Baaghi TV

Tag: اسرائیل

  • اسرائیلی  میجر جنرل حماس کے ہاتھوں  یرغمال؛  کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    حماس کے نائب سربراہ صالح العروری نے دعویٰ کیا ہے کہ ہحماس کے پاس کافی اسرائیلی قیدی ہیں جن کے بدلے وہ اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرا سکتے ہیں جبکہ حماس کے نائب سربراہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ ہم بہت سے اسرائیلی فوجیوں کو مارنے اور پکڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لڑائی اب بھی جاری ہے۔ اسرائیل میں موجود اپنے قیدیوں کو کہوں گا کہ آپ کی آزادی بہت قریب آرہی ہے۔ جو ہمارے ہاتھ میں ہے اس کے زریعے آپ خود کو آزاد ہوتے یکھیں گے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ جتنی طویل لڑائی جاری رہے گی، قیدیوں کی تعداد اتنی ہی زیادہ ہوتی جائے گی۔ تاہم خیال رہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی مزاحمتی تنظیم حماس کے جنگجو اسرائیل پر حملوں کے دوران متعدد اسرائیلی فوجی اور شہریوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں جبکہ آج صبح حماس نے غزہ سے اسرائیل پر زمین، سمندر اور فضا سے حملے کیے جس کے نتیجے میں صیہونی فوجیوں سمیت 40 اسرائیلی ہلاک، 700 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل کئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے کئی اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنالیا ہے، اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے جنگجو حملوں کے دوران 50 اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے جنگجو اسرائیلی فوج کے میجر جنرل نمرود الونی کو بھی یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں۔

    تاہم عرب میڈیا نے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کی بنیاد پر کیا ہے تاہم اسرائیلی فورسز کی جانب سے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی اور اسرائیلی حکام اور حماس کے رہنماؤں دونوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مغویوں کو غزہ لے جایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل کے کم از کم دو مقامات سے لوگوں یرغمال بنایا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    برفانی تودہ گرنے سے 4 افراد ہلاک ہوگئے

    پاگل کتوں کے کاٹنے کے 22 واقعات رپورٹ

    شمالی وزیرستان؛ سکیورٹی فورسز نے دہشتگرد عظیم اللہ عرف غازی کو ہلاک کردیا

    پی ٹی آئی پی تقریب؛ شریک جماعت اسلامی کے رکن کا کھڑے ہوکر انوکھا انکار
    جبکہ حماس کی طرف سے جاری کردہ ویڈیوز میں کم از کم تین اسرائیلیوں کو زندہ پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ دریں اثنا، ایسوسی ایٹڈ پریس کی تصاویر کے مطابق دو خواتین سمیت کم از کم تین شہریوں کو غزہ لایا گیا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کی نامعلوم تعداد کو غزہ لے جایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ہجری نے کہا کہ حماس کے جنگجوؤں نے غزہ سے 24 کلومیٹر (15 میل) کے فاصلے پر واقع بیری اور اوفاکیم قصبوں میں بھی یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

    حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے اس دوران کہا کہ جنگجوؤں نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو جن میں افسران بھی شامل ہیں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغویوں کو محفوظ مقامات“ اور سرنگوں میں رکھا جا رہا ہے اور حماس کے نائب سربراہ العروری نے پہلے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ قیدیوں کو قیدیوں کے تبادلے کے لیے استعمال کیا جائے گا تاہم اُدھر اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی حملے شروع کردیے ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق 198 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ جبکہ اسرائیلی حکومت نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں‌جزیرہ نما سینائی میں تمام اسرائیلی شہریوں سے فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اب دوسری جانب سوال یہ اہم ہے کہ اسرائیل کا جدید ترین آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم حماس کے راکٹوں کو پرواز کے راستے میں روکنے اور انہیں نشانہ بنانے میں کیسے ناکام رہا؟ نتیجتا 1000 راکٹ ریاست اسرائیل کے اندر گرے ہیں.

    حماس کی ایک بڑی فوج اسرائیل کی مضبوط سرحدی رکاوٹوں کو توڑنے میں کیسے کامیاب رہی؟ اور انہوں نے اسرائیل کی ریاست میں اتنی گہرائی تک مداخلت کیسے کی جس کی بالکل مخالفت نہیں کی گئی؟ کیوں آئی ڈی ایف فوری رد عمل کے ذریعے حماس کے جنگجوؤں کو دراندازی کرنے والے مقامات سے بے دخل کرنے میں ناکام رہا؟ کوئی کیسے یقین کر سکتا ہے کہ آئی ڈی ایف کے پاس اس طرح کے واقعات کے لئے کوئی جوابی منصوبہ نہیں ہے؟

    جبکہ حماس نے اسرائیل کی ناک کے نیچے اتنی بڑی مقدار میں راکٹ کیسے درآمد یا تیار کیے اور ذخیرہ کیے؟ حماس کو لانچنگ سائٹس پر 1000 راکٹ لے جانے کی کھلی چھوٹ کسیے دی گئی؟ اسرائیلی وزیر اعظم کو جنگ کے اعلان کے لئے کابینہ کی منظوری کی ضرورت کیوں نہیں تھی؟ اور تمام صحیح وجوہات کی بنا ء پر، ہم یہودیوں کی لاشوں کو گھسیٹتے ہوئے جشن منانے کے لئے مناسب طور پر خوش ہیں .

  • اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشر لقمان کا اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ولاگ میں کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں حماس نے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر حملہ کردیا ہے جو آج کی تاریخ میں پہلا ایسا حملہ ہے جس سے اسرائیل ہل کر رہ گیا ہے، اور کافی خوف زدہ ہیں۔

    مبشر لقمان نے بتایا کہ اسرائیل کی کل آبادی 50 سے کوئی 55 لاکھ کے قریب ہے، جبکہ ہمارے لاہور لاہور کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے، یہ ان کی تعداد اس لیئے کم ہے کیونکہ جب تک ماں باپ خاندانی طور پر یہودی نہ ہوں تو وہ آپ کو یہودی نہیں مانیں گے۔


    سینئر اینکر پرسن نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کسی کو جو یہودیت میں آنا چاہتا یا جیسے کہ لوگ مزہب تبدیل کرلیتے تو ایسے شخص کو اصلی یہودی نہیں مانتے ہیں، اور جب ان کا کوئی مرتا ہے تو ان کے ہاں صف ماتم بجھ جاتا ہے، اور اب اسرائیل میں موساد جو انکی خفیہ ایجنسی کے سربراہاں کو ہٹانے کا کہا جارہا ہے۔


    جبکہ اس ایجنسی کو بڑا طاقتور سمجھتا جاتا دنیا میں لیکن ان کے خود کے ملک پر حماس کی طرف سے ایک ساتھ مختلف جگہوں سے سات مقامات پر حملہ ہوا ہے، اور موساد کو اس کا پتہ ہی نہیں چلا ہے۔ جبکہ اسرائیل پر حملہ اصل کہانی کو مکمل سننے کیلئے اس لنک پر کرکے یوٹیوب پر اسے دیکھیں اور سنیں۔

  • ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے  بند،  مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سرفراز بگٹی اپنی طرف سے کورٹ مارشل کا بیان نہیں دے سکتے،اس بیان کو دینے کا مطلب یہ ہے کہ انکو کہا گیا ہے کہ وہ یہ کہیں،سمگلنگ کے خلاف کاروائی صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ کراچی میں بھی ہو گی، تیل کراچی اور دیگر جگہوں پر بھی آتا ہے، تیل کے سیل پوائنٹ، سٹوریج، سب کو دیکھا جائے گا، اور ایکشن ہو گا، اس میں کافی لوگ شامل ہوں گے، جو شامل ہیں ، اسکا مطلب ہے عاصم منیر صاحب کسی کا لحاظ نہیں کریں گے، وہ کسی کو نہیں بخشیں گے،کورٹ مارشل یا جو بھی طریقہ ہے، اسکے مطابق کاروائی ہو گی،سروس رول کے مطابق جو بھی مناسب کاروائی ہو گی، ضرور ہو گی، یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم فیصلہ کریں کہ کیا ہونا چاہئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان باہر جائے گا؟ تو وہ پانچ دس سال کے لئے سائن کر کے جائے گا جس طرح میاں صاحب گئے تھے، اگر وہ باہر جاتا ہے تو پی ٹی آئی کو لیڈ کرنے والا کون ہو گا؟ سب رہنما اندر ہیں، اسد عمر فارغ ہوگئے ہیں، کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں، پرویز الہیٰ اندر ہیں، اسد قیصر اور عارف علوی کی نظریں اس پر ہیں کہ وہ پارٹی ہیڈ بن جائیں گے،پارٹی صدارت پکے ہوئے پھل کی طرح انکو مل جائے گی، انکی تو خواہش ہے کہ عمران خان جائے اور دس سال تک واپس نہ آئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس دن سعودی عرب کہے گا ادھر اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے، کوئی پریشر نہیں ہو گا، یو اے ای کے جو پرنس ہیں محمد بن زاہد، دو برس پہلے پاکستانی ھکومت کو بات کہی تھی کہ ایک دن تو تسلیم کرنا ہے، آخری مت ہونا، اگر پہلے کرتے ہو تو فائدہ ہو سکتا ہے، اور اگر آخر میں کرتے ہو تو فائدہ نہیں، پہلے والا سین تو ہم نے مس کر دیا، کئی مسلمان ممالک کر چکے ہیں، اب سعودی عرب کے تعلقات بھی اچھے ہو چکے ہیں، سعودی عرب کسی کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتا، انہوں نے ایران اور یمن سے ہاتھ ملا لیا، وہ اپنی ٹریڈ کے اوپر دھیان دے رہے ہیں،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں

  • سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نئے مشرق وسطیٰ کا جنم ہوگا. نیتن یاہو

    سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نئے مشرق وسطیٰ کا جنم ہوگا. نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدے کے بلکل قریب پہنچ چکا ہے جبکہ اپنے خطاب میں نیتن یاہو کا کہنا تھاکہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ دیرپا امن کے قیام کیلئے کوشاں ہیں، فلسطینیوں کو یہودیوں کے علیحدہ ریاست کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے تعاون سے نئی امن راہداری کو قائم کیا جائے گا، اسرائیل کا سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدہ دیگر عرب ممالک کو امن معاہدے کرنے پر آمادہ کرےگا، ان کا کہنا تھاکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے نئے مشرق وسطیٰ کا جنم ہوگا اور ہم سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔
    سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    ان کا مزید کہنا تھاکہ فلسطینیوں کے ساتھ امن کا قیام حقیقت پسندی سے مشروط ہے، اسرائیل، امریکی صدرکی موجودگی میں سعودی عرب کےساتھ امن معاہدے کیلئے پرامید ہے تاہم خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل سے کو تسلیم کیا اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا۔

  • سعودی عرب اور اسرائیل قریب تر ہوتے جارہے ہیں، محمد بن سلمان

    سعودی عرب اور اسرائیل قریب تر ہوتے جارہے ہیں، محمد بن سلمان

    ریاض: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانےکی طرف پیش رفت ہو رہی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، اسرائیل سے سعودی عرب کا فی الحال کوئی تعلق نہیں ہے مسئلہ فلسطین اہم ہے اسے دو طرفہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوششوں کے دوران حل ہونا چاہیے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

    امریکی ثالثی میں مذاکرات کے معطلی کی تردید کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کےتناظر میں شہزادہ محمد بن سلمان کاکہنا تھا کہ ہمارے لیے فلسطین کا معاملہ انتہائی اہم ہے، ہم پہلےاس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس پر کیا ہو سکتا ہے انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ ہم کسی ایسے مقام تک ضرور پہنچیں گے جس سے فلسطینوں کیلئے زندگی کی مشکلات کچھ کم ہوں گی۔

    سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے،نگران وزیراعظم

    محمد بن سلمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول میں پہل کی تو سعودی عرب بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرے گا، ایران کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے معاملے پر سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ جو ملک بھی جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے اور باقی دنیا کے ساتھ متصادم ہوگا جوہری ہتھیار حاصل کرنا بیکار ہے کیونکہ اسے استعمال نہیں کیا جائے گا دنیا ایک نئے ہیروشیما کو برداشت نہیں کرسکتی،سعودی ولی عہد نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکی اور غیر ملکی کمپنیاں آئیں اور مشرق وسطیٰ میں محفوظ ماحول میں سرمایہ کاری کریں۔ سعودی عرب امریکا سے ہتھیار خریدنے والے 5 بڑے ممالک میں شامل ہے۔

    سوئٹزرلینڈ میں برقع پہننے پر پابندی،خلاف ورزی کرنے والوں پرجرمانہ

    دوسری جانب نیویارک میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ملاقات ہوئی ملاقات کے بعد نیتن یاہو نے کہا کہ بائیڈن کی قیادت میں ہم اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان امن قائم کر سکتے ہیں۔

  • مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر دیا

    مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر دیا

    ماہرین کی جانب سے پیشگوئی کی گئی ہے کہ مراکش کے بعد اسرائیل حکومت کی ناکامی کی وجہ سے شدید زلزلےسے تباہ کن مناظر کا مشاہدہ کر سکتا ہے-

    باغی ٹی وی: "یروشلم” رپورٹ کے مطابق اسرائیل حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار متان یاہو انگلمین نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ چھ ماہ پہلے، یہ ترکی تھا جمعہ کو مراکش کو ایک مہلک زلزلے کا سامنا کرنا پڑا اسرائیلی ریاست ان سخت یاد دہانیوں کے باوجود زلزلے کی تیاریوں کو نظر انداز کر رہی ہے کسی تباہی کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کا انتظار کرنے کے بجائے یہ ضروری ہے کہ وزیراعظم اور متعلقہ وزارتیں فوری طور پر خامیوں کو دور کریں۔

    اسرائیل افریقی اور عرب ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے اور اس وجہ سے اسے ایک بڑے اور مہلک زلزلے کے خطرے کا سامنا ہے،افریقی پلیٹ شمال جنوبی محور کے ساتھ منقسم ہے جسے ”بحیرہ مردار“ یا شامی افریقی رفٹ کہا جاتا ہےیہ رفٹ جنوبی ترکیہ سے شام، لبنان، وادی اردن، وادی عربہ، بحیرہ احمر، اور جنوب کی طرف افریقہ کے مشرقی ساحل کے ساتھ خلیج عقبہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان رفٹ زونز کے قریب ترین علاقے بڑے زلزلوں کے لیے حساس ہیں۔

    پوری بستی میں اکلوتا زندہ بچ جانے والا مراکشی

    اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایک سینئر محقق اور ماہر ارضیات ڈاکٹر ایریل ہیمن کے مطابق، اسرائیل میں شامی افریقی رفٹ کے ساتھ آنے والے زلزلوں کا پتہ آٹھویں صدی تک لگایا جا سکتا ہے اور یہ ہر 80 سال بعد آتے ہیں،چھ یا اس سے زیادہ شدت کا آخری بڑا زلزلہ 1995 میں ایلات کے علاقے میں آیا تھا۔

    ڈاکٹر ایریل ہیمن نے کہا کہ بہت سے چھوٹے زلزلے جو بمشکل محسوس کیے جاتے ہیں اس خطے میں باقاعدگی سے آتے ہیں اور بغیر کسی واقعے کے گزر جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، اگلے 50 سالوں کے اندر جنوبی لبنان اور بحیرہ مردار کے جنوبی حصے کے درمیان ایک اور طاقتور زلزلے کے زیادہ امکان کو سمجھنا مناسب رہے گا’اسرائیل میں بڑیم شدت کا زلزلہ ”اگر“ نہیں بلکہ ”کب“ کا سوال ہے‘۔

    سعودی عرب اوریورپ تک نئی راہداری کابھارتی نقشہ جعلی ثابت

    انہوں نے کہا کہ مراکش میں تباہی اسرائیل کے لیے ایک اور انتباہی علامت ہے۔ ایسا زلزلہ یا شاید اس سے بھی زیادہ طاقتور زیادہ دور نہیں اگلا زلزلہ 10 منٹ یا 10، 20، 50 سال دور ہو سکتا ہے، تمام نئی ٹیکنالوجی کے باوجود، زلزلے کی پیش گوئی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ’ زیر زمین کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہو رہی ہیں، لیکن بہت آہستہ اور امید ہے کہ زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

  • سعودی عرب میں نصابی کتب سے اسرائیل مخالف مواد ہٹا دیا گیا

    سعودی عرب میں نصابی کتب سے اسرائیل مخالف مواد ہٹا دیا گیا

    لندن میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار مانیٹرنگ پیس اینڈ کلچرل ٹولرنس ان اسکول ایجوکیشن (IMPACT-SE) کی طرف سے مئی میں جاری کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سعودی نصابی کتب سے تقریباً تمام سام دشمن مواد ہٹا دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ بدلتے سعودی عرب کا ایک نمونہ ہے جس نے وژن 2030 کے تحت معاشی و اقتصادی ترقی کی راہوں پر تیزی کے ساتھ سفر کررہا ہے ۔ اسکولی نصاب میں بڑی تبدیلیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے اسرائیل سے تعلقات کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے نصاب سے یہود کی شرپسند طبیعت سے متعلق مواد حذف کردیا۔ اس کا دعوی ‘ امپیکٹ سی‘ نامی اسرائیلی ادارے نے اپنے رپورٹ میں کیا ہے ۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاض حکومت کے ایما پر نصابی کتب میں سے یہود کے خلاف زیادہ تر مواد ہٹا دیا گیا یا پھر اس میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اسرائیل کے ساتھ نام نہاد رواداری کو فروغ دینا ہے۔

    اس رپورٹ میں اس اقدام کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے ایک انقلابی اقدام قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسکولوں میں تعلیمی نصاب کی اصلاح کے میدان میں اپنے اقدامات کا آغاز کیا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

    اسرائیل سے سعودی عرب تک ریلوے لائن منصوبہ

    اس سے قبل سعودی عرب کی تعلیمی کتابوں میں صہیونیوں کو بندر اور خنزیر کہا گیا تھا اور مشرق وسطیٰ کے نقشوں پر اسرائیل کا لیبل لگانے سے انکار شامل ہے۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سعودی ولی عہد نے سعودی عرب کی 300 تعلیمی کتابوں کے مواد کو تبدیل کیا ہے جن میں صیہونیت مخالف مواد تھا۔حذف کیے گئے ان مواد میں سے کچھ صیہونی حکومت کی بستیوں کی تعمیر کے خلاف تصورات پر مشتمل تھے اور دیگر 1969 میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے سے متعلق تھے۔

    ‘ امپیکٹ سی’ نامی صہیونی ادارہ دنیا بھر میں نصابی کتب اور ان میں شائع شدہ مواد پر نظر رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2020-21کے لیے ترتیب دیے گئے نصاب میں اعتدال کے نام پر یہود مخالف مواد کوہٹا دیا گیا ہے اس سلسلے میں یہود کی چالاکیاں اورجوڑ توڑ کرکے دنیا کو کنٹرول کرنے کے حصے کو ختم کردیا گیا ہےاس حصے کو بھی حذف کردیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو جہاد اور شہادت کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے ۔ ‘‘اللہ کی راہ میں جہاد اسلام کا عروج ہے ’’ کو بھی اب ختم کر دیا گیا ہے۔

    بھارتی پنجاب سے ڈرونز اسمگلنگ کیلئے سرحد پار جاتے ہیں،وزیر اعلیٰ بھارتی پنجاب

    جب کہ IMPACT-se کے 2020 کے مطالعے میں "قرآنی سورتیں، احادیث اور مذہبی تشریحات جو غیر مسلموں کے خلاف اکساتی ہیں”، "درسی کتب جو کہ عام طور پر سام دشمنی کو فروغ دیتی ہیں،” اور "جہاد جنگ پر سخت زور دیتے ہیں” سمیت کئی مسائل والے حصے پائے گئے۔ "شہادت کی فضیلت”، نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان میں سے تقریباً تمام مسائل کو ختم کر دیا گیا ہے۔

    مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نصابی کتابیں جہاد کی تعریف کرنے والے حصوں سے ہٹ کر ان حصوں میں منتقل ہو گئی ہیں جو اب دہشت گردی کے لیے مشہور بنیاد پرست مذہبی گروہوں، جیسے حزب اللہ، داعش، القاعدہ اور حوثی عسکریت پسندوں پر تنقید کرتے ہیں۔

    اسی طرح ‘صیہونی خطرہ’ نامی وہ باب بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جس میں مختلف موضوعات تھے اور یہ بھی شامل تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور اسے باقی رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اس باب میں یہ بھی شامل تھا کہ اسرائیل مبینہ طور پر اپنا علاقہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    چین میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی،ہزاروں افراد شیلٹرز ہوم میں پناہ لینے پر مجبور

    صیہونی خطرہ نامی باب بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا، جس میں اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست اور اسے تسلیم نہ کرنے کی ترغیب تھی۔ اس باب میں کئی حقائق بیان کیے گئے تھے،جن کی رو سے اسرائیل اپنا علاقہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    ایک پیراگراف جو حذف کیا گیا وہ ہم جنس پرستوں کو سزائے موت سے متعلق تھا اسرائیل کے پالیسی اسٹڈیز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی طرف سے تیار کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اب سعودیوں کی طرف سے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں، کیونکہ سعودی عرب بہت حد تک بدل چکا ہے۔ سعودی عرب نے رواں سال ایک نیا نصاب تعلیم تیار کیا ہے جس میں اسرائیل سے نفرت ختم کردی گئی ہے۔ یہ نیا نصاب آئندہ تعلیمی سال سے رائج کیا جائے گا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں تعلیمی نظام میں جوہری تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ حکومت نے ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا ہے جسے پڑھنے والے بچے اور نئی نسل اسرائیل کےخلاف نفرت نہیں کرے۔ نئے نصاب میں تشدد پر اکسانے والا تمام مواد ہٹا دئے گئے ہیں ۔ وہ تمام مضامین اور درسی مواد جس میں یہودیوں اور اسرائیل سے نفرت سکھائی جاتی تھی، مکمل طور پر ختم کردیے گئے ہیں ۔ اب سعودیہ کے نصاب میں ایسی کوئی چیز نہیں باقی نہیں رہی، جسے پڑھ کرطلبا میں شوقِ شہادت پیدا ہوگی۔

    بغداد؛ شاہراہ عام پر خاتون کو سرعام بے لباس کردیا گیا

    2022 کی سعودی نصابی کتب کا تجزیہ کرنے والی نئی رپورٹ کے مطابق، صرف دو بڑے مسائل باقی رہ گئے ہیں: علاقائی نقشوں پر اسرائیل کی عدم موجودگی اور بعض صورتوں میں اسرائیلیوں کی شناخت کے لیے "اسرائیلی قبضے” یا "اسرائیلی قابضین” کا استعمال۔ اس کے علاوہ، "صیہونیوں” کی اصطلاح کی بہت سی مثالوں کو "اسرائیلی” سے بدل دیا گیا تھا۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ان کے واضح کردار کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔امریکی بائیڈن انتظامیہ نے فروری 2021 میں ایک غیر اعلانیہ رپورٹ جاری کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ MBS نے خاشقجی کو قتل کرنے کے آپریشن کی منظوری دی تھی۔

    پاکستان سے بھارت جانیوالی سیما کے پب جی پارٹنر کے گھر میں فاقے،مدد کی اپیل

    بائیڈن کے اپنی انتظامیہ کے آغاز سے ہی ایم بی ایس کے ساتھ کشیدہ تعلقات رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سعودی مملکت اور اسرائیل کے درمیان معمول پر لانے کے لیے کام کر رہے ہیں واشنگٹن میں عرب خلیجی ریاستوں کے انسٹی ٹیوٹ کے سینئر رہائشی اسکالر کرسٹین دیوان نے کہا کہ یہ تبدیلیاں سعودی حکومت کے قانونی ہونے کے بارے میں زیادہ ہیں۔

    انہوں نے متنبہ کیا کہ اگرچہ نیا نصاب یہودیت کو بطور مذہب رواداری بڑھاتا ہے، لیکن یہ "اسرائیل کی سیاسی قبولیت کو معدوم رکھتا ہےیہ یہودیوں میں مذہبی عدم برداشت کو کم کرنے کی کوششوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، جس طرح اسرائیل کو معمول پر لانے کے بارے میں سیاسی فیصلہ کیا جانا چاہیے، اس کی بتدریج تیاری کر رہا ہے۔”

  • سویڈن: مقصدمقدس کتابوں کوجلانا نہیں تھا،صرف قرآن کی بیحرمتی کیخلاف آواز اٹھانا تھا.مسلم نوجوان

    سویڈن: مقصدمقدس کتابوں کوجلانا نہیں تھا،صرف قرآن کی بیحرمتی کیخلاف آواز اٹھانا تھا.مسلم نوجوان

    سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں پولیس کی جانب سے اسرائیلی سفارت خانے کے باہر رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے احتجاج کے دوران بائبل اور تورات کو جلانے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد جہاں اسرائیل نے شدید ردعمل دیا وہیں پاکستان نے بھی مذمت کی جس کے پیشِ نظر تورات کی بے حرمتی کا منصوبہ تَرک کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق سویڈن نے مسلم نوجوان کو اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے آج توریت اور انجیل نذرآتش کرنے کی اجازت دی تھی جس کی اسرائیل کی جانب سے مذمت کی گئی تھی اسرائیل کے احتجاج کے بعد ہی 32 سالہ شخص نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ اپنے احتجاج سے آگے نہیں بڑھے گا۔ اس نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد دراصل ان لوگوں کی مذمت کرنا تھا، جو قرآن سمیت دیگر مقدس کتابوں کو جلاتے ہیں۔

    اجازت کے بعد احمد الوش اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے پہنچے اور انہوں نے توریت نذرآتش نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے پاس موجود لائٹر پھینک دیا اور کہا کہ مجھے اس کی بالکل ضرورت نہیں کیونکہ میں مقدس کتاب کو نذر آتش نہیں کروں گا نہ ہی کسی کو ایسا کرنا چاہیے۔

    مظاہرے کے منتظم احمد اے کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد دراصل مقدس کتابوں کو جلانا نہیں تھا بلکہ ان لوگوں پر تنقید کرنا تھا جنہوں نے حالیہ ماہ میں سوئیڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کیا ہے، جس کے لئے سوئیڈن کا قانون منع نہیں کرتا شامی نژاد سویڈش باشندے نے وضاحت کی کہ یہ ان لوگوں کے لیے جواب ہے، جو قرآن کو جلاتے ہیں، میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اظہار رائے کی آزادی کی حدود ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے

    واضح رہے کہ سویڈش پولیس نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اسٹاک ہوم میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے کے لیے اجازت نامہ دے دیا ہے، جس میں تورات اور بائبل کو جلانا شامل تھا۔

    غیرملکی میڈیا کےمطابق اسرائیل نےسویڈش حکومت سے احتجاج روکنےکا مطالبہ کیا ہے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ تمام مذاہب کی مُقدس کتابوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔


    انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ میں سویڈن میں حکام کی جانب سے ملک میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے بائبل کو جلانے کی اجازت دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہوں اسرائیل اس شرمناک فیصلے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے، جس سے یہودیوں کے مقدسات کو نقصان پہنچا ہے۔

    دہلی،رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کا اکشردھام مندر کا دورہ

    اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان کہا کہ ہم سویڈن سے مقدس کتابوں کو جلانے سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اسرائیل کے صدرکی حیثیت سے میں نے قرآن کو نذر آتش کرنے کی مذمت کرتا ہوں، جو مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے اور اب میرا دل شکستہ ہے کہ یہودیوں کی مقدس کتاب کے ساتھ ہی بائبل کے ساتھ بھی یہ ہی کیا گیا ہے، مقدس کتب کی بے حرمتی کی اجازت دینا اظہار رائے کی آزادی میں کوئی مشق نہیں ہے، یہ اشتعال انگیزی اور خالص نفرت کا عمل ہے، پوری دنیا کو مل کر اس قابل مذمت فعل کی مذمت کرنی چاہیے۔

    روس میں جنس کی تبدیلی پر پابندی کا قانونی بل پاس


    سُویڈن میں بائبل اور تورات کو نذر آتش کرنے کی اجازت دینے پر پاکستان کا سخت رد عمل سامنے آگیا ہے ترجمان دفتر خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ مقدس مذہبی کتابوں کو نذر آتش کرنے اجازت دینے کی مذمت کرتے ہیں، مذاہب کے خلاف نفرت انگیز اقدامات کی حمایت نہیں کرسکتے۔

    کریپٹو کرنسی کے بانی کیخلاف مقدمہ جزوی طور پر خارج

  • عمران خان نے کس کے کہنے پر اسرائیل کی مذمت کی

    عمران خان نے کس کے کہنے پر اسرائیل کی مذمت کی

    شہباز شریف کا الوداعی خطاب
    اگلا وزیراعظم کون؟

  • اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی،مولانا فضل الرحمان

    اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی کے سربراہ، مولانا فضل الرحمان نے عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔ نائن الیون کے بعد تسلسل کے ساتھ جو ہماری پالیسیاں چل رہی ہیں اس میں پاکستان کا اسلامی شناخت ختم کرنا اور اسے سیکولر سٹیٹ بنانا ہے،پاکستان میں اسلامی طبقہ معتوب ہے،

     اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں پاکستان کے خلاف بیان کو سختی سے مسترد کیا ہے

     اسرائیل اور بھارت سے پی ٹی آئی کو پیسے ملے

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے تحریک انصاف کے حق میں پاکستان پر الزام تراشی شدید قابل مذمت ہے۔ نیازی اس کیمپ کا حصہ ہیں جو فلسطینیوں کے حقوق پامال کر رہے ہیں۔ اسرائیل کیپٹول ہل حملے میں ملوث لوگوں کی گرفتاری اور سزا پر نہیں بولا، کیا وجہ ہے وہ پاکستان کے حساس تنصیبات پر حملہ آوروں کے حق میں سفارشات پیش کر رہا ہے؟ اسرائیل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلافورزیوں پر کیوں نہیں بولتا؟ دراصل بات انسانی حقوق کی نہیں بلکہ اسرائیل کی تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین کے ساتھ "خصوصی ہمدردی” کی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے کسی اور ملک میں انسانی حقوق کی خلافورزیوں کی باتیں مضحکہ خیز لگتی ہیں۔ اسرائیل خود 60 سالوں سے ہر روز فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا، وہ کس منہ اور حیثیت سے انسانی حقوق کے حوالے سے دنیا کو لیکچر دے رہا ہے؟