تل ابیب:اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے بیان جاری کیاگیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین پسند کریں تو اسرائیل ان دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کرانے کےلیے تیار ہے
ذرائع کےمطابق اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا ہےکہ وہ تیار ہیں کہ یہ دونوں ملک اسرائیل پراپنا قاضی مان کراپنے مسائل کے حل کے لیے ہمارے پاس آئے ، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یوکرین تو تیار ہے لیکن روس نے اسرائیلی دعوت کو ڈھونگ رجانے ایک کھیل قرار دیا ہے
یاد رہے کہ چند دن قبل گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں پر روس کی جانب سے تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس علاقے پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم نہیں کرتے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں روسی مشن نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم مقبوضہ علاقےگولان کی پہاڑیوں میں آبادکاری کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے تل ابیب کے اعلان کردہ منصوبوں پر فکر مند ہیں۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل رکن کے مشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 1949 کے جنیوا کنونشن کی شقوں سے متصادم ہے۔ٹویٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کا علاقہ جو شام کا حصہ ہے اس پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
شام کے دارالحکومت میں اسرائیل کے چوبیس گھںٹوں میں دو حملے کئے ہیں-
باغی ٹی وی : شامی میڈیا کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں دوسری بار شام میں اسرائیل نے اہداف پر حملے کیے ہیں جمعرات کی صبح دارالحکومت دمشق اور اس کے دیہی علاقوں کی فضا میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
خبروں میں حوالہ دیا کہ حکومت کے فضائی دفاع نےنصف شب کے بعد دارالحکومت کے آس پاس میں اسرائیلی میزائل حملوں کا جواب دیا اہم ان حملوں میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
قبل ازیں شامی میڈیا نےاسرائیل نے قنیطرہ گورنری کے آس پاس کے علاقے میں حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا مگر بعض ذرائع نے اس کی تردید کی ہےبدھ کے روز ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے مزید کہا کہ اسرائیلی حملے سے مادی نقصان ہوا۔
ایک فوجی بیان کے مطابق آج بدھ کی صبح سویرے اسرائیلی حملے میں گورنری کے آسپاس کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا قنیطرہ اسرائیل کی سرحد کے قریب ملک کے جنوب مغرب میں واقع ہے یہاں پر ہونے والے مبینہ اسرائیلی حملوں میں غیرمعمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں-
واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں اکثر دمشق کے آس پاس یا شام عراقی سرحد کے قریب کے علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی سب سے زیادہ متحرک تعداد موجود ہے۔
اسرائیلی حکومتوں نے کئی سال سے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ سرحدوں پر ایرانی ملیشیا، خاص طور پر حزب اللہ کی توسیع کو برداشت نہیں کرے گا کیونکہ تل ابیب کی سلامتی کو اس سے خطرہ ہے۔
دوسری جانب گزشتہ روز فلسطین میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک 14 سالہ فلسطینی نوعمر محمد شہادہ شہید ہو گیا تھا فلسطینی وزارت کے مطابق محمد شہادہ کو بیت لحم کے قریب موجود قصبے الخضر میں اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق فوجیوں نے ٹریفک پر پٹرول بم پھینکنے کی مبینہ کوشش کرنے والے تین ملزمان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ملزم موقع پر ہلاک ہوگیا اس علاقے میں گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیلی فوجیوں پر سات پٹرول بم حملے ہوچکے ہیں۔
اسرائیلی قانون کے مطابق پتھرائو اور پٹرول بم حملے جان لیوا کارروائیوں میں شمار ہوتے ہیں جس کے جواب میں اسرائیلی فوج کو فائرنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے انسانی حقوق کے گروپ اکثر اسرائیلی فوج کو طاقت کےبے جا استعمال پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
تل ابیب:اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات میں عالمی ادارے سے تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور اس کی سربراہ پر یہودی ریاست کے لیے ’غیر منصفانہ طور پر تعصب‘ رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات میں عالمی ادارے سے تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمیشن کی سربراہ ناوی پلے کو بھیجے گئے ایک خط میں اس سخت فیصلے نے اسرائیل اور جینیوا میں قائم اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ہیومن رائٹس کونسل کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا دیا ہے اس کے خط کا ذاتی مقصد پلے پر تھا، جو مشیل بیچلیٹ سے پہلے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ تھیں۔
اس خط میں، جس پر اقوام متحدہ میں اسرائیل کی مندوب میرو ایلون شاہر کے دستخط ہیں، میں کہا گیا ہے کہ ’یہ میرے ملک کے لیے واضح ہے کہ اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ انسانی حقوق کی کونسل یا اس کے کمیشن آف انکوائری سے معقول، منصفانہ اور غیر امتیازی سلوک روا رکھا جائے گا-
کونسل نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے عسکریت پسندوں کے درمیان 11 روزہ جنگ کے چند دن بعد یعنی گذشتہ سال مئی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا اس لڑائی میں خواتین اور بچوں سمیت 260 سے زائد فلسطینی مارے گئے تھے جب کہ اسرائیل میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس وقت انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ نے کہا تھا کہ اسرائیلی کارروائیاں جن میں شہری علاقوں میں فضائی حملے بھی شامل ہیں، جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
اس کے بعد سے ہیومن رائٹس واچ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیلی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا ہے بیچلیٹ اور ایچ آر ڈبلیو دونوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی شہروں پر حماس کی جانب سے اندھا دھند راکٹ داغے جانا بھی جنگ کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اسرائیل نے حماس کو عام شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گروپ عسکری سرگرمیوں کے دوران رہائشی علاقوں کو پناہ کے لیے استعمال کرتا ہے اور گنجان شہری علاقوں سے اسرائیل پر کئی راکٹ فائر کیے گئے۔ Palestinian demonstrators hurls stones at Israeli forces amid tear gas during ,Photo:Timesofsiraelclashes, as they protest Israeli Jewish settlements, in the Jordan Valley of the West Bank, Tuesday, Nov. 24, 2020. (AP Photo/Majdi Mohammed)
لیکن کونسل کے کمیشن آف انکوائری کی ذمہ داریوں میں غزہ جنگ کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کے خلاف بدسلوکی کی تحقیقات کرنا بھی شامل ہے کمیشن کو اسرائیل، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہے۔
یہ ایسا پہلا کمیشن ہے جس کے پاس اس طرح کا ’موجودہ‘ مینڈیٹ ہے اسرائیل طویل عرصے سے اقوام متحدہ اور خاص طور پر انسانی حقوق کونسل پر اسرائیل کے خلاف تعصب رکھنے کا الزام لگاتا رہا ہے اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کے انسانی حقوق کا ریکارڈ کونسل کے ہر اجلاس میں زیر بحث آتا ہے۔
اسرائیل نے کونسل کی تشکیل کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ایسے ممالک شامل ہیں جن کا خود انسانی حقوق کا ریکارڈ خراب ہے یا وہ اسرائیل کے خلاف کھلی دشمنی رکھتے ہیں 47 رکنی کونسل میں چین، کیوبا، اریٹیریا، پاکستان، وینزویلا اور متعدد عرب ممالک شامل ہیں۔
اسرائیل نے جنگ کے دوران اپنے طرز عمل اور فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی مطالبات کو بھی بارہا مسترد کیا ہے۔ دا ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ممکنہ اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ دشمنی سے متاثر ہے اور اسے ’غیر قانونی ریاست قرار‘ دینے کی بین الاقوامی مہم کا حصہ ہے۔ Smoke and flames rise during Israeli air strikes amid a flare-up of Israeli-Palestinian violence, in Gaza May 12, 2021. REUTERS/Ibraheem Abu Mustafa TPX IMAGES OF THE DAY
ایلون شاہر نے خط میں لکھا: ’یہ کمیشن آف انکوائری یقینی طور پر اسرائیل کو ’شیطانی ریاست‘ ظاہر کرنے کی کوششوں کا ایک اور افسوسناک باب ہے۔‘ خط میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی سربراہ کو ذاتی طور پر نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ایک سابق جج پلے نے اسرائیل کو نسلی عصبیت رکھنے والی قوم قرار دینے کے ’شرمناک‘ عمل اور اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی قیادت میں بین الاقوامی بائیکاٹ تحریک کی حمایت کی۔
اسرائیلی سفیر 29 دسمبر کو پلے کی جانب سے اسرائیل کی حکومت کے نام بھیجے گئے ایک خط کا جواب دے رہی تھیں، جس میں اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ کمیشن کی تشکیل کے بعد ظاہر کیے گئے ’اپنے عدم تعاون کے موقف پر نظر ثانی کرے۔‘
پلے نے لکھا تھا کہ کمیشن کو اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس دورے کے لیے مارچ کے آخری ہفتے میں درخواست بھی دی گئی تھی جس کے تحت کمیشن کے چھ سے آٹھ عملے نے سفر کی کوشش کی۔ اسرائیلی سفیر نے خط میں کہا کہ کمیشن اس طرح کی رسائی یا اسرائیلی حکومت کا تعاون حاصل نہیں کر پائے گا۔
پلے کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ وہ جو ’الزام‘ لگاتی ہیں وہ ’اسرائیل مخالف تعصب‘ ہے۔ مثال کے طور پر 2017 میں ایک انٹرویو میں انہوں نے نسلی عصبیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ نسلی بنیادوں پر لوگوں کو جبری طور پر تقسیم کرنا ہے اور یہ اسرائیل میں ہو رہا ہے۔‘ پلے نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اسرائیل کی حکومت ماضی میں نسلی عصبیت رکھنے والے جنوبی افریقہ اور اسرائیل کے درمیان موازنے پر ناراض ہے۔‘
پلے نے اپنی تقرری کے بعد سے سامنے آنے والے اسرائیل مخالف تعصب کے الزامات کا عوامی طور پر کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔ کمیشن نے جمعرات کو اے پی کو ایک ای میل میں اس حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اراکین عوامی طور بیانات دینے اور نہ ہی متعلقہ فریقوں کے درمیان ان کی بات چیت کو عام کرنے کا اختیار رکھتے ہیں تاکہ ان کے کام کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔
اسرائیلی خاتون کامیڈین نوئیم شوستر الیاسی نے اسرائیل سے تعلقات جوڑنے پر امارات بالخصوص دبئی کیلئے توہین آمیز گانا مع ویڈیو ریکارڈ کروایا جو دیکھتے دیکھتے عرب دنیا میں وائرل ہوگیا ہے۔
باغی ٹی وی : فرانسیسی میڈیا کے مطابق گانا عربی زبان میں ہے جس کے نیچے گانے کا ترجمہ انگریزی اور عبرانی دونوں زبانوں میں دکھایا گیا ہے گانے کو اب تک ہزاروں بار دیکھا اور ٹویٹ کیا جاچکا ہ۔ےطنزیہ گانا "دبئی، دبئی” اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے حالیہ معاہدے پر تنقید کرتا ہے-
گانا شروع کرنے سے پہلے نوئیم اپنے افتتاحی کلمات میں کہتی ہیں کہ میں اس گانے کے ذریعے دبئی کے اسرائیل سے تعلقات کو خراج تحسین پیش کررہی ہوں۔
گانے کے بول میں درجہ ذیل جملے کسے گئے ہیں:
دبئی، دبئی، دبئی، دبئی
کاش سارے ہی عرب دبئی جیسے ہوتے، وہ ہمیں پانی میں نہیں ڈبوئیں گے
ایسے عرب سے بہتر کوئی چیز نہیں جس کے پاس لاکھوں ہوں
اورجو نکبۃ (1948 میں لاکھوں کی تعداد میں فلسطینیوں کو بےگھر کرنے کا واقعہ) بھول چکے ہیں
ادھر اسرائیل کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی جمہوریت اور اہم ادارے داؤ پر لگ گئے ہیں۔ یہ پیغام ایک اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹس کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پولیس نے درجنوں وزراء، کارکنوں یا کاروباری رہنماؤں کی جاسوسی کے لیے پیگاسس مالویئر کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا ہے۔
استنبول: ترکی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اٹھائے جانے والے کوئی بھی اقدام فلسطینی کاز کی قیمت پر نہیں ہوگا۔
باغی ٹی وی : ترک خبررساں ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کی رپورٹ کےمطابق ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا کہ ’ہم اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے کوئی بھی قدم فلسطینی کاز کی قیمت پر نہیں اٹھائیں گے جیسے کہ بعض دیگر ممالک نے اٹھائے اس لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے لیے فلسطینیوں کی حمایت ترک نہیں کریں گے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر ہمارا مؤقف ہمیشہ واضح ہے، ہم وہ ملک ہیں جس نے شروع سے ہی اس مسئلے پر اپنے مؤقف کا واضح طور پر اظہار کیا ہے جبکہ آپ نے پہلے ہی دیکھا ہے کہ گزشتہ 4 سے 5 برس کے دوران کیا ہوا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے سے دو ریاستی حل میں ترکی کے کردار میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن ہم اپنے بنیادی اصولوں اور دو ریاستی حل سمیت اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔”
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خاص ڈائیلاگ چینل کھولنا ہے تو یہ دونوں فریق چاہیں گے اور اس کے مطابق اقدامات کریں گے-
واضح رہے کہ حال ہی میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہیروزگ کے اوّلین دورہ ترکی سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کا ایک نیا باب شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت تل ابیب کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہےانقرہ حکومت اسرائیل کے ساتھ مختلف شعبہ جات بالخصوص قدرتی گیس کی تجارت میں تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ترکی نے مارچ 1949 میں اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کیا تھا اور یوں وہ پہلا اسلامی ملک بن گیا تھا، جس نے اس یہودی ریاست کی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کی بات کی تھی۔ ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی تاریخ پرانی ہے۔ تاہم ایردوآن کے اقتدار میں آنے کے بعد ان دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں نشیب و فراز دیکھا گیا ہے۔
واشنگٹن: اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں دفاعی میزائل نظام ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ امریکی صدر نے سال کے آخر میں اسرائیل کے دورے کا عندیہ بھی دیا۔
باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدرجو بائیڈن اوراسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نےٹیلی فونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ بالخصوص شام، ایران اور افغانستان میں سیکیورٹی معاملات کے علاوہ دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے 4 سے 70 کلومیٹر فاصلے سے مار کیے جانے والے میزائل اور گولوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے دفاعی نظام آئرن ڈوم سسٹم کی تیاری پر اتفاق کیااس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے آئرن ڈوم سسٹم کے لیے امریکی تعاون اور ٹھوس حمایت پر صدر بائیڈن کا شکریہ بھی ادا کیا۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیراعظم بینیٹ نفتالی کو بتایا کہ وہ اس سال کے آخر میں اسرائیل کا دور ہ کریں گے جب کہ شام میں امریکی فوجی کارروائی میں داعش کے رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی ہلاکت پر بھی گفتگو کی گئی۔
علاوہ ازیں دونوں رہنماؤں نے دیگر اہم علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت کی جس میں خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات اور تجارتی تعلقات کی بحالی بھی شامل ہے۔
خیال رہے امریکی ثالثی میں اسرائیل کیساتھ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت 4 عرب ممالک نے سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال کرلیے تھے۔
دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اور روس پر اقتصادی پابندی عائد کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس جلد یوکرائن پر حملہ کرنے والا ہے۔
روس کے یوکرائن پر ممکنہ حملے کے باعث مغربی ممالک سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سرگرم ہو گئے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے بھی تناؤ میں کمی کے لیے کمر کس لی ہےعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ فوج کشی کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ گیا ہے جس کے باعث فرانسیسی صدر اپنے روسی ہم منصب سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کا رخ کیا ہے۔
یوکرائن کی سرحد کے نزدیک روس نے ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کردیئے ہیں جس کے جواب میں مغربی ممالک نے نیٹو کے اہلکار یوکرائن بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ روس اور مغربی ممالک اس تناؤ کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں ادھر یوکرائن نے مغربی ممالک کے خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے تاہم روس کے جلد حملہ کرنے کے امریکی دعوے کو مسترد کردیا اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے فرانسیسی صدر نے یوکرائن، روس اور مغربی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے یوکرائن کے مسئلے پر امریکی صدر جوبائیڈن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے متعدد بار ٹیلی فونک گفتگو کی ہے جس کے بعد آج وہ روسی صدر سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ اگلے روز یوکرائن جائیں گے۔
اسی طرح جرمنی کے چانسلر نے یوکرائن میں اہم ملاقاتوں کے بعد امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے اور وہ جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہونے کے لیے پُرامید بھی ہیں جرمنی نے یوکرائن اور روس تنازع میں امریکی مؤقف کی حمایت کی ہے تاہم جنگ اور اس کے نتیجے میں روس پر اقتصادی پابندی کے باعث توانائی کے بحران کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے جو کورونا سے نبرد آزما دنیا کیلیے ایک اور امتحان ہوگا۔
واضح رہے کہ روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن چینی ہم منصب سے ملنے بیجنگ کے دورے پر گئے تھے جہاں چین کو گیس فروخت فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ طے پایا تھا جب کہ امریکا نے روس یوکرائن جنگ کے باعث ممکنہ توانائی بحران پر قطر کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھادیا ہے۔
لندن:اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:اطلاعات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنانے پر اسرائیل کو جوابدہ ہونا چاہیئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلسطین کی صورت حال پر ایک 35 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جس میں اسرائیل کے وحشیانہ جبر اور غیر قانونی تسلط کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 1948 میں اپنے قیام کے بعد سے اسرائیل “یہودی آبادی کی اکثریت” کو قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہودیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے غیر قانونی بستیوں سمیت زمین اور وسائل پر مکمل کنٹرول بھی استعمال کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پائی گئی ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ مظالم خلاف ایک کمتر نسلی گروہ کے طور پر سلوک کیا جاتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسرائیل حکام نے فلسطینیوں کے خلاف جبر اور تسلط کا نظام نافذ کر رکھا ہے۔ ان کی اراضی اور املاک پر وسیع پیمانے پر قبضہ کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی ان کے گھر سے غیر قانونی اور جبری بیدخلی، نقل و حرکت پر سخت پابندی، انتظامی حراست اور ماورائے عدالت قتل کے درجنوں واقعات رونما ہوئے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں نسل پرستی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسرائیلی حکام فلسطینیوں کی قومیت اور شہریت کو مسترد کرکے غیر ملکی تارکین کی طرح کا سلوک کرتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اسرائیل کے فلسطینیوں کے یہ خلاف یہ مظالم نسل پرستی اور نسلی امتیازی سلوک کی تعریف پر پورا اترتے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔
اسرائیلی صدر کے دورہ کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے یو اے ای پر حوثی باغیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملہ کیا گیا ہے جسے یو اے ای نے ناکام بنا دیا ہے
اماراتی وزارت دفاع کے مطابق فضا میں تباہ کیے جانے والے میزائل کا ملبہ غیرآباد علاقےمیں گرا اور خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متحدہ عرب امارات پر یہ تیسرا بیلسٹک میزائل حملہ تھا ،حوثی باغی یو اے ای پر ڈرون حملے بھی کر چکے ہیں، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیلی صدر یو اے ای کے دورے پر ہیں ،یو اے ای حکام نے کامیابی سے میزائل حملے کو ناکام بنایا .خبر رساں ادارے کے مطابق حوثی باغیوں کو ایرانی حمایت حاصل ہے،
امریکا نے حوثی باغیوں کی جانب سے یو اے ای پر حملے کی مذمت ہے، 17 جنوری کو بھی ایک حملہ ہوا تھا ،یو اے ای کا کہنا ہے کہ ہمارا دفاع مستحکم ہے، اماراتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ تازہ ترین میزائل حملہ آدھی رات کو روکا گیا اور اس کا ملبہ ایک غیر آباد علاقے پر گرا۔
UAE MOD Joint Operations Command announces at 00:50 UAE time the destruction of platform for ballistic missile launched from Al-Jawf, Yemen towards UAE. Missile was intercepted at 00:20 by air defences. Video of successful destruction of missile platform and launch site pic.twitter.com/CY1AoAzfrp
حوثی باغیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل کے صدر ابوظہبی کے دورے پر ہیں اور انہوں نے ابوظہبی کے ولی عہد سے ملاقات کی اور سیکورٹی سمیت دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے،خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیلی صدر نے ابوظہبی میں رات گزاری، اسرائیلی صدر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ میزائل حملوں کے باوجود وہ یو اے ای کا دورہ جاری رکھیں گے،اسرائیلی صدر نے آج پیر کو دبئی ایکسپو کا بھی دورہ کرنا ہے
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہاسرائیل کے صدر پورے خطے میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں، ایسے وقت میں حوثی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے شہریوں کو خطرہ لاحق ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ خلیجی ملک میں ہوائی ٹریفک معمول کے مطابق ہے اور تمام پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ اتحادی جنگی طیاروں نے یمن میں موجود میزائل لانچروں کو تباہ کر دیا ہے۔
سعودی عرب پر بارہا میزائل اور ڈرون حملے کرنے والے حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ یمن میں "مداخلت” بند نہیں کرتا وہ متحدہ عرب امارات کو نشانہ بناتے رہیں گے۔
دوسری جانب عرب فوجی اتحاد کی جانب سے 24 گھنٹوں میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر 25 ٹارگٹڈ حملے کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کی 11 فوجی گاڑیاں اور 80 سے زیادہ باغیوں کو ہلاک کرنےکا دعویٰ بھی کیا ہے۔
واضح رہے کہ ہیرزوگ امارات کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی صدر ہیں اور ان سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی دسمبر میں یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ بحرین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے 2020 میں وائٹ ہاؤس میں معاہدوں پر دستخط کیے تھے، اس معاہدے کو "ابراہام ایکارڈ” کا نام دیا گیا تھا۔دونوں خلیجی ممالک اور اسرائیل خطے میں ایران اور اس کی اتحادی افواج و ملیشیا کے بارے میں یکساں تحفظات رکھتے ہیں۔
دبئی اسرئیلی صدر اپنے پہلے تاریخی دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے: شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے استقبال کیا ،اطلاعات کے مطابق اسرئیل کے صدر آئزک ہیرزوگ آج اپنے پہلے سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات(یو اے ای) پہنچ گئے ہیں اور ان کے ہمراہ خاتون اول مشل ہیرزوگ بھی موجود ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے خلیج ٹائمز کے مطابق صدارتی پرواز کے ذریعے ان کی ابوظبی آمد پر متحدہ عرب امارات کے امور خارجہ اور عالمی تعاون کے وزیر شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے ان کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا۔
نبدأ اليوم أول زيارة لرئيس دولة إسرائيل لدولة الإمارات العربية المتحدة. تأثرنا كثيرا بحفاوة الاستقبال في أبو ظبي مع معالي وزير خارجية الإمارات الشيخ عبد الله بن زايد آل نهيان @ABZayed 🇮🇱🤝🇦🇪 pic.twitter.com/o4fmZzezlw
دوران پرواز بات کرتے ہوئے اسرائیلی صدر کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ یہ بہت متاثر کن لمحہ ہے۔متحدہ عرب امارات آمد پر اسرئیلی صدر اور خاتون اول کا شاندار استقبال کیا گیا جس کے بعد صدر آئزک ہیرزوگ نے شیخ عبداللہ سے سفارتی سطح کی ملاقاتی کی۔
شیخ عبداللہ بن زید نے 2020 میں وائٹ ہاؤس میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے ابراہام معاہدے معاہدے کے دوران متحدہ عرب امارات کے وفد کی قیادت کی تھی۔
Beginning the first visit by an Israeli president in the United Arab Emirates. We were delighted and deeply moved by the warm welcome in Abu Dhabi by UAE Foreign Minister Sheikh @ABZayed. 🇮🇱🤝🇦🇪 pic.twitter.com/Mgpqq3vm3h
صدر آئزک ہیرزوگ نے متحدہ عرب امارات کی تیزی سے ترقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں متحدہ عرب امارات میں اسرائیل کے صدر کی حیثیت سے پہلے دورے پر آرہا ہوں ۔متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی جانب سے ابوظبی میں پرتپاک استقبال سے ہمیں خوشی ہوئی اور ہم بہت متاثر ہوئے ہیں۔
دورے سے متعلق اسرائیلی صدارتی دفتر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہیرزوگ اپنی نوعیت کے پہلے دورے پر گلف ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات گئے ہیں.
اسرائیلی صدر ایک ایسے وقت میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کررہے ہیں جبکہ خطے میں بہت زیادہ کشیدگی ہے اور عالمی طاقتیں ایران کے جوہری معہدے کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
מתחיל ביקור נשיאותי ראשון של נשיא מדינת ישראל באיחוד האמירויות. שמחנו והתרגשנו מאוד מקבלת הפנים החמה באבו דאבי ע״י שר החוץ של האמירויות, @ABZayed. 🇮🇱🤝🇦🇪 pic.twitter.com/y9ZKNjqvo2
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی صدر آئزک ہیرزوگ کا کہنا تھا کہ میں ولی عہد شیخ محمد بن زید کی ذاتی دعوت پر متحدہ عرب امارات کی قیادت سے ملاقات کروں گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے پر میں امارات کی بے باک قیادت کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں اور اور یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس خطے کے عوام کے لیے امن ہی بہترین متبادل ہے۔
واضح رہے کہ ہیرزوگ امارات کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی صدر ہیں اور ان سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی دسمبر میں یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔
اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ بحرین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے 2020 میں وائٹ ہاؤس میں معاہدوں پر دستخط کیے تھے، اس معاہدے کو "ابراہام ایکارڈ” کا نام دیا گیا تھا۔دونوں خلیجی ممالک اور اسرائیل خطے میں ایران اور اس کی اتحادی افواج و ملیشیا کے بارے میں یکساں تحفظات رکھتے ہیں۔
نئی دہلی: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری کے ساتھ جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا سوفٹ وئیر اسپائی وئیرخریدنے کا بھی معاہدہ کیا بھارتی حکومت اوراسرائیل کے ہتھیاروں کی خریدی کے معاہدے میں اسپائی وئیرکی خریداری بھی شامل تھی۔
باغی ٹی وی :پچھلے سال ایک بڑے تنازعہ نے جنم لیا جب این ایس او گروپ کچھ حکومتوں کی طرف سے صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں، سیاست دانوں اور دیگر ممالک بشمول ہندوستان کی جاسوسی کے لیے اپنے پیگاسس سافٹ ویئر کے مبینہ استعمال کے ساتھ سرخیوں میں آیا، جس سے رازداری کے لیے
متعلقہ مسائل پر تشویش پیدا ہوئی۔
نیویارک ٹائمز نے ‘دنیا کے سب سے طاقتور سائبر ہتھیاروں کے لیے جنگ’ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی فرم NSO گروپ تقریباً ایک دہائی سے "اپنا سرویلنس سافٹ ویئر سبسکرپشن کی بنیاد پر دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فروخت کر رہا ہے یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ یہ وہ کام کر سکتا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا ہے کوئی نجی کمپنی نہیں، یہاں تک کہ کوئی ریاستی انٹیلی جنس سروس بھی نہیں کر سکتی ہے: کسی بھی آئی فون یا اینڈرائیڈ سمارٹ فون کی انکرپٹڈ کمیونیکیشنز کو مستقل اور قابل اعتماد طریقے سے کریک کریں۔” رپورٹ میں جولائی 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کا بھی حوالہ دیا گیا تھا –
امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی سرکار نے 2017 میں اسرائیل سے اسپائی وئیرپیگاسس خریدنے کا بھی معاہدہ کیا۔ اسپائی وئیرکوسیاسی مخالفین اوردیگرشخصیات کی جاسوسی کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔
بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے 2 بلین ڈالرزمالیت کے ہتھیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا جس میں جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا اسپائی وئیربھی شامل تھا بھارت اوراسرائیل کی حکومتوں نے اسپائی وئیرکی فروخت کے معاہدے کوعوامی سطح پرتسلیم نہیں کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مہینوں بعد، نیتن یاہو نے ہندوستان کا ایک غیر معمولی سرکاری دورہ کیا۔ اور جون 2019 میں، ہندوستان نے اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں اسرائیل کی حمایت میں ووٹ دیا تاکہ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم کو مبصر کا درجہ دینے سے انکار کیا جا سکے، جو کہ قوم کے لیے پہلا قدم تھا۔”
کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے اسپائی وئیرکی خریداری کے انکشاف پرمودی سرکار کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ غداری ہے۔ حکومت نے سیاسی مخالفین، ججز اورعام آدمی کی جاسوسی کے لئے آلات خریدے جوغداری کے مترادف ہے کانگریس نے اسپائی وئیر کی خریداری سے متعلق شفاف تحقیقات اورذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔