گزشتہ دنوں غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ایک فلوٹیلا کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا تھا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد اسپین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی ،حراست میں لیے گئے افراد میں ہسپانوی نژاد فلسطینی کارکن سائف ابو کشک بھی شامل ہیں جبکہ سپین اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے یورپی یونین کو باضابطہ درخواست پیش کرے گا۔
اسپین کے وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر سائف ابو کشک کو رہا کرے ابو کشک کو برازیل کے کارکن تھیاغو آویلا کے ساتھ اسرائیل کے جنوبی شہر اشکلون میں حراست میں رکھا گیا ہے قانونی امدادی تنظیم “لیگل سینٹر فار عرب مائنارٹی رائٹس اِن اسرائیل (عدالہ)” کے مطابق دونوں افراد نے حراست کے دوران بھوک ہڑتال شروع کر دی ہےانکے نمائندوں نے دونوں کارکنوں سے ملاقات کی، جنہوں نے الزام لگایا کہ انہیں حراست کے دوران مار پیٹ، آنکھوں پر پٹی اور تنہائی میں رکھنے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان پر ممکنہ طور پر حماس سے روابط کے الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے وزارت نے یہ بھی کہا کہ انہیں قونصلر ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسپین اپنے شہریوں کا تحفظ کرے گا، بین الاقوامی قانون کی پاسداری جاری رکھے گا، اور اسرائیل سے ہسپانوی شہری کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
واضح رہے کہ اسپین اور اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی غزہ جنگ کے حوالے سے شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور مسلسل اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتا رہا ہے-










