Baaghi TV

Tag: اعتزاز احسن

  • صرف ن لیگی الیکشن سے بھاگ رہے ہیں،اعتزاز احسن

    صرف ن لیگی الیکشن سے بھاگ رہے ہیں،اعتزاز احسن

    لاہور: سینئر وکیل اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی دعوت نہیں ملی۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نظر آرہا ہے کہ سائفر کیس سب سے کمزور ہے یہ سائفر کیس میں سزا دینے پر تلے ہوئے ہیں خط کا اصل مخاطب آرمی چیف تھا، یہ صفر کیس ہے اس میں کیا سیکرٹ ہے۔

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جو الیکشن سے بھاگ رہے ہیں وہ صرف ن لیگی ہیں، میاں صاحب یہاں آ کر پھنس گئے ہیں میاں صاحب کو جب یہاں سے باہر بھاگنا ہے تو پتہ چلے گا، اب توشہ خانہ کے رولز ہیں کہ جب کوئی تحفہ لینا تو اس کی قیمت طے کرکے لینا ہے۔ سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو سے لے کر آج تک سب ایسی چیزیں لیتے رہے جن کی اجازت بھی نہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت نہیں ملی، وہ میری طبیعت کو جانتے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف پارلمینٹیرین کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان میں غرور آ گیا تھا ، ان میں شعور نہیں تھا کہ حکومت کیسے چلائی جاتی ہے،سابق وفاقی وزیر لعل محمد خان سے ملاقات کرکے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے 4 سال کی زندگی پریشان کُن تھی، کابینہ میں فیصلے ہوتے تھے مگر چیئرمین پی ٹی آئی کو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا، حکومت سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی تھی ہی نہیں، حکومت تو اعظم خان چلاتا تھاسابق چیئرمین پی ٹی آئی کو نہ کابینہ میں اور نہ ہی گھر میں اختیار تھا، چیئرمین پی ٹی آئی فیصلے کر کے رات کو گھر جاتے تو صبح فیصلے تبدیل کر دیتے۔

  • جبری گمشدگیوں کی درخواست پر اعتراض،اعتزاز احسن نے  چیمبر اپیل دائر کردی

    جبری گمشدگیوں کی درخواست پر اعتراض،اعتزاز احسن نے چیمبر اپیل دائر کردی

    سپریم کورٹ، ملک میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ،درخواست گزار اعتزاز احسن نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر کردی
    اپیل میں کہا گیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ کوئی درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ یہ فیصلہ دے چکے ہیں کہ رولز میں رجسٹرار کو درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے تعین کا کوئی اختیار نہیں،سپریم کورٹ رولز 1980 کے تحت کسی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کا اختیار عدالت کو ہے، اس کیس کو نہ سنا گیا تو یہ پیغام جائے گا کہ لوگوں کا لاپتہ ہونا مفاد عامہ کا معاملہ نہیں،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اعتراضات میں جس عدالتی فیصلے کا سہارا لیا وہ غیر متعلقہ ہے،لوگوں کو لاپتہ کرنے کا مقصد اختلافی آواز کو خاموش کرانا یا دبانا ہے، رجسٹرار آفس کے آٹھ نومبر کے اعتراضات کالعدم قرار دیئے جائیں،جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس کیس کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا، درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا،درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

  • جبری گمشدگیاں،اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

    جبری گمشدگیاں،اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

    ملک میں صحافیوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی گمشدگیوں کا معاملہ،سینیئر وکیل اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی،درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا،

    درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا،درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،اعتزاز احسن

    سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،اعتزاز احسن

    ممتاز قانوندان اعتزاز احسن اور سلمان اکرم راجہ نے فوجی عدالتوں کے حوالہ سے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ بہت اہم کیس تھا بہت اہم فیصلہ دیا،فیصلہ جمہوریت اور پورے نظام کو مستحکم کرے گا،سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،بادشاہ اس لیے بادشاہ ہے کہ قانون اس کو بادشاہ بناتا ہے، تمام اداروں کو یہ اطلاع ہو جانی چاہیے کہ آپ جتنے بھی طاقتور ہوں قانون سے بالاتر نہیں، فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف ہم نے جدودجہد کی،آج کی خبر تھی کہ ملٹری کورٹس میں کاروائی شروع ہوگئی،کاروائی کے بارے میں اٹارنی جنرل نے موقف لیا تھا کہ ہم بغیر اطلاع کوئی کاروائی شروع نہ کریں گے،سپریم کورٹ کو اطلاع ٹرائل شروع کرنے کے بعد دی گئی،9 مئی اور دس مئی کے واقعات کے ملزمان پر حکومت نے جو الزام لگایا،ان کے خلاف مقدمہ فوجی نہیں سویلین عدالتوں میں چلے گا،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آج اس فیصلے کے بعد سویلین اداروں میں اعتماد آئے گا،میں شکر گزار ہوں کہ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو حوصلے سے سنا،دلائل کے لیے تمام فریقین کو موقع دیا گیا،عدالت کی جانب سے بہترین فیصلہ دیا گیا،تفصیلی فیصلے سے وکلا، عدالتوں اور عام عوام کے لیے رہنمائی ملے گی،102 لوگوں کو فی الحال ریلیف ملا ہے،وہ تمام افراد فوجی حراست سے سویلین حراست میں جائیں گے، عدالت کا پہلا اصول ہے کہ جج آزاد ہونا چاہیے،جج کو یہ فکر نہ ہو کہ اگر فیصلہ اس کے حق میں دے دیا تو ٹرانسفر نہ کر دے،آئین کے تحت عدالت وہی ہو سکتی ہے جو ہائی کورٹ کی دسترس میں ہو،فوجی عدالت میں دو افسران بیٹھے ہوئے ہیں وہ آزاد تو نہیں ہوسکتی ،

    ن لیگ عورت مارچ کی حمایت کرے گی یا مخالفت،شاہد خاقان عباسی نے اعلان کر دیا

    خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

    کراچی والوں کے لئے بڑی خوشخبری، کراچی سرکلرریلوے کے لیے ہوں گی 40 کوچز تیار

    پرائیوٹ کمپنی نے غریب ریل مسافروں پر مہنگائی کا بم گرا دیا

  • اعتزاز احسن کا وکلا تحریک چلانے کا اعلان

    اعتزاز احسن کا وکلا تحریک چلانے کا اعلان

    نامور وکلا،پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن اور سردار لطیف کھوسہ نے لاہور ہائیکورٹ بار میں پریس کانفرنس کی ہے

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حالات یہ ہوچکے ہیں کہ ملک کو آئین پاکستان کے بغیر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے دو صوبوں میں 90 روز کے اندر الیکشن نہیں کروائے گئے ،سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف وزری ہوئی ، ہائیکورٹ ججز کے احکامات نہیں مانے جارہے صحافی عمران ریاض لاپتہ ہیں پرویز الہی کو دن دیہاڑے اغوا کرلیا جاتا ہے ، اگر الیکشن وقت پر ہو جائیں تو ملک ٹھیک چل سکتا ہے۔ ہم موجودہ صورتحال میں خاموش نہیں رہیں گے بلکہ وکلا تحریک چلائیں گے، وکلا تحریک کا آغاز پشاور سے ہوگا

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ 15 اپریل کو ایک راونڈ ٹیبل کانفرنس ہوئی تھی، ہم اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وکلا کا کردار اس میں اب ادا ہونا چاہیئے، وکلا راہنماوں سے مشاورت کرکے اسی کانفرنس کے تسلسل میں مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، طوائف الملوکی چل رہی ہے،نگران حکومت نگران نہیں بلکہ چیئر ٹیکر ہے ، مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے ،ابجلی اور چینی کی قیمتوں میں چئیر ٹیکر حکومت کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ،آج ہم اپنا لائحہ عمل دے رہے ہیں پاکستان لائرز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ،جس میں ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جو کیسز سنے جا چکے ہیں ہماری درخواست ہے کہ عمر عطا بندیال ریٹائرمنٹ سے پہلے پہلے اُن کے فیصلے سنا کر جائیں، بندیال صاحب کے پاس دو اوور ہیں چھکے ماریں اور میچ جیت جائیں،

    دوسری جانب پاکستان لائیرز ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھ دیئے ، وکلا ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدر کی جانب سے جن بلوں پر دستخط نہیں کیے گئے وہ پارلیمنٹ کے ایکٹ نہیں ہیں ۔آئین کو بحال کر کے سب اسکے تابع ہوں ۔ ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل نہیں ہو سکتے ۔ نوے دن کے اندر قانون کے مطابق الیکشن کروائے جائیں ۔ الیکشن میں ہر سیاسی جماعت کو حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ بجلی کے بلوں میں عائد اضافی ٹیکسز کو فوالفور واپس لیا جائے

    پاکستان بار کونسل نے 5 ستمبر کو وکلا تنظیموں کی کانفرنس کا اعلان کیا ہے،

    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

  • ہماری رکنیت کوئی ختم نہیں کرسکتا. لطیف کھوسہ

    ہماری رکنیت کوئی ختم نہیں کرسکتا. لطیف کھوسہ

    سینئر قانون دان لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ وہ اور اعتزاز احسن دونوں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ممبر ہیں، پیپلز پارٹی سے نہ ان کی رکنیت کینسل کی گئی ہے اور نا کوئی کر سکتا ہے۔ جبکہ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے چند روز قبل چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی جس کے بعد پیپلز پارٹی پنجاب نے دونوں سینئر پارٹی رہنماؤں کی پارٹی رکنیت ختم کر دی تھی۔

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا مسلم لیگ ن سے الحاق کی پالیسی ہمیں پسند نہیں ہے، ہم نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی بہت مضبوط سیاسی وراثت ہے اسے شہباز شریف کا وزیر نہ بنائیں، نواز شریف کا شمار بھٹو شہید کے قاتلوں میں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آپ فوجی عدالتیں ضرور بنائیں لیکن آئین میں ترمیم کر کے مقدمے بنائیں، جس طرح کوئٹہ میں وکیل کے قتل کا کیس عمران خان پر ڈالنے کی بےہودہ حرکت کی گئی ویسے ہی ہمارے گھروں پر حملے کو اس طرح سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ ہماری عمران خان رنجش ہو جائے-
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فتنے کو تخفظ دینے کے لئے نظریہ عمران استعمال کیا جا رہا ہے،جاوید لطیف
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان
    پُرامن ممالک کی فہرست میں پاکستان کونسے نمبر پر؟
    پی آئی اے کی تنظیم نو، اصلاحات اور بحالی کیلئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل
    مصدق ملک نے تیل ذخیرہ اندوزی کا توڑ پیش کر دیا
    ٹیلی گرام بھی اسٹوریز کا فیچر متعارف کرانے کیلئے تیار
    ان کا مزید کہنا تھا کہ لطیف کھوسہ کے گھر پر حملے سے متعلق کیس میں آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی کو شامل تفشیش ہونا چاہیے اور ہمیں ان سے تفتیش کا موقع دیا جائے، جب ہم ان پر جرح کریں گے تو 9 مئی کے پیچھے ملوث بھی آپ کو صحیح بندے نکال دیں گے۔

  • فلم سے لوگ مرعوب نہیں ،نفرت اور مزاحمتی جذبہ پیدا ہو گا،اعتزاز احسن

    فلم سے لوگ مرعوب نہیں ،نفرت اور مزاحمتی جذبہ پیدا ہو گا،اعتزاز احسن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے گھر کا دورہ کیا ہے

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آئی جی جانتا ہے کہ اس نے نگران حکومت کے ساتھ رخصت ہو جانا ہے ،عمران خان کے گھر جاتے ہیں اُس وقت جب وہ اسلام آباد ہوتا ہے، پرویز اٰلہی کے ساتھ بھی وہی رسم دہرائی گئی ہے ،یہ جو ساری واردات ہے پولیس کی جب چلی ہے تو اس سے لوگوں کو زیادہ آگاہی ملی ہے، اس بربریت اور فاشزم سے حکومت اور اس کے اتحادیوں کو نقصان ہوا ہے، اس فلم سے لوگ مرعوب نہیں ہوں گے،اس کے خلاف نفرت اور مزاحمتی جذبہ پیدا ہو گا،یہ حالات مزید خرابی کا باعث بنیں گے،ان کی منشا ہے کہ یہ مذاکرات سے نکل جائیں،مذاکرات سے نکلنے پر حکومت موقف اپنائے گی کہ یہ مذاکرات سے نکل گئے، یہ عمران خان کو ٹائٹ سپاٹ میں لانا چاہتے ہیں،اس میں منصوبہ تو نہیں ہے جس سے کچھ حاصل کرنا ہے،اگر 2 مئی کو ادھر سے بائیکاٹ ہو جائے تو سارا 14 مئی کے انتخابات کا حکم متاثر ہو گا، الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ ہمارے پاس کاغذ نہیں ہیں، یہ کوشش کر رہے ہیں کہ عدالت کو مجبور کر دیں کہ نوے دن کیلئے انتخابات ملتوی کروا دیں،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت موجود تھی لیکن پولیس کو خبر نہیں تھی، اگر ہائیکورٹ کا حکم اعلان ہو جائے تو وہ لکھنے کی ضرورت نہیں، عدالت عظمی کا عدالت عالیہ کا حکم پر ہر کوئی پابند ہوتا ہے اگر وہ اعلان کر دیا جائے،اگر سپریم کورٹ اپنے آرڈر کو خود نہیں بدلتی تو پھر الیکشن 14 مئی کو ہی ہوں گے،میری پرویز الہٰی سے ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ وہ گھر پر موجود نہیں سرکاری مشینری ٹیکس دہندہ عوام کے ماتحت ہونی چاہئیے یہ سوال تو قیام پاکستان سے پہلے سے پوچھا جا رہا ہے جب تک شہری ریاست جبر کی مشینری کو اپنے ماتحت نہیں کرتے ایسا ہوتا رہے گا،میں تو کافی عرصے سے کہہ رہا ہوں اسٹیبلشمنٹ کبھی نیوٹرل نہیں ہوتی،چوہدری پرویز الٰہی کے گھر ضمانت کے باوجود انکے گھر چھاپہ مارا گیا ،حکومت نے آرڈر دے دیا اس کے آرڈرز کی کاپی آئے بغیر صرف احکامات پر ہی عملدرآمد کرنا ضروری ہے،جو ساری کاروائی جو ہوئی ہے اس پر کاروائی ہو سکتی ہے،

    پولیس چھاپہ،کوئی نہ آیا، پولیس کے جاتے ہی پرویز الہیٰ سے یکجہتی کیلئے گھر کا دورہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    ،عدالت نے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا 

    تحریک انصاف کے‌صدر چودھری پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،پولیس کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، پرویز الہٰی کے گھر پر چھاپے کے دوران مزاحمت کرنے پر پولیس نے پرویز الہٰی سمیت 50 سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا مقدمہ انسپکٹر اینٹی کرپشن کی مدعیت میں درج کیا گیا،

  • چیف جسٹس آف پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، اعتزاز احسن

    چیف جسٹس آف پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے، اعتزاز احسن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا الیکشن کی تاریخ نہ دے کر توہین عدالت کر رہے ہیں،

    میڈٍیا رپورٹس کے مطابق اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق 111 دن بعد نگران حکومت ختم ہوجائے گی ،یہ بات واضح کردوں کہ الیکشن کے معاملہ 5 رکنی بینچ تھا،ن لیگی متوالوں کی نگاہ میں نوز شریف اور مریم نواز درست ہیں،پی ٹی آئی والے کہتے ہیں عمران خان ہماری ریڈ لاین ہیں،اب چیف جسٹس کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں چیف جسٹس ہماری ریڈ لائن ہیں الیکشن کے لیے جو محکمہ سروسز نہیں دے گا وہ توہین عدالت کرے گا ،جن ججز نے فیصلہ کیا ان کے خلاف سازش کی جارہی ہے شہباز شریف نے کہا کہ 2قسم کے ججز ہیں ایک نواز شریف کے ساتھ دوسرا ان کے خلاف ،ایک سیاسی رہنما کہتی ہیں کہ میرے پاس سیاست دانوں کی ویڈیوز موجود ہیں مریم نواز نے جیل کا بہادری سے سامنے کیا، بھائی بھگوڑے ہو گئے،مریم نواز کے جلسوں میں اب جان نہیں رہی ،مریم نواز چاہتی ہیں ایک سیاست دان کو باہر کردیا جائے ،

    آرمی چیف نے مختلف فارمیشنز کے الوداعی دوروں کے ایک حصے کے طور پر سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کا دورہ کیا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • وزیراعظم سے اختلاف اپنی جگہ لیکن آئینی اختیار ان کا ہی ہے،اعتزاز احسن

    وزیراعظم سے اختلاف اپنی جگہ لیکن آئینی اختیار ان کا ہی ہے،اعتزاز احسن

    وزیراعظم سے اختلاف اپنی جگہ لیکن آئینی اختیار ان کا ہی ہے،اعتزاز احسن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے اہم عہدوں پر تعیناتی کے حوالہ سے سمری ایوان صدر بھجوائے جانے کے بعد نامور قانوندان اعتزاز احسن کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے

    اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ اہم تعیناتی کے معاملے کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے وزیراعظم سے اختلاف اپنی جگہ لیکن آئینی اختیار ان کا ہی ہے ،تمام لوگ ایک پیج پر آجائیں تو یہ اچھا ہوگا،اعتراضات سے نئی بحث شروع ہو جائے گی جس کچھ حاصل نہیں ہوگا،وزیراعظم کی بھیجی گئی سمری پر دستخط نہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا،آئین کے تحت وزیراعظم کا اختیار ہے کہ وہ ایڈوائس دیں صدر کے پاس کوئی خاص آپشن نہیں ، صرف تجویز تاخیر کر سکتے ہیں،

    دوسری جانب عمران خان کے چیف آف اسٹاف شبلی فراز کا کہنا ہے کہ ہم آرمی چیف کی تعیناتی میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے,صحافی نے شبلی فراز سے سوال کیا کہ کیا صدر مملکت کی جانب سے آرمی چیف کی سمری میں رکاوٹ ڈالی جا سکتی ہے؟ جس پر شبلی فراز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی میں تحریک انصاف کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی عمران خان نے جس طر ح کہا کہ ہم جو کریں گے آئین و قانون کے تحت کریں گے اور جو بھی عمل ہوگا وہ آئین و قانون کے تحت ہوگا

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کی الوداعی ملاقات

    آرمی چیف نے مختلف فارمیشنز کے الوداعی دوروں کے ایک حصے کے طور پر سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کا دورہ کیا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟
    اعتزاز احسن کیخلاف پیپلز پارٹی میں ہی مخالفت
    بینظیر دور حکومت میں اہم عہدوں پر رہنے والے اعتزاز احسن کیخلاف پارٹی میں موجودہ سیاسی تناظر میں مخالفت شروع ہوئی پارٹی سے نکالنے کی قرارداد اجلاس میں منظور کی گئی

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟
    تحریک انصاف کی سینئر رہنما اعتزاز کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت
    سوشل میڈیا پر تنقید کے دوران فرح حبیب نے نامورسیاستدان کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی اور کہا کہ ہماری پارٹی میں آنے کے لیے راستے کھلے ہیں

    اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں؟
    افواہوں، پراپیگنڈے کے دوران خود میدان میں آ گئے
    اعتزاز احسن نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیراعظم بنانے کی آفر کی گئی تب نہیں چھوڑی تو اب کیوں چھوڑوں گا

    اعتزاز احسن وہ سینئر سیاستدان اور نامور وکیل ہیں جو بغیر کسی لگی لپٹی کے سب کچھ کہہ دیتے ہیں،وہ پیپلز پارٹی میں بے نظیر بھٹو کے بھی انتہائی قریب رہے، وہ بینظیر دور حکومت میں وزارت داخلہ اوروزارت قانون کے اہم ترین عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں اب موجودہ سیاسی حالات میں اعتزاز احسن نے بیان دیا جس کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی تھی کہ اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں، اعتزاز احسن کیخلاف پیپلز پارٹی میں ہی ایک دھڑا کھڑا ہو گیا تھا، پنجاب میں انہوں نے اعتزاز احسن کے خلاف نہ صرف قرار داد اجلاس میں منظور کی بلکہ پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ اعتزاز احسن کو پارٹی سے نکالا جائے،

    اعتزاز احسن پاکستان کے سینئر سیاستدان اور انکا سیاست پر تبصرہ ہمیشہ زیرک ہوتا ہے، وہ دوسروں پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنوں پر بھی تنقید کر جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر کچھ لوگ انکی مخالفت کرتے نظر آئے، اسی صورتحال کو دیکھ کر تحریک انصاف کو بھی موقع مل گیا اورفرح حبیب نے اعتزاز احسن کو پی ٹی آئی میں باقاعدہ شمولیت کی دعوت دے ڈالی، فرح حبیب کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن ورکرز کے رول ماڈل ہیں وہ اپنی پارٹی میں کھل کر اختلاف کرتے ہیں جب کہ (ن) لیگ اورپیپلزپارٹی میں بادشاہی ہے کسی کی جرات نہیں اختلاف کرےاعتزازاحسن پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو آجائیں، ہماری پارٹی میں آنےکے لیے ہر اچھے بندے کے لیے راستے کھلے ہیں

    سوشل میڈیا پر بھی اعتزاز احسن کے بیان کو لے کر اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید اعتزاز احسن پیپلز پارٹی چھوڑ رہے ہیں ، اعتزاز احسن دو روز تک خاموش رہے اور سارا معاملہ دیکھتے رہے تا ہم بعد ازاں انہوں نے خاموشی توڑی اور واضح کر دیا کہ جمہوریت میں اختلافات تو ہوتے ہیں لیکن ان اختلافات کو لے کر پارٹیاں نہیں چھوڑی جاتیں، اعتزاز احسن نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس امکان کو رد کر دیا کہ وہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں گے

    اعتزاز احسن نے میڈیا سے تفصیلی بات کی اور کہا کہ پیپلزپارٹی ان کا خاندان ہے اور عمران خان ان کا دوست، سیاسی اختلاف پر کسی کو برا بھلا کہنے یا رانا ثنا جیسی زبان استعمال کرنے پر یقین نہیں رکھتے پٹیاں ابھی بھی چل رہی ہیں کہ اعتزاز احسن بنی گالہ میں بیٹھے ہیں عمران خا ن سرگودھا اور میں یہاں لاہور میں ہوںمیرا پیپلز پارٹی چھوڑنے کا کوئی امکان نہیں یہ واویلا مچایا جا رہا ہے کہ مجھے پارٹی سے نکالنا چاہئے پی ٹی آئی سے مجھے نگران وزیر اعظم بنانے کی بات ہو رہی ہے، کہاجاتارہا کہ پارٹی دشمن رویے کے خلاف مال روڈ پر مظاہرہ ہورہا ہے یسے انداز گفتگو میں یقین نہیں رکھتا کہ سیاسی اختلاف ہو تو جو برا کہنا چاہیں کہہ دیں ،کیا اگر سیاسی اختلاف ہو تو رانا ثنا اللہ کی زبان استعمال کرنا شروع کر دیں، جب وکلا کی تحریک چلا رہا تھا تب بھی کہا جاتا تھا کہ یا پیپلز پارٹی چھوڑ دیں، میرا جواب تھا کہ پیپلز پارٹی چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ہی وکلا تحریک، میرے تعلقات پارٹی کے ساتھ اس وقت بھی شائستہ تھے اور رہنے چاہئے،مجھے دو مئی 2007 کو پیپلز پارٹی چھوڑنے کا پیغام پرویز مشرف سے ملا،پرویز مشرف نے کہا آپ وزیر اعظم بنیں، میں تب بھی تیار نہیں تھا

    اعتزاز احسن نے اپنا موقف واضح کر دیا ، پی ٹی آئی کے یوتھیوں کو انتظار تھا کہ وہ اب عمران خان سے جا ملیں گے لیکن انکی امیدوں پر پانی پھر گیا، ممکنہ طور پر اعتزاز احسن پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے ٹویٹر پر گالیاں کھانے کے لئے تیار رہیں…