Baaghi TV

Tag: اقوام متحدہ

  • اقوامِ متحدہ کے امن مشنز پر حملے ایک خطرناک  رجحان کا حصہ ہیں،عاصم افتخار احمد

    اقوامِ متحدہ کے امن مشنز پر حملے ایک خطرناک رجحان کا حصہ ہیں،عاصم افتخار احمد

    پاکستان نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے تحت خدمات انجام دینے والے 3 انڈونیشین اہلکاروں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ عالمی قانون، امن مشنز اور بین الاقوامی برادری کے اجتماعی امن کے عزم پر کاری ضرب ہے۔

    جنوبی لبنان میں 2 اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں گزشتہ 2 روز کے دوران 3 انڈونیشین امن اہلکار جاں بحق ہوئے، خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب حزب اللہ نے مارچ کے آغاز میں اسرائیل پر حملے کیے، جس کے بعد لبنان بھی تنازع کا حصہ بن گیا۔

    پاکستانی مندوب نے کہا کہ امن دستوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اہلکار غیر جانبدار ہوتے ہیں اور ان پر حملہ عالمی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 600 سے زائد شہری ہلاک، 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر جبکہ بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے ایسے اقدامات لبنان کی حکومت کی امن و استحکام کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ امن اہلکاروں کی حفاظت میں ناکامی نہ صرف سلامتی کونسل بلکہ عالمی قانون اور امن مشنز کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے، لہٰذا ذمہ داران کا احتساب ناگزیر ہے،پاکستان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے،اقوامِ متحدہ کے امن مشنز پر حملے کوئی الگ واقعات نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کا حصہ ہیں، جسے معمول نہیں بننے دیا جا سکتا۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کرنے والا ملک ہے اور اب تک 182 اہلکار فرض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، اس لیے پاکستان اس نقصان کے درد کو بخوبی سمجھتا ہے،پاکستان نے انڈونیشیا کی حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی، آخر میں پاکستانی مندوب نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔

  • فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا ،اقوام متحدہ

    فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا ،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا-

    وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی نئی شدید امتیازی سزائے موت کی قانون سازی کو فوری طور پر واپس لےانہوں نے خبردار کیا کہ اس قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا سرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری انتہائی مایوس کن ہے، اگر اس قانون کا اطلاق امتیازی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، جبکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے رہائشیوں پر اس کا نفاذ جنگی جرم تصور کیا جائے گا،90 دن کی حد خود بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ عالمی قوانین کے مطابق سزا میں معافی یا رعایت کی گنجائش ہونی چاہیے،یہ قانون زندگی کے حق سمیت اسرائیل کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم ہے اور اس میں منصفانہ عدالتی عمل پر بھی سنگین خدشات موجود ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کے نئے قانون کے خلاف مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے اس قانون کے تحت مغربی کنارے میں فوجی عدالتوں سے دہشتگردی کے مقدمات میں سزا پانے والے فلسطینیوں کے لیے پھانسی کو لازمی سزا قرار دیا گیا ہے،قانون میں اپیل کے مواقع محدود کر دیے گئے ہیں، معافی یا سزا میں نرمی کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے، اور یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ حتمی فیصلے کے 90 دن کے اندر سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ وزیراعظم کی خصوصی منظوری کی صورت میں یہ مدت 180 دن تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے 1954 میں سزائے موت ختم کر دی تھی، تاہم نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور غداری جیسے جرائم کے لیے یہ قانون برقرار تھا انہی قوانین کے تحت 1962 میں ہولوکاسٹ کے مرکزی منتظم ایڈولف آئخمن کو سزائے موت دی گئی تھی۔

  • اقوام متحدہ  میں ایرانی حملوں کیخلاف قرارداد منظور، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    اقوام متحدہ میں ایرانی حملوں کیخلاف قرارداد منظور، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف ایک اہم قرارداد منظور کر لی گئی ہے، جس کی 100 سے زائد ممالک نے حمایت کی۔

    یہ قرارداد خلیجی ممالک اور اردن کی درخواست پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد منظور کی گئی، قرارداد میں ایران کے حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی ہے،اس موقع پر امارات کی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔

    قرارداد میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی میں مداخلت کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کے تحفظ اور سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے قرارداد میں متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے ، ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور متاثرہ فریقین کو مکمل معاوضہ ادا کرے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی جانب سے اس قرارداد کی حمایت ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

  • پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    پاکستان کو اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات

    پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی حالیہ رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیاہے-

    پاکستان نے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں زیادہ تر معلومات افغان طالبان حکام کے فراہم کردہ مؤقف پر مبنی دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث بعض نتائج کی درستگی اور توازن پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں، رپورٹ میں آزاد اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات کو خاطر خواہ جگہ نہیں دی گئی۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت مختلف دہشت گرد گروہوں کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دیا جا رہا ہے ان حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں بے شمار معصوم شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

    ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے دوست ممالک کی ثالثی کے ذریعے بھی متعدد سفارتی کوششیں کیں، تاہم اب تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی افغان طالبان حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتی ہے یا دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی ہے،پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کیے جانے والے تمام انسدادِ دہشت گردی آپریشنز انتہائی درستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیے جاتے ہیں اور ان کی بنیاد مستند اور قابلِ تصدیق انٹیلی جنس معلومات ہوتی ہے-

    حکام نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اپنے آپریشنز کے دوران شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور ممکنہ جانی نقصان سے بچنے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیاں ایسے دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کی جاتی ہیں جو آبادی سے کافی فاصلے پر ہوتے ہیں، حتیٰ کہ حساس علاقوں جیسے کابل کے گرین زون سے بھی دور۔

    برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

    پاکستان نے تشویش ظاہر کی کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد عناصر کو پناہ اور تحفظ فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث یہ گروہ نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں بلکہ وہ سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جو علاقائی امن اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہی ہیں۔

    آج میرانشاہ میں ہونے والے ایک ہولناک دہشت گرد حملے کی جانب بھی توجہ دلائی گئی، جس میں معصوم شہریوں اور بچوں کو شدید نقصان پہنچا پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کا مشن ایسے واقعات کو بھی اسی سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ رپورٹ کرے گا تاکہ زمینی حقائق کی متوازن اور درست عکاسی ممکن ہو سکے۔

    کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ

    پاکستان نے اعادہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور ذمہ دارانہ اقدامات کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اقوام متحدہ میں حمایت پر ایران کا پاکستان سے اظہار تشکر

    ایران پر حالیہ حملے کے بعد ایران نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی حمایت کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    ایران نے کہا کہ روس اور چین کے ساتھ مل کر پاکستان نے ایران کا مؤقف سپورٹ کیا۔ اس لیے پاکستان کے اندر تمام مذہبی گروہوں اور عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں، پاکستان نے ہر ممکن سفارتی اور اخلاقی مدد ایران کو فراہم کی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ میں بھی پاکستان نے حملے کی کھل کر مذمت کی، اگر ہم اپنے ملک میں احتجاج کو تشدد کی طرف لے گئے یا امن و امان کو نقصان پہنچایا تو ہم دشمن کے منصوبوں کو تقویت دیں گے لہٰذا سب سے درخواست ہے کہ وہ صبر اور دانشمندی سے کام لیں اور ملک میں کسی بھی قسم کی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال نہ پیدا کریں۔

    کراچی: امریکی قونصل خانے کے باہر تصادم، 9 افراد جاں بحق

    ایران کی عبوری قیادت کونسل تشکیل ، آیت اللہ اعرافی قیادت کونسل کے فقیہ مقرر

    سندھ حکومت کا کراچی میں مظاہرین کی ہلاکت پر جے آئی ٹی بنانے کا اعلان

  • دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے ،انتونیو گوتریس

    دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے ،انتونیو گوتریس

    نیویارک:مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں جہاں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں،پر تشویش کا اظہار کیا گیا-

    اجلاس کے دوران انتونیو گوتریس نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، اور کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    انتونیو گوتریس نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے عالمی امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے طلاعات کے مطابق ایران کے کم از کم 200 شہری حملوں کا نشانہ بنے جو تشویشناک اور ناقابل قبول ہےانہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے امن صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے، ایرانی سرکاری میڈیا

    اجلاس کے دوران اسرائیلی حکام کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا بھی ذکر کیا گیا اس حوالے سے گوتریس نے محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں اس وقت کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔

    فرانس کے مندوب نے اپنے خطاب میں ایران پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو امن کی ضرورت ہے اور سیکیورٹی کونسل کو مذاکرات کے راستے کو ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیےدنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    ایران پر حملے کے خلاف کراچی میں احتجاج، امریکا اور اسرائیل کے پرچم نذر آتش

    چین کے مندوب نے ایران پرحملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملہ خطے کو جنگ کے دہانے پر لے گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران مذاکرات کی میز پر آئیں۔

    پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے خلیجی ممالک پر بھی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ کئی عرب ممالک ڈائیلاگ کی حمایت کر رہے تھےاسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں پاکستان ایرانی طالبات کی شہادت پرافسوس کا اظہار کرتا ہے۔

    بحرین کے مندوب نے اپنی تقریر میں ایران کے اقدامات کو ایک سنگین دھچکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر بحرین کی شہری آبادی پر گرنے والے میزائل حملوں کو،بحرین کی خودمختاری پر یہ حملہ ناقابل برداشت ہے، اور ہم نے کویت، یواےای اور اردن پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول کی ہیں، ایران کی جانب سے یہ حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

    ایران کے جوابی حملے : اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے، متعدد شہری زخمی

    روسی مندوب نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ کیا گیا ہے ایران میں 200 سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، اور اسکولز تک کو نہیں بخشا گیا امریکا اور اسرائیل نے انتہائی غیرذمہ دارانہ قدم اٹھایا ہے جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

  • اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    جنیوا:اقوامِ متحدہ نے امریکا ایران کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی اپیل کر دی۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی پر تشویش ہے۔

    جبکہ گز شتہ روز ایران نے اقوامِ متحدہ کو خط میں خبردار کیا تھا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمے داری امریکا پر ہوگی۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں لڑاکا طیاروں سے بھرا امریکا کا دوسرا بحرہ بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہوگیا جبکہ پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے برطانوی خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ایران پر حملے میں امریکا ایرانی رہنماؤں کو براہ راست نشانہ بنائے گا، امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔

  • اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل  اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فلسطین سے متعلق بریفنگ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئےاسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں کنٹرول کے دائرہ کار میں توسیع، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں،مذکورہ اسرائیلی اقدامات کو فوری طور پر روکا اور واپس لیا جانا چاہیے۔

    وزیرِ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ مؤثر پیش رفت کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں نمایاں اضافہ اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔

    انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا حصول ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین شدہ سیاسی عمل کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے، جو بین الاقوامی قانونی جواز اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو اس عمل کا اختتام 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی، آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر منسلک ریاستِ فلسطین کے قیام پر ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

    پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، اور عالمی برادری کو فوری، مؤثر اور اجتماعی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ خونریزی کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،اسحاق ڈار

    امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا،اسحاق ڈار

    سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور اجتماعی عالمی تعاون کے نظام سے اپنی پختہ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے

    نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ویانا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں منعقدہ ایک اہم تقریب سے خطاب کیا، تقریب کا موضوع تھا ’پائیدار ترقی: عالمی امن اور خوشحالی کے راستے‘، تقریب میں ویانا میں قائم بین الاقوامی اداروں کے سربراہان، مختلف ممالک کے سفارتکاروں، تحقیقی اداروں کے نمائندوں اور ذرائع ابلاغ کے افراد نے شرکت کی۔

    انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ امن اور ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اور پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور اور اجتماعی عالمی تعاون کے نظام سے اپنی پختہ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہےنائب وزیرِاعظم نے امن اور ترقی کے فروغ میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، یونائیٹڈ نیشنز انڈسٹریل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائمز اور یونائیٹڈ نیشنز آفس فار آؤٹر سپیس افیئرز کے کردار کو سراہا،

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے،عالمی امن اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے تمام ممالک اور اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان اس مقصد کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے،پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن (بوقتِ سازگاری برائے دہشت گردی) کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ناگزیر ہےانہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن پر کاربند ہے اور قومی انسدادِ انتہا پسندی پالیسی 2024 فعال روک تھام کی حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے اسلام اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتے ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور پا ئیدار امن تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا موثر سدباب کیا جا سکے۔

    اپنے پیغام میں صدر زرداری نے کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کو فروغ دے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسدادِ انتہاپسندی کی کوششیں کسی مذہب یا ثقافت کو بدنام نہ کریں، جبکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا شدت پسندی کے سدباب کے لیے ناگزیر ہے۔

    صدر مملکت نے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کے مؤثر سدباب کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خاندان اور برادریاں انتہاپسند بیانیے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہیں، ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کے لیےمل کر کام کرنا ہوگاجہاں نفرت پر امید غالب ہو اور تشدد پر امن اور تقسیم پر مکالمےکو ترجیح دی جا ئے۔