Baaghi TV

Tag: اضافہ

  • بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا

    فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی1 روپے46 پیسے مہنگی کردی گئی ،اضافہ جولائی کے ماہانہ فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں کیا گیا،نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کا اطلاق لائف لائن اور کے الیکٹرک صارفین پرنہیں ہوگا

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ شہریوں کے بجلی کے بل اتنے آئے کہ شہری سڑکوں پر آ گئے، حکومت نے ٹیکس لگا دیئے، جتنے یونٹ استعمال ہوئے، اس سے کئی گنا زیادہ بل موصول ہوئے،290 یونٹ استعمال کرنے والوں کو بارہ بارہ ہزار کا بل ملا تو وہیں کئی شہریوں کو چالیس پچاس ہزار کا بھی بل ملا، زیادہ بل آنے پر شہریوں نے احتجاج کیا، بل جمع نہیں کروائے، وزیراعظم نے نوٹس لیا، ابھی تک زائد بلوں کے حوالہ سے آئی ایم ایف سے بات چل رہی تھی کہ حکومت نے دوبارہ بجلی کی قیمت بڑھا دی ہے،

    پاکستان میں شہریوں کے بجلی کے بل اتنے آئے کہ شہریوں نے گھریلو اشیا فروخت کرنا شروع کر دیں تو وہیں خود کشیاں بھی ہونے لگیں، بجلئ کے بلوں نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں، بجلی کے بلوں کی وجہ سے عوام نے احتجاج کیا، لیکن ابھی تک آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے یوں لگتا ہے کہ عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملا، کیونکہ جو بل آیا وہ تو ادا کرنا ہی پڑے گا،

    بجلی کے بھاری بلوں کیخلاف پہیہ جام ہڑتال جاری

    مہنگائی، بچوں کو بھوکا دیکھنا مشکل کام خود کشیاں، احتجاج، بجلی بل موت کا پروانہ

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    پنجاب حکومت کا بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ

  • ادویات کی قیمت میں  ایک مرتبہ 70 فیصد اضافہ کرنے کی اجازت

    ادویات کی قیمت میں ایک مرتبہ 70 فیصد اضافہ کرنے کی اجازت

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ادویات بنانے والوں کو قیمت میں اضافے کی اجازت دے دی

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں ایجنڈے کے مطابق امور پر مشاورت کی گئی، اجلاس میں ادویات بنانے والوں کو قیمت میں ایک مرتبہ 70 فیصد اضافہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ، پالیسی بورڈ کو تین ماہ بعد جائزہ لے کر قیمت میں کمی کے لیے تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ،

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    ای سی سی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب، سندھ اوربلوچستان کو گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے سندھ 400 روپے فی من کے حساب سے 14 لاکھ ٹن میٹرک ٹن گندم خریدے گا پنجاب 3900 روپے من کے حساب سے 35 لاکھ اور بلوچستان 3900 روپے من کے حساب سے ایک لاکھ ٹن گندم خریدے گا ،ای سی سی نے اسلام آباد پولیس کو بھرتیوں اور دیگر اخراجات کے لیے 45 کروڑ روپے تکنیکی گرانٹ دینے کی منظوری بھی دے دی

  • رمضان سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کا نیا طوفان

    رمضان سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کا نیا طوفان

    قصور
    رمضان سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ باعث تشویش،بلیک مارکیٹنگ مافیا اور ناجائز منافع خور پہلے سے تیار بیٹھے تاجروں کو نیا بہانہ مل گیا

    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ نے رمضان سے چند دن قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے مہنگائی کے نئے طوفان کو دعوت دی ہے
    بلیک مارکیٹنگ مافیا اور ناجائز منافع خور تاجر پہلے سے ہی رمضان کی امد کے پیش نظر چیزوں کی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کئے بیٹھے ہیں تاہم اب ان کو سرکار کی طرف سے ایک اور بہانہ مل گیا ہے جس کے باعث وہ اب اپنی من مانیاں مذید کرینگے اور ماہ رمضان برکات میں لوگوں کو تگنی کا ناچ نچائیں گے
    گزشتہ رات گورنمنٹ نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپیہ فی لیٹر،ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپیہ فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 2 روپے 56 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے اور ابھی 31 مارچ تک کوئی پتہ نہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مذید بڑھا دی جائیں
    عوام کا کہنا ہے کہ اشرافیہ کے خرچ کم کرنے کے دعوے بےبنیاد ہی نکلے نا تو سرکاری گاڑیوں میں کمی کی گئی ہے نا ہی پروٹوکول میں کمی ہوئی ، بس ایک عوام پہ ہی جینے کی تنگی کرنا ان حکمرانوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے

  • ٹرانسپورٹ کرایوں میں خودساختہ اضافہ

    ٹرانسپورٹ کرایوں میں خودساختہ اضافہ

    قصور
    مہنگائی کا نیا طوفان،کرایوں میں خودساختہ اضافہ ،ٹرانسپورٹروں کی من مانیاں،شہری سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان آ گیا ہے جس کے باعث غریب و سفید پوش طبقے کا سانس لینا بھی محال ہو چکا ہے
    بلیک مارکیٹنگ مافیا و ناجائز منافع خور بے لگام ہو چکے ہیں جنہیں قابو کرنا یا تو حکومت کے بس کی بات نہیں یا پھر ان کو کھلے عام چھٹی دے رکھی ہے کہ جو مرضی کرو
    اپنی مانیاں کرتے ہوئے ٹرانسپورٹوں نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کے باعث مہنگائی کے مارے لوگ مذید پریشان ہو گئے ہیں
    قصور سے رائیونڈ کا فاصلہ 27 کلومیٹر ہے اور اتنے فاصلے کا کرایہ 100 روپیہ فی سواری لیا جا رہا ہے نیز ٹویوٹا ہائی ایس میں ناجائز سیٹیں لگا کر 16 سیٹ والی گاڑی کو 22 سیٹوں والی گاڑی بنایا گیا ہے
    اس سب کے باوجود بھی انتطامیہ محض خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے
    لوگوں کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ کی رٹ محض غریب غرباء پہ ہی لاگو ہوتی ہے آج دن تک کسی صاحب ثروت بندے کو حکومتی رٹ کا احترام کرتے نہیں دیکھا گیا اس کا جب جی چاہتا ہے وہ اپنی من مانی کر گزرتا ہے اسے گورنمنٹ کا کوئی ڈر خوف نہیں

  • بجلی کی قیمت میں 4 روپے 34 پیسے فی یونٹ اضافہ

    بجلی کی قیمت میں 4 روپے 34 پیسے فی یونٹ اضافہ

    عوام پرمہنگائی کا ایک اور وار، نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 34 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔صارفین پر ایک ماہ کیلئے 59 ارب کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق جولائی کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق صرف ستمبر کے بلوں میں ہوگا۔نیپرا نے جولائی کے فیول ایڈجسمنٹ کا فیصلہ جاری کر دیا جس کے مطابق سی پی پی اے نے بجلی 4 روپے 69پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی۔ نیپرا کے مطابق اطلاق الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنزپر نہیں ہوگا۔

    سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے جی) نے 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی، اس سے قبل جون کا ایف سی اے صارفین سے 9 روپے 90 پیسے چارج کیا گیا تھا، جو کہ صرف 1 ماہ کے لئے تھا۔ جولائی کا ایف سی اے جون کی نسبت 5 روپے 56 پیسے فی یونٹ ستمبر میں کم چارج کیا جائے گا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق اضافی وصولیاں ستمبر کے ماہ کے بلوں میں کی جائیں گی، فیصلے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا۔

  • کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ،مزید 3 مریض انتقال کر گئے

    کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ،مزید 3 مریض انتقال کر گئے

    پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس موذی وباء کے شکار 3 مریض انتقال کر گئے۔

    ملک کورونا مریضوں کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں 53 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔24 گھنٹوں کے دوران کورونا کیسز کی شرح 1 اعشاریہ 20 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    پاکستان میں مزید 228 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔کورونا وائرس کے زیرِ علاج مریضوں میں سے 114 کی حالت تشویش ناک ہے۔

    پاکستان بھر میں اب تک 30 ہزار 591 کورونا وائرس کے مریض انتقال کر چکے ہیں۔کورونا وائرس کے کُل مریضوں کی تعداد 15 لاکھ 70 ہزار 16 ہو چکی ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا وائرس کے مزید 19 ہزار 41 ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ اب تک کُل 3 کروڑ 1 لاکھ 78 ہزار 771 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

  • اگست میں ترسیلات زر 2 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں،مفتاح اسماعیل

    اگست میں ترسیلات زر 2 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں،مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اگست میں ملکی برآمدات 2 ارب 50 کروڑ ڈالر رہیں جو 13 فیصد زیادہ تھیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگست میں ترسیلات زر 2 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگست میں درآمدات 5 ارب 70 کروڑ ڈالر رہیں، گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ درآمدات 13 فیصد کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگست میں انرجی کی درآمدات 2 ارب ڈالر رہیں جو 5 فیصد زیادہ تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگست میں نان انرجی درآمدات 3 ارب 60 کروڑ ڈالر رہیں، گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں نان انرجی درآمدات 21 فیصد کم رہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگست میں تجارتی خسارہ 27 فیصد کمی کے ساتھ 3 ارب 20 کروڑ ڈالر رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات اور ترسیلات زر درآمدات سے ابھی بھی کم ہیں جسے ہم بڑھائیں گے۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خوراک کے چیئرمین راؤ اجمل نے زرعی ترقیاتی بینک کا دورہ کیا۔زرعی ترقیاتی بینک نے سیلاب زدہ علاقوں کے کسانوں کیلئے 12 ارب روپے ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ راؤ اجمل نے کہا کہ 12 ارب روپے کے قرضے ایک سال کیلیے موخر کرنے پر بینک کے مشکور ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں زرعی ترقیاتی بینک نے 5 کروڑ روپے دیے ہیں۔ اس کے علاوہ جو ضلع آفت زدہ قراردیا جائے گا وہاں زرعی ترقیاتی بینک قرضوں کی واپسی موخر کردے گا۔

  • ایک بارپھروفاقی حکومت نےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

    ایک بارپھروفاقی حکومت نےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

    اسلام آباد:وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 7 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 235 روپے 98 پیسے فی لٹر ہوگئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 99 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 247 روپے 43 پیسے ہوگئی ہے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے 92 پیسے اضافہ کیا گیا جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 210 روپے 32 ہوگی۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے 79 پیسے اضافہ ہوا جس کے بعد لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 201 روپے 54 پیسے ہو گئی ہے۔

  • لاہور میں ڈکیتی راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ

    لاہور میں ڈکیتی راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ

    لاہور :لاہور میں پچھلے چار ماہ سے جرائم کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اس سلسلے میں سیکورٹی اداروں کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ جرائم جولائی میں ہوئے جہاں ضلعی انتظامیہ بے بس نظرآئی

    اس حوالے سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں جرائم کی شرح میں 200 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوگیا۔

    پاکستان کے سب سے بڑی آبادی والے صوبے پنجاب میں سیاسی عدم استحکام اور پولیس میں غیر یقینی صورتحال کی قیمت عوام کو چکانا پڑ رہی ہے، کیوں کہ صوبے میں ہر نئے دن ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔

    صوبے کے دارالحکومت لاہور میں سیاسی اعتبار سے انتہائی گرم مہینے جولائی میں ڈکیتی، راہزنی اور اسٹریٹ کرائم کا درجہ حرارت بھی دو سو فیصد سے اوپر چلا گیا ہے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق جولائی کو جرائم کے لحاظ سے بھی گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا ہے کیوں کہ جولائی 2022 میں ڈکیتی راہزنی کی وارداتوں میں 209.57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    لاہور جنسی جرائم کی آماجگاہ بن گیا، ایک اور خاتون کے ساتھ رکشہ ڈرائیور کی زیادتی

    پولیس ریکارڈ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں موبائل و پرس چھیننے کی وارداتوں میں 221.16 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، اوریہ موازنہ جولائی 2021 میں ہونے والے جرائم سے کیا گیا ہے۔

    یکم سے31جولائی 2022 میں ڈکیتی و راہزنی کی 1229 اور موبائل و پرس چھیننے کی 747 وارداتیں ہوئیں۔ جب کہ جولائی 2021 میں ڈکیتی کی 397 وارداتیں اور موبائل اور پرس چھیننے کی 533 وارداتیں ریکارڈ ہوئی تھیں۔

    لاہورمجرموں کی آماجگاہ بن گیا:سنگین نوعیت کے جرائم کے اعداد و شمار

    یاد رہے کہ اس سے پہلے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی (پی ایس سی اے) نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران لاہور میں ہونے والے اسٹریٹ کرائم کے تقابلی جائزے کی تفصیلات شیئر کی تھیں جس میں ‘لاہور-15 کالز’ کا سب سے زیادہ اور سب سے کم تناسب دکھایا گیا ہے۔

    لاہور میں جرائم بڑھنے لگے، معروف تجارتی سنٹر میں چوری کی واردات

    رپورٹ کے مطابق پی ایس سی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ صوبائی دارالحکومت میں نومبر 2021 سے جنوری 2022 تک 3 ماہ کے دوران تمام کیٹیگریز کی کرائم کالز میں واضح کمی دیکھی گئی۔

  • عام لوگوں کو آبادی میں اضافےبارےآگاہی دینے کی ضرورت ہے،وفاقی وزراء

    عام لوگوں کو آبادی میں اضافےبارےآگاہی دینے کی ضرورت ہے،وفاقی وزراء

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں پیر 11جولائی کو منائے جانے والے عالمی یوم آبادی کے موقع پر حکومتی وزرا نے آبادی میں مسلسل اضافے اور پاکستان میں دستیاب محدود وسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزرا نے اپنے پیغامات میں عام لوگوں کو آبادی میں اضافے کے منفی اثرات کے بارے میں ت پر زور دیا جو نہ صرف انسانی صحت بالخصوص ماں اور بچے کی صآگاہی دینے کی ضرورحت بلکہ قومی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے عالمی یوم آبادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایک غلط فہمی ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد بچوں کی پیدائش کو کنٹرول کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت یہ اقدام ماں اور بچے کی بہتر صحت کو یقینی بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں تقریبا 60 فیصد آبادی30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے جو بہتر تعلیم اور معقول روزگار کی خواہاں ہے۔ تاہم، ملک بھر میں دستیاب وسائل کے ساتھ، بہترین تعلیم کی سہولیات اور ملازمتوں کی دستیابی ایک مشکل کام تھا۔

    وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت شازیہ مری نے پاکستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے زیادہ آبادی کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی شرح کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم قومی آبادی اور وسائل کے درمیان توازن برقرار رکھیں گے تو یہ لوگوں خصوصا ماں اور بچے کی بہتر صحت کو یقینی بنائے گا۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں زچگی کے دوران شرح اموات فی سال 186 ہے۔ پاکستان میں فیملی پلاننگ کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔

    غلط تاثرات، تربیت یافتہ صحت کے عملے کی کمی، شراکت داروں کے درمیان کمیونیکیشن گیپ جیسے دیگر نچلی سطح پر چیلنجز موجود ہیں۔ اس علاقے میں حقیقی تبدیلی لانے اور عوام کے درمیان خاندانی منصوبہ بندی کو معمول پر لانے کے لیے، میڈیا ٹولز کے استعمال کے ذریعے طرز عمل کی تبدیلی کی مہمات کو ڈیزائن اور ان پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے جو دیہی اور پسماندہ کمیونٹیز سمیت معاشرے کے ہر فرد تک پہنچیں۔

    خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات کو اپنانے کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، خیرخواہ مہم کے نامسے عالمی یوم آبادی کے موقع پر حکومتی اہلکاروں کی تعریفی ویڈیوز کے ساتھ مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

    ان ویڈیوز میں پاکستان کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور پاکستان کو درپیش معاشی بحران، بے روزگاری، صحت کی دیکھ بھال وغیرہ جیسے مسائل کا مفصل احاطہ کیا گیا ہے اور لوگوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد سرکاری اہلکاروں کو متحرک کرنا اور اس بڑھتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے لیے عہد و عزم کرنا ہے۔