Baaghi TV

Tag: اسلام آباد

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ، نواز شریف نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، نواز شریف نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    مسلم لیگ ن کے صدر،سابق وزیراعظم نواز شریف نے ملکی سیاسی معاملات سے متعلق ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،

    اجلا س کے لیے ن لیگ کی مرکزی قیادت کو مری پہنچنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، اجلاس پیر کو مری میں ہو گا، ، نواز شریف ان دنوں مری میں موجود ہیں، نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ فیصلے پر آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا، اجلاس کے دوران اعظم نذیر تارڑ قیادت کو سپریم کورٹ فیصلے پر بریفنگ دیں گے،اجلاس میں ملکی سیاسی معاشی اور خارجی سطح کے معاملات پر غور ہو گا، وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور خواجہ آصف کی آمد متوقع ہے،اجلاس میں ایاز صادق، رانا ثنا اللہ اور احسن اقبال بھی شرکت کریں گے،وزیر اعظم قومی قیادت سے رابطوں پر پارٹی صدر کو بریفنگ دیں گے، ن لیگی صدر سیاسی،معاشی اورخارجی معاملات پر پارٹی گائیڈ لائن جاری کریں گے،

    دوسری جانب نواز شریف نے مری میں موجود پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی، اس دوران نواز شریف نے مخصوص نشستوں بارے کیس کے فیصلے پر بھی مشاورت کی ہے، نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کیس کا فیصلہ سنایا اور مخصوص سیٹیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا، سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر ن لیگ نے کئی شہروں میں احتجاج بھی کیا تھا،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ حکومت کو اس فیصلے سے کوئی خطرہ نہیں، طلال چودھری نے بھی فیصلے کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی، رانا ثناء اللہ نے بھی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، آج پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے.

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی اہم ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی اہم ملاقات

    اسلام آباد:امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم کی وزارت داخلہ آمد ہوئی ہے

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا خیر مقدم کیا،وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی اہم ملاقات ہوئی، ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں انسداد دہشتگردی، انسداد منشیات اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا،باہمی اشتراک سے اکتوبر میں لا انفورسمنٹ ڈائیلاگ کا انعقاد کیا جائے گا،وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادکار بڑھانے میں امریکی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے،باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں وزارت داخلہ بھر پور معاونت کرے گی، حالیہ دورہ نیویارک میں اسلام آباد پولیس اور نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے درمیان تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی، باہمی تعاون کے مواقع سے استفادہ کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کا وفد جلد نیویارک کا دورہ کرے گا، اسلام آباد پولیس کے افسران کو نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ٹریننگ کے خواہشمند ہیں۔ پاکستان میں مقیم تمام اقلیتوں کو آئین پاکستان کے تحت مساوی حقوق حاصل ہیں، اقلیتوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں ہر ممکن اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ جڑانوالہ سانحہ کے تمام ملزمان کو گرفتار کر کے قانوں کے سامنے پیش کیا گیا، امریکہ میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا انعقاد کامیاب رہا، بہترین انتظامات کئے گئے۔ امریکہ بین الاقوامی کرکٹ کی نئی منزل بنا ہے، پاکستان، امریکہ اور کینیڈا کی سہ ملکی سیریز اور امریکہ اور کینیڈا میں ایک کرکٹ لیگ کے انعقاد پر کام کر رہے ہیں،

    امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا کہنا تھا کہ شائقین کی بڑی تعداد دلچسپ اور سنسنسی خیز میچوں سے محظوظ ہوئی، وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم علی آغا، چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا اور آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی بھی اس موقع پر موجود تھے

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول کا معاہدہ طے

    آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول کا معاہدہ طے

    حکومت کیلئے اچھی خبر، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول کا معاہدہ طے پاگیا،

    معاہدے کی مدت 37ماہ اور مالیت7 ارب ڈالرز ہوگی، پاکستان کے ساتھ معاہدہ آئی ایم ایف ایگزیکٹوبورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں حکومت پر اہم شرائط عائد کی گئی ہیں، آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق حکومت کو ٹیکس ریونیو میں 1 اعشاریہ 5 فیصد اضافہ کرنا ہوگا، ریٹیل ، ایکسپورٹ اور زراعت کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا،صوبے اپنےذرائع سے ٹیکس بڑھانے کیلئے اقدامات کریں گے ، صوبوں کو خدمات پر سیلز ٹیکس اور زرعی انکم ٹیکس بڑھانا ہوگا ، اس حوالے سے قانونی پیچیدگیوں کو یکم جنوری 2025 سے پہلےختم کیا جائے گا

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے میکرو اکنامک استحکام لانے میں مدد ملے گی، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہمیں اسٹرکچرل ریفارمز یقینی بنانے کی ضرورت ہے، پبلک فنانس، توانائی اور حکومتی اداروں کے ایریاز میں خود انحصاری لانے کی ضرورت ہے، آئندہ سالوں میں اسٹرکچرل ریفارمز لائیں گے۔

  • 2015 سے اب تک پی آئی اے نے 500 ارب کا خسارہ کیا،قائمہ کمیٹی میں بریفنگ

    2015 سے اب تک پی آئی اے نے 500 ارب کا خسارہ کیا،قائمہ کمیٹی میں بریفنگ

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلال بدر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت نجکاری اور اس کے ماتحت اداروں کی مجموعی کارکردگی اور کام کے طریقہ کار کے علاوہ وزارت نجکاری سے آئندہ ایک سال کے نجکاری پروگرام کی تفصیلات کے امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلال بدر نے اراکین کمیٹی اور وزارت کے نمائندوں کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کمیٹی اور وزارت کے ساتھ مل کر ملک کی معیشت کی بحالی اور نجکاری کے عمل کو شفاف سے شفاف تر بنانے کے لئے لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزارت واحد امید ہے جو اگر احسن طریقے سے نجکاری کے عمل پر عملدرآمد کرے تو ملکی معیشت بھنور سے نکل سکتی ہے۔ حکومتیں بزنس نہیں کرتی بلکہ اداروں کو ریگولیٹ کرتی ہیں اور یہ حکومت کا اولین فرض ہوتا ہے کہ وہ ادرے جو قومی نقصان کا سبب بن رہے ہوں ان کو ترقی کی جانب گامزن کر سکے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس کے لئے موثر لائحہ عمل اختیار کرے اور ملک کو نقصان سے بچایا جا سکے تاکہ ملک میں نئے ہسپتال، سکول اور ایسے ادارے قائم کیے جا سکیں جن سے ملک و قوم کو فائدہ ہوا۔ ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا جس میں شفافیت یقینی بنا کر اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

    اراکین کمیٹی نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلال بدر کو چیئرمین کمیٹی منتخب ہونے مبارکباد پیش کرتے ہوئے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں گے۔
    نجکاری ڈویژن میں 82 اسامیاں ہیں جن میں سے 17 خالی
    سیکرٹری وزارت نجکاری نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نجکاری کے امور میں شفافیت کا پہلو نہ صرف حکومت اورملک کے لئے اہم ہوتا ہے بلکہ اس سے عوام کی حالت زار بھی بہتر ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت سے منظور شدہ نجکاری پروگرام کو شفافیت کے ساتھ عملی جامہ پہنانا اس ادارے کا کام ہے۔ ادارے کاکام نجکاری کے حوالے سے پالیسیز بنانا ہے جو نجکاری بورڈ میں پیش کی جاتی ہے۔ نجکاری بورڈ سفارشات وفاقی کیبنٹ میں پیش کرتا ہے اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس پر عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری ڈویژن میں 82 اسامیاں ہیں جن میں سے 17 خالی ہیں۔ گریڈ17 اور اس سے اوپر کی کل12 اسامیاں ہیں۔ گریڈ1 سے16تک 70 اسامیاں ہیں۔ نجکاری کمیشن میں 143 پوسٹیں ہیں جن میں سے 20 خالی ہیں۔24 گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی اسامیاں ہیں اور 119 گریڈ 1 سے16 کی اسامیاں ہیں۔

    کتنے منصوبوں کی نجکاری کے لئے کتنی بار کوشش کی گئی اور ان پر کتنا خرچ ہوا؟ تفصیلات طلب
    قائمہ کمیٹی کو نجکاری ڈویژن اور نجکاری کمیشن کے بجٹ کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کو بجٹ حکومت کی جانب سے دیا جاتاہے۔ نجکاری کمیشن کو فنڈ دو ذرائع سے ملتا ہے۔ وفاقی کی بجٹ کی گرانٹس اور نجکاری فنڈ کے ذریعے رقم آتی ہے۔ قائمہ کمیٹی کو نجکاری کمیشن کے قیام بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا اور دیگر پالیسی فریم ورک اور فنگشنز بارے بھی آگاہ کیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کا ایک بورڈ ہے جس کا ایک چیئرمین اور 8 ممبران ہوتے ہیں۔ نجکاری پر ایک کیبنٹ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس کے چیئرمین وزیر خارجہ امور ہوتے ہیں اور اس کے ممبران میں وزیر خزانہ، وزیر تجارت، وزیر توانائی، وزیر صنعت وپیداوار اور وزیر نجکاری شامل ہوتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کے پاس حکومت کی جانب سے اختیار ہوتا ہے کہ وہ رولز بنائیں۔ قائمہ کمیٹی کو بنائے گئے مختلف رولز کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ وزارت نجکاری کا ایک نجکاری کمیشن بھی بنایا گیا ہے۔ کمیشن کا بجٹ 8 ارب کا ہے جبکہ وزارت کا بجٹ کم ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری پبلک اوفرننگ کے تحت ہو رہی ہے اور نجکاری کیے جانے والے اداروں میں متعلقہ وزارتوں سے رائے بھی لی جاتی ہے اور بورڈ میں ان منصوبوں کی نمائندگی کے لئے وزارت کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیاکہ فنانشنل ایڈوائز ہائیر کرنے پر بہت خرچ ہوتاہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو گزشتہ پانچ برسوں کا بجٹ، اخراجات سے متعلقہ تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ 15 برسوں میں کوئی بڑی ٹرانزکشن نہیں کی گئی۔یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ پاکستان ا سٹیل ملز کو نجکاری سے نکالا دیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فنانشنل ایڈوائرز پر آج تک جتنا خرچہ ہوا ہے اور وہ کام پورا کیے بغیر چلے گئے ہیں ان کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کتنے منصوبوں کی نجکاری کے لئے کتنی بار کوشش کی گئی اور ان پر کتنا خرچ ہوا کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔گزشتہ 15 سالوں میں کتنے فنانشنل ایڈوائز رکھے گئے اور ان پر کتنا خرچہ آیا ہے آگاہ کیا جائے۔ سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ جب فنانشل ایڈوائز نے کام ٹھیک نہیں کیا تو کیا ان سے ریکوری کر سکتے ہیں۔

    نجکاری کیلئے 84 اداروں کی نشاندہی،24 کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا
    قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کل 84 اداروں کی مختلف وزارتوں میں نجکاری کے لئے کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں 24 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور 41 کیبنٹ کے پاس ہیں۔24 اداروں میں سے 4 ادارے جن میں پی آئی اے کمپنی لمیٹیڈ، روزویل ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹیڈ، فرسٹ وویمن بینک لمیٹیڈ کی نجکاری امید ہے اسی سال مکمل ہو جائے گی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کا عمل 1 سے 5 سال کے دوران تین مراحل میں مکمل ہوگا۔ نجکاری کا عمل قانونی تقاضوں کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے نقصان زدہ سرکاری اداروں کے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ کچھ ادارے منافع میں ہیں ان کی نجکاری کیوں کی جارہی ہے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ابھی منافع کم ہورہا ہے نجکاری کے بعد منافع بڑھ جائے گا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ فرسٹ ویمن بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس، پی آر سی ایل اور سٹیٹ لائف منافع بخش ادارے ہیں۔ 9 بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی پانچ سال میں نجکاری کی جائے گی۔ تین بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی اسی سال ہو جائے گی۔

    پی آئی اے کارپوریشن لمیٹیڈ، روزویلٹ ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری اسی سال ہوگی
    سیکرٹری نجکاری ڈویژن نے کہا کہ پی آئی اے کارپوریشن لمیٹیڈ، روزویلٹ ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری اسی سال ہوگی۔پی آئی اے نے 800 ارب روپے کے واجبات ادا کرنے ہیں۔ پی آئی اے کو حکومت ہر سال 100 سے 125 ارب دیتی ہے۔ بینکوں کے 260 ارب روپے پی آئی اے کے ذمہ واجب الادا ہیں جن میں بینک آف پنجاب، سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، حبیب بینک،نیشنل بینک سمیت 9 بینکوں کے پیسے ہیں۔پی ایس او کے 20 ارب روپے اور سول ایوی ایشن 120 ارب روپے کے بقایاجات ہیں، سیکرٹری نجکاری کمیشن کمیٹی کو بتایا کہ ہمارا یہ ہدف ہے پی آئی اے کیلئے 6 بڈرز میں سے زیادہ سے زیادہ بڈنگ آئیں۔پی آئی اے کے کل اثاثے 160 ارب روپے کے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری میں اتنے بڑے واجبات کی وجہ سے کمپنیاں دلچسپی نہیں لے رہی تھیں۔ دنیا بھر میں یہی ہوتا ہے کہ کسی بھی سرکاری کمپنی کے واجبات حکومت اپنے ذمہ لے لیتی ہے تاکہ اس کی نجکاری ہو سکے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 600 ارب کی ادائیگی پی آئی اے کمپنی لمیٹیڈ سے نکال دی گئی ہے اور اس کو کور اور نان کور میں تقسیم کرکے وید ہولڈنگ کمپنی میں تبدیل کر دیا ہے۔600 ارب وید ہولڈنگ کمپنی میں جائیں گے اور 200 ارب کور کمپنی میں رہ جائیں گے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2015 سے اب تک پی آئی اے نے 500 ارب کا خسارہ کیا۔ پی آئی اے نے 25 فیصد سالانہ شرح سود سے قرض حاصل کیا تھا بینکوں سے بات کر کے اسے 12 فیصد پر لایا گیا ہے۔ روز ویلٹ ہوٹل کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔ بورڈ اس کی تجاویز تیار کر کے وفاقی کیبنٹ کو پیش کرے گا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے فرسٹ ویمن بینک میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔وفاقی کابینہ نے فروری 2024 میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ماڈ ٹرانزیکشن کی منظوری دی ہے۔نجکاری کمیشن نے نجکاری کے عمل کو جی ٹو جی بنیاد پر آگے بڑھانے کا آغاز کردیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے تکنیکی کنسلٹنٹ ہائرکرلیا گیا ہے اور ٹیکنیکل کنسلٹنٹ ستمبر 2024 تک پلان شیئر کرے گا۔رکن کمیٹی سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے کہا کہ نجکاری کے عمل کے لئے وزارت نے کتنا ریسرچ ورک کیا ہے اور کتنے فیصد ٹارگٹ حاصل کیا ہے اس کی تفصیل فراہم کی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت نجکاری سے نجکاری کی لسٹ میں شامل اداروں کی تفصیلات کا ڈیٹا بھی طلب کرلیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک کی جو معاشی حالت ہو گئی ہے لوگوں کی نظریں حکومت پر ہیں کہ ان نقصان دینے والے اداروں کے حوالے سے موثر فیصلہ کریں تاکہ ملک مزید خسارے سے نکل کر ترقی و خوشحالی اور استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر زبلال احمد خان، خالدہ اطیب، فیصل سلیم رحمان، خلیل طاہر، محسن عزیز، محمد قاسم، ندیم احمد بھٹو کے علاوہ سیکرٹری وزارت نجکاری، سیکرٹری نجکاری کمیشن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    مخصوص نشستوں بارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کا ردعمل سامنے آیا ہے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ،نظر ثانی کی درخواست سے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتے،ہمارے پاس اب بھی 209 ارکان ہیں ،فیصلہ ابھی پورا نہیں دیکھا، حکومت نظرثانی کی درخواست دائر کرے گی یا نہیں یہ ابھی نہیں بتا سکتا،سُنی اتحاد کونسل کو یکسر ایکطرف کردیا گیا، پی ٹی آئی تو ریلیف مانگنے نہیں آئی تو اُن کو ریلیف دے دیا گیا،سپریم کورٹ کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے لیکن اب یہ معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا ہے،آئین کی تشریح کرنا تو عدالت کا کام ہے لیکن ادھر تو آرٹیکل 51 اور 106کو ری رائٹ کردیا گیا ہے، میرے لئے اس کو ہضم کرنا مشکل نظر آرہا، سنی اتحاد کونسل نے نشستیں مانگیں تھیں لیکن پی ٹی آئی کو دے دی گئیں،قانون کا منشا ہے سپریم کورٹ 185 میں کسی کیس کا جائزہ لیتا ہے تو عدالت لوئر کورٹ کے فیصلے تک ہی محدود ہوتی ہے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے میں تحریک انصاف نہیں تھی ، اسمبلیوں میں 80 فیصد اراکین اسمبلی عدالت کے سامنے نہیں تھے، قانون یہ کہتا ہے کہ کسی کو نوٹس کئے بغیر ،سنے بغیر فیصلہ نہیں ہو سکتا.سپریم کورٹ نے ازخود اخذ کیا کہ قومی اسمبلی کے اسی ارکان پی ٹی آئی کے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے، وہ آزاد تھے، جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح کی بجائے اُسے دوبارہ لکھ دیا ہے-

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے،پی ٹی آئی نے خود عکس کیا 80کے قریب اراکین ہیں،39لوگوں نے کسی نہ کسی مرحلے میں لکھا کہ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے،اچھے فیصلے وہ ہوتے ہیں جن پر لب کشائی نہ ہو، ہمارے 2018والے سینیٹ اراکین کے آگے آج بھی آزاد لکھا ہوا ہے،مختصر فیصلے سے سمجھ آیا ہے کہ ریلیف مانگنے سنی اتحاد کونسل آئی تھی،
    جوجماعت غیر مسلموں کو اپنا رکن تصور نہیں کرتی وہ ان کی سیٹ کیسے لے گی،محسوس ہوتا ہے آرٹیکل 51اور106کی تشریح کے بجائے انہیں دوبارہ تحریر کردیا گیا،اکثریتی ججز نے شاید سیاسی اور سوشل میڈیا کےدباؤ کے تحت فیصلہ دیاہے آئین اور قانون کے مطابق نہیں،

    فیصلے کے وقت وزیراعظم اور وزرا ایوان صدر میں موجود تھے ،وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیردفاع کو ان کی سیٹ پر فیصلے پر بریفنگ دی،

    وزیراعظم کے معاون خصوصی، ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلےکو تسلیم کرتی ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ اکثریتی ہے،قانونی ٹیم فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے ،پی ٹی آئی کو وہ ریلیف دیاگیا جومانگاہی نہیں گیاتھا،

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

  • سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ کی جانب سےمخصوص نشستوں کا فیصلہ آنے پر تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے چیف الیکشن کمشنر سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ذمہ داری پوری نہیں کی، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چیف الیکشن کمشنر فوری استعفیٰ دیں،آج عمران خان کی جیت ہے اور آج کا دن عمران خان کے نام ہے۔

    خوشی کا دن ہے، ہم درخواست کرتے ہیں کہ نوافل ادا کریں ،بیرسٹر گوہر
    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ آج محب وطن پاکستانیوں کیلئے خوشی کا دن ہے، نوافل ادا کریں، فیصلہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، پریکٹیکلی 11 ججز نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا ہے،آج پورے ملک کے لئے ،جمہوری قوتوں کے لئے خوشی کا دن ہے، ہم درخواست کرتے ہیں کہ نوافل ادا کریں اور رب کا شکر ادا کریں، ان شاء اللہ ہمارا حق ہمیں مل گیا، یہ وہی حق تھا جس کے لئے ہم کہتے چلے آ رہے تھے کہ ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، آج 11 ججز نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا،اور کہا کہ تحریک انصاف ان نشستوں کی حقدار ہے، یہ سیٹیں واپس تحریک انصاف کو ہی ملیں گی،

    عدالتی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے جشن منایا گیا اور عمران خان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے،لاو ترازو تول کے دیکھو ساڈا بلہ بھاری اے، کے نعرے لگائے گئے تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل بھی نعرے لگانے والوں میں شامل تھیں،

    تحریک انصاف کا سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے بعد ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے تحریک انصاف کی سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر کٹھ پتلی الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کرے۔

    مخصوص نشستوں کی واپسی سے پی ٹی آئی کو اس کا حق واپس مل گیا ‘ مسرت جمشید چیمہ
    تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کی واپسی کی صورت میں پی ٹی آئی کو اس کا حق واپس مل گیا ہے ،عدالتی فیصلے سے واضح ہو گیا کہ الیکشن کمیشن نے کسی کی ایماء پر پی ٹی آئی کے حق پر ڈالا تھا ۔ اپنے بیان میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ ساری قوم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ، اگر پاکستان کو گھمبیر مسائل کی دلدل سے باہر نکالنا ہے تو آئین و قانون کے مطابق چلنا ہوگا ۔پی ٹی آئی نئے عزم اور جذبے کے ساتھ عوامی حقوق کے لئے جاری جدوجہد کو آگے برھائے گی اور ان شا اللہ فتح حق اور سچ کی ہو گی ،پی ٹی آئی کے اراکین ایوانوں کے اندر اور باہر عوام کے حقوق کی آواز بلند کریں گے ۔آنے والے دنوں میں نئی جدوجہد شروع ہونے جارہی ہے جس سے اتحادی حکومت کی بنیادیںلرز جائیں گی ۔

    سُپریم کورٹ اُس پارٹی کو عوام میں دوبارہ لائی جس کو عوام نے ووٹ دیا تھا،کنول شوذب
    تحریک انصاف کی رہنما کنول شوذب کا کہنا تھا کہ آج اللہ کی طرف سے مدد آئی ہے، سُپریم کورٹ اُس پارٹی کو عوام میں دوبارہ لائی ہے جس عوام نے اُسے ووٹ دیا تھا،الیکشن کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے، سلمان اکرم راجہ ہماری آواز بنے، سپریم کورٹ میں کیس لڑا، آج کا فیصلہ پی ٹی آئی کی جیت ہے، پی ٹی آئی کو سیٹیں مل جائیں گی،انصاف کا بول بولا ہوا ہے آج، خواتین کو انکا حق مل گیا،

    عدت نکاح کیس میں بھی پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ آئے گا،زرتاج گل
    تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کا کہنا تھا کہ کل عدت نکاح کیس میں بھی پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ آئے گا، آج سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ ختم کی ہے،بشریٰ بی بی کے ساتھ عدت جیسا کیس گھٹیا ترین کیس ہے، خواتین یکجہتی کے لئے عدالت آتی ہیں، ہم پورا دن عدالت بیٹھے ہیں، ہمیں امید ہے کہ یہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا، جن لوگوں نے بشریٰ بی بی پر گھٹیا کیس بنایا سیاسی دشمنی کی بنا پر انکو بھی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کی خواتین بشریٰ بی بی کے ساتھ ہیں،آج سپریم کورٹ سے بھی عمران خان کی جیت ہوئی ہے، عمران خان کی پارٹی جیت گئی ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دے دیا ہے۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

  • مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا سنی اتحاد کونسل کے حق میں فیصلہ،ملک آئینی بحران سے دوچار ہو گیا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا ہے. جس کے مطابق مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل کی درخواست منظور کر لی گئی ہے اور مخصوص سیٹیں تحریک انصاف کو دینے کا فیصلہ دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے اس فیصلے نے قانونی ماہرین کے مطابق آئینی بحران پیدا کردیا ہے – قانونی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ آئین سے تجاوز کے مترادف ہے- اب آئین کی شق 51 ڈی کی بھی ترمیم کرنا پڑے گی کیونکہ سنی اتحاد کونسل وہ جماعت ہے جس نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا نہ ہی ان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کیلئے درخواست جمع کرائی گئی- نہ ہی ان کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کیلئے کوئی درخواست آئی اور سب سے بڑھ کر سنی اتحاد کونسل اقلیتوں کو ٹکٹ ہی جاری نہیں کرتی نہ ہی ان کی جماعت میں کوئی اقلیتی رکن ہے لہٰذا ایسا کرنے سے آئینی بحران آئے گا۔

    آزاد حیثیت سے منتخب ارکان پارلیمنٹ کو مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعت کا درجہ نہیں مل سکتا۔قانونی حلقے
    قانونی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے میں، سپریم کورٹ کو آئین کی پیروی کرنی چاہئے تھی نہ کہ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا کسی جماعت کی نام نہاد مقبولیت یا دباؤ میں آ کر فیصلہ کیا گیا.یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کو کسی بھی قانون کے مطابق مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے ایک سیاسی جماعت کا درجہ نہیں مل سکتا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے مخصوص سیاسی جماعت سوشل میڈیا پر ایک مدت سے متحرک تھی اور سماعت کے دوران ججز کے دیئے جانے والے ریمارکس کو تروڑ مروڑ کر ایسے پیش کیاجا رہا تھا جیسے ان کے ساتھ بے انصافی کی گئی ہے اور اب یہ فیصلہ ان کے حق میں ہی آنا چاہیے تھا – یہ مخصوص سیاسی جماعت کا پرانا وطیرہ ہے اس طرح کے حربے استعمال کرکے وہ ایک جانب فضا قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری جانب ججز کو بھی دباؤ میں لاتے ہیں جس کا نتیجہ آج سامنے آگیا ہے.

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

  • سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کامخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا
    مخصوص نشستوں کے کیس کا تحریری مختصر فیصلہ جاری کر دیا گیا،سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ 17 صفحات پر مشتمل ہے ،فیصلے میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس امین الدین کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں،فیصلے میں تحریک انصاف کے قرار دیے گئے 39 ارکان اسمبلی کی فہرست بھی شامل ہے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرار دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار م ، پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ میلہ ،شفقت اعوان، علی افضل ساہی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،خرم شہزاد ورک ، لطیف کھوسہ، رائے حسن نواز ، تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،عامر ڈوگر ،زین قریشی ، رانا فراز نون، صابر قریشی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،اویس حیدر جھکڑ، زرتاج گل، بھی تحریک انصاف کے ارکان قرار دیئے گئے،آزاد ارکان قرار دئیے گئے ارکان میں علی محمد خان، شہریار آفریدی ،انیقہ مہدی شامل ہیں،احسان اللہ ورک ، بلال اعجاز ، عمیر خان نیازی ، ثناء اللہ خان مستی خیل بھی آزاد ارکان قرار پائے،پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرا ر دیئے گئے، بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار دیئے گئے،انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار پی ٹی آئی کے ارکان قرار دیئے گئے،اسامہ حمزہ ، صاحبزادہ محبوب سلطان ، وقاص اکرم شیخ ، بھی آزار ارکان قرار دیئے گئے،میاں محمد اظہر ، سید رضا علی گیلانی ، جمشید دستی ، خواجہ شیراز آزاد ارکان قرار دیئے گئے

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے کے ساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے، چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کےاختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی یا اس کے کسی رہنما نے آزاد رکن قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کہیں چیلنج نہیں کیا،تاہم اس حقیقت کے پیش نظر درخواستیں انتخابی کاروائی کا تسلسل ہے اس لیے عدالت کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دینے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے،آئین کا آرٹیکل 51(1)(ڈی) خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا ضامن ہے،جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لینے والے دن تک کوئی اور ڈیکلیریشن جمع نہیں کرایا وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہیں،لہٰذا الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ شامل کر کے مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،ایسے امیدوار جنہوں نے 24 دسمبر 2023 تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور انہوں نے خود کو آزاد یا کسی دوسری جماعت کے ساتھ وابستگی کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا وہ آزاد تصور ہوں گے،سنی اتحاد کونسل ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے آزاد ارکان کو حق حاصل ہے کہ وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوں سکیں، جن لوگوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی ہے وہ اپنی رضامندی سے سنی اتحاد میں شامل ہوئے،

    تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 8/5 کی اکثریت سے ہے، فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے وہ فیصلہ سنائیں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انتخابی نشان کے چھینے سے کسی سیاسی جماعت کو انتخابات لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا ،تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور رہے گی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی، پی ٹی آئی کو عورتوں اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملیں گی،دیگر جماعتوں کو ملنے والی مخصوص نشستیں واپس لے لی گئیں ہیں جن 39 امیدواروں نے پی ٹی آئی سے وابستگی دکھائی وہ پی ٹی آئی کے ہی ہیں ،تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدار ہے، وہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو لسٹ جمع کرائے، سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں دی جائیں گی۔ نشستیں صرف پاکستان تحریک انصاف کو ملیں گی،پی ٹی آئی 15 روز میں مخصوص نشستوں کی فہرست دے،الیکشن کمیشن نے 80 ارکان کی فہرست پیش کی ہے ،80 میں سے 39 ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا ،باقی 41 ارکان آئندہ 15 دنوں میں اپنی پوزیشن واضح کریں کہ وہ کس جماعت کا حصہ ہیں

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بطور پی ٹی آئی قرار دے دیا اور سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں مسترد کر دیں،عدالت نے کہا کہ دیگر 41 امیدوار بھی 14 دن میں سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں کہ وہ سنی اتحادکونسل کے امیدوار تھے، سنی اتحاد کونسل آئین کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی، پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت قانون اور آئین پر پورا اترتی ہے

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شاہد وحید، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت نے اکثریتی فیصلہ سنایا۔

    فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل نے درخواست کی مسترد
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فاٸز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین خان نے درخواستوں کی مخالفت کی جبکہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے قانون کے مطابق پروسیس مکمل نہیں کیا درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کی.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کا یکم مارچ کا آرڈر برقرار رہے گا،

    الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ارکان کو نکال کر فیصلہ دیا، اس بنیاد پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، الیکشن کمیشن نے غلط طور پر پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کیا، پی ٹی آئی نے آزاد قرار دیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج ہی نہیں کیا،الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، الیکشن کمیشن دوبارہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے، اب پی ٹی آئی کے منتخب ارکان یا خود کو آزاد یا پی ٹی آئی ڈیکلیئر کریں، پی ٹی آئی ارکان پر کسی قسم کا دباو نہیں ہونا چاہیے۔

    چیف جسٹس قاضی فاٸز عیسی اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں مصنوعی الفاظ کا اضافہ نہیں کر سکتی، آئین کی تشریح کے ذریعے نئے الفاظ کا اضافہ کرنا آئین پاکستان کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کےفیصلے کی غلط تشریح کی،

    جسٹس امین الدین خان نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل مسترد کرتے ہیں، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ میں بھی جسٹس امین الدین خان کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں جسٹس جمال خان مندوخیل کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں ،چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کوئی ایک نشست بھی نا جیت سکی، سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی جمع نہیں کرائی، آئین نے متناسب نمائندگی کا تصور دیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے فیصلہ سنایا، اس موقع پر سپریم کورٹ کےباہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے،سپریم کورٹ کے باہر قیدیوں والی گاڑیاں موجود تھی، پولیس الرٹ تھی،سپریم کورٹ کی جانب جانے والے راستے بند اور عام شہریوں کا داخلہ بند کردیا گیا تھا، تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان،سردار لطیف کھوسہ اور کنول شوذب بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سلمان اکرم راجہ،بیرسٹر گوہر علی خان, شبیر قریشی اور ثناءاللہ مستی خیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کمرہِ عدالت وکلاء، رہنماؤں اور صحافیوں کی بڑی تعداد سے بھر گیاتھا،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد دو دن فل کورٹ مشاورتی اجلاس بلایا تھا جس کے بعد گزشتہ روز پہلے کہا گیا تھا کہ تین رکنی بینچ فیصلہ سنائے گا پھر کاز لسٹ جاری کی گئی کہ فل کورٹ فیصلہ سنائے گی،سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنیوالے فل کوٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں.

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں،31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں،سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    جمعہ کا دن،کئی عدالتی فیصلے،ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلاکر رکھ دیا
    پاکستان کی ملکی سیاست میں جمعہ کا دن انتہائی اہم رہا، جمعہ کے دن کئی عدالتی فیصلے ہوئے جنہوں نے ملکی سیاست ہی نہیں اقتدار کے ایوانوں کو بھی ہلایا،20 جولائی 2007 جمعہ کے روز سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی ہوئی تھی،31 جولائی 2009 بروز جمعہ ،ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا،28 جولائی 2017 بروز جمعہ،پانامہ لیکس کیس میں‌سابق وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا تھا،15 دسمبر 2017 بروز جمعہ، جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا تھا،13 اپریل 2018 بروز جمعہ، نواز شریف اور جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا،6 جولائی 2018،ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں نواز شریف، مریم نواز،کیپٹن ر صفدر کو سزا سنائی گئی تھی،

    شریف برادران اور مسلم لیگ ن کے لئے جمعہ کا دن بھاری رہتا ہے، پانامہ کیس کے فیصلے سے تاحیات نااہلی کے فیصلے تک سب جمعہ کو سنائے گئے، پانچ مئی 2017 بروزجمعہ پاناما جے آئی ٹی بنی۔ اٹھائیس جولائی بروز جمعہ نواز شریف نااہل ہوئے۔ پندرہ ستمبر بروز جمعہ نظر ثانی کی درخواست خارج ہوئی۔ تیرہ اپریل کو نواز شریف تاحیات نا اہل ہوئے .ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ جمعہ چھ جولائی دوہزار اٹھارہ کو سنایا گیا جب عدالت نے نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اورداماد کیپٹن قید کی سزا کا حکم سنایا۔ا س سے پہلے اصغر خان کیس میں نوازشریف اور دیگر کیخلاف تحقیقات کا حکم بھی انیس اکتوبر 2012 بروز جمعے کو ہی جاری ہوا تھا.

    تحریک انصاف کا سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے بعد ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے تحریک انصاف کی سیٹیں دیگر جماعتوں میں بانٹنے پر کٹھ پتلی الیکشن کمیشن کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کرے۔

  • سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ قوم کو فیصلے سے راستہ ملنا چاہئے،بابر اعوان

    سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ قوم کو فیصلے سے راستہ ملنا چاہئے،بابر اعوان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ساری گھمبیر صورتحال سے نکلنے کے لیے پاکستان کو عدم استحکام کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور الیکشن کمیشن کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے، عمران خان بار بار دہرا رہے ہیں کہ دوبارہ الیکشن کروایا جائے، ایک چوری شدہ الیکشن کے تحت لوگوں کو حکومت سے نوازا گیا،الیکشن کمیشن نے سیٹوں کے معاملے میں جو زیادتی کی اس پر سپریم کورٹ کو کاروائی کرنی چاہیے، سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ قوم کو فیصلے سے راستہ ملنا چاہئے، ہم جہاں بھی جاتے ہیں لوگ پوچھتے ہیں کہ عمران کب آئے گا، عمران آئے گا تو ہی استحکام آئے گا، انسانی حقوق، معیشت کے ادارے بھی اب بولنا شروع ہوگئے ہیں،

    واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ آج 12 بجے سنایا جائے گا، 13 رکنی فل کورٹ فیصلہ سنائے گی، تحریک انصاف کے رہنما سپریم کورٹ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • جماعت اسلامی نے 12 جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والا دھرنا مؤخر کر دیا

    جماعت اسلامی نے 12 جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والا دھرنا مؤخر کر دیا

    جماعت اسلامی نے 12 جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والا دھرنا مؤخر کر دیا
    ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق عاشورہ اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر عوامی دھرنا اب 26 جولائی سے ھوگا۔گزشتہ روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے رابطہ کر کے دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نےمنصورہ میں پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ مہنگی بجلی اور بھاری ٹیکسز کے خلاف 12 جولائی کو ہونے والا دھرنا عاشورہ کے پیش نظر اب 26 جولائی کو ہوگا۔ 12 جولائی ملک گیر احتجاجی کیمپ اور 14 جولائی ملک گیر احتجاجی دھرنے ہوں گے۔علماء کرام کی درخواست اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر جماعت اسلامی کا دھرنا اب عاشورہ کے بعد 26 جولائی کو ہوگا ۔

    فیصل آباد میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ڈی چوک اسلام آباد میں بجلی بلوں میں ظالمانہ ٹیکسوں،اوور بلنگ اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہونے والے عوامی دھرنے کی تیاریوں اور رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے جامع چشتیہ چوک،فیضان مدینہ چوک،گیٹاں والا چوک،اڈامدن پورہ،سمانہ پل، سدھار،ملت ٹاؤن،مچھلی فارم ستیانہ روڈ،موچی بازار جھمرہ سمیت شہرکے مختلف علاقوں میں دھرناآگاہی کیمپ لگائے۔ ضلعی امیر پروفیسرمحبوب الزماں بٹ نے کیمپوں کا دورہ کر کے کارکنوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا۔اس موقع پر کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں عوامی حقوق کی جدوجہد کاآغازکردیاہے عوام کو بنیادی حقوق ملنے تک تحریک جاری رہے۔ آئی ایم ایف سے کیے گئے خفیہ معاہدے قوم کے سامنے لائے جائیں۔ ظالمانہ ٹیرف، سلیب سسٹم اور آئی پی پیز معاہدے ختم کیے جائیں۔ عوام کو سولر سسٹم نہیں ڈائریکٹ ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ن لیگ اقتدار میں آتی ہے تو بڑے پروجیکٹس کے نام پرنئے نئے کاروباری دھندوں کا آغاز کرتی ہے۔ عوام کو ریلیف نہیں پہنچتا، حکومت جعلی پبلسٹی کے لیے اربوں کے اشتہارات دینا شروع کردیتی ہے۔ پی ڈی ایم ون کے دور میں شہباز شریف نے 200 یونٹ تک مفت بجلی دینے کا اعلان کیا تھا، اشتہارات جاری ہوئے، آئی ایم ایف کے دباؤ پر مکر گئے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے ظالمانہ معاہدے فی الفور مذاکرات کرکے ختم کیے جائیں، تنخواہ داروں پر ٹیکسز واپس لیے جائیں، بجلی کا ٹیرف کم کیا جائے، ظلم و ناانصافی کو قبول نہیں کریں گے، نالائقی حکمرانوں کی ہو اور سزا عوام بھگتیں، ایسا نہیں چلے گا۔ بجلی موجود ہے تو لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے، لائن لاسز اور چوری روکی جائے، جو رقم ٹرانسمیشن سسٹم کو بہتر بنانے میں لگنی چاہیے وہ آئی پی پیز کو جارہی ہے۔ عوام کو خیرات نہیں حق چاہیے۔