Baaghi TV

Tag: اشرف حماد

  • انسٹا”کلوگرام”پر کیاکیا نہ پوسٹ کریں!!! — اشرف حماد

    انسٹا”کلوگرام”پر کیاکیا نہ پوسٹ کریں!!! — اشرف حماد

    انسٹاگرام اب دنیا بھر کے بےکاروں کے لئے نیا نہیں ہے۔ ہر روز لوگ انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لئے لاکھوں لال گلابی چیزوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ ایک انقلابی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ثابت ہوا جب کہ فیس بک لوگوں کو اس پر گاگا بنا رہا تھا۔

    جس چیز نے انسٹاگرام کو دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے "رومانوی” بنایا وہ اس کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کی انوکھی خصوصیت ہے ۔ یہ ایک براہ راست فارورڈ میڈیا شیئرنگ کی جگہ ہے جہاں صارفین کو پیغام رسانی کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    مزاحیہ چیزیں :
    یہ سیکشن نہ صرف آپ کو انسٹاگرام پوسٹس کے حوالے سے حالیہ ٹرینڈز کے بارے میں بتانے جا رہا ہے بلکہ انسٹاگرام پر بھی پوسٹ کرنے کے لیے کچھ مضحکہ خیز چیزوں کے بارے میں بتانے جا رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ نیچے دی گئی چیزوں کو پسند کریں گے اور یہ آپ کے اکاؤنٹ پر انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزوں پر لائکس بڑھانے میں مدد کرے گا۔

    فننی اقتباسات:
    اگر آپ انسٹاگرام پر نیا اکاؤنٹ یا نیا صفحہ ترتیب دے رہے ہیں تو میرے خیال میں آپ کو انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزوں سے شروع کرنا چاہیے اور وہ بھی مضحکہ خیز حوالوں سے۔ آپ انہیں پورے انٹرنیٹ پر آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا اتنا مشکل ہے اور آپ ایسی تصویروں کے ذریعے کچھ کمال کریں گے۔
    یہ مضحکہ خیز اقتباسات کسی کے بارے میں یا صرف عام معنوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کچھ ٹیکسٹ ایڈیٹنگ اور پھر امیج کی فارمیٹنگ کی مدد سے اپنے مضحکہ خیز اقتباسات بھی بنا سکتے ہیں۔

    ٹراول:
    سوشل میڈیا کے دیوانے لوگوں میں ٹرول ایک نیا مضحکہ خیز فن ہے۔ یہ صرف انسٹاگرام کے بارے میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ دوسرے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوتا ہے جیسے ٹویٹر، فیس بک، اور سنیپ چیٹ وغیرہ۔ آپ دیکھیں گے کہ آج کی دنیا میں، اگر آپ لائم لائٹ میں رہنا چاہتے ہیں، تو بس حالیہ ایونٹ کو ٹرول کریں۔

    میں کسی اچھی چیز کے لیے کسی مخصوص شخص کو ٹرول کرنے کی کھلے عام حمایت نہیں کر رہا ہوں۔ لیکن اگر یہ کرنا قابل ہے تو کیوں نہیں؟ یہ کسی کے لباس، ظاہری شکل، فلموں، سیاست یا کسی اور چیز کے بارے میں ہوسکتا ہے۔

    طنزیہ تصاویر:
    انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے اس قسم کی Funny چیزیں صرف مخصوص وقت کے لیے ہیں۔ جب بھی آپ کو لگتا ہے کہ کوئی واقعہ تمام تر قیاس کے قابل ہے تو آپ اس کے لیے کچھ طنزیہ تصاویر پوسٹ کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے نہ صرف آپ کی سوشل میڈیا پر موجودگی بڑھے گی بلکہ آپ بڑے پیمانے پر سامعین پر ڈورے ڈال سکتے ہیں۔

    شارٹ کامکس امیجز:
    یہ آپ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوری مزاحیہ پوسٹ کرنا ناممکن کی طرح ہے جب تک کہ آپ اس کے لئے "مادر پدر” آزاد نہ ہوں یا آپ کے پاس بہترین ڈیٹا کنکشن ہو۔ ٹھیک ہے، اب ظاہر ہے کہ آپ کے مداحوں کو تفریح ​​فراہم کرنے کے لیے ایک درمیانی راستہ درکار ہے اور یہ ایسی مثالوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    گفز:
    گرافکس انٹرفیس فارمیٹ یا GIFs شہر میں نئی ​​ٹرینڈنگ چیز ہیں۔ آپ انہیں "صاف” تصاویر یا مختصر ویڈیوز بھی کہہ سکتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر "محو رقص” ہیں اور یہ موشن پکچرز آپ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کرنا واقعی حیرت انگیز ہیں۔

    مزاحیہ ویڈیوز:
    انسٹاگرام نے ویڈیو کی "قد وقامت” کی حد کو بھی 60 سیکنڈ تک بڑھا دیا ہے۔ لہذا، یہ آپ کے لیے کچھ حیرت انگیز طور پر مضحکہ خیز اور مزاحیہ ویڈیوز پوسٹ کرنے کا بہترین موقع بناتا ہے جیسا کہ انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے مضحکہ خیز چیزیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ویڈیوز کی طرح کچھ بھی مضحکہ خیز ہوسکتا ہے۔

    ظاہر ہے، تصاویر بھی مضحکہ خیز ہیں لیکن سامعین اور پیروکاروں تک جو چیز زیادہ پہنچتی ہے وہ یقینی طور پر ویڈیوز ہیں۔

    قصہ کوتاہ:
    ایک سے زیادہ تصاویر میں مختصر کہانی کافی عرصے سے انسٹاگرام نے صارفین کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد تصاویر شیئر کرنے کی سہولت حاصل کی۔ اب، آپ اپنی گیلری سے 10 تک ایک سے زیادہ تصاویر اڑا سکتے ہیں اور اسے اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کر سکتے ہیں یہاں تک کہ فلٹر لگانے کے ساتھ بھی۔

    حرف "تاخیر”:
    انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے لیے واقعی مزاحیہ فننی چیزوں کا انتخاب کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ یہ نہ صرف آپ کے پیروکاروں میں اضافہ کرے گا بلکہ آپ کو مختلف لوگوں سے "جُڑنے” میں بھی مدد ملے گی۔ تفریح ​​​​ایک ایسی تفریق ہے جو کبھی بھی رجحانات سے باہر نہیں جاتی ہے۔ اور یہ وقت لوگوں کو اچھی طرح سے پلیجر دینے کا ہے۔

  • جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    گزشتہ ہفتے، میں نے کچھ ایسا کیا جو بہت سے لوگ ہر روز کرتے ہیں: میں نے ایک مذاق ٹویٹ کیا. اس معاملے میں مذاق ایک جعلی کالج انگریزی کلاس مضمون کی ایک تصویر تھی جو میں نے ٹام اور جیری کے بارے میں ٹائپ کیا تھا، پھر اسے ٹویٹ کرنے سے پہلے مایوس سرخ قلم کے نوٹ اور ڈی گریڈ کے ساتھ نشان زد کیا گیا تھا جیسے میں اس کی عقل کے اختتام پر پروفیسر تھا. واضح ہونے کے لئے، میں کالج پروفیسر نہیں ہوں – میں اصل میں جے ایم( جھک مارنا) میں کام کرتا ہوں اور ایک مزاحیہ کردار ہوں جو وادی میں کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، ممکنہ طور پر دوسرے لوگوں کے لئے جو جے ایم میں کام کرتے ہیں. لیکن اس نے ہزاروں لوگوں کو نہیں روکا.

    گزشتہ پیر کے بعد سے ، ٹویٹ کو مٹھی بھر بڑے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا گیا ہے ، جو ٹویٹر پر ایل او ایل جی او پی اور بز فیڈ کے ذریعہ شیئر کیا گیا ہے ، جو بڑے عالمی نیوز سائٹوں کا احاطہ کرتا ہے ، اور اس وقت اس پر تقریبا ایک ملین لائیکس ہیں ، جس کے جواب "میں نے طویل عرصے سے اتنی سختی سے نہیں ہنسا ہے” سے لے کر "آپ کو گرفتار کیا جانا چاہئے” تک۔ تو یہ سب کیسے ہوا ، اور ایک گونگا مذاق دیکھنا کیسا ہے جسے آپ نے کنٹرول سے باہر وائرل ٹویٹر لمحے میں سرپل بنا دیا ہے؟ اس سب کی وضاحت کرنے میں مدد کرنے کے لئے، میں نے پورے کو دستاویزی کیا.

    کچھ مضحکہ خیز لائن میں ترمیم کے ساتھ گڑبڑ کرنے کے بعد ، میں اپنے "کاغذ” کی دوسری کاپی پرنٹ کرتا ہوں جس کے ساتھ میں چاہتا ہوں کہ میرا حتمی ورژن کیا ہو۔ تاہم، مجھے احساس ہے کہ ایک طالب علم کے لئے ٹام اور جیری کے بارے میں صرف ایک کاغذ میں ہاتھ ڈالنا بہت عجیب ہے. یہ تفویض کیا تھی؟ لہذا میں مشہور ٹامس کے بارے میں سوچتا ہوں اور اوپر ایک لائن شامل کرتا ہوں ، یہ دعوی کرتے ہوئے کہ تفویض عظیم گیٹسبی سے ٹام بوکانن کے بارے میں ہونا چاہئے تھا۔

    میرے دوپہر کے کھانے کے وقت میں جانے کے لئے تین منٹ کے ساتھ، میں نے کیپشن کے ساتھ ٹویٹ پوسٹ کیا "اس سمسٹر میں میرا پہلا انگریزی کورس سکھانا فائدہ مند رہا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ اس طالب علم کے ساتھ کیا کرنا ہے،” اس بات کو یقینی بنانا کہ ٹویٹر کے لئے اسے صحیح طریقے سے "ہینڈل” کریں، اپنے دوستوں سے کچھ پسند کرنے کی امید ہے.

    اسے کچھ ریٹویٹس اور تقریبا سو لائکس ملتے ہیں۔ میرا ایک دوست جو ایک جے ایم شو میں کام کرتا ہے مجھے مصنفین کے کمرے سلیک کا اسکرین شاٹ بھیجتا ہے ، اور وہ ان تمام مضحکہ خیز تفصیلات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جو میں نے اس میں ڈال دی ہیں۔

    کیا میری زندگی بدل گئی ہے؟ واقعی نہیں. میرے پاس اپنی شرارت کے بارے میں کچھ مضامین ہیں اور ٹویٹر پر کچھ ہزار مزید پیروکار ہیں۔

    لیکن میں جے ایم آفس میں اپنے دوپہر کے کھانے کے وقفے پر اپنی میز پر واپس آ گیا ہوں. میں لاکھوں لوگوں کے لئے اپنے ایک ہٹ گانے کو انجام دینے کی طرح وائرل ہونے کی وضاحت کروں گا: اگرچہ یہ ایک بہت ہی خوفناک چار منٹ ہے ، جب آپ کام کرلیں تو باہر نکلنے کے لئے ان سب فائلوں کو دیکھنے کے لئے تیار رہیں۔ لہذا میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر کشتیاں جلا کر ٹویٹر کے کوزے میں ہاتھ پاؤں مارتا ہوں۔

  • فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بک کی دنیا بھی عجیب و منفرد دنیا ہے۔ فیسبک پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں۔ اس دنیا کے تقاضے ہی کچھ عجیب و غریب ہیں۔ یہاں محلاتی سازشیں پریموٹ ہوتی ہیں۔ فیس بک پر تصوارتی دنیا کی حکومتیں بنائی بھی جاتی ہیں اور گرائی بھی جاتی ہیں۔

    ادھر دنیا جہاں کو ورلڈ آرڈر دیا بھی جاتا ہے اور اس کی دھجیاں بکھیری بھی جاتی ہیں۔ یہاں مذاہب کی اشاعت و ترویج بھی ہوتی ہے اور بیخ کنی بھی۔ یہاں سخن سازی بھی ہوتی ہے اور سخن شکنی بھی اتنی ہی شدومد سے ہوتی ہے۔ ادھر قصیدہ گوئی بھی ہوتی ہے اور کردار کشی بھی۔

    فیس بک پر مزاح کے ایسے لطیف نمونے بھی دریافت ہوتے ہیں کہ طبعیت ہشاش بشاش ہو جائے اور مزاح کے نام پر خشت باری بھی ایسی ہوتی ہے کہ روح اندر تک لہولہان ہو جاۓ !

    اس دنیاء فیسبک میں آباد ہوۓ راقم کو بھی "عشرہ دراز” ہو گیا ہے اور اس دنیا کے حسن و قبح سب کا وقتاً فوقتاً نظارہ کیا ہے۔ بہت کچھ سیکھنے اور بہت کچھ سکھانے کا بھی موقع ملا۔ سکھانے کا موقع ایسے ملا کہ کچھ مہربان ایسے بھی تھے جنہوں نے ہماری غلطیوں سے سبق سیکھا۔ ہماری کوتاہ اندیشیوں اور حماقتوں سے سبق حاصل کیا اور یوں ہم بھی سکھانے والوں میں شامل رہے۔ جہاں تک رہی بات سیکھنے کی، تو ارباب دانش سے بھی سامنا ہوا اور عقل و دانش کے موتی سمیٹے۔ اربابِ حل و عقد سے بھی تصادم ہوا کہ زخمی روح اور سلگتے دماغ سے آئندہ کے لیے ایسے اصحاب سے میلوں دوری کا عہد کرتے ہوۓ بلاک کا بٹن دباتے رہے۔

    فیس بک ایک لا منتہائی ہجوم ہے جس میں انسانی سروں کا ایک سمندر تا حد نظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سروں میں کن کن خیالات کے "سر خراب” موجزن ہیں، ان کا اندازہ لگانے میں وقت لگتا ہے۔ کسی پیچ پر سینکڑوں لائک دیکھ کر آپ کو فیس بکی دانشور کی قابلیت و بصیرت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ بہت ممکن ہے کہ یہاں لائک کا بٹن دبانے والے وہ منچلے ہوں جو جنسیات کے دلدادہ ہوں اور دماغوں میں شہوانی خیالات کی طلاطم خیز لہروں میں بہتے ہوئے وہ اس پیج تک آ پہنچے ہوں اور مزاج اور خواہش کے عین مطابق یہاں من پسند خیالات کا سمندر بہہ رہا ہو۔ دانش ور صاحب اپنی سفلانہ دانش سے خود بھی اشنان کر رہے ہوں اور دوسروں کو بھی غسل دانش سے بہرہ مند کر رہے ہوں۔

    کچھ دانشور حضرات وہ بھی ہیں جن کی سیاسی بلوغت ابھی پروان بھی نا چڑھی تھی کہ انہوں نے عالمانہ لیکچر دینا شروع کر دیا اور شومئی قسمت کے ہم خیالوں کا تانتا بھی بندھ گیا۔ اب وہ اپنی سیاسی دانش کی کچی پکی ہانڈی لیے فیس بک کے بازار کے منجھے ہوئے دانش ور اور تجزیہ کار بن چکے ہیں۔ غرض ہر عقل کے دشمن کو یہاں اپنے دل کی گرم مسالے والی بھڑاس نکالنے کے لیے قائد میسر آ گیا۔ یوں وہ قائد میاں پرانے وقتوں کے واٹر کولر کے مشہور برانڈ ہی بن بیٹھے کہ نل کھولو اور اناپ شناپ سے لباب بھرے کولر سے سیراب ہو لو۔ ایسے کچھ اصحاب سینکڑوں مداحین کے جلو میں اپنا چورن بیچتے ہوئے، کانوں کے پردے چیرتی صدائیں لگاتے نظر آتے ہیں۔

    ایک طبقہ ایسا بھی فیس بکی دانشوروں کا ہے جو مذہب بیزار خیالات کا اظہار بنا کسی تردد اور لگی لپٹی کے کرتے ہیں۔ یہ دانشور زیادہ تر اپنی فیک آئی ڈی سے محو تکلم ہوتے ہیں یا آئی ڈی تو اصل ہوتی ہے لیکن موصوف سات دور دیش پار کسی محفوظ، صحت افزا مقام سے زہر بھرے، پھن لہراتے مخاطب ہوتے ہیں اور انکے مجمع میں انکے ہم خیال بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہوتے ہیں۔ یا کم از کم وجدانہ کیفیت میں اثبات میں سر ہلا رہے ہوتے ہیں۔ کثیر تعداد میں وہ مرد فساد بھی ہوتے ہیں جو اپنے مذہبی عقائد کی چوکیداری کرتے ہوۓ لٹھ لہرا لہرا کر ماں بہن ایک کر رہے ہوتے ہیں۔

    وہ دانشور بھی اپنی "مقدس مشنری” کاروائیوں میں خرگرم ہوتے ہیں جن کو مذہبی جنونیت اور سخت گیری سے شدید الرجی ہوتی ہے۔ وہ مذہبی اعتدال پسندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے کسی نا کسی مذہبی تحریر میں سوچوں کا رخ موڑنے والے کسی نا کسی نکتہ کو یوں اجاگر کر دیتے ہیں کہ غیر محسوس طریقے سے قاری اسکا ہدف بنتا ہے، اور اپنی فکر کی تبدیلی کو محسوس کیے بغیر اس پیج کو آستانہ بناۓ فیض یابی کا شوق سمائے یہاں حاضری دیتا رہتا ہے اور یوں ایسے دانشور اپنی ادبی اور فکری مہارت سے اپنے پیج پر زایرین کا ہجوم لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور خوب لائک اور لو سائن تو حاصل کرتے ہی ہیں ساتھ پوسٹ کے زیریں حصے میں خوب سوالاتی اور تائیدی جملوں کا انبار لگا لیتے ہیں۔

    ایسے بے شمار دانشوڑ "حسرات” بھی سوشل میڈیا کی دنیا کا لازم حصہ ہیں جو اپنی اداسی اور تنہائی کا تریاق اپنے فالوورز کے کمنٹس میں ڈھونڈتے ہیں۔ وہ خود پسندی کے مرض میں اس قدر مبتلا ہوتے ہیں کہ انکی زیادہ تر پوسٹس انکی رنگ برنگی تصاویر پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی کلوز اپ سیلفیاں اور مانگے تانگے کی دانش اپنی وال پر بکھیرتے رہتے ہیں۔

    کئی خواتین و حضرات کو ایسے کاٹ دارجملے لکھنے میں خصوصی ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ ادب و مزاح کے بے تاج بادشاہ بھی انکے متوقع پوٹینشل کو نظر انداز نہی کر سکتے۔ الفاظ کے حسن ترتیب سے بظاہر بے معنی سی بات کو بھاری بھرکم معنی سے لاد دیتے ہیں۔

    سیاستدانوں کے منہ سے بے ساختہ نکلے ہوئے سیاسی بیانات کو کیچ کرنے والے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو ان کو مزاح کا رنگ و روغن کرنے کے بعد ایسا جاذب نظر بناتے ہیں کہ دن بھر کے بحث و تکرار سے تھکے ماندے بزنس مین ، بیویوں کے ستاۓ ہوۓ شوہر اور شوہروں سے خار کھائی بیویاں اور افسرانِ بالا کی جھاڑ پھٹکار کے مارے ہوۓ ملازمین یہاں اپنی اپنی فلاسفی اور علمیت کی یلغار کر کے کسی فاتح کی طرح گردن اکڑاۓ دیگر شرکا سے واہ واہ کی آس لگاۓ گھنٹوں فیس بک کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں۔

    ایسے کئ مذہبی شخصیات کے پیچز بھی ہوتے ہیں جہاں متفقین مریدین کے درجۂ الفت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ وہاں ایک سطحی سی بات پر بھی لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی ہوتی ہیں۔ اختلافی بات کا مطلب توہین مذہب کے دائرے میں قدم رکھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسی مذموم حرکت کے مرتکب پر وہ سنگ پاشی ہوتی ہے کہ الاحفیظ الامان۔ یہاں یا تو آداب محفل ملحوظ خاطر رہیں یا پھر یہاں سے میلوں دوری ہی آپ کے حق میں بہتر ہے۔ اسکے علاوہ کسی اور آپشن کی سوچ بھی دماغ میں مت لائیے گا۔

    کچھ لوگ چیتھڑوں سے امارت کے سفر پر گامزن ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی کسی مہنگے ریسورنٹ پرکھانا کھائیں یا غلطی سے کسی فضائی سفر پر روانہ ہوں تو فیس بک پر اسکی اشاعت کو نہیں بھولتے۔ وہ پہلی فرصت میں اپنے دورے کی پبلک سٹی کرکے یار لوگوں پر "دورے” ڈالتے ہیں۔ چاہے باقی اہم ترین زمہ داریاں بھول جائیں۔

    دانشوروں کی ایک قسم سیاست کی آڑ میں اپنی جھگڑالو اور کینہ پرور مزاج کی تشنگی دور کرنے کے لیے ہر وقت مخالفین کو چڑانے کے لیے انتہائی نازیبا اور غیر مہذب تصاویر و جملے لکھ کر انہیں لڑائی پراکساتے رہتے ہیں اور جب من پسند نتائج حاصل ہوتے ہیں تو دل کے نہاں خانوں میں چین ہی چین پاتے ہیں۔

    کچھ دانشور محتاط طبع ہونے کے باعث زندگی کو محض بچ بچا کر انجوائے کرنے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ وہ شعر وشاعری و رومانوی گیتوں کو شیئر کرتے رہتے ہیں اور زائرین کی قلیل یا کثیر تعداد سے پریشان یا خوش نہی ہوتے بلکہ اطمینان قلب کے ساتھ لگی بندھی عادت کا تسلسل رکھتے ہیں۔

    اور کچھ لوگ ان تمام اوصاف کا کچھ نا کچھ حصہ اپنی طبعیت میں رکھتے ہیں وہ گرگٹ کی طرح روز رنگ بدلتے ہیں ۔ کبھی کچھ کبھی کچھ یعنی فیس بک مختلف النوع دانشوران کا چوپال ہے جہاں ہر مزاج کا حامل اپنی استطاعت کے مطابق ذہنی خوراک حاصل و منتقل کرتا ہے۔