Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • سانحہ پمز :تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    سانحہ پمز :تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پمز اسپتال میں 26 اگست کو پیش آنے والے اندوہناک واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی۔

    ایڈووکیٹ قاسم اقبال جلالی نے ذاتی حیثیت میں دائر درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج یا سیشن جج ویسٹ پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 26 اگست کو پمز ہسپتال میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا، جس کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقا ت ضروری ہیں، درخواست گزار نے عدالت سے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے فرانزک کرانے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی ہے۔

    درخواست میں پمز ہسپتال کے فائر الارم سسٹم کا مکمل آڈٹ کرانے کی ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ ہسپتال میں نصب حفاظتی نظام مؤثر طور پر کام کر رہا تھا یا نہیں اور واقعے کے دوران اس میں کسی قسم کی غفلت یا خرابی موجود تھی، درخواست میں وفاقی حکومت، سیکریٹری د اخلہ، سیکریٹری صحت، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار نے حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حکومتی کمیٹی میں شامل بعض افسران مفادات کے ٹکراؤ کے باعث تحقیقات کا حصہ نہیں بن سکتے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ انصاف کا بنیادی تقاضا اور قانونی اصول ہے کہ کوئی شخص اپنے ہی معاملے میں تفتیشی اور جج نہیں ہوسکتا، اس لیے واقعے کی تحقیقات ایسے آزاد اور غیر جانب دار فورم سے کرائی جانی چاہئیں جو کسی ممکنہ فریق یا متعلقہ ادارے کے زیر اثر نہ ہو۔

    درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عوام کی جانب سے بھی بڑے پیمانے پر حکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی نگرانی میں کمیشن کا قیام ضروری ہے۔

    درخواست گزار نے بالخصوص ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں موجودگی کو مفادات کا واضح ٹکراؤ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود ممکنہ طور پر ذمہ داروں میں شامل ہوسکتے ہیں، اس لیے ان کی موجودگی میں شفاف تحقیقات پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ سانحہ پمز کی وجوہات، ذمہ داروں اور حفاظتی انتظامات میں ممکنہ کوتاہیوں کا تعین کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور فرانزک تحقیقات سمیت فائر سیفٹی نظام کا مکمل آڈٹ کرایا جائے۔

  • شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کا مقدمہ: اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

    شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کا مقدمہ: اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کے مقدمے میں نامزد خاتون آمنہ سعید کی ضمانت منظور کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

    جسٹس خادم حسین سومرو نے آمنہ سعید کی ضمانت سے متعلق 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،عدالت نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمہ آمنہ سعید کی ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ فریقین کے درمیان تنازع گھریلو اور خاندانی نوعیت کا ہے۔

    تفصیلی فیصلے کے مطابق پراسیکیوشن نے وقوعے کے بعد ملزمہ کی جانب سے اپنے شوہر کو خود اسپتال منتقل کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کی، عد الت نے قرار دیا کہ میڈیکل ریکارڈ کے مطابق کوئی ایسی چوٹ سامنے نہیں آئی جو جان لیوا ثابت ہوئی ہو۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر جانبدارانہ جائزے اور مزید انکوائری کے تناظر میں ملزمہ ضمانت کی حقدار ہےملزمہ فلسفے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہے اور اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں ہے،قانون کے تحت خواتین اور مخصوص طبقات کو ضمانت کی رعایت میں ترجیح دی جاتی ہے، اگر ملزمہ مقدمے کی کارروائی پر اثر انداز ہونے یا شواہد سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرے تو اس کی ضمانت منسوخی کے لیے در خو است دائر کی جا سکتی ہے۔

    آمنہ سعید کے خلاف تھانہ ویمن، اسلام آباد میں ان کے شوہر سعید احمد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • عمران خان کے ا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں کا بھی عدالت سے رجوع

    عمران خان کے ا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں کا بھی عدالت سے رجوع

    بانی پی ٹی آئی کا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں نے بھی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کےجج جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی،اور اڈیالہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کرلیے۔

    بیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکار ہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے، دو ماہ میں 10 مرتبہ اسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا، اس مسئلہ کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء اسپتال میں ہی ممکن ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اگر بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے-

    بیرسٹر اختر چھینہ نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے نے واضع کر دیا کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں، سپریم کورٹ فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے استدعا ہے کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری اسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیویٹ اسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

    درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیے کہ درخواست گزار اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے، مناسب علاج معالجہ کروانا قیدی کا بنیادی حق ہے، سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہیں لہٰذا شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

    تیسرے قیدی کے وکیل نے دلائل دیے کہ درخواست گزار محمد اسماعیل 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے، ایک بھائی دبئی ہوتا ہے لیکن سالوں سے رابطہ نہیں ہے، جیل حکام کو حکم دیا جائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کروائی جائے۔

    عدالت نے تینوں کیسز میں جیل حکام کو جواب کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔

  • بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی سے متعلق درخواست ،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل طلب

    بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی سے متعلق درخواست ،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی اور فیملی ملاقات سے متعلق درخواست پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 6 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا –

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ کی درخواست پر سماعت کی، جس میں درخواست گزار کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے،دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ آیا جیل حکام کو باقاعدہ درخواست دی گئی ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست نہ صرف کورئیر کے ذریعے بھیجی گئی بلکہ خود جا کر بھی جیل حکام کو جمع کروائی گئی۔

    درخواست کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے مزید بتایا کہ 16 اور 17 اپریل کی درمیانی شب بشریٰ بی بی کی سرجری ہوئی تھی، جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس صورتحال سے آگاہ ہے اور یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا۔

    عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 2 روز کے اندر درخواست گزار کی استدعا پر فیصلہ کریں عدالت نے حکم دیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ وجوہا ت کیساتھ تحریری آرڈر جاری کریں، مزید برآں عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 6 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب بھی کر لیا ہے،عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت سے قبل درخواست پر فیصلہ یقینی بنایا جائے، جبکہ کیس کی مزید سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کے منافی ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے آئین کے آرٹیکل 2-اے کی خلاف ورزی ہیں اور اس عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جبکہ تبادلوں کی وجوہات بھی واضح نہیں کی گئیں، جس سے عدالتی نظام کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججز کے تبادلوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔

  • عمران خان سے قانونی مشاورت کیلئے  ملاقات کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان سے قانونی مشاورت کیلئے ملاقات کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    توشہ خانہ ون کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں کو جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے اور عمران خان سے قانونی مشاورت کیلئے ملاقات کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کردی گئیں،بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے متفرق درخواستیں دائر کیں۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے توشہ خانہ ون کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواستیں دائر کر دیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر متفرق درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ ون کیس میں 31 جنوری 2024 کو سزائیں ہوئیں سزا کے خلاف اپیلیں ابھی تک ہائیکورٹ میں زیر التوا ہیں جو سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئیں، استد عا ہے کہ توشہ خانہ ون کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں جلد سماعت کے لیے مقرر کی جائیں ۔

    اس کے علاوہ بیرسٹر سلمان نے اسلام آبا دہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں 190 ملین پاونڈ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر قانونی مشاورت کے لیے بانی پی ٹی آئی کو وکیل سے ملاقات کی اجازت مانگی گئی ہے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 20 دسمبر 2025 کے بعد سے بانی پی ٹی آئی کی اپنے کونسل سے کوئی بامقصد ملاقات نہیں ہوسکی، تقریباً تین ماہ اور بارہ دن سے بانی پی ٹی آئی کو قانونی رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔

    درخواست میں چیئرمین نیب، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ سزا معطلی کی درخواست 19 مارچ 2025 سے زیر التوا ہے جس پر اب تک 16 مختلف تاریخوں پر سماعت ہو چکی ہے نیب کا رویہ کیس کی کارروائی میں جان بوجھ کر تاخیر اور رکاوٹ پیدا کرنے والا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیل حکام کی جانب سے وکلاء کی ملاقات کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں وکیل سے ملاقات کا حق جیل رولز 1978 اور آئین کے آرٹیکل 9، 10-اے اور 14 کے تحت بنیادی حق ہے، عدالت اپیل کی تیاری کے لیے دونوں اپیل کنندگان کی وکیل سے ملاقات کا فوری حکم دے۔

  • شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اسلامی قوانین، قرآنی آیات اور غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا عدالت نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ نے غلطی کی اور درخواست گزار خاتون کے حقوق کو نظرانداز کیا، عدالت کے مطابق جہیز اور دلہن کو ملنے والے ذا تی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ملکیت ہیں، اور اگر جہیز واپس نہ کیا جائے تو خاتون اس کی متبادل قیمت حاصل کرنے کی حقدار ہوگی۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی شراکت داری ثابت ہوعدالت نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی کہ کیس کا فیصلہ 2 ماہ کے اندر کیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو خواتین کے مالی اور ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی ہدایت بھی کی،عدالت نے کہا کہ خواتین کے آئینی اور قانونی حقوق کو عملی طور پر یقینی بنانے کے لیے پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں نکاح نامہ میں ایسی شرط شامل کی جائے جس کے تحت شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد طلاق، وفات یا دیگر صورتوں میں بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم ہو سکے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو ازدواجی حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ وہ نکاح نامہ میں اپنے حقوق کا مؤثر استعمال کر سکیں،خواتین ملک کی قریباً نصف آبادی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ایک منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کے حقوق اور حق مہر کی ادائیگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور وضاحتی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے کسی بھی وقت مہر کا مطالبہ کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس عابد حسین چھٹہ نے فاطمہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا مہر سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔

    کیس کے مطابق درخواست گزار نے شوہر کے خلاف روز مرہ اخراجات یونی نان نفقہ، جہیزکی واپسی اور پانچ تولہ سونے کے مہر کا دعویٰ دائر کیا تھاابتدائی طور پر فیملی کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے شوہر کو پانچ ہزار روپے ماہانہ خرچ اور حق مہر ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم بعد میں ٹرائل کورٹ نے مہر کا دعویٰ ختم کر دیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اس قانونی نکتے پر گہری نظر ڈالتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر نکاح نامہ کے اندراج کے وقت مہر کی ادائیگی کا کوئی مخصوص وقت یا مدت طے نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں بیوی ’جب بھی‘ مطالبہ کرے گی، شوہر پر مہر ادا کرنا لازم ہوگا عدالت نے واضح کیا گیا کہ شادی برقرار رہنے کے باوجود بیوی اپنے مہر کی مکمل حقدار رہتی ہے چنانچہ ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ کے پرانے فیصلے کو دوبارہ بحال کر دیا ہے جبکہ نان نفقہ اور جہیز سے متعلق اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیا گیا عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے مہر سے متعلق فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا

    اس عدالتی فیصلے سے یہ بات واضح اور ہو گئی ہے کہ حق مہر بیوی کا وہ بنیادی حق ہے جو نکاح کے معاہدے کے تحت اسے حاصل ہوتا ہے اور شوہر اس کی ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتا۔

  • عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    عید کے چاند سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    اسلام آباد:عید کے چاند سے متعلق شہری اپنی درخواست لے کر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا۔

    عید کا چاند دیکھنے کے بعد جلدی اعلان کا حکم دینے کے لیے ہائیکورٹ میں دائر شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وزارت مذہبی امور سے رپورٹ طلب کرلی،سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ چاند نظر آئے گا تو ہی اعلان کیا جائے گا، پہلے چاند کی شہاد تیں چاروں صوبوں سے اکٹھی کی جاتی ہیں، پھر میٹنگ ہوتی ہے اور اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے، اسی لیے وقت لگ جاتا ہے، چاند نظر آئے بغیر اعلان نہیں کیا جا سکتا ، چلیں رپورٹ طلب کر لیتے ہیں۔

    ایران کے اسرائیل پر 100 سے زائد اہداف پر حملے، 200 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    سماعت کے دوارن درخواست گزار شہری عبد اللہ شفیق ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے درخواست گزار نے استدعا کی کہ رویت ہلال کمیٹی کو حکم دیا جائے کہ چاند کا اعلان جلدی کیا جائے، کیونکہ اعلان میں تاخیر کے باعث لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں اور رات گئے اعلان ہونے سے مارکیٹس میں اچانک رش بڑھ جاتا ہے، انتظامیہ کو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سے بچانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی جائے اور عید شاپنگ کی دکانوں کے علاوہ دیگر مارکیٹس بند ر کھنے کا حکم دیا جائے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے پی سے معلومات لیک ، 80اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا

    انہوں نے استدعا کی کہ رویت ہلال کمیٹی کو چاند دیکھ کر فوری اعلان کرنے کا پابند بنایا جائے، عدالت نے وزارت مذہبی امور سے رپورٹ طلب کرتے ہو ئے سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ نہیں دی۔

  • عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ،اور ان کا دوبارہ طبی معائنہ کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس معاملے کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے طبی معائنے کے لیے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائےعدالت نے اپنے حکم میں ہدایت دی کہ چیف کمشنر اسلام آباد میڈیکل بورڈ تشکیل دیں جو بانی تحریک انصاف کا تفصیلی طبی معائنہ کرے گا اور ان کی صحت کے حوالے سے مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کرے گا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ اس میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا جائے تاکہ طبی معائنے کا عمل جامع اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کا دوبارہ مکمل طبی معائنہ کیا جائے اور ان کی صحت سے متعلق تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، عدالت نے ہدایت کی کہ معائنے کے بعد تیار ہونے والی میڈیکل رپورٹ متعلقہ حکام کو فراہم کی جائے، جیل رولز کے مطابق عمران خان کی فیملی کو طبی معائنے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ بھی اس عمل سے باخبر رہیں۔

    عدالت نے مزید ہدایت دی کہ ڈاکٹر ندیم قریشی عمران خان کی فیملی کے ساتھ رابطے میں رہیں اور طبی معائنے سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرتے رہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ پہلے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سامنے آنے دی جائے تاکہ ان کی صحت کی صورتحال کے بارے میں واضح تصویر سامنے آ سکے۔

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کا بہترین علاج جاری ہے اور ان کی صحت تسلی بخش ہے اس پر جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ آپ علاج کروا رہے ہیں۔

    جسٹس ارباب طاہر نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں ان کے طبی ٹیسٹ کروائے جائیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ ٹیسٹ ایک یا 2 گھنٹے میں ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں وہاں لے جانے میں کیا مسئلہ ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران جسٹس ارباب طاہر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عدالت کے پاس اب تک عمران خان کی کوئی باقاعدہ میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی،اس موقع پر جسٹس خادم سومرو نے بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت کے سامنے صرف سپرنٹنڈنٹ جیل کا بیان موجود ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محض اسی بیان کی بنیاد پر کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟-

    درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کو مختلف طبی مسائل درپیش ہیں اور جیل میں موجود طبی سہولتیں ان کے مکمل علاج کے لیے ناکافی ہیں،وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انسانی بنیادوں پر انہیں فوری طور پر کسی مناسب اسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے تاکہ ان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج ممکن ہو سکے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، سرکاری مؤقف کے مطابق جیل میں طبی عملہ موجود ہے اور بوقت ضرورت ڈاکٹرز بھی معائنہ کرتے ہیں۔

    عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر 15 منٹ کے وقفے کے بعد فیصلہ سنائے گی، سماعت کے دوران عدالت میں غیر معمولی سنجیدگی دیکھنے میں آئی جبکہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے مختلف قانونی نکات پر بھی بحث ہوئی۔

    
ایران کا فیفا ورلڈکپ 2026 کے بائیکاٹ کا اعلان

  • عمران خان کو علاج کیلیے شفاء اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان کو علاج کیلیے شفاء اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو نے تحریری حکمنامہ جاری کیا تحریری حکم نامے میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر تین اعتراضات دور اور دو برقرار رکھے گئےہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اسلام آباد کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

    سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے طلب کی گئی رپورٹ میں پوچھا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی توشہ خانہ فوجداری کیس میں کتنی سزا کاٹ چکے؟اسلام آباد ہائیکورٹ نے دو اعتراضات پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ رجسٹرار آفس متفرق درخواست کو نمبر لگا کر مرکزی اپیل کے ساتھ مقرر کرے، رجسٹرار آفس اپیلوں کی پیپر بُک آئندہ سماعت 10 مارچ سے پہلے تیار کرے۔

    پاسداران انقلاب کا شمالی خلیج میں امریکی ٹینکر پر حملہ

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

    بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کیلئے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ