Baaghi TV

Tag: اقوام متحدہ

  • کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر میں تو چلو مان لیا کہ لوگوں سے بولنے کا حق چھینا جا چکا ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقی معنوں میں مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن بے خبر ہے۔ اور جب تک قوم کو خبر ہو گی قیامت سر سے گزر چکی ہو گی۔ پاکستان کے لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اصل میں ظلم کیا ہوا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو کتنی بڑی شکست ہو چکی ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر اس وقت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے البتہ عوام بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کے بے خبر رکھا جا رہا۔
    مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی اشتراک کے معاملے میں ہماری حکومت کی جانب سے روایتی مذمت اور قراردادیں ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام کو بہلانے کےلیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اشتراک کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے مسترد کرنے سے واقعی اب مقبوضہ کشمیر کو کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اس کا جواب افسوس ناک طور پر "نہیں ” ہے۔
    بھارت آرٹیکل پینتیس اے اور آرٹیکل تین سو ستر ختم کر چکا ہے۔ بھارتی آئین کی یہ دو شقیں دراصل مقبوضہ کشمیر کے عوام کےلیے دو ایسی حفاظتی دیواریں تھیں جن کے گرنے کے بعد کشمیری بالکل فلسطین کے عوام کی طرح اپنی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بھارتی آئین کی ان دونوں شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں مقبوضہ کشمیر میں آئیں گی کچھ اس طرح ہیں۔
    1 کشمیر کا انفرادی آئین ختم ہو چکا ہے۔
    2 وہاں ہندو آبادکاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ممکن ہو جائے گی۔
    3 وہاں کی زمینیں جو غیر کشمیری لوگ نہیں خرید سکتے تھے اب خرید سکیں گے۔
    4. وہاں پہ ہندو سرمایہ کاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ہو سکتی ہے۔ یعنی ہندو کشمیری زمینیں خرید کر وہاں آباد ہوں گے اور رفتہ رفتہ ہندو تعداد میں کشمیریوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
    5 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔
    6مقبوضہ کشمیر براہِ راست دلی کی ماتحتی میں چلا گیا ہے۔
    7. پہلے وہاں بھارت کا کوئی قانون آئینی طور پر نہیں چل سکتا تھا اب سارے چلیں گے۔
    8 مقبوضہ کشمیر کی انفرادی ثقافت ختم ہو جائے گی۔
    9 لداخ الگ ہو جائے گا۔
    10 مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
    11 مقبوضہ کشمیر کا اپنا کوئی صدر اور وزیرِ اعظم نہیں ہو گا بلکہ ایک لیفٹینٹ گورنر بھارتی پارلیمنٹ کی نگرانی میں پورا مقبوضہ کشمیر کنٹرول کرے گا
    12 کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہاں پہ ترنگا لہرائے گا۔
    13 کشمیر میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں ہو سکتی تھی صدرِ ہندوستان کے حکم کے باوجود بھی۔ اب ہو گی۔
    یعنی یہ سارے اقدامات وہ ہیں جن کے بعد مقبوضہ کشمیر سے وہاں کے عوام کا کنٹرول اور عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ جب یہودیوں نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے پہ قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ آج پورے فلسطین کو یہودی آباد کاروں کےزریعے اسرائیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور فلسطینیوں کو اردن اور دیگر علاقوں میں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ بھارت اب بہت بڑی تعداد میں وہاں پہ ہندؤں کو آباد کرے گا۔ اور پھر ایک وقت میں ہندؤں کی تعداد مقبوضہ کشمیر میں اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ وہاں پہ کشمیری مسلمان کم اور بھارتی ہندو زیادہ ہو جائیں گے۔ وہاں کی مسلمان آبادی کو برما کے مسلمانوں کی طرح شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں مقبوضہ کشمیر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا جائے گا۔ اور اس طرح لاکھوں کشمیریوں کو آزاد کشمیر دھکیل کر مقبوضہ کشمیر سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت اس سارے وقت میں مذمت پہ مذمت کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کو ان مذمتوں سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا اور نا ہی کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ عملی معنوں میں کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
    اس واقعہ سے قبل حکومت اور تمام متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پہ جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت جب اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا دیا جاتا۔ اب بھی تو اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا رہے ہیں تو پہلے یہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے آج کشمیر جا چکا ہے ، اگر اس سستی اور غفلت کا ازالہ نہ ہوا تو یہ قوم اور کشمیر کے لاکھوں عوام زمہ داروں کو تاقیامت معاف نہیں کریں گے۔اب مذمت اور قراردادوں کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ قوم آپ کے عملی قدم کی منتظر ہے۔

    Hanzla Tayyab
  • یغور حراستی کیمپ: اقوام متحدہ کو کھلا خط ’بہتان‘ ہے، چین کا ردعمل

    یغور حراستی کیمپ: اقوام متحدہ کو کھلا خط ’بہتان‘ ہے، چین کا ردعمل

    بیجنگ :چین میں یغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے آنے والی خبریں عام ہیں اور اس وقت دنیا بھر سے چین کے جارحانہ رویے کے خلاف ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے .دوسری طرف چین کا کہنا ہے کہ یہ سراسر الزامات ہیں ایسا کچھ نہیں.چین نے اس خط کو ’بہتان قرار‘ دے دیا جسے دنیا کے تقریباً 22 ممالک نے اقوام متحدہ کو ارسال کیا تھا جس میں سنکیانگ صوبے میں مسلمان اقلیتوں سے متعلق بیجنگ حکام پر تنقید کی گئی تھی۔

    اقوام متحدہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کے شمال مغربی خطے میں یوغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان زینگ شانگ نے روزمرہ پریس بریفنگ میں کہا کہ اقوام متحدہ خط ’چین کے خلاف حملہ، بہتان اور غیرضروری الزامات‘ پر مبنی ہے اور یہ چین کے داخلی امور پر بے جا مداخلت ہے۔

    اقوام متحدہ میں 22 ممالک کی طرف سے ایک مراسلہ بھیجا گیا ہے جس پر 22 ممالک میں تعینات اقوام متحدہ کے سفیروں نے دستخط کیے جن میں آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی اور جاپان کے سفیر بھی شامل ہیں۔اس مراسلے میں چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو حراستی کیمپ میں قید کرنے سے متعلق ’مصدقہ رپورٹس‘ پر تحفظات کا اظہار کیا ایغور مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کی جاری ہے اور انہیں مختلف پابندیوں میں بھی جکڑا جارہا ہے۔

    اقوام متحدہ کو بھیجے جانے والے اس مراسلے میں چین سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سنکیانگ میں مسلمان اور دیگر مذہبی اقلیوں کو حراستی کیمپ میں قید کرنے سے باز آئے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایسی تصدیق شدہ اطلاعات ہیں کہ تقریباً ایک لاکھ یوغورز اور دیگر مسلم اقلیتوں کو تعلیمی سینٹرز میں نظربند رکھا گیا ہے۔

    ایک طرف چینی حکومت نے کہا ہے کہ وہ عالمی میڈیا کو ان الزمات کی چھان بین کرنے کی اجازت ہے اور چینی حکومت بھر پور تعاون کرے گی لیکن دوسری طرف صحافیوں کو کئی بار حراست میں لیا جاچکا ہے اور پولیس کی جانب سے انہیں یوغورز کے نظر بندی کیمپوں میں جانے سے روکنے کے اقدامات سامنے آئے ہیں۔

  • جنیوا میں اقوام متحدہ کے سامنے کشمیریوں کا بڑا مظاہرہ

    جنیوا میں اقوام متحدہ کے سامنے کشمیریوں کا بڑا مظاہرہ

    جنیوا- (نمائندہ خصوصی) یورپ بھر میں بسنے والی کشمیری کمیونٹی کا سینکڑوں کی تعداد میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے سامنے کشمیر میں انڈیا کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ۔

    تفصیلات کے مطابق جنیوا سوئیزرلینڈ کے شہر جنیوا میں سینکڑوں یورپین کشمیری شہری اور مختلف کشمیری تنظیموں کے رہنماء اقوام متحدہ کے سامنے جمع ہوئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا. کشمیریوں کا اقوام متحدہ کے سامنے مظاہرے میں انسانی حقوق کے علمبردار اقوام متحدہ سے مطالبہ کہ کشمیریوں کو انڈیا کی دہشت گردی سے آزاد کروایاجائے اور کشمیر میں جو ظلم انڈین فوج نہتے کشمیریوں پر کر رہی ہے اسکو رُکوایا جائے.

    کشمیری رہنماؤں نے مزید کہا اگر اقوام متحدہ کشمیر میں انڈین دہشت گردی کو نہیں روک رہی جس کی وجہ سے کشمیری نوجوان اپنے حقوق کے لیےبندوق اٹھا کر تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔احتجاجی مظاہرے میں شریک لوگوں نے انڈیا کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر آزادی کشمیر کی تحریریں آویزاں تھی اور اقوام متحدہ کے مردہ ضمیر جگانے کے لئے مظاہرہ دو گھنٹے تک جاری رہا.

    احتجاجی مظاہرے میں شریک کشمیریوں نے پاکستان کے پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے اور مظاہرے کے شرکا کشمیر بنے گا پاکستان اور بھارت مخالف نعرے بلند کرتے رہے۔کشمیری رہنماؤں کا اپنے خطابات میں مزید کہنا تھا آزادی کشمیر تک ہم ہر فورم اور ہر سطح پر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور دنیا کی توجہ کشمیر کی طرف دلاتے رہیں گے.