Baaghi TV

Tag: اسپین

  • اسپین اسرائیل تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی

    اسپین اسرائیل تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی

    گزشتہ دنوں غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ایک فلوٹیلا کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا تھا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد اسپین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی ،حراست میں لیے گئے افراد میں ہسپانوی نژاد فلسطینی کارکن سائف ابو کشک بھی شامل ہیں جبکہ سپین اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے یورپی یونین کو باضابطہ درخواست پیش کرے گا۔

    اسپین کے وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر سائف ابو کشک کو رہا کرے ابو کشک کو برازیل کے کارکن تھیاغو آویلا کے ساتھ اسرائیل کے جنوبی شہر اشکلون میں حراست میں رکھا گیا ہے قانونی امدادی تنظیم “لیگل سینٹر فار عرب مائنارٹی رائٹس اِن اسرائیل (عدالہ)” کے مطابق دونوں افراد نے حراست کے دوران بھوک ہڑتال شروع کر دی ہےانکے نمائندوں نے دونوں کارکنوں سے ملاقات کی، جنہوں نے الزام لگایا کہ انہیں حراست کے دوران مار پیٹ، آنکھوں پر پٹی اور تنہائی میں رکھنے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان پر ممکنہ طور پر حماس سے روابط کے الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے وزارت نے یہ بھی کہا کہ انہیں قونصلر ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔

    اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسپین اپنے شہریوں کا تحفظ کرے گا، بین الاقوامی قانون کی پاسداری جاری رکھے گا، اور اسرائیل سے ہسپانوی شہری کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ اسپین اور اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی غزہ جنگ کے حوالے سے شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور مسلسل اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتا رہا ہے-

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اسرائیل کی ممکنہ شرکت،اسپین کی بائیکاٹ کی دھمکی

    فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اسرائیل کی ممکنہ شرکت،اسپین کی بائیکاٹ کی دھمکی

    اسپین نے 2026 کے فیفا ورلڈ کپ میں اسرائیل کی ممکنہ شرکت کی صورت میں ایونٹ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

    ہسپانوی حکومت اور وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف، عالمی کھیلوں میں اسرائیل کی شمولیت پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ سخت موقف اپنایا ہے ، وزیراعظم نے کھیلوں کے میدان میں اسرائیل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    انہوں نے یہ مطالبہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات اعور مظالم کی وجہ سے کیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل 2026 ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو اسپین دستبردار ہو سکتا ہے یہ مطالبہ اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے،اسپین کے وزیراعظم نے اس معاملے کا موازنہ روس سے کیا جس پر یوکرین پر حملے کے بعد فیفا اور یوئیفا نے پابندی لگا دی تھی-

    یاد رہے کہ اسپین نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے اسرائیل پر ہتھیاروں کی فراہمی سمیت مختلف پابندیوں کا اعلان کیا تھا، اسپین خود کو ایک مضبوط فٹ بال طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے اور 2030 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بھی سرگرم ہے جبکہ اسپین فیفا کی رینکنگ میں نمبر ون پر ہے-

  • ایران جنگ میں ہرگز شریک نہیں ہوں گے، اسپین نے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیا

    ایران جنگ میں ہرگز شریک نہیں ہوں گے، اسپین نے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیا

    اسپین کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران پر امریکی فوجی حملوں میں تعاون نہیں کرے گی، جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس کے تعاون کا دعویٰ کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرو لائن لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے اس بات کا دعویٰ انہوں نے صحافیوں کو ایک طویل بریفنگ میں دیا۔

    ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ان کے خیال میں اسپین نے صدر ٹرمپ کے گزشتہ روز کے پیغام کو واضح طور پر سن لیا ہے اور گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔

    چین کا ثالثی کیلئے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان

    لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اسپین میں اپنے ہم منصب اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ تمام یورپی اتحادی تعاون کریں گے کیوں کہ ایرانی حکومت نہ صرف امریکا بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    دوسری جانب اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں ترجمان وائٹ ہاؤس کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔

    افغانستان کی جارحیت کیخلاف بلوچستان کی عوام کا پاک فوج سے بھرپور اظہار یکجہتی

    اسپین کے وزیر خارجہ جوس مینوئل البارس نے کہا ہے کہ اسپین کی حکومت کی ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور امریکی فوج کو جنوبی اسپین کے کسی بھی فوجی اڈے کے استعمال کی اجازت صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق دی جا سکتی ہے۔

    اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانشیز نے کہا ہے کہ اسپین جنگ کی مخالفت پر قائم رہے گا کیونکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے یوکرین ہو، غزہ یا عراق، اسپین کا اصولی مؤقف ہے کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں ہونا چاہیے۔

    کیڈینا ایس ای آر ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ البارس نے وائٹ ہاؤس کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور ایران میں بمباری کے حوالے سے ہماری پالیسی اور ہمارے فوجی اڈوں کے استعمال سے متعلق مؤقف میں ایک حرف بھی تبدیلی نہیں آئی۔

    ایران میں خانہ جنگی کا منصوبہ،امریکا کا عراقی کرد رہنماؤں سے رابطہ
    اسپین نے واضح طور پر وائٹ ہاؤس کے بیان کو مسترد کیا اور امریکی فوج کے ساتھ کسی بھی غیرقانونی یا اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے ہٹ کر تعاون کے امکان کو ختم کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیین اور یورپی کونسل کے صدرانتونیو کوسٹا نے بھی پیڈرو سانشیز کی حمایت کی ہے، انتونیو کوسٹا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یورپی یونین ہمیشہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس کے رکن ممالک کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے۔

    ادھر ایران کے صدر مسعود پزیکشیان نے اسپین کے مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ میڈرڈ کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی دنیا میں اب بھی ایسے ممالک موجود ہیں جو بین الاقوامی قانون اور اخلاقی اصولوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

    ایران میں خانہ جنگی کا منصوبہ،امریکا کا عراقی کرد رہنماؤں سے رابطہ

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ امریکا جب چاہے اسپین کے فوجی اڈوں کو استعمال کر سکتا ہے اور اسے کوئی نہیں روک سکتا۔

  • ایران کیخلاف فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکیاں

    ایران کیخلاف فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکیاں

    اسپین نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے-

    امریکی صدر نے دھمکی دی کہ اگر اسپین نے ایران پر حملوں سے متعلق مشنز کے لیے اپنی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا اسپین کے ساتھ تمام تجارتی معاملات ختم کر دے گا، اگر وہ چاہیں تو اسپین میں جا کر ان کا فوجی اڈہ استعمال کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی نہیں روک سکتا ہے۔

    تاہم امریکی صدر کی دھمکی کے بعد کہا ہے کہ امریکا کو بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے، اسپین کے وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکر ا ت پر زور دے رہے ہیں۔

    پی ایس ایل 11 کا آفیشل لوگو جاری

    اسپین کے وزیر خارجہ حوزے مینول البیرس نے واضح کیا کہ ملک کے فوجی اڈے جو امریکا کے ساتھ مشترکہ طور پر چلائے جاتے ہیں وہ ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوں گے۔

    اس فیصلے کے بعد امریکا نے جنوبی اسپین کے روٹا اور مورون فوجی اڈوں سے 15 طیارے، جن میں ایندھن بردار ٹینکر بھی شامل تھے، منتقل کر دیے، جبکہ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسپین نے برا رویہ اختیار کیا ہے اور انہوں نے اپنے وزیر خزانہ کو ہدایت دی ہے کہ اسپین کے ساتھ تمام لین دین ختم کر دیا جائے۔

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

    اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکا کو اسپین کے ساتھ تجارت میں 4.8 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل تھا۔

  • اسپین کا تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    اسپین کا تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    میڈرڈ: اسپین کی حکومت نے ملک میں مقیم تقریباً پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے،اس منصوبے کو سرکاری فرمان کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔

    ہسپانوی میڈیا کے مطابق ہسپانوی وزیر برائے مائیگریشن ایلماسیز نے بتایا کہ حکومت ایک سرکاری حکم نامے کی منظوری دینے جا رہی ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو قانونی رہائش اور کام کی اجازت ملے گی مستفید ہونے والوں کی حتمی تعداد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، تاہم قانونی حیثیت ملنے کے بعد یہ افراد اسپین کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی شعبے میں کام کر سکیں گے حکومت امیگریشن کا ایسا نظام متعارف کرانا چاہتی ہے جو انسانی حقوق، سماجی شمولیت، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے اصولوں پر مبنی ہو۔

    وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے

    یہ فیصلہ یورپ کے کئی ممالک میں سخت امیگریشن پالیسیوں کے برعکس اسپین کا ایک نمایاں اقدام قرار دیا جا رہا ہے اس پالیسی سے وہ تارکینِ وطن فائدہ اٹھا سکیں گے جو کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں مقیم ہیں، درخواست دہندگان کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا ضروری ہوگا یہ فیصلہ ان بچوں پر بھی لاگو ہوگا جو پہلے ہی اسپین میں رہائش پذیر ہیں، درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے اور جون کے آخر تک جاری رہے گا –

    دوسری جانب قدامت پسند اور دائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے غیرقانونی امیگریشن میں اضافہ ہو سکتا ہے اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ ملک کو افرادی قوت کی کمی پوری کرنے اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے امیگریشن کی ضرورت ہے۔

    اپنی زمین اور فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

    تھنک ٹینک فنکاس کے مطابق جنوری 2025 کے آغاز میں اسپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیرقانونی تارکینِ وطن مقیم تھے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 4 کروڑ 94 لاکھ کی آبادی میں 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی مہاجرین شامل ہیں۔

  • اسپین نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دے دی

    اسپین نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دے دی

    اسپین نے غزہ میں اسرائیلی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دے دی،ہے-

    اسپین کے اٹارنی جنرل نے اعلان کیا ہے کہ اسپین میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے جو غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گی تاکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی معاونت کی جا سکے۔

    بیان کے مطابق اٹارنی جنرل نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت ٹیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزیوں کے ثبوت جمع کرے گی،یہ شواہد بعد میں متعلقہ اداروں کے حوالے کیے جائیں گے تاکہ بین الاقوامی تعاون اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔

    وفاقی دارالحکومت کے بس اڈے جی–9 اور آئی–11 ریکارڈ توڑ بولیوں پر نیلام

    اس سے قبل ہسپانوی پولیس متاثرین کے بیانات اور دیگر ثبوت جمع کر چکی ہے، جنہیں تفتیش کاروں نے ’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کی طرف اشارہ قرار دیا ہےحکم نامے میں زور دیا گیا کہ اسپین میں ثبوت اکٹھے کرنا اہم ہے تاکہ مستقبل میں انہیں بطور ناقابلِ تردید شہادت استعمال کیا جا سکے اور ان جرائم کے مرتکب افراد کو جوابدہ بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ اسپین کی حکومت نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں اسرائیل سے اسلحہ کی خریداری کے بڑے معاہدے منسوخ کر دیے ہیں، فیصلے کے تحت 825 ملین ڈالر (قریباً 700 ملین یورو) مالیت کے راکٹ لانچر سسٹمز اور 287 ملین یورو کے اینٹی ٹینک میزائل لانچر معاہدے منسوخ کیے گئے ہیں،یہ معاہدے اسرائیلی کمپنی ایل بٹ سسٹمز کے تیار کردہ پلس پلیٹ فارم سے ماخوذ 12 ایس آئی ایل اے ایم راکٹ لانچر سسٹمز اور 168 اینٹی ٹینک لانچر کی خریداری سے متعلق تھے۔

    پاکستان میں مشرق ڈیجیٹل بینک کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا

    یہ پیشرفت اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی جانب سے گذشتہ ہفتے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ فوجی سازوسامان کی فروخت اور خریداری پر قانونی پابندی عائد کرے گی،سانچیز نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسپین کسی بھی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں ہوگا جو اسرائیلی جارحیت کو سہارا دےاسپین کی وزارت دفاع اسرائیلی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کو مسلح افواج سے مرحلہ وار ختم کرنے کا جامع جائزہ لے رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اسپین یورپ میں ان چند ممالک میں شامل ہے جو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی غزہ پالیسی کے سب سے زیادہ ناقد سمجھے جاتے ہیں،2024 میں اسپین نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور اسرائیل نے اپنا سفیر میڈرڈ سے واپس بلا لیا تھا۔

    خصوصی افراد کو ڈرائیونگ کی تربیت اور لائسنس دینےکی ہدایت پر عملدرآمد شروع

  • میڈرڈ  کیفے میں دھماکا، 21 افراد زخمی، 3 کی حالت نازک

    میڈرڈ کیفے میں دھماکا، 21 افراد زخمی، 3 کی حالت نازک

    اسپین کے دارالحکومت میں کیفے میں زور دار دھماکے سے کم از کم 21 افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا ہفتہ کی دوپہر جنوبی وسطی ضلع ویلیکاس میں پیش آیا۔ ریسکیو اور امدادی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ہسپانوی حکام کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں جبکہ 3 افراد انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہیں۔

    پولیس نے علاقے کو سیل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ابتدائی شواہد کے مطابق دھماکا کیفے کے اندر ہوا تاہم اس کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکا گیس لیکج یا کسی اور وجہ سے ہوا ہو۔

    قطر میں حماس قیادت کا خاتمہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرے گا، نیتن یاہو

    بنوں دہشت گردی کا مرکز ،افغانستان اپنی پوزیشن واضح کرے: خواجہ آصف

    منی لانڈرنگ کیس: ملک ریاض اور علی ریاض کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    گنڈاپور کی درخواست، غلط نام درج ہونے پر وکیل نے چیف جسٹس کو خط بھیج دیا

  • اسحاق ڈار سے اسپین کے سینیٹ کے رکن کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے اسپین کے سینیٹ کے رکن کی ملاقات

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے اسپین کے سینیٹ کے رکن وِسنٹے ازپیترتے پریز نے ملاقات کی۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور اسپین کے درمیان سیاسی، معاشی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے اور پارلیمانی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا،اسحاق،ڈارنے سینیٹر پریز کی پارلیمانی روابط کو فروغ دینے کی کاوشوں کو سراہا اس موقع پر اسپین کے سینیٹر نے اسحاق ڈار کو اسپین کے دورے کی دعوت بھی دی۔

    علاوہ،ازیں،وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور جرمنی کے وزیر خارجہ ڈاکٹر یوہان ویڈیفُل کے درمیان گزشتہ شب ٹیلیفونک رابطہ ہواترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور اعلیٰ سطحی روابط کی اہمیت پر زور دیا،اس دوران خطے کی صورتحال اور اہم علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دریں،اثنا اسحاق ڈار نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 21ویں غیر معمولی اجلاس کے موقع پر مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور الجزائر کے وزیر خارجہ احمد عطاف سے اہم ملاقات کی،ملاقات میں فلسطین کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور فوری انسانی امداد کی فراہمی، جنگ بندی اور دیرپا امن کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ تینوں رہنماؤں نے مشکل وقت میں مسلم امہ کے اتحاد کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا،وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر اور الجزائر کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے رابطوں میں اضافہ اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔

  • اسپین میں دہشتگردی کے الزام میں 10 پاکستانی شہری گرفتار

    اسپین میں دہشتگردی کے الزام میں 10 پاکستانی شہری گرفتار

    اسپین میں پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے دوران 10 پاکستانی شہریوں کو دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی : اسپینش حکام کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ گرفتاریاں موسوس ڈی اسکوادرا (کاتالونیا پولیس)، اسپینش نیشنل پولیس اور اطالوی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ہوئیں، یہ گروہ ایک انتہا پسند تنظیم سے منسلک تھا جو خفیہ میسجنگ ایپس کے ذریعے شدت پسندی کو فروغ دے رہا تھااس نیٹ ورک کے بعض ارکان نے یورپ میں ممکنہ حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی بھی شروع کر دی تھی۔

    تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ ایک علیحدہ آن لائن گروپ، جو گرفتار خواتین میں سے ایک کی قیادت میں کام کر رہا تھا، شدت پسندانہ مواد پھیلانے اور ممکنہ حملوں کے لیے اہداف منتخب کرنے میں ملوث تھاگرفتار کیے گئے 10 افراد کو 6 مارچ کو اسپین کی سینٹرل انویسٹی گیشن کورٹ نمبر 6 میں پیش کیا گیا، جہاں ان پر دہشت گردی کی مالی معاونت، شدت پسندی کی بھرتی اور انتہا پسندی کی حمایت جیسے الزامات عائد کیے گئے۔

    سال کی دوسری مانیٹری پالیسی کا اعلان کل ہو گا

    عدالت نے چار افراد کو حراست میں رکھنے کا حکم دیا، جبکہ دیگر افراد زیر تفتیش رہیں گے اسپین کی پولیس نے واضح کیا ہے کہ تاحال اس نیٹ ورک کا کسی بین الاقوامی شدت پسند تنظیم سے کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

    طورخم بارڈر پر جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے گرینڈ قبائلی جرگہ تشکیل

  • ہسپانوی بادشاہ ملکہ اور وزیراعظم کا” کیچڑ "سے استقبال

    ہسپانوی بادشاہ ملکہ اور وزیراعظم کا” کیچڑ "سے استقبال

    اسپین میں شدید سیلاب نے والنسیاکے مضافاتی علاقے کو متاثر کیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، اتوار کو جب اسپین کے بادشاہ فیلیپ، ملکہ لیٹیزیا اور ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا تو سینکڑوں مشتعل رہائشیوں نے ان پر کیچڑ پھینکنا شروع کر دیا۔

    باغی ٹی وی: خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق والنسیا کے شہریوں نے اتوار کو بادشاہ فیلیپ، ملکہ لیٹیزیا اور وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے دورے کے دوران شدید احتجاج ریکارڈ کروایا کہ سیلاب کے خطرات کے بارے میں حکام نے تاخیر سے آگاہ کیا۔

    شاہی خاندان اور وزیر اعظم سیلاب سے متاثرہ علاقے کا جائزہ اور متاثرین سے ملاقات کیلئے پہنچے تھے تاہم احتجاج کے دوران کسی نے ان پر کیچڑ سے حملہ کیا جبکہ کسی نے ’قاتل، قاتل‘ کے نعرے بھی لگائے، باڈی گارڈز نے شاہی خاندان کی حفاظت کے لیے انہیں چھتری سے محفوظ کیا۔
    spain
    کنگ فیلیپ سیلاب متاثرین کو تسلی دیتے ہوئے
    ایک نوجوان نے بادشاہ فیلیپ کو بتایا کہ حکام کو سیلاب کا معلوم تھا مگر انہوں نے کسی قسم کے عملی اقدامات نہیں کیے بادشاہ فیلیپ احتجاج کے باوجود متاثرین سے بات چیت پر اصرار کرتے ہوئے نطر آئے جبکہ وزیر اعظم پیچھے ہٹ چکے تھے،اپنے چہروں اور کپڑوں پر کیچڑ کے ساتھ، بادشاہ فیلیپ اور ملکہ لیٹیزیا کو بعد میں ہجوم کے ارکان کو تسلی دیتے ہوئے دیکھا گیا،بادشاہ نے کئی لوگوں کو تسلی دی، یہاں تک کہ انہیں گلے لگا لیا۔
    spain
    واضح رہے کہ اسپین ایک پارلیمانی بادشاہت ہے جہاں بادشاہ ریاست کا سربراہ ہوتا ہے۔

    خیال رہے کہ جنوبی اور مشرقی اسپین میں شدید بارشوں اور سیلاب نے ہر طرف تباہی پھیلائی ہوئی ہے جس کے باعث 211 افراد ہلاک ہوگئے،جو کہ اسپین میں کئی دہائیوں کے لیے بدترین سیلاب ہے،اسپین میں تباہ کن سیلاب کے بعد صفائی اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، ہلاکتیں دو سو گیارہ ہوگئیں جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں ہنگامی کارکنان زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور لاشیں نکالنے کی امید میں زیر زمین کار پارکوں اور سرنگوں میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    والنسیا کا علاقہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے چار روز قبل طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب امڈ آیا تھا، جان لیوا سیلاب کے بعد ملبے اٹھانے کا کام جاری ہے،پبلک پارکس، باغات اور قبرستان پیر تک بند کردیئے گئے اور سیلابی علاقوں سے بے گھر افراد کو نکانے کا عمل جاری ہے،اسپین کے وزیر اعظم نے لاپتا افراد کی تلاش کے لیے مزید پانچ ہزار فوجی دستے تعنیات کردیئے تھے جو ریسکیو آپریشن کے ساتھ ساتھ ملبہ اٹھانے میں مصروف ہیں جبکہ پانچ ہزار فوجی دستے پہلے سے ریسکیو کا کام جاری رکھے ہوئے تھے-

    سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے باعث اسپین کے وزیر اعظم نے 3 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا تھا، حکومت نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ،اس سے قبل 1973 میں بھی اسپین میں آنے والے سیلاب کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔