاہیے, مختلف نقطہ نظر میں ہم آہنگ و اتفاق رائے کے لیے، کمیٹی کے بحال شدہ اجلاسوں کے فریم ورک میں بات چیت کو جاری رکھنا مناسب ہے,کسی بھی آئندہ کنونشن کو بین الاقوامی برادری کے بڑے پیمانے پر قبول کرنے کو یہ نقطہ نظر یقینی بنانے کا موثر طریقہ ہے, اس میں وہ ریاستیں شامل ہیں جو فی الحال بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم کے آئین میں فریق نہیں ہیں، میرا وفد اس بات پر قائل ہے کہ مسودہ کے مضامین پر چھٹی کمیٹی میں رکن ممالک کی طرف سے مکمل بحث و مباحثہ اور جائزہ لیا جانا چاہیے, میرا وفد دیگر وفود کے ساتھ مسودہ کے مضامین سے متعلق ان اہم امور پر بات چیت میں تعمیری طور پر شامل رہے گا, ایک بامقصد اور ٹھوس فریم ورک کے قیام کے لئےسیاست و پسند و ناہسند سے پرہیز بہت ضروری ہے, ایسا فریم ورک جو انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے احتساب اور استثنیٰ کے مسئلے کو حل کرے, ان تمام کوششوں میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد پر سختی سے عمل کرنا چاہیے,

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد آج ساتویں دن بھی اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تین لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بے گھر افراد نے سکولوں میں پناہ لے رکھی ہےتو کئی کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں، 2500 سے زائد گھر تباہ ،ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، 23 ہزار گھروں کو معمولی نقصان پہنچا ہے تا ہم وہ رہنے کے قابل نہیں،

    اسرائیلی حملوں کے بعد 88 تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے جن میں اقوام متحدہ کے زیلی ادارے کے بھی 18 سکول شامل ہیں،تعلیمی ادارے تباہ ہونے سے کم از کم چھ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں، غزہ میں پاور پلانٹ بند ہو چکا ہے، بیکریوں کے پاس آٹے کی سپلائی تقریبا ایک ہفتے کی رہ گئی ہے ، دکانوں میں کھانے پینے کی اشیا میں کمی دیکھنے میں آئی ہے،اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے قحط کی سی صورتحال پیدا ہو رہی ہے،

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کی صورتحال تباہ کن ہو چکی ہے، غزہ میں خوراک،پانی کی فراہمی مسلسل کم ہو رہی ہے،بجلی بھی بندہو چکی ہے،

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان
    امریکہ، برطانیہ سمیت کئی ممالک اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں، اب امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی اسرائیل کی مدد کے لئے دو جنگی بحری جہاز اور طیارے بھیجنے کا اعلان کیا ہے، لندن برٹش نیوی کے دو جہاز ، ہیلی کاپٹر مشرقی بحیرہ روم میں تعینات ہوں گے،اسرائیل کو فوجی اعتبار سے انتہائی مضبوط تھا حماس کے حملے کے بعد اسے امریکہ سمیت دیگر ممالک کی مدد کی ضرورت پڑ گئی، سوال ہے کہ کیا اسرائیل کو واقعی مدد درکا ہے تو اسرائیلی فوج کی مضبوطی کہاں گئی؟ امریکہ سمیت دیگر ممالک کی اسرائیل کی مدد کے اعلان سے اور بھی کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں کہ کیا یہ جنگ لمبی چلے گی؟ اسلئے اسرائیل کی مدد کی جا رہی ہے،دوسری جانب فوڈ چین میکڈونلڈ نے اسرائیلی فوج اور ریزور رنگروٹس کو مفت خوراک کی فراہمی کا اعلان کر دیا- تین فیکڑیاں کھول دیں جو روزانہ 4000 ٹن خوراک تیار کریں گی اور بائیو سیکیورٹی چیک اپ کے بعد اسرائیلی فوج تک مفت پہنچائی جائے گی

    حماس کے حملے میں امریکی شہریوں کی بھی اسرائیل میں ہلاکت ہوئی ہے،جس کے بعد امریکہ آج سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لئے خصوصی پروازیں چلائے گا، امریکی وزیر دفاع اس سلسلے میں آج اسرائیل پہنچیں گے، اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں،

    ترکیے نے مصر کے ساتھ بات چیت مکمل کر لی- غزہ کے لیے امدادی سامان آج تین فوجی جہازوں کے ساتھ، مصر اور رفع باڈر کے راستے غزہ تک پہنچایا جائے گا-ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا ہے کہ خطے میں ایک نئے محاذ کا آغاز غزہ میں اسرائیل کے اقدامات پر منحصر ہے۔ اگر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم جاری رہے تو نئے محاذ کھلیں گے، اور خطے میں ہر قسم کے امکانات ممکن ہیں،

    منصوبہ بندی اور توقع سے زیادہ اہداف حاصل کیے ہیں،القسام بریگیڈ
    القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی تفصیلات بتا تے ہوئے کہا کہ ہم نے طوفان الاقصیٰ آپریشن میں اپنی منصوبہ بندی اور توقع سے زیادہ اہداف حاصل کیے ہیں۔ ہم نے غزہ میں دشمن فوج کے دستوں پر 15 پوائنٹس کے علاوہ 10 دیگر فوجی پوائنٹس پر حملہ کیا۔ آپریشن کے آغاز کے بعد، ہم نے غزہ کے آس پاس کے مقامات پر 3500 راکٹ جبکہ 1948ء سے زیر قبضہ مقامات پر 1000 راکٹ داغے۔ ہم نے جامع منصوبہ بندی کی، ہم نے آپریشن کے لیے 3000 جنگجوؤں کو تربیت دی اور 1500 جنگجو امدادی کارروائیوں کے لیے اسٹینڈ بائی پر تھے۔ ہم امت اسلامیہ کی فتح کا نقارہ بجاتے ہیں۔ ہم دشمن سے کہتے ہیں کہ اگر تم نے زمینی راستے سے غزہ میں داخل ہونے کی جرات کی تو ہم تمہاری فوج کو کچل کر رکھ دیں گے۔ پچھلے ایک سال کے دوران ہم نے اسرائیل کو انٹیلی جنس نقطہ نظر سے شکست فاش دی۔ ہم آپریشن سے پہلے اپنے ارادوں، اپنی تربیت اور اپنے اقدامات کو چھپانے میں کامیاب ہو ئے۔ ہمارے قیدی ساتھی پریشان نہ ہوں، ہمارے پاس جو ہے وہ انہیں آزاد کروانے کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔

  • اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    فلسطینی صحافی مطیع مصابع نے پروگرام کھرا سچ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ابھی بھی فلسطینیوں پر حملے جاری ہیں جس میں وہ عام عوام کے گھروں کو نشانہ بنا رہے اور سول بلڈنگ پر ببمباری کررہے ہیں انہوں نے اینکرپرسن مبشرلقمان کو بتایا کہ کہ اسرائیل کی طرف یہ نسل کشی کئی سال سے جاری ہے اور اب وہ سیدھا سویلن آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو انٹرنیشل لاز کی بھی خلاف ورزی ہے.


    فلسطینی صحافی مطیع مصابع کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف یہ تمام تر حملے فلسطینیوں کی زمین پر ہورہے ہیں اور غزہ میں رہائشی آبادیوں پر ہمباری کی جارہی ہے، جبکہ حزب اللہ کے حوالے سے مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا واقعی ایسا ہے کہ حزب اللہ بھی حملے کررہا ہے اس پر فلسطینی صحافی نے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ حزب اللہ کی طرف کی کوئی حملے کیئے جارہے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بریکنگ؛ اسلام آباد؛ ریڈ زون میں وزارت خارجہ بلڈنگ میں آتشزدگی
    ورلڈکپ ؛ انڈیا چھوڑنے والی زینب نے وجہ بتادی
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    سینئر صحافی مبشر لقمان نے ایک سوال کیا کہ بین القوامی میڈیا یہ دعویٰ کررہا ہے کہ حماس کی طرف سے اسرائیل میں عام سویلین پر حملے کیئے گئے جس میں ایک ڈانس پارٹی کے دوران کئی لوگ مارے گئے اس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قسم کی بات کوئی معنی نہیں رکھتی اور ناہی یہ کوئی موازنہ ہے سوئے ہوئے فلسطینی بچوں اور خواتین کو مارا جائے اور یہ عالمی قوانین کے بھی خلاف ہے جبکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ ہے، کیونکہ جس ڈانس پارٹی کی بات کی جارہی ہے وہ عام سویلین نہیں تھے بلکہ اسرائیلی فوجی جوان تھے۔

  • اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات

    اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد لڑائی چھٹے روز بھی جاری ہے، اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، غزہ میں 12 سو کے قریب اموات ہو چکی ہیں،اب اسرائیل نے غزہ پر زمینی حملے کی تیاری کرلی ، 3لاکھ صہیونی فوجی ، ٹینک اور بھاری فوجی سازوسامان سرحد پر پہنچادیا گیا، اسرائیل کی جانب سے کلسٹر بموں، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے،غزہ کی مکمل ناکہ بندی کی گئی ہے،ایندھن کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہےبجلی کی پیداوار کا واحد پلانٹ بند ہو گیا ہے،اقوام متحدہ کے 11 ارکان، ہلال احمر اور ریڈ کراس کے 5 رضا کار بھی حملوں میں مارے گئے ہیں

    الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق غزہ کے حوالہ سے وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہیدوں کی تعداد 1200 ہو گئی ہے جبکہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں تین لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں،بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،کل ایک دن میں 75 ہزار کے قریب افراد بے گھر ہوئے،

    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل جنگی قوانین کا احترام کرے،امریکا میں یہودی امریکیوں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل غصے کے باوجود جنگی قوانین کا احترام کرے، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے ایران کو بھی پیغام دیا کہ وہ خود کو اس جنگ سے دور رکھے

    اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کی صورتحال تباہ کن ہو چکی ہے، غزہ میں خوراک،پانی کی فراہمی مسلسل کم ہو رہی ہے،بجلی بھی بندہو چکی ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر فاسفورس بم بھی برسائے ہیں،دوسری جانب اسرائیل کے ڈیمانا میں نیوکلیائی پلانٹ کے پاس فائرنگ کی بھی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر اسرائیلی نیو کلیئر پلانٹ کے قریب حملہ لبنان کی جانب سے کیا گیا ہے،اگر اس پلانٹ پر حماس یا حزب اللہ کا قبضہ ہو جاتا ہے تو یہ دنیا کے لئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے، اسرائیل کی جانب سے نیوکلیئر پلانٹ کے پاس فائرنگ کے حوالہ سے مکمل خاموشی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے پاس فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز متحرک ہوئیں،فائرنگ کس نے کی ابھی تک سامنے نہیں آ سکا،

    دوسری جانب بھارت نے اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان کیا ہے، بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے آپریشن شروع کر رہے ہیں، جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں انکے لئے اسپیشل چارٹر فلائٹ کا انتظام کر رہے ہیں،ہم بھارتی شہریوں کی حفاظت کریں گے، بھارتی شہری رجسٹریشن کروائیں، اسکے بعد سب کو واپس لایا جائے گا، ممبئی میں اسرائیل کے قونصلٹ کے مطابق اسرائیل میں 20 ہزار کے قریب بھارتی شہری رہ رہے ہیں

    دوسری جانب اے ایف پی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے حماس کے ساتھ یرغمال اسرائیلیوں کی رہائی کے لئے بات چیت شروع کر دی ہے تا ہم ابھی تک مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی،حماس نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے،ترک صدر نے علاقائی رہنماؤں کے ساتھ بھی فون پر بات چیت کی،ترکی دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اورحماس کے ارکان کی میزبانی کرتا ہے

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تسلیم کر لیا ہے کہ حماس کے حملے کی اطلاعات تھیں لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ حملہ اتنی شدت سے ہو گا، خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کو حملے کے بارے میں کچھ روز قبل اطلاع ملی تھی لیکن اسرائیل نے اسے نظر انداز کیا تھا،اسرائیل نے ملنے والی اطلاع کو اہمیت نہیں دی تھی،ترجمان اسرائیلی فوج ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے حماس کے اسرائیل پرحملے کے خفیہ اشارے مل گئے تھے مگر اتنے بڑے حملے کی تیاری ہو رہی ہے اس کی خبر نہ ہو سکی،

  • برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد

    برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد

    لندن: برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی –

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کی سڑکوں پر فلسطین کے جھنڈے کو لہرانا جرم کے زمرے میں شامل کر لیا گیا اور برطانوی وزیر داخلہ نے فلسطینی پرچم لہرانے کو دہشت گردوں کی حمایت قرار دے دیا،برطانوی وزارت داخلہ نے اسرائیل کے خلاف مظاہروں کے پیش نظر مختلف اقدامات کر لیے اور پولیس کو اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو زبردستی روکنے کا حکم دے دیا گیا اس حوالے سے برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریومین نے پولیس چیف کو خط لکھ دیا۔

    گزشتہ روز شیفلڈ ٹاؤن ہال کی عمارت پر اسرائیلی جھنڈا اتار کر فلسطینی جھنڈا لہرانے کا برطانوی حکومت نے سخت نوٹس لیا اور پولیس نے اسرائیلی پرچم اتارنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریومین نے کہا کہ حماس کے حق میں نعرے لگانے والوں پر پابندی پر غور کر رہے ہیں جب کہ اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعروں کو بھی جرم تصور کرنے کی تجویز ہے۔

    حماس کے حملوں میں اسرائیلی ہلاکتیں 12 سو سے بڑھ گئیں

    کینیڈین حکومت نئی دہلی کے ساتھ کشیدہ سفارتی صورتحال کو حل کرنے کی کوششیں کر …

    حیدرآباد،دکن:بابر اعظم نے گراؤنڈ سٹاف کو اپنی شرٹ تحفے میں دیدی

    واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے 2021 میں حماس کو دہشت گرد گروپ تسلیم کر کے کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم اب فلسطینی پرچم لہرانے کو بھی حماس کی حمایت کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اسرائیلی و فلسطینی بچو ں کیلئے ملالہ کا جنگ بندی کا مطالبہ

    اسرائیلی و فلسطینی بچو ں کیلئے ملالہ کا جنگ بندی کا مطالبہ

    حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے اور اسرائیل کے جواب کو آج پانچواں دن ہے، نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ نے آج خاموشی توڑی ہے، پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل پر حملے کے بعد ملالہ اب کیوں خاموش ہے اور وہ کس کا ساتھ دے گی؟ اسرائیل کا یا فلسطینیوں کا ، تا ہم اب ملالہ نے پانچویں دن ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے مابین فوری جنگ بندی ہونی چاہئے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ جیسا کہ میں نے حالیہ دنوں میں دل دہلا دینے والی خبریں دیکھی ہیں اس دوران میرا دھیان فلسطینی اور اسرائیلی بچوں کی طرف ہے جو جنگ کی صورتحال میں شدید متاثر ہوئے ہیں میں صرف 11 برس کی تھی جب میں نے اپنے ارد گرد دہشتگردی اور تشدد جیسا ماحول دیکھا صبح سویرے ہم مارٹر گولوں کی آوازوں سے بیدار ہوتے تھے اپنے اسکولوں اور مساجد کو بموں سے تباہ ہوتے دیکھا امن ایک ایسی چیز بن گئی جس کا ہم صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے جنگ ہمیشہ بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ اسرائیل کے گھروں سے اٹھائے گئے بچے ہوں یا غزہ میں فضائی حملوں کے ڈر سے چھپے ہوئے یا خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا کرنے والے بچے ہوں آج میں ان تمام بچوں اور لوگوں کے لیے غمزدہ ہوں جو مقدس سرزمین میں امن اور انصاف کے خواہاں ہیں

    واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے مابین لڑائی کا آج پانچواں دن ہے، پانچ دنوں میں دونوں اطراف سے اموات ہوئی ہیں، اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں بے گھر افراد کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہو گئی ہے،غزہ پر اسرائیل کی جانب سے ہوائی، زمینی اور سمندری حملےکئے جا رہے ہیں، حملوں کی وجہ سے فلسطینی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

  • حماس کے حملوں میں اسرائیلی ہلاکتیں 12 سو سے بڑھ گئیں

    حماس کے حملوں میں اسرائیلی ہلاکتیں 12 سو سے بڑھ گئیں

    اسرائیل اور حماس کے مابین لڑائی کا آج پانچواں دن ہے، پانچ دنوں میں دونوں اطراف سے اموات ہوئی ہیں، اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں بے گھر افراد کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہو گئی ہے،غزہ پر اسرائیل کی جانب سے ہوائی، زمینی اور سمندری حملےکئے جا رہے ہیں، حملوں کی وجہ سے فلسطینی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا

    اسرائیلی فوج نے گزشتہ شب غزہ میں 200 مقامات کو نشانہ بنایا ہے،امریکی اسلحے سے بھرا طیارہ بھی اسرائیل پہنچ چکا ہے،اسرائیل نے تین لاکھ فوجی غزہ کی سرحد کے قریب پہنچا دیئے ہیں،اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ حماس کو اب تبدیلی ملے گی،غزہ پر فضائی حملے کے بعد زمینی کارروائی بھی کریں گے، اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلانٹ کا کہنا تھا کہ میں نے غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد پر اپنی فوج سے کہا ہے کہ میں نے تمام پابندیاں ختم کر دی ہیں ہم نے علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اب ہم مکمل حملے کی طرف بڑھ رہے ہیں، حماس غزہ میں تبدیلی چاہتی تھی اور وہ جو چاہتی تھی اب اسے اس سے 180 ڈگری پر رجوع کرنا پڑے گا،

    حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والے 14 اسرائیلی فوجیوں کی شناخت ظاہر کی گئی ہے، جبکہ ہلاک فوجیوں کی کل تعداد 170 ہو گئی ہے، حماس کے حملوں میں 12 سو کے قریب اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں،

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی ناکام ہو چکی، فلسطینیوں کی ضروریات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، واشنگٹن نے امن کی کوششوں پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ عملی سمجھوتہ کرانے میں ناکام ہو گیا ہے، امریکہ نے فلسطینیوں کے مفادات کو نظر انداز کیا ہے۔

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    اسرائیل پر حماس کے حملے میں ایران کا ہاتھ ؟امریکی انٹیلی جنس کو شواہد کی تلاش
    امریکی انٹیلی جنس ایسے شواہد تلاش کر رہی ہے کہ اسرائیل پر حماس کے حملے میں ایران کا ہاتھ کہیں سےمل جائے، امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے شواہد تلاش شروع کرنا شروع کر دیے ہیں کہ آیا اس حملے میں ایران کا براہ راست کردار تھا؟ ، اگرچہ امریکہ کا خیال ہے کہ ایران اس حملے میں "مشغول” ہے، قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے پاس ابھی تک براہ راست ثبوت نہیں ہیں کہ اس حملے میں تہران کا تعلق ہے،سلیوان نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ "ہم مزید انٹیلی جنس حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔

    لیکن سی این این نے وضاحت کی کہ خفیہ معلومات تک رسائی رکھنے والے کئی انٹیلی جنس، فوجی اور کانگریسی عہدیداروں نے نیٹ ورک کو وہی بات بتائی جو سلیوان نے عوامی طور پر کہی، جس کا مطلب یہ ہے کہ براہ راست ایرانی ملوث ہونے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس سابقہ ​​شواہد کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔اسکا کہنا تھا کہ "مجھے شک ہے کہ ایران کو بالکل بھی علم نہیں تھا، ہم نے ملاقاتیں دیکھیں اور ان کے درمیان قریبی ہم آہنگی دیکھی۔”، کئی سالوں سے، ایران حماس کا اہم عطیہ دہندہ تھا، جو اسے دسیوں ملین ڈالر، ہتھیار اور غزہ میں سمگل کیے گئے اجزاء فراہم کرتا تھا، تہران نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا، حالانکہ اس نے عوامی سطح پر اس کی تعریف کی ہے.

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی فلسطین اور غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حالیہ وحشیانہ حملے کی شدید مذمت
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں سیکڑوں بے گناہ شہری جانوں کے ضیاع اور لاتعداد زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل کا غزہ پر مکمل محاصرے کا اعلان غیر انسانی اور ناقابل قبول ہے، اس سنگین بحران کے تناظر میں مسلم دنیا کی بے چین خاموشی پر گہری تشویش ہے، عالمی برادری اور مسلم ممالک فلسطینی ریاست اور اس کے عوام کی حمایت میں کھل کر سامنے آئیں،مسجد اقصیٰ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں قبلہ اول کی حیثیت سے گہری اہمیت رکھتی ہے، غزہ (فلسطین) کا مسئلہ اقوام متحدہ کی طرف سے منظور کی گئی دیرینہ قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے ، عالمی برادری معصوم جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے،

    بھارتی ٹی وی اداکارہ مدھرا نائیک کی کزن اور بہنوئی کی اسرائیل میں حماس کے حملے میں موت
    بھارتی ٹی وی اداکارہ مدھرا نائیک کی کزن اور بہنوئی کی اسرائیل میں حماس کے حملے میں موت ہوئی ہے، سوشل میڈیا پر مدھرا نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کزن اور بہنوئی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، بھارتی نژاد یہودی اداکارہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں مقیم ان کی کزن اور ان کے شوہر ہلاک ہوگئے ہیں اس وقت ہماری فیملی جس درد کا سامنا کررہی ہے، اسے لفظوں میں بیان نہیں کہیں جاسکتا.

    متحدہ عرب امارات کی طرف سے فلسطینی عوام کیلیے 20 ملین ڈالر کی فوری امداد کا اعلان
    متحدہ عرب امارات نے فلسطینیوں کے لیے 2 کروڑ ڈالر کی امداد بھجوانے کا اعلان کیا ہے ،اماراتی خبر ایجنسی کے مطابق اماراتی صدر محمد بن زاید نے فلسطینیوں کے لیے 20 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا حکم دیا،فلسطینیوں کے لیے اماراتی امداد اقوام متحدہ امدادی ایجنسیوں کے ذریعے بھجوائی جائے گی

    اسرائیل نے حماس کے غزہ پر حملے کا جواب دینے میں اتنی دیر کیوں لگائی؟
    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جنگ چھڑی، 12 سو اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں،ا سرائیل نے غزہ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے، تا ہم کچھ لوگ حیران ہیں کہ اسرائیل کی دفاعی افواج ان کئی گھنٹوں کے دوران کہاں تھیں جب حماس کے عسکریت پسند قریبی دیہاتوں میں اپنی مرضی سے گھوم رہے تھے۔ایک اسرائیلی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "فوج فوری ردعمل دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی،

    ایسا کیوں ہوا اس کی مکمل وجہ سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ تاہم، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج میں کچھ ایسے لوگ تھے جو حماس کے مجاہدین کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں تھے،اسرائیلی انٹیلی جنس حماس کے حملے کی منصوبہ بندی کے بارے میں جاننے سے قاصر تھی۔حماس کی جانب سے ہزاروں راکٹ داغے گئے۔ اسرائیل سرحدی باڑ کے ساتھ واقعات پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی کے آلات پر بھی ڈرون حملے کیے گئے۔ اس کے بعد حفاظتی باڑ کو بھاری دھماکہ خیز مواد اور گاڑیوں کے ذریعے 80 مرتبہ تک توڑا گیا۔موٹر سائیکلوں اور ہینگ گلائیڈرز کے علاوہ، 800 سے 1000 کے درمیان مسلح افراد غزہ سے نکل کر کئی اہداف پر حملہ آور ہوئے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہجوم کی حکمت عملی اسرائیل کے دفاع کو مکمل طور پر زیر کرنے میں کامیاب رہی ہے،

    اسرائیل کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، جو پہلے ہی ہفتہ کی صبح خاموش تھے اس دن انکی چھٹی تھی،جبکہ حماس کے کچھ جنگجوؤں نے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، دوسروں نے شہری بستیوں کو نشانہ بنایا۔ حماس کے ہاتھوں میں اسرائیلی ٹینکوں کی تصویریں دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے،حالیہ مہینوں میں اسرائیلی سیکورٹی اور دفاعی افواج غزہ کے مقابلے مغربی کنارے پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی تھیں، جس کی وجہ سے دفاع میں کمزوریاں پیدا ہو سکتی تھیں۔

    کوئی باضمیر انسان غزہ پر ہونے والی بمباری پر سو نہیں سکتا ، علامہ راجہ ناصر عباس
    سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار روز سے غزہ پر بمباری ہورہی ہے، غزہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، امریکی صدر نے حماس بارے جھوٹ بولا ہے ، سابق امریکی صدر نے عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی بارے جھوٹ بولا، موجودہ امریکی صدر نے حماس کو داعش سے تشبیہ دی ، امریکی وزیر خارجہ کہہ چکی ہے کہ داعش امریکہ نے بنائی ،داعش سے تشبیہ دینی ہے تو اسرائیل سے دی جائے ، اسرائیل سارے کا سارا فوجی کالونی ہے ،اسرائیل کو قائد اعظم نے ناجائز ریاست قرار دیا ہے ، اگر آج کوئی اسرائیل کو جائز ریاست کہے گا تو وہ قائد اعظم کو غلط قرار دے گا ،اسرائیل کی طرف سے غزہ کو مٹانے کی سرپرستی امریکہ کررہا ہے ، حماس نے عالم اسلام پر احساس کیا ہے کہ گریٹر اسرائیل منصوبہ ناکام بنادیا ، کوئی باضمیر انسان غزہ پر ہونے والی بمباری پر سو نہیں سکتا ،فلسطین کی وجہ سے ہمارا مسئلہ کشمیر زندہ ہے ، اگر کچھ حصہ اسرائیل کو دے دینا جائز ہے تو پھر مقبوضہ کشمیر بھی بھارت کو دینا پڑے گا ،جو بھی پاکستانی حکمران دوریاستی حل کی حمایت کرتا ہے وہ کشمیر کی تقسیم کی بات کرتا ہے ،اگر آج فلسطین تقسیم ہوگا تو کل کشمیر تقسیم ہوگا،

    فرانسیسی حکومت نے بدھ کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان ہفتے کے روز سے جاری تنازعہ میں اضافے سے بچنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ دیرپا امن کے حصول کے لیے تنازع کا سیاسی حل ہونا چاہئے،فرانس کے حکومتی ترجمان اولیور ویران کا کہنا ہے کہ”مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے بچنے، شہریوں کی حفاظت، اور صورتحال کو مزید خراب کرنے سے بچنے کے لیے سب کچھ کیا جانا چاہیے،

    خبررساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ابھی تک اپنی طاقت کا نصف بھی استعمال نہیں کیا،حماس کےجنگجو جو غزہ کی پٹی کے اردگرد کی بستیوں تک گئے اور حملے کئے، انہو ں نے اپنی نصف فوجی طاقت کا استعمال کیا ہے، حماس کے مجاہدین کے پاس آر پی جی گولے، چھوٹے خودکش طیارے، مختلف دھماکہ خیز آلات، کورنیٹ اینٹی میزائل ، پی کے سی مشین گنز اور ہزاروں گولیاں موجود ہیں،اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے بستیوں میں کئی دن تک رہنے، اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنانے اور ہلکا کھانا ساتھ رکھنے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں وہ کامیاب ہوئے،

    اسرائیلی فوج نے فلسطینی آبادیوں پر فاسفورس بموں کا بھی استعمال کیا ہے، شہری آبادی میں گھر تباہ ہو چکے ہیں، اسرائیلی طیاروں نے کراما محلے کے ساتھ ساتھ خان یونس کے القیزان محلے، تل الحوا محلے، دراج محلے، اور دیگر محلوں پر سینکڑوں ٹن بارودی مواد کے ساتھ بمباری کی۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق شہداء کی تعداد 1,055 ہو گئی، اور 5,148 زخمی ہوئے۔وزارت صحت کے مطابق شہداء میں 260 بچے اور 230 خواتین شامل ہیں جب کہ جاں بحق ہونے والوں میں 10 فیصد بچے تھے۔اسرائیلی حملوں میں 8 صحافی شہید اور 20 زخمی ہوئے ہیں.

    جےیوآئی نے فلسطینیوں کے حق میں سینٹ میں قرار داد جمع کروادی
    حماس کا اسرائیل پر حملہ، جےیوآئی نے فلسطینیوں کے حق میں سینٹ میں قرار داد جمع کروادی ،قرار داد جےیوآئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے سینٹ سیکرٹریٹ میں جمع کروائی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مجاہدین حماس نے اسرائیل سے اپنے غاصبانہ کو چھڑانے کیلئے تاریخی حملہ کیا ہے۔حکومت پاکستان بغیر کسی ابہام کے فلسطینی عوام کی حمایت میں کھڑی ہوں۔ اقوام متحدہ کی 1967 کے قرار دادوں پر عملدآمد کیلئے زور دیا جائے۔او آئی سی کا فوری اجلاس بلاکر اسرائیلی جارحیت کو دنیاء کی سامنے لایا جائے۔فلسطین کو تسلیم کئیے بغیر مشرق وسطیٰ میں قیام امن ناممکن ہے۔

    فلسطین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے علاقوں پر ممنوعہ فاسفورس بم استعمال کیے جا رہے ہیں،فلسطینی وزارت خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی گئی اور کہا گیا کہ قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے شمالی غزہ کے علاقے الکرامہ میں بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ فاسفورس بم کا استعمال کیا گیا ہے،ممنوعہ وائٹ فاسفورس سے زمین پر وسیع علاقے میں آگ بھڑک اٹھتی ہے انسانی جسم کے پٹھوں اور ہڈیوں تک کو جلادیتا ہے

  • حماس کو ایران کی سپورٹ، مغربی میڈیا کے الزام میں کتنی سچائی؟

    حماس کو ایران کی سپورٹ، مغربی میڈیا کے الزام میں کتنی سچائی؟

    نائب سربراہ فلسطینی مشن نادر الترک نے پروگرام کھرا سچ میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل دراصل میں غزہ میں ہیومن کرائسز پیدا کرنے کوشش میں ہے کیونکہ میڈیسن، فوڈ اور بجلی سپلائی منقطع کرنے کا اعلان کرچکا ہے اور امداد میں رکواٹیں پیدا کررہا ہے، جبکہ گیس بجلی سمیت خوراک کی سپلائی تو اب بند کردی گئی ہے اور تین دن سے مسلسل فلسطینی کافی مشکل میں ہیں اس جنگ کے دوران کیونکہ خوراک کی کمی ہے حالات کشیدہ ہیں.

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک کئی ہزار سے زائد لوگ زخمی ہیں جنہیں ادویات فراہم کرنے ضرورت ہے مگر اسرائیل نے میڈیسن تک بلاک کی ہوئی ہے، اور زیانسٹ لیڈر شپ اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے ایسا اقدام انسانیت کیخلاف ایک جرم ہےجب کہ اب تک جو اسرائیل کے لوگ مارے جاچکے ہیں اور کئی زخمی ہیں، اس میں ان کی سیکورٹی سسٹم کی مکمل ناکامی ہے.

    نائب سربراہ فلسطینی مشن نادر الترک نے بتایا کہ اسرائیل دراصل جنگ کی مارکیٹنگ کررہا ہے ، جبکہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کئی سال سے فلسطینیوں پر حملے کرتا چلا آرہا ہے جبکہ خود پر آزادی کے متوالوں کی طرف سے کیئے گئے حملے کو کہتا کہ خواتین اور بچے مارے جبکہ اب تک فلسطین میں کئی خواتین کو جیل میں ڈال دیا کئی شہید ہوگئے جن میں بچے اور خواتین تھیں کیا وہ دہشگردی نہیں ہے.

    اسٹینڈرڈ چارٹرڈاور کراچی یونائٹیڈ کے تحت یوتھ فٹ بال لیگ، چھٹے ایڈیشن کا آغاز
    کوئلے کی کان میں دھماکہ؛ 11 مزدور زخمی
    ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے،مولانا فضل الرحمان
    شیخ رشید کی بازیابی کیلئے مزید آٹھ دن کا وقت مل گیا
    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز
    کیا پاکستان ورلڈکپ میں نئی تاریخ رقم کر پائے گا؟
    ورلڈکپ: پاکستان کو جیت کیلئے345 رنز کا ہدف
    انہوں نے کہا کہ ایران کی حماس کو حمایت بارے خبریں بالکل فیک ہیں اور یہ بین الاقوامی میڈیا کا دوغلا پن ہے اور میں پروپیگنڈہ پر یقین نہیں کرتا جو فریڈم فائیٹرز کیخلاف کیا جاتا ہے یہ انتہائی غلط حرکت ہے کیونکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے.

  • 100 افراد ہلاک؛ اسرائیلیوں کو بم پناہ گاہوں میں دن گزارنے کی  ہدایت

    100 افراد ہلاک؛ اسرائیلیوں کو بم پناہ گاہوں میں دن گزارنے کی ہدایت

    حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر کسی بھی نئے بم دھماکے کے جواب میں ایک اسرائیلی یرغمالی کو پھانسی دے گی جو بغیر کسی پیشگی انتباہ کے سامنے آئے گا- اس گروپ کے ایک سینئر رہنما نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ یرغمالیوں کے ساتھ "انسانی سلوک” کیا جائے گا۔ حماس کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت جاری کیا گیا تھا جب جنوبی اسرائیل کی ایک کمیونٹی بیری سے کم از کم 100 لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

    جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے آج شام ایک بیان میں کہا کہ ہفتے کے روز ہونے والی دراندازی پر ان کے ملک کا ردعمل "ابھی شروع ہوا ہے”، انہوں نے مزید کہا: "آنے والے دنوں میں ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ جو کریں گے وہ نسلوں تک ان کے ساتھ گونجتا رہے گا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے اندر ایک ہزار اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے اعلان کے بعد انہوں نے اس سے پہلے کے انتباہ کو دہرایا تھا کہ حماس کہیں بھی موجود ہے اسے ‘ملبے’ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات یقینی بنائیں گے . میر علی مردان خان ڈومکی
    نگراں وزیراطلاعات سے روسی سفیر کی ملاقات؛ معیشت، تعلیم، ثقافت زیر بحث
    اسرائیل سے بھاگنے والوں کا ائیرپورٹ پر رش
    کارٹون آرٹسٹ نامین ناصر الحبارہ نے گولڈن جوبلی مقابلے میں پوزیشن حاصل کرلی
    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ متعدد فلسطینی مسلح افراد اب بھی ملک کے اندر موجود ہیں اور انہوں نے ان پر ہتھکڑیاں لگائے گئے بچوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا۔ لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج نے اسرائیلیوں سے کہا ہے کہ وہ بم وں کی پناہ گاہوں اور محفوظ کمروں میں تین دن کے قیام کے لیے تیار رہیں۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی کم ہونے کی صورت میں وہ خوراک، پانی اور بیٹری سے چلنے والے آلات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔


    دریں اثنا، اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا "مکمل محاصرہ” کرنے کا بھی حکم دیا ہے، جو حماس کے زیر انتظام فلسطینی علاقہ ہے، جس سے اس کے پاس کھانا، بجلی یا ایندھن نہیں ہے۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے محاصرے کے فیصلے پر ‘شدید پریشان’ ہیں۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان دو روز سے جاری تشدد میں اب تک کم از کم 900 اسرائیلی اور 687 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔