Baaghi TV

Tag: اشرف حماد

  • نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

    نیا سال پھر چپکے سے آ دھمکا ہے۔ اب وہی فارمل باتیں ہوں گی۔ دیکھا جائے تو وہ ہورہی ہیں، اور بڑے طمطراق سے ہو رہی ہیں۔ دسمبر کے آخری ہفتے سے تو کان پک گئے ہیں۔ کیا کریں جنوری کے اینڈ جنٹل تک یہی ہوگا۔ کوئی بن بلائے مہمان کی طرح ملے ہتھوڑا اور برسائے: ”نیا سال مبارک ہو”۔جواب میں ہم زچ ہوکر کہیں: ”شکریہ، آپ کو بھی نیا سال مبارک ہو۔”

    جمعہ جمعہ آٹھ دن گزریں گے تو مبارک بادیں کچھ اس انداز کی ہوں گی: ”معاف کریں موقع نہیں ملا” یا ”بھئی کئی بار فون کیا مگر بات ہی نہیں ہو سکی ” یا پھر”معاف کرنا میں گاؤں کیا تھا لہٰذا مبارک باد تاخیر سے دے رہا ہوں…بہر حال آپ کو نئے سال کی ڈھیر ساری مبارکبادیں ہوں۔” مطلب آپ کو نئے سال کی مبارک باد کہے بنا کوئی نہیں چھوڑے گا۔

    اس کے بعد گردش ایام پھر وہی ہوں گے، جو گذشتہ سال تھے، جو اس سے پچھلے سال تھے۔ یا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ کتنے نئے سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ یعنی میٹاڈاروں کے دھکّے، کھڑکیوں پر قطاریں، بیگم کی جھڑکیاں، کرم فرماؤں کی بھڑکیاں، ٹی وی کی جلی کٹی "خبریاں”، باس کی یک چشم گل نظر، دفاتر میں سیاست، دوستوں کے سبزی خور جوک جنہیں وہ نان ویج انداز میں سنا کر طبیعت کو اور بھی مکدّر و پُرخشم کر دیتے ہیں۔

    جب ایک شناسا نے مجھے نئے سال کی مبارک باد ماری تو میں نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا نیا سال کسی پابند سلاسل وقت کا محتاج نہیں۔ وہ تو بغیر اجازت آتا رہتا ہے۔ سال کے معنی ہیں سورج کے گرد زمین کا ایک چکّر۔ اور یہ چکّر چلتے رہتے ہیں۔ زمین جہاں اس وقت ہے وہاں وہ اب سے ٹھیک ایک سال پہلے تھی۔ اور اب ٹھیک ایک سال بعد دوبارہ پھر اس جگہ آئے گی۔ لہٰذا ہر گزرتا پل ایک نیا سال ہے۔ وہ صاحب اردو کے سات کے ہندسے کی طرح منھ کھولے میری باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد آنکھیں جھپکاتے ہوئے گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر بولے، ”چلئے ، آپ کو ہر نئے پل نیا سال مبارک ہو”۔ اور میں اپنا سا منھ لے کر رہ گیا۔

    جنوری کی پہلی صبح کے کُہر کے قہر میں میں نے ایک کانپتے آٹو ڈرائیور پر افلاطونیت کا نسخہ آزمانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا: ”برخوردار جانتے ہو یہ دنیا اس وقت اپنے محور پر اس قدر سست رفتار سے گھوم رہی ہے کہ اس کا ایک چکّر ایک کھرب ایک ارب ایک کروڑ ایک سو چھیاسی کے ہندسے کو اتنے ہی بڑے ہندسے سے 11 بار ضرب دے کر جو حاصلِ ضرب آئے گا اتنے سال میں پورا ہوتا ہے۔ اور پوری کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس قدر آہستہ گھومنے کے باوجود اس کے سب سے باہری سرے پر گھومنے کی رفتار ایک لاکھ کھرب میل فی سیکنڈ ہے۔ اور تم ہو کہ بڈشاہ چوک سے مہاراج گنج تک دو کلومیٹرکے دو سو روپے مانگ رہے ہو اور وہ بھی برائے نام سیٹ کے۔”

    یہ سن کر ڈرائیور بار بار آنکھیں جھپکانے لگا اور اپنے دوست سے، جو اس کے ساتھ ہی اس کی آدھی سیٹ پر براجمان تھا، کہا "صاحب سے کرایہ نہیں لیتے ہیں، لگتا ہے یہ کوئی بھٹکی ہوئی روح ہیں، لہٰذا انہیں حفاظت سے مہاراج گنج میں اتاریں گے”۔ کائنات کے اس چکّر نے مجھے پھر چکّرایا۔

    ایک "پکے” مسلمان کے طور پر میں نے سائنس نہیں پڑھی ہے۔ خلائی سائنس کی تو بات ہی نہیں کیونکہ وہ تو انکل سام کی "سازشی تھیوری” ہے۔ کوئی چیز اپنی جگہ پر ٹہری ہوئی نہیں ہے۔بلکہ سوائے کتابوں کے ہر چیز کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔ چاند زمین کے چکر میں دیوانہ ہے۔ زمین سورج کے عشق میں اس کے چکّرکاٹ رہی ہے۔سورج اپنی کہکشاں کے ساتھ گل چھرے اڑا رہا ہے۔ کہکشاں، کسی اور کہکشاں کے پیار میں فریفتہ ہے۔ اور وہ والی کہکشاں لگتا ہے کسی اور کہکشاں کے چکّر میں جھکڑ سہ رہی ہوگی۔ یہ سب دیکھ کر مجھے تو خود کائنات کے چال و چلن پر بھی شک ہے۔ یہ نیک بخت بھی یقیناً کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔

    ایک دن ایک خلائی "سائنس کار” نے میں مجھے نئی خلائی تحقیقات کی نوید نہیں بلکہ وعید سنائی۔ ہوا یوں کہ وہ یک لخت زور زور سے کمرے چکّر کاٹنے لگے اور چکّروں کے اس عمل میں خود چکّر کھا کر گر پڑے۔ میں نے گھبرا کر ان کی پُرشکن جبین پر ہاتھ رکھا۔ وہ ایک دم اٹھے، سیدھے کھڑے ہو کر ٹائی درست کی اور ہمیں تسلّی دیتے ہوئے بولے:” ڈونٹ وری، آئ ایم اوکے، بس ذرا چکّر سا آگیا تھا۔”

    میں نے اس نئے چکّر کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ”کوئی خاص معاملہ نہیں۔ بس مجھے اچانک یہ سوجھی کہ اس وقت جو میں تمہارے ڈرائنگ روم میں سکون سے بیٹھا ہوا ہوں توحقیقت میں سب کچھ ایک دم ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ سب گردش میں ہے، زمین، سورج، چاند، ستارے، سیارے کہکشاں، حالات، خبریں، کردار، اطوار، دن مہینے اور سال۔ بس یہ سوچتے سوچتے چکّر سا آگیا…باقی آئی ایم اوکے۔”

    یہ سن کر کچھ دیر کے لئے مجھے چکر سے لگے کیوں کہ خلائی علوم میں وہ ناسا کی بھٹکی ہوئی آتما ہے۔ خلائی سائنس تو کیا سائنس کی ابجد کے لحاظ سے میں پہنچا ہوا ناواقف ہوں۔

    بہر حال نئے سال کی مبارک بادیں بغیر مٹھائی، بریانی اور ہریسہ کے آپ وصول کرتے رہیں۔ وہ اس لیے کہ سیاسی لیڈران، مختلف شعبوں کے ہیڈز، دفتروں کے باسز، یونینوں کے رہنما اور دوست، عزیز و اقارب، گرل اور بوائے فرینڈ اور تو اور سوشل میڈیا کے نیٹی زن دوست آپ کو نئے سال کی مبارک بادیں پیش کرنے میں کڑھائی میں زندہ مچھلیوں کی طرح تڑپ رہے ہیں۔

  • انسانی شبیہ پر میڈیا کے اثرات — اشرف حماد

    انسانی شبیہ پر میڈیا کے اثرات — اشرف حماد

    میڈیا چاروں اطراف ہمیں محاصرے میں لیے ہوئے ہے۔ یہ ہمارے فون، ہمارے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر ہمارا ناکہ لگائے ہوئے ہے۔ یہ ٹیلی ویژن پر، پبلک ٹرانسپورٹ پر، شاپنگ سینٹرز پر، غرض ہر جگہ گھات میں ہے۔ چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں، ہم باقاعدگی سے میڈیا کو با دل نخواستہ فیس کرتے رہتے ہیں اور لامحالہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ، کسی کو یہ تسلیم کرنے کے لیے ماہر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لاشعوری طور پر، میڈیا وہ طریقہ بنا رہا ہے جس میں لوگ اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھتے ہیں۔ باڈی لینگویج، میڈیا کے تناظر میں، خاص طور پر میڈیا سے گہرا تعلق رکھتی ہے کیونکہ حسین اور خوبرو لوگ اکثر اشتہاری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ گلوٹین فری سیریل سے لے کر کار رینٹل سروس تک، اشتہارات اکثر خوبصورت خواتین یا مرد ماڈلز یا مشہور شخصیات کی ری ٹچ تصاویر دکھاتے ہیں جو مسلسل اپنی ظاہری شکل پر کام کرتے ہیں۔ اس طرح کے اشتہارات کو دیکھ کر، کسی کی ظاہری شکل، چاہے وہ جسم، جلد، یا بالوں کے بارے میں ہو، خود آگاہ نہ ہونا مشکل ہے۔ لہذا، میڈیا کا اثر، اس کی شکل اور منتقلی کے طریقہ کار سے قطع نظر، لوگوں کے باڈی لینگویج کے بارے میں منفی تاثر قائم کرنے میں نقصان دہ ہے

    محققین نے میڈیا کی مختلف شکلوں کے ساتھ لوگوں کی فعال مصروفیت اور ان کے جسم کے بارے میں ان کے تاثرات کے درمیان رابطوں کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا ہے۔ ہوگ اینڈ ملز کی ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سوشل میڈیا پر پرکشش ساتھیوں کے ساتھ مشغولیت نے جسم کی شبیہ کے بارے میں منفی تاثرات کو بڑھایا۔ تحقیق میں یارک یونیورسٹی کی 143 نوجوان خواتین کو شامل کیا گیا تھا اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر "بہتر” ظاہری شکل والے افراد کے ساتھ لوگوں کا موازنہ خواتین کی جسمانی تصویر کے خدشات کو کم کر سکتا ہے۔ اس طرح کے نتائج پچھلی سفارش کے ساتھ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ جب لوگ سماجی معیار کے مطابق پرکشش سمجھی جانے والی خواتین کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ان کی شخصی اہمیت کو گہن لگ جاتا ہے۔یہ رجحان میڈیا کے استعمال کے منفی اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے باڈی امیج میڈیا لٹریسی پروگرامز قائم کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس تناظر میں، ذرائع ابلاغ کی خواندگی سے مراد کسی شخص کی معلومات کی ضرورت کے وقت سمجھنے کی صلاحیت ہے، ساتھ ہی یہ پہچاننا ہے کہ اس کا اندازہ کیسے لگایا جائے، اسے کیسے تلاش کیا جائے اور استعمال کیا جائے۔
    یہ چیز میڈیا کے ساتھ صحت مند تعلقات کے بارے میں عوام کو تعلیم دینے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ اسے کیسے منظم کیا جا سکتا ہے۔

    چونکہ ساری دنیا میڈیا پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، حالانکہ یہ بات الگ ہے کہ میڈیا پر کم ہی اعتبار کرتی ہے، اس لیے عام لوگوں پر کامیاب لوگوں کی تصویروں سے بمباری کی جاتی ہے جنہوں نے برسوں اور حتیٰ کہ دہائیوں تک اپنی تصاویر پر کام کیا ہے۔ یہاں پر بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مشہور لوگوں نے اپنے آپ میں وقت، محنت اور پیسہ لگایا ہے، بلکہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ خوبصورتی کا جو معیار مقرر کیا جا رہا ہے وہ عام لوگ اس کے لیے دلوں میں حسرتیں ہی پال سکتے ہیں۔ میڈیا کی بہت سی شخصیات جس انداز میں نظر آتی ہیں وہ نہ صرف بھاری میک اپ یا برسوں کی مشقوں کی وجہ سے حقیقت پسندانہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کی تصاویر کی بہت زیادہ ری ٹچنگ کی وجہ سے ہی ایسا ہوتا ہے۔ ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جن میں کمپنیاں اپنے اشتہارات کو ری ٹچ کرتے ہوئے پکڑی گئی ہیں، حالانکہ بظاہر ان کا مقصد حقیقت پسندانہ تصاویر دکھانا مطلوب تھا۔ مثال کے طور پر، ایک سکن کیئر برانڈ نے اپنے اشتہارات کو دوبارہ چھونے کا اعتراف کیا، جس کا پیغام ”حقیقی خوبصورتی” تھا۔ انہیں اس وقت کافی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ پتہ چلا کہ تصاویر کو فوٹو شاپ کیا گیا تھا تاکہ انہیں ناظرین کے لیے زیادہ پرکشش بنایا جا سکے۔ اب یہ جلی کٹی خبر بھی زوروں پر ہے کہ حقیقی خوبصورتی کو میڈیا پر تبدیل کیا جا رہا ہے، لوگوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کارپوریشنز پر یقین کریں گے، جس کے نتیجے میں، ان کے ذاتی خود خیالی کو نقصان پہنچتا ہے۔

    اگرچہ یہ توقع رکھنا کہ ٹی وی، اشتہارات اور سوشل میڈیا پر پوسٹس 100% سچائی پر مبنی ہوں گی، غیر حقیقی توقعات ہیں، لیکن ان کے اثرات کے بارے میں خدشات کو آواز دینا ضروری ہے۔ ماڈلز یا اداکاروں کی ایئر برش کی گئی تصاویر کمزور لوگوں میں خاص طور پر کم عمر لوگوں میں غیر صحت بخش عادات کا باعث بنتی ہیں۔ میڈیا کے منفی اثرات کے بارے میں کچھ اہم خدشات کھانے کی خرابی سے منسلک ہیں جو کسی کے جسم کے بارے میں غیر حقیقی توقعات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اینوریکسیا نروسا ایک ہاضمے کی خرابی ہے جس کی خصوصیت ایک ادراک کے مسئلے سے ہوتی ہے جسے باڈی ڈیسمورفیا کہتے ہیں۔ اس سے مراد کسی شخص کے دیکھنے کے انداز اور اس کے سوچنے کے انداز کے درمیان غلط فہمی ہے۔ کافی پتلا ہونے کے باوجود، اینوریکسیا کے شکار افراد محسوس کرتے ہیں کہ ان کا وزن زیادہ ہے اور وہ کھانے سے انکار کر کے یا زیادہ ورزش کر کے خیالی زیادہ وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلیمیا نرووسا ایک ایسا عارضہ ہے جس کے دوران افراد روزہ رکھنے یا صاف کرنے کے ذریعے اپنے وزن کو کنٹرول کرتے ہیں، حالانکہ انوریکسیا کے مقابلے میں اس حالت کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ لہذا، عام جذباتی پریشانی کے علاوہ، میڈیا پر غیر حقیقی تصاویر نفسیاتی حالت کو اس حد تک بڑھا دیتی ہیں کہ ایک سنگین دخل در معقولات کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

    میڈیا یہاں رہنے کے لیے ہے۔ لوگ غیر حقیقی تصاویر کے سامنے آتے رہیں گے کیونکہ بعد میں اشتہارات اور پیسہ کمانے کے لیے وہ محرک قوت ہیں۔ تاہم، عام خام کو، خاص طور پر نوجوان لوگوں کو تعلیم دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کہ ان سے یہ توقع نہیں کی جاتی ہے کہ وہ ری ٹجنگ اور ایئر برش کرنے والی مشہور شخصیات کی طرح نظر آئیں گے۔ نوجوانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میڈیا معاشرے کا صرف ایک حصہ ضرور ہے اور لیکن تمام انسانی خصوصیات کی کبھی بھی بھرپور نمائندگی نہیں کرے گا۔ تاہم، اہم مقاصد میں سے ایک قبولیت کے ماحول کو فروغ دینا ہے جو ظاہری شکل، فکر، کیرئیر کے انتخاب اور نقطہ نظر کے تنوع کا جشن مناتا ہے۔ حالیہ عالمی انتشار کے تناظر میں، ہم سب کو اپنی طاقت کو منفی پر توجہ دینے کے بجائے مثبت چیزیں پیدا کرنے پر لگانا چاہیے۔

    یں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

  • نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    اردو ہماری تہذیبی زبان ہے جو بہت شیرین اور خوبصورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص اچھی اور رواں اردو بولتا ہے، اس کی بات سنتے ہوئے لطف آتا ہے۔ اردو کو ہندوستان کی Native زبان قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی پیدائش ہندوستان میں ہی ہوئی۔ باقی زبانیں تو باہر سے آئی ہوئی ہیں۔ فارسی مغلوں کے ساتھ آئی جبکہ عربی زبان عربوں نے درآمد کی۔ اسی طرح انگریزی انگریزوں کے ساتھ یہاں آئی۔ لیکن اردو زبان نے یہیں جنم لیا اور یہیں نشوونما پایا۔

    متحدہ ہندوستان میں اردو زبان فطری، خلقی اور رواداری کی زبان ہے جسے بلا تمیز رنگ و نسل و مذہب بڑے شوق اور اعتماد سے بولتے ہیں۔ یہ گنگا جمنی ثقافت کی روادار زبان ہے۔ اردو بر صغیر کی جدید زبانوں میں ایک زبان ہے لیکن جس تیزی سے اس نے لسانی اور زبان دانی کے اعتبار سے جلد ہی ارتقائی منازل طے کیں وہ رفتار حیرت انگیز ہے۔

    انہوں نے اردو زبان سے عربی کے الفاظ نکال کر سنسکرت زبان کے چند الفاظ شامل کرکے اسے ہندی زبان کا نام دے دیا، جس کی وجہ سے ہندی اردو تنازعات نے جنم لیا۔ جبکہ اس سے قبل سب اردو زبان ہی بولتے تھے اور ہندوؤں کی اصل زبان سنسکرت تقریباً معدوم ہوچکی تھی۔

    ہم نے جو حال اپنی ثقافت کے ساتھ کیا اس سے کہیں برا حال ریاستی سرکاری زبان اردو کے ساتھ کیا۔ ہم نے ریاست میں اردو کے بجائے انگریزی زبان نافذ کردی اور گزشتہ تہتر سال سے یہی زبان نافذ ہے۔ سرکاری و پرائیویٹ دفاتر، تعلیمی ادارے اور عوامی مقامات انگریزی زبان سے ہی بھرے پڑے ہیں۔ اردو زبان کی یہ اہمیت ہے کہ ہر بچہ معاشرے سے یہ زبان سیکھ لیتا ہے، اس کے بعد اسے انگریزی سیکھنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر اس کے سیکھنے میں کچھ کمی رہ جائے یا نہ سیکھ پائے تو اس کےلیے جینا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں تو ہر جگہ انگریزی کا راج ہے اردو زبان کو پوچھتا ہی کون ہے؟ وہ جیسی کیسی بھی بول یا سمجھ لی تو کام چل جاتا ہے لیکن انگریزی میں کسی قسم کی کمی پائی گئی تو کتنا ہی محب وطن کیوں نہ ہو جاہل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ دفاتر میں جائے تو وہاں انگریزی میں حکمنامے پکڑا دیے جاتے ہیں جنہیں پڑھنے اور سمجھانے کےلیے انگریزی دان کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عوامی مقامات پر انگریزی اشارات پر مشتمل بورڈ لگے ہوتے ہیں جنہیں ایک ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ شخص کےلیے پڑھنا نہایت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

    اسکول و کالج میں انگریزی کی کتب کی بھرمار ہے۔ انگریزی کا مضمون تو لازمی ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی جس کتاب پر نظر دوڑائی جائے سبھی انگریزی میڈیا کی ہی دکھائی دیتی ہیں اور طلبا بھی انہیں انگریزی مضمون ہی تصور کرتے ہیں اور رٹے لگا کر امتحانات میں کامیابی بلکہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی انہیں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اصل میں یہ کتا ب کہہ کیا رہی ہے؟ یعنی اصل علم و فن پر توجہ دینے کے بجائے پوری توجہ انگریزی زبان پر صرف کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حاملین اسناد (ڈگری ہولڈرز) تو بہت ہیں لیکن ماہرین فن نہیں ہیں۔

    ترقی اصل میں کسی خاص زبان کے سیکھنے سے نہیں ہوتی بلکہ ترقی کے لیے علوم و فنون میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اردو بھی تو ایک زبان ہے لیکن اس کے ماہرین کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ اردو کے بجائے انگریزی پر زیادہ جان کھپاتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزی میں ماسڑز کی ڈگری کی بہت اہمیت ہے۔ ہمارے تمام امتحانات انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔ کوئی طالب علم کسی علم و فن میں مہارت حاصل کرلے یا کسی دوسری زبان بالخصوص اردو میں ماسٹرز کرلے بلکہ حقیقی معنوں میں ’’ماسٹر‘‘ ہوجائے، لیکن اسے ہر قیمت پر انگریزی زبان میں ماہر ہونا پڑتا ہے۔ اگر وہ انگریزی میں ماہر نہیں تو کوئی امتحان بالخصوص آئی اے ایس وغیرہ جیسے اہم ترین امتحانات پاس کرنا ناممکن ہے۔

    پھر انگریزی زبان کا ایسا رعب ہمارے اذہان پر چھایا ہوا ہے کہ ہمیں اردو میں دو چار الفاظ انگریزی کے ملائے بغیر سکون ہی نہیں ملتا۔ بلکہ دوران گفتگو اردو میں انگریزی کے دو چار الفاظ نہ بولنے والے کو پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یعنی تمام علوم و فنون میں ماہرین کو خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کےلیے اردو زبان کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔

    اگر صرف انگریزی ہی اعلیٰ تعلیم کا معیار ہوتی تو یورپ و امریکا میں ریڑھی بان بھی روانی کے ساتھ انگریزی بولتے ہیں لیکن انہیں تو تعلیم یافتہ خیال نہیں کیا جاتا لیکن ہمارے معاشرے میں علم کا معیار ہی کچھ اور ہے۔ ہمارے کچھ مفکرین کا خیال ہے کہ اردو زبان میں لچک ہے اور وہ دوسری زبانوں کے الفاظ قبول کرتی ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ہم خود ہی زبردستی انگریزی کو اس میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا یہ خیال کہ اردو زبان میں لچک ہے، یہ بھی انگریزی کو اردو میں شامل کرنے کی کوشش ہے۔ اگر اسی طرح اردو میں لچک باقی رہی تو پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اردو کی شکل یہ ہوگی کہ تمام الفاظ انگریزی زبان کے ہوں گے اور چند ایک الفاظ اردو کے رہ جائیں گے اور اس اردو ملی انگریزی کو اردو زبان کہا جائے گا۔

    انہی غلط خیالات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ترقی میں پیچھے ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو ہم یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ انہوں نے اپنی قومی زبان کو ہی اپنایا، اسی میں تعلیم دی۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاں ماہرین فن پیدا ہوئے، جنہوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر ہم بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو دیگر اہم اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت بڑا قدم ہے کہ ہم انگریزی زبان کو اپنا مخصوص مقام دیں لیکن اس کو دوسری زبانوں کی قیمت پر حاوی نہ ہونے دیں، خاص طور پر اردو زبان پر اس کو سوار نہ ہونے دیں اور زیادہ سے زیادہ اردو زبان کو اشاعت و ترویج دیں۔

    انگریزی زبان ایک بین الاقوامی زبان ہونے کی حیثیت سے بہت اہمیت کی حامل ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسے اس حد تک استعمال کرنے لگیں کہ اپنی زبان کی تباہی کی پرواہ نہ رہے۔ اس لیے انگریزی کی اہمیت کے پیش نظر اسے صرف ایک مضمون کے طور پر چند ابتدائی درجات میں پڑھایا جائے۔ باقی اگر کسی کو انگریزی سیکھنے کا شوق یا ضرورت ہو تو اس کےلیے الگ سے کورسز کا اہتمام کیا جائے، پوری قوم پر اس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ تمام نصابی کتب کا سلیس اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے اور اسی کو لازمی قرار دیا جائے۔ دفاتر سے بھی انگریزی کو نکال کر اردو کا نفاذ کیا جائے اور تمام سرکاری کارروائیاں اردو میں ہی انجام پذیر ہونی چاہئیں۔ اسی طرح انگریزی زبان کے الفاظ کو من و عن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ کیا جائے اور حقیقت پسندی سے ترقی یافتہ ممالک کے ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے جو انہوں نے اپنی قومی و ثقافتی زبان کی ترقی و ترویج کےلیے اٹھائے۔ تہذیبی اور قومی زبان ہی ملک و قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔

  • سنیپ چیٹ کی”چِیٹنگ” — اشرف حماد

    سنیپ چیٹ کی”چِیٹنگ” — اشرف حماد

    سنیپ چیٹ بھی دوسری امریکی "لذیذ” نعمتوں کی طرح امریکی ملٹی میڈیا انسٹنٹ میسجنگ ایپ اور سروس ہے۔ جس کو اصل میں سنیپ چیٹ انکارپوریٹڈ نے "جلا بخشی” ہے۔

    اصل میں سنیپ چیٹ کی بنیادی ہنوز غیر محفوظ خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ "صاف و شفاف” تصاویر اور "ملائم” پیغامات عام طور پر صرف مختصر وقت کے لئے دستیاب ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے وصول کرنے والوں کے لئے ناقابل رسائی (Inaccessible) ہوجائیں۔

    ایپ اصل میں فرد سے فرد اور بقول مرزا "مرد سے خاتون تک” فوٹو شیئرنگ پر توجہ مرکوز کرنے سے تیار ہوئی ہے، جس میں فی الحال صارفین کی 24 گھنٹوں کے تاریخی مواد کی "پریم کہانیاں” شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ "ڈسکوور” آپشن بھی شامل ہے، جس سے برانڈز کو اشتہار کی حمایت یافتہ مختصر شکل کا مواد دکھانے کی اجازت ملتی ہے۔ مزید یہ کہ اس ایپ کو فوٹو جرنلسٹ بھی ایک دوسرے کو چوری چھپے حالات حاضرہ کی "عکسی کہانیاں” بھیجتے ہیں۔

    یہ صارفین کو پاس ورڈ سے محفوظ علاقے یا (ممنوعہ علاقے) میں تصاویر کو اسٹور کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے، جسے "محض چشمانِ من” کہا جاتا ہے۔ اس نے (ٹھیک صحافتی عینک کے اعتبار سے) #مبینہ_طور پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے محدود استعمال کو بھی شامل کیا ہے، جس میں آنے والے طوفانی زمانے میں اس کے استعمال کو وسیع کرنے کے منصوبے ہیں۔

    سنیپ چیٹ کو سٹینفورڈ یونیورسٹی کے من چلے نوجوان طلبہ اِیوان سپیگل، بوبی مرفی، اور ریگی براؤن نے تیار کیا تھا۔ کن "ارفع” مقاصد کے لیے بنایا تھا، ان کا اندازہ ہمارے قارئین خود لگا سکتے ہیں۔

    سنیپ چیٹ سوشل میڈیا کے لئے ایک نئی، اولین موبائل سمت کی نمائندگی کرنے کے لئے خوب جانا جاتا ہے، اور مجازی اسٹیکرز اور بڑھتی ہوئی حقیقت کی آشنائی کے ساتھ بات چیت کرنے والے صارفین پر نمایاں زور دیتا ہے۔

    جولائی 2021 تک، "خدا جھوٹ نہ بھلائے” سنیپ چیٹ کے 293 ملین والی طویل ترین روزانہ فعال صارفین کی تعداد تھی، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایک سال کے دوران صارفین کی لانبی قطار میں 23 فیصد اضافہ ہے۔

    اوسطا” ہر دن 4 ارب سے زیادہ سنیپ کبوتر ایپ کے ممبران کے پاس سنیپ لے کر آتے جاتے ہیں۔ سنیپ چیٹ نئی رومان پرور نوجوان نسلوں میں بے حد مقبول ہے۔ خاص طور پر 16 سال سے کم عمر کے شریف زادوں کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے لئے رازداری و پردہ داری کی بہت ساری تحفظات پیدا ہوتی جارہی ہیں۔

  • طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    وہ پرائمری جماعت کا طالب علم بچہ ہے، اس کی عمر اور جسمانی قوت کے لحاظ سے اس کا بستہ بہت بھاری ہے جو اس کے نازک کندھوں پر نشان ڈال دیتا ہے اور کمر توڑنے والا ہوتا ہے۔ وہ اسے ہانپتے کانپتے اٹھاکر اسکول پہنچتا ہے اور اسی حالت میں اسکول سے گھر لوٹتا ہے۔ یہ بھاری بستہ اس کے لیے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تکلیف دہ ہے۔ اس کی عمر کا اگر کوئی بچہ مزدوری کرتا ہوا نظر آئے تو سب کو بڑا ترس آتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی جاگ اٹھتی ہیں۔ اخباروں میں خبریں بھی لگ جاتی ہیں، عالمی سطح پر اس کے حقوق کی بابت کانفرنسیں بھی منعقد ہوتی ہیں، بچوں کے عالمی دن بھی منائے جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے پوری دنیا اس کے مسائل حل کرنے کے لیے متحرک ہوگئی ہے مگر کسی کو اس کا بستہ چھوٹا اور آسان کرنے کی فکر نہیں ہے۔

    یہ بھی آخر گوشت پوست کا انسان ہے اس کے سینے میں بھی بڑوں کی طرح ایک دھڑکتا دل ہے۔ آخر کب تک اس کے اس مسئلے پر صرف نظر کیا جاتا رہے گا؟ جب کہ طبی ماہرین نے بھی اس کے بھاری بستے کو اس کی عمر سے بڑا وزنی اور اس کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ہسپانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ وزنی اسکول بیگ بچوں میں کمر درد کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مسلسل وزنی بیگ اٹھانے کا عمل ان کی کمر کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اس سے بچنے کے لیے اپنے وزن کے 10 فیصد سے کم وزنی بیگ اٹھانے سے کئی مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔

    اسپین کے طبی ماہرین نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسکول جانے والے بچوں کو اپنے وزن سے 10 فیصد کم اسکول بیگ اٹھانے چاہئیں۔ وہ بچے جو اپنے ذاتی وزن سے 10 فیصد زائد کا اسکول بیگ اٹھاتے ہیں انھیں کمر درد کی تکلیف ہوسکتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے ماہرین نے 1403 طلباء پر تحقیق کی جن میں سے 12 سال سے 17 سال کی عمر کے 11 اسکولوں کے بچوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کے اسکول بیگ کا وزن ان کے اپنے وزن کے 10 فیصد سے زائد تھا ان میںسے 66 فیصد بچے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا پائے گئے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو کمر درد کی زیادہ شکایت تھی۔ پھر بھی کوئی نہیں سنتا۔ تعلیمی میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والے اگر اس کے بستے کو چھوٹا اور آسان نہیں بناسکتے تو پھر اس کے پاس کیا دلیل ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرے گا؟

    یہ جلی کٹی باتیں نہیں ہیں، پرائمری اسکول کا یہ معصوم بچہ تعلیمی پالیسی کا ستایا ہوا ہے۔ روزانہ ذہنی اذیت کا شکار یہ چھوٹا طالب علم روزانہ ان دانشوروں کی جان کو روتا ہے جو اس کی مشکل کو مانتے ہیں مگر حل نہیں کرتے۔ اپنے بستے کے بوجھ تلے دبے ہوئے بچے کی چیخیں واقعی کان دھرنے کے لائق نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس معصوم طالب علم کا بستہ بڑا ہونے میں اس کے لیے نصاب سازی کرنے والوں کی سطحی سوچ اور ذہنی مرعوبیت کا بڑا دخل ہے۔

    دنیا میں بڑے بڑے مسائل کی بابت لوگ گہرائی کے ساتھ سوچتے ہیں اور ان کے حل نکال لیتے ہیں مگر معصوم طالب علم کا بستہ چھوٹا کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی حل نہیں نظر آتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی کاروں، کوٹھیوں اور بنگلوں کو بڑی سرعت کے ساتھ بڑا کرنے والے بستے کو بھی اسی رو میں بہتے ہوئے بڑا کرنے میں مگن ہیں۔ معصوم طالب علم کا بستہ اب تک کتابوں کی غذا کھاکھا کر موٹا ہوتا جارہا ہے غالباً یہ موٹے دماغوں والے کی کارستانی ہے۔

    کسی زمانے میں انگریزی چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی اور چھٹی جماعت کا بچہ قدرے بڑا ہوتا ہے اور بستے کا جسمانی اور ذہنی بوجھ کس قدر آسانی سے اٹھاسکتا ہے۔ پہلے کم ازکم ایک انگریزی کی کتاب اور اس کے ساتھ چار کاپیوں کا بوجھ تھا۔ اب اس معصوم بچے کے بستے میں ایک انگریزی کی کتاب،ایک الفاظ معانی کی کاپی، ایک سبق کے آخر میں موجود مشقوں کے لیے اور ایک انگریزی خوشخطی کے لیے ہے جو کتابوں کے وزن اٹھانے کی بات ہے۔ ایک دفعہ اسکول جاتے ہوئے اور ایک دفعہ واپس آتے ہوئے انھیں اٹھانا پڑتا ہے۔

    اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا کہ پرائمری کے اس معصوم طالب علم کو جتنی محنت اور جتنی توانائی دوسرے تمام مضامین پر خرچ کرنی پڑتی ہے اتنی ہی توانائی انگریزی کے مضمون پر خرچ ہوتی ہے۔ پھر بھی اسے انگریزی نہیں آتی ہے۔ رٹے کی چکی میں پس پس کر اس کا دماغ تھک جاتا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ اس کی سائنس کو بھی اتنا پیچیدہ اور غیر فطری بنادیا گیا ہے کہ معصوم طالب علم اسکول سے بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بستہ ساز اسے پڑھنے نہیں دینا چاہتے۔ اخبارات میں کروڑوں روپے خرچ کرکے مہم چلائی جاتی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کروائیں، مگر اسکول میں ایک غیر ملکی زبان اور غیر فطری سائنسی نصاب کا بوجھ ڈال کر معصوم طالب علم کی تمام دلچسپیوں کو ختم کررہے ہیں ان حالات میں ایک معصوم طالب علم کا اسکول میں کیسے دل لگ سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ بستہ سازوں اور نصاب سازوں نے معصوم طالب علموں سے خاموش جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ملک کے کروڑوں بچوں کو بطور بیگار اس جنگ میں سپاہی کے فرائض انجام دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

    خدارا! معصوم طالب علموں کے ماتھے پر پریشانیوں کی شکنوں میں چھپے ان کے دل کے درد کو محسوس کیا جائے، کیا یہ جبری مشقت نہیں جو ہر روز ان سے لی جاتی ہے؟ کیا یہ ان کا حق نہیں کہ ان کا بستہ ان کی عمر، جسمانی صحت اور ذہنی سطح کے مطابق ہو؟ کیا انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس مسئلے کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کرنا چاہیے؟ یہ وہ جواب طلب معصوم طالب علموں کےسوالات ہیں جن کے جواب تعلیم سازوں کو دینے ہیں۔ قارئین کرام! آپ کا کیاخیال ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ معصوم طالب علم بچوں کی صدا ارباب اختیارات تک بھرپور انداز میں پہنچ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کار نیک کی جزا دینے والا ہے۔

  • علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن  — اشرف حماد

    علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن — اشرف حماد

    علامہ ڈاکٹر شیخ محمد اقبالؒ کے آبا و اجداد جنوبی کشمیر ضلع کولگام کے سوپٹ نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ان کے والد شیخ نور محمد کشمیری تھے۔ علامہ خود کہتے تھے کہ وہ کشمیری ہیں۔ وہ کشمیری زبان میں بات بھی کرتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ کے کشمیری خادم نے بھی ایک مقامی روز نامہ میں شائع انٹرویو میں کیا تھا۔ آغا اشرف علی اور محمد یوسف ٹینگ نے بھی ان خیالات کی تصدیق کی ہے۔

    علامہ اقبال کے استاد سید میر حسن کے متعلق بھی کہا جاتا ہے وہ کشمیری نژاد تھے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے پردادا شیخ جمال الدین کے چار صاحبزادے شیخ عبدالرحمان، شیخ محمد رمضان، شیخ محمد رفیق اور شیخ محمد عبداللہ کشمیر کے ابتر معاشی صورتحال سے مجبور ہو کر اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے اور سیالکوٹ، پنجاب میں آباد ہو گئے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے والد شیخ نور محمد، شیخ محمد رفیق کے بیٹے تھے۔

    ڈاکٹر شیخ محمد اقبال جب سیالکوٹ سے لاہور پہنچے تو یہاں پر اُنہوں نے کشمیریوں کی قائم کردہ تنظیم ’انجمن کشمیری مسلمانان‘ میں شمولیت اختیار کی اور اس نوعیت تک اس کے سرگرم ممبر بنے کہ اُنہیں تنظیم کے ذمہ داروں نے اس کشمیری انجمن کا سیکرٹری جنرل بنا دیا۔ محمد اقبال کشمیر، پنجاب اور ہندوستان بھر میں کشمیریوں کی حالتِ زار پر رنجیدہ ہوتے اور اسے بہتر بنانے کے لئے کوششیں کرتے رہے۔ جوانی ہی میں آپ کا یہ مطالبہ تھا کہ مہاجر کشمیریوں کو ریاست کے حکمران اپنے گھروں کو واپس آنے دیں۔ اُنہیں کشمیر میں آباد ہونے اور اپنی املاک کے خود مالک ہونے کا حق دیاجائے۔ اُن کی کشمیر سے والہانہ محبت اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایک موقع پر اُنہوں نے فرمایا:

    سامنے ایسے، گلستاں کے کبھی گھر نکلے
    حبیب خلوت سے ، سرِطور نہ باہر نکلے

    ہے جو ہر لحظہ تجلی گر مولائے خلیل
    عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے

    اس بات میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حکیم الامت محمد اقبالؒ کو کشمیر سے روحانی، جذباتی اور بے پناہ قلبی محبت تھی جس کا اظہار اُنہوں نے اپنے کلام، مضامین، خطوط اور عمل سے کئی موقعوں پر کیا ہے۔ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کو اپنے بزرگوں کے کشمیر کنکشن پر بہت ناز تھا۔ اُن کی رگوں میں دوڑنے والا لہو کشمیر کے شفق فام چناروں کی طرح سرخ تھا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

    تنم گلے زِ خیابانِ جنت کشمیر
    دلم از حریم حجاز و نواز شیراز است
    (یعنی میرا جسم کشمیر کے چمن کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارضِ مکہ و مدینہ اور میری صدا شیراز سے ہے‘)۔

    کشمیر سے آبائی تعلق رکھنے کے باوجود اُنہیں اس امر کا بھی گہرا احساس تھا کہ وہ اِس وادیٔ جنت نظیر کا مشاہدہ بچشم خود نہیں کرسکے۔ اسی احساسِ نے انہیں یہ اشعار کہنے پر مجبور کیا:

    کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہے
    اِس باغ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے

    ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیداد
    جو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے

    موتی عدن سے، لعل ہوا یمن سے دور
    یا نافہ غزال ہوا ختن سے دور

    ہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
    بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دُور

    حضرت علامہؒ 1921ء میں کشمیر تشریف لائے۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ ان کی میزبانی کے خواہش مند تھے لیکن اُنہوں نے مہاراجہ کی میزبانی سے معذرت ظاہر کی۔ انہوں نے وادی جنت نظیر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی سیاحت کی۔ وہ وادئ کشمیر کے قدرتی حسن سے محظوظ ہوئے۔ انہوں نے اس دوران اپنی آنکھوں سے کشمیریوں کی ناگفتہ بہ صورت حال کا بھر پور جائزہ لیا۔

    یہاں پر یہ بات اہم ہے جموں و کشمیر میں سیاسی سعی وجہد کا آغاز 1931ء میں شروع ہو چکا تھی۔ اُنہوں نے اپنی شاعری میں کشمیریوں کی بے بسی دور کرنے کا پیغام دیا۔ اُن کے دل کے آتش دان میں استقلال کی چنگاریوں کو اپنے گرم جذبات سے مزید حرارت بخشی۔ علامہ اقبال نے اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام نصیحت نامہ کی صورت میں اپنی مشہور کتاب "جاوید نامہ” تصنیف کی ہے ۔ اصل میں یہ پوری کتاب کشمیریوں میں جاگرتی کا پیغام دیتی ہے۔ سر محمد اقبال نے اس طویل مثنوی میں کشمیر پر ایک پورا باب لکھا ہے۔ اس شعری مجموعہ میں محمد اقبال عالمِ تخیلات میں کشمیر کے عظیم اولیاء، صوفیاء اور بزرگ شاعروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اپنی اس تخیلاتی ملاقات کے دوران محمد اقبال کشمیر میں بانیِ اسلام میر سید علی ہمدانیؒ سے بھی ملاقات کرتے ہیں۔ وہ اُن کے حضور اپنی یہ شکایت رکھتے ہیں: ’آپ کے ماننے والے آج سخت آزمائش میں مبتلا ہیں۔ آپ نظرِ کرم فرمائیں، ہماری شکایت پر توجہ دیں ، ہمیں فرمائے کہ آپ کی مدد کب پہنچے گی’۔

    جاوید نامہ میں وہ فارسی زبان کے ایک عظیم صوفی شاعر غنیؒ کاشمیری سے بھی عالم تخیل میں باتیں کرتے ہیں۔ یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ محمد اقبال کے قلب و قلم میں کشمیر رچا بسا تھا۔ 1939ء میں علامہ اقبال سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ اس عالمِ بقا کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے بھی وہ کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا بخشتے رہے۔ انہوں نے انہی دنوں یہ دعا کی تھی:
    توڑ اس دست ز جفا کیش کو یارب جس نےروحِ آزادیِ کشمیرکو پامال کیا

    علامہ کو دُکھ تھا کہ انگریزوں نے مہاراجہ گلاب سنگھ سے 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کا سودا کرکے پوری ریاست اس کے حوالے کی۔ علامہ اقبال نے1931ء میں کشمیریوں کی سیاسی مساعی کو منزل آشنا کرنے کے لئے ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ بھی بنائی۔ بعدازاں انہیں اس کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ لیکن کئی مصروفیات کی وجہ سے وہ ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ کے منصب صدارت سے مستعفی ہو گئے۔ لیکن ایک فعال کارکن کی حیثیت سے کمیٹی کے تمام اجلاسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔

    غرض علامہ کا کشمیر کنکشن تاریخی، دینی، روحانی اور ثقافتی نوعیت کا تھا۔ یہ تعلق بہت مضبوط اور مستحکم تھا۔ دانائے راز عمر بھر اس کنکشن کی آبیاری اور حق ادائی کرتے رہے۔

  • کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    کیری پیکر یا کیریر پیکر — اشرف حماد

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے آج پوری دنیا میں کرکٹ فِیور وائرس عام ہے۔

    آج کل جو گلیمر والا کرکٹ ہم دیکھ رہے ہیں اس کے باوِ آدم آسٹریلیا کے مشہور بزنس شوگان(Tycoon) مسٹر کیری پیکر ہیں۔ اپنے یہاں کچھ لوگ انہیں لوڈ کیریر بھرتی والا کہتے ہیں۔ کچھ کیریر پیکر کہتے ہیں، لیکن کچھ صاحب علم کرکٹ کھلاڑی ہی انہیں کیری پیکر کہتے ہیں۔

    کرکٹ کی پہلی واردات انگلینڈ میں ڈالی گئی تھی جب ہر چیز سفید پوش ہوا کرتی تھی؛ کپڑے سفید تھے، کھلاڑی سفید تھے، ٹی وی سیاہ اور سپید تھا، صرف بال براؤن کلر کے تھے۔ اس وقت کرکٹ کی وہ شکل نہیں تھی جو آج ہے۔ ان ایام میں ہر کھلاڑی کفن بر دوش تھا۔

    اس سے قبل کرکٹ میں، صرف ٹیسٹ میچ پہلے 6 دن (ایک دن آرام) کے دورانیے کے ساتھ کھیلے جاتے تھے۔ اوور 8 بالوں کا ہوا کرتا تھا۔ پھر ٹیسٹ 5 روزہ اور 6 گیندوں والے اوور کا ہو گیا۔

    1971 میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والا تیسرا ٹیسٹ میچ تین دن تک بارش پر قربان ہو گیا تھا اور منتظمین شائقین کی مایوسی اور پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہونے کے بعد ان کے مالی نقصان سے بہت پریشان تھے۔

    5 جنوری 1971 کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا جب روایتی پانچ روزہ ٹیسٹ کرکٹ کا اختتام 50 اوورز کی ون ڈے کرکٹ پر ہوا۔

    اس نئے رنگین ODI کرکٹ میچ کے نگران رنگین مزاج کیری پیکر تھے، جن کا مختصر نام کیری پیکر اور پورا نام "Packer Kerry Francis Bullmore” تھا۔ وہ دسمبر 1937 کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیدا ہوئے۔

    جب ان کے والد، سر فرینک پیکر کا 1972 میں انتقال ہو گیا، تو انہوں نے ایک کروڑوں کی مضبوط کاروباری ایمپائر سے بطور وراثت چھوڑ دی جسے کیری پیکر نے سنبھالا۔ اس "معمولی ترکہ” میں صرف آسٹریلیا کے 9 ٹیلی ویژن نیٹ ورک تھے۔ گویا میڈیا پر ان کی گرفت کافی مضبوط تھی اور میڈیا ان کی کنیز تھا۔

    1977 میں، کیری پیکر نے کرکٹ کے حلقوں میں ادھم مچا دی جب، آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے ساتھ میچوں کو نشر کرنے کے حقوق پر تنازعہ کے بعد، اس نے ورلڈ سیریز کرکٹ کا آغاز کیا، جسے کیری پیکر کرکٹ سیریز یا کیری پیکر کرکٹ سرکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نے دنیا بھر کے بہترین کرکٹرز کو بھاری معاوضوں پر کام پر لگا دیا۔

    کیری پیکر کے ساتھ بندر بانٹ کرنے والوں میں ویوین رچرڈز، ڈینس للی، مائیکل ہولڈنگ، ٹونی گریگ، بیری رچرڈز، ظہیر عباس، ماجد خان اور عمران خان سمیت دنیا کے چند بہترین کھلاڑی شامل تھے۔

    کیری پیکر نے ون ڈے کرکٹ کو منظم کرکے ایک نئے نویلے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا اور پہلی بار کھلاڑیوں نے رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کئے۔ ڈے اینڈ نائٹ کرکٹ کا آغاز بھی کیری پیکر نے کیا، اس طرح کرکٹ کی تاریخ بدل گئی۔

    دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز نے کیری پیکر کے خلاف خیالی محاذ بنا لیا اور اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ سیریز کھیلنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کھلاڑیوں کی "کفاف” میں اضافہ کرکے کرکٹ بورڈز کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

    بعد ازاں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کیری پیکر سے مفاہمت کی لیکن اس دوران انہوں نے کرکٹ کو جو رنگ دیا وہ اب بھی موجیں مارتا ہے اور یہ مزید نکھر گیا ہے۔

    کرکٹ کا ایک نیا انداز جو برطانیہ میں 2003 میں متعارف کرایا گیا تھا، ٹی 20 تھا۔ اس نئے طرز کی کرکٹ میں دونوں ٹیمیں 20 اوورز کی اننگز کھیلتی ہیں۔ اب پانچ پانچ دن فاقے اور مزدوری نہیں کرنا پڑتی ہے۔

    پہلا T20 کرکٹ ورلڈ کپ 2007 میں جنوبی افریقہ میں ہوا تھا جس میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی تھی۔
    آج اس کلرفل کرکٹ کو دیکھنے والوں کو شاید کیری پیکر یاد نہ ہوں لیکن کیری پیکر اس جدید کرکٹ کے بانی ہیں۔

    17 دسمبر کو پیدا ہونے والے کیری پیکر کا انتقال 26 دسمبر 2005 کو گردوں کی خرابی سے ہوا۔

  • موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں  — اشرف حماد

    موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں — اشرف حماد

    ’’پیش گوئی ‘‘ یا پشین گوئی فارسی ترکیب ہے یعنی دو فارسی لفظوں کا "معجون” مرکب۔ پیش کے معنی ہیں آگے یا سامنے اور گوئی کے معنی ہیں بات یا باتیں کہنا۔ اسی لیے جب کسی کے آگے یا سامنے کوئی چیز رکھتے ہیں تو اسے پیش کرنا کہتے ہیں۔ یا ماڈرن انداز میں Present کرنا کہتے ہیں۔ جیسے پیشِ خدمت ، پیش رو (یعنی آگے جانے والا)، پیشِ نظر(یعنی نظر کے سامنے)، پیش قدمی (یعنی قدم آگے بڑھانے کا عمل)اور پیش کار وغیرہ۔

    پیش امام میں بھی یہی "پیش” نتھی کیا گیا ہے یعنی ’’آگے‘‘ ہے کیونکہ وہ نماز میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔ یا اسے آگے کھڑا کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اسے پیش امام کہتے ہیں۔ پیش امام تو اہل تشیع کا با اختیار ہوتا ہے۔ جب کہ سنیوں کا پیش امام "ڈیجیٹل” ہوا کرتا ہے۔ سلو یا فاسٹ ڈیجیٹ کے حساب سے وہ امامت کراتا ہے۔ ان ڈیجیٹس کا استعمال مسجد کمیٹی کے ریٹائرڈ ممبران بخوبی استعمال کر سکتے ہیں۔

    اسی طرح "پیش بینی” کے معنی ہیں پہلے سے دیکھ لینا اور اس سے مطلب ہے دُور اندیشی یا آنے والے حالات کا پہلے سے اندازہ کرلینا۔ دور اندیش اصل میں گھر کے بڑے بوڑھے ہوتے ہیں۔ حالانکہ نزدیکی نظر ان کی کمزور ہوتی ہے، لہٰذا انہیں عینک کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور بہت زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ مگر دور کی نظر ان کی بہت تیز اور تیر بہدف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول سعدی شیرازیؒ جو کچھ جوان آئینہ میں دیکھتا ہے وہ یہ بزرگ حضرات خشتِ خام تو کیا کنکریٹ دیوار میں بھی دیکھ سکتے ہیں، جیسے یو ٹیوب کے ایچ ڈی ویڈیوز۔

    فارسی میں اسم کے آگے ’’ین ‘‘ لگانے سے صفت بنائی جاتی ہے، جیسے نمک سے نمکین، رنگ سے رنگین،زر سے زرّین یا زرّیں، عنبر سے عنبرین، مطلب عنبر سیب سے سیب عنبرین وغیرہ۔ پتہ نہیں سیب عنبر کے متعلق کس نے بد گوئی کی تھی کہ یہ سرے سے ناپید ہوا بلکہ ناپید کیا گیا۔ اب تو یہ کسی دلہن کے خواب میں بھی نہیں آتا تاکہ اس کے بیٹا پیدا ہو جاتا۔

    اسی اصول پر لفظ پیش (پ ے ش)سے فارسی میں صفت بنی ’’پیشیِن‘‘ (پ ے ش ی ن ) ،جس کے معنی ہیں اگلا یا آگے کا، سامنے کا، پہلا۔ اسے اردو میں ’’پیشین ‘‘یعنی اعلان ِ نون کے ساتھ بھی لکھتے ہیں اور’’ پیشیں ‘‘یعنی نون غنے کے ساتھ بھی۔ لفظ پیشین سے ترکیب بنی ہے پیشین گوئی ،لفظی معنی ہیں پہلے سے کہنا ۔ جب آگے آنے والے واقعا ت و حالات کے بارے میں ان کے رونما ہونے سے پہلے بتادیا جائے تو اسے پیشین گوئی کہتے ہیں ۔جو شخص آنے والے حالات کے بارے میں پہلے سے کچھ بتا دے اسے پیشین گو کہتے ہیں، چاہے وہ سیاسی واردات ہوں یا موسم کا حالِ بد ہو۔

    لیکن ’’مستقبل کے حالات کی پہلے سے خبر دینا ‘‘کے معنوں میں پیشین گوئی بہتر ہے۔ البتہ آج کل ٹی وی پر خبریں پڑھنے والے بعض حضرات اسے ’’پیشن ‘‘ گوئی بولتے ہیں، مثلاً محکمۂ موسمیات نے بارش کی ’’ پیشن گوئی ‘‘ کی ہے ، یعنی نہ پیش اور نہ پیشین بلکہ ایک نیا خود ساختہ لفظ پیشن بولا جارہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کشمیریوں نے ظہر کو پیشن میں بدل دیا ہے۔

    لفظ پیش گوئی کی تاریخ پرانی ہے۔ اگلے وقتوں میں تنجیم داں ہوا کرتے تھے جو مستقبل کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے تھے۔ پھر جمشید کے پیالے میں گلوبل ولیج دیکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں شاہ نعمت اللہ علیہ رحمہ نے پیشین گوئیاں کیں جو ایک ایک کرکے پوری ہو رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کشمیریوں اور کشمیر کے متعلق ان کی پیشین گوئیوں میں Delay Tactics سے کام لیا جارہا ہے۔
    پیشین گوئیاں موسمی، سیاسی، سماجی، نوکر شاہی اور کنبے کے "پنڈت” کرتے آئے ہیں، مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ اور گھبرائے گا نہیں وہ یہ فریضہ بلا معاوضہ انجام دیتے رہیں گے۔
    بہرحال پیشین گوئیاں تب بھی تھیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ مگر اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں ان کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کو سب زیادہ ہائپ دی جارہی ہے جس سے زندگی کا کارواں رکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پیش گوئی ایک اندازہ ہے، امکان ہے۔ اسے ایسا ہی رہنے دیں۔ اس پر افواہیں پھیلا کر سیاست نہ کی جائے۔ یہ آپ کا اس مظلوم قوم پر بڑا احسان ہوگا۔

  • ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    ہمارا سوشل فیبرک اور "سازشی” تھیوریاں — اشرف حماد

    اپنے یہاں اگر کسی کو زُکام ہوجائے تو وہ ایک ہی سانس میں "انکشاف” کرتا ہے کہ یہ ایک "بین الاقوامی سازش” ہے۔ اِسی طرح اگر اپنی ہی لاپرواہی سے کسی کی گائے گُم ہوجائے تو وہ اس کو فوری طور "خطرناک سازش” قرار دیتا ہے۔ سازشی مسئلہ(Conspiracy Theory) گھڑ لینے میں ہم بڑے ماہر واقع ہوئے ہیں۔ کوئی عام سا پرابلم بھی ہو جب تک نہ ہم اسے "گہری سازش” قرار دیں تب تک ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا ہے۔

    ہمارے سماجی پیرہن کو اتنے داغ لگ چُکے ہیں کہ اس کی ہیئت(Shape) مسخ ہونے کا خدشہ نظر آتا ہے۔ جی ہاں مُنشیات کے داغ، ڈرگ ٹریفک کے داغ، چرس، گانجا، افیون، ہیروین اور مےخواری کے داغ، خودکُشی، خود سوزی اور بہوؤں کو زندہ نذر آتش کرنے کے داغ، شادیوں پر بے پناہ اسراف کے داغ، چوری و سرقہ بازی کے داغ، بےحسی، بددیانتی اور رشوت خوری کے داغ وغیرہ، وغیرہ۔ یہ داغ ہمارے سوشل فِیبرِک پر اتنے سخت گہرے ہوچکے ہیں کہ اس پیرہن میں اب ان کی وجہ سے بڑے بڑے چھید ہونے لگے ہیں۔ اگر معاشرتی برائیوں کا یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا تو ہمارا سماجی پیرہن ایک چیتتھڑا بن کر رہ جائے گا۔

    ایک دل خراش خبر کے مطابق جُمعہ کو حکام نے بتایا کہ بڈگام ضلع میں پولیس نے دو خواتین سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے بُردہ فروشی گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا 14 مظلوم خواتین کو بچا لیا گیا جبکہ اور مزید گرفتاریاں ہوسکتی ہیں۔

    ضلع میں خواتین اغوا کاری کے مذموم فعل کی اطلاع پر بروقت اور قابلِ تحسین کارروائی کرتے ہوئے، بڈگام پولیس کی فعال ٹیم نے موضع ڈلی پورہ میں ایک مخصوص جگہ پر چھاپہ مار کر شمیم ​​احمد بٹ کے گھر سے 14 بے بس خواتین (جن میں کئی نابالغ بچیاں بھی تھیں) کو محفوظ بنا لیا۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ گرفتار ملزمان بشری اغوا کاری میں ملوث تھے اور اس کے ذریعے خواتین کو مختلف جگہوں سے اغوا کرکے ضلع بڈگام اور وادی کی دوسری جگہوں میں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔

    سماجی اعتبار سے یہ ایک باعث شرم اور سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن اس انسانی سمگلنگ میں جو ملوث افراد ہیں وہ بڈگام ضلع کے مقامی باشندے ہیں۔ نہ وہ غیر ریاستی ہیں اور نہ ہی غیر ملکی ہیں۔ لہٰذا اس قبیح فعل کو ہم کیسے کوئی "خطرناک سازش” قرار دے سکتے ہیں(جو کہ ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے)۔

    اصل معاملہ یہ ہے کہ کشمیر میں اب زیادہ تر لوگوں کو راتوں رات امیر بننے کا آسیب سوار ہو گیا ہے۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے دولت سمیٹے۔ اس میں اگر کسی کا حق مارا جائے، کسی کا گلا کاٹنا پڑے، کسی کو لوٹنا پڑے اور کسی کے یہاں ڈاکہ ڈالنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سماجی بدعات، معاشرتی برائیوں، جہیز، اسراف، حق ماری، استحصال، بلیک میلنگ، منشیات سمگلنگ، ڈرگ ایڈکٹنگ اور اس نوعیت کی قبیح برائیوں سے باز آجائیں۔ اس کے لیے ہمیں دوسروں کے نقائص نکالنے کے بجائے خود احتسابی کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ ورنہ سازشی تھیوریاں تخلیق کرنے سے ہمارا معاشرہ صحیح ڈگر پر کبھی نہیں آسکتا ہے۔

  • کشمیری میوہ صنعت موت کے مُہنہ میں — اشرف حماد

    کشمیری میوہ صنعت موت کے مُہنہ میں — اشرف حماد

    کشمیر بظاہر ایک قلع بند وادی ہے، جس کے چاروں اطراف فلک بوس کوہسار ہیں۔ یہ دیو قامت کوہسار کشمیر کے فطری اعتبار سے حفاظتی حصار ہیں۔

    لیکن اس سب کے باوصف وادئ کشمیر ایک بوتل بند سرزمین نہیں ہے۔ جہاں قدرت نے اس کے اردگرد فلک بوس دیوار کھڑا کی ہے وہاں اس جنت نشین خطہ کو بہت سے فطری راستے بھی عطا کئے ہیں جن سے وادی کا رابطہ دنیا جہاں سے تھا۔ مثال کے طور پر شاہراہ ابریشم کی راہداری، جو کشمیر کو وسطی ایشیا، مشرقی وُسطی اور چین سے ملاتی تھی۔ اسی طرح مُغل شاہراہ، جو وادی کو ۱۹۴۷ سے قبل ہندوستان اور افغانستان سے ملاتی تھی۔ اوڑی والا راستہ جو پنجاب اور افغانستان سے ملاتا تھی۔ اور اگر کلاروس کے غاروں کے پس منظر کو صحیح تسلیم کیا جائے تو یہ فطری ٹنل کشمیر کو رُوس سے اور یورپ ملاتا تھا۔ اس کے علاوہ جموں سرینگر راستہ جو ڈوگرہ مہاراجوں نے تعمیر کیا تھا۔

    مگر اس کا کیا کیا جائے کہ 1947 کے غیر فطری تقسیم نے پوری وادیِ کشمیر کو بوتل بند کرکے رکھ دیا۔ صرف ایک راستہ بچا جو سرینگر جموں راستہ کہلاتا ہے۔ مگر اس کے متعلق ہمارے مرحوم صاحبِ انکل جی اے مانتو کہتے تھے کہ یہ "جغرافیائی راستہ نہیں ہے بلکہ سیاسی راستہ ہے”۔ مرحوم بخشی غلام محمد کے دورِ وزارت اعظمی میں مغل شاہراہ کو تعمیر کرنے کی تجویز ہوئی لیکن اُس وقت کی مرکزی سرکار کو کیا محرکات نظر آئیں کہ اُس نے مغل روڈ کو تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ خیر تقسیم ہند کی نصف صدی کے بعد مفتی محمد سعید جب وزیر اعلی بنے تو انہوں نے کشاں کشاں مغل شاہراہ کو تعمیر کیا۔

    کشمیر کے فطری راستے بند ہونے سے کشمیری معیشت کو زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پڑ رہا ہے؛ بلکہ کشمیر کے مسدود راستوں کی وجہ سے کشمیر کی اقتصادیات کو آج بھی بقا کے لالے پڑے ہیں۔ یہاں کی ساری آزاد تجارت بوتل بند اور محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

    راستوں کی اس نایابی کے سب انتہائی بڑے نقصانات یہاں کی میوہ صنعت اٹھانا پڑے اور تادم تحریر یہ مشکل ترین سلسلہ جاری ہے۔ بہرحال اب مغل شاہراہ اور جموں سرینگر شاہراہ وہ واحد راستے ہیں جن کے ذریعے میوہ جات وادی سے باہر جاسکتے ہیں۔ لیکن چونکہ جموں سرینگر شاہراہ کی کشادگی اور چہار راہ(Four way) پر تعمیر جاری ہے جس سے میوہ جات کشمیر سے باہر جانے میں انتہائی پیچیدہ مسائل پیدا ہوئے۔ شروع میں مال ٹرکوں کی آمد رفت کے لئے صرف 4 گھنٹے مختص کئے گئے جو انتہائی ناکافی تھے۔ اس حوالے سے ٹرک ڈرائیوروں کا کہنا ہے پورے ایک مہینے میں انہیں صرف دو بار وادی سے باہر جانے کا موقع ملتا تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں میوہ ٹرک درماندہ ہو رہے تھے جس کے کارن میوہ راستے میں ہی سڑ جاتا ہے اور بعد میں باہر کی منڈیوں میں کوڑیوں کے مول بک جاتا ہے۔ اس صورتحال سے فروٹ گروورز سخت نالاں ہوئے اور سرکار سے فریادی ہوئے۔ سرکار بھی نیند سے جاگی اور بعد از خرابی بسیار حکم جاری کیا کہ میوہ ٹرکوں کو "بلا روک ٹوک” جانے دیا جائے۔

    لیکن ایک تو راستے کی رکاوٹیں اور دوسرے بمپر کراپ کی وجہ سے کشمیر کا شاندار اور لذیذ سیب اپنی افادیت کھو بیٹھا اور کوڑیوں کے مول ہر جگہ بکنے لگا۔ راجستھان میں پچاس روپے میں تین کلو، ممبئی میں تین سو روپے فی پیٹی اور دہلی میں تین سو سے چھ سو اور یہاں دو سو سے پانچ سو کی گراوٹ تک پہنچ گیا۔

    ایک گروور نے مجھے ۴ سال پہلے پنجورہ نامی "میوہ گاؤں” میں بتایا تھا کہ میوہ اگانے والے کو خود ایک پیٹی سیب 400 روپے میں بغیر پیٹی کے حاصل ہوتی ہے۔ یعنی درختوں پر ہی۔ اب 500 روپے تک اس کی درختوں پر ہی لاگت آتی ہے۔ اور آج اس کو یہاں دو یا چار سو ملتے ہیں۔ یہ تو اس انڈسٹری کا زوال ہے۔ امسال یہ صنعت انتہائی زوال کا شکار ہے۔ بلکہ اگر کہا جائے تو اپنی موت کے قریب ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پلوامہ ضلع میں کئی باغ مالکان کو اپنے باغات میں سیب کے درخت کاٹنے کے ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر ہو رہے ہیں!

    سوال یہ ہے کہ اگر مختلف ریاستوں سے بمپر پیداوار ہوتی ہے تو مرکزی حکومت دوسرے ملکوں سے کیوں سیب بڑی تعداد میں برآمد کرتی ہے؟۔ موجودہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت یہاں سے ہی سیب کو ایکسپورٹ کرے۔ باہر سے سیب کی برآمد پر فوری طور مکمل پابندی لگائے۔

    حال ہی میں ترکی سے خبر ملی ہے کہ تُرکیہ حکومت نے 24 بلین ڈالر کے میوے مشرقی وسطی اور خلیج کے ملکوں کو ایکسپورٹ کئے۔ یہ 2 ٹرلین اور 95 ارب ہندوستانی روپے بنتے ہیں۔ لیکن کشمیر کے گروورز بوتل بند ہیں۔ ان کی باقی دنیا کے ساتھ رسائی ایک حسرت، تمنا ہی نہیں بلکہ ایک ڈراؤنا خواب ہے!