Baaghi TV

Tag: اعجازالحق عثمانی

  • عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرکے انقلاب لانا چاہتے ہیں یا معیشت ڈبونا؟ — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرکے انقلاب لانا چاہتے ہیں یا معیشت ڈبونا؟ — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان اندھوں میں کانے راجا ضرور ہیں۔مگر دودھ کے دھلے ہرگز نہیں۔ حقیقی آزادی کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کا یہ درست وقت ہے بھی کہ نہیں؟۔ معیشت پہلے کہاں کھڑی ہے؟۔یہ سوچیے زرا۔کیا خان صاحب کو نہیں پتہ کہ اس وقت سیلاب متاثرین اور مہنگائی اس ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے ؟۔ یقیناَ جانتے ہونگے۔ ان کے علم میں یہ بھی ہوگا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں شدت پسندی پھر سے زور پکڑ رہی ہے۔مگر پوری تحریک انصاف ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتی لیول پر لانگ مارچ کی تیاریوں میں جُتی ہوئی ہے۔اور مسائل کے لیے اندھا حافظ جی بنی ہوئی ہے۔

    خان صاحب صوبہ آپکا مالی طور پر ڈیفالٹ کے کنارے کھڑا ہے۔ تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ۔ مان لیا کہ انقلاب کے لیے ایسی قربانی دینا پڑتی ہیں۔ اور یہ سچ بھی ہے۔ مگر کیا آپ کو شدت پسند عناصر کا دوبارہ منظم اور متحرک ہونا نظر نہیں آرہا؟ ۔ معیشت کی قربانی تو انقلاب کے نام پر قبول ہے۔ مگر انقلاب کے نام پر شدت پسندی میں شدت سے جانوں کی قربانی کیسے قبول کر لیں ۔آپ کو تو چاہیے تھا کہ اس وقت شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کرتے۔ مگر آپ انقلاب کے چکر میں اسلام آباد بند کرنے کے چکروں میں ہیں۔

    "ان تازہ خُداؤں میں بڑا سب سے، وطن ہے”

    یہ قوم آپ سے توقع کیے بیٹھی ہے کہ آپ ہی مسیحا ہیں۔پلیز! اس قوم اور اس وطن کا سوچیے خان صاحب۔اس وطن کا کہ جو

    ہر مومن کا رکھوالا ہمارا وطن
    امت کا ہے سہارا پیارا وطن

    نہ تھا امت کا ہمدرد کوئی
    دے کے قوت رب نے ابھارا وطن

    دریا دیئے، بحروبر دئیے، دئیے حسین گلشن
    خدا نے نعمتوں سے ہے سنوارا وطن

    ان کے آنگن میں بھی سدا بہار رہے
    جان دے کے جنہوں نے نکھارا وطن

    ہو گا اسلام کا غلبہ جہاں میں عامر
    وسیلہ بن کے آئے گا تمھارا وطن

    احتجاج ہر پاکستانی اور ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ۔ تو پھر وفاقی حکومت کیوں اس احتجاج کو روکنے کے لیے حربے ،حلیے استعمال کر رہی ہے۔ن لیگی حکومت یہ احتجاج روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے تو کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی احتجاج کرے گی تو ہر قیمت پر روکیں گے۔

    خان صاحب!احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے۔ مگر پہلے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی عوام کو تو اسکا حق دیں، جس کے عوض آپ نے ووٹ لے رکھے ہیں۔

  • عدم تشدد کا عالمی دن اور پرتشدد بھارت کا مکروہ چہرہ — اعجازالحق عثمانی

    عدم تشدد کا عالمی دن اور پرتشدد بھارت کا مکروہ چہرہ — اعجازالحق عثمانی

    ہر سال 2اکتوبر کو ، اقوام متحدہ کی قرارداد (جس کی 143 رکن ممالک نے حمایت کی تھی) کے مطابق "عدم تشدد کا عالمی دن” یا "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم عدم تشدد کو منانے کا مقصد، امن، برداشت اور عدم تشدد کا فروغ ہے ۔ تاکہ معاشرے میں امن و امان ، محبت اور بھائی چارے کا فروغ ہو۔

    جنوری 2004 میں ایرانی نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی نے عدم تشدد کا عالمی دن منانے کی تجویز پیش کی۔ جسے بھارت میں اس قدر پزیرائی ملی کہ بھارت نے "عالمی یوم عدم تشدد” منانے کی تجویز اقوام متحدہ کے سامنے پیش کردی۔

    مگر بھارت جیسے جابر اور ظالم ملک کو دیکھ کر یہ بات کس قدر عجیب اور فریب لگتی ہے کہ اس ملک نے عالمی یوم عدم تشدد کی قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کی تھی۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی یہ دن اپنے سیاسی رہنما گاندھی کے یوم پیدائش کے طور پر مناتے ہیں اور اسے بھارت میں "گاندھی جیانتی”کے نام سے منایا جاتا ہے۔ گاندھی نے کہا تھاکہ

    "حقیقی خوشی وہی ہے۔ جو آپ بھائی چارے کے لیے سوچتے ، کہتے اور کرتے ہیں”۔

    عدم تشدد کے علمبردار گاندھی کا ملک بھارت تو کبھی بھی تشدد ترک کرنے پر آمادہ نظر نہیں آیا۔ بھارت میں مسلمانوں پر منظم تشدد اور قتل و غارت گری سے بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ بھارت کی کشمیر میں جاری وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ دیکھ کر بھارت کی عدم تشدد کی قرارداد صرف فریب لگتی ہے۔ اپنے حق کےلیے آواز اٹھانے والے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و تشدد اور سفاکی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ جموں شہر کی قریبی نہر کشمیریوں کے خون سے سرخ نظر آتی ہے۔

    گائے کے ساتھ نظر آنے والے مسلمانوں پر بھارتی مشتعل ہجوم کا تشدد ، کشمیر میں ظلم وبربریت ، مکر و فریب اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گاندھی کی قوم کی اقوام متحدہ میں عدم تشدد کی قرارداد صرف ایک فریب تھا۔ پوری دنیا میں بھارت کے قرارداد پیش کرنے کی وجہ سے "عدم تشدد کا عالمی دن” یا "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” تو منایا جاتا ہے ۔ مگر بھارتیوں نے خود آج تک اس پر عمل نہیں کیا۔

    بطور معاشرہ ہم بھی ایک پرتشدد معاشرہ ہیں۔ گھروں میں ملازمین پر تشدد ، باس کے دفتر میں خواتین پر جنسی تشدد، سکولوں اور مدارس میں طلب علموں پر تشدد۔۔۔۔ یہی ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے۔ لکھتے ہوئے باچا خان( خان عبدالغفارخان المعروف باچا خان پختونوں کے ایک سیاسی رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ انھوں نے برطانوی دور میں عدم تشدد کا پرچار کیا۔عدم تشدد کے بارے میں انکا ایک قول بہت مشہور ہے۔”ہماری جنگ عدم تشدد کی جنگ ہے اوراس راستے میں آنے والی تمام تکالیف اورمصائب ہمیں صبر سے جھیلنے ہوں گے”) کا ایک قول پردہ فکر سے بار بار ٹکرا رہا ہے.

    ” اگر آپ نے کسی کو ناپنا یا جاننا ہو کہ وہ کتنا ترقی یافتہ اور عدم تشدد کا علمبردار ہے تو دیکھیں کہ ان کا خواتین کے ساتھ رویہ کیسا ہے۔”
    اگر ہم اسی قول کے ترازو میں خود کو تولیں تو ہمارے معاشرے کا مجموعی وزن مائنس میں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم "انٹرنیشنل ڈے آف نان وائیلنس” سے کچھ سیکھتے بھی ہیں یا اگلے سال بھی یہ معاشرہ ایک پرتشدد معاشرہ ہی ہوگا۔

  • 8 اکتوبر!! قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن — اعجازالحق عثمانی

    8 اکتوبر!! قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن — اعجازالحق عثمانی

    پاکستان میں گرمی اپنے زوروں پر تھی۔کہ اکتوبر میں موسم نے انگڑائی لی اور راتیں سہانی ہونا شروع ہو گئیں۔ اکتوبر نے خنکی نے راتیں تو سہانی کر دی۔ مگر یہ ماہ خود قیامت خیز ثابت ہوا۔ قیامت خیز یوں کہ 8 اکتوبر کو زوردار زلزلے کے جھٹکے نے پاکستان کے شمالی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ 7.6 کی شدت سے آنے والے اس زلزلے سے اسلام آباد، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 86 ہزار لوگ ہلاک اور تیس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔

    8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین سے اظہار ہمدردی و یک جہتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے آگاہی فراہم کرنے کے لیے پاکستان میں 8 اکتوبر کو قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن منایا جاتا ہے۔

    مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے آج تک کوئی منصوبہ بندی کی ہے؟ کیا صرف دن منا لینا کافی ہوتا ہے؟۔ جواب ہے ، بالکل بھی نہیں، پاکستان نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی بنانے کی کوشش تک نہیں کی۔ جس کی زندہ مثال 2022 کا حالیہ سیلاب ہے۔

    آج بھی ملک پاکستان کے کئی علاقے سیلاب جیسی قدرتی آفت سے متاثر ہیں۔بلوچستان کے بتیس ، گلگت بلتستان کے چھ، پنجاب کے تین، خیبر پختونخوا کے سترہ اضلاع اس ہولناک آفت کا شکار ہوئے ہیں۔ جبکہ سندھ کو سیلاب نے جتنا تباہ کیا ہے۔ اس کا تو صحیح سے اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔

    پاکستان میں شاید اب سیلاب ایک معمول بن چکا ہے۔ ہر چند برس کے بعد شدید بارشوں کے باعث سیلاب آتا ہے۔نشیبی اور کمزور انفراسٹرکچر والے علاقے زیر آب آ جاتے ہیں۔ کچی بستیوں کے نام و نشان تک باقی نہیں رہتے۔ لوگوں کے مویشی بھی یہ آفت ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔ کئی انسانی جانیں پانی کی نذر ہوجاتی ہیں۔اور پھر ان غریبوں کے ساتھ ظلم یہ ہوتا ہے کہ حکومت ان کو پوچھتی تک نہیں ہے ۔

    آج بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی امور میں ریاستی عمل داری آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مختلف فلاحی ادارے متاثرہ علاقوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ ان ہی فلاحی ادارے میں سب سے نمایاں نام اور کام الخدمت فاؤنڈیشن کا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار جنوبی پنجاب ، گلگت، خیبرپختونخوا اور سندھ کے ان علاقوں تک پہنچے ، جہاں جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔

    افسوس حکومت وقت نا تو متاثرین کے زخموں کا مرہم بنی اور نا ہی سیلاب سے بچاؤ کے لیے کوئی اقدام کر پائی۔ قدرتی آفات سے بچاؤ یا نمٹنے کے متعلق آگاہی پھیلانے سے ہزاروں قیمتی جانیں تو بچائی جاسکتی ہیں۔مگر کاش آگاہی پھیلانے کے لیے چند بینرز لگانے اور تقاریب منعقد کروانے کے علاؤہ کوئی عملی اقدام بھی کیا جاتا۔

  • ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    گزشتہ برس بھارت میں کسانوں کی ایک تحریک نے زور پکڑا تو ہمارے میڈیا سمیت ملک پاکستان کے مالکان سب نے ان کے لیے ہمدردی اور حمایتی بول بولے۔ مگر آج پاکستان کا کسان سڑکوں پر ہے۔تو ہمارے اندر اس قدر ہمدردی کیوں نہیں نظر آرہی ہے ۔جو 2021 میں بھارتی کسانوں کے لیے نظر آئی تھی۔اسلام آباد میں ہزاروں کسان کھاد اور بیج کی وافر مقدار میں فراہمی، گندم کی خریداری کی امدادی قیمت میں اضافے اور ڈیزل و بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے مطالبات کے لیے سڑکوں پر ہیں۔

    پاکستان کا کسان ایک لمبے عرصے سے صرف ظلم ہی سہتا آرہا ہے۔بلند و بانگ دعوے ہر سیاسی جماعت نے کیے۔مگر کسان کے ہاں خوشحالی اتنی ہی آئی ہے۔ جتنی اس ملک میں جمہوریت۔۔۔۔۔نہ زرداری، نہ نواز وشہباز اور نہ عمران نے کسانوں کے لیے کوئی ایسا میکانزم اور لائحہ عمل تیار کیا۔ جس سے وہ خوشحال ہو سکیں۔ کھاد کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ، لاکھوں روپے میں بجلی کے بل، آسمان کو چھوتی ڈیزل کی قیمتیں، کسانوں کی خود کشی کے مترادف ہیں۔

    ہر آنے والے انتخابات سے پہلے ایسے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب تو اچھے دن آنے والے ہیں۔ ایسے ایسے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ لگتا ہے۔ کہ سبز کھیتوں میں کام کرنے والا کسان اب تو ضرور خوشحال ہوگا۔ اس کی مشکلات کم اور آسانیوں میں اضافہ ہوگا۔ مگر آسانیوں میں اضافے کی بجائے ، مشکلات اس قدر بڑھا دی گئی ہیں کہ وہ اب سڑکوں پر نکلنے کو مجبور ہوگیا ہے ۔اپنے کھیتوں کو چھوڑ کر وہ آج سڑکوں پہ ہیں۔ تہذیب انسان کا وارث ، ملک کے شہریوں کا پیٹ بھرنے والا، آج اگر اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر ہے۔ تو یہ پوری قوم کےلیے افسوس کی بات ہے ۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے تو کسان کو حق نہ ملنے پر ، کھیت و کھلیان جلا دینے جیسے الفاظ اپنے اشعار میں لکھے ہیں۔

    جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
    اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

    شاید علامہ اقبال جانتے تھے کہ کسان پر ظلم ہوگا۔ پوری دنیا کا پیٹ بھرے گا مگر اپنا پیٹ بھرنے کےلیے اس کو ٹھوکریں کھانی پڑیں گی۔
    کسی دور میں کسان ہی معاشرے کا سب سے خوشحال فرد ہوتا تھا ۔مگر آج کسان کے حالات اس قدر پسماندہ ہوچکے ہیں کہ گزر بسر مشکل ہوگیا ہے۔

    گندم کی بالیاں ہی وہ بیٹی کو دے سکے
    مالک میرے کسان کے کھیتوں کی خیر ہو

    ہم کیسے بھول گئے ہیں کہ یہی کسان ہمارا پیٹ بھرتا ہے۔ ہماری بھوک مٹانے کے لیے دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا ہے۔ زمین کا سینہ چیر ہمارے لیے غذا اگاتا ہے۔ یہ خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔ یہ خوشحال ہوگا تو ہمارے پیٹ بھریں گے۔

    یہ ہری کھیتی، ہرے پودے، ہرا رنگ چمن
    تم سے ہیں آباد یہ کہسار یہ کوہ ودمن

    خوں پسینے سے بہت سینچا ہے یہ صحن چمن
    تم اگر آباد ہو، آباد ہیں گنگ و جمن

  • "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ربیع الاوّل ایک ایسا عظیم الشان مہینہ ہے ۔ جس میں تاریکی، روشنی میں بدلی۔اور جہالت ، تہذیب میں تبدیل ہوئی۔ ربیع الاول کی اس قدر فضیلت کی وجہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ ہے۔ اسی ماہ یعنی ربیع الاول کی 12 تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، پیغمبروں کے سردار، جنت کے سردار کے نانا، آقا کائنات، وجہ تخلیق کائنات محمد مصطفیٰ ،احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کائنات فانی میں بھیج کر نہ صرف مسلمانوں یا انسانوں، بلکہ کائنات کی ہر اک مخلوق پر ایک بہت بڑا احسان فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں پر بے شمار احسانات کیے ۔ ہمارے لیے ماں باپ بنائے۔ رشتے بنائے ۔

    پھر ان رشتوں میں ہمارے لیے پیار و احساس جیسے جذبات پیدا کیے۔ موسم ، رنگ برنگے پھول اور دل کو چھو لینے والی قدرتی حسن سے مالا مال جگہیں بنائیں۔پھر کھانے کے لیے کیا کیا نہ بنایا ۔یہ سب بڑے احسانات ہیں۔ مگر ان سب احسانوں سے اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہمارے درمیان اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجنا ہے۔اس احسان کے بارے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

    لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍo (سورۃ آل عمران 3 : 164)

    ترجمہ: "بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے”۔

    بلاشبہ عرب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے گمراہی اور جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ چاروں جانب گناہوں اور جہالت کا اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ اچھائی کا ہونا ناممکن سا ہوگیا تھا۔ باپ ، بیٹے کا دشمن تھا۔ اور بیٹیوں کو باپ زندہ در گور کر دیتے تھے ۔ رشتوں کی تمیز ختم اور خون سفید ہوچکے تھے ۔

    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے آکر ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کے قابل بنایا۔ جہالت کو تہذیب اور اندھیرے کو روشنی میں ایسے بدلا کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ایک دوسرے کے بھائی بن گئے ۔ بیوی کو باندھی سمجھنے والے ، اسے نصف ایمان کا درجہ دینے لگے ۔

    بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی بجائے انھیں رحمت سمجھا جانے لگا۔یہ سب کیوں نہ ہوتا ۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار اور اسوہ اس قدر کامل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانی دشمن بھی آپ کی صداقت اور ایمانتداری کو سلام کرتے تھے ۔

    سلام اے آمنہ کے لال ‘ اے محبوب سبحانی
    سلام اے فخر موجودات ‘ فخر نوعِ انسانی

    سلام! اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے
    سلام! اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے

    سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
    سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

    ربیع الاول کی آمد سے قبل ہی مسلمان اس کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ربیع الاول کے آغاز سے ہی گھروں، دفاتر اور مساجد میں چراغ کیا جاتا ہے ۔گھر ،گھر ،گلی ،گلی روشن نظر آتی ہے ۔ مگر ربیع الاول میں جس ہستی کی آمد پر ہم خوشیاں مناتے ہیں ۔ کیا اس ہستی کا پیغام ہمیں یاد ہے ؟۔ گھر تو روشن کر لیتے ہیں ۔ مگر دلوں میں نفرتیں، کدورتیں اور بغص ہی رکھتے ہیں ۔ ماہ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم جہالت کے اندھیروں میں پھر سے ڈوبتے جارہے ہیں۔ کیونکہ ہم نے ماہ ربیع الاول کے پیغام کو فراموش کر کے ، اس ماہِ مبارک میں صرف گھر روشن اور جھنڈیاں لگانے شروع کر دی ہیں۔

    بیشتر لوگ اب بیٹیوں کو رحمت کی بجائے زحمت سمجھنے لگے ہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر کئی ایسے کیسز سامنے آتے ہیں کہ بیٹی کی پیدائش پر شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی ۔ بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ یہ سارے واقعات رونما نہ ہوتے ۔اگر ہم نے ربیع الاول اور اس ماہِ مبارک میں پیدا ہونے والی ہستی کے پیغام کو روشن کیا ہوتا۔ اگر ہم نے اپنے گھروں کو روشن کرنے کی بجائے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو روشن کیا ہوتا تو آج کا یہ معاشرہ بہت بہتر ہوتا۔

  • ایٹمی ملک چلانے والوں کی آڈیوز برائے فروخت — اعجازالحق عثمانی

    ایٹمی ملک چلانے والوں کی آڈیوز برائے فروخت — اعجازالحق عثمانی

    اگر آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں تو پھر یقیناً حال ہی میں آپ نے پانامہ لیکس کا نام سنا ہوگا ۔اور آج کل آڈیو لیکس کے بارے میں بھی اور لیک ہونے والی آڈیوز کو سن بھی رہے ہونگے۔ملکی تاریخ میں آڈیوز لیکس پہلی بار نہیں ہورہی ہیں،اس سے پہلے بھی آڈیوش اور ویڈیوز لیکس ہوتی رہی ہیں۔ مگر ہم نے کبھی اپنی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کی طرف غور ہی نہیں کیا۔

    گزشتہ ہفتے آڈیوز لیکس کا شروع ہونے والا سلسلہ تا حال جارہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیرِاعظم عمران خان سمیت کئی اہم وزرا کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہو چکی ہے۔ "انڈی شیل” کے نام سے ایک اکاؤنٹ ہیکرز کے ایک فورم پر بنایا گیا۔ اکاؤنٹ بنانے والے ہیکر نے پاکستانی وزیر اعظم ہاؤس کی آڈیوز کی اپنے پاس موجودگی کے متعلق ہیکرز فورم پر پوسٹ کی۔ جس کی قیمت 180 بٹ کوائن رکھی گئی ۔ یعنی پاکستانی وزیر اعظم ہاؤس کے لیک شدہ گفتگو کی عالمی مارکیٹ میں بولی لگائی گئی ۔ جی ہاں، جناب ! ایٹمی ملک پاکستان ہے یہ ، یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی گفتگو ریکارڈ ہو جاتی ہے۔ اور پھر ہیکر اسے عالمی مارکیٹ میں فروخت کے لیے بولی لگاتا ہے۔ مگر ایٹمی ملک بے خبر ہے کہ یہ سب کیسے ہوا ہے۔

    100 گھنٹوں سے زائد کی گفتگو کی ریکارڈنگ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی وزیراعظم ہاؤس جیسی حساس جگہ کی۔۔۔۔۔۔ ایٹمی ملک کو اپنا سر پیٹ لینا چاہیے۔ دنیا ٹیکنالوجی میں کتنی آگے بڑھ گئی ہے۔ کوئی دشمن ملک کتنی آسانی سے ہمارے رازوں سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ سب سوچنے اور اسکا سب کا حل نکالنے کی بجائے آج بھی ہم فقط سیاست میں مصروف ہیں۔

    وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنی اور پرنسپل سیکریٹری کی مبینہ آڈیو لیک ہونے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ” یہ معاملہ صرف اُن کی ذات کا نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی عزت کا ہے”۔جناب ریاست پاکستان کی عزت وتکریم کو جتنا آپ لوگوں نے پامال کیا ہے۔ اب آپ یہ بات کرتے ہوئے اچھے نہیں لگ رہے۔

    وزیراعظم ہاؤس جیسی حساس جگہ کی ایسی آڈیوز کا ریکارڈ ہونا اور پھر منظر عام پر آنا۔ ایجنسیوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔

    اگر یہ کام کسی دوسرے ملک کا ہے۔ تو ہم بے خبر کیسے رہے؟۔سیکیورٹی معاملات اور خارجہ پالیسی جیسے حساس امور پر گفتگو جہاں ہوتی ہے ۔اگر وہاں کی سیکورٹی اتنی کمزور ہے۔ باقی ملک کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔

  • مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار  — اعجازالحق عثمانی

    مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار — اعجازالحق عثمانی

    کلرکہار یوں تو اپنے قدرتی حسن اور منفرد تاریخ کی وجہ سے پاکستان بھر میں جانا جاتا ہے ۔ مگر بیشتر لوگ اس بات سے لاعلم ہیں کہ یہاں بڑے اعلیٰ معیار کا عرق گلاب بھی دیسی طریقے سے کشید کیا جاتا ہے۔ تاریخی کتب کے مطابق مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر کی بیوی نور جہاں کو کلرکہار کا عرق گلاب اس قدر پسند تھا کہ وہ خصوصی طور پر یہاں سے عرق گلاب منگوایا کرتی۔چند دہائیاں قبل بازاری کاسمیٹکس تو تھا ہی نہیں۔ خواتین اپنے چہرے کو تر و تازہ رکھنے کی غرض سے گلاب کا عرق استعمال کرتیں۔ ملکہ بھی شاید اسی مقصد کے لیے کلرکہار سے عرق گلاب منگواتی ہونگی۔

    گلاب کی پنکھڑیوں سے نکالا گیا عرق ہاتھوں کی تازگی، آنکھوں کی چمک اور جلد کو نرم وملائم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں اینٹی آکسیڈینٹس بھی ہوتے ہیں۔ سو یہ جلد کو مضبوط کرتا ہے۔عرق گلاب مختلف اشیا مثلاً آئس کریم، کیک، بسکٹ اور دیگر مٹھائیوں میں ذائقے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ طبعی طور پر اس کے بہت سارے فوائد ہیں ۔

    گلاب کے فوائد کے ساتھ ساتھ اسکی رنگت میں اس قدر کشش ہے کہ سبھی شعرا نے اس کو تختہ مشق بنایا ۔ کسی کو محبوب کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی لگے تو کسی کو اس کی رنگت سے رخسار محبوب کی یاد نے گھیرا ۔ چند اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔

    ؎ وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دلربا خوشبو
    وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں

    ؎ عرق نہیں ترے رو سے گلاب ٹپکے ہے
    عجب یہ بات ہے شعلے سے آب ٹپکے ہے

    ؎ آ نکھوں سے ہٹے نہ خواب جیسا
    وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا

    ؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

    کلرکہار میں بنائے جانے والے عرق گلاب کی تیاری میں صرف پیتل کے برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ مٹی سے بنی بھٹی کے اوپر بڑے سے برتن میں پانی اور گلاب کی پنکھڑیاں ڈال کر برتن کا ڈھکن بند کر دیا جاتا ہے ۔ اسی برتن سے ایک پائپ بھی منسلک ہوتا ہے ۔جس سے بھاپ گزر کر ٹھنڈے پانی میں پڑے ایک برتن میں جا گرتی ہے۔ جو بعد میں عرق کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔انھی بھٹیوں میں عرق چوعرقہ، عرق سونف ، عرق پودینہ ، عرق لوٹاٹ وغیرہ بھی کشید کیا جاتا ہے ۔ اگر آپ واقعی خالص عرق گلاب کے متلاشی ہیں تو کلرکہار جائیے بے فکر ہو کر خالص عرق گلاب خریدیئے ۔

  • 23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    تین دن قبل یہ دن اتنی ہی خاموشی سے گزر گیا جتنی خاموش یہ زبان ہے، خیر اشاراتی زبان سے مراد ، جسم کے مختلف حصوں مثلاً ہاتھوں ، انگلیوں اور کندھوں وغیرہ کی مدد سے گفتگو کرنا ہے۔ گونگے افراد بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں تو وہ اشاروں کی مدد سے اپنی بات دوسروں کو سمجھاتے ہیں ۔دسمبر 2017 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ،2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی دفعہ 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔یوں تو 17 ویں صدی سے ہی مغربی دنیا میں اشاراتی زبان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔1620 میں ایک ہسپانوی پادری نے بہرے لوگوں کو اشاروں کی مدد سےتقریر سیکھانے کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ لیکن آج کے اس سائنسی دور میں ہم آج بھی بہت پیچھے کھڑے ہیں ۔

    ڈبلیو ایف ڈی کی جانب سے جاری کئے گئے ڈیٹا کے مطابق تقریبا 7.2 کڑور افراد دنیا بھر میں بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

    سماعت سے محروم 80 فیصد افراد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ یہ لوگ مجموعی طور پر تقریباً 300 سے زائد زبانوں کی مدد سے اپنی روزمرہ کی زندگی میں گفتگو کرتے ہیں۔

    ڈیٹا کے مطابق” پاکستان میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ جو کہ ملک میں موجود معذور افراد کا7.4 فیصد بنتے ہیں”۔

    انٹرنیشنل ڈے آف سائن لینگویجز یا اشاروں کی زبان کا عالمی دن گویائی اور سماعت سے محروم افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے۔ مگر صرف اظہار یک جہتی سے کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔انڈونیشیا کے شہر یوگیاکارتا میں ایک مدرسہ ہے۔ جہان کبھی بھی تلاوتِ قرآن کی آواز نہیں سنی گئی۔یہ اشاراتی زبان سمجھنے والے بچوں کے لیے بنایا گیا ایک مدرسہ ہے جہاں اشاروں کی مدد سے قرآن کی تلاوت سیکھائی جاتی ہے ۔ لیکن سوچیے پاکستان میں اشاراتی زبان سمجھنے والوں کے لیے اس اندھی قوم نے کیا گیا ہے۔ یہاں صرف انکا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ ان کو اپنے سے کم تر سمجھا جاتا ہے ۔اس اندھی قوم سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس اشاراتی زبان کی خوبصورتی تو دیکھیے۔ خاموشی اور سکوت میں سب کچھ ہی کہہ جاتی ہے۔

    کہاں سے سیکھا ہے تو نے ہنر محبت کا
    کلام کرتی ہے دنیا سے تیری خاموشی

    اشاروں کی زبان سمجھنے والوں کے اشاروں سے یاد آیا کہ فطرت بھی تو انسان سے اشاروں میں گفت و شنید کرتی ہے۔ فطرت کے اشارے چاروں جانب پھیلے ہوئے ہیں ۔ اشاراتی زبان فطرت کے بہت قریب تر ہے ۔ جب اس ننھے سیارے پر زندگی کا آغاز ہوا ہوگا تو زبان نام کی تو کوئی شے نہیں ہو گی۔ تب بھی تو حضرت انسان نے اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کےلیے اشاروں کا ہی سہارا لیا ہو گا۔

    ہمیں سماعت سے محروم لوگوں کو معاشرے میں عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اشاروں کی زبان سمجھنے والے لوگ آنکھوں پر پٹی بندھی اس قوم سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں ۔

    پاکستان کو قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد کےلیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ، خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا؟ — اعجازالحق عثمانی

    ٹرانس جینڈر ایکٹ، خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہمارے معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کا تو نام و نشان تک نہیں پایا جاتا،اور جو رویہ بطور معاشرہ ہمارا خواجہ سراؤں کے ساتھ ہے وہ تو پوچھیے ہی مت۔ خواجہ سرا انتہائی قابل رحم جنس اس لیے بھی ہیں۔ کہ ہم نے انھیں ایک الگ جنس تسلیم کرنے پر آج تک تسلیم ہی نہیں کیا ۔ پیدا ہوتے ہی یہ طبقہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    ہمارے ہاں خواجہ سراؤں کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیاں ہیں ، شاید انہی غلط فہمیوں کو وجہ سے معاشرہ اس تیسری جنس کو قبول نہیں کرتا۔خواجہ سرا ہوتا کیا ہے ؟ اس بات کا جواب سائنسی بنیادوں پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔شناخت کا سب سے زیادہ موثر طریقہ ڈی این اے ہے۔

    ڈی این اے میں موجود "ایکس” اور "وائے” کروموسومز جنسی شناخت کرتے ہیں۔فرٹیلائزیشن سے پہلے صرف "ایکس” کروموسوم ہی پایا جاتا ہے ۔جبکہ سپرم میں یا تو "ایکس” کروموسوم ہوتا ہے، یا پھر "وائے”۔ "ایکس” کروموسوم سے جنم لینے والی جنس لڑکی جبکہ "وائے” کروموسومز کی فرٹیلائزیشن ہو تو پیدا ہونے والی جنس لڑکا ہوگا۔

    لیکن بعض دفعہ کسی لڑکے میں لڑکیوں کی خصوصیات جبکہ لڑکیوں میں لڑکوں کی خصوصیات آجاتی ہیں ۔ظاہری جسمامت لڑکیوں والی ،اور بعض افراد میں خصوصیات لڑکوں والی آجاتی ہیں ۔ ایسی جنس کو خواجہ سرا کہتے ہیں ۔

    2018ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پیش ہوتا ہے۔ جس کے تحت ٹرانس جینڈر کو ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ جنسی ہراسانی سے تحفظ کی فراہمی اور ان سے بھیک منگوانے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا متعین ہوتی ہے۔یہاں تک تو بات ٹرانس جینڈر طبقے کے حق میں تھی اور ان سارے حقوق کا یہ طبقہ حقدار بھی ہے۔ مگر اس ایکٹ کی چند ایک کلاز ایسی ہیں، جن کے بعد میں تو کم از کم اس کو ایکٹ کو خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا کہوں گا۔

    کیونکہ معاشرے سے اٹھ کر کوئی بھی مرد یا عورت کہے کہ وہ خواجہ سرا ہے تو بغیر کسی طبعی روپوٹس اور تحقیق کے مان لیا جائے تو یہ دراصل خواجہ سرا طبقے کے حق پر ڈاکا ہے۔اس ایکٹ کے تحت کوئی بھی شخص خود اپنی جنس کا تعین کر سکتا ہے ۔اور بغیر کسی میڈیکل رپورٹ کے، یعنی کوئی بھی شخص نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس مرد سے تبدیل کروا کے عورت یا عورت سے مرد کروا سکتا ہے۔ خواجہ سراؤں کو حق ہے کہ وہ خود اپنی جنس کا تعین کریں ۔

    کیونکہ بعض خواجہ سرا بچوں کے جنسی اعضا بچپن سے نہیں پہچانے جاسکتے ۔ بلوغت سے پہلے جنسی غدود فعال نہیں ہوتے اور جنسی ہارمونز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔اس لیے جسمانی ساخت سے پہچان خاصا پیچیدہ عمل ہوتا ہے ۔ ایسے میں وہ بچے اپنی جنس کا تعین خود ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں ۔

    مگر۔۔۔۔۔۔ایسے کھلا کھلم آزادی کہ جس کا جی چاہے اپنی جنس کا تعین خود کرنے بیٹھ جائے ، کسی طور پر بھی بڑی تباہی اور بربادی سے کم نہیں،معاشرے کی ان کالی بھیڑوں کو لگا کیسے اور کون ڈالے گا جو اس ایکٹ کی آڑ میں، اسے ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون بنا لیں گے۔

  • "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    اسلام علیکم میرے قائد!

    میں خوش ہوں کہ آپ کو جنت کی نعمتوں سے روز نوازا جاتا ہوگا۔لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں (آپ کے پاکستان) نے 11 ستمبر 1948کو آپ کے جانے کے بعد نا جانے کیا کیا نہ جھیلا ۔ سب اپنے اپنے مفادات میں پڑ گئے ہیں۔ نواز ! لندن بیٹھ کر پاکستان پر حق جماتا ہے۔

    اے میرے قائد! آج ہی ایک خبر پڑی کہ سندھ میں ایک بچی بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ مگر سندھ میں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ اے میرے قائد! آپ نے تو کہا تھا۔

    "آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”۔

    لیکن جناح صاحب! ہم مندروں میں جانے والے پاکستانیوں کو برداشت تک نہیں کر سکتے۔ آزادی کیا دیں گے؟۔ مذہب کے نام پر جتنا میرے فرزندوں کو لڑوایا گیا۔ شاید ہی کسی دوسری بات پر اتنا فساد برپا ہوا ہو۔

    بے اثر ہوگئے سب حرف نوا تیرے بعد
    کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

    تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
    ایسی بدلی کوچے کی فضاء تیرے بعد

    اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
    ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

    اے میرے عظیم قائد! مجھے آپ کے بعد برسوں تک بغیر آئین کے چلایا جاتا رہا۔ جس کا جو دل کرتا وہ وہی کرتا۔ کسی نے اپنی مرضی کا آئین بنا کر صدارتی ہانڈی میرے سلگتے جسم پر رکھی تو کسی نے میری اور آپ کی بہن پر غداری کے الزامات لگائے۔

    رشوت کے نام پر آگ بگولہ ہونے والے میرے قائد اب تو میرے فرزند ، رشوت کو کسی کام کی چابی مانتے ہیں۔ جہاں کوئی کام نہ ہو رہا ہو ،رشوت کی چابی لگا دیتے ہیں۔اور پھر اس کام کو پہیے سے ہی لگ جاتے ہیں۔

    جناح صاحب! مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ، میرے فرزند بھٹک گئے ہیں ۔اپنی منزل بھلا بیھٹے ہیں۔ آپ سے گلہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ آپ نے جس طرح مجھے آزاد کروایا ،میں خود آپ کی ذہانت سے حیران ہوا تھا۔ کسی نے آپ کے بارے میں کیا ہی سچ لکھا ہے۔

    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
    ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی

    ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
    اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی

    اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    جناح صاحب رب کے حضور یہ دعا ضرور پیش کیجیے گا کہ پاکستان کے فرزندوں کی اک اور جناح کی ضرورت ہے ۔ورنہ یہ بکھر جائیں گے ، ٹوٹ جائیں گے ، در در سے ٹھوکریں کھائیں گے۔ میں یہ سب اپنے فرزندوں کے ساتھ ہوتا ہوا برداشت نہیں کر سکوں گا ۔ اپنے اوپر کیے کے ان کے سارے ظلم بھلا کر ان کے کے دعا گو ہوں۔

    فقط۔۔۔۔ آپ کا اپنا پاکستان