Baaghi TV

Tag: اقوام متحدہ

  • طالبان کا اسماعیلی جماعت خانوں کو مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم

    طالبان کا اسماعیلی جماعت خانوں کو مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم

    افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (UNAMA) نے اپنی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے صوبہ بدخشان میں اسماعیلی برادری کے کم از کم 33 جماعت خانوں (عبادت گاہوں) کو بند کر دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے طالبان کی ‘وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر’ نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر صوبہ بدخشان میں اسماعیلی برادری کے جماعت خانوں کی بندش کا سلسلہ شروع کیا اور پیروکاروں کو وہاں عبادت سے روک دیا،بند کیے جانے والے 33 جماعت خانوں میں سے 17 زیبات (Zebak) کے ضلع میں، 14 اشکاشم (Ishkashim) میں اور 2 واخان (Wakhan) کے علاقے میں واقع ہیں طالبان حکام کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ ان عمارتوں کو اب مساجد کے طور پر استعمال کیا جائے۔

    یوناما کی رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے طالبان کی وزارتِ خارجہ نےموقف اختیار کیا ہےکہ جائزہ رپورٹوں کےمطابق ہر جماعت خانے کی صورتحال دوسرے سے مختلف تھی اور اس حوالے سے تمام فیصلے انفرادی نوعیت کی بنیاد (Case-by-Case) پر کیے گئے ہیں، طالبان کا دعویٰ ہے کہ بعض علاقوں میں مساجد کی کمی تھی، جبکہ بعض جماعت خانوں کو رہائشی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    یوناما کی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان نے صرف اسماعیلی برادری ہی نہیں بلکہ اہل تشیع کی مذہبی سرگرمیوں پر بھی سخت قدغنیں عائد کی ہیں، عاشورہ کے موقع پر پروان اور لوگر کے اضلاع میں شیعہ برادری کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی مذہبی تقریبات صرف مخصوص کردہ مساجد تک ہی محدود رکھیں،جبکہ،کابل میں عاشورہ کے مذہبی پرچم لہرانے اور ان کی نمائش کرنے کی پاداش میں طالبان نے شیعہ برادری کے 45 افراد کو حراست میں بھی لیا۔

  • اقوام متحدہ کا القاعدہ  کی اب بھی افغانستان میں موجودگی اور طالبان سے روابط کا انکشاف

    اقوام متحدہ کا القاعدہ کی اب بھی افغانستان میں موجودگی اور طالبان سے روابط کا انکشاف

    اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشتگردی دفتر کے قائم مقام سربراہ الیگزینڈر زویف نے کہا ہے کہ القاعدہ اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور اس کے طالبان حکام کے ساتھ روابط برقرار ہیں-

    روسی خبر رساں ادارے تاس کو انٹرویو دیتے ہوئے الیگزینڈر زویف نے کہا کہ افغانستان کئی دہائیوں سے مختلف شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جہاں القاعدہ سمیت متعدد عسکریت پسند گروہ اب بھی موجود ہیں القاعدہ کی سرگرمیاں محدود ضرور ہوئی ہیں، تاہم طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات اب بھی پیچیدہ مگر برقرار ہیں۔

    ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ داعش خراسان وسطی ایشیا کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہےیہ تنظیم افغانستان کی سرزمین کو خلافت کے قیام کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے، جبکہ دہشت گردی کے سرحد پار خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

    اگرچہ روس نے حالیہ عرصے میں طالبان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے، تاہم ماسکو بدستور افغانستان سے جنم لینے والے سیکیورٹی خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان سے پیدا ہونے والے خطرات کو روس نظرانداز نہیں کر سکتا۔

    پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلا مک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور بلوچ لبریشن آرمی سمیت متعدد مسلح گروہوں کی افغانستان میں موجودگی ہی ملک کی بین الاقوامی تنہائی کی ایک بڑی وجہ ہے،جب تک افغان سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہوتی رہے گی، طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جا ئے گا اور نہ ہی اس کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال ہوں گے

  • وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کی ملاقات

    وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور و ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی،

    ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے،ملاقات میں عالمی انسانی بحرانوں، موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز، غزہ اور افغانستان کی صورت حال سمیت باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا بھر میں پیچیدہ انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے رابطہ انسانی امور یعنی او سی ایچ اے کی خدما ت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران ادارے کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہےانہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت مضبوط بنانے میں او سی ایچ اے کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قومی اور صوبائی اداروں نے گزشتہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کی استعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم موسمیاتی خطرات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور تمام سطحوں پر رابطے اور تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

    اس موقع پر ٹام فلیچر نے پاکستان اور او سی ایچ اے کے درمیان گزشتہ برسوں سے جاری قریبی تعاون کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ پائیدار امن ہی جنگوں سے جنم لینے والے انسانی اور معاشی بحرانوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

    ٹام فلیچر نے وزیراعظم کو غزہ میں انسانی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کے دوران او سی ایچ اے کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا،انہوں نے افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے او سی ایچ اے کی کوششوں میں پاکستان کے مسلسل تعاون کو بھی سراہا۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی انسانی تعاون کے فروغ، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور متاثرہ و کمزور طبقات تک بروقت امداد کی فراہمی کے لیے اقوام متحدہ اور او سی ایچ اے کے ساتھ اپنا قریبی تعاون آئندہ بھی جاری رکھے گا۔

  • ایران کا اقوام متحدہ سے امریکا  کیخلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ

    ایران کا اقوام متحدہ سے امریکا کیخلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ

    نیویارک: ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کو اس کے غیر قانونی اقدامات پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ و اشنگٹن بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے،اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے ہنگا می اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے غیر قانونی اقدامات کے تمام قانونی اور سیاسی نتائج کا مکمل بین الاقوامی ذمہ دار ہے۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ امریکا کی مبینہ غیر قانونی جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وا شنگٹن اپنی تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی مکمل پاسداری کرے عالمی ادارے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے اور ایسے اقدامات کے خلاف مؤثر کردار ادا کرے جو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ ہنگامی اجلاس آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا اس اجلاس میں دونوں مما لک کے درمیان جاری تناؤ اور خطے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس خطے میں جاری محاذ آرائی کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہے ایران چاہتا ہے کہ عالمی فورمز پر امریکا کے اقد امات کو چیلنج کیا جائے اور اسے عالمی قوانین کے دائرہ کار میں لانے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔

  • محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات

    محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی،مغربی ایشیا میں قیام امن کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور اقوام متحدہ کے امن مشنز، خصوصاً عالمی امن کے قیام میں پاکستان کی دیرینہ خدمات پر بھی گفتگو ہوئی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے تمام تر چیلنجز کے باوجود خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی امن کے قیام کے لیے مؤثر اور ذمہ دارانہ قیادت کا مظاہرہ کیااقوام متحدہ کے امن مشنز کی کامیابی کے لیے حقیقت پسندانہ مینڈیٹ اور مطلوبہ وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ امن مشنز مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا دیرینہ تعاون قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کاوشوں، خصوصاً حالیہ سفارتی اقدامات، کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔

  • انصاف اور وقار کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،عاصم افتخار احمد

    انصاف اور وقار کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،عاصم افتخار احمد

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تمام مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں یکسا ں احتساب کو یقینی بنایا جائے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنسی تشدد جنگ کا ناگزیر نتیجہ نہیں بلکہ اسے اکثر خوف، جبر اور اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ایسے جرائم متاثرین کی زندگیاں تباہ کرتے، خاندانوں کو بکھیرتے اور معاشروں میں دیرپا زخم چھوڑ جاتے ہیں، پاکستان نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تمام مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں یکساں احتساب کو یقینی بنایا جائے۔

    سفیر عاصم افتخار احمد نے متاثرین کے لیے طبی، نفسیاتی، قانونی اور معاشی معاونت کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف اور وقار کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے،انہوں نے خواتین کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور بین الاقوامی انسانی قانون پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

  • وینزویلا میں تباہ کن زلزلے:ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز،68 ہزار افراد لاپتہ،اقوام متحدہ

    وینزویلا میں تباہ کن زلزلے:ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز،68 ہزار افراد لاپتہ،اقوام متحدہ

    وینزویلا کے ساحلی علاقے میں 24 جون کو آنے والے 2 طاقتور زلزلوں کے بعد تباہی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز کر چکی ہے-

    وینزویلا کے حکام نے 24 جون کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے 2 طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے زائد ہونے کی تصدیق کر دی ہے جاری کی گئی سر کاری رپورٹ کے مطابق قدرتی آفت میں کم از کم 5 ہزار 34 افراد زخمی ہوئے، 15 ہزار 866 بے گھر ہیں، جبکہ 22 ہزار 619 متاثرین مختلف طبی مراکز میں زیرِ علاج ہیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابتدائی اندازوں کے مطابق 68 ہزار تک افراد لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر امدا دی کارروائیاں جاری ہیں ریاست لا گوائیرا، جو زلزلوں کا مرکز تھی، سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے بعد حکومت نے علاقے کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے فوج کے کنٹرول میں دے دیا ہے۔

    زلزلے کے 5 روز بعد بھی ملبہ ہٹانے اور متاثرین کی تلاش کا عمل جاری ہے بھاری مشینری کے ساتھ مختلف ممالک سے آنے والی امدادی ٹیمیں بھی کارروائیوں میں شریک ہیں، تاہم ملبے تلے زندہ افراد کے ملنے کی امیدیں وقت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہیں24 جون کو آنے والے دونوں زلزلوں کے مراکز شمالی وینزویلا میں سان فیلیپے اور یومارے کے درمیان واقع تھے پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 4 منٹ پر آیا، جس کی شدت 7.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف 39 سیکنڈ بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا، جس کا مرکز جنوب مشرق کی جانب تھا، مجموعی طور پر زمین تقریباً 3 منٹ تک لرزتی رہی، آفت زدہ علاقوں میں آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے لا گوائیرا میں حالیہ دنوں 4.6 شدت کا ایک اور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا۔

    دوسری جانب بین الاقوامی برادری بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہو گئی ہے امریکا نے ریسکیو آپریشنز کے لیے طیارے، بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر روانہ کیے ہیں، جبکہ لاطینی امریکا اور کیریبین کے ترقیاتی بینک (CAF) نے وینزویلا کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر تک کے کثیر عطیہ فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

    قومی اسمبلی کے سربراہ جارج روڈریگیز نے اپنے خطاب میں بتایا کہ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست لا گوائیرا میں 90 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے ان کے مطابق خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کا جائزہ تیزی سے لیا جا رہا ہے، جبکہ متاثرین کے لیے 15 عارضی پناہ گاہیں بھی قائم کر دی گئی ہیں جبکہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور 2025 کا نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی ماریا کورینا ماچاڈو نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد وطن واپس آ کر متاثرہ افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں گی۔

  • فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں،عاصم افتخار

    فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں،عاصم افتخار

    نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے واضح کیا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کی سطح اب تک کی بلند ترین سطح پرپہنچ چکی ہے-

    سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے، فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، سلامتی کونسل ارکان میں صورتحال پر تشویش اور احتساب کے مطالبات سامنے آئے ہیں مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کی سطح اب تک کی بلند ترین سطح پرپہنچ چکی ہے، اسرائیل کا نئی بستیوں کی تعمیر کا ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کے لیے سنگین خطر ہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کےمطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 4 ہزار 750 رہائشی یونٹس کی منظوری تشویشناک رجحان ہے، یہ ای ون منصوبہ دو ریاستی حل کے لیے بڑا چیلنج ہے فلسطینی اتھارٹی کی مالی رقوم کی بندش فلسطینی اداروں کو کمزور،حکمرانی کو مفلوج کرنےکی کوشش ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال اسرائیل نے فلسطینی ریاست کو بننے سے روکنے کے لیے نئے منصوبے کی منظوری دی تھی اس منصوبے کے تحت مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان 3401 گھر اسرائیلی آباد کاروں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے۔

  • اقوامِ متحدہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسےملاحوں کو نکالنے کا مشن شروع کردیا

    اقوامِ متحدہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسےملاحوں کو نکالنے کا مشن شروع کردیا

    اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے مرحلہ وار انخلا کا آغاز کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (IMO) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کا عمل ایران، عمان، خطے کے دیگر ساحلی ممالک، امریکا اور عالمی بحری صنعت کے تعاون سے انجام دیا جائے گا اس آپریشن کے لیے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی گئی ہیں اور محفوظ بحری آمدورفت کے تمام انتظامات کی مکمل جانچ پڑتال کی جا چکی ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تجارتی اور مال بردار جہاز اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنس گئے تھے تاہم گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد بحری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    شپنگ انٹیلی جنس ادارے کلیپر کے مطابق پیر کے روز کم از کم 36 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو جنگ شروع ہونے کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    عمان کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ آئی ایم او کے منصوبے کے تحت انخلا کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا تاکہ موجودہ حالات میں کسی بھی ممکنہ حادثے یا جہازوں کے تصادم کے خطرات سے بچا جا سکے بحری راستے میں غیر معمولی دباؤ کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم اور تدریجی انداز میں بحال کرنا ضروری ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس یا فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کوئی بھی ملک یہاں سے گزرنے پر فیس وصول نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول خطے کے تمام ممالک اس مؤقف سے اتفاق کریں گے۔

    دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس سے قبل کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے والی صورتحال کی طرف واپس نہیں جائے گی، اگر چہ دونوں فریق اس اہم آبی راستے کو کھلا رکھنے کے لیے رابطے کے مستقل ذرائع قائم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیل نے لبنان میں  فضائی حملے روک دیئے

    اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے روک دیئے

    نیویارک: اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملے روکنے کا خیرمقدم کیا ہے-

    اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کا دن جنوبی لبنان میں نسبتاً پُرامن رہا اور اقوام متحدہ کے امن دستوں نے کسی فضائی حملے یا جوابی کارروائی کی نشاندہی نہیں کی ان کے مطابق پیر کی صبح تک بھی یہی صورتحال برقرار رہی، مارچ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی لبنان میں ایسا دن گزرا ہے جب امن فوج نے نہ کسی فضائی حملے کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی میزائل یا راکٹ کی پرواز یا روک تھام ریکارڈ کی۔

    ترجمان نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دشمنی میں یہ کمی زمینی سطح پر موجود شہریوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جار ی رہے گاصورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کی امن فورس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی وسیع زمینی سرگرمیوں کا مشاہدہ جاری رکھا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ کام اور لاجسٹک سرگرمیاں شامل ہیں۔