Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائی کورٹ

  • ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج

    ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ ججز کے خلاف بیانات پر ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے حافظ احتشام کی جانب سے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں نیشنل پریس کلب کے باہر 27 ستمبر کو ایمان مزاری سے منسوب تقریر کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ایمان مزاری کی تقریر حقائق کے برعکس اور توہینِ عدالت کے زمرے میں آتی ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ معاملہ عدالتی حکم عدولی کا نہیں بلکہ مبینہ طور پر عدلیہ کو اسکینڈلائز کرنے سے متعلق جوڈیشل توہینِ عدالت کا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری سے منسوب الفاظ سنی سنائی باتوں اور ذاتی رائے پر مبنی ہیں، جو آئین کے تحت اظہارِ رائے کے حق میں آتے ہیں۔ ایمان مزاری نے کسی جج کا نام نہیں لیا اور نہ ہی کسی مخصوص ٹرائل کورٹ جج کو نشانہ بنایا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطابق ایمان مزاری نے عمومی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ انہوں نے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر بیان دیا ہو۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ توہینِ عدالت کا مقدمہ اسی وقت بنتا ہے جب عدلیہ کو بدنام کرنے کا واضح ارادہ ثابت ہو، لہٰذا یہ درخواست خارج کی جاتی ہے

    اوچ شریف: غیر قانونی لاؤڈ اسپیکروں سے شہری اذیت میں، پولیس اور انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن، مستحق خواتین کی رقم ہڑپ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اختیارات اور اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحٰق خان نے علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کیں،درخواستوں میں ججوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ انتظامی اختیارات کو ہائی کورٹ کے ججوں کے عدالتی اختیارات کو کمزور کرنے یا ان پر غالب آنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا،چیف جسٹس ہائی کورٹ اس وقت جب کسی بینچ کو مقدمہ دیا جا چکا ہو، نئے بینچ تشکیل دینے یا مقدمات منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

    درخواستوں میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اپنی مرضی سے دستیاب ججوں کو فہرست سے خارج نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس اختیار کو ججوں کو عدالتی ذمہ داریوں سے ہٹانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے،بینچوں کی تشکیل، مقدمات کی منتقلی اور فہرست جاری کرنا صرف ہائی کورٹ کے تمام ججوں کی منظوری سے بنائے گئے قواعد کے مطابق کیا جا سکتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 202 اور 192(1) کے تحت اختیار کیے گئے ہیں۔

    گوجرانوالہ: اساتذہ میں ٹیبلٹس، طلبہ میں تعلیمی سامان تقسیم

    درخواست گزاروں نے مزیدکہا کہ بینچوں کی تشکیل، روسٹر ہائی کورٹ رولز اور مقدمات کی منتقلی سے متعلق فیصلہ سازی صرف چیف جسٹس کے اختیار میں نہیں ہو سکتی اور ماسٹر آف دی روسٹر کے اصول کو سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ختم کر دیا گیا ہے، 3 فروری اور 15 جولائی کو جاری ہونے والے نوٹی فکیشنز کے ذریعے بنائی گئی انتظامی کمیٹیاں اور ان کے اقدامات قانونی بدنیتی پر مبنی، غیر قانونی اور کالعدم ہیں۔

    عدالت سے استدعا کی گئی کہ ان نوٹی فکیشنز اور کمیٹیوں کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے،غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی انتظامی کمیٹی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کی منظوری اور ہائی کورٹ کی پیشگی منظوری کے بغیر نوٹیفکیشن جاری کرنا آئین کے آرٹیکل 192(1) اور 202 کی خلاف ورزی ہے، اور ستمبر میں اس کی توثیق بھی غیر قانونی اور بے اثر ہےسپریم کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت دے کہ وہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پر مؤثر نگرانی اور نگران عمل کرے، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 203 میں درج ہے، تاکہ ہر ہائی کورٹ اپنے ماتحت عدالتوں کی نگرانی اور کنٹرول کر سکے۔

    امریکا نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا

    درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ یہ اعلان کرے کہ ہائی کورٹ اپنے لیے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کوئی رٹ جاری نہیں کر سکتی، آرٹیکل 199 ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق ہے ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ نہ تو کسی سنگل بینچ کے عبوری فیصلوں پر اپیل کے لیے اختیار رکھتا ہے اور نہ ہی یہ کسی سنگل بینچ کے کارروائیوں پر ایسا کنٹرول اختیار کر سکتا ہے جیسے وہ کوئی زیریں عدالت یا ٹریبونل ہو،عبوری حکم سے مراد ایک جاری مقدمے میں دیا گیا عارضی فیصلہ ہے۔

    درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج کوصرف آرٹیکل 209 کے تحت عدالتی کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے اور کسی جج کو عہدے سے ہٹانے کے لیے رٹِ قو وارانٹو دائر کرنا درست نہیں ہےآرٹیکل 209 آئین کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی صلاحیت اور رویے کی تحقیقات کرنے کا اختیار دیتا ہے،درخواست گزاروں نےسپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ اس کیس کے حالات کے مطابق کوئی اور ریلیف بھی دے جو مناسب سمجھا جائے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ بحالی میں 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں

  • 3 سالہ بیٹی سےمبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ضمانت منظور

    3 سالہ بیٹی سےمبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 سالہ بیٹی سے مبینہ ریپ کے ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سالہ کمسن بچی سے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی ہےاسلام آباد ہائیکورٹ نے قراردیا کہ ملزم ضمانت کا غلط استعمال یا ٹرائل میں تاخیرکا سبب بنے توضمانت کا حق واپس لیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ضمانت منظور کی، فیصلے کے مطابق دفعہ 497 کے تحت مزید انکوائری کے کیس میں ملزم کو ضمانت دی جا سکتی ہے، صرف جرم کی سنگینی عدالت سے ضمانت کا اختیار چھیننے کے لیے کافی نہیں۔

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    فیصلے میں سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا کہ ضمانت ملزم کی بریت نہیں بلکہ صرف کسٹڈی کی تبدیلی ہوتی ہے، ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کو حکومتی ایجنسیوں کی تحویل سے ضامن کے سپرد کیا جائے اور ضامن اس بات کا پابند ہو کہ ضرورت پڑنے پر ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرے، پٹیشنر محمد حسیب حفیظ 3 ماہ سے جیل میں تھا اور ٹرائل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی، پٹیشنر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ گھریلو جھگڑے کا معاملہ ہے اور ملزم کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے-

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ بچی کی ماں ہے جس کی یہ دوسری شادی تھی اور اس نے خلع کا دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے، پمز اسپتال کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بچی کی ماں نے ڈاکٹرز کو مبینہ زیادتی کے متعلق بتایا، تاہم متاثرہ بچی کے عدم تعاون کی وجہ سے طبی معائنہ ممکن نہیں ہو سکا، میڈیکو لیگل رپورٹ میں بھی کسی قسم کے زخم، رگڑ یا خون کے نشانات نہیں پائے گئے، اس بات کا کوئی معقول جواز موجود نہیں کہ ایک حساس ادارے سے تعلق رکھنے والا پڑھا لکھا شخص اپنی 3 سالہ بچی سے زیادتی کرے، تفتیشی افسر نے بھی اعتراف کیا کہ ملزم کا نفسیاتی معائنہ نہیں کرایا گیا۔

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    واضح رہے کہ پاکستان میں سخت قوانین موجود ہونے کے باوجود زیادتی کے مقدمات سامنے آتے رہتے ہیں، جن میں سزائے موت سے لے کر 10 سے 25 برس قید تک کی سزائیں دی جا سکتی ہیں،گزشتہ برس بچوں سے جنسی زیادتی کے کیسز پر کام کرنے والی این جی او ’ساحل‘ کے جمع کردہ اعداد و شمار میں انکشاف کیا گیا کہ اکثری مجرم یا تو رشتہ دار تھے یا پھر کمیونٹی میں شناسا افراد اور پڑوسی۔

  • عدالت کا توہینِ مذہب مقدمات کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کا حکم

    عدالت کا توہینِ مذہب مقدمات کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو 30 دن کے اندر کمیشن قائم کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالتِ عالیہ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت 30 دن میں کمیشن تشکیل دے، جو 4 ماہ میں اپنی کارروائی مکمل کرے گا۔عدالت نے مزید ہدایت دی کہ اگر کمیشن کو مزید وقت درکار ہو تو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔

    یہ فیصلہ پی ٹی آئی قیادت پر توہینِ مذہب کے مقدمات کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد جاری کیا گیا۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، امدادی مراکز پر حملوں سے 78 فلسطینی شہید

    غربت ، ایک کے بعد دوسرا دوست بھی زہر کھا کر جاں بحق

    کراچی، واٹر ٹینکر کی ٹکر سے 16 سالہ موٹر سائیکل سوار جاں بحق

    2 لاکھ روپے نقد جمع کرانے پر ٹیکس کٹوتی نہیں ہوگی،ایف بی آر کی تاجروں کو یقین دہانی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ  کی  کارکردگی رپورٹ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارکردگی رپورٹ جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی-

    ماہ مئی 2025 کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے قابل ذکر عدالتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 1415 مقدمات نمٹائے سنگل اور ڈویژن بنچز پر مشتمل اس کارکردگی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کیسز جسٹس انعام امین منہاس نے نمٹائے، جنہوں نے 274 کیسز کا فیصلہ کیا اور سرِفہرست رہے۔

    رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد اعظم خان 181 فیصلوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے 134 کیسز نمٹا کر تیسری پوزیشن حاصل کی جب کہ قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے 83 مقدمات نمٹائے، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 59، جسٹس بابر ستار نے 71، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے 52، جسٹس ارباب محمد طاہر نے 65، جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے 71، جسٹس خادم حسین سومرو نے 80 اور جسٹس محمد آصف نے 113 مقدمات نمٹائے۔

    ڈویژن بنچز کی کارکردگی کے مطابق جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے 9 کیسز، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس اعجاز اسحاق خان نے 2، جسٹس محسن کیانی اور جسٹس ثمن رفعت نے 25، جسٹس طارق جہانگیری اور جسٹس ثمن رفعت نے 9 کیسز نمٹائے۔

    اسی طرح جسٹس بابر ستار اور جسٹس اعجاز اسحاق نے 64 مقدمات، جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس محمد اعظم نے 2، جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس انعام منہاس نے 39، جسٹس محمد اعظم اور جسٹس انعام منہاس نے 67 ، جسٹس خادم سومرو اور جسٹس محمد اعظم نے 3 جب کہ جسٹس خادم سومرو اور جسٹس انعام منہاس نے ایک کیس نمٹایا۔

  • اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج، سکیورٹی ہائی الرٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج، سکیورٹی ہائی الرٹ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور کارکنان اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جمع ہو گئے،احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    علیمہ خان اور وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور ہائی کورٹ کے باہر پہنچ گئے،پولیس اور ایف سی کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جب کہ قیدی وین اور بکتر بند گاڑیاں بھی ہائی کورٹ کے باہر پہنچا دی گئی ہیں سکیورٹی اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی تحریک انصاف کی سزا معطلی کی درخواست تاحال مقرر نہیں کی جا سکی، جس پر پارٹی میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہےقیادت کا کہنا ہے کہ وہ آج ایک بار پھر عدالت سے کیس مقرر کرنے کی اپیل کرے گی۔

    اس حوالے سے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر آج بھرپور احتجاج ہوگا26ویں آئینی ترمیم کی زنجیریں توڑ کر بانی کے کیسز سنے جائیں عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہےکیسز میں تاخیر اس بات کا ثبوت ہےکہ ان میں کوئی صداقت نہیں اور ان کا مقصد صرف بانی کو قید رکھنا ہےبانی جعلی حکومت کے اعصاب پر سوار ہیں اور ان کی رہائی سے حکومت کو اپنا انجام نظر آ رہا ہے۔

  • روسی سفارتکار کو خفیہ معلومات دینے پر پولیس افسر کی سزا کالعدم قرار

    روسی سفارتکار کو خفیہ معلومات دینے پر پولیس افسر کی سزا کالعدم قرار

    اسلام آباد:اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی ظہور کو روسی سفارتکار کو خفیہ معلومات پہنچانے کے الزام میں سنائی گئی سزا کالعدم قرار دے دی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست کی سماعت کی ،سماعت کے دوران اے ایس آئی ظہور کی سزا کے خلاف اپیل منظور کر لی،درخواست گزار کی جانب سے عمران فیروز ملک ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئےعدالت نے سماعت مکمل کر کے اپیل منظور کرنے کا زبانی حکم جاری کر دیا، تحریری فیصلہ بعد میں جاری ہوگا۔

    اے ایس آئی ظہور کے خلاف 13 دسمبر 2021 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے 18 مئی 2024 کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی عدالت نے اس سے قبل وفاقی پولیس کے اے ایس آئی کی سزا معطل کر رکھی تھی عدالت نے قرار دیا تھا کہ نیکٹا اور وزارت داخلہ کی تھریٹ الرٹ رپورٹس کو خفیہ معلومات یا خفیہ دستاویز نہیں کہا جا سکتا۔

    وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد لانے کے لئے پی ٹی آئی متحرک

    عدالت نے سماعت مکمل کر کے اپیل منظور کرنے کا زبانی حکم جاری کیا، کیس کا تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، اے ایس آئی ظہور کی سزا کے خلاف عدالت عالیہ نے اپیل منظور کرلی، جس کے بعد پولیس افسر کو ریلیف مل گیا۔

    واضح رہے کہ 15 دسمبر 2021 کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے انسداد دہشت گردی وِنگ نے غیر ملکی سفارت کار سے حساس معلومات کا تبادلہ کرنے والے اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو گرفتار کیا تھا ایف آئی اے عہدید ار نے بتایا کہ ملزم گولڑہ پولیس اسٹیشن میں بطور اے ایس آئی تعینات تھا، اور ایجنسی اس کی نگرانی کر رہی تھی، ملزم کو خفیہ اطلاع پر گر فتار کیا گیا تھا، ایف آئی اے کو خبر موصول ہوئی کہ ملزم میٹرو بس اسٹیشن جناح ایونیو پر غیر ملکی سفارت کار سے ملے گا اور معلومات اور اس سے متعلق دستاویزات فراہم کرے گا، جو کہ ملک مخالف عمل ہے۔

    آپ جہنم کے ہی حقدار ہیں، جاوید اختر کے متنازع بیان پر پاکستانی فنکاروں کا سخت ردعمل

  • توشہ خانہ ٹو کیس: ایف آئی اے نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کردی

    توشہ خانہ ٹو کیس: ایف آئی اے نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی مخالفت کردی

    توشہ خانہ ٹو کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست ضمانت کی مخالفت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بشری بی بی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت ایف آئی اے پراسیکوٹر ذوالفقار عباس نقوی، ایف آئی اے کے وکیل عمیر مجید ملک اور ذوالفقار عباس نقوی عدالت میں پیش ہوئے جب کہ بشری بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر بھی پیش ہوئے۔سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئے 12 دن گزر چکے ہیں جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ میں 9 اکتوبر کو عدالت آیا تو شدید بخار تھا اور مجھے ریکور کرنے میں لمبا وقت لگا۔بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کیس ہے کہ قیمت کا تعین کرنے والے پرائیویٹ شخص سے قیمت کم لگوائی گئی، قیمت کا تعین کرنے والا صہیب عباسی اب وعدہ معاف گواہ بن چکا ہے۔ پھر اس کے بعد کسٹمز کے افسران نے قیمت کا تعین کیا، یہ سب لوگ گواہ ہیں کسی کو ملزم نہیں بنایا گیا، کابینہ ڈویژن سے کسی شخص کو ملزم نہیں بنایا گیا، کابینہ ڈویژن سے کسی کو شاملِ تفتیش تک نہیں کیا گیا۔ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا کوئی براہ راست رابطہ نہیں تھا، پراسیکیوشن کے اپنے مطابق یہ تمام کام انعام اللہ شاہ کرتا ہے لیکن وہ ملزم نہیں، صہیب عباسی جو درحقیقت قومی خزانے کا نقصان پہنچا رہا ہے وہ وعدہ معاف گواہ ہے۔بشریٰ بی بی کے وکیل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، کوئی عدالتی نظیر موجود نہیں، عمران خان کا بازو مروڑنے کیلئے بشریٰ بی بی کو قید رکھا گیا ہے، بشریٰ بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ گھریلو خاتون ہیں، وہ 264 دن سے جیل میں قید ہیں، اس کیس میں 13 جولائی 2024 سے گرفتار ہیں۔ہ بشری بی بی پبلک آفس ہولڈر بھی نہیں ہیں، 3 سال 3 ماہ کی تاخیر سے یہ مقدمہ بنایا گیا، 31 جنوری 2024 کو نیب کے دوسرے ریفرنس میں بشری بی بی کو سزا دی گئی، 3 سال میں گرفتار کیا نہ ہی بشری بی بی کیخلاف کوئی کریمنل کیس بنایا گیا۔

    جسٹس حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ ایگزیکٹو کا فیصلہ تھا کہ 50 فیصد رقم دے کر تحفہ لے جائیں، جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ پروسیجر پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کس پروسیجر پر عملدرآمد نہیں ہوا، بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت کے حوالے سے آپ کو کیا ہدایات دی گئی ہیں؟ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم درخواست ضمانت کی مخالفت کریں گے، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر کل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ 4 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد نہیں ہو سکی تھی۔

    پس منظر

    یاد رہے کہ 12 ستمبر کو توشہ خانہ ٹو کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اےکی تین رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو ریفرنس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کردیا تھا۔قبل ازیں، عدالت نے توشہ خانہ 2 ریفرنس کا ریکارڈ اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔جبکہ 13جولائی کو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کے فوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیا تھا۔نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار
    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

  • قلفی فروش کے خلاف سرکاری اراضی پر قبضہ کیس کی سماعت

    قلفی فروش کے خلاف سرکاری اراضی پر قبضہ کیس کی سماعت

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے قلفی فروش کے خلاف سرکاری اراضی پر قبضہ کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ تین ماہ کی سزا بہت کم ہے۔ جسٹس طارق جہانگیری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل مسجد کے احاطے میں قلفیاں بیچنے والے پر سرکاری زمین پر قبضے کے الزام کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ ملزم کے وکیل نے کہا فرمان اللہ کو سی ڈی اے اسپیشل مجسٹریٹ نے 3 ماہ قید بامشقت کی سزا سنائی تھی، ہمیں دو دن سےفیصلے کی مصدقہ کاپی فراہم نہیں کی جارہی جب کہ ہماری استدعا ہے کہ سزا کا حکم معطل کردیا جائے۔

    جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ الزام ہے کہ ریڑھی لگائی اور دیگر ریڑھیاں بھی لگوائی جب کہ ان پر بھتہ خوری کا بھی الزام ہے اور آپ صرف قلفی کا بتا رہے ہیں، لہٰذا تین ماہ کی سزا تو پھر بہت کم ہے، اسے زیادہ ہونی چاہئے۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریڑھی لگانا کوئی جرم نہیں ہے، عدالت کی معاونت کروں گا، اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جرم ہے، جرم کیوں نہیں ہے؟ آپ کے گھر کے آگے کوئی ریڑھی لگا دے تو وہ جرم نہیں ہے؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو سائفر کے سیاسی استعمال کی قیمت چکانا پڑے گی۔ خواجہ آصف
    بھتہ طلبی پر ایس ایچ او سول لائن کو ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا
    ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ
    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع
    جسٹس طارق جہانگیری نے ریمارکس دیئے کہ بھتے پر دہشت گردی بھی لگتی ہے، یہ نہ ہو کہ پھر وہ بھی لگ جائے۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ بھتہ خوری کا جھوٹا الزام لگایا گیا، اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ میں آکر آج تک کسی نے کہا ہے کہ الزام سچا ہے۔

  • شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع

    شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

    تھانہ ترنول مقدمے میں شاہ محمود قریشی کیس کی سماعت ہوئی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی جبکہ اسد عمر کی عبوری ضمانت پر سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی دوران سماعت اسلام آباد پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ شاہ محمود شامل تفتیش ہو گئے ہیں۔

    اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ دونوں کیس ایک ہی بینچ کو بھیجے جائیں، جس کے بعد عدالت نے فائل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو واپس بھیج دی جسٹس طارق محمود نے ریمارکس دیئے کہ دونوں کیس ایک ہی بینچ کو بھیجنے کا فیصلہ چیف جسٹس کریں گے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس میں نظر ثانی …

    بعد ازاں عدالت عالیہ نے تھانہ ترنول مقدمے میں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں 13 جولائی تک توسیع کردی-

    قبل ازیں گزشتہ سماعت میں اسلام آباد کے تھانہ ترنول کے مقدمے میں درخواستِ ضمانت پر جسٹس ارباب محمد طاہر نےسماعت کی تھی،عدالتِ عالیہ نے پولیس کو اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی گرفتاری سے روک دیا تھا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے 10 جولائی تک پولیس سے ریکارڈ بھی طلب کیا،عدالتِ عالیہ نے اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کی۔

    آئی سی سی کی سالانہ میٹنگز میں شرکت کیلئےذکا اشرف کل جنوبی افریقا جائیں گے

    دونوں رہنماوں نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی دریں اثنا سیشن کورٹ نے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی ضمانت خارج کی تھی جس کے بعد شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ سے راہداری ضمانت لی تھی۔

    عمران خان 9 مئی کے واقعات میں بھی ملزم نامزد