Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائی کورٹ

  • پی ٹی آئی ایم این اے کنول شوذب اسلام آباد ہائی کورٹ میں رو پڑیں

    پی ٹی آئی ایم این اے کنول شوذب اسلام آباد ہائی کورٹ میں رو پڑیں

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ایم این اے کنول شوذب اسلام آباد ہائی کورٹ میں رو پڑیں-

    باغی ٹی وی : ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف پی بی اے سمیت دیگر صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت کی تو کنول شوذب عدالت میں پیش ہوئیں۔

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    انہوں نے کہا کہ میں پبلک آفس ہولڈر ہوں لیکن مجھے بھی اظہار رائے کی آزادی ہے، کیا میں بنی گالہ میں سروسز دیتی آئی ہوں؟ میرے بارے میں وی لاگ میں ایسی باتیں کی گئیں ؟ کیا یہ فریڈم آف اسپیچ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کے ساتھ سو کر آئی ہے، جو مجھ پر الزام لگا ہے، نا امیر زادی ہوں نا غنڈا ہوں ، میرے خلاف طرح طرح کے وی لاگ ہوتے ہیں، میں کہاں جاؤں کس کے پاس جاؤں میرا فیملی ہے۔

    کنول شوذب نے کہا کہ رضی نامہ میں میرے بارے میں جو کچھ کہا گیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں، ساڑھے تین لاکھ لوگوں نے اسے دیکھا، ایک سال سے میرے خلاف بات ہورہی ہے میرے خلاف کمپین چل رہی ہے، رضی نامہ کہنے والے لوگ معاشرے میں پتہ نہیں میرے بارے میں کیا کیا کہتے ہیں، خواتین ارکان اسمبلی کے بارے میں کہا گیا کہ کسی کے ساتھ سو کر اسمبلی میں پہنچی ہے اور کنول شعیب بولتے ہوئے رو پڑیں۔

    خاتون رکن اسمبلی کے رونے کے بعد عدالت نے انہیں نشست پر تشریف رکھنے کی ہدایت کی چیف جسٹس کے بار بار روکنے کے باوجود کنول شوذب نے روتے ہوئے بات جاری رکھی اور ایک سی ڈی عدالت میں چلانے کی استدعا کردی۔

    کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیاں

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ اچھے خاصے سینئر صحافی ہیں جنہوں نے اس ویڈیو میں بات کی، میں مرد ہوں ہم ان خواتین کی جگہ پر جا کر تصور نہیں کر سکتے۔

    کنول شوزب کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ کنول شوزب پر تہمت لگائی گئی جس کی اسلامی قانون میں کوڑوں کی سزا ہے ۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بھی کنول شوزب کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پڑھ کر سنائی-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ سب کچھ پولیٹیکل پارٹیز کی وجہ سے ہو رہا ہے، سیاسی جماعتوں نے کیوں سوشل میڈیا ٹیمیں رکھی ہوئی ہیں، عوامی نمائندوں میں تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے، آپ عام شہری نہیں، پبلک آفس ہولڈر ہیں، ایف آئی اے نے 95 ہزار شکایات چھوڑ کر آپ کی شکایت پر کارروائی کی، ڈائریکٹر ایف آئی اے بتائیں کہ 95 ہزار شکایات چھوڑ کر پبلک آفس ہولڈر کے کیس کو کیوں ترجیح دی؟۔

    لکھ پتی بھکاری گرفتار،مقدمہ درج

    کنول شوزب نے کہا کہ آپ سب کو بولنے کی آزادی دیتے ہیں مگر مجھے بولنے کی آزادی نہیں، ہماری کلچرل اقدار ہیں، میں یورپ نہیں، پاکستان میں رہتی ہوں، کیا غیرت کے نام پر کوئی جا کر اس شخص کو گولی مار دے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کی کمپلینٹ عدالت کے سامنے نہیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایم این اے کنول شوذب کو خراج تحسین پیش کیا فواد چوہدری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ کنول شوذب نے اظہار آزادی رائے کے نام پر لگے تماشے کو جس دلیری اور بردباری سے بے نقاب کیا اس پر اس دلیر ممبر پارلیمنٹ کو سلام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہاں کنول شوذب تلخ ہو گئیں لیکن کسی کے ساتھ ایسا ہو گا وہ تلخ تو ہو گا اظہار آزادی اور توہین میں فرق ہے اور لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

  • پیکا ایکٹ:عدالت نے گرفتاریوں سے روک دیا،اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری

    پیکا ایکٹ:عدالت نے گرفتاریوں سے روک دیا،اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو پیکا ایکٹ کے سیکشن 20 کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کیخلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکشن 20 کےتحت گرفتاریوں سے روک دیا پیکا ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیے گئے۔

    فیٹف اجلاس شروع،پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ایف آئی اے پہلے ہی ایس او پیز جمع کرا چکی ہےا یس او پیزکے مطابق سیکشن 20 کے تحت کسی کمپلینٹ پر گرفتاری عمل میں نہ لائی جائے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ ذمہ دار ہوں گے۔

    درخواست گزار وکیل عادل عزیز قاضی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 17 فروری کو سینیٹ کا اجلاس ختم ہوا۔ 18 فروری کو قومی اسمبلی کا شیڈیول تھا۔ اجلاس کو اس لئے ختم کیا گیا کہ آرڈیننس لایا جا سکے۔ عدالت کے استفسار پر وکیل نے بتایا کہ سیکشن 20 میں ترمیم کے علاوہ نئی سیکشن بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت سزا تین سال سے پانچ سال کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پبلک فِگر کیلئے تو ہتک عزت قانون ہونا ہی نہیں چاہیے۔ ایڈووکیٹ عادل عزیز قاضی نے کہاکہ جو خود کو پبلک فِگر کہتا ہے وہ بھی تنقید سے نہ گھبرائے یہی ہم کہتے ہیں۔

    عدالت نے پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 کے تحت گرفتاریوں سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل کو معاونت کیلئے نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ایف آئی اے پہلے ہی ایس او پیز جمع کرا چکی ہے۔ ایس او پیزکے مطابق سیکشن 20 کے تحت کسی کمپلینٹ پر گرفتاری عمل میں نہ لائی جائے۔ اگر ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ ذمہ دار ہوں گے۔ عدالت نے پیکا ایکٹ کیخلاف تمام درخواستیں یکجا کرتے ہوئے سماعت 24 فروری کیلئے ملتوی کردی۔

    دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے پیکا قانون میں کی جانے والی ترمیم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے بعد زرد صحافت کا خاتمہ ممکن ہوگا پاکستان بار کونسل کے ممبران چوہدری اشتیاق احمد اور منیر کاکڑ کی وزیر قانونی بیرسٹر فروغ نسیم سے ملاقات ہوئی، جس میں پیکا ایکٹ اور آرڈیننس پر بات کی گئی۔

    پاکستان بار کونسل کے ممبران نے کہا کہ جو ترامیم پیکا قانون میں کی گئی ہیں ان کے ذریعے زرد (یلو) جرنلزم اور جعلی خبروں کا خاتمہ ہوگا کیونکہ غلط اور گمراہ کن خبروں کے تدارک کے لیے اس طرح کی ترمیم بہت ضروری تھی۔

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    ممبران پاکستان بار کونسل نے کہا کہ جو لوگ اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں وہ من گھڑت خبروں کو پھیلانے میں مددگار ہیں، انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف قائم کردہ ڈس انفو لیب کی طرز کی من گھڑت خبروں کا خاتمہ اس قانون سے ممکن ہوگا، سچے معاشرے کی بنیاد میڈیا ڈالے گا اور پیکا کا نیا قانون اس میں مدد کرے گا۔

    واضح رہے کہ پی ایف یو جے (پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ) نے پیکا قانون میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا پی ایف یو جے کی جانب سے رضوان قاضی نے وکیل عادل عزیز قاضی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے پیکا قوانین میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم اس وقت کی جب ایک دن پہلے ایوان بالا کا اجلاس جاری تھا، حکومت نے ڈرافٹ پہلے ہی تیار کرلیا تھا، قانون سازی سے بچنے کے لیے سیشن کے ختم ہونے کا انتظار کیا گیا۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ آئین پاکستان جمہوری اقدار کو فروغ دینے کا مطالبہ کرتا ہے، آئین میں اظہار رائے کی آزادی شامل ہے، موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کو بند کیا جا رہا ہے، صحافیوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں، نیا ترمیمی آرڈیننس صرف کچھ مخصوص قسم کے صحافیوں کو فروغ دینے، خبریں اور تنقید کی حوصلہ شکنی کے لیے ہے۔

    محسن بیگ کیس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ پیکا قانون میں ترمیم کے آرڈیننس کے اجرا کے لیے کوئی ہنگامی صورتحال پیدا نہیں ہوئی تھی، پیکا قانون میں ترمیم کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جاسکتا تھا، حکومت کی جانب سے جلد بازی حکومت کے مذموم مقاصد ظاہر کرتی ہے، کوئی بھی ملک حکومتوں کے آمرانہ طرز عمل سے چل نہیں سکتا جہاں عوام کو صرف اظہار رائے کے اپنے بنیادی حق کو استعمال کرنے کی پاداش میں قید کیا جائے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ ملک میں آزادی اظہار کا قتل ملک میں جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے، پیکا قانون میں یہ ترمیم حکومت کی طرف سے اپنے مخالفین کو شکست دینے کی ایک خام کوشش ہے، پیکا قانون اور اس میں ترمیم کو آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا جائے۔

    علاوہ ازیں پی ایف یو جے نے پیکا آرڈیننس کے خلاف اسلام آباد میں یکم مارچ کو درھرنا دینے کا اعلان کیا ہے دھرنے میں ملک بھر سے صحافتی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ پی ایف یو جے کے سیکریٹری رانا عظیم کا کہنا تھا کہ پیکا آرڈیننس جاری کرکے حکومت نے آزادی صحافت پر شب خون مارا ہے، پی ایف یو جے پیکا آرڈیننس کی واپسی تک احتجاج جاری رکھے گی۔

    جعلی خبروں کی روک تھام کیلئے 5 سال تک سزا کا آرڈیننس جاری ہوگیا

    دوسری جانب اس ترمیم کو لاہور ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے جسےچوہدری سعید ظفر ایڈوکیٹ نے چیلنج کیا ہے۔ اپنی درخواست میں سعید ظفر ایڈووکیٹ نے وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس کو صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے لایا گیا ہے، حکومت پیکا ترمیمی آرڈیننس لا کر اپنے مذموم مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں صدارتی آرڈی ننس جاری کرنا غیر آئینی ،غیر قانونی ہے، عدالت پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022ء کو کالعدم قرار دے۔

    دریں اثنا لاہور ہائی کورٹ بار کی قیادت نے پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022ء کی مخالفت کی ہائیکورٹ بار نے مقامی وکیل کی جانب سے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو چیلنج کرنے کے اقدام کی حمایت کردی اور کہا کہ صحافیوں کی آواز دبانے اور کالی بھیڑوں پر تنقید روکنے کے لیے آرڈیننس جاری کیا گیا، حکومت وقت نے کالے قانون کے ذریعے عوام الناس کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی۔

    علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیکا قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کی مذمت کرتے ہوئے مشترکہ مذمتی قرارداد جاری کردی، جس میں کہا گیا کہ آرڈیننس کے ذریعے پیکا قانون میں ترمیم صدر پاکستان اور وفاقی وزیر قانون کے طاقت کے استعمال کا نمونہ ہے، اس کالے قانون کو آرڈیننس کے ذریعے لانے کیلئے پارلیمنٹ کا سیشن ملتوی ہونے کا انتظار کیا گیا۔

    پاکستان آسٹریلیا سے اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے:آرمی چیف

  • سابق چیف جج رانا شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم

    سابق چیف جج رانا شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے رانا شمیم کے بیان حلفی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی، رانا شمیم کے وکیل بیماری کے باعث پیش نہ ہوئے عدالت نے رانا شمیم کے وکیل کی آج التوا کی درخواست منظورکرلی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ رانا شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کے ہدایت کی جائے-

    وزیر اعظم نے اسٹیٹ بنک کی طرف سے ملک کے پہلے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کا اجراء کر دیا

    رانا شمیم سے اپنے دفاع میں گواہان کی فہرست بھی لی جائے، بیان حلفی اور گواہان کی فہرست مل جائے تو آئندہ سماعت پر کارروئی آگے بڑھے گی۔

    عدالت نے رانا شمیم کو آئندہ سماعت سے پہلے اٹارنی جنرل کو بیان حلفی کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا پرفردم جرم عائد کی تھی عدالت نے رانا شمیم کی دونوں متفرق درخواستیں خارج کردیں تھیں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ عدالت لائسنس نہیں دے سکتی کہ کوئی بھی سائل آ کراس طرح عدالت کی بے توقیری کرے۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    دوران سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے فرد جرم پڑھ کر سنائی کہ رانا شمیم نے برطانیہ میں بیان حلفی ریکارڈ کرایا۔ بقول ان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثارچھٹیوں پر گلگت بلتستان آئے۔ انہوں نے ہدایات دیں کہ نوازشریف اور مریم نواز الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے چاہئیں چیف جسٹس نے استفسار کہ کیا تھا آپ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں رانا شمیم نے کہا تھا کہ وہ چارجز کا جواب تحریری طور پر دیں گے، میرے وکیل کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد ہونا میرے ساتھ زیادتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم خاموش رہے تو سائلین کا اعتماد اس عدالت سے مزید متزلزل ہوجائے گا ہمارے ججز اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی ساکھ پر سوالات اٹھیں یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا یہ کس طرح کا بیانیہ ہے کہ اس عدالت ججز کمپرومائزڈ ہیں۔

    عمران خان میری سیاسی ملاقاتوں سے نہیں ملکی تباہی سے خوفزدہ ہیں، شہبازشریف

    اٹارنی جنرل نے استدعا کی تھی میڈیا نمائندوں پر فرد جرم عائد نہ کی جائے صحافیوں نے دبے الفاظ میں ہی صحیح پر اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے ائندہ سب جوڈیس معاملات میں مزید احتیاط کی جائے گی عدالت نے فرد جرم کی کاروائی موخر کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ اگر بعد ازاں کوئی بدنیتی سامنے ائی تو کاروائی عمل میں لائی جائے گی، عدالت نے رانا شمیم کی جانب سے دائر انکوائری اور پراسیکیوٹر کی تبدیلی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی تھی-

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق جج رانا شمیم کا کہنا تھا کہ میرے وکیل ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں اور مجھے اکیلا دیکھ کر فرد جرم عائد کی گئی میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے کیونکہ قصور ان کا تھا جنہوں نے چھاپا اور فرد جرم مجھ پر عائد کر دی گئی۔جس صحافی نے خبر شائع کی اس کو معاف کر دیا گیا اور انصار عباسی نے خبر شائع کرنے سے قبل مجھ سے پوچھا تھا لیکن میں نے جواب دیا کہ جب تک بیان حلفی سامنے نہ ہو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کےخلاف اپیل کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم

    انہوں نے کہا تھا کہ فرد جرم عائد ہونے سے کیا ہوتا ہے؟ بیان حلفی سربمہر تھا معلوم نہیں کیسے پبلک ہوا۔ فرد جرم سے مراد کسی کو سزا دینا مقصود نہیں ہوتا۔ اب عدالت میں کیس چلے گا تو پھر دیکھیں گے۔

  • جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کے ذمہ داران چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ

    جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کے ذمہ داران چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ

    ایک قیدی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کو اڈیالہ جیل میں بااثر قیدیوں سے متعلق لکھے خط پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ بظاہر جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کے ذمہ داران چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ میں جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کیس کی سماعت ہوئی وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار کون ہے؟-

    عدالت نے استفسار کیا کہ بظاہر جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کے ذمہ داران چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں، کیوں نا غیر انسانی رویے کی وجہ سے قیدیوں کو معاوضہ دیا جائے؟ قیدیوں کےلیےمعاوضہ ان حکام سے لیاجائےجو غیرانسانی رویےکےذمہ دار ہیں۔

    کیوں نامیڈیا کو جیلوں میں قیدیوں تک رسائی کی اجازت دی جائےتاکہ انفارمیشن سامنے آئے،اسلام آباد ہائی کورٹ

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ریاست اپنے شہریوں پر ظلم نہیں کرسکتی اگر ہورہا ہے تو کوئی نہ کوئی ذمہ دار ہوگا، جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ رویہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی زندہ مثال ہے۔

    اسلام آبادہائی کورٹ نے ایک ماہ میں وزارت انسانی حقوق سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 12 جنوری کوایک قیدی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کو اڈیالہ جیل میں بااثر قیدیوں سے متعلق لکھے خط پر سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے تھے کہ وزرا اور ججز بھی دو تین دن جیل میں رہیں تو انہیں مشکلات کا اندازہ ہو۔

    وزیر اعظم ایک روزہ دورے پر کوئٹہ روانہ،آرمی چیف بھی نوشکی پہنچ گئے

    سماعت کے دوران عدالت کو ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق نے بتایا تھا کہ بغیر کسی فزیکل پرابلم کے بااثر قیدی اڈیالہ جیل کے ہسپتال میں رہ رہے ہیں، وزیر صاحبہ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی ہے ، اڈیالہ جیل میں شکایت کا نظام فعال نہیں ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے سپریڈنٹ جیل بھکر اور اڈیالہ آگاہ ہی نہیں تھے ہم جب بھی وزٹ کرتے ہیں اس سے قبل ہی ہر چیز اوکے ہوتی ہے لیکن حقیقت ایسا نہیں ہوتی، ہم نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ جیل اتھارٹیز نے درحقیقت کوئی کام نہیں کیا، دو ہزار کی جگہ پانچ ہزار سے زیادہ قیدی اڈیالہ جیل میں رکھے گئے ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد جلد لائی جائے گی، شاہد خاقان عباسی

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے تھے کہ کسی سوسائٹی کی گورننس کو دیکھنا ہو تو ان کی جیلوں کا جائزہ لے لیں، جو باہر طاقت ور ہے جیل کے اندر بھی طاقت ور ہے ، جیل کے اندر کرپشن کا جو الزام ہے یہ کیسے ٹھیک ہو گا ، جیلوں کے اندر کوئی رول آف لاء نہیں،بااثر اور عام قیدی میں بھی تفریق ہے آپ نے جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو ختم کرنا ہے، دیکھ لیں جیسے کراچی میں ہوا ہے جہاں قیدی ہسپتال کرائے پر لے کر رہ رہے تھے جیل ٹرائل کے لیے نہیں، کبھی قیدی بن کر جیل گئے ہیں؟ وکلا تحریک میں بہت سارے وکیل بھی جیلوں میں گئے، ایسا کیوں نا کریں کابینہ ممبر اور ججز بھی اگر دو دو تین تین دن جیل رہیں تو سمجھ سکیں گے کہ یہ کتنا مشکل ہوتا ہے،عدالت کس کو کہے کہ وہ تین چار دن جیل میں جا کر گزارے؟ آپ بتائیں نا کس کو تجویز کریں کہ وہ تین چار دن جیل کے اندر رہے پھر بتائے کیا چل رہا ہے-

    آسٹریلیا نے دورہ پاکستان کیلئے ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا

  • چیئرمین ایچ ای سی کی بحالی:عدلیہ حکومت کے انتظامی فیصلوں میں مداخلت کرنے لگی؟

    چیئرمین ایچ ای سی کی بحالی:عدلیہ حکومت کے انتظامی فیصلوں میں مداخلت کرنے لگی؟

    اسلام آباد:چیئرمین ایچ ای سی کی بحالی:عدلیہ حکومت کے انتظامی فیصلوں میں مداخلت کرنے لگی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق جاوید بنوری کو بطور چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) بحال کردیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس عامرفاروق پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سنایا۔

    خیال رہے کہ عدالت نے آرڈیننس کے ذریعے چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹانے کے خلاف درخواست پر فریقین کے وکلا اور اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے پرفیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری کو عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیاتھا ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے حکومت کی جانب سے ایچ ای سی ترمیمی آرڈیننس 2021 لاگو کردیا گیا ہے جس کے بعد چیئرمین ایچ ای سی کی مدت ملازمت 2 سال کردی گئی ہے۔

    ذرائع کےمطابق طارق بنوری کے خلاف وسیع پیمانے پر شکایت عام تھیں، وہ گزشتہ تین سال سے ایڈہاک بنیادوں پر ایچ ای سی چلا رہے تھے، نہ تو میرٹ پر مستقل ای ڈی تعینات کیا گیا نہ ہی ریجنل ڈائریکٹرز تعینات ہوئے، بھاری تنخواہوں پر درجن بھر کنسلٹنٹ بھرتی کیے گئے تھے جن میں بعض ناصرف ریٹائرڈ بلکہ تعلیمی لحاظ سے گریجویٹ تھے۔

    حال ہی میں نیب نے بھی ڈاکٹر طارق بنوری کے خلاف بد عنوانیوں، بےقاعدگیوں، بدانتظامی اور کنسلٹنٹس کی تعیناتی پر تحقیقات شروع کردی تھیں کہ اس دوران آرڈیننس جاری کر کے چیئرمین ایچ ای سی کی مدت ملازمت کم کرکے انہیں فارغ کردیا گیا۔

    طارق بنوری کو (ن) لیگ کے دور حکومت میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے مئی 2018 میں تعینات کیا تھا اور ان کی 4سالہ مدت مئی 2022 تک تھی۔

  • دو ماہ میں فیصلہ ہونا چاہئے تھا،کیا عمران خان نے التوا لیا؟ عدالت

    دو ماہ میں فیصلہ ہونا چاہئے تھا،کیا عمران خان نے التوا لیا؟ عدالت

    دو ماہ میں فیصلہ ہونا چاہئے تھا،کیا عمران خان نے التوا لیا؟ عدالت
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کے خلاف ہرجانے کے کیس میں وزیر اعظم کو نوٹس جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کے خلاف دائر کیے گئے 10 ارب روپے ہرجانے کے کیس کی سماعت ہوئی وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کرنے کے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پراسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

    ‏اسلام آبادہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کارروائی بڑھانے سے روک دیا، وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کردیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت کا یہ کیس کب سے زیرالتوا ہے، وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ یہ کیس 2012 کا ہے، 2021 میں سوالات وضع کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ڈائریکشن دی ہے کہ ہتک عزت کے کیسز جلد نمٹائے جائیں، کیس میں اس التوا کا ذمہ دار کون ہے؟ ‏کیا آپ کہتے ہیں کہ التوا عمران خان کی طرف سے ہوا؟ 2012 سے ہتک عزت کا کیس تاخیر کا شکار ہو رہا ہے،‏ہتک عزت کیس کا تو 2 ماہ میں فیصلہ ہو جانا چاہیئے تھا،

    وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ ‏دونوں فریقین کی جانب سے التوا لیا گیا، جب سوالات وضع ہوئے خواجہ آصف نیب حراست میں تھے، عمران خان نے شروع میں پیروی نہیں کی لیکن بعد میں شروع کی، عدالت نے کیس کی سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی

    غیرقانونی بھرتیاں:لاہورہائی کورٹ نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

    وزیراعظم عمران خان نے شوکت خانم سے متعلق معاملات میں الزامات لگانے پر خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کردیا گیا تھا۔

    خواجہ آصف نے ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کرنے کا آرڈر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا خواجہ آصف نے درخواست میں ایڈیشنل سیشن جج اور عمران احمد خان کو فریق بناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ای کورٹ کے ذریعے وزیراعظم کا بیان وکیل صفائی کی عدم موجودگی میں ریکارڈ کیا۔

    ایف اے ٹی ایف نے جعلی شناختی کارڈز سے کاروبار کرنیوالوں کی فہرست طلب کرلی

    وکیل نے خرابی صحت کے باعث عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 17 دسمبر کو پیش نہیں ہو سکتے، عدالت نے قانون کا حوالہ دیئے بغیر جلدبازی میں فیصلہ سنایا، جرح کا حق ختم کرنے کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے۔

    قبل ازیں لاہورہائی کورٹ نے غیرقانونی بھرتیوں پر وزیراعظم کو نوٹس جاری کیا ، لاہور ہائی کورٹ نے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان(اے ٹی آئی آر)میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی بھرتیوں کے خلاف دائر درخواست پر وزیراعظم عمران خان، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری قانون اورچئیرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور رجسٹرار ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان سے 14 جنوری 2022 کو جواب طلب کیا ہے۔

    منی لانڈرنگ امیر ممالک کا بڑا مسئلہ ہے،وزیراعظم

    عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 2 جون 2021 کو نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی تقرری کو چیلنج کئے جانے کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے نوٹس جاری کئے ہیں درخواست گزار ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ ان تقرریوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    وحید شہزاد بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تقرریاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977 کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی سروسز میں گریڈ 16 اور اس سے زائد گریڈ کے افسران کی تقرری فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوگی انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 130 کے تحت وفاقی حکومت کی بجائے وزیر اعظم کو ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے جوڈیشنل ممبران کی تقرری کا دیا جانے والا اختیارغیرقانونی ہے۔

    سندھ ہائیکورٹ میں بلدیاتی ایکٹ کیخلاف درخواست دائر

  • جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا

    جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا

    اسلام آباد: جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا ،اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان کے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اورنوازشریف کو کندھا دینے والے جج رانا شمیم کے الزامات پرجاری شوکاز نوٹسز میں سے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیاہے

    جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں‌ ابھی تک گلگت بلتستان کی سپریم اپیلٹ کورٹ کے سابق چیف جج رانا شمیم کا جواب داخل نہیں ہو سکا،
    جبکہ دی نیوز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی اور ایڈیٹر عامر غوری کے جواب بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔

    سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا

    شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    عدالتی شوکاز میں کہا گیاتھا کہ میر شکیل الرحمان دی نیوز کے ایڈیٹر انچیف کے طور پر اہم عہدے پر فائز ہیں، 15 نومبر کو دی نیوز پر انصار عباسی کی طرف سے خبر شائع، رپورٹ کی گئی، جس کا عنوان تھا ثاقب نثار نے 2018 الیکشن سے قبل نواز، مریم کو رہا نہ کرنے کی ہدایت کی۔

    شوکاز میں کہا گیا کہ جسٹس (ر) رانا محمد شمیم کے مبینہ بیان حلفی کا مواد خبر میں شائع کیا گیا، مبینہ حلف نامے، خبر کی رپورٹ میں بے بنیاد، توہین آمیز الزامات لگائے گئے، اس خبر کی رپورٹ کا مواد عدالت کے ساتھ بدسلوکی کے مترادف ہے، عدالت کی طرف سے کی گئی کارروائیوں پر جھوٹا الزام لگانا جرم ہے۔

    شوکاز میں کہا گیا کہ مواد کا مقصد عدالت کے سامنے زیر سماعت اپیلوں میں مداخلت معلوم ہوتا ہے، مریم نواز کی اپیلوں پر انصاف کے راستے کو موڑنے کی کوشش کی ہے، خبر لکھنے والے اور میرشکیل الرحمان نے حقائق کی تصدیق کی کوشش نہیں کی،اور ان لوگوں کا ورژن طلب کر کے پیش کیا گیا جن کے خلاف سنگین بد دیانتی کے الزامات تھے، اور اس عدالت کے رجسٹرار یا آزاد ذرائع سے تصدیق سے پہلے ہی رپورٹ کی اشاعت کی گئی۔

    شوکاز کے مطابق تصدیق کیے بغیر خبر کی اشاعت نہ صرف ادارتی بلکہ صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، تصدیق کے بغیر خبر کی اشاعت شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی پامالی ہوتی ہے، منصفانہ مقدمے کی سماعت کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے تعصب کا نشانہ بنایا گیا، ایسی خبریں شائع کرنا انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔

    شوکاز میں کہا گیا کہ ایسی خبر عدالت اور ججز پر عوام کے اعتماد کو بغیر کسی خوف ختم کر دیتی ہے، اس قسم کی خبریں شہریوں کے حقوق اور آزادی کو مجروح کرتی ہے۔

    شوکاز کے مطابق اس خبر کی رپورٹ اور مذکورہ بالا کارروائیوں کو آرٹیکل 204 کے ساتھ پڑھا گیا، توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت قابل سزا مجرمانہ توہین کے مرتکب ہوئے، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری 7 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرائیں، سابق چیف جج جی بی بھی 7 دن کے اندر تحریری جواب ہائیکورٹ میں جمع کرائیں۔

     

     

  • پی ٹی وی تعیناتیاں چیلنج

    پی ٹی وی تعیناتیاں چیلنج

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی وی میں 6 شعبوں کے سربراہان کی تعیناتیوں کے خلاف درخواست پر وفاق، سیکرٹری اطلاعات اور پی ٹی وی کے نوٹس آف ڈائریکٹرز سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے. جسٹس محسن اختر کیانی نے پی ٹی وی یونین کے جنرل سیکرٹری پرویز اختر بھٹی کی درخواست پر سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پی ٹی وی کے 6 شعبوں کے سربراہان کی تعیناتیوں ایک پرائیویٹ فرم کے ذریعے آسامیاں مشتہر کیے بغیر کی گئیں اور سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا، آسامیاں مشتہر کی جائیں تو ملک بھر سے متعلقہ شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد سامنے آسکتے ہیں۔تعیناتیوں میں شفافیت کو مدنظر نہ رکھنے کے باعث کاالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت نے وفاق، سیکرٹری اطلاعات، چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز، چیف نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز قطرینہ حسین،ہیڈ آف مارکیٹنگ اینڈ کنٹنٹ خاور اظہر، چیف ٹیکنالوجی آفیسر ناصر اے نقوی،چیف فنانس آفیسر عثمان باجوہ، چیف ڈیجیٹل آفیسر عاطف ظریف اور چیف ہیومن ریسورس آفیسر طاہر مشتاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے.

  • اسلام آباد ہائی کورٹ کا انوکھا فیصلہ ، فائدہ کس ہوگا

    اسلام آباد :اسلام آباد ہائی کورٹ نےچھٹی کے دن فیصلے کرنے کے بعد ہونے والی تنقید کو ایشوکو سمیٹتے ہوئے کہاکہ اب ہفتے کے روز عام سائلین کے فوری نوعیت کے کیسز سنے جائیں گے، جس کے لیے 6 افسران کو تقرر کیا گیا ہے۔

    ٹرین حادثہ ، عثمان بزدارحیم یارخان پہنچ گئے ،اہم فیصلے !

    ذرائع کے مطقابق اس فیصلے کا اطلاق اصل میں کرپشن کیس میں گرفتار نواز شریف کی ہفتے کے روز درخواست ضمانت پر سماعت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ۔ فوری نوعیت کے کیسز میں عام سائلین بھی چھٹی کے روز عدالت سے رجوع کرسکیں گے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    ٹرین حادثہ ، عثمان بزدارحیم یارخان پہنچ گئے ،اہم فیصلے !

    جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ مجاز افسران دفتری اوقات کے بعد بھی عام سائلین کی سہولت کے لیے دستیاب ہوں گے اور ہنگامی صورت میں ایڈیشنل رجسٹرار نوٹیفکیشن پر دیئے نمبر پر ہر وقت دستیاب ہوں گے۔ مجاز افسران میں ڈپٹی رجسٹرار سلطان محمود، اسسٹنٹ رجسٹرار محمد اسد، اسٹنٹ رجسٹرار شیخ روہان، اسسٹنٹ رجسٹرار محمد عرفان، اسسٹنٹ رجسٹرار شاہد ندیم اور ارباب محمد امجد شامل ہیں.

    یونیورسٹی میں خواتین کے واش رومز میں کیمرے نصب ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے جاری کردہ اعلان کے مطابق نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قیدی کی جان کو شدید خطرہ ہونے پر دفتری اوقات کے علاوہ بھی سماعت کی جائے گی, ایسا کیس جس پر چیف جسٹس مطمئن ہوں کہ فوری نوعیت کا ہے وہ بھی چھٹی کے روز سنا جائے گا۔ عدالت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کو نوٹیفکیشن کی کاپی ہائیکورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

    جانا مقدرٹھہرگیا ، 255 افسران کی باری آگئی

  • وزیراعظم نوازشریف کی صحت کےلیے دعاگواورعلاج کے لیے دواچاہتے ہیں ،چیف جسٹس

    اسلام آباد : نواز شریف کی ضمانت کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا، حکم نامے پر چیف جسٹس اور جسٹس محسن اخترکیانی کے دستخط موجود ہیں۔اس تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کے بیمارہونے پر پریشان ، صحت کےلیے دعا گو ہیں اورعلاج کے لیے دواچاہتے ہیں ،وزیراعظم کو نوازشریف کی رہائی پر کوئی اعتراض نہیں

    ایک کھرب دس ارب ڈالر کا مالک ،بیوی کو خوش نہ کرسکا

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے نیئر رضوی ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پیش ہوئے، نیب کے بیورو کو عدالتی احکامات سے آگاہ کرایا گیا ہے، نیب نے نوازشریف کی ضمانت پر رضامندی ظاہر کی۔ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ ادارے میاں نوازشریف کی صحت کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں

    10 لاکھ سے زائد افراد کا حکومت مخالف احتجاج، کابینہ برطرف

    عدالت کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے مطمئن کرایا گیا، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو نوازشریف کی ضمانت پراعتراض نہیں ہے۔نوازشریف کی درخواست ضمانت کو منظور کرنے کا حکم دیتےہیں، نوازشریف کو دو ملین روپے،دو شخصی ضمانت کے عوض ضمانت دی جاتی ہے، ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس نوازشریف کے ضمانتی مچلکے جمع کرائے جائیں۔

    25 ہزارآنسوگیس شیل، 3 ہزار آنسو گیس بندوقیں، 40 ہزار ہیلمٹس، ایک لاکھ 5 ہزار ڈنڈے

    نوازشریف کی درخواست29اکتوبر کے لئے مقرر ہے، وزیراعلیٰ پنجاب29اکتوبرکو ذاتی طورپرپیش ہوں، وزیراعلیٰ پنجاب ڈیڑھ بجے ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ میں پیش ہوں۔ہائی کورٹ ذمہ داران سے اس سلسلے میں کچھ گزارشات کرناچاہتی ہے،

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے دوسرے تحریری حکم نامہ کے مطابق وفاقی، پنجاب حکومت سے قیدیوں سے متعلق پوچھا گیا تو انہیں معلوم نہیں تھا، یہ ساری چیزیں فیصلے میں موجود ہیں، وفاقی، پنجاب حکومت قیدیوں کی حدود سے متعلق رپورٹس دیں۔

    تمام قیدیوں کی بیماریوں اور دیگر مسائل سے عدالت کو آگاہ کیا جائے، حکومت اپنے آئینی اختیارات استعمال کرے، وفاقی وزیرداخلہ دو ہفتےمیں قیدیوں سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، وزیرداخلہ رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرارکے پاس جمع کرائیں۔