Baaghi TV

Tag: اقوام متحدہ

  • پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیاہے-

    پاکستان نے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں زیادہ تر معلومات افغان طالبان حکام کے فراہم کردہ مؤقف پر مبنی دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث بعض نتائج کی درستگی اور توازن پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں، رپورٹ میں آزاد اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات کو خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت مختلف دہشت گرد گروہوں کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دیا جا رہا ہے ان حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں بے شمار معصوم شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

    ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے دوست ممالک کی ثالثی کے ذریعے بھی متعدد سفارتی کوششیں کیں، تاہم اب تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی افغان طالبان حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتی ہے یا دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی ہے،پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کیے جانے والے تمام انسدادِ دہشت گردی آپریشنز انتہائی درستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیے جاتے ہیں اور ان کی بنیاد مستند اور قابلِ تصدیق انٹیلی جنس معلومات ہوتی ہے-

    حکام نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اپنے آپریشنز کے دوران شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور ممکنہ جانی نقصان سے بچنے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیاں ایسے دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کی جاتی ہیں جو آبادی سے کافی فاصلے پر ہوتے ہیں، حتیٰ کہ حساس علاقوں جیسے کابل کے گرین زون سے بھی دور۔

    برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

    پاکستان نے تشویش ظاہر کی کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کو پناہ اور تحفظ فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث یہ گروہ نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں بلکہ وہ سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جو علاقائی امن اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہی ہیں۔

    آج میرانشاہ میں ہونے والے ایک ہولناک دہشت گرد حملے کی جانب بھی توجہ دلائی گئی، جس میں معصوم شہریوں اور بچوں کو شدید نقصان پہنچا پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کا مشن ایسے واقعات کو بھی اسی سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ رپورٹ کرے گا تاکہ زمینی حقائق کی متوازن اور درست عکاسی ممکن ہو سکے۔

    کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ

    پاکستان نے اعادہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور ذمہ دارانہ اقدامات کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اقوام متحدہ میں حمایت پر ایران کا پاکستان سے اظہار تشکر

    ایران پر حالیہ حملے کے بعد ایران نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی حمایت کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    ایران نے کہا کہ روس اور چین کے ساتھ مل کر پاکستان نے ایران کا مؤقف سپورٹ کیا۔ اس لیے پاکستان کے اندر تمام مذہبی گروہوں اور عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں، پاکستان نے ہر ممکن سفارتی اور اخلاقی مدد ایران کو فراہم کی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ میں بھی پاکستان نے حملے کی کھل کر مذمت کی، اگر ہم اپنے ملک میں احتجاج کو تشدد کی طرف لے گئے یا امن و امان کو نقصان پہنچایا تو ہم دشمن کے منصوبوں کو تقویت دیں گے لہٰذا سب سے درخواست ہے کہ وہ صبر اور دانشمندی سے کام لیں اور ملک میں کسی بھی قسم کی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال نہ پیدا کریں۔

    کراچی: امریکی قونصل خانے کے باہر تصادم، 9 افراد جاں بحق

    ایران کی عبوری قیادت کونسل تشکیل ، آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر

    سندھ حکومت کا کراچی میں مظاہرین کی ہلاکت پر جے آئی ٹی بنانے کا اعلان

  • دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے ،انتونیو گوتریس

    دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے ،انتونیو گوتریس

    نیویارک:مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں جہاں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں،پر تشویش کا اظہار کیا گیا-

    اجلاس کے دوران انتونیو گوتریس نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، اور کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    انتونیو گوتریس نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے عالمی امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے طلاعات کے مطابق ایران کے کم از کم 200 شہری حملوں کا نشانہ بنے جو تشویشناک اور ناقابل قبول ہےانہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے امن صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے، ایرانی سرکاری میڈیا

    اجلاس کے دوران اسرائیلی حکام کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا بھی ذکر کیا گیا اس حوالے سے گوتریس نے محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں اس وقت کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔

    فرانس کے مندوب نے اپنے خطاب میں ایران پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو امن کی ضرورت ہے اور سیکیورٹی کونسل کو مذاکرات کے راستے کو ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیےدنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    ایران پر حملے کے خلاف کراچی میں احتجاج، امریکا اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش

    چین کے مندوب نے ایران پرحملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملہ خطے کو جنگ کے دہانے پر لے گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران مذاکرات کی میز پر آئیں۔

    پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے خلیجی ممالک پر بھی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ کئی عرب ممالک ڈائیلاگ کی حمایت کر رہے تھےاسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں پاکستان ایرانی طالبات کی شہادت پرافسوس کا اظہار کرتا ہے۔

    بحرین کے مندوب نے اپنی تقریر میں ایران کے اقدامات کو ایک سنگین دھچکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر بحرین کی شہری آبادی پر گرنے والے میزائل حملوں کو،بحرین کی خودمختاری پر یہ حملہ ناقابل برداشت ہے، اور ہم نے کویت، یواےای اور اردن پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول کی ہیں، ایران کی جانب سے یہ حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

    ایران کے جوابی حملے : اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے، متعدد شہری زخمی

    روسی مندوب نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ کیا گیا ہے ایران میں 200 سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، اور اسکولز تک کو نہیں بخشا گیا امریکا اور اسرائیل نے انتہائی غیرذمہ دارانہ قدم اٹھایا ہے جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

  • اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    جنیوا:اقوامِ متحدہ نے امریکا ایران کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی اپیل کر دی۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی پر تشویش ہے۔

    جبکہ گز شتہ روز ایران نے اقوامِ متحدہ کو خط میں خبردار کیا تھا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمے داری امریکا پر ہوگی۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں لڑاکا طیاروں سے بھرا امریکا کا دوسرا بحرہ بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہوگیا جبکہ پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے برطانوی خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ایران پر حملے میں امریکا ایرانی رہنماؤں کو براہ راست نشانہ بنائے گا، امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔

  • اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل  اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فلسطین سے متعلق بریفنگ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئےاسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں کنٹرول کے دائرہ کار میں توسیع، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں،مذکورہ اسرائیلی اقدامات کو فوری طور پر روکا اور واپس لیا جانا چاہیے۔

    وزیرِ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ مؤثر پیش رفت کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں نمایاں اضافہ اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔

    انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا حصول ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین شدہ سیاسی عمل کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے، جو بین الاقوامی قانونی جواز اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو اس عمل کا اختتام 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی، آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر منسلک ریاستِ فلسطین کے قیام پر ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

    پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، اور عالمی برادری کو فوری، مؤثر اور اجتماعی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ خونریزی کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،اسحاق ڈار

    امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،اسحاق ڈار

    سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور اجتماعی عالمی تعاون کے نظام سے اپنی پختہ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے

    نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ویانا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں منعقدہ ایک اہم تقریب سے خطاب کیا، تقریب کا موضوع تھا ’پائیدار ترقی: عالمی امن اور خوشحالی کے راستے‘، تقریب میں ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں کے سربراہان، مختلف ممالک کے سفارتکاروں، تحقیقی اداروں کے نمائندوں اور ذرائع ابلاغ کے افراد نے شرکت کی۔

    انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور اجتماعی عالمی تعاون کے نظام سے اپنی پختہ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہےنائب وزیرِاعظم نے امن اور ترقی کے فروغ میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، یونائیٹڈ نیشنز انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائمز اور یونائیٹڈ نیشنز آفس فار آؤٹر سپیس افیئرز کے کردار کو سراہا،

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے،عالمی امن اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے تمام ممالک اور اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان اس مقصد کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے،پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن (بوقتِ سازگاری برائے دہشت گردی) کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ناگزیر ہےانہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن پر کاربند ہے اور قومی انسدادِ انتہا پسندی پالیسی 2024 فعال روک تھام کی حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے اسلام اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتے ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور پا ئیدار امن تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا موثر سدباب کیا جا سکے۔

    اپنے پیغام میں صدر زرداری نے کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کو فروغ دے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسدادِ انتہاپسندی کی کوششیں کسی مذہب یا ثقافت کو بدنام نہ کریں، جبکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا شدت پسندی کے سدباب کے لیے ناگزیر ہے۔

    صدر مملکت نے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کے مؤثر سدباب کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خاندان اور برادریاں انتہاپسند بیانیے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہیں، ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کے لیےمل کر کام کرنا ہوگاجہاں نفرت پر امید غالب ہو اور تشدد پر امن اور تقسیم پر مکالمےکو ترجیح دی جا ئے۔

  • اقوامِ متحدہ کے اسسٹنس مشن برائے افغانستان کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں، پاکستان

    اسلام آباد: پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے اسسٹنس مشن برائے افغانستان (UNAMA) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا-

    پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں بلکہ نام نہاد اسلامک امارتِ افغانستان (آئی ای اے) کے یکطرفہ، غیر مصدقہ اور غیر مستند الزامات پر انحصار کرتی ہےپاکستان نے افغانستان میں کسی بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی کسی شہری جانی نقصان کا سبب بنا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیاں صرف اُن دہشتگرد عناصر کے خلاف تھیں جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولتکاری اور عمل درآمد میں براہِ راست ملوث تھے پاکستان کی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت حقِ دفاع کے دائرے میں، درست انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں شہری آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے سے مکمل اجتناب کیا گیا دہشتگرد تربیتی مراکز اور کیمپوں کو نشانہ بنانے کے شواہد پہلے ہی عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔

    پاکستان نے UNAMA رپورٹ میں اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرنے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ افغانستان طالبان کے زیرِ انتظام دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث رہی ہیں-

    ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں شہری نقصان کی اصل ذمہ داری اُن عناصر پر عائد ہوتی ہے جو دہشت گر دوں کو شہری آبادیوں میں پناہ دیتے اور انہیں آپریشنل سہولت فراہم کرتے ہیں ایسے حالات میں پاکستان کی جوابی کارروائیوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

    دفتر خارجہ نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ غیر جانبدار، قابلِ تصدیق اور متوازن رپورٹس مرتب کرے اور دہشتگردی کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کو نظر انداز نہ کرے پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقا سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • قانون کی حکمرانی امن، انصا ف اور اجتماعی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے،عاصم افتخار

    قانون کی حکمرانی امن، انصا ف اور اجتماعی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے،عاصم افتخار

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر پربھارت کاغیرقانونی قبضہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیاد ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی امن، انصا ف اور اجتماعی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، تاہم آج بین الاقوامی قانون کے احترام کو کڑی آزمائش کا سامنا ہےیکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے عالمی قوانین پر اعتماد کو شدید مجروح کیا ہے،کشمیریوں کوحق خودارادیت سے محروم رکھنے سے امن کوشدید خطرات لاحق ہیں، عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی عالمی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔

    اگر قانون طاقت یا وقتی مصلحت کے آگے جھک جائے تو نہ صرف عدم استحکام گہرا ہوگا بلکہ تنازعات مزید شدت اختیار کریں گے اور پُرامن بقائے باہمی خطرے میں پڑ جائے گی عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کو کمزور کر رہی ہیں اور پاکستان خود بھی ایسی خلاف ورزیوں کا سامنا کر چکا ہےبھارت نے گزشتہ سال پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحیت کا ارتکاب کیا۔

    پاکستانی مستقل مندوب کے مطابق پاکستان نے اس صورتحال میں حقِ دفاع کو ذمہ دارانہ، محتاط اور متناسب انداز میں استعمال کیا، اور پاکستانی ردعمل نے واضح پیغام دیا کہ جبر کسی صورت قابلِ قبول نہیں،ریاستوں کے مابین تعلقات کا واحد معیار بین الاقوامی قانون کا احترام ہونا چاہیے، کیونکہ اسی میں عالمی امن اور استحکام کی ضمانت پوشیدہ ہے۔

  • اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد کی حمایت نہ کرنے پر ایران پاکستان کا مشکور

    اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد کی حمایت نہ کرنے پر ایران پاکستان کا مشکور

    جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران مخالف قرارداد کے خلاف ووٹ دینے پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ایرانی سفیر نے کہا کہ میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر قیادت پاکستان حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد کیخلاف ووٹ دے کر انصاف، بین الاقوامی قانون اور اصولی سفارت کاری کو تقویت دیامید ہے کہ دونوں برادر ممالک خطے اور عالمی سطح پر باہمی تعاون کو مزید فروغ دیتے رہیں گے،انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملات کو سیاسی دباؤ یا یکطرفہ فیصلوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ بات چیت، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے حل تلاش کیا جانا چاہیے،پاکستان کا ووٹ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔

    دوسری جانب پاکستان نے اس موقع پر بات چیت اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا اس موقع پر پاکستانی سفارتی حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان انسانی حقوق کے فروغ پر یقین رکھتا ہے، تاہم کسی بھی ملک کے خلاف یکطرفہ اور سیاسی بنیادوں پر لائی جانے والی قراردادوں کی حمایت نہیں کرتا، پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق سے متعلق امور میں تعمیری مکالمہ اور تعاون ہی مؤثر راستہ ہے۔