Baaghi TV

Tag: اقوام متحدہ

  • اسرائیل نے لبنان میں  فضائی حملے روک دیئے

    اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے روک دیئے

    نیویارک: اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملے روکنے کا خیرمقدم کیا ہے-

    اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کا دن جنوبی لبنان میں نسبتاً پُرامن رہا اور اقوام متحدہ کے امن دستوں نے کسی فضائی حملے یا جوابی کارروائی کی نشاندہی نہیں کی ان کے مطابق پیر کی صبح تک بھی یہی صورتحال برقرار رہی، مارچ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی لبنان میں ایسا دن گزرا ہے جب امن فوج نے نہ کسی فضائی حملے کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی میزائل یا راکٹ کی پرواز یا روک تھام ریکارڈ کی۔

    ترجمان نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دشمنی میں یہ کمی زمینی سطح پر موجود شہریوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جار ی رہے گاصورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کی امن فورس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی وسیع زمینی سرگرمیوں کا مشاہدہ جاری رکھا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ کام اور لاجسٹک سرگرمیاں شامل ہیں۔

  • شاہد آفریدی کا اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، سفیر عاصم افتخار سے ملاقات

    شاہد آفریدی کا اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، سفیر عاصم افتخار سے ملاقات

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک کا دورہ کیا اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد سے ملاقات کی۔

    شاہد آفریدی نے یہ دورہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی دعوت پر کیا جہاں انہیں عالمی ادارے کے مختلف شعبہ جات اور اس کے عملی کام سے متعلق آگاہ کیا گیا انہیں بریفنگ دی گئی کہ اقوامِ متحدہ کس طرح بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ، پائیدار ترقی کے اہداف اور رکن ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔

    ملاقات کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کرکٹ میں ان کی شاندار خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ آفریدی نے اپنی جارحا نہ بیٹنگ، آل راؤنڈ کارکردگی اور یادگار پرفارمنسز کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی نام روشن کیاانہوں نے شاہد آفریدی کی فلاحی اور انسانی خدمت کی سرگرمیوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی سماجی بہبود کے لیے کی جانے والی کاوشیں معاشرے کے محروم طبقات کے لیے امید اور سہارا ثابت ہوئی ہیں۔

    اس موقع پر گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ ایک مؤثر سپورٹس ڈپلومیسی کا ذریعہ بھی ہیں جو مختلف ممالک اور اقوام کے درمیان فاصلے کم کر کے باہمی احترام، مکالمے اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ سفیر نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ پاکستان عالمی امن، سفارتی روابط اور کثیرالجہتی نظام کے استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔

    شاہد آفریدی نے دورے اور پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کے کردار کو سراہا اور کہا کہ سفارت کاری اور کھیل مل کر دنیا میں امن اور بہتر تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بعد ازاں سفیر عاصم افتخار احمد نے ان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا، جس میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، مشن کے افسران اور دیگر معزز مہمان شریک ہوئے۔

  • پاکستان کی مسقط ایکشن پلان کی حمایت

    پاکستان کی مسقط ایکشن پلان کی حمایت

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلطنت عمان، اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر برائے نسل کشی کی روک تھام کے دفتر اور پیس میکرز نیٹ ورک کو مسقط پلان آف ایکشن کی تیاری اور تکمیل پر مبارکباد پیش کی۔

    مسقط ایکشن پلان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سلطنت عمان، اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر برائے نسل کشی کی روک تھام کے دفتر اور پیس میکرز نیٹ ورک کو مسقط پلان آف ایکشن کی تیاری اور تکمیل پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ مسقط ایکشن پلان رواداری،امن اور پرامن معاشروں کے قیام کے لیے ایک جدید اور مؤثر راستہ ہے، جو نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے کے رجحانات کے خاتمے میں مدد دے سکتا ہے۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ نفرت انگیز بیانات اور نسل کشی جیسے جرائم کی ترغیب پیچیدہ عوامل سے جڑی ہوتی ہے، جن کا مؤثر اور جامع حل قومی و بین الاقوامی سطح پر مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مقامی قیادت کے فعال کردار کا بھی متقاضی ہے،قبائلی عمائدین، سردار اور مقامی رہنما تاریخ میں ہمیشہ مقامی حکمرا نی، تنازعات کے حل اور ثالثی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں،اور آج بھی امن قائم کرنےتنازعات کم کرنے اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔

    پاکستانی مندوب کے مطابق مسقط ایکشن پلان ایک ایسا جدید اقدام ہے جو روایتی اور مقامی قیادت کی ثقافتی ساکھ اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے،یہ منصوبہ ریاستی کوششوں کو مزید مضبوط بناتا ہے تاکہ منصفانہ، جامع اور پرامن معاشروں کی تشکیل ممکن ہو سکے پاکستان بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نفرت انگیز نظریات کے خاتمے اور معاشروں کو امن، مساوات اور ہم آہنگی کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

  • افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے،عاصم افتخار

    افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے،عاصم افتخار

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان نے دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ عالمی امن کیلئے خطرہ ہے، افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور دیگر دہشتگرد گروہ افغان سرزمین پر سرگرم ہیں، جبکہ افغانستان پاکستان اور دیگر ممالک کے سیکیورٹی خدشات کو مسلسل نظرانداز کر رہا ہے گزشتہ سال 5 ہزار 300 سے زائد دہشتگرد حملوں میں 1 ہزار 200 سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار گئے، عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ صورتحال کو درست کرنے کا موقع اب بھی موجود ہے، تاہم یہ وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔

  • افغانستان میں لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

    افغانستان میں لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

    طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد خواتین پر عائد پابندیوں میں بتدریج اضافہ کیا ہے ملک بھر میں خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت مکمل پردہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ بیشتر خواتین عبایا، اسکارف اور چہرہ ڈھانپنے کے لیے نقاب استعمال کرتی ہیں۔

    افغانستان کے مغربی شہر ہرات کے رہائشیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان حکومت کی اخلاقی پولیس نے لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں متعدد خواتین کو حراست میں لیا ہے، جس پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے اپنے بیان میں کہاکہ اسے ہرات میں خواتین کی مبینہ طور پر لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں ہونے والی متعدد گرفتاریوں اور حراستوں پر تشویش ہے۔

    ہرات کے بعض رہائشیوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کے روز ایسی خواتین کو حراست میں لیا گیا جو مکمل جسم ڈھانپنے والی چادر یا برقع نہیں پہنے ہوئے تھیں۔

    23 سالہ ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے 2 اہلکاروں کو دیکھا، جن میں سے ایک کے ہاتھ میں کوڑا بھی تھا، جو 2 خواتین کو گاڑی میں بٹھا رہے تھے گرفتار کی جانے والی خواتین نے سر ڈھانپ رکھا تھا اور وہ مکمل طور پر پردے میں تھیں اس صورتحا ل کے باعث ہر شخص خوفزدہ ہے۔

    27 سالہ ایک اور خاتون نے بتایا کہ انہوں نے وزارت کے اہلکاروں کو گاڑیاں روک کر مسافروں کے لباس کی جانچ کرتے دیکھا، جبکہ متعدد خواتین کو حرا ست میں لے کر وینوں میں منتقل کیا گیاگرفتار ہونے والی بیشتر خواتین وہ تھیں جو چادر نہیں پہنے ہوئے تھیں۔

    کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد ایک صحافی اور ہرات کے متعدد رہائشیوں نے بتایا کہ گھروں سے باہر نکلنے والی خواتین کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے20 سالہ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے کہاکہ خواتین اب شہر میں تقریباً نظر ہی نہیں آتیں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ چادر کے بغیر خواتین کو اپنی گاڑی میں سوار نہ کریں۔

    33 سالہ ایک خاتون نے موجودہ صورتحال کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس بات پر شدید افسردہ ہیں کہ انہیں آزادانہ طور پر سانس لینے کا حق بھی حاصل نہیں،خواتین کے لیے زندگی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے خواتین کی گرفتاریوں کے حوالے سے کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا وزارت کے شعبہ اطلاعات نے کہاکہ ہرات میں کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں ہے لباس سے متعلق ضابطہ ایک الٰہی حکم اور نافذ شدہ قانون ہے، جس پر عملدرآمد ان کی ذمہ داری ہے۔

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 5 نئے ممبران منتخب

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 5 نئے ممبران منتخب

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آسٹریا، کرغزستان، پرتگال، ٹرینیڈاڈ، ٹوباگو اور زمبابوے کو 15 رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دو سالہ مدت کے لیے منتخب کرلیا ہے جس کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی جس نے ایک نشست کے لیے سخت لابنگ کی تھی، 104 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا جب کہ پرتگال کو 134 اور آسٹریا کو 131 ووٹ ملے،ایشیا پیسیفک گروپ کی نشست کے لیے فلپائن اور کرغزستان کے درمیان مقابلہ ووٹنگ کے چار راؤنڈ تک چلا، کرغز ستان نے بالآخر ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کر لی اور سلامتی کونسل کی اپنی پہلی نشست 49 کے مقابلے 142 ووٹوں سے حاصل کر لی۔

    سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا واحد ادارہ ہے جو پابندیاں لگانے اور طاقت کے استعمال کی اجازت جیسے قانونی طور پر پابند فیصلے کر سکتا ہے، اس کے پانچ مستقل ویٹو والے ارکان ہیں، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا،باقی 10 ممبران منتخب کیے جاتے ہیں جن میں ہر سال پانچ نئے ممبر شامل ہوتے ہیں۔

  • دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے عالمی پیشگوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکا ن 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیا تی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے، بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکا میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے،ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر 2سے7 سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

  • اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے

    اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے میں شرکت کریں گے یہ اجلاس سلامتی کونسل کی چینی صدارت کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں عالمی و علاقائی امن و سلامتی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اپنے دورہ نیویارک کے دوران مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی کریں گے جبکہ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئیں گے۔

  • عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ،دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال، بالخصوص خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا دونوں جانب سے نیو یارک میں جاری جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے جائزہ اجلاس سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

    عباس عراقچی نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی بداعتمادی پر مبنی پالیسی، خصوصاً سفارتی وعدوں کی بار بار خلاف ورزی، ایران کے خلاف فوجی جارحیت، متضاد مؤقف اور حد سے زیادہ مطالبات، پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت،  امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت، امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے لیں، بصورت دیگر فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک داخلی سفارتی مراسلے میں، جسے ’حساس مگر غیر خفیہ‘ قرار دیا گیا، یروشلم میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلسطینی قیادت کو یہ پیغام پہنچائیں کہ ریاض منصور کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے امیدواری ’کشیدگی میں اضافہ‘ کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے غزہ امن منصوبے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اگر فلسطینی وفد نے نائب صدارت کی امیدواری واپس نہ لی تو امریکا فلسطینی اتھارٹی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔

    واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں محدود خودمختاری کے تحت انتظامی امور چلاتی ہے۔

    شاہ رخ کی فلم میں کترینہ کا کردار پہلےمجھے آفر ہوا تھا،اداکارہ میرا کا انکشاف

    امریکی سفارت کاروں کو فراہم کردہ نکات میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ ستمبر 2025 میں امریکی محکمہ خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فلسطینی مشن سے وابستہ اہلکاروں پر ویزا پابندیاں نرم کی تھیں مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ ’دستیاب آپشنز پر دوبارہ غور کرنا بدقسمتی ہوگی۔

    اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، البتہ ویزا ریکارڈ کی رازداری کے باعث مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا امن منصوبہ، جو 2 برس سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے، حماس کی جا نب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث تعطل کا شکار ہوگیا ہے اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے نصف سے زائد علا قے پر قابض ہیں، جہاں بیشتر عمارتیں تباہ کی جاچکی ہیں اور شہریوں کو علاقوں سے انخلا کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    مراسلے میں کہا گیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ریاض منصور پہلے ہی فروری میں جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے چکے ہیں، تاہم نائب صدارت کے منصب پر منتخب ہونے کی صورت میں بھی وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرسکتے ہیں اگر فلسطینی امیدوار دوڑ سے دستبردار نہ ہوئے تو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران فلسطینی نمائندہ اہم اجلاسوں کی صدارت کرسکتا ہے، جسے واشنگٹن خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور 16 نائب صدور کے انتخاب کے لیے ووٹنگ 2 جون کو ہوگی فلسطینی وفد اقوام متحدہ میں ’ریاستِ فلسطین‘ کے نام سے نمائندگی کرتا ہے، تاہم اسے مکمل رکنیت حاصل نہیں 193 رکنی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے، جو ویٹی کن سٹی کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔