Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری

    ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں متنازع ٹویٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر عدالت نے نوٹس جاری کر دیے۔

    جسٹس محمد آصف نے کیس کی سماعت کی، جبکہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے فیصل صدیقی، زینب جنجوعہ اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے جواب طلب کر لیا۔

    دورانِ سماعت فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرانسفر کی درخواست ابھی زیر التوا تھی مگر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنا دیا 2 گواہوں کے بیانات ملزمان کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے،یہ بھی عجیب ہوا کہ فیصلہ آنے کے بعد ٹرائل جج نے اس میں سے ایک پیراگراف نکال دیا سزا دینی ہے تو 10 دفعہ دے دیں، لیکن ٹرائل تو مکمل اور شفاف ہونا چاہیے۔

    جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ نوٹس جاری کر رہے ہیں، پیپر بکس آجائیں فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ سزا معطلی کی درخواست پر قریب کی تاریخ مقرر کی جائے، وہ کراچی سے آتے ہیں، اس لیے جب وہ اسلام آباد آئیں اسی دن کی تاریخ دی جائے۔

    جسٹس محمد آصف نے استفسار کیا کہ آپ کب آئیں گے؟ اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ پیر یا منگل کی تاریخ رکھ لی جائے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو تاریخ مل جائے گی، بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

  • فراڈ کیس: نجف حمید کی ضمانت منسوخی کے خلاف اپیل پر نوٹس جاری

    فراڈ کیس: نجف حمید کی ضمانت منسوخی کے خلاف اپیل پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے خلاف فراڈ کے مقدمے میں ضمانت کی بحالی سے متعلق درخواست پر نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔

    کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے کی، جہاں سابق نائب تحصیلدار نجف حمید اپنے وکلا قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے دوران وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ نجف حمید کی ضمانت منسوخ کرنے کے فیصلے کو معطل کیا جا ئے۔

    اس موقع پر جسٹس انعام امین منہاس نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، پہلے فریقین کے جوابات آ جانے دیں،اس حوالے سے تحریری حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

    نجف حمید نے ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں اپنی ضمانت منسوخی کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ایف آئی اے کی جانب سے درج فراڈ کے مقدمے میں نامزد نجف حمید نے اسپیشل جج سینٹرل کی جانب سے اپنی ضمانت کی منسوخی کا 24 جنوری کا فیصلہ چیلنج کیا ہے اسپیشل جج سینٹرل نے ایف آئی اے کی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست منظور کی تھی۔

    اپنی درخواست میں نجف حمید نے استدعا کی ہے کہ وہ قانون پسند شہری ہیں اور انہیں بدنیتی پر مبنی مقدمے میں گھسیٹا جارہا ہے، ضمانت منسوخی کا فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا انہوں نے اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دیے جانے کی استدعا کرتے ہوئے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کو بحال کرنے کی درخواست کی ہے، جس میں اسٹیٹ، ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔

  • فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

    ساق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید نے فراڈ کیس میں ضمانت بحالی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    نجف حمید نے ایف آئی اے مقدمے میں ضمانت منسوخی کا فیصلہ چیلنج کردیا، نجف حمید نے اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا 24 جنوری کا فیصلہ چیلنج کیا،اسپیشل جج سینٹرل نے ایف آئی اے کی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست منظور کی تھی۔

    درخواست میں ریاست، ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو فریق بنایا گیا ہے نجف حمید نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ قانون پسند شہری ہوں، بدنیتی پر مبنی مقدمے میں گھسیٹا جارہا ہے، ضمانت منسوخی کا فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا، اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، ضمانت قبل از گرفتاری کو بحال کیا جائے۔

  • عمران خان کا ایکس  اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس:پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

    عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس:پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار

    اسلام آباد:ہائیکورٹ نے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے کیس میں پی ٹی اے کا جواب غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف کے ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے کیس کی سماعت کی، جس میں سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو سکی عدالت نے جیل حکام، پی ٹی اے اور دیگر فریقین کے جوابات موصول ہونے کے بعد کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں کیس کی سماعت کے دوران سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے لیے ملاقات نہیں کر سکے عدالت نے کہا کہ اگر ملاقات ہو جائے تو 24 فروری کو حتمی دلائل سنے جائیں گے۔

    عدالت نے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست پر بھی تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد آفس سے تحریری جواب طلب کیا سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملاقاتوں کے کیسز ایک لارجر بنچ دیکھ رہا ہے اور جب تک ملاقات نہیں ہوگی، کیس آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

    سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ کیس فائل ہونے کے بعد انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ 2 ماہ پہلے 4 نومبر کو ملاقات کا آرڈر جاری ہوا تھا، لیکن اس پر عمل نہیں ہوا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل میں ملاقات کے لیے مناسب آرڈر جاری کیا جائے۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اگر ملاقات کرائی گئی تو کیس آگے بڑھ سکے گا اور اس حوالے سے مناسب احکامات جاری کیے جائیں گے عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی،اس دوران پی ٹی اے نے بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے کیس میں جواب داخل کرایا، تاہم عدالت نے اسے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ دیکھ لیں رٹ پٹیشن کیا ہے اور آپ کا جواب کیا ہے‘۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم

    پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ہائیکورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق حکم جاری کر دیا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دے دیا کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بارز کو بھی رولز کی کاپیاں فراہم کی جائیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے دورانِ سماعت پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق وکیل سے استفسار کیا جس پر وکیل نے پریکٹس ایند پروسیجر رولز کی تفصیلات سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم نے وہ رولز بنائے جو ہمیں بھی نہیں ملے، میں جج ہوں مجھے نہیں ملے، آپ کو کیسے ملیں گے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز ایک سیکریٹ ڈاکومنٹ ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ رجسٹرار کو لکھ دیں پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز فراہم کرنے کے لیے، وکیل درخواستگزار نے کہا کہ وزارت قانون سے معلوم کیا ہے اب میں درخواست بھی لکھوں گا۔

    سیف علی خان نے 16 ہزار کروڑ روپے مالیت کی زمین کا مقدمہ جیت لیا

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ درخواست لکھیں تین مہینے لگ جائیں گے، یہاں کوئی ڈاکومنٹ ہو تو رجسڑار وہ تین تین ماہ تک فراہم نہیں کرتا، 48 گھنٹوں میں ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کی ہدایت کردی ہے، اگر حکم پر عمل نہیں ہوا تو آپ کرمنل پروسیجر فائل کردینا میں رجسٹرار کو بلا لوں گا۔

    وکیل نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت 29 جنوری کو مقرر کردیں، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس نے ریمارکس دیے کہ 29 کو پتہ نہیں میں یہاں ہوں گا یا نہیں ، عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

    وزیراعظم کی فسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے موثر نظام کی سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا آئندہ ہفتے کا  روسٹر جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا آئندہ ہفتے کا روسٹر جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا آئندہ ہفتے کا ڈیوٹی روسٹر جاری کردیا گیا ہے۔

    روسٹر کے مطابق آئندہ ہفتے 4سنگل بینچز اور ایک ڈویژن بینچ دستیاب ہو گا،چیف جسٹس کی منظوری سے رجسٹرار آفس نے یکم سے 8 جنوری تک کا روسٹر جاری کر دیا ڈویژن بینچ جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ہو گا،جسٹس ثمن رفعت امتیاز 5 سے 8 جنوری تک دستیاب ہوں گی،اسی طرح چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم سومرو اور جسٹس محمد آصف 8 جنوری تک دستیاب ہوں گے۔

    امریکا میں خسرہ کے کیسز کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ

    حکومت یا وزیراعظم کی کوئی انا نہیں، پاکستان کا مفاد ہر چیز سے بڑا ہے،طلال چوہدری

    ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پر تشدد مظاہرے میں تبدیل،2 شہری ہلاک متعدد زخمی

  • جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان نے 3 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ عدالت نے طارق محمود جہانگیری کو متعدد مواقع دیے کہ وہ اپنا جواب اور متنازع تعلیمی اسناد پیش کریں، طارق محمود جہانگیری اپنا جواب اور تعلیمی اسناد پیش کرنے میں ناکام رہے-

    فیصلے میں کہا گیا کہ طارق محمود جہانگیری کی جانب سے کوئی معقول وجہ بھی سامنے نہیں آ سکی، اس صورتحال میں عدالت کے پاس مزید کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا،ہائی کورٹ کے جج کے عہدے کے لیے اہلیت فردِ واحد سے متعلق ہوتی ہے، آئین میں مقرر کردہ اہلیت کا حامل ہونا اعلیٰ عدالت کا جج بننے کے لیے بنیادی اور لازمی شرط ہے-

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ طارق محمود جہانگیری جب اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اس وقت درست اور قابلِ قبول ایل ایل بی ڈگری کے حامل نہیں تھے، بعد ازاں مستقل جج بننے کے وقت بھی طارق محمود جہانگیری درست اور قابلِ قبول ایل ایل بی ڈگری کے حامل نہیں تھے، جب طارق محمود جہانگیری وکیل بننے کے اہل ہی نہیں تھے تو آرٹیکل 175-A کے تحت ہائیکورٹ کے جج بننے کے اہل بھی نہیں ہو سکتے تھے-

    فیصلے میں کہا گیا کہ بطور جج تقرری اور ترقی غیر قانونی اختیار کے تحت کی گئی، طارق محمود جہانگیری اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے، جسٹس طارق محمود جہانگیری کو فوری طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا، وزا رتِ قانون و انصاف کو جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دے دیا گیا-

    فیصلے میں عدالتی حکم نامے کی کاپی وزارتِ قانون کو فوری بھجوانے کی ہدایت کی گئی،عدالت نے تمام زیرِ التوا متفرق درخواستیں نمٹا دیں-

  • چیف جسٹس کے اختیارات کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی درخواستوں پر اعتراضات عائد

    چیف جسٹس کے اختیارات کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی درخواستوں پر اعتراضات عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی جانب سے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے اختیارات کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواستوں پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کر دیے ہیں۔

    رجسٹرار آفس نے درخواستوں کو اعتراضات لگا کر واپس کردیا،اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان درخواستوں میں مفادِ عامہ کا کون سا اہم سوال موجود ہے، درخواست گزار ججوں نے نہ ہی یہ بتایا ہے کہ ایسے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، جن کے تحت آئین کے آرٹیکل 184/3 کا دائرہ کار استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    رجسٹرار آفس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزاروں نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر غیر معمولی دائرہ کار کے تحت درخواستیں دائر کیں،جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے ذوالفقار مہدی بنام پی آئی اے کیس میں یہ اصول طے کیا جاچکا ہے کہ ذاتی رنجش پر آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست دائر نہیں کی جاسکتی،رخواست گزاروں نے نہ تو آئینی درخواست دائر کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان کی اور نہ ہی نوٹسز جاری کرنے کے لیے متعلقہ فریقین کی وضاحت کی۔

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کا حکم معطل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کا حکم معطل

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن کی اپیل منظور کرلی اورانہیں عہدے پر بحال کردیا ہے۔

    جسٹس آصف اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے چیئرمین پی ٹی اے کی اپیل پر سماعت کی،چیئرمین پی ٹی اے کے وکیل قاسم ودود، ایڈیشنل اٹارنی جنرل و دیگر بھی عدالت پیش ہوئے،اس موقع پر وکیل نے موقف اپنایا کہ درخواست میں جو استدعا نہیں کی گئی تھی وہ ریلیف بھی دے دیا گیا، نہ رولز کو چیلنج کیا گیا نہ ہی اٹارنی جنرل کو نوٹس کیا گیا،اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرنا ضروری تھا۔

    وکیل سلمان منصور نے موقف اپنایا کہ پٹیشن میں جو مانگا نا گیا ہو اس کو آرٹیکل 199 میں نہیں دیکھا جا سکتا، کورٹ نے خود لکھا کہ ساری بحث ابھی مکمل نہیں ہوئی،جسٹس محمد آصف نے کہاکہ آپ کو تو کافی موقع دیا گیا تھا ،میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن کے وکیل قاسم ودود عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ رٹ پٹیشن میں سوال کیا گیا تھا کہ بطور ممبر پی ٹی اے تعیناتی نہیں ہو سکتی، آسامی غلط مشتہر کی گئی۔

    ہم ہر قسم کے چیلنج کے لیے تیار ہیں،سلمان علی آغا

    وکیل نے بتایا کہ رولز تبدیل ہو گئے تھے اور کابینہ نے منظوری دی تھی جس کے بعد تعیناتی ہوئی، 25 مارچ کو رولز تبدیل ہو چکے تھے جس کے بعد پٹیشن دائر کی گئی۔بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے پر بحال کردیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابرستارنے دو روز قبل چئیرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

    بارشوں کے بعد سندھ بھر میں ملیریا کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب، ایف آئی اے اور پولیس سے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے عمران خان کی جانب نیب، پولیس اور ایف آئی اے کی کارروائیاں روکنے کی درخواست پر سماعت کی جس دوران وکیل سلمان صفدر، عمران خان کی بہنیں اور نیب حکام عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی تاہم نیب حکام نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں ایسی کوئی گراؤنڈ نہیں جس کی بنا پر لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

    اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے عدالت میں کہا کہ وقت دیا جائے، عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کردیتے ہیں، اس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ فریقین کو 7 روز کا وقت دے دیں،بعد ازاں عدالت نے نیب، ایف آئی اے اور پولیس سے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں، محمد بن سلمان

    اس وقت ہماری اولین ترجیح انسانی جانوں کو محفوظ بنانا اور بیراجوں و بندوں کو بچانا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    نیپال میں احتجاج کے دوران 13 ہزار 500 قیدی جیلوں سے فرار