Baaghi TV

Tag: اعجازالحق عثمانی

  • "خان فار سیل ہے” — اعجازالحق عثمانی

    "خان فار سیل ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ماما پھلا دھوپ میں بیٹھا مالٹوں پر حملہ کرنے میں مصروف تھا کہ آواز آئی۔ "کوٹ لے لو، بنیان لے لو، جرابیں لو”۔ پنچابی زبان والا”ماما”، ضروری نہیں کہ آپ کی اماں کا بھائی ہو۔ گاؤں میں ہر وہ شخص آپکا ماما ہے کہ جس کے ساتھ آپ گھنٹوں گپیں ہانک سکیں۔
    دروازے سے ہی ماما جی نے پھیری والے خان کو رکنے کا کہا۔ "یہ کوٹ کتنے کا ہے خان صاب”، مامے پھلے نے کوٹ پہنتے ہوئے خان سے پوچھا۔ "ساڑھے تین ہزار کا صرف تمہاری خاطر”۔

    خان نے کلائی میں بڑی عمدہ گھڑی پہن رکھی تھی۔ جسکا سنہری رنگ اسے بار بار دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔مامے پھلے نے خان کی کلائی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا، ” خان فار سیل ہے”۔

    قہقہ لگاتے ہوئے خان بولا۔

    "ہم قادر خان ہے، عمران خان نہیں”۔ خیر پندرہ سو میں کوٹ لے کر میں اور ماما پھلا گھر کی طرف چل پڑے۔ماما جی کیا خان نے واقعی گھڑی بیچی ہوگئی؟ ماما پھلا بولا "پتہ نہیں۔۔۔۔۔(چند منٹ کی گہری خاموشی کے بعد قدرے غصے میں)مان لیا بیچی بھی ہے تو کیا باقی صادق و امین ہیں سارے؟۔۔۔۔۔۔۔ خیر مامے پھلے نے اور کیا کہا اسے چھوڑیے "خان فار سیل ہے” سے منصور آفاق صاحب کے کچھ اشعار یاد آرہے ہیں۔ وہ دیکھیے

    گرہ میں مال ہے جس کے، خرید سکتا ہے

    کہیں عمامہ کہیں ہے ردا برائے فروحت

    وفا کی، ان سے توقع کریں تو کیسے کریں

    جنہوں نے اپنی جبیں پر لکھا برائے فروخت

    یہ لوگ کیا ہیں ؟حمیت کامول مانگتے ہیں

    یہ ننگ ِ ملک، یہ اہل ِ قبا برائے فروخت

    دعائیں دے ہمیں ، تجھ کوخرید لائے تھے

    کسی زمانے میں تُو بھی تو تھا برائے فروخت

    یہ خوش خطوں کا ہنر ہے یہ دلبروں کا طریق

    جفا برائے محبت، وفا برائے فروخت

    رُکے تھے کنج گلستاں میں ہم بھی کل منصورؔ

    کہیں تھے گل کہیں بادصبا برائے فروخت

    چند دن پہلے خان کی گھڑی سے متعلق ایک آڈیو لیک سامنے آئی۔ جس میں زلفی بخاری کو بشریٰ بی بی سے سلام کرنے کے بعد ان کی خیریت دریافت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔اس کے بعد بشریٰ بی بی زلفی بخاری سے یہ کہتی ہیں کہ "خان صاحب کی کچھ گھڑیاں ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو بھیج دوں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زلفی بخاری نے بشریٰ بی بی کی یہ بات سننے کے بعد جواب میں کہا کہ”ضرور مرشد میں کردوں گا، میں کر دوں گا جی”۔

    اس آڈیو لیک بعد یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ قصور مرشد کا ہے، مرید کو ہم ویسے ہی قصوروار ٹھہرا رہے تھے۔

  • ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    دنیا میں ہر جنس پر ظلم ہوتا ہے ۔ مگر سوائے بچےکے ہر عمر ، ہر طبقہ اور ہر جنس اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے ۔ مگر بچہ یہ سب نہیں کر سکتا ۔ وہ بہت کمزور ہے ۔اتنا کمزور کہ وہ اپنے حق کے لیے بول بھی نہیں سکتا۔ خواجہ سراؤں پر ظلم ہوا تو انھوں نے احتجاج کیے، خواتین نے اپنی تنظیمیں بنائی ۔ یہاں تک کہ رکشے والوں کی یونینز ہیں۔ مگر کوئی تنظیم نہیں ہے تو بچوں کی نہیں ہے ۔

    نفسیات دانوں کا شکر ہو جنھوں نے ہمیں علم نفسیات کے ذریعے بتایا کہ بھئی بچے بھی کوئی الگ شے ہیں۔ تم سے مختلف اور کمزور ہیں، جسمانی طور پر بھی اور عقلی طور پر بھی۔ انکا عقل درجہ بہ درجہ وقت کے ساتھ ترقی کی منازل طے پاتا ہے۔اگر کسی بچے کو میوزک کی آواز آرہی ہے ۔مگر آپ دور بیٹھے اسکو والیم اونچا کرنے کا کہتے ہیں تو وہ والیم تو بڑھا دے گا مگر یہ ضرور سوچتا رہے گا کہ جب اسے سننے میں کوئی دقت نہیں ہو رہی تو آپکو کیوں ہو رہی ہے۔ اگر بچہ مٹی سے کھیلتے ہوئے ہم سے پوچھ لے کہ مٹی کا رنگ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ ہم یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ نے ایسا بنایا ہے یا کچھ اور کہہ کر بس جان چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اکثر لوگ تو بچوں کو سوال پر ہی ڈانٹ دیتے ہیں ۔ جواب تو دور کی بات ۔۔۔۔۔۔

    اگر کوئی بچہ کم بولتا ہے تو اس مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نکما ہے۔علم نفسیات میں ایسے بچوں کو انٹروورٹ کہا جاتا ہے ۔ ایسے بچے کچھ بڑا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں کو شرمیلا اور کمزور سمجھا جاتا ہے ۔گو کہ انٹروورٹ ہونا کوئی بری بات نہیں، یہ صرف ایک پرسنلٹی ٹریڈ ہے ۔ 90 فی صد سائنسدان، شاعر ، ادیب یا موجد انٹروورٹ ہی ہوتے ہیں ۔

    آپکا خاندان یا معاشرہ تو انٹروورٹ ہونے پر آپ کے بچے کی کبھی تعریف نہیں کرے گا۔مگر یہی انٹروورٹ بچہ زندگی میں کبھی ایسا کام ضرور کرے گا جس سے آپکا سر فخر سے بلند ہو جائے گا ۔ سو ایسے بچوں کی حوصلہ شکنی کبھی نہ کریں ۔آپ شدید حیران ہونگے یہ سن کر کہ دنیا کا ہر دوسرا امیر ترین آدمی انٹروورٹ ہے۔ٹیسلا کے ارب پتی مالک نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا، "میں بنیادی طور پر ایک انٹروورٹڈ انجینئر کی طرح ہوں، اس لیے اسٹیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    ہم بچوں کا ہر موڈ برداشت نہیں کرتے ۔ چاہتے ہیں کہ بچے ہر وقت خوش رہیں۔ ان کے بھی اپنے جذبات ہوتے ہیں ، انھیں بھی خوشی اور غمی کا احساس ہوتا ہے۔ مگر ہم اس بات کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہیں ۔ صرف اسی بات کو نہیں، بلکہ بچوں کو بچہ سمجھنے میں بھی ابھی ہمیں صدیاں درکار ہیں ۔

    جیسے بچوں کو پیدائش کے بعد سیکھنے کے لیے سکول بھیجا جاتا ہے ۔کاش بچہ پیدا کرنے سے پہلے والدین کےلیے بھی بچے کو سمجھنے اور تربیت کی خاطر کسی ڈگری کی شرط ہوتی ۔

  • کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام  — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق یعنی کلاس فیلوز کی بہت ساری اقسام ہو سکتی ہیں۔ جن کی مستند تعداد بتانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن امر ہے۔ کیونکہ انکی اقسام اتنی ہی جلدی بدلتی ہیں جتنی جلدی پنجاب میں وزیراعلی۔۔ مگر کلاس فیلوز کی چند اقسام پیش خدمت ہیں ۔

    نمبر ایک:
    پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو کبھی وقت پر نہیں آتے مگر عموماً وقت سے پہلے چلے ضرور جاتے ہیں۔ اسی قسم کے کچھ باشندے تو چھٹی کے ٹائم سے دس منٹ پہلے ہی کہہ رہے ہوتے ہیں ۔ میم "ٹیم”(ٹائم) ہوگیا ہے۔

    نمبر دو:
    کلاس روم میں ایک اور مخلوق پائی جاتی ہے جو ہفتے کے چھ دن بیمار رہتی ہے اور ساتویں دن یعنی اتوار کو بیماری کو چھٹی دیتی ہے۔ ان پر بیماریاں بھی بڑی ترتیب سے آتی ہیں۔ سوموار کو انکا گلا خراب ہوتا ہے ۔ اگلے دن نزلہ اور پھر بخار اور اگلے دن یعنی اتوار کو بیماری کی چھٹی ۔ بیماری کا یہ سائیکل ہر دو ماہ بعد ضرور آتا ہے ۔ اگر کبھی یہ سائیکل پنکچر ہوجائے تو پھر انکے دور کے رشتہ داروں میں سے کوئی خدا کو پیارا ہو جاتا ہے۔

    نمبر تین:
    اگلی قسم کا نام ہے ” فٹا فٹ” ۔ کلاس رومز میں پائی جانے والی یہ مخلوق ہر وقت فٹا فٹ کے چکروں میں ہوتی ہے۔ جیسا کہ اگر ٹیچر کلاس میں 5 منٹ تک نہ آئے تو یہ مخلوق فٹا فٹ سٹاف روم کو دوڑے گی۔ پھر پوری کلاس انکو خوب صلواتیں بھی سناتی ہے ۔جن کا اس مخلوق پر اتنا ہی اثر پڑتا ہے ۔جتنا ہم سب پر قاسم علی شاہ کا۔

    نمبر چار:
    اس قسم کا نام Attention Beggars ہے۔
    یہ ہر وقت اٹنشن کے چکر میں بھکاریوں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہے ہوتے ہیں ۔ اٹنشن کے چکر میں یہ تمام تر چھچھورے پن کر مظاہرہ کرنے کے باوجود تھوڑی سی بھی توجہ نہ ملنے کے بعد بھی زرا شرمندہ نہیں ہوتے،
    بلکہ بھکاریوں کی طرح اگلے بندے کے پاس چلے جاتے ہیں۔

    نمبر پانچ:
    ایک وہ مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو کبھی چھٹی ہی نہیں کرتی ۔ نہ جانے یہ مخلوق اتوار کو گھر کیسے بیٹھتی ہوگی۔ انکو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کے خاندان میں نہ تو کوئی شادی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بابا مرتا ہے ۔ بیماری تو ان کے گھر ایسے ہی آتی ہوگی جیسے ہندؤں کو کلمہ

    نمبر چھ:
    ایک مخلوق ہر وقت اپنے ہی اشتہار چلاتی رہتی ہے ۔ یعنی

    میں نے یہ کر دیا
    میں نے وہ نے وہ کر دیا

    وقت آنے پر جب پتہ چلتا ہے تو اس مخلوق نے صرف وہ ہی کیا ہوتا ہے ۔ جو میں آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔ اس مخلوق کو آپ "بول نیوز” بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کیونکہ ہر کام سب سے پہلے ، سب سے اچھا یہی مخلوق کرتی ہے، صرف باتوں میں ۔

    شکائتو! ٹولے کا تو نہ ہی پوچھیے۔ اس مخلوق کی پہچان انتہائی آسان کام ہے ۔ ٹیچرز کی خوش آمدیں تو ان پر بس ہیں۔ یہی لوگ "آئی ایس آئی” کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں ۔ کلاس کی خفیہ باتیں، ٹیچرز اور ایڈمن آفس تک پہنچانا انکا اولین فرض ہوتا ہے۔ اگر کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام لکھنے بیٹھا جائے تو کئی اک دن درکار ہونگے ۔ سو انھی چند اقسام پر گزارا کرتے ہیں ۔

  • میں شاہین ہوں اقبال کا — اعجازالحق عثمانی

    میں شاہین ہوں اقبال کا — اعجازالحق عثمانی

    پاکستان کی کل آبادی میں نوجوانوں کی تعداد تقریباً 70 فی صد ہے۔ اور یہی نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔ مگر اس مستقبل کا ساتھ ریاست کا رویہ، افسوسناک ہے۔ پاکستان کے اس 70 فی صد سے جذباتی بنیادوں پر ووٹ لے لیے جاتے ہیں۔ مگر پھر حکومتیں انکو بھول جاتی ہیں۔ اسمبلیوں میں صرف ایک دوسرے کو چور، ڈاکو ہی کہا جاتا ہے۔ اپنی سیاست چمکانے کے لیے جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ مگر نوجوان کی کوئی بات نہیں کرتا۔ نوجوان اگر سمجھ جائے تو یہی وقت کا بادشاہ ہے۔ مگر نوجوان کنفوز ہے۔ اس لیے کہ اس کے سامنے کوئی رول ماڈل نہیں ہے۔ جسکی وہ پیروی کر کے آگے بڑھے۔کیونکہ موجودہ دور میں مذہبی یا سیاسی کوئی بھی ایسی شخصیت نہیں ہے، جو نوجوان نسل کو متاثر کر سکے۔لیکن اگر یہی نوجوان نسل، اقبال کے فلسفہ اور فکر سے رہنمائی لے۔تو یقیناً وقت کے بادشاہ بن سکتے ہیں۔علامہ اقبال نے نوجوان نسل کےلیے ہی فرمایا تھا کہ

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

    تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

    پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

    شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

    اقبال نے نوجوان نسل کو شاہین سے تعبیر کیا ۔ شاہین خود دار اور بے خوف پرندہ ہے۔ نڈر ہو کر پروں کو کھول کر فضا میں اڑتا ہے۔اقبال کی شاعری میں موجود فکر اور فلسفہ انھیں باقی شعراء سے منفرد بناتا ہے ۔ وہ اپنے وقت کے مظلوموں کی طاقتور ترین آواز تھے۔ آج بھی انکی فکر سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ ان کے فلسفے میں آفاقیت پائی جاتی ہے۔

    کبھی نوجوان قوت خوابیدہ کو بیدار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

    پیغام خودی دے کر اقبال اس قوم کے نوجوانوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے۔ جس کی جھلک ان کے اشعار میں بھی ملتی ہے۔

    جوانوں کو میری آہ سحر دے

    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے

    خدایا آرزو میری یہی ہے

    میرا نور بصیرت عام کر دے

    خدا کرے کہ ہم نوجوانوں کو فکر اقبال سمجھ آجائے۔ اور ہم اپنے مقام و مرتبے کو پہچان پائیں۔

  • بریسٹ کینسر کا موضوع ٹیبو کیوں ؟؟  — اعجازالحق عثمانی

    بریسٹ کینسر کا موضوع ٹیبو کیوں ؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    اپنے کمرے میں حقہ پیتے ہوئے اچانک چاچے رحمتے نے اپنی جیب سے فون نکالا۔ نمبر ڈائل کرنے کے بعد انھوں نے اپنے کسی عزیز کی آواز سننے کےلیے فون کا سپیکر آن کیا۔ مگر آواز۔۔۔۔۔۔۔۔

    "چھاتی کا کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک جان لیوا مرض ہے۔”

    یہ جملہ ابھی مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ چاچے رحمتے نے کال بند کر دی ۔

    رانی کمرے کے باہر کھڑی فون سے آنے والی یہ آوازیں بڑے غور سے سن رہی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے وہ اپنے سینے میں گلٹی محسوس کر رہی تھی۔ مگر گھر میں کسی کو بتانے سے ہچکچا رہی تھی۔ پورا دن اس کے ذہن میں ایک ہی جملہ گونجتا رہا۔

    "چھاتی کا کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک جان لیوا مرض ہے۔”

    اور یہ اسے کہیں نہ کہیں پریشان بھی کر رہا تھا۔ ذہن کو پرسکون کرنے کی خاطر اس نے ٹی وی کا ریموٹ اٹھایا۔ ٹی وی سکرین پر ایک ڈاکٹر چھاتی کے کینسر کی علامت بتا رہا تھا۔

    "کسی واضح گلٹی یا دانوں کے علاوہ بھی چھاتی کے کینسر کی مختلف علامات ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ چھاتی کی جلد کے دیکھنے اور چھونے میں تبدیلی، چھاتی میں درد یا بے آرامی، خاص طور پر اگر یہ درد نیا اور جانے کا نام نہ لے رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔یہ سب سنتے ہوئے رانی کا ماتھا پریشانی اور خوف کی وجہ سے پیسنے سے شرابور تھا۔خوف اور درد سے وہ روئے جارہی تھی۔ مگر وہ گھر میں اپنی یہ حالت کسی کو بھی نہیں بتا پارہی تھی۔طبیعت میں شدید بگاڑ کی وجہ سے وہ ایک دن سے ہسپتال میں داخل تھی۔ کہ اگلے روز ڈاکٹر نے وارڈ سے نکلتے ہوئے چاچے رحمتے کو بتایا کہ چھاتی کا کینسر آپکی بیٹی کی جان لے گیا۔

    ہر سال اکتوبر میں بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان کے حوالے سے آگاہی مہم کا انقعاد کیا جاتا ہے۔ اور یہ ماہ بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان سے آگاہی کے مہینہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1990 میں پہلی دفعہ بریسٹ کینسر کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی غرض سے "پنک ربن” مہم کا آغاز کیا گیا تھا ۔

    مگر آج بھی بریسٹ کینسر کا موضوع ایک ٹیبو ہے۔ ہم بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی بات کرے بھی تو ہم سننا پسند نہیں کرتے ۔شاید اسی وجہ سے آج بھی پاکستان میں ہر 9 میں سے ایک خاتون کو بریسٹ کینسر کا خطرہ ہے۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی پہلی سٹیج پر تشخیص کا ریٹ آج بھی 4 فی صد سے کم ہے۔ ایشیا میں بریسٹ کینسر کی سب سے زیادہ شرح پاکستان میں پائی جاتی ہے ۔ ڈیٹا کے مطابق ہر سال تقریباً 90 ہزار خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ جبکہ چالیس ہزار سے زائد خواتین ہر برس اس مرض سے موت کا شکار ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرکان سے موت کی شرح 26 فی صد سے زائد ہے۔

    چھاتی کا سرکان خواتین کو ہونے والے کینسرز میں سر فہرست ہے ۔ یہ کینسر عموماً 50 سے 60 سال کی عمر کی خواتین میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن کم عمری میں بھی چھاتی کا سرکان رپورٹ ہورہا ہے۔

    چھاتی کا سرکان یا بریسٹ کینسر شرم کی بات نہیں۔ باقی بیماریوں کی طرح یہ بھی ایک بیماری ہے۔ جس کا علاج ممکن ہے۔ مگر آگاہی کے بنا اس بیماری سے لڑنا، ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اگر خواتین کو بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی ہوگی تو وہ بروقت ڈاکٹر کے پاس جائیں گی۔ بروقت تشخیص سے اسکا علاج ممکن ہے۔

    خواتین کو چاہیے کہ چھاتی میں کوئی گلٹی یا فرق محسوس کریں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔اگر چھاتی کے سرکان سے بچنا ہے تو پلیز بریسٹ کینسر کے موضوع کو ٹیبو سمجھنا بند کیجئے ۔

  • "انسان ماحول کا قاتل ہے’ — اعجازالحق عثمانی

    "انسان ماحول کا قاتل ہے’ — اعجازالحق عثمانی

    اس کائنات میں اربوں کہکشاؤں کے درمیان جینے کی سہولت فقط ہمارا ہی سیارہ (یعنی زمین) فراہم کرتا ہے۔ زمین پر زندگی گزارنے والے انسانوں کا اس سیارے اور اسکے ماحول کا محافظ اور نگہبان ہونا چاہیے تھا ۔مگر یہی انسان زمین کے ماحول کا دشمن بن گیا۔صنعتی انقلاب نے جتنا انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، اس سے کہیں بڑھ کر ماحول کو تباہ کیا ہے۔ماحول اس قدر تباہ ہوچکا ہےکہ اب اس کے واضح اثرات کرہ ارض پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔صنعتی انقلاب کے آغاز میں سبھی ممالک نے زمینی وسائل کا بےردیغ استعمال کرکے زمین کو شدید نقصان پہنچایا۔ 1972 میں جب اقوام متحدہ کے زیر انتظام، پہلی بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس منعقد ہوئی ۔تب تک انسان ماحول کا قتل کر چکا تھا ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ستر لاکھ اموات ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پلاسٹک کے استعمال کی وجہ سے سرطان کی شرح میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے۔

    ماحولیاتی آلودگی نا صرف زمین کو تباہ کر رہی ہے۔ بلکہ انسانی جسم کے گارڈ یعنی دفاعی نظام کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کی کئی اقسام ہیں ۔ مگر زیادہ اثرات دو کے ہی ہیں۔

    • آبی آلودگی:

    آب یعنی پانی؛ مختلف آبی ذخائر مثلاً سمندر، دریا، اور جھیلوں وغیرہ کو آلودہ کرنے میں انسان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ ہم پانی میں جب تک نا پھینکیں ہمارا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا شاید۔ کوڑا کرکٹ بھی ہم پانی کے سپرد ہی کرتے ہیں۔انسان نے اپنی سہولت کے لیے بڑے بڑے بحری جہاز بنائے۔ جو چلتے ہوئے زہریلے مادے خارج کرتے ہیں۔ ان جہازوں کا تیل اور زہریلے مادے آبی آلودگی کی وجوہات میں سب سے نمایاں ہیں۔

    • فضائی آلودگی:

    فضائی آلودگی، آلودگی کی سب سے زیادہ خطرناک قسم ہے۔ بے ہنگم ٹریفک کا دھواں ، صنعتوں میں استعمال کیے جانے والے فوسل فیولز ، تمباکو نوشی ، سپرے ، بھٹوں اور چمنیوں سے نکلنے والا دھواں ماحول کو آلودہ کرنے میں سب سے آگے ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق روازنہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد فضائی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ متاثرہ افراد دمہ ،سینے کے انفیکشن، ہارٹ اٹیک جیسی مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    ماحول انسان کا لازمی جزو ہے ۔ اور انسانی غیر قدرتی سرگرمیاں ہی ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنانے کے ساتھ ساتھ کرہ ارض پر خلیفہ بنا کر بھیجا۔ دنیا کی تمام تر نعمتیں حتی کہ زمین اور اسکا ماحول بھی انسان ہی کے لیے تخلیق کیا گیا۔ قرآن کریم میں تقریباً دو سو کے قریب آیات ماحول کے متعلق ہیں۔

    "اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے ۔جس نے ہر چیز کو مضبوطی کے ساتھ بنایا ہے”۔ (النحل)

    "پھر انسان کو تسخیر کی قوت بھی عطا کی گئی ہے۔کائنات کے خزانوں کے استعمال اور ان کو جاننے کی جستجو اس کی طبیعت میں ودیعت کی گئی ہیں۔علم جیسی قیمتی دولت سے نواز کر اس کو کل مخلوقات میں ممتاز و منفرد بنایا ہے”۔(البقرہ)

    قرآن مجید کے علاؤہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے بھی ہمیں ماحول کو آلودگی سے بچانے کی ترغیب ملتی ہے۔

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

    "جب کوئی مسلمان شجر کاری یا کاشتکاری کرتا ہے پھر اس میں سے کوئی پرندہ ، انسان یا حیوان کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے”۔(بخاری: 2320)

    ماحولیاتی آلودگی اور اسکے اثرات ویسے تو ایک بین الاقوامی مسئلہ اور عمل ہیں۔ لیکن کیا پاکستان کے حکمرانوں نے اس ملک اور عوام کو ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے بچانے کےلئے کوئی عملی اقدام اٹھایا ہے؟۔ تو یقیناً جواب ہوگا، ‘بالکل بھی نہیں’۔ عالمی ماحولیاتی اداروں نے کئی برس قبل یہ بتا دیا تھا کہ اگر پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلیوں کی طرف توجہ نہ دی تو 2020 سے 2025 کے درمیان پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں سے ایک ہوگا۔ جو شدید موسمی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کے شکار ہونگے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس بھیانک الارم کی طرف بھی کوئی توجہ نہ دی۔ عوام حکمرانوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کو سنجیدہ لینے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ کوڑا کرکٹ سر راہ ہم پھینک دیتے ہیں۔ یا کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ہم درخت لگانے کی بجائے دھڑا دھڑ کاٹے جا رہے ہیں۔

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ماحولیاتی ادارے موجود ہیں۔ مگر انکا کردار بہت افسوس ناک ہے۔ دھڑا دھڑ درخت کاٹے جارہے ہیں، غیر قانونی فیکٹریاں ماحول کو آلودگی کرنے میں معروف ہیں۔ مگر پاکستان کے ماحولیاتی ادارے صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اعلیٰ حکام کو ہوش کے ناخن لینے ہونگے۔ مگر وہ ہوش کے ناخن کہاں لیں گے۔ وہ تو صرف ووٹ ہی لیں گے۔ بطور ذمہ شہری ہم سب کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے۔ کیونکہ جب تک پوری قوم اجتماعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کی روم تھام میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گی ۔تب تک اسے ختم کرنا ناممکن ہے ۔ اگر ہم سب انفرادی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں تو نہ صرف ہم خود اس کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکتی ہیں ۔

  • "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    "آدھا تیتر ،آدھا بٹیر ” — اعجازالحق عثمانی

    ایک صاحب کسی ہوٹل پر تیتر کا گوشت کھانے گئے۔ کھاتے ہوئے انھے ملاوٹ کا شک ہوا تو ویٹر سے پوچھا کہ یہ خالص تیتر کا گوشت ہے؟۔ ویٹر نے کہا جی سر۔ مگر کھانے والا خود شکاری تھا اور تیتر کے گوشت سے اچھی طرح واقف تھا۔ آخر کار ویٹر نے بتا ہی دیا کہ صاحب! دیکھا دیکھی لوگ کھانے تو تیتر آتے ہیں ہمارے پاس مگر بیشتر لوگوں کو بیٹر کا ذائقہ ہی زیادہ پسند ہے ۔ سو مجبوراً مسکسینگ کرتے ہیں ۔ بات تو ٹھیک ہے ویٹر کی ہمیں مسکسینگ کی تو عادت ہو چکی ہے ۔ خالص کچھ بھی ہمیں اب اچھا نہیں لگتا۔

    ہمارے گھروں میں ڈبوں والے دودھ استعمال ہوتے ہیں کیونکہ اب خالص بھینس کے دودھ سے ہمیں بو جو آتی ہے ۔ خالص گندم کی روٹی ہمارے معدے ہضم نہیں کرتے مگر نان، پیزا تو معدے میں ڈالتے ہی ہضم ہو جاتا ہے ۔

    کوئی لیکوڈ ہمارے گلوں سے تب تک نہیں اترتا جب تک اس کا رنگ نیلا ، سبز ، کالا نہ ہو ، سفید لیکوڈ (دودھ) تو پینے کا ہم اب سوچ بھی نہیں سکتے ۔ اگر کوئی پیے بھی گا تو مسکسینگ کے ساتھ ، سپرائٹ ، سیون اپ کے تڑکے کے ساتھ ۔ (صرف) دودھ تو شاید اب پینڈو پیتے ہیں۔ ہم تو اب ماڈرن ہو چکے ہیں۔ اتنے ماڈرن کے گھر والے کے ساتھ سلام دعا کا وقت نہیں ، اور سمندر پار لوگوں سے چوبیس گھٹنے رابطوں میں ہیں۔

    اتنے ماڈرن ہوگئے ہیں کہ ہمیں اب ماں بولی پنجابی گالی لگنے لگ گئی ہے۔ ہمارے گھروں میں اب کوئی بچہ پنجابی بول کر تو دیکھائے، صرف اردو اور انگریزی۔۔۔۔۔۔ فارسی ،عربی تو ویسے ہی ہم نے مدرسے والوں کے ذمے کر رکھی ہے۔ ہمارا کیا لینا دینا، وہ پڑھیں اور ان کا کام جانے، ہمیں کیا ۔

    اور اسی انگریزی کے چکر میں ہم کہیں کے نہیں رہے۔ سیکھو بھئی انٹرنیشنل زبان ہے، مگر یہ کہاں کا قاعدہ قانون ہے کہ اپنی بالکل ہی چھوڑ دو ۔ ہم نے تو صرف چھوڑی ہی نہیں دھتکاری ہے اپنی زبان ۔ جب تک ہم انگریزی کے دو چار جملے نہ بول لیں تو ہم پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھتے خود کو۔ کل ہی ایک دوست نے بتایا کہ اس سے اپنے گاؤں کے کسی شخص نے پوچھا کہ کونسی کلاس میں پڑھ رہے ہو۔ اس کے جواب پر فوراً انگریزی کا ایک عدد غلط جملہ اس کے منہ پر دے مارا کہ اس کا ترجمہ بتاؤ ۔ یعنی تعلیم یافتہ ہونے کےلیے ، انگریزی سند ہے تو بھئی! اس آدھی تیتر آدھی بیٹر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

  • عمران خان کا ہی بیانیہ جیتا اور ہارا بھی — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان کا ہی بیانیہ جیتا اور ہارا بھی — اعجازالحق عثمانی

    کل ہونے والے ضمنی انتخابات میں سابق وزیراعظم اور چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اب بھی عوام کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ گزشتہ جلسوں میں عمران خان نے عوام میں جو بیانیہ بنایا تھا۔ کل کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے اس بیانیے کی جیت کو نہ صرف ثابت کیا۔ بلکہ اس بیانیے کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا ہے۔

    17 جولائی کے پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں جیت کی بعد تحریک انصاف ، پنجاب میں حکومت واپس لینے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

    جبکہ اس ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف کی سیاسی تحریک اور عام انتخابات کے قبل از وقت انعقاد کے مطالبے کو تقویت ملے گی۔ انتحابات کے نتائج سے یہ لگ رہا ہے کہ عمران خان اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں۔ جبکہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعت بن کر سامنے آسکتی ہے۔ مگر ہر الیکشن کا اپنے ڈائینامکس ہوتے ہیں۔ اسی لیے قبل از وقت کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

    کل کے فواد چوہدری کے بیان سے تو یہی لگتا ہے کہ تحریک انصاف اب پہلے سے زیادہ قبل از انتخابات کےلئے حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔
    اس جیت سے بظاہر تو تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تاہم عمران خان کا بیانیہ اس جیت کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے گا۔

    یہ تو بات تھی اس بیانیے کی جس میں عمران خان کی جیت ہوئی ہے۔ گزشتہ جلسوں میں عمران خان نے ایک اور بیانیہ بھی عوام میں بیچا۔

    اور وہ بکا بھی۔۔ وہ بیانیہ تھا کہ "الیکشن کمیشن جانبدار ہے”۔ اگر الیکشن کمیشن جانبدار ہوتا تو کیا عمران خان چھ نشستوں پر جیت پاتے؟۔ بالکل بھی نہیں ۔ عمران خان کی جیت نے عمران خان کے اس بیانیے کا ہرا دیا۔الیکشن نتائج سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا غیر جانبدار ہونا بھی ثابت ہوگیا ہے ۔ عام انتخابات میں عمران خان، کم از کم یہ بیانیہ تو نہیں اپنا سکتے کہ الیکشن کمیشن جانبدار ہے۔

    لیکن کیا پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت قبل از وقت انتخابات کروائے گی؟۔ بالکل بھی نہیں۔ ضمنی انتخابات نے عمران خان کو مقبول ترین لیڈر ثابت کر دیا۔ پی ڈی ایم کی حکومت جب تک عمران خان کے بیانیے کو کمزور نہیں کر دے گی۔ تب تک وہ عام انتخابات نہیں ہونے دے گی۔

  • "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    چوک پر بیٹھا گدا گر، مجھے دیکھتے ہی لنگڑاتے ہوئے میری جانب بڑھا۔ "اللہ کے نام پر دے دو، ٹانگ سے معذور ہوں۔ اللہ آپکو خوش رکھے”۔ گدا گر نے قدرے جذبات سے کہا۔ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے۔ میں نے کہا ٹانگ کو کیا ہوا ہے۔ ماما پھلا بولا! "ہوا کچھ نہیں ، بس سیاست کررہا ہے”۔ سیاست کیا مطلب؟ میں نے حیرانی سے پوچھا ۔ "فراڈ کر رہا ہے۔ یہ معذور کوئی نہیں ہے، مانگنے کے لیے بس معذور بنا ہوا ہے” ۔ ماما پھلا اسے گھورتے ہوئے بولا۔ خیر میں نے اسے پچاس روپے کا نوٹ تھما دیا ۔ اگلے روز اسی معذور گدا گر کی ٹانگ کی بجائے بازو کی معذوری دیکھ کر مجھے اس کی سیاست سمجھ آنے لگی۔

    سیاست کا مطلب فراڈ ہی ہے، گدا گر کے بعد اس مطلب کو ہمارے سیاستدانوں نے بھی درست ثابت کر کے دیکھایا۔گجنی فلم جس کا ہیرو "شارٹ ٹرم میموری لاس” جیسے مرض میں مبتلا ہوتا ہے، اور اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ شاید وہ بھارتی فلم پاکستانی سیاستدانوں پر بنائی گئی تھی ۔

    کیونکہ ہر سیاستدان بھول جاتا ہے کہ کل اس نے کیا کہا تھا ؟ عوام سے کیے وعدے تو سیاستدانوں کو کبھی یاد نہیں رہتے۔ اپنی ہی باتوں سے مکر جاتے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان تو اپنی باتوں سے اس قدر پھرے کہ مخالفین نے ان کا نام ہی "یو-ٹرن” رکھ دیا۔ عمران خان اپوزیشن میں رہ کر کہا کرتے تھے کہ جب پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں کہ حکمران چور ہے۔ جب اپنی حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو سارا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈالتے رہے۔

    حکمران جماعت یعنی ن لیگ کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ زرداری، جسے لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھیسٹنا تھا ، اب اسی کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹے جارہے ہیں۔ جب تحریک انصاف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو اسے عوام کی جیبوں پر ڈاکا کہا گیا۔ اور جب اپنی حکومت آئی تو گجنی فلم کے ہیرو کی طرح یہ بات بھول کر ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو مشکل معاشی فیصلہ کہا۔

    مولانا فضل الرحمان بھی گجنی بننے سے ہرگز پیچھے نہیں رہے۔ حرام اسمبلی کے نعرے شاید "شارٹ ٹرم میموری لاس” کی وجہ سے بھول چکے ہیں، آج کل اسی لیے اسمبلی میں حکمران جماعت کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

  • "ارسلان بیٹا!! مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "ارسلان بیٹا!! مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے” — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان جمہوریت کے دعویدار ہیں۔ اور جمہوریت پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ اسی لیے تو الیکشنز کا رونا رو رہے ہیں۔ کہ ہمیں یہ امپورٹڈ حکومت نا منظور ہے۔ ایکشنز کروائے جائیں اور جمہوری طریقے سے عوام جسے منتخب کرے ،اسے ہی حکومت ملنی چاہیے۔

    مگر جمہوریت ، جمہوریت کا راگ الاپنے والے عمران خان اور ان کے حامی آزادی اظہار اور پریس کی آزادی جیسی جمہوری اقدار کو ماننے کو تیار ہی نہیں۔ جو عمران خان کے حق میں بولے وہ صحافی کہلائے اور جس نے زرا سی بھی عمران خان پر تنقید کر دی تو صاحب! وہ لفافی ہوتا ہے۔

    آج کل عمران خان کے حامی ٹوئیٹر پر سیئنر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے خلاف غداری اور لفافی کے ٹرینڈز چلا رہے ہیں۔میں بھی مبشر لقمان کے تجزیوں اور تبصروں پر اختلاف رائے رکھتا ہوں۔ مگر اختلاف رائے کا مطلب گالم گلوچ نہیں ہوتا ہے۔ اگر آپ کو مبشر لقمان یا کسی اور صحافی کی بات اچھی نہیں لگ رہی تو نہ سنیں یا اختلاف کریں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اور جمہوریت سب کو اظہار رائے کی آزادی تو ضرور دیتی ہے۔ مگر کسی شہری کی رائے پر اختلاف کی بجائے گالم گلوچ کی ہرگز نہیں۔

    اس میں کوئی شک نہیں عمران خان یو ٹرن لیتے رہے ہیں۔ عمران خان کے دور میں ان کے وزرا نے دل کھول کر کرپشن بھی کی ہے۔ مبشر لقمان بھی یہی سب چیزیں بتا رہے ہیں۔ بلکہ ثبوت بھی دیکھا رہے ہیں۔فیصل واوڈا کی غیر ملکی شہریت ہو یا خسرو برادران کی کرپشن ، توشہ خانہ یا سابق وزیر اعلی عثمان بزدار گروپ کی کرپشن ، مبشر لقمان ان سب معاملات پر تجزیے اپنے یو ٹیوب چینل پر کر رہے ہیں۔ اور ثبوت بھی دے رہے۔

    اگر ثبوت جھوٹے ہیں تو بھیا! کہو کہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ اصل بات یہ ہے۔ اور ثبوت جھوٹے ثابت کرو۔ معاملہ عدالت لے کر جاؤ۔ مگر یہ تو جھوٹا پن اور کم ظرفی ہے،کہ اپنے سوشل میڈیا کو یہ کہہ کر ٹرینڈز پر لگا دیا جائے کہ "ارسلان بیٹا! غداری سے لنک کر دو”۔ ٹوئیٹر مبشر لقمان کے خلاف ٹوئیٹس سے بھرا پڑا ہے ۔

    مگر مبشر لقمان بولے جا رہا ہے۔ رکنے کا نام تک نہیں لے رہا۔”ارسلان بیٹا مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے”۔ کہنے کی بجائے مبشر لقمان کو ملک پاکستان نے جو اظہار رائے کی آزادی جیسا حق دیا ہے،اسے قبول کیجیے۔