Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • عمران خان کی بہنوں علیمہ اور عظمیٰ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    عمران خان کی بہنوں علیمہ اور عظمیٰ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    عمران خان کی بہنوں علیمہ اور عظمیٰ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات سامنے آ گئیں-

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس شاہ رخ ارجمند نے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کی،دونوں بہنوں کی جانب سے وکیل خالد یوسف جبکہ سرکار کی جانب سے عثمان گھمن عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا ہے کہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں 3 مقدمات درج ہیں جبکہ دونوں کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں ایک انکوائری بھی زیر التوا ہے۔

    عدالت میں جمع کرائی گئی اسلام آباد پولیس کی رپورٹ کے مطابق دونوں بہنوں کے خلاف 4 اکتوبر 2024 کو 3 مقدمات درج کیے گئے تھے پہلا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 909 تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا، جس میں تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 شامل ہے۔

    دوسرا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 904 بھی تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا، جس میں تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور پبلک پروکیورمنٹ آرڈیننس 2024 کی دفعہ 8 شامل ہے جبکہ تیسرا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 115 تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 353، 186، 188 اور 114 شامل ہیں۔

    سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت تک دستیاب معلومات کے مطابق علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف اسلام آباد میں یہی 3 مقدمات درج ہیں جبکہ ایف آئی اے میں ایک انکوائری زیر التوا ہے،رپورٹ عدالت میں جمع کرائے جانے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست نمٹا دی۔

    واضح رہے کہ یہ درخواست شاہریز خان نے اکتوبر 2024 میں اپنی والدہ علیمہ خان اور خالہ عظمیٰ خان کی گرفتاری کے دوران دائر کی تھی،درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ دونوں کے خلاف پنجاب کے مختلف تھانوں میں ممکنہ طور پر مزید مقدمات درج ہو سکتے ہیں، جن کی تفصیلات انہیں فراہم نہیں کی گئیں۔

  • نیب کیسز:آئینی عدالت میں اپیل کیخلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جار ی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب مقدمات میں ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ کے بجائے آئینی عدالت میں اپیل کا حق دینے سے متعلق ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جار ی کر دیا۔

    جوڈیشل ایکٹیوزم فورم کی جانب سے دائر اس اہم درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی،عدالت نے نیب آرڈ یننس میں سیکشن 32 اے کی شمولیت کے خلاف وفاقی حکومت، سیکرٹری نیشنل اسمبلی، سیکرٹری سینیٹ اور سیکرٹری وزارتِ قانون کو ستمبر کے آخری ہفتے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا ہے، چونکہ کیس میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے، اس لیے عدالت نے قانونی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسے محض ایک سادہ قانون سازی یا نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت کو آئین کے آرٹیکل 175 ایف کے تحت محض آئینی امور کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر سیکشن 32 اے کے ذریعے اب کرمنل نیب کیسز بھی اس کے سپرد کر دیے گئے ہیں جو کہ آئین کے منافی اور واضح تضاد ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل سے استفسار کیا کہ قانون کو کن بنیادوں پر چیلنج کیا گیا ہے اور آیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سادہ قانون سازی کا آئینی اختیارات سے تضاد پیدا ہو رہا ہے؟ جس پر وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت ان کے موقف کو بالکل درست سمجھی ہے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں نیب کے سیکشن 32 اے کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا تھاعدالت آنے سے قبل صدرِ مملکت، وزیراعظم، سینیٹ اور قومی اسمبلی کو تحریری درخواستیں بھیج چکے ہیں کہ یہ ترمیم آئینی حدود سے تجاوز ہے۔

    عدالت نے دلائل سننے کے بعد وکیل کو آئین کے آرٹیکل 185 کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت ستمبر کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  • عدالت کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

    عدالت کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستیں قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے جیل حکام کو دونوں کی ملاقات کرانے کی ہدایت کر دی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف درخواستوں کا فیصلہ ہدایات کیساتھ نمٹا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نصرت بھٹو کیس، بیگم شمیم آفریدی کے فیصلوں کے مطابق درخواستیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالتی ہدایات پر عمل یقینی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔

    عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل رولز کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اس بات کو یقینی بنائیں کہ دونوں کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے۔

    عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی فیملی ارکان کی جیل قوانین کے مطابق ملاقات کروائی جائے جبکہ ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کروائی جائے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کی جائیں،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی ہدایات پرعمل یقینی بنائیں۔

    واضح رہے کہ علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا-

  • سانحہ پمز :تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    سانحہ پمز :تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پمز اسپتال میں 26 اگست کو پیش آنے والے اندوہناک واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی۔

    ایڈووکیٹ قاسم اقبال جلالی نے ذاتی حیثیت میں دائر درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج یا سیشن جج ویسٹ پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 26 اگست کو پمز ہسپتال میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا، جس کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقا ت ضروری ہیں، درخواست گزار نے عدالت سے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے فرانزک کرانے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی ہے۔

    درخواست میں پمز ہسپتال کے فائر الارم سسٹم کا مکمل آڈٹ کرانے کی ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ ہسپتال میں نصب حفاظتی نظام مؤثر طور پر کام کر رہا تھا یا نہیں اور واقعے کے دوران اس میں کسی قسم کی غفلت یا خرابی موجود تھی، درخواست میں وفاقی حکومت، سیکریٹری د اخلہ، سیکریٹری صحت، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار نے حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حکومتی کمیٹی میں شامل بعض افسران مفادات کے ٹکراؤ کے باعث تحقیقات کا حصہ نہیں بن سکتے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ انصاف کا بنیادی تقاضا اور قانونی اصول ہے کہ کوئی شخص اپنے ہی معاملے میں تفتیشی اور جج نہیں ہوسکتا، اس لیے واقعے کی تحقیقات ایسے آزاد اور غیر جانب دار فورم سے کرائی جانی چاہئیں جو کسی ممکنہ فریق یا متعلقہ ادارے کے زیر اثر نہ ہو۔

    درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عوام کی جانب سے بھی بڑے پیمانے پر حکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی نگرانی میں کمیشن کا قیام ضروری ہے۔

    درخواست گزار نے بالخصوص ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں موجودگی کو مفادات کا واضح ٹکراؤ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود ممکنہ طور پر ذمہ داروں میں شامل ہوسکتے ہیں، اس لیے ان کی موجودگی میں شفاف تحقیقات پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ سانحہ پمز کی وجوہات، ذمہ داروں اور حفاظتی انتظامات میں ممکنہ کوتاہیوں کا تعین کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور فرانزک تحقیقات سمیت فائر سیفٹی نظام کا مکمل آڈٹ کرایا جائے۔

  • شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کا مقدمہ: اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

    شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کا مقدمہ: اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کے مقدمے میں نامزد خاتون آمنہ سعید کی ضمانت منظور کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

    جسٹس خادم حسین سومرو نے آمنہ سعید کی ضمانت سے متعلق 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،عدالت نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمہ آمنہ سعید کی ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ فریقین کے درمیان تنازع گھریلو اور خاندانی نوعیت کا ہے۔

    تفصیلی فیصلے کے مطابق پراسیکیوشن نے وقوعے کے بعد ملزمہ کی جانب سے اپنے شوہر کو خود اسپتال منتقل کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کی، عد الت نے قرار دیا کہ میڈیکل ریکارڈ کے مطابق کوئی ایسی چوٹ سامنے نہیں آئی جو جان لیوا ثابت ہوئی ہو۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر جانبدارانہ جائزے اور مزید انکوائری کے تناظر میں ملزمہ ضمانت کی حقدار ہےملزمہ فلسفے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہے اور اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں ہے،قانون کے تحت خواتین اور مخصوص طبقات کو ضمانت کی رعایت میں ترجیح دی جاتی ہے، اگر ملزمہ مقدمے کی کارروائی پر اثر انداز ہونے یا شواہد سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرے تو اس کی ضمانت منسوخی کے لیے در خو است دائر کی جا سکتی ہے۔

    آمنہ سعید کے خلاف تھانہ ویمن، اسلام آباد میں ان کے شوہر سعید احمد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • عمران خان کے ا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں کا بھی عدالت سے رجوع

    عمران خان کے ا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں کا بھی عدالت سے رجوع

    بانی پی ٹی آئی کا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں نے بھی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کےجج جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی،اور اڈیالہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کرلیے۔

    بیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکار ہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے، دو ماہ میں 10 مرتبہ اسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا، اس مسئلہ کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء اسپتال میں ہی ممکن ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اگر بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے-

    بیرسٹر اختر چھینہ نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے نے واضع کر دیا کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں، سپریم کورٹ فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے استدعا ہے کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری اسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیویٹ اسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

    درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیے کہ درخواست گزار اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے، مناسب علاج معالجہ کروانا قیدی کا بنیادی حق ہے، سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہیں لہٰذا شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

    تیسرے قیدی کے وکیل نے دلائل دیے کہ درخواست گزار محمد اسماعیل 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے، ایک بھائی دبئی ہوتا ہے لیکن سالوں سے رابطہ نہیں ہے، جیل حکام کو حکم دیا جائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کروائی جائے۔

    عدالت نے تینوں کیسز میں جیل حکام کو جواب کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔

  • بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی سے متعلق درخواست ،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل طلب

    بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی سے متعلق درخواست ،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی اور فیملی ملاقات سے متعلق درخواست پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 6 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا –

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ کی درخواست پر سماعت کی، جس میں درخواست گزار کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے،دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ آیا جیل حکام کو باقاعدہ درخواست دی گئی ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست نہ صرف کورئیر کے ذریعے بھیجی گئی بلکہ خود جا کر بھی جیل حکام کو جمع کروائی گئی۔

    درخواست کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے مزید بتایا کہ 16 اور 17 اپریل کی درمیانی شب بشریٰ بی بی کی سرجری ہوئی تھی، جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس صورتحال سے آگاہ ہے اور یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا۔

    عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 2 روز کے اندر درخواست گزار کی استدعا پر فیصلہ کریں عدالت نے حکم دیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ وجوہا ت کیساتھ تحریری آرڈر جاری کریں، مزید برآں عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 6 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب بھی کر لیا ہے،عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت سے قبل درخواست پر فیصلہ یقینی بنایا جائے، جبکہ کیس کی مزید سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کے منافی ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے آئین کے آرٹیکل 2-اے کی خلاف ورزی ہیں اور اس عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جبکہ تبادلوں کی وجوہات بھی واضح نہیں کی گئیں، جس سے عدالتی نظام کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججز کے تبادلوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔

  • عمران خان سے قانونی مشاورت کیلئے  ملاقات کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان سے قانونی مشاورت کیلئے ملاقات کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    توشہ خانہ ون کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں کو جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے اور عمران خان سے قانونی مشاورت کیلئے ملاقات کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کردی گئیں،بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے متفرق درخواستیں دائر کیں۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے توشہ خانہ ون کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواستیں دائر کر دیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر متفرق درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ توشہ خانہ ون کیس میں 31 جنوری 2024 کو سزائیں ہوئیں سزا کے خلاف اپیلیں ابھی تک ہائیکورٹ میں زیر التوا ہیں جو سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئیں، استد عا ہے کہ توشہ خانہ ون کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں جلد سماعت کے لیے مقرر کی جائیں ۔

    اس کے علاوہ بیرسٹر سلمان نے اسلام آبا دہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں 190 ملین پاونڈ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر قانونی مشاورت کے لیے بانی پی ٹی آئی کو وکیل سے ملاقات کی اجازت مانگی گئی ہے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 20 دسمبر 2025 کے بعد سے بانی پی ٹی آئی کی اپنے کونسل سے کوئی بامقصد ملاقات نہیں ہوسکی، تقریباً تین ماہ اور بارہ دن سے بانی پی ٹی آئی کو قانونی رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔

    درخواست میں چیئرمین نیب، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ سزا معطلی کی درخواست 19 مارچ 2025 سے زیر التوا ہے جس پر اب تک 16 مختلف تاریخوں پر سماعت ہو چکی ہے نیب کا رویہ کیس کی کارروائی میں جان بوجھ کر تاخیر اور رکاوٹ پیدا کرنے والا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیل حکام کی جانب سے وکلاء کی ملاقات کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں وکیل سے ملاقات کا حق جیل رولز 1978 اور آئین کے آرٹیکل 9، 10-اے اور 14 کے تحت بنیادی حق ہے، عدالت اپیل کی تیاری کے لیے دونوں اپیل کنندگان کی وکیل سے ملاقات کا فوری حکم دے۔

  • شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اسلامی قوانین، قرآنی آیات اور غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا عدالت نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ نے غلطی کی اور درخواست گزار خاتون کے حقوق کو نظرانداز کیا، عدالت کے مطابق جہیز اور دلہن کو ملنے والے ذا تی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ملکیت ہیں، اور اگر جہیز واپس نہ کیا جائے تو خاتون اس کی متبادل قیمت حاصل کرنے کی حقدار ہوگی۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی شراکت داری ثابت ہوعدالت نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی کہ کیس کا فیصلہ 2 ماہ کے اندر کیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو خواتین کے مالی اور ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی ہدایت بھی کی،عدالت نے کہا کہ خواتین کے آئینی اور قانونی حقوق کو عملی طور پر یقینی بنانے کے لیے پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں نکاح نامہ میں ایسی شرط شامل کی جائے جس کے تحت شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد طلاق، وفات یا دیگر صورتوں میں بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم ہو سکے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو ازدواجی حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ وہ نکاح نامہ میں اپنے حقوق کا مؤثر استعمال کر سکیں،خواتین ملک کی قریباً نصف آبادی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ایک منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کے حقوق اور حق مہر کی ادائیگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور وضاحتی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے کسی بھی وقت مہر کا مطالبہ کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس عابد حسین چھٹہ نے فاطمہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا مہر سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔

    کیس کے مطابق درخواست گزار نے شوہر کے خلاف روز مرہ اخراجات یونی نان نفقہ، جہیزکی واپسی اور پانچ تولہ سونے کے مہر کا دعویٰ دائر کیا تھاابتدائی طور پر فیملی کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے شوہر کو پانچ ہزار روپے ماہانہ خرچ اور حق مہر ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم بعد میں ٹرائل کورٹ نے مہر کا دعویٰ ختم کر دیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اس قانونی نکتے پر گہری نظر ڈالتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر نکاح نامہ کے اندراج کے وقت مہر کی ادائیگی کا کوئی مخصوص وقت یا مدت طے نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں بیوی ’جب بھی‘ مطالبہ کرے گی، شوہر پر مہر ادا کرنا لازم ہوگا عدالت نے واضح کیا گیا کہ شادی برقرار رہنے کے باوجود بیوی اپنے مہر کی مکمل حقدار رہتی ہے چنانچہ ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ کے پرانے فیصلے کو دوبارہ بحال کر دیا ہے جبکہ نان نفقہ اور جہیز سے متعلق اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیا گیا عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے مہر سے متعلق فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا

    اس عدالتی فیصلے سے یہ بات واضح اور ہو گئی ہے کہ حق مہر بیوی کا وہ بنیادی حق ہے جو نکاح کے معاہدے کے تحت اسے حاصل ہوتا ہے اور شوہر اس کی ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتا۔